’تمام معاہدوں کی ماں‘: بھارت کی یورپی یونین کی طرف پیش رفت
24 جنوری 2026
چین اور امریکہ کی جانب سے درپیش چیلنجز کے درمیان، بھارت اور یورپی یونین گزشتہ دو دہائیوں سے ایک بڑے آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات کر رہے ہیں اور اب یہ بات چیت اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر اُرزولا فان ڈیر لاین نے اس ہفتے ایک بیان میں کہا تھا، ''ہم ایک تاریخی تجارتی معاہدے کے قریب ہیں۔‘‘
فان ڈیر لاین اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا پیر کو بھارت کے یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں شرکت کریں گے، جس کے بعد منگل کو یورپی یونین اور بھارت سربراہی اجلاس ہوگا، جہاں اس معاہدے پر باضابطہ طور اتفاق کی اُمید رکھتے ہیں۔
بھارت کے وزیرِ تجارت پیوش گوئل نے اس معاہدے کو ''تمام معاہدوں کی ماں‘‘ قرار دیا ہے۔ اس کی کامیابی یورپی یونین اور نئی دہلی، دونوں کے لیے بڑی جیت سمجھی جائے گی، کیونکہ دونوں ممالک امریکی ٹیرف اور چینی برآمدی پابندیوں کے دباؤ کے درمیان نئے بازار تلاش کر رہے ہیں۔
لیکن حکام نے زور دے کر کہا ہے کہ یہ معاملہ صرف تجارت تک محدود نہیں ہے۔
یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کایا کالاس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا، '' ایک ایسے وقت میں جب جنگوں، جبری رویوں اور اقتصادی تقسیم کی وجہ سے عالمی قواعد پر مبنی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے، یورپی یونین اور بھارت ایک دوسرے کے مزید قریب آ رہے ہیں۔‘‘
باہمی تجارت میں مزید اضافہ
معروف تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسس گروپ سے وابستہ ماہر پروین ڈونتھی کے مطابق روس کے یوکرین پر حملے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عائد کردہ تعزیری درآمدی ڈیوٹیوں نے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات میں نئی حرارت پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے کہا، ''یورپی یونین کی نظر بھارتی منڈی پر ہے اور وہ بھارت جیسے اُبھرتے ہوئے طاقتور ملک کو روس سے دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ بھارت بھی اپنی شراکت داریوں میں تنوع لاتے ہوئے اپنی 'کثیر الجہتی‘ حکمتِ عملی کو مزید مضبوط بنا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اس کے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی آئی ہے۔‘‘
یورپی یونین اور بھارت مل کر دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی اور مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کا احاطہ کرتے ہیں۔
اشیاء کی باہمی تجارت 2024 میں 120 ارب یورو (139 ارب ڈالر) تک جا پہنچی، جو گزشتہ دہائی کے دوران تقریباً 90 فیصد اضافہ ہے۔ یورپی یونین کے اعداد و شمار کے مطابق خدمات کی تجارت اس کے علاوہ مزید 60 ارب یورو (69 ارب ڈالر) رہی۔
تاہم دونوں فریق اس سے بھی زیادہ آگے بڑھنے کے خواہش مند ہیں۔
دفاعی معاہدہ
یورپی یونین کے حکام معاہدے کی تفصیلات کے بارے میں خاموش رہے ہیں کیونکہ مذاکرات ابھی جاری ہیں۔ تاہم زرعی شعبہ، جو بھارت اور یورپ دونوں کے لیے نہایت حساس ہے، غالباً محدود کردار ہی ادا کرے گا، کیونکہ نئی دہلی اپنی ڈیری اور اناج کی صنعتوں کو تحفظ دینے کی خواہش رکھتی ہے۔
مذاکرات سے واقف افراد کے مطابق بات چیت کا محور ابھی بھی چند اہم رکاوٹیں ہیں، جن میں یورپی یونین کے کاربن بارڈر ٹیکس کا فولاد کی برآمدات پر اثر، اور دواسازی و آٹوموٹیو سیکٹر میں حفاظتی و معیاری ضوابط شامل ہیں۔
اس کے باوجود یورپی یونین کے حکام پر اعتماد ہیں کہ مذاکرات سربراہی اجلاس سے قبل مکمل کیے جا سکتے ہیں۔
مزدوروں، طلبہ، محققین اور اعلیٰ مہارت رکھنے والے پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے ایک معاہدہ بھی زیرِ غور ہے، جو سکیورٹی اور دفاعی معاہدے کے ساتھ پیکج کا حصہ ہوگا۔
ادارت: افسر اعوان