امریکہ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ جنگ شروع کرنا چاہتا ہے، ایران
وقت اشاعت 20 مئی 2026آخری اپ ڈیٹ 20 مئی 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- ٹرمپ کی تائیوان کے صدر سے براہ راست گفتگو کی خواہش
- امریکہ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ جنگ شروع کرنا چاہتا ہے، ایران کا الزام
- ٹرمپ انتظامیہ نے کیوبا کو ’نئے راستے‘ کی پیشکش کر دی
- شمالی کوریا کی خواتین فٹبال ٹیم نے میزبان جنوبی کوریا کو شکست دے کر فائنل میں پہنچ گئی
- آبنائے ہرمز سے 24 گھنٹوں میں 26 جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی، ایرانی پاسدارانِ انقلاب
- چین اور روس اسٹریٹیجک اتحاد مزید مضبوط بنانے پر متفق
ٹرمپ کی تائیوان کے صدر سے براہ راست گفتگو کی خواہش
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ تائیوان کے صدر لائی چنگ تے سے بات کریں گے، جسے امریکہ اور چین کے تعلقات کے تناظر میں ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا، ’’میں ان سے بات کروں گا۔ میں سب سے بات کرتا ہوں۔ ہم اس معاملے پر کام کریں گے، تائیوان کا مسئلہ۔‘‘
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ گزشتہ ہفتے چین کا دورہ مکمل کر چکے ہیں، جسے انہوں نے بدھ کے روز ’’بہت شاندار‘‘ قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق اگر امریکی صدر اور تائیوان کے صدر کے درمیان براہِ راست رابطہ ہوتا ہے تو یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہوگی، کیونکہ 1979ء میں واشنگٹن کی جانب سے بیجنگ کو باضابطہ سفارتی شناخت دینے کے بعد دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان براہِ راست گفتگو نہیں ہوئی۔
امریکہ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ جنگ شروع کرنا چاہتا ہے، ایران
ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بدھ کے روز کہا ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ جنگ شروع کرنا چاہتا ہے جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے امن معاہدے پر اتفاق نہ کیا تو وہ دوبارہ حملہ کر سکتے ہیں۔
ایرانی میڈیا پر نشر کردہ قالیباف کے ایک آڈیو بیان میں کہا گیا کہ دشمن کی کھلی اور خفیہ سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ شدید اقتصادی اور سیاسی دباؤ کے باوجود وہ اپنے عسکری مقاصد سے پیچھے نہیں ہٹا اور ایک نئی جنگ شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے سخت ردعمل کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر حالات بگڑے تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی کہا ہے کہ اگر دوبارہ جنگ مسلط کی گئی تو یہ صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات خطے سے باہر بھی پھیل سکتے ہیں۔
آٹھ اپریل کو ہونے والی جنگ بندی نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی لڑائی کو وقتی طور پر روک دیا تھا تاہم اس کے بعد سے صورتحال میں مکمل امن کے بجائے لفظی جنگ اور سفارتی کشمکش جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا ایران کو فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے جبکہ ایرانی حکام بھی سخت جوابی بیانات دے رہے ہیں۔
اس کے باوجود دونوں ممالک پاکستان کی ثالثی میں جاری سفارتی رابطوں میں شامل ہیں، جن کا مقصد جنگ کا باضابطہ خاتمہ ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے منگل کے روز کہا، ’’بہت اچھی پیش رفت ہو رہی ہے‘‘ اور بات چیت جاری رہے گی تاہم ساتھ ہی انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ امریکی فوج ’’مکمل طور پر تیار‘‘ ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ اگر دوبارہ جارحیت کی گئی تو اس بار علاقائی جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے اور اس کا ’’تباہ کن جواب‘‘ دیا جائے گے۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باوجود محدود سفارتی رابطے جاری ہیں، جن میں پاکستان کی جانب سے ثالثی کا کردار ادا کیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے کیوبا کو ’نئے راستے‘ کی پیشکش کر دی
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کیوبا کے عوام کے نام خصوصی ویڈیو پیغام میں ’’نئے راستے‘‘ کی پیشکش کرتے ہوئے کمیونسٹ قیادت پر بدعنوانی، جبر اور قومی وسائل لوٹنے کے الزامات عائد کیے ہیں جبکہ اسی روز امریکہ کی جانب سے سابق کیوبن رہنما راول کاسترو پر فردِ جرم عائد کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ہسپانوی زبان میں جاری کردہ اپنے پیغام میں کیوبا کے عوام کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ اور ’’نئے کیوبا‘‘ کے درمیان تعلقات کا نیا باب کھولنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسا کیوبا، جہاں عوام کو اپنی حکومت منتخب کرنے اور ناقص کارکردگی کی صورت میں اسے تبدیل کرنے کا حقیقی حق حاصل ہو۔
حالیہ مہینوں کے دوران امریکہ اور ہوانا کے تعلقات میں شدید کشیدگی دیکھی گئی ہے، خاص طور پر اس وقت سے جب امریکی افواج نے کیوبا کے اتحادی وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد کیوبا پر سخت توانائی پابندیاں عائد کیں، جس سے پہلے ہی معاشی بحران کا شکار ملک مزید دباؤ میں آ گیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار اشارہ دے چکے ہیں کہ کیوبا کی حکومت بھی اگلا ہدف بن سکتی ہے۔ رواں ماہ انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ امریکہ کیوبا کا کنٹرول ’’تقریباً فوری طور پر‘‘ سنبھال سکتا ہے۔
روبیو نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ دونوں ممالک اور عوام کے درمیان تعلقات کا نیا باب کھولنے کے لیے تیار ہے تاہم بہتر مستقبل کی راہ میں رکاوٹ وہ عناصر ہیں جو کیوبا پر قابض ہیں۔
انہوں نے کیوبا کی فوجی حمایت یافتہ کاروباری تنظیم ’’گائیسا‘‘ پر الزام لگایا کہ وہ معیشت کے بڑے حصے پر قابض ہو کر اشرافیہ کو فائدہ پہنچا رہی ہے، جبکہ عام شہری مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔
ادھر امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے بدھ کے روز 94 سالہ راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات کا اعلان متوقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق ممکنہ فردِ جرم 1996 میں دو شہری طیارے مار گرائے جانے کے واقعے سے متعلق ہو سکتی ہے، جس میں چار افراد مارے گئے تھے۔
راول کاسترو نے اپنے بھائی فیدل کاسترو کے بعد کیوبا کی قیادت سنبھالی تھی اور 2015 میں سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں امریکہ اور کیوبا کے درمیان تاریخی تعلقات بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، تاہم بعد میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ان پالیسیوں کو واپس لے لیا تھا۔
شمالی کوریا کی خواتین فٹبال ٹیم میزبان جنوبی کوریا کو شکست دے کر فائنل میں پہنچ گئی
شدید بارش کے باوجود سینکڑوں جنوبی کوریائی شائقین نے بدھ کے روز شمالی کوریا کی خواتین فٹبال ٹیم کا بھرپور استقبال کیا، جہاں ایشین فٹبال کنفیڈریشن ویمنز چیمپئنز لیگ کے سیمی فائنل میں پیانگ یانگ کی نائیگوہ یانگ ویمنز ایف سی نے میزبان سوون کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست دے دی۔
اس کامیابی کے بعد شمالی کوریا کی ٹیم نے ٹورنامنٹ کے فائنل میں جگہ بنا لی، جہاں ہفتے کے روز اس کا مقابلہ جاپان کی ٹوکیو وردی بیلیزا سے ہوگا۔ جاپانی ٹیم نے دوسرے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے میلبورن سٹی کو تین کے مقابلے میں ایک گول سے ہرایا۔
میچ میں گول کرنے والی شمالی کورین کھلاڑی چوئی کم اوک نے کہا کہ انہیں اپنی ٹیم کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹیم متحد رہی تو نہ سیمی فائنل اور نہ ہی فائنل ان کے لیے مسئلہ بنے گا۔
شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات شدید کشیدہ رہے ہیں، خاص طور پر شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے باعث۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں اور ثقافتی تبادلوں میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔
آبنائے ہرمز سے 24 گھنٹوں میں 26 جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی، ایرانی پاسدارانِ انقلاب
ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تیل بردار جہازوں سمیت 26 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی۔
ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس اہم عالمی بحری گزرگاہ میں جہاز رانی پر بڑی حد تک پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا میں توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔
ایران، جو 13 اپریل سے امریکی بحری ناکہ بندی کا سامنا کر رہا ہے، جنگ بندی کے باوجود اس مؤقف پر قائم ہے کہ اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تمام جہازوں کو ایرانی مسلح افواج سے پیشگی اجازت لینا ہوگی۔
پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 26 جہاز، جن میں تیل بردار، مال بردار کنٹینر جہاز اور دیگر تجارتی بحری جہاز شامل تھے، آبنائے ہرمز سے گزرے۔
بیان میں کہا گیا کہ ان جہازوں کی آمد و رفت پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی نگرانی اور سکیورٹی انتظامات کے بعد ممکن ہوئی۔
جنوبی کوریا نے بھی بدھ کے روز اعلان کیا کہ اس کا ایک تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے کامیابی سے گزر گیا، جو جنگ شروع ہونے کے بعد کسی جنوبی کوریائی جہاز کی پہلی روانگی تھی۔
ایران نے پیر کے روز خلیج فارس آبنائے اتھارٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا، جو اس اہم آبی راستے میں بحری ٹریفک کی نگرانی اور انتظام سنبھالے گی۔
گزشتہ ہفتے ایران نے کہا تھا کہ 30 سے زائد جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی، جن میں بعض چینی جہاز بھی شامل تھے۔
چین اور روس اسٹریٹیجک اتحاد مزید مضبوط بنانے پر متفق
چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے بدھ کے روز بیجنگ میں ملاقات کے دوران دوطرفہ اسٹریٹیجک تعلقات اور توانائی کے شعبے میں بڑھتے تعاون کو سراہتے ہوئے باہمی شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
یہ ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین کے چند روز بعد ہوئی، جسے عالمی سفارتی منظرنامے میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
شی جن پنگ اور پوٹن نے تجارت، ٹیکنالوجی اور میڈیا تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں 40 سے زائد تعاون کے معاہدوں پر دستخط کی نگرانی کی۔ دونوں رہنماؤں نے خاص طور پر تیل اور قدرتی گیس کی تجارت میں اضافے کو اجاگر کیا اور عالمی معاملات پر مشترکہ مؤقف اپنانے کا اعلان کیا۔
دستخطی تقریب کے بعد شی جن پنگ نے وفود اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین اور روس کے تعلقات تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ دونوں ممالک نے 2001 میں ہونے والے دوستی کے معاہدے میں توسیع پر بھی اتفاق کیا۔
روسی صدر پوٹن نے کہا کہ روس اور چین کے درمیان معاشی تعاون کی اصل قوت توانائی کے شعبے میں شراکت داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے بحران کے باوجود روس توانائی وسائل کی قابل اعتماد فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ چین ان وسائل کا ذمہ دار صارف ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ بیان ایران میں امریکہ کی جنگ کی جانب اشارہ تھا۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ میں فوری اور مکمل جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ تنازع کے جلد خاتمے سے توانائی کی فراہمی کے استحکام، صنعتی و سپلائی نظام کے تسلسل اور عالمی تجارتی نظم میں رکاوٹیں کم کرنے میں مدد ملے گی۔
ادارت: جاوید اختر