آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کی نئی امریکی کوششوں کا آغاز
وقت اشاعت 4 مئی 2026آخری اپ ڈیٹ 4 مئی 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- ایران جنگ کے باعث دبئی میں دنیا کے مصروف ترین ہوئی اڈے پر ایئر ٹریفک میں 66 فیصد کمی
- تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے امریکی ڈسٹرائر شپ خلیج فارس میں داخل، امریکی فوج
- تعطیلاتی کروز شپ پر چوہوں سے پھیلنے والے ہنٹا وائرس کے باعث تین افراد ہلاک، کئی مسافر بیمار
- آرمینیا میں یورپی سیاسی سمٹ: ٹرمپ کا پیغام یورپ کو پہنچ چکا ہے، نیٹو سیکرٹری جنرل مارک رُٹے
- امریکی بحریہ اور اس کے جہاز آبنائے ہرمز سے دور رہیں، ایران کی متحدہ فوجی کمان کے سربراہ کی تنبیہ
- ’پروجیکٹ فریڈم‘: آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے امریکی قیادت میں نئی ٹاسک فورس کی کوششوں کا آغاز
ایران جنگ کے باعث دبئی میں دنیا کے مصروف ترین ہوئی اڈے پر مسافروں کی آمد و رفت میں 66 فیصد کمی
متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی کے دنیا کے مصروف ترین بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مارچ کے مہینے میں ایران جنگ کی وجہ سے مسافروں کی آمد و رفت میں 66 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی اس امارت کی طرف سے پیر چار مئی کے روز جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا کہ مارچ میں دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر ٹریفک کے دو تہائی کم ہو جانے کی وجہ وہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملے بنے، جو ایران کی طرف سے دیگر خلیجی عرب ریاستوں کی طرح اس ملک میں بھی امریکی عسکری اور اقتصادی اہداف کو ٹارگٹ بنانے کے لیے کیے جاتے رہے تھے۔
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کی نئی امریکی کوششوں کا آغاز
یو اے ای کی ریاست دبئی کے میڈیا آفس نے بتایا کہ اس سال مارچ میں ایک سال پہلے کے اسی مہینے کے مقابلے میں فضائی مسافروں کی آمد و رفت 66 فیصد کم ہو کر 2.5 ملین رہ گئی۔ یو اے ای کی فضائی کمپنی الامارات (ایمیریٹس) کی زیادہ تر بین الاقوامی پروازوں کا محور بھی دبئی کا یہی بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہے۔
جنگ کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں، امریکہ کو ارسال کردہ ایرانی تجاویز میں اہم شرط
بیان کے مطابق، ’’جنگ کی وجہ سے اس ہوائی اڈے سے پروازوں کا شیڈول متاثر ہونے، فضائی حدود کی بندش اور فضائی سفر میں علاقائی سطح تک پھیل جانے والے تعطل کے سبب اس ایئر پورٹ کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی۔
2025ء میں مسافروں کی تعداد کا نیا ریکارڈ
دبئی میڈیا آفس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران جنگ میں ابھی تک جاری فائر بندی کی بنا پر متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود اب پوری طرح کھولی جا چکی ہیں اور ریاست دبئی کے تمام ہوائی اڈے اپنی کارکردگی کو معمول پر لانے کی کوششیں کرتے ہوئے اپنے آپریشنز کو وسعت دیتے جا رہے ہیں۔
ایران جنگ کے پس منظر میں شہریت کا بطور ’ہتھیار‘ استعمال
ایران جنگ میں اپنے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے مسلسل فضائی حملوں کے جواب میں تہران نے خلیجی عرب ریاستوں میں امریکی فوجی اور اقتصادی اہداف پر جو سینکڑوں میزائل، راکٹ اور جنگی ڈرون حملے کیے تھے، ان میں سے بہت زیادہ حملوں کا سامنا یو اے ای ہی کو کرنا پڑا تھا۔
اس دوران دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کو بھی کئی مرتبہ جنگی ڈرونز کے ساتھ ہدف بنایا گیا تھا۔
نئی ایرانی امن تجویز بذریعہ پاکستان امریکہ تک پہنچا دی گئی
گزشتہ برس دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کو استعمال کرنے والے فضائی مسافروں کی مجموعی تعداد 95.2 ملین رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے اخراج سعودی عرب کے لیے دھچکا؟
اس کے بعد اس سال کے آغاز پر مسافروں کی یہی سالانہ تعداد 99.5 ملین تک پہنچ جانے کی توقع کی جا رہی تھی، مگر ایران جنگ کے باعث اب بظاہر ایسا نہیں ہو سکے گا۔
تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے امریکی ڈسٹرائر شپ خلیج فارس میں داخل، امریکی فوج
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کوم) نے پیر کے روز بتایا کہ امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائلوں سے لیس ڈسٹرائرز خلیج فارس میں سرگرم ہیں جبکہ امریکہ کے جھنڈے والے دو تجارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر چکے ہیں۔
سینٹ کوم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ یہ جنگی جہاز ’’اس وقت بحیرہ عرب میں کام کر رہے ہیں اور ’پروجیکٹ فریڈم‘ کی حمایت میں آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں۔‘‘ آبنائے ہرمز سے متعلق ’پروجیکٹ فریڈم‘ نامی آپریشن کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار تین مئی کے روز کیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایک نئی ٹاسک فورس قائم کر دی گئی ہے، جو آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو وہاں سے نکلنے میں مدد دے گی، اور یوں ایران کی طرف سے بند کردہ اس اہم سمندری تجارتی راستے کو دوبارہ کھلوانے کی کوشش کرے گی۔
سینٹ کوم کے بیان میں مزید کہا گیا، ’’امریکی افواج تجارتی جہاز رانی کی بحالی کی کوششوں میں سرگرمی سے مدد کر رہی ہیں۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا، ’’امریکہ کے جھنڈے والے دو تجارتی بحری جہاز کامیابی سے آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں اور محفوظ طریقے سے اپنے سفر پر گامزن ہیں۔‘‘
گلوبل انرجی کا مستقبل: امریکہ طے کرے گا یا چین؟
دریں اثنا ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے بتایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ نے متعدد وارننگ فائر کرنے کے بعد امریکی جہازوں کے قریب کروز میزائل، راکٹ اور جنگی ڈرون فائر کیے۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو شروع ہونے والے حملوں کے ردعمل میں تہران کی افواج نے اس آبنائے کو مؤثر طور پر بند کر دیا تھا،جو تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جبکہ واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ایران کی ناکہ بندی کے دوران امریکی بحریہ 'قزاقوں‘ کی طرح کام کر رہی ہے، ٹرمپ
نئی ایرانی امن تجویز بذریعہ پاکستان امریکہ تک پہنچا دی گئی
ایران جنگ شروع ہونے کے کئی ہفتے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے پہلے دو ہفتوں کے لیے فائر بندی کا اعلان کیا تھا لیکن پھر بعد میں اس سیزفائر کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا تھا، تاکہ کوئی ڈیل طے پا سکے۔
ابھی تک لیکن نہ تو یہ جنگ باقاعدہ طور پر ختم ہو سکی ہے اور نہ ہی اس تنازعے کی وجہ سے وسیع تر معاشی نقصانات کا سلسلہ رک سکا ہے۔
تعطیلاتی کروز شپ پر چوہوں سے پھیلنے والے ہنٹا وائرس کے باعث تین افراد ہلاک، کئی مسافر بیمار
بین الاقوامی پانیوں میں تعطیلات کے لیے ایک کروز شپ پر سفر کرنے والے مسافروں میں چوہوں سے پھیلنے والے مہلک ہنٹا وائرس کے باعث اب تک تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ کئی مسافر بیمار ہیں۔
یہ جہاز اس وقت کیپ ویردی کی پرائیا نامی بندرگاہ کے پاس سمندر میں لنگر انداز ہے اور ملکی حکام نے اس کے مسافروں کو کیپ ویردی میں اترنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اب تک ہلاک ہونے والے اس کروز شپ کے تین مسافروں میں سے ایک برطانیہ کا شہری تھا اور دوسرا جرمنی کی ایک جہاز راں کمپنی کا مالک بتایا گیا ہے۔
یہ بیماری عام طور پر پنجوں والے اور چوہوں جیسے ایسے ممالیہ جانوروں کے ذریعے پھیلتی ہے، جو اپنی خوراک کتر کر کھاتے ہیں۔ ہنٹا وائرس کے باعث لگنے والی اس بیماری کے واقعات ماضی میں بھی دیکھنے میں آ چکے ہیں اور ایسی محدود وبائیں گزشتہ عشروں اور برسوں میں زیادہ تر ایشیا اور یورپ میں ریکارڈ کی گئی تھیں۔
پچھلے برس یہ بیماری اور اس کی وجہ بننے والا ہنٹا وائرس ایک بار پھر اس وقت عالمی میڈیا میں سرخیوں کی وجہ بنے تھے، جب یہ تصدیق ہو گئی تھی کہ معروف آنجہانی اداکار جین ہیکمین کی اہلیہ بیٹسی آراکاوا امریکی ریاست نیومیکسیکو میں اسی وائرس کی وجہ سے انتقال کر گئی تھیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق یہ وائرس چوہوں جیسے جانوروں سے پھیلتا ہے اور اس کے انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہونے کی مثالیں شاذ و نادر ہی سامنے آئی ہیں۔
جس کروز شپ پر ہنٹا وائرس کی وجہ سے انسانی ہلاکتوں کے تازہ واقعات سامنے آئے ہیں، اس کے مسافروں کو کیپ ویردی نامی ملک کے حکام نے نہ صرف اپنے ہاں اس جہاز سے بندرگاہ پر اترنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا، بلکہ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس تعطیلاتی بحری جہاز کو پرائیا کی بندرگاہ کے اندر لنگر انداز ہونے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔
سردیوں کی بیماریوں میں اضافہ: انتہائی متعدی نورو وائرس سے کیسے بچا جائے؟
اس تعطیلاتی بحری جہاز پر مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباﹰ 150 سیاح سوار ہیں جبکہ عملے کے ارکان کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔
اس کروز شپ نے اپنا سفر جنوبی ارجنٹائن کی بندرگاہ اُوشوآئیا سے قریب تین ہفتے قبل شروع کیا تھا اور اس کی منزل اسپین کے جزائر کیناری تھے۔
آرمینیا میں یورپی سیاسی سمٹ: ٹرمپ کا پیغام یورپ کو پہنچ چکا ہے، نیٹو سیکرٹری جنرل مارک رُٹے
مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک رُٹے نے کہا ہے کہ یورپ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ ’’پیغام مل چکا ہے‘‘ کہ امریکی صدر یورپ سے اس وجہ سے ناامید ہوئے ہیں کہ اس نے ایران جنگ میں شامل ہونے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔
نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک رُٹے نے پیر چار مئی کے روز آرمینیا میں یورپی رہنماؤں کے ایک سربراہی اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورپ اب اس امر سے اچھی طرح آگاہ ہے کہ امریکہ میں اس بنا پر کافی بددلی پائی جاتی ہے کہ نیٹو کے رکن یورپی ممالک نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے سے احتراز کیا۔
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کی نئی امریکی کوششوں کا آغاز
مارک رُٹے یورپی سربراہان مملکت و حکومت کے جس اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، وہ یورپی سیاسی برادری کی سمٹ کی افتتاحی نشست تھی۔ رُٹے نے کہا، ’’یورپی رہنماؤں تک یہ پیغام واضح طور پر اور بلند آواز میں پہنچ چکا ہے کہ امریکہ کو ایران جنگ میں شمولیت سے انکار کرنے پر یورپی اقوام سے مایوسی ہوئی ہے۔‘‘
ساتھ ہی نیٹو کے سربراہ نے کہا، ’’اب یورپی ممالک اپنی وہ کوششیں تیز کر رہے ہیں، جن کا مقصد یورپ کا زیادہ بڑا کردار اور ایک مضبوط تر نیٹو ہے۔‘‘
آرمینیا سمٹ میں شامل یورپی سربراہان کا موقف
یورپی پولیٹیکل کمیونٹی (ای پی سی) کی آرمینیا میں ہونے والی سمٹ میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت بھی حصہ لے رہے ہیں، جن میں سے نمایاں ترین نام یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈئر لاین اور فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں کے بھی تھے۔
جنگ کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں، امریکہ کو ارسال کردہ ایرانی تجاویز میں اہم شرط
ان یورپی رہنماؤں نے اپنی تقریروں میں جرمنی میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں پانچ ہزار کی کمی کے صدر ٹرمپ کے حالیہ فیصلے پر اپنے ردعمل کا اظہار بھی کیا۔
فرانسیسی صدر ماکروں نے کہا کہ یورپ کو اب یہ سیکھنا ہی ہو گا کہ وہ اپنے دفاع کے لیے امریکہ پر انحصار کیے بغیر اپنی مدد آپ کیسے کر سکتا ہے۔
صدر ماکروں کے الفاظ میں، ’’یورپی ممالک اب اپنی قسمت اپنے ہاتھوں میں لے رہے ہیں اور اپنے دفاعی اور سکیورٹی اخراجات میں اضافہ بھی کر رہے ہیں، تاکہ خود اپنے معاملات کے لیے مشترکہ حل تلاش کر سکیں۔‘‘
ایران جنگ کے پس منظر میں شہریت کا بطور ’ہتھیار‘ استعمال
اسی طرح یورپی یونین کے کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈئر لاین نے بھی ای پی سی سمٹ کے شرکاء سے اپنے خطاب میں کہا، ’’ہمیں لازمی طور پر اپنی دفاعی صلاحیتیں بڑھانا ہوں گی، تاکہ ہم اپنا دفاع اور اپنی حفاظت خود کر سکیں۔‘‘
ایران کی ناکہ بندی کے دوران امریکی بحریہ 'قزاقوں‘ کی طرح کام کر رہی ہے، ٹرمپ
جرمنی میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں پانچ ہزار کی کمی کے حالیہ امریکی فیصلے سے متعلق بات کرتے ہوئے یورپی یونین کی خارجہ امور کی نگران اعلیٰ ترین عہدیدار کایا کالاس نے سمٹ سے اپنے خطاب میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ فیصلہ ’’حیران کن‘‘ تو ہے، تاہم یورپ میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں ممکنہ کمی کا گزشتہ کچھ عرصے سے بین السطور میں ذکر ہو بھی رہا تھا۔
امریکی بحریہ اور اس کے جہاز آبنائے ہرمز سے دور رہیں، ایران کی متحدہ فوجی کمان کے سربراہ کی تنبیہ
امریکہ کی طرف سے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے مال بردار بحری جہازوں کی وہاں سے نکلنے میں مدد کے لیے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے نام سے جو نئی کوششیں شروع کی گئی ہیں، ان کے تناظر میں ایرانی فوج کی قیادت نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی بحریہ اور اس کے بحری جہاز آبنائے ہرمز سے دور رہیں۔
امریکہ کی قیادت میں قائم کردہ اس نئی ٹاسک فورس نے آج پیر چار مئی کے روز آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے اپنی نئی کوششیں شروع کر دیں۔
تاہم اس بارے میں اپنے ردعمل میں ایرانی مسلح افواج کی متحدہ کمان کے سربراہ علی عبداللہی نے پیر کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ امریکی بحریہ اور اس کے جہازوں کو لازمی طور پر آبنائے ہرمز سے دور ہی رہنا چاہیے۔
جنگ کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں، امریکہ کو ارسال کردہ ایرانی تجاویز میں اہم شرط
امریکی بحری جہازوں پر حملوں کی دھمکی
ساتھ ہی اس بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے تجارتی بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں کو اپنی ہر ایسی ممکنہ نقل و حرکت سے گریز کرنا چاہیے، جس کو پہلے سے ایرانی ملٹری کے ساتھ مربوط نہ بنایا گیا ہو۔
ایران جنگ کے پس منظر میں شہریت کا بطور ’ہتھیار‘ استعمال
اس بیان میں امریکی نیوی کو خبردار کرتے ہوئے مزید کہا گیا، ’’ہم تنبیہ کرتے ہیں کہ ایسی غیر ملکی مسلح افواج، خاص طور پر ایران کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرنے والی امریکی فوج، جنہوں نے آبنائے ہرمز میں داخلے کی کوشش کی، انہیں حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔‘‘
ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے اپنے خلاف فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ میں، جس میں اب فائر بندی جاری ہے، شروع میں ہی خلیج فارس کے آبنائے ہرمز والے حصے کو ہر قسم کی تجاری جہاز رانی کے لیے بند کر دیا تھا۔
نئی ایرانی امن تجویز بذریعہ پاکستان امریکہ تک پہنچا دی گئی
ایران کے ساتھ تنازعے میں امریکہ کو ’سبکی‘ کا سامنا، جرمن چانسلر
اس بندش کی وجہ سے دنیا بھر کو تیل اور قدرتی گیس کی فراہمی کے تقریباﹰ پانچویں حصے کی ترسیل رک گئی تھی، جو ابھی تک رکی ہوئی ہے اور اس وجہ سے بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد تک کا اضافہ بھی ہو چکا ہے۔
’پروجیکٹ فریڈم‘: آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے امریکی قیادت میں نئی ٹاسک فورس کی کوششوں کا آغاز
ایران جنگ کے سبب تہران کی طرف سے بند کی گئی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے امریکی قیادت میں قائم کردہ نئی ٹاسک فورس نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے تحت اس فورس نے پیر چار مئی کو اپنا کام شروع کیا۔
گلوبل انرجی کا مستقبل: امریکہ طے کرے گا یا چین؟
امریکہ میں واشنگٹن اور خلیج فارس کے خطے میں مختلف شہروں سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اس ٹاسک فورس نے اب خلیج فارس میں آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے مال بردار بحری جہازوں کے عملے کو یہ بتانا شروع کر دیا ہے کہ وہ اس آبنائے سے نکلنے کے لیے متبادل سفری راستے استعمال کریں۔
ساتھ ہی امریکہ کی قیادت میں قائم کردہ یہ ٹاسک فورس ان مال بردار بحری جہازوں کی انہیں اپنی حفاظت میں آبنائے ہرمز سے نکلنے میں مدد بھی کرے گی۔
نئی ایرانی امن تجویز بذریعہ پاکستان امریکہ تک پہنچا دی گئی
صدر ٹرمپ کا ’پروجیکٹ فریڈم‘ سے متعلق اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل اتوار تین مئی کو اعلان کیا تھا کہ ایک نئی ٹاسک فورس قائم کر دی گئی ہے، جو آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو وہاں سے نکلنے میں مدد دے گی، اور یوں ایران کی طرف سے بند کردہ اس اہم سمندری تجارتی راستے کو دوبارہ کھلوانے کی کوشش کرے گی۔
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکہ ایک ’نئے اتحاد‘ کا خواہاں
امریکہ نے جو نئی ٹاسک فورس قائم کی ہے، وہ آبنائے ہرمز میں سلامتی کی موجودہ صورت حال کو بھی بہتر بنائے گی، خاص طور پر اس وجہ سے بھی کہ ایران نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے عروج کے دنوں میں آبنائے کو بند کر دیا تھا، لیکن کافی عرصے سے ایران جنگ میں فائر بندی کے باوجود توانائی کے ذرائع کی عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم اس کمرشل شپنگ روٹ کو ابھی تک دوبارہ کھولا نہیں جا سکا۔
متحدہ عرب امارات کا اوپیک اور اوپیک پلس سے اخراج کا فیصلہ
میری ٹائم انفارمیشن سینٹر کا موقف
اس نئی ٹاسک فورس نے پیر چار مئی سے اپنا جو کام شروع کیا ہے، اس کے بارے میں میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے بتایا کہ اب آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے مال بردار بحری جہازوں کے عملے سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اس بحری راستے سے جنوب کی طرف سے گزرنے کی کوشش کریں اور اپنی نقل و حرکت کو عمانی حکام کی مدد سے مربوط بنائیں۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس میں ایرانی ساحلوں اور عمانی سرزمین کے درمیان ایک بہت تنگ سمندری راستہ ہے، جہاں سے دنیا بھر کو تیل اور قدرتی گیس کی برآمدی ترسیل کا تقریباﹰ پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
ایران جنگ عالمی تجارت پر کووڈ وبا سے زیادہ اثر انداز ہوگی؟
مختلف خبر رساں اداروں کے مطابق فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ آیا اس آبنائے میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں میں سے کسی نے امریکہ کی طرف سے پیش کردہ یہ آفر قبول کی ہے کہ نہیں کہ اگر وہ چاہیں تو اس آبنائے سے ایک متبادل راستے سے امریکی بحریہ کی حفاظت میں گزر سکتے ہیں۔
امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی پاکستانی کوششیں جاری
دوسری طرف یہ بات بھی اہم ہے کہ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ملکی فوجی کمان نے پیر کے روز واضح طور پر خبردار کیا کہ اس آبنائے سے گزرنے والے ہر بحری جہاز کے لیے پہلے اپنے سفر کو ایرانی حکام کے ساتھ مربوط کرنا لازمی ہے۔
ادارت: جاوید اختر