1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایران کے ساتھ تنازعے میں امریکہ کو ’سبکی‘ کا سامنا، میرس

شکور رحیم اے پی، اے ایف پی، روئٹرز، ڈی پی اے
وقت اشاعت 27 اپریل 2026آخری اپ ڈیٹ 27 اپریل 2026

جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ ایرانی توقع سے زیادہ مضبوط ثابت ہوئے ہیں اور امریکیوں کے پاس مذاکرات کی کوئی واضح حکمتِ عملی نہیں۔ فریڈرش میرس کے مطابق مشرق وسطیٰ کی جنگ ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی۔

https://p.dw.com/p/5CrmJ
 جرمن چانسلر  نے پیر کے روز اپنے آبائی علاقے مارسبرگ میں ایک اسکول کا دورہ کیا
جرمن چانسلر نے پیر کے روز اپنے آبائی علاقے مارسبرگ میں ایک اسکول کا دورہ کیاتصویر: Teresa Kroeger/REUTERS
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز فوج کے کنٹرول میں دینے اور دشمن کے جہازوں پر پابندی کا عندیہ
  • سابق ازبک صدر کی بیٹی کے خلاف سوئٹزرلینڈ میں بد عنوانی کا مقدمہ شروع
  • آبنائے ہرمز بحران: بحری جہازوں پر پھنسے ہزاروں بھارتی ملاحوں کو خوراک اور پانی کی قلت کا خدشہ
  • بحرین نے ایران کی حمایت کے الزام میں 69 افراد کی شہریت منسوخ کر دی
  • پوٹن کی ایران کو امن کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی 
  •  وائٹ ہاؤس ڈنر فائرنگ: اعلیٰ تعلیم یافتہ شوٹر کا محرک کیا تھا؟
  • ایران کے ساتھ تنازعے میں امریکہ کو ’سبکی‘ کا سامنا  ہے، جرمن چانسلر
  • حزب اللہ نے لبنان-اسرائیل براہِ راست مذاکرات کو ’سنگین گناہ‘ قرار دے دیا
  • ایران کی آبنائے ہرمز کھولنے پر مشروط آمادگی اور جوہری پروگرام پر خاموشی، رپورٹ
  • سات اپوزیشن ارکان کی بے جے پی میں شمولیت، حکمران جماعت کی راجیہ سبھا میں پوزیشن مضبوط
  • ایران-امریکہ مذاکرات میں تعطل برقرار، عراقچی روس پہنچ گئے
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز فوج کے کنٹرول میں دینے اور دشمن کے جہازوں پر پابندی کا عندیہ سیکشن پر جائیں
27 اپریل 2026

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز فوج کے کنٹرول میں دینے اور دشمن کے جہازوں پر پابندی کا عندیہ

آبنائے ہرمز کا کنٹرول اس وقت ایرانی پاسداران انقلاب کے پاس ہے
آبنائے ہرمز کا کنٹرول اس وقت ایرانی پاسداران انقلاب کے پاس ہےتصویر: IRIB TV/AFP

ایران  نے آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق مجوزہ قانون کے تحت اس اہم آبی گزرگاہ کا کنٹرول اپنی مسلح افواج کو دینے کا عندیہ دیا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ایرانی افواج پہلے ہی آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتی ہیں اور اب ’’دشمن جہازوں‘‘کی آمد و رفت پر پابندی عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ قانون کے مطابق اس آبی راستے سے حاصل ہونے والی مالی آمدن مقامی کرنسی ریال میں وصول کی جائے گی۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے، اور اس سے متعلق کسی بھی فیصلے کے عالمی معیشت پر بڑے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

https://p.dw.com/p/5CtgS
سابق ازبک صدر کی بیٹی کے خلاف سوئٹزرلینڈ میں بد عنوانی کا مقدمہ شروع سیکشن پر جائیں
27 اپریل 2026

سابق ازبک صدر کی بیٹی کے خلاف سوئٹزرلینڈ میں بد عنوانی کا مقدمہ شروع

53 سالہ گلنارا کریمووا
53 سالہ گلنارا کریموواتصویر: Photoagency/Interpress/IMAGO

ازبکستان کے سابق صدر اسلام کریموف کی بیٹی گلنارا کریموواکے خلاف سوئٹزرلینڈ میں رشوت ستانی اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر غیر حاضری میں مقدمے کی سماعت پیر سے شروع ہو گئی۔ یہ مقدمہ سوئس وفاقی فوجداری عدالت میں جنوبی شہر بیلنزونا میں چل رہا ہے اور 22 مئی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ کریمووا اس وقت ازبکستان میں قید ہیں اور عدالت میں پیش نہیں ہو سکیں۔

سوئس استغاثہ کے مطابق کریمووا نے ’’دی آفس‘‘ نامی ایک مجرمانہ نیٹ ورک قائم کیا، جس میں درجنوں افراد اور کئی کمپنیاں شامل تھیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ’’جرائم سے حاصل شدہ‘‘ کروڑوں ڈالر سوئٹزرلینڈ اور دیگر ممالک میں منتقل کیے اور نقدی، زیورات و دیگر قیمتی اشیا محفوظ رکھنے کے لیے لاکرز کا انتظام کیا۔
ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ کریمووا کو ازبکستان کی جیل سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، تاہم وہ مکمل بریت کے لیے قانونی جنگ جاری رکھیں گے۔
ازبک میڈیا کے مطابق 53 سالہ کریمووا کی سوئس عدالت میں موجودگی ’’عملاً ناممکن‘‘ ہے، کیونکہ وہ پہلے ہی ازبکستان میں 13 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ انہیں 2025 کے اوائل میں تاشقند کے قریب زنگیوتا ریجن کی خواتین جیل میں منتقل کیا گیا تھا۔
کریمووا پر 2005 سے 2013 کے درمیان مبینہ جرائم کے حوالے سے تین سال قبل سوئٹزرلینڈ میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ وہ اس سے قبل جنیوا میں اقوامِ متحدہ سے متعلق کام بھی کر چکی ہیں اور سفارتی استثنیٰ سے فائدہ اٹھاتی رہی تھیں۔

ازبکستان کے سابق صدر اسلام کریموف نے چار دہائیوں سے بھی زائد عرصے تک اس وسط ایشیائی ملک پر آہنی گرفت سے حکمرانی کی
ازبکستان کے سابق صدر اسلام کریموف نے چار دہائیوں سے بھی زائد عرصے تک اس وسط ایشیائی ملک پر آہنی گرفت سے حکمرانی کی تصویر: picture alliance / dpa
https://p.dw.com/p/5CtgU
آبنائے ہرمز بحران: بحری جہازوں پر پھنسے ہزاروں بھارتی ملاحوں کو خوراک اور پانی کی قلت کا خدشہ سیکشن پر جائیں
27 اپریل 2026

آبنائے ہرمز بحران: بحری جہازوں پر پھنسے ہزاروں بھارتی ملاحوں کو خوراک اور پانی کی قلت کا خدشہ

ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش سے متعدد جہازوں کا عملہ تقریباﹰ دو ماہ سے کھلے سمندر میں پھنسا ہوا ہے
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش سے متعدد جہازوں کا عملہ تقریباﹰ دو ماہ سے کھلے سمندر میں پھنسا ہوا ہےتصویر: Asghar Besharati/AP Photo/picture alliance

ایران جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں خلل برقرار رہنے کے باعث ہزاروں بھارتی ملاح اب بھی جہازوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔ بھارتی وزارتِ جہاز رانی کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد کم از کم 2,680 ملاحوں کو نکالا جا چکا ہے، تاہم اب بھی 20 ہزار سے زائد بھارتی شہری غیر ملکی جہازوں پر خطے میں موجود ہیں۔ بھارت دنیا میں بحری عملہ فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔
 گزشتہ تقریباً آٹھ ہفتوں سے اپنی ٹیم کے ہمراہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے کیپٹن راہول ڈاہر  نے بتایا کہ انہوں نے اپنے جہاز کے قریب ڈرونز اور میزائلوں کو تباہ ہوتے دیکھا۔ ان کے مطابق غیر یقینی صورتحال عملے کے حوصلے پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ہم روزمرہ معمول برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن عملے پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔‘‘

سٹیلائیٹ سے لی گئی اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آبنائے ہرمز بحری سفر کے حوالے سے انتہائی مصروف رہنے والی گزر گاہ ہے
سٹیلائیٹ سے لی گئی اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آبنائے ہرمز بحری سفر کے حوالے سے انتہائی مصروف رہنے والی گزر گاہ ہےتصویر: www.marinetraffic.com

خوراک اور پانی کی قلت

بھارت میں ملاحوں کی ایک یونین  فارورڈ سی مینز یونین آف انڈیا سے وابستہ منوج کمار یادونے کہا کہ ہزاروں ملاح خوف، تنہائی اور خوراک و پینے کے پانی کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں، خاص طور پر وہ جو ایرانی بندرگاہوں کے قریب لنگر انداز ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’بہت سے افراد پہلی بار جہاز پر گئے تھے، آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کی ذہنی حالت کیا ہوگی۔‘‘

آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے، تاحال جزوی طور پر ہی فعال ہے، جس سے جہازوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

بین الاقوامی بحری تنظیم انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن اور شپنگ کمپنیوں نے تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ راہداری قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
 

https://p.dw.com/p/5CtgP
بحرین نے ایران کی حمایت کے الزام میں 69 افراد کی شہریت منسوخ کر دی سیکشن پر جائیں
27 اپریل 2026

بحرین نے ایران کی حمایت کے الزام میں 69 افراد کی شہریت منسوخ کر دی

بحرین اس سے قبل 2012 کے مظاہروں کے بعد بھی متعدد افراد کی شہریت منسوخ کر چکا ہے
بحرین اس سے قبل 2012 کے مظاہروں کے بعد بھی متعدد افراد کی شہریت منسوخ کر چکا ہےتصویر: Tetiana Chernykova/Zoonar/picture alliance

خلیجی ریاست بحرین نے 69 ایسے افراد اور ان کے اہلِ خانہ کی شہریت منسوخ کر دی ہے، جن پر ایران کے حملوں کی حمایت کرنے کا الزام ہے۔ بحرینی وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ اقدام ان افراد کے خلاف کیا گیا جو مبینہ طور پر ایرانی کارروائیوں کی تائید کر رہے تھے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے دوران خلیجی ممالک بھی زد میں آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے بحرین پر حملے کیے، جو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے ردعمل میں تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات قومی سلامتی کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

https://p.dw.com/p/5CtgX
پوٹن کی ایران کو امن کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی سیکشن پر جائیں
27 اپریل 2026

پوٹن کی ایران کو امن کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی

روسی صدر ولادیمیر پوٹن
روسی صدر ولادیمیر پوٹن تصویر: Natalia Shatokhina/press.media/picture alliance

روسی صدر ولادیمیر پوٹن  نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کو یقین دلایا ہے کہ ماسکو مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ روسی سرکاری میڈیا کے مطابق پوٹن نے ملاقات کے دوران کہا، ’’ہم اپنی جانب سے وہ سب کچھ کریں گے جو آپ کے مفاد اور خطے کے تمام لوگوں کے مفاد میں ہو، تاکہ جلد از جلد امن قائم کیا جا سکے۔‘‘
روسی خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں رہنماؤں کے مابین یہ ملاقات سینٹ پیٹرس برگ میں ہوئی۔ اس موقع پر روسی صدر نے ایرانی عوام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی خودمختاری کے لیے بہادری سے لڑ رہے ہیں، اور روس خطے میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔ 
ایرانی  وزیر خارجہ نے روسی صدر کی جانب سے حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ روس اور ایران کے مابین دیرینہ دفاعی تعلقات قائم ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کی جا رہی ہیں۔

عراقچی پاکستان اور عمان کے دوروں کے بعد پیر کے روز سینٹ پیٹرس برگ پہنچے تھے
عراقچی پاکستان اور عمان کے دوروں کے بعد پیر کے روز سینٹ پیٹرس برگ پہنچے تھےتصویر: Seyed Abbas Araghchi via Telegram/Handout/REUTERS
https://p.dw.com/p/5Ctfs
وائٹ ہاؤس ڈنر فائرنگ: اعلیٰ تعلیم یافتہ شوٹر کا محرک کیا تھا؟ سیکشن پر جائیں
27 اپریل 2026

وائٹ ہاؤس ڈنر فائرنگ: اعلیٰ تعلیم یافتہ شوٹر کا محرک کیا تھا؟

صدر ٹرمپ کی سکیورٹی پر معمور اہلکاروں نے انہیں وینیو سے بحفاطت نکال لیا
صدر ٹرمپ کی سکیورٹی پر معمور اہلکاروں نے انہیں وینیو سے بحفاطت نکال لیا تصویر: Bo Erickson/REUTERS

وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن کے سالانہ عشائیے میں فائرنگ کے واقعے میں گرفتار شخص کی شناخت کول ٹامس ایلن کے طور پر ہوئی ہے، جو کیلیفورنیا کے شہر ٹورنس کا رہائشی، تعلیم یافتہ ٹیوٹر اور شوقیہ ویڈیو گیم ڈویلپر بتایا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق 31 سالہ ملزم کو ہفتے کی شب واشنگٹن میں ہونے والے اس عشائیے کے دوران حراست میں لیا گیا، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی حکومت کے اعلیٰ عہدیداران بھی شریک تھے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق حملے سے چند منٹ قبل ملزم نے اپنے اہلِ خانہ کو ایک طویل پیغام بھیجا، جس میں اس نے خود کو ’’فرینڈلی فیڈرل حملہ آور‘‘ قرار دیا اور ٹرمپ دور حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی، اگرچہ اس نے صدر کا نام براہِ راست نہیں لیا۔

یہ پیغام ایک ہزار سے زائد الفاظ پر مشتمل تھا، جس میں اس نے اہلِ خانہ، ساتھیوں اور دیگر افراد سے معذرت کے ساتھ ساتھ اپنے اقدام کی وضاحت بھی پیش کی۔ پیغام میں سیاسی غصہ، مذہبی جواز اور خیالی ناقدین کو جوابات بھی شامل تھے۔

حکام کے مطابق ملزم پر تشدد کے دوران آتشیں اسلحہ استعمال کرنے، وفاقی اہلکار پر حملہ کرنے اور دیگر ممکنہ الزامات عائد کیے جائیں گے۔ ریکارڈ کے مطابق اس سے قبل اس پر کسی مجرمانہ مقدمے کا اندراج نہیں تھا۔

ملزم نے اپنے پیغام پر ایک ایسے نام سے دستخط کیے جو اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ملتا جلتا ہے، جنہیں اب بند کر دیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق وہ سوشل میڈیا پر ٹرمپ اور اس عشائیے میں شریک میڈیا شخصیات پر تنقید کرنے والے مواد کو بھی شیئر کرتا رہا تھا۔ 

https://p.dw.com/p/5CsQJ
ایران کے ساتھ تنازعے میں امریکہ کو ’سبکی‘ کا سامنا ہے، جرمن چانسلر سیکشن پر جائیں
27 اپریل 2026

ایران کے ساتھ تنازعے میں امریکہ کو ’سبکی‘ کا سامنا ہے، جرمن چانسلر

جرمن چانسلر فریڈرش میرس
جرمن چانسلر فریڈرش میرستصویر: Yiannis Kourtoglou/REUTERS

جرمن چانسلر فریڈرش میرس  نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع میں امریکہ ’’سبکی‘‘ کا سامنا کر رہا ہے اور یہ جنگ جلد ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔
اپنے آبائی علاقے مارسبرگ میں ایک اسکول کے دورے کے دوران انہوں نے کہا، ’’ایرانی توقع سے زیادہ مضبوط ثابت ہوئے ہیں اور امریکیوں کے پاس مذاکرات میں کوئی واضح حکمتِ عملی نہیں۔‘‘
میرس نے کہا کہ ایسے تنازعات میں داخل ہونا جتنا مشکل نہیں ہوتا، اس سے نکلنا کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے، جس کی مثالیں افغانستان اور اعراق میں دیکھی جا چکی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ’’بغیر کسی حکمتِ عملی کے‘‘ اس جنگ میں داخل ہوا، جس کی وجہ سے اسے ختم کرنا مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ’’ایرانی نہایت مہارت سے مذاکرات کر رہے ہیں، یا مہارت سے مذاکرات سے گریز کر رہے ہیں۔ ایک پوری قوم کی ایرانی قیادت کے ہاتھوں سبکی ہو رہی ہے۔‘‘
چانسلر نے موجودہ صورتحال کو ’’انتہائی پیچیدہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے جرمنی کی معیشت پر بھی براہِ راست اثرات پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے بارودی سرنگیں صاف کرنے والے بحری جہاز فراہم کرنے کی پیشکش برقرار رکھے ہوئے ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے لڑائی بند ہو۔

https://p.dw.com/p/5Csyt
حزب اللہ نے لبنان-اسرائیل براہِ راست مذاکرات کو ’سنگین گناہ‘ قرار دے دیا سیکشن پر جائیں
27 اپریل 2026

حزب اللہ نے لبنان-اسرائیل براہِ راست مذاکرات کو ’سنگین گناہ‘ قرار دے دیا

حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم
حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسمتصویر: Stringer/Anadolu/picture alliance

ایران نواز  لبنانی تنظیم حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم  نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان مجوزہ براہِ راست مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’’سنگین گناہ‘‘قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا، ’’ہم اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں، اور اقتدار میں موجود افراد کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے اقدامات نہ لبنان کے لیے فائدہ مند ہوں گے اور نہ ہی ان کے اپنے لیے۔‘‘
انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ’’سنگین غلطی‘‘سے پیچھے ہٹ جائیں، جو لبنان کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔
قاسم نے مزید کہا کہ یہ مذاکرات اور ان کے نتائج ان کے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور وہ ’’لبنان اور اس کے عوام کے دفاع کے لیے مزاحمت جاری رکھیں گے۔‘‘
انہوں نے زور دیا، ’’دشمن چاہے جتنا بھی دباؤ ڈالے، ہم نہ پیچھے ہٹیں گے، نہ جھکیں گے اور نہ ہی شکست تسلیم کریں گے۔‘‘

https://p.dw.com/p/5CsQI
ایران کی آبنائے ہرمز کھولنے پر مشروط آمادگی، جوہری پروگرام پر خاموشی سیکشن پر جائیں
27 اپریل 2026

ایران کی آبنائے ہرمز کھولنے پر مشروط آمادگی، جوہری پروگرام پر خاموشی

پاسداران انقلاب کی ایک گن بوٹ آبنائے ہرمز میں ایک کنٹینر شپ کی جانب بڑھتے ہوئے
پاسداران انقلاب کی ایک گن بوٹ آبنائے ہرمز میں ایک کنٹینر شپ کی جانب بڑھتے ہوئے تصویر: Meysam Mirzadeh/Tasnim News Agency/AP Photo/dpa/picture alliance

امریکی میڈیا نے علاقائی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے اپنی نئی تجاویز میں  مشروط طور پر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کی ہے، تاہم ان تجاویز میں اپنے جوہری پروگرام پر کوئی بات نہیں کی۔ 

حکام کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے تہران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرے۔ یہ تجویز پاکستان کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائی گئی ہے۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کی حمایت کرنے کا امکان کم ہے، کیونکہ وہ ایک ایسے جامع معاہدے کے خواہاں ہیں جس میں ایران کا جوہری پروگرام ختم کیا جائے، آبنائے ہرمز کو کھولا جائے اور جنگ بندی کو مستقل بنایا جائے۔

ٹرمپ نے اتوار کو فاکس نیوز چینل سے گفتگو میں کہا، ’’ہمارے پاس تمام پتے ہیں۔ اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ ہمارے پاس آئیں یا ہمیں فون کریں۔‘‘
امریکی خبر رساں ادارے Axios نے سب سے پہلے ایران کی اس پیشکش کی خبر دی۔
 

https://p.dw.com/p/5CsQF
سات اپوزیشن ارکان کی بے جے پی میں شمولیت، حکمران جماعت کی راجیہ سبھا میں پوزیشن مضبوط سیکشن پر جائیں
27 اپریل 2026

سات اپوزیشن ارکان کی بے جے پی میں شمولیت، حکمران جماعت کی راجیہ سبھا میں پوزیشن مضبوط

عام آدمی پارٹی کے تین اراکین راگھو چڈھا (درمیان سے دائیں جانب پہلے) سندیپ پاٹھک(درمیان سے بائیں جانب پہلے) اور اشوک متل (درمیان سے بائیں جانب دوسرے نمبر پر)  بی جے پی کے صدر نتین نوین کے ہمراہ (درمیان میں)
عام آدمی پارٹی کے تین اراکین راگھو چڈھا (درمیان سے دائیں جانب پہلے) سندیپ پاٹھک(درمیان سے بائیں جانب پہلے) اور اشوک متل (درمیان سے بائیں جانب دوسرے نمبر پر) بی جے پی کے صدر نتین نوین کے ہمراہ (درمیان میں)تصویر: IANS

بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پارلیمان کے ایوانِ بالا میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کر لی ہے، جہاں اپوزیشن کے سات ارکان اس میں شامل ہو گئے ہیں، جس سے حکومت کے لیے قانون سازی آسان ہونے کا امکان ہے۔
ان  تمام منحرف ارکان کا تعلق  عام آدمی پارٹی (اے اے پی­) سے ہے، جس کی قیادت مودی کے بڑے ناقد ارویند کیجریوال کرتے ہیں۔
ان تبدیلیوں کے بعد راجیہ سبھا میں اے اے پی کی نشستیں کم ہو کر صرف تین رہ گئی ہیں، جبکہ بی جے پی کے ارکان کی تعداد 113 ہو گئی ہے، جو 245 رکنی ایوان میں سادہ اکثریت سے صرف 10 نشستیں کم ہے۔ مودی کے حکمران اتحاد  نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 140 نشستیں ہیں۔
منحرف ہونے والوں میں سابق کرکٹر ہربھجن سنگھ اور نمایاں رہنما راگھو چڈھا بھی شامل ہیں، جنہوں نے پارٹی قیادت پر ’’بدعنوان اور مفاد پرست‘‘ ہونے کا الزام لگایا۔
دوسری جانب اے اے پی نے ان رہنماؤں کے اقدام کو موقع پرستی قرار دیا ہے۔ زیادہ تر منحرف ارکان ریاست پنجاب سے منتخب ہوئے تھے، جہاں اگلے سال انتخابات متوقع ہیں اور بی جے پی نے اب تک وہاں کبھی تنہا اکثریت حاصل نہیں کی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کیجریوال سمیت اے اے پی کے کئی رہنما بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم پارٹی ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

عام آدمی پارٹی کے سربراہ ارویند کیجریوال
عام آدمی پارٹی کے سربراہ ارویند کیجریوال تصویر: IANS
https://p.dw.com/p/5Cs4a
ایران-امریکہ مذاکرات میں تعطل برقرار، تہران کی سفارت کاری میں تیزی سیکشن پر جائیں
27 اپریل 2026

ایران-امریکہ مذاکرات میں تعطل برقرار، تہران کی سفارت کاری میں تیزی

عراقچی نے اتوار کو پاکستان واپسی اور روس روانگی سے قبل مسقط میں عمان کے سلطان سے بھی ملاقات کی
عراقچی نے اتوار کو پاکستان واپسی اور روس روانگی سے قبل مسقط میں عمان کے سلطان سے بھی ملاقات کی تصویر: Iran's Foreign Ministry/AFP

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی آج بروز پیر روس پہنچ گئے، جہاں ان کی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات متوقع ہے تاکہ  مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع پر ماسکو کی حمایت حاصل کی جا سکے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، جبکہ عراقچی اس سے قبل پاکستان اور عمان کا دورہ کر چکے ہیں۔
روس اور ایران قریبی اسٹریٹجک اتحادی ہیں تاہم یوکرین جنگ کے باعث ماسکو  مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی میں براہِ راست مداخلت سے محتاط رہا ہے۔

علاقائی سفارتکاری میں تیزی

عراقچی کے حالیہ دورے اس پس منظر میں ہو رہے ہیں کہ امریکہ اور ایران دونوں ایک دوسرے کے کئی مطالبات مسترد کر چکے ہیں، جس سے مذاکرات آگے نہیں بڑھ پا رہے۔ ہفتے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایلچیوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا اسلام آباد کا دورہ منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ ایسی بات چیت ’’بے مقصد‘‘ہوگی۔

ایرانی وزیر خارجہ  نے دورہ پاکستان کے موقع پر ہفتے کو اسلام آباد میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی
ایرانی وزیر خارجہ نے دورہ پاکستان کے موقع پر ہفتے کو اسلام آباد میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی تصویر: Pakistan's Prime Minister Office/AFP


اس سے قبل اپریل کے وسط میں پاکستان میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات بھی کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔
عراقچی نے اسلام آباد میں آرمی چیف عاصم منیر، وزیرِاعظم شہباز شریف اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقاتیں کیں، اس کے بعد عمان جا کر دوبارہ پاکستان آئے اور پھر روس روانہ ہوئے۔


آبنائے ہرمز اور جوہری تنازع


عراقچی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ عمان میں ہونے والی بات چیت میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر توجہ دی گئی، جس کی بندش سے عالمی تیل اور گیس کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے۔
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق تہران نے پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کو تحریری پیغامات بھیجے ہیں، جن میں اپنے ’’ریڈ لائنز‘‘واضح کی گئی ہیں، خاص طور پر جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سے متعلق۔
ادھر امریکی میڈیا کے مطابق ایران نے ایک نئی تجویز دی ہے جس میں جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی بات کی گئی ہے، تاہم تہران چاہتا ہے کہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کیا جائے۔
واشنگٹن ایران سے یورینیم افزودگی روکنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

ادارت: جاوید اختر

ایرانی اور امریکی وفد اسلام آباد میں

https://p.dw.com/p/5CrnQ
مزید پوسٹیں