1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
لائیو

ایران ۔امریکہ کشیدگی برقرار، پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز

کشور مصطفیٰ روئٹرز، اے پی، اے ایف پی اور ڈی پی اے کے ساتھ
وقت اشاعت 22 مئی 2026آخری اپ ڈیٹ 22 مئی 2026

ایران کے وزیرخارجہ نے جمعہ کے روز تہران میں پاکستانی وزیر داخلہ سے ملاقات کی، جس میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے تجاویز پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

https://p.dw.com/p/5EAqn
اس تصویر میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی بات چیت کرتے نظر آ رہے ہیں
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 21 مئی کو تہران میں پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کیتصویر: Iranian Foreign Ministry/Handout/Anadolu/picture alliance
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

* امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کی بھارت میں تیاریاں، آٹو رکشوں پر ٹرمپ کی تصویر

* آبنائے ہرمز سے 35 جہاز گزرے، ایران کا دعویٰ: روبیو کی ٹول نظام پر سخت تنقید

* آبنائے ہرمز کو فوری طور پر اپنی سابقہ صورتحال میں واپس آنا چاہیے، متحدہ عرب امارات

* ایران ۔امریکہ کشیدگی برقرار، پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز

امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کی بھارت میں تیاریاں، آٹو رکشوں پر ٹرمپ کی تصویر سیکشن پر جائیں
22 مئی 2026

امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کی بھارت میں تیاریاں، آٹو رکشوں پر ٹرمپ کی تصویر

 نئی دہلی 2026 | ایک کارکن ٹرمپ کا پوسٹر آٹو رکشہ پر لگا رہا ہے
امریکی سفارت خانے کے مطابق شہر میں چلنے والے ہزاروں رکشوں کے لیے خصوصی کور فراہم کیے جا رہے ہیںتصویر: Arun Sankar/AFP

نئی دہلی کے معروف آٹو رکشوں کو  امریکہ کے 250ویں یومِ آزادی کی تقریبات اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے متوقع دورۂ بھارت کے سلسلے میں ڈونلڈ ٹرمپ تھیم سے سجا دیا گیا ہے،  تاہم اس اقدام سے ہر کوئی خوش نہیں۔
امریکی سفارت خانے کے مطابق شہر میں چلنے والے ہزاروں رکشوں کے لیے خصوصی کور فراہم کیے جا رہے ہیں، جن پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر اور امریکی پرچم نمایاں ہے۔
عام طور پر زرد و سبز رنگ کے ان رکشوں کے پچھلے حصے پر لگے کورز پر ’’ہیپی برتھ ڈے امریکہ‘‘ اور 250ویں سالگرہ مبارک‘‘  جیسے نعرے درج ہیں۔
امریکہ کے سفیر سرگیو گور، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور میں ان کی  انتظامیہ میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں، نے اپریل میں اس مہم کا آغاز کیا، جس میں ’’امریکی شناختی علامات‘‘ کو اجاگر کیا گیا۔

 نئی دہلی 2026 | انڈیا گیٹ کے سامنے ٹرمپ کے پوسٹر کے ساتھ آٹو رکشہ
نئی دہلی میں گردش کرنے والے ہزاروں ٹک ٹک (رکشوں) کو ایسی امریکی علامات اسپانسر کی گئی ہیںتصویر: Arun Sankar/AFP


نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے نے اے ایف پی کو بتایا کہ شہر میں گردش کرنے والے ہزاروں ٹک ٹک (رکشوں) کو ایسی امریکی علامات اسپانسر کی جا رہی ہیں جن سے امریکہ کی 250ویں سالگرہ سے متعلق پیغامات کو عام کیا  جا سکے۔ ان علامات میں مشہور زمانہ ’’اسٹیچیو آف لبرٹی‘‘ جیسی علامات کے  مناظر پر مشتمل کورز بھی شامل ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ہفتے کے روز بھارت کے دورے پر پہنچیں گے،  جہاں وہ دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے اس جنوبی ایشیائی ملک کے کئی شہروں کا دورہ کریں گے اور دارالحکومت سے باہر بھی دو طرفہ تعلقات مضبوط بنانے کی کوشش کریں گے۔
وہ اپنے دورے کا آغاز کولکتہ سے کریں گے، جو امریکہ کے قدیم ترین سفارتی مراکز میں سے ایک ہے، جہاں 1792 میں پہلا امریکی قونصل مقرر کیا گیا تھا۔ یہ امریکی قونصل خانہ امریکہ کی آزادی (1776) کے صرف 16 سال بعد قائم ہوا تھا۔

نئی دہلی کے کتعدد مقامات پر کارکن  رکشوں پر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر اور  ’’ہیپی برتھ ڈے امریکہ‘‘ کے کوور چڑھا رہے ہیں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ہفتے کے روز بھارت کے دورے پر پہنچیں گےتصویر: Arun Sankar/AFP


روبیو بعد ازاں نئی دہلی میں امریکی آزادی کی 250ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کریں گے، جو 4 جولائی 1776 کو برطانیہ سے آزادی کی یاد میں منائی جاتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے  ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے تھے، اور مودی نے انہیں ایک بڑے کرکٹ اسٹیڈیم میں جلسے سے خطاب کی دعوت دے کر خاصا متاثر بھی کیا تھا۔
تاہم بعد میں مودی کے بعض بیانات سے ٹرمپ ناخوش ہوئے، خاص طور پر جب مودی نے گزشتہ سال کے پاکستان کے ساتھ تنازع میںٹرمپ کے ثالثی کردار کو کم اہمیت دی۔ مذکورہ تنازع بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں سیاحوں، جن میں بیشتر ہندو تھے پر ہونے والے حملے کے بعد شروع ہوا تھا۔

ٹرمپ اور مودی کی پکی دوستی

https://p.dw.com/p/5EC2n
آبنائے ہرمز سے 35 جہاز گزرے، ایران کا دعویٰ: روبیو کی ٹول نظام پر سخت تنقید سیکشن پر جائیں
22 مئی 2026

آبنائے ہرمز سے 35 جہاز گزرے، ایران کا دعویٰ: روبیو کی ٹول نظام پر سخت تنقید

ایران بندر عباس 2026 |  اس تصویر میں آبنائے ہرمز میں بحری جہاز دکھائی دے رہے ہیں
ایران نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز سے 35 بحری جہاز گزرے ہیںتصویر: Amirhosein Khorgooi/ISNA/WANA/REUTERS

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران توانائی کی تجارت کے لیے اہمیت کے حامل آبنائے ہرمز سے 35 بحری جہاز ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی رابطہ کاری کے ساتھ گزرے۔
مسلح افواج کا کہنا ہے کہ ان جہازوں میں آئل ٹینکرز، کارگو جہاز اور دیگر تجارتی بحری جہاز شامل تھے۔
واضح رہے کہایران کی مسلح افواج نے 28 فروری کو جنگ کے آغاز کے فوراً بعد آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال لیا تھا، جس کے بعد تلاشیوں اور جہازوں پر حملوں کے باعث اس اہم سمندری راستے میں نقل و حرکت تقریباً معطل ہو کر رہ گئی تھی۔

اس صورتحال کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی اور ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔ ایران  نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دی گئی ہیں۔
تاہم تہران بار بار یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا۔ لیکن عملی طور پر جہاز رانی کی کمپنیوں کو ایرانی حکام سے رابطہ کرنا پڑتا ہے اور انہیں صرف ایرانی ساحل کے قریب مخصوص راستے (کوریڈور) سے گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

ایران آبنائے ہرمز 2026 | اس تصویر میں نظر آ رہا ہے کہ آئی آر جی سی نے کارگو جہاز ایپامیننڈاس کو قبضے میں لے لیا ہے
ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دی گئی ہیںتصویر: Meysam Mirzadeh/Tasnim News Agency/AP Photo/dpa/picture alliance

دریں اثناء نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے سویڈن میں موجود امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آبنائے ہرمز میں ٹول (فیس) نظام قائم کرنے کی ایران کی کوششوں کی مذمت کی۔
انہوں نے کہا، ’’میرے علم میں دنیا کا کوئی بھی ملک اس کی حمایت نہیں کرتا سوائے ایران کے، اور کسی بھی ملک کو ایسا نظام قبول نہیں کرنا چاہیے۔‘‘

روبیو نے خبردار کیا کہ ایران عمان کو بھی قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ اس ٹول نظام میں شامل ہو جائے،اور یہ اس نظام کو  بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں نافذ کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بحرین کی جانب سے پیش کی گئی ایک قرارداد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر غور ہے، جسے غیر معمولی طور پر بڑی تعداد میں ممالک کی حمایت حاصل ہے، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ’’چند ممالک‘‘ اسے ویٹو کرنے پر غور کر رہے ہیں، جسے روبیو نے افسوسناک قرار دیا۔
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں ایرانی ٹول نظام کے قیام کو روکنے کے لیے  ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے اسے ’’ناقابل قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نظام ہرگز نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا۔
روبیو نے خبردار کیا کہ اگر ایران اس منصوبے میں کامیاب ہو گیا تو دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی اس طرح کے اقدامات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے ہمیں ’بلیک میل‘ نہیں کر سکتا، ٹرمپ

https://p.dw.com/p/5EC2H
ایران اور امریکہ کے مابین معاہدے تک پہنچنے کے امکانات ’’ففٹی ففٹی‘‘ ہیں، متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر سیکشن پر جائیں
وقت اشاعت 22 مئی 2026آخری اپ ڈیٹ 22 مئی 2026

ایران اور امریکہ کے مابین معاہدے تک پہنچنے کے امکانات ’’ففٹی ففٹی‘‘ ہیں، متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر

اس تصویر میں متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نظر آ رہے
قرقاش کے مطابق 28 فروری سے اب تک 40 دنوں کی جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کو تقریباً 3,300 ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا گیاتصویر: Denis Balibouse/KEYSTONE/picture alliance

متحدہ عرب امارات کے ایک سینئر اہلکار نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران  کے مابین ایسے معاہدے تک پہنچنے کے امکانات صرف ’’ففٹی ففٹی‘‘ ہیں، جو آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کا باعث بن سکے۔

جمعہ کے روز پریس سے گفتگو میں متحدہ عرب امارات  کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے تہران پر زور دیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری نازک جنگ بندی کے دوران مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور یہ موقع ضائع نہ کرے۔

انہوں نے پراگ میں منعقدہ GLOBSEC فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت ماضی میں کئی اہم مواقع کھو چکی ہے، کیونکہ وہ اپنے مؤقف اور طاقت کو حد سے زیادہ اہمیت دیتی رہی ہے۔

قرقاش کا کہنا تھا، ’’مجھے امید ہے کہ اس بار ایران ایسا رویہ اختیار نہیں کرے گا اور صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے عملی قدم اٹھائے گا۔‘‘

قرقاش نے کہا کہ تیل سے مالا مال متحدہ عرب امارات، جو کہ امریکی فوجی تنصیبات کی میزبانی کرتا ہے، کو 28 فروری سے اب تک 40 دنوں کی جنگ کے دوران تقریباً 3,300 ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس میں صرف چار فیصد کامیابی حاصل ہوئی۔ 

اس تصویر میں 2024 میں پراگ میں منعقد ہونے والے GLOBSEC فورم کے چند شرکا نظر آ رہے ہیں
متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے پراگ میں منعقدہ GLOBSEC فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا آبنائے ہرمز کو فوری طور پر معمول کے مطابق کھولا جانا چاہیےتصویر: Aureliusz M. Pędziwol/DW

انہوں نے کہا کہآبنائے ہرمز، جسے ایران نے بند کر رکھا ہے اور جہاں سے عموماً دنیا کے تیل کی فراہمی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا، کو فوری طور پر معمول کے مطابق کھولا جانا چاہیے، جبکہ غیر مؤثر جنگ بندی کے خطرات سے بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

انور قرقاش نے مزید کہا،’’صرف جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کرنا اور مستقبل کے مزید تنازعات کے بیج بونا وہ نہیں جو ہم چاہتے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر اپنی سابقہ صورتحال میں واپس آنا چاہیے اور اسے ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ کے طور پر برقرار رکھا جانا ضروری ہے۔

امریکی مذاکرات کار جہاںایران  کے ممکنہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، وہیں انور قرقاش نے کہا، ’’ایران کا جوہری پروگرام پہلے ہماری دوسری یا تیسری تشویش تھا، لیکن اب یہ ہماری  اولین  تشویش بن چکا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا،’’ہم نے دیکھا ہے کہ ایران اپنے پاس موجود ہر ہتھیار کو استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور یہی بات ہم نے حالیہ حالات سے بھی سیکھی ہے۔‘‘

ایران کی افزودہ یورینیم کا کیا ہو گا؟

https://p.dw.com/p/5EBV0
ایران ۔امریکہ کشیدگی برقرار، پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز سیکشن پر جائیں
22 مئی 2026

ایران ۔امریکہ کشیدگی برقرار، پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز

رپورٹ کے مطابق، اس دوران تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایران کے یورینیم ذخیرے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے معاملے پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔

اسلام آباد کی جانب سے پیغام پہنچانے کے دو دن بعد، پاکستانی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے تہران میں  ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے دوبارہ ملاقات کی۔ ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان مزید بات چیت ہوئی۔ 

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں ’’کچھ مثبت اشارے‘‘ سامنے آئے ہیں، تاہم اگر تہران آبنائے ہرمز میں ٹول (محصول) کا نظام نافذ کرتا ہے تو کسی حل تک پہنچنا ممکن نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کو زیادہ تر جہازرانی کے لیے عملاً بند کر دیا تھا۔

مارکو روبیو کا کہنا تھا، ’’کچھ مثبت اشارے ضرور مل رہے ہیں، لیکن میں حد سے زیادہ پرامید نہیں ہونا چاہتا۔ آئندہ چند دنوں میں دیکھتے ہیں کیا صورت حال بنتی ہے۔‘‘

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ بالآخر ایران کے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر کنٹرول حاصل کر لے گا۔ واشنگٹن کا خیال ہے کہ یہ ذخیرہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ اس کا مقصد صرف پُرامن سرگرمیاں ہیں۔

 تہران 2026 | عباس عراغچی اور محسن نقوی کے درمیان ملاقات
اسلام آباد کی جانب سے پیغام پہنچانے کے دو دن بعد، پاکستانی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے دوبارہ ملاقات کیتصویر: Iranian Foreign Ministry/Handout/Anadolu/picture alliance

جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا،
’’ہم اسے حاصل کر لیں گے۔ ہمیں اس کی ضرورت نہیں، نہ ہی ہم اسے رکھنا چاہتے ہیں۔ غالب امکان ہے کہ ہم اسے حاصل کرنے کے بعد تباہ کر دیں گے، لیکن ہم ایران کو اسے رکھنے نہیں دیں گے۔‘‘

ٹرمپ کے بیان سے قبل دو سینئر ایرانی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ہدایت جاری کی ہے کہ یورینیم کو ملک سے باہر نہ بھیجا جائے۔

امریکی صدر نے اس کے ساتھ ساتھ ایران کے اس منصوبے پر بھی تنقید کی جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ٹرمپ نے  اس بارے میں کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ یہ راستہ کھلا اور آزاد رہے۔ ہم ٹول یا فیس نہیں چاہتے۔ یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔‘‘

ٹرمپ  کو نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل داخلی دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکہ  میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر عوامی غصہ بڑھ رہا ہے، جبکہ ان کی مقبولیت گزشتہ سال وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے اب تک کی نچلی سطح کے قریب پہنچ چکی ہے۔

اسی دوران تہران نے رواں ہفتے کے آغاز میں امریکہ کو اپنی نئی پیشکش بھی ارسال کر دی ہے۔

پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی، مگر شرائط غیر واضح

ادارت: جاوید اختر
 

https://p.dw.com/p/5EAtc
مزید پوسٹیں