ایران ۔امریکہ کشیدگی برقرار، پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز
وقت اشاعت 22 مئی 2026آخری اپ ڈیٹ 22 مئی 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
* امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کی بھارت میں تیاریاں، آٹو رکشوں پر ٹرمپ کی تصویر
* آبنائے ہرمز سے 35 جہاز گزرے، ایران کا دعویٰ: روبیو کی ٹول نظام پر سخت تنقید
* آبنائے ہرمز کو فوری طور پر اپنی سابقہ صورتحال میں واپس آنا چاہیے، متحدہ عرب امارات
* ایران ۔امریکہ کشیدگی برقرار، پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز
امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کی بھارت میں تیاریاں، آٹو رکشوں پر ٹرمپ کی تصویر
نئی دہلی کے معروف آٹو رکشوں کو امریکہ کے 250ویں یومِ آزادی کی تقریبات اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے متوقع دورۂ بھارت کے سلسلے میں ڈونلڈ ٹرمپ تھیم سے سجا دیا گیا ہے، تاہم اس اقدام سے ہر کوئی خوش نہیں۔
امریکی سفارت خانے کے مطابق شہر میں چلنے والے ہزاروں رکشوں کے لیے خصوصی کور فراہم کیے جا رہے ہیں، جن پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر اور امریکی پرچم نمایاں ہے۔
عام طور پر زرد و سبز رنگ کے ان رکشوں کے پچھلے حصے پر لگے کورز پر ’’ہیپی برتھ ڈے امریکہ‘‘ اور 250ویں سالگرہ مبارک‘‘ جیسے نعرے درج ہیں۔
امریکہ کے سفیر سرگیو گور، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور میں ان کی انتظامیہ میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں، نے اپریل میں اس مہم کا آغاز کیا، جس میں ’’امریکی شناختی علامات‘‘ کو اجاگر کیا گیا۔
نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے نے اے ایف پی کو بتایا کہ شہر میں گردش کرنے والے ہزاروں ٹک ٹک (رکشوں) کو ایسی امریکی علامات اسپانسر کی جا رہی ہیں جن سے امریکہ کی 250ویں سالگرہ سے متعلق پیغامات کو عام کیا جا سکے۔ ان علامات میں مشہور زمانہ ’’اسٹیچیو آف لبرٹی‘‘ جیسی علامات کے مناظر پر مشتمل کورز بھی شامل ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ہفتے کے روز بھارت کے دورے پر پہنچیں گے، جہاں وہ دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے اس جنوبی ایشیائی ملک کے کئی شہروں کا دورہ کریں گے اور دارالحکومت سے باہر بھی دو طرفہ تعلقات مضبوط بنانے کی کوشش کریں گے۔
وہ اپنے دورے کا آغاز کولکتہ سے کریں گے، جو امریکہ کے قدیم ترین سفارتی مراکز میں سے ایک ہے، جہاں 1792 میں پہلا امریکی قونصل مقرر کیا گیا تھا۔ یہ امریکی قونصل خانہ امریکہ کی آزادی (1776) کے صرف 16 سال بعد قائم ہوا تھا۔
روبیو بعد ازاں نئی دہلی میں امریکی آزادی کی 250ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کریں گے، جو 4 جولائی 1776 کو برطانیہ سے آزادی کی یاد میں منائی جاتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے تھے، اور مودی نے انہیں ایک بڑے کرکٹ اسٹیڈیم میں جلسے سے خطاب کی دعوت دے کر خاصا متاثر بھی کیا تھا۔
تاہم بعد میں مودی کے بعض بیانات سے ٹرمپ ناخوش ہوئے، خاص طور پر جب مودی نے گزشتہ سال کے پاکستان کے ساتھ تنازع میںٹرمپ کے ثالثی کردار کو کم اہمیت دی۔ مذکورہ تنازع بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں سیاحوں، جن میں بیشتر ہندو تھے پر ہونے والے حملے کے بعد شروع ہوا تھا۔
آبنائے ہرمز سے 35 جہاز گزرے، ایران کا دعویٰ: روبیو کی ٹول نظام پر سخت تنقید
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران توانائی کی تجارت کے لیے اہمیت کے حامل آبنائے ہرمز سے 35 بحری جہاز ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی رابطہ کاری کے ساتھ گزرے۔
مسلح افواج کا کہنا ہے کہ ان جہازوں میں آئل ٹینکرز، کارگو جہاز اور دیگر تجارتی بحری جہاز شامل تھے۔
واضح رہے کہایران کی مسلح افواج نے 28 فروری کو جنگ کے آغاز کے فوراً بعد آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال لیا تھا، جس کے بعد تلاشیوں اور جہازوں پر حملوں کے باعث اس اہم سمندری راستے میں نقل و حرکت تقریباً معطل ہو کر رہ گئی تھی۔
اس صورتحال کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی اور ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔ ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دی گئی ہیں۔
تاہم تہران بار بار یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا۔ لیکن عملی طور پر جہاز رانی کی کمپنیوں کو ایرانی حکام سے رابطہ کرنا پڑتا ہے اور انہیں صرف ایرانی ساحل کے قریب مخصوص راستے (کوریڈور) سے گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
دریں اثناء نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے سویڈن میں موجود امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آبنائے ہرمز میں ٹول (فیس) نظام قائم کرنے کی ایران کی کوششوں کی مذمت کی۔
انہوں نے کہا، ’’میرے علم میں دنیا کا کوئی بھی ملک اس کی حمایت نہیں کرتا سوائے ایران کے، اور کسی بھی ملک کو ایسا نظام قبول نہیں کرنا چاہیے۔‘‘
روبیو نے خبردار کیا کہ ایران عمان کو بھی قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ اس ٹول نظام میں شامل ہو جائے،اور یہ اس نظام کو بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں نافذ کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بحرین کی جانب سے پیش کی گئی ایک قرارداد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر غور ہے، جسے غیر معمولی طور پر بڑی تعداد میں ممالک کی حمایت حاصل ہے، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ’’چند ممالک‘‘ اسے ویٹو کرنے پر غور کر رہے ہیں، جسے روبیو نے افسوسناک قرار دیا۔
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں ایرانی ٹول نظام کے قیام کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے اسے ’’ناقابل قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نظام ہرگز نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا۔
روبیو نے خبردار کیا کہ اگر ایران اس منصوبے میں کامیاب ہو گیا تو دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی اس طرح کے اقدامات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ایران اور امریکہ کے مابین معاہدے تک پہنچنے کے امکانات ’’ففٹی ففٹی‘‘ ہیں، متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر
متحدہ عرب امارات کے ایک سینئر اہلکار نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین ایسے معاہدے تک پہنچنے کے امکانات صرف ’’ففٹی ففٹی‘‘ ہیں، جو آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کا باعث بن سکے۔
جمعہ کے روز پریس سے گفتگو میں متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے تہران پر زور دیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری نازک جنگ بندی کے دوران مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور یہ موقع ضائع نہ کرے۔
انہوں نے پراگ میں منعقدہ GLOBSEC فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت ماضی میں کئی اہم مواقع کھو چکی ہے، کیونکہ وہ اپنے مؤقف اور طاقت کو حد سے زیادہ اہمیت دیتی رہی ہے۔
قرقاش کا کہنا تھا، ’’مجھے امید ہے کہ اس بار ایران ایسا رویہ اختیار نہیں کرے گا اور صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے عملی قدم اٹھائے گا۔‘‘
قرقاش نے کہا کہ تیل سے مالا مال متحدہ عرب امارات، جو کہ امریکی فوجی تنصیبات کی میزبانی کرتا ہے، کو 28 فروری سے اب تک 40 دنوں کی جنگ کے دوران تقریباً 3,300 ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس میں صرف چار فیصد کامیابی حاصل ہوئی۔
انہوں نے کہا کہآبنائے ہرمز، جسے ایران نے بند کر رکھا ہے اور جہاں سے عموماً دنیا کے تیل کی فراہمی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا، کو فوری طور پر معمول کے مطابق کھولا جانا چاہیے، جبکہ غیر مؤثر جنگ بندی کے خطرات سے بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
انور قرقاش نے مزید کہا،’’صرف جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کرنا اور مستقبل کے مزید تنازعات کے بیج بونا وہ نہیں جو ہم چاہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر اپنی سابقہ صورتحال میں واپس آنا چاہیے اور اسے ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ کے طور پر برقرار رکھا جانا ضروری ہے۔
امریکی مذاکرات کار جہاںایران کے ممکنہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، وہیں انور قرقاش نے کہا، ’’ایران کا جوہری پروگرام پہلے ہماری دوسری یا تیسری تشویش تھا، لیکن اب یہ ہماری اولین تشویش بن چکا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا،’’ہم نے دیکھا ہے کہ ایران اپنے پاس موجود ہر ہتھیار کو استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور یہی بات ہم نے حالیہ حالات سے بھی سیکھی ہے۔‘‘
ایران ۔امریکہ کشیدگی برقرار، پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز
رپورٹ کے مطابق، اس دوران تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایران کے یورینیم ذخیرے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے معاملے پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
اسلام آباد کی جانب سے پیغام پہنچانے کے دو دن بعد، پاکستانی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے دوبارہ ملاقات کی۔ ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان مزید بات چیت ہوئی۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں ’’کچھ مثبت اشارے‘‘ سامنے آئے ہیں، تاہم اگر تہران آبنائے ہرمز میں ٹول (محصول) کا نظام نافذ کرتا ہے تو کسی حل تک پہنچنا ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کو زیادہ تر جہازرانی کے لیے عملاً بند کر دیا تھا۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا، ’’کچھ مثبت اشارے ضرور مل رہے ہیں، لیکن میں حد سے زیادہ پرامید نہیں ہونا چاہتا۔ آئندہ چند دنوں میں دیکھتے ہیں کیا صورت حال بنتی ہے۔‘‘
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ بالآخر ایران کے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر کنٹرول حاصل کر لے گا۔ واشنگٹن کا خیال ہے کہ یہ ذخیرہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ اس کا مقصد صرف پُرامن سرگرمیاں ہیں۔
جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا،
’’ہم اسے حاصل کر لیں گے۔ ہمیں اس کی ضرورت نہیں، نہ ہی ہم اسے رکھنا چاہتے ہیں۔ غالب امکان ہے کہ ہم اسے حاصل کرنے کے بعد تباہ کر دیں گے، لیکن ہم ایران کو اسے رکھنے نہیں دیں گے۔‘‘
ٹرمپ کے بیان سے قبل دو سینئر ایرانی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ہدایت جاری کی ہے کہ یورینیم کو ملک سے باہر نہ بھیجا جائے۔
امریکی صدر نے اس کے ساتھ ساتھ ایران کے اس منصوبے پر بھی تنقید کی جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے اس بارے میں کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ یہ راستہ کھلا اور آزاد رہے۔ ہم ٹول یا فیس نہیں چاہتے۔ یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔‘‘
ٹرمپ کو نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل داخلی دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر عوامی غصہ بڑھ رہا ہے، جبکہ ان کی مقبولیت گزشتہ سال وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے اب تک کی نچلی سطح کے قریب پہنچ چکی ہے۔
اسی دوران تہران نے رواں ہفتے کے آغاز میں امریکہ کو اپنی نئی پیشکش بھی ارسال کر دی ہے۔
ادارت: جاوید اختر