1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’تمام معاہدوں کی ماں‘: بھارت کی یورپی یونین کی طرف پیش رفت

کشور مصطفیٰ اے ایف پی کے ساتھ
24 جنوری 2026

آئندہ ہفتے نئی دہلی میں یورپی یونین کے سربراہان اور وزیرِاعظم نریندر مودی کی ملاقات ہوگی۔ اس دوران بڑے تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی امید قوی ہے، جسے ’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ تمام معاہدوں کی ماں قرار دیا جا رہا ہے۔

https://p.dw.com/p/57NGH
گزشتہ سال 2025  میں یورپی کمیشن کی  صدر اُرزولا فان ڈیر لاین نئی دہلی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ  سے مصافحہ کرتے ہوئے
بھارت اور یورپی یونین گزشتہ دو دہائیوں سے تجارتی معاہدے پر مذاکرات کے لیے بہت قریب آئے ہیںتصویر: Manish Swarup/AP/dpa/picture alliance

چین اور امریکہ کی جانب سے درپیش چیلنجز کے درمیان، بھارت اور یورپی یونین گزشتہ دو دہائیوں سے ایک بڑے آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات کر رہے ہیں اور اب یہ بات چیت اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی ہے۔

یورپی کمیشن  کی صدر اُرزولا فان ڈیر لاین نے اس ہفتے ایک بیان میں کہا تھا، ''ہم ایک تاریخی تجارتی معاہدے کے قریب ہیں۔‘‘

فان ڈیر لاین اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا پیر کو بھارت کے یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں شرکت کریں گے، جس کے بعد منگل کو یورپی یونین اور بھارت سربراہی اجلاس ہوگا، جہاں اس معاہدے پر باضابطہ طور اتفاق کی اُمید رکھتے ہیں۔

ہیروں کی دنیا، مصنوعی کا مطلب نقلی نہیں

بھارت  کے وزیرِ تجارت پیوش گوئل نے اس معاہدے کو ''تمام معاہدوں کی ماں‘‘ قرار دیا ہے۔ اس کی کامیابی یورپی یونین اور نئی دہلی، دونوں کے لیے بڑی جیت سمجھی جائے گی، کیونکہ دونوں ممالک امریکی ٹیرف اور چینی برآمدی پابندیوں کے دباؤ کے درمیان نئے بازار تلاش کر رہے ہیں۔

لیکن حکام نے زور دے کر کہا ہے کہ یہ معاملہ صرف تجارت تک محدود نہیں ہے۔

یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کایا کالاس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا، '' ایک ایسے وقت میں جب جنگوں، جبری رویوں اور اقتصادی تقسیم کی وجہ سے عالمی قواعد پر مبنی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے، یورپی یونین اور بھارت ایک دوسرے کے مزید قریب آ رہے ہیں۔‘‘

ایک پزل کے ذریعے بھارت اور یورپی یونین کی تجارتی قربت کو اجاگر کرنے والی ایک علامتی تصویر
آئندہ پیر کو بھارت کے یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں شرکت کریں گے فان ڈیر لاین اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا پیر کو بھارت کے یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں شرکت کریں گےتصویر: AlexLMX/IMAGO

باہمی تجارت میں مزید اضافہ

معروف تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسس گروپ سے وابستہ ماہر پروین ڈونتھی کے مطابق روس کے یوکرین پر حملے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عائد کردہ تعزیری درآمدی ڈیوٹیوں نے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات میں نئی حرارت پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے کہا، ''یورپی یونین کی نظر بھارتی منڈی پر ہے اور وہ بھارت جیسے اُبھرتے ہوئے طاقتور ملک کو روس سے دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ بھارت بھی اپنی شراکت داریوں میں تنوع لاتے ہوئے اپنی 'کثیر الجہتی‘ حکمتِ عملی کو مزید مضبوط بنا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اس کے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی آئی ہے۔‘‘

جرمنی - بھارت تعلقات: وزیراعظم مودی کی برلن آمد

یورپی یونین اور بھارت مل کر دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی  اور مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کا احاطہ کرتے ہیں۔

اشیاء کی باہمی تجارت 2024 میں 120 ارب یورو (139 ارب ڈالر) تک جا پہنچی، جو گزشتہ دہائی کے دوران تقریباً 90 فیصد اضافہ ہے۔ یورپی یونین کے اعداد و شمار کے مطابق خدمات کی تجارت اس کے علاوہ مزید 60 ارب یورو (69 ارب ڈالر) رہی۔

تاہم دونوں فریق اس سے بھی زیادہ آگے بڑھنے کے خواہش مند ہیں۔

2023 ستمبر میں نئی دہلی میں ہونے والی جی ٹوئنٹی ۔ انڈیا سمٹ کی تصویر جس میں نریندر مودی اور تمام 20 ممالک کے مندوبین نظر آ رہے ہیں
زرعی شعبہ، بھارت اور یورپ دونوں کے لیے نہایت حساس ہےتصویر: Muchlis Jr/Presidential Secretariat Press Bureau

 دفاعی معاہدہ

یورپی یونین کے حکام معاہدے کی تفصیلات کے بارے میں خاموش رہے ہیں کیونکہ مذاکرات ابھی جاری ہیں۔ تاہم زرعی شعبہ، جو بھارت اور یورپ دونوں کے لیے نہایت حساس ہے، غالباً محدود کردار  ہی ادا کرے گا، کیونکہ نئی دہلی اپنی ڈیری اور اناج کی صنعتوں کو تحفظ دینے کی خواہش رکھتی ہے۔

مذاکرات سے واقف افراد کے مطابق بات چیت کا محور ابھی بھی چند اہم رکاوٹیں ہیں، جن میں یورپی یونین کے کاربن بارڈر ٹیکس کا فولاد کی برآمدات پر اثر، اور دواسازی و آٹوموٹیو سیکٹر میں حفاظتی و معیاری ضوابط شامل ہیں۔

اس کے باوجود یورپی یونین کے حکام پر اعتماد ہیں کہ مذاکرات سربراہی اجلاس سے قبل مکمل کیے جا سکتے ہیں۔

مزدوروں، طلبہ، محققین اور اعلیٰ مہارت رکھنے والے پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے ایک معاہدہ بھی زیرِ غور ہے، جو سکیورٹی اور دفاعی معاہدے کے ساتھ پیکج کا حصہ ہوگا۔

ادارت: افسر اعوان