1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتمشرق وسطیٰ

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ٹرمپ کی مہلت میں پانچ دن کی توسیع

شکور رحیم اے پی، ڈی پی اے، اے ایف پی، روئٹرز
وقت اشاعت 23 مارچ 2026آخری اپ ڈیٹ 23 مارچ 2026

ایرانی ریاستی ٹی وی نے امریکی صدر کے اس اقدام پر ردعمل میں کہا، ’’امریکی صدر ایران کی سخت وارننگ کے بعد پیچھے ہٹ گئے۔‘‘ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ’بہت اچھی اور تعمیری‘ بات چیت بھی جاری ہے۔

https://p.dw.com/p/5AuFC
ایرانی اقدامات کے باعث آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے، اب مؤثر طور پر بند ہو چکی ہے
ایرانی اقدامات کے باعث آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے، اب مؤثر طور پر بند ہو چکی ہےتصویر: Fadel Senna/AFP/Getty Images
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • پاکستان کی ایران جنگ میں ثالثی کی کوششیں اور امریکی صدر سے رابطہ، رپورٹ
  • ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش ’معاشی دہشت گردی‘ ہے، یو اے ای
  • بیروت کے مضافاتی علاقے میں اسرائیلی حملہ، ایک شخص ہلاک
  • ایران جنگ نے عالمی معیشت کو ’یرغمال ‘ بنا لیا ہے، سنگاپور
  • اسرائیلی شہری اپنی ہی فوج کی فائرنگ سے ہلاک، تحقیقات شروع
  • جرمن چانسلر کا ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے مؤخر کرنے پر اظہار تشکر
  • ایران ’معاہدہ کرنا چاہتا ہے،‘ صدر ٹرمپ کا دعویٰ
  • ایران کے خلاف کارروائی منصوبے کے مطابق جاری، امریکی سینٹرل کمانڈ
  • کریملن کا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی و سفارتی حل پر زور
  • ایران نے ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے مسترد کر دیے
  • چین کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال ’قابو سے باہر‘ ہونے کے خلاف انتباہ
  • ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی مہلت پانچ دن بڑھا دی
  • ایران کی خلیج فارس میں بارودی سرنگیں بچھانے کی دھمکی، کشیدگی میں مزید اضافہ
  • آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت کو سنگین خطرات لاحق، آئی ای اے
  • اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے بھی جاری
  • اسرائیل کے تہران پر بڑے پیمانے پر حملے، شہر دھماکوں کی آوازوں سے گونج اٹھا
  • آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کی ڈیڈلائن کے جواب میں ایرانی دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری
پاکستان کی ایران جنگ میں ثالثی کی کوششیں اور امریکی صدر سے رابطہ، رپورٹ سیکشن پر جائیں
23 مارچ 2026

پاکستان کی ایران جنگ میں ثالثی کی کوششیں اور امریکی صدر سے رابطہ، رپورٹ

ٹرمپ متعدد بار جنرل عاصم منیر اور  وزیر اعظم شہباز شریف کی تعرفیں کر چکے ہیں
ٹرمپ متعدد بار جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی تعرفیں کر چکے ہیںتصویر: Government of Pakistan

 

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے مرکزی ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار 22 مارچ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات چیت کی، جس کا حوالہ اس معاملے سے آگاہ دو قابل اعتماد ذرائع نے دیا۔

نیوز ایجنسی روئٹرز اس رپورٹ کی اپنے طور پر تصدیق نہیں کر سکی۔ 
اس سے قبل امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ ایگزیوس نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ پاکستان، مصر اور ترکی بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے ایران جنگ میں فائر بندی کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
 

https://p.dw.com/p/5Axdq
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش ’معاشی دہشت گردی‘ ہے، یو اے ای سیکشن پر جائیں
23 مارچ 2026

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش ’معاشی دہشت گردی‘ ہے، یو اے ای

متحدہ عرب امارات کی سرکاری توانائی کمپنی ادنوک کے سربراہ سلطان احمد الجابر نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کرنے کے اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سیرا ویک کانفرنس سے ورچوئل خطاب میں انہوں نے کہا، ’’آبنائے ہرمز کو ہتھیار بنانا کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت نہیں بلکہ ہر ملک کے خلاف معاشی دہشت گردی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’کسی بھی ملک کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ آبنائے ہرمز کو یرغمال بنائے۔‘‘

امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ میں رکاوٹوں کے باعث تیل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے اور قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

https://p.dw.com/p/5Axaw
بیروت کے مضافاتی علاقے میں اسرائیلی حملہ، ایک شخص ہلاک سیکشن پر جائیں
23 مارچ 2026

بیروت کے مضافاتی علاقے میں اسرائیلی حملہ، ایک شخص ہلاک

اسرائیل دو مارچ کے بعد سے تواتر کے ساتھ بیروت اور اس کے گرد و نواح کو نشانہ بناتا آیا ہے
اسرائیل دو مارچ کے بعد سے تواتر کے ساتھ بیروت اور اس کے گرد و نواح کو نشانہ بناتا آیا ہےتصویر: Nael Chahine/Middle East Images/AFP/Getty Images

لبنانی  وزارت صحت نے پیر کے روز بتایا کہ  دارالحکومت بیروت کے مشرقی علاقے حضمیہ میں ایک اسرائیلی حملے کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہو گیا۔
یہ اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین جنگ کے دوران اس مسیحی اکثریتی رہائشی علاقے پر دوسرا حملہ ہے۔

اسی دوران اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے بیروت میں پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے ایک اہلکار کو نشانہ بنایا ہے۔

لبنان کے صدارتی محل کے قریب واقع حضمیہ میں کئی غیر ملکی سفارت خانوں کی عمارات بھی ہیں۔

https://p.dw.com/p/5Axaa
ایران جنگ نے عالمی معیشت کو ’یرغمال ‘ بنا لیا ہے، سنگاپور سیکشن پر جائیں
23 مارچ 2026

ایران جنگ نے عالمی معیشت کو ’یرغمال ‘ بنا لیا ہے، سنگاپور

سنگاپور کے وزیر خارجہ ویوین بالا کرشنن
سنگاپور کے وزیر خارجہ ویوین بالا کرشنن تصویر: Edgar Su/REUTERS

سنگاپور کے وزیر خارجہ ویوین بالا کرشنن نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جنگ، جو اب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، ایشیائی معیشتوں کو شدید بحران میں دھکیل سکتی ہے۔

روئٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا، ’’اس وقت آبنائے ہرمز کی بندش ایک طرح سے ایشیائی بحران بن چکی ہے۔‘‘

ان کے مطابق اس تنازعے نے ’’پوری عالمی معیشت کو یرغمال بنا لیا ہے‘‘ اور اس سے ایک مالیاتی بحران جنم لے سکتا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’میں نہیں سمجھتا کہ یہ جنگ ضروری تھی، اور اب بھی اس کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔‘‘انہوں نے امریکا اور ایران کے مابین مذاکراتی تعطل پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس جنگ کے اچانک آغاز پر حیرت ہوئی۔
 

https://p.dw.com/p/5Axaq
اسرائیلی شہری اپنی ہی فوج کی فائرنگ سے ہلاک، تحقیقات شروع سیکشن پر جائیں
23 مارچ 2026

اسرائیلی شہری اپنی ہی فوج کی فائرنگ سے ہلاک، تحقیقات شروع

اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ شمالی علاقے کے ایک گاؤں میں ایک اسرائیلی کسان اپنے ہی ملک کی فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا
اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ شمالی علاقے کے ایک گاؤں میں ایک اسرائیلی کسان اپنے ہی ملک کی فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیاتصویر: Nasser Ishtayeh/IMAGO/ZUMA Press Wire

اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ شمالی علاقے کے ایک گاؤں میں ایک اسرائیلی کسان اپنے ہی ملک کی فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔

اسرائیلی شمالی کمان کے سربراہ میجر جنرل رافی میلو نے کہا کہ یہ شخص ایک ایسے آپریشن کے دوران مارا گیا، جس کا مقصد شہریوں کا تحفظ تھا۔

انہوں نے اس واقعے کو ’’انتہائی سنگین‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ’’سنگین خامیاں اور آپریشنل غلطیاں‘‘ سامنے آئی ہیں۔

ابتدائی طور پر خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ شہری لبنان سے داغے گئے حزب اللہ کے میزائلوں میں سے ایک کا نشانہ بنا، تاہم تحقیقات سے ظاہر ہوا کہ وہ جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی فوجیوں کی مدد کے لیے کی گئی اسرائیلی توپ خانے کی فائرنگ سے ہلاک ہوا۔

اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
 

https://p.dw.com/p/5AwPJ
جرمن چانسلر کا ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے مؤخر کرنے پر اظہار تشکر سیکشن پر جائیں
23 مارچ 2026

جرمن چانسلر کا ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے مؤخر کرنے پر اظہار تشکر

جرمن چانسلر فریڈش میرس
جرمن چانسلر فریڈش میرستصویر: dts-Agentur/picture alliance

جرمن چانسلر فریڈش میرس نے پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے پاور پلانٹس پر مجوزہ حملوں کو مؤخر کرنے کے فیصلے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

چانسلر میرس نے برلن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ انہوں نے اتوار کو ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں ایران کی توانائی کی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔

میرس نے کہا، ’’میں شکر گزار ہوں کہ انہوں نے آج اعلان کیا کہ وہ ان حملوں کو مزید پانچ دن کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔‘‘

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ امریکا ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچوں پر اپنے ممکنہ حملے روک رہا ہے۔ ساتھ ہی امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ تہران کے ساتھ ’’بہت اچھی‘‘ بات چیت ہوئی ہے۔ تاہم ایرانی میڈیا نے ایسے کسی بھی طرح کے مذاکرات کی تردید کی ہے۔

جرمن چانسلر میرس نے اس تاخیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ’’ایرانی قیادت کے ساتھ فوری اور براہ راست رابطے‘‘ کا امکان پیدا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جرمنی اس تنازعے میں ثالثی کے لیے سفارتی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، کیونکہ جنگ کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور شدید معاشی اثرات کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

فریڈرش میرس نے کہا، ’’ہمارے خطے بھر میں اچھے روابط ہیں۔ ہم ابھی مشترکہ اقدامات کے مرحلے پر نہیں پہنچے، لیکن ہم جنگ بندی کے لیے ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہیں۔‘‘

اگرچہ چانسلر میرس نے ماضی میں ایران کی قیادت پر تنقید اور امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی ابتدائی حمایت کی تھی، تاہم اب وہ اس تنازعے کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

جرمنی اور نیٹو کے رکن دیگر یورپی ممالک نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ اس جنگ میں براہ راست شامل نہیں ہوں گے، جس پر ٹرمپ نے امریکہ کے ایسے اتحادیوں کو’’بزدل‘‘ قرار دیا تھا۔
 

https://p.dw.com/p/5AxAR
ایران ’معاہدہ کرنا چاہتا ہے،‘ صدر ٹرمپ کا دعویٰ سیکشن پر جائیں
23 مارچ 2026

ایران ’معاہدہ کرنا چاہتا ہے،‘ صدر ٹرمپ کا دعویٰ

ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے اتوار کی شام تک یہ مذاکرات کیے
ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے اتوار کی شام تک یہ مذاکرات کیےتصویر: Nathan Howard/REUTERS

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران ’’معاہدہ کرنا چاہتا ہے‘‘ اور ساتھ ہی انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی نمائندے ایک ’’باوقار‘‘ ایرانی رہنما کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے اتوار کی شام تک یہ مذاکرات کیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات چیت پیر 23 مارچ کو بھی جاری رہے گی۔

تاہم ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کی جانب سے کون سے عہدیدار ان مذاکرات میں شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا نے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے کوئی بات چیت نہیں کی۔
ٹرمپ کے مطابق اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو امریکا ایران کے جوہری پروگرام کے لیے اہم افزودہ یورینیم کو اپنے کنٹرول میں لے لے گا۔
اس سے قبل تہران  نے پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا کہ دونوں ممالک نے مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم کرنے کے لیے ’’تعمیری‘‘ مذاکرات کیے ہیں۔
ایران کے ریاستی خبر رساں اداروں فارس اور تسنیم نے رپورٹ کیا کہ تہران کا ٹرمپ انتظامیہ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، نہ براہ راست اور نہ ہی ثالثوں کے ذریعے۔
 

https://p.dw.com/p/5AxCv
ایران کے خلاف کارروائی منصوبے کے مطابق جاری، امریکی سینٹرل کمانڈ سیکشن پر جائیں
23 مارچ 2026

ایران کے خلاف کارروائی منصوبے کے مطابق جاری، امریکی سینٹرل کمانڈ

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپرتصویر: Octavio Jones/AFP/Getty Images

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی مہم ’’زیادہ تر منصوبے سے آگے یا اس کے مطابق‘‘ جاری ہے۔

فارسی زبان کے چینل ایران انٹرنیشنل پر پیر کی صبح نشر ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں کوپر نے کہا کہ امریکی کارروائیاں اپنے اہداف حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران گنجان آباد علاقوں سے میزائل اور ڈرون حملے کر رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ایسے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایرانی شہریوں کو خبردار کیا، ’’فی الحال گھروں کے اندر رہیں۔‘‘
کوپر نے کہا کہ کسی مرحلے پر واضح اشارہ دیا جائے گا، جیسا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے، جس کے بعد شہری باہر آ سکیں گے۔

ایران کی جوابی کارروائیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ ’’مایوسی کی علامت‘‘ ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے بیک وقت بڑی تعداد میں ڈرون اور میزائل داغنے کے بجائے اب ’’ایک یا دو‘‘ حملوں کی حکمت عملی اختیار کر لی ہے اور فوجی اہداف کے بجائے شہری مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے۔
 

https://p.dw.com/p/5AvRs
کریملن کا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی و سفارتی حل پر زور سیکشن پر جائیں
23 مارچ 2026

کریملن کا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی و سفارتی حل پر زور

روسی صدر ولادیمیر پوٹن
روسی صدر ولادیمیر پوٹن تصویر: Vyacheslav Prokofyev/Sputnik Kremlin/AP Photo/dpa/picture alliance

روسی ایوان صدر یا کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے آج بروز  پیر کہا کہ روس مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ’’سیاسی اور سفارتی‘‘ حل پر زور دے رہا ہے۔

یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو ڈیڈ لائن کے اندر اندر نہ کھولا تو اس کے توانائی کے نظام کو ’’تباہ‘‘کر دیا جائے گا۔

پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ’’ہم سمجھتے ہیں کہ صورتحال کو سیاسی اور سفارتی حل کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’یہی واحد راستہ ہے جو خطے میں پیدا ہونے والی انتہائی کشیدہ صورتحال کو مؤثر طریقے سے بہتر بنا سکتا ہے۔‘‘

28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے، جس سے توانائی کی عالمی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔
 

https://p.dw.com/p/5AvRf
ایران نے ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے مسترد کر دیے سیکشن پر جائیں
23 مارچ 2026

ایران نے ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے مسترد کر دیے

Iran Teheran 2026 | Trauerfeier für getöteten Geheimdienstminister Esmail Chatib
ایران میں امریکہ اور اسرائیل مخالف ایک مظاہرے کے دوران ایک شخص امریکی صدر کے خلاف احتجاجی بینر اٹھائے ہوئےتصویر: AFP

 ایران نے پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ دونوں ممالک نے مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم کرنے کے لیے ’’تعمیری‘‘ مذاکرات کیے ہیں۔

ایران کے ریاستی خبر رساں اداروں فارس اور تسنیم نے رپورٹ کیا کہ تہران کا ٹرمپ انتظامیہ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، نہ براہ راست اور نہ ہی ثالثوں کے ذریعے۔

صدر ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل اپنی ایک ٹروتھ سوشل پوسٹ میں اعلان کیا تھا کہ وہ ایرانی پاور پلانٹس اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں پر کسی بھی امریکی حملے کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر رہے ہیں، اور اس تاخیر کو انہوں نے ’’تعمیری بات چیت‘‘ سے منسلک کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز دھمکی دی تھی کہ اگر آبنائے ہرمز کو 48 گھنٹوں میں دوبارہ نہ کھولا گیا، تو وہ ایرانی پاور پلانٹس کو نشانہ بنائیں گے۔ ایران نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ اگر اس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچوں پر کوئی حملہ کیا گیا، تو وہ مکمل طور پر آبنائے ہرمز بند کر دے گا اور خطے میں امریکہ سے تعلقات رکھنے والے ملکوں کے توانائی اور پانی کے پلانٹس کو بھی نشانہ بنائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی اس پوسٹ میں لکھا تھا، ’’امریکہ اور ایران نے پچھلے دو دنوں میں مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے مکمل اور جامع حل کے لیے بہت اچھی اور تعمیری بات چیت کی ہے۔‘‘
 

https://p.dw.com/p/5AwPB
چین کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال ’قابو سے باہر‘ ہونے کے خلاف انتباہ سیکشن پر جائیں
23 مارچ 2026

چین کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال ’قابو سے باہر‘ ہونے کے خلاف انتباہ

چینی صدر شی جن پنگ
چینی صدر شی جن پنگ تصویر: Florence Lo/REUTERS

چین نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ کی صورتحال ’’قابو سے باہر‘‘ ہو سکتی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ’’اگر جنگ مزید پھیلتی ہے اور صورتحال مزید بگڑتی ہے تو پورا خطہ ایک ایسی حالت میں داخل ہو سکتا ہے جو قابو سے باہر ہو۔‘‘

انہوں نے کہا کہ طاقت کا استعمال صرف ایک ’’خطرناک چکر‘‘کو جنم دے گا، اور انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ کشیدگی میں کمی ضروری ہے۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی اور ایران کے جوابی انتباہ کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس میں دونوں جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی بات کی گئی تھی۔

چین، جو ایرانی تیل پر انحصار بھی کرتا ہے اور تہران کا شراکت دار بھی ہے، نے واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں حملوں کی پالیسی کی حمایت نہیں کرتا۔ اس سے قبل چینی وزیر خارجہ وانگ یی بھی کہہ چکے ہیں کہ یہ جنگ ’’ہونا ہی نہیں چاہیے تھی‘‘ اور انہوں نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

جنگ کے باعث تیل کی عالمی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس کا اثر چین سمیت دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے چین سمیت دیگر ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے فوجی کردار ادا کریں، تاہم بیجنگ نے اس کا کوئی مثبت اشارہ نہیں دیا۔ چین نے اس کے بجائے اپنے خصوصی ایلچی ژائی جون کو خطے میں بھیجا ہے تاکہ کشیدگی کم کرانے کی کوشش کی جا سکے۔
 

https://p.dw.com/p/5AvRi
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی مہلت پانچ دن بڑھا دی سیکشن پر جائیں
23 مارچ 2026

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی مہلت پانچ دن بڑھا دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپتصویر: Brendan Smialowski/AFP/Getty Images

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے 23 مارچ بروز پیر اعلان کیا کہ ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے دیا گیا الٹی میٹم پانچ دن کے لیے بڑھا دیا گیا ہے، اور اس دوران توانائی کی ایرانی تنصیبات اور بجلی گھروں پر امریکی حملے مؤخر رہیں گے۔ ایران کے ریاستی ٹی وی نے امریکی صدر کے اس اقدام پر اپنے ردعمل میں کہا، ’’امریکی صدر ایران کی سخت وارننگ کے بعد پیچھے ہٹ گئے۔‘‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک ٹروتھ سوشل پوسٹ میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ’’بہت اچھی اور تعمیری بات چیت‘‘ہو رہی ہے، جس سے ’’مکمل اور جامع حل‘‘نکلنے کے امکانات ہیں، اور مذاکرات ’’پورا ہفتہ جاری رہیں گے۔‘‘
قبل ازیں ایران نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر ایرانی انرجی پلانٹس پر امریکی حملہ کیا گیا یا کسی زمینی حملے کا حکم دیا گیا تو پورے خطے کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا اور خلیج فارس میں بارودی سرنگیں بچھا دی جائیں گی۔

اٹھائیس فرور سے جاری اس جنگ کے باعث ایران میں 1,500 سے زیادہ، لبنان میں 1,000 سے زائد، اسرائیل میں کم ازکم 15 اور امریکی فوج میں 13 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ خلیجی خطے کے ساحلوں اور سمندری علاقوں میں بھی متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ لبنان اور ایران میں لاکھوں شہری بے گھر بھی ہو چکے ہیں۔
خلیجی عرب ریاست عمان کے ایک اعلیٰ سفارتکار نے بتایا کہ ان کا ملک، جو طویل عرصے سے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کرتا آیاہے، آبنائے ہرمز میں ایک محفوظ تجارتی گزرگاہ کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
 

https://p.dw.com/p/5Avo5
ایران کی خلیج فارس میں بارودی سرنگیں بچھانے کی دھمکی، کشیدگی میں مزید اضافہ سیکشن پر جائیں
23 مارچ 2026

ایران کی خلیج فارس میں بارودی سرنگیں بچھانے کی دھمکی، کشیدگی میں مزید اضافہ

پاسداران انقلاب کی ایک کشتی خلیج فارس میں گشت کرتے ہوئے(فائل فوٹو)
پاسداران انقلاب کی ایک کشتی خلیج فارس میں گشت کرتے ہوئے(فائل فوٹو)تصویر: Sepahnews/ZUMAPRESS/picture alliance

ایران کی دفاعی کونسل نے پیر کے روز خبردار کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے اس کے جنوبی ساحل یا اہم جزیرے خارگ پر حملہ کیا تو وہ خلیج فارس میں وسیع پیمانے پر بارودی سرنگیں بچھا دے گا۔ ایک بیان میں کہا گیا، ’’ایران کے ساحلوں یا جزیروں پر حملے کی کسی بھی کوشش کے نتیجے میں خلیج میں تمام راستوں پر مختلف اقسام کی سمندری بارودی سرنگیں بچھا دی جائیں گی، جن میں تیرتی ہوئی بارودی سرنگیں بھی شامل ہوں گی۔‘‘

ایرانی حکام کے مطابق اس صورت میں پوری خلیج فارس کی صورتحال آبنائے ہرمز جیسی ہو جائے گی، جہاں جہاز رانی پہلے ہی شدید متاثر ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اگر ایران کو یہ قدم اٹھانا پڑا تو یہ صورتحال ’’طویل عرصے‘‘ تک برقرار رہ سکتی ہے۔ بیان میں 1980 کی دہائی کی ایران عراق جنگ کے دوران بارودی سرنگیں صاف کرنے میں پیش آنے والی مشکلات کا حوالہ بھی دیا گیا۔ امریکی میڈیا رپورٹوں کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے خارگ کے جزیرے پر قبضہ کرنے یا اسے محاصرے میں لینے پر غور کر رہے ہیں، جو ایرانی تیل کی برآمدات کا انتہائی اہم مرکز ہے۔
ایران نے ایک بار پھر کہا ہے کہ غیر متحارب ممالک کے مال بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں، تاہم انہیں پہلے ایرانی حکام کے ساتھ سکیورٹی اور حفاظتی انتظامات کے لیے رابطہ کرنا ہوگا۔
 

https://p.dw.com/p/5AvRg
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت کو سنگین خطرات لاحق، آئی ای اے سیکشن پر جائیں
23 مارچ 2026

آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت کو سنگین خطرات لاحق، آئی ای اے

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ فاتح بیرول
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ فاتح بیرول تصویر: Lukas Coch/AAP/REUTERS

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ فاتح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں تہران کی طرف سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ انہوں نے آسٹریلیا کے نیشنل پریس کلب سے اپنے خطاب میں کہا، ’’آج عالمی معیشت کو ایک بڑا، بہت بڑا خطرہ درپیش ہے، اور میں امید کرتا ہوں کہ اس مسئلے کا حل جلد نکال لیا جائے گا۔‘‘

بیرول نے کہا کہ اگر یہ بحران اسی طرح جاری رہا تو کوئی بھی ملک اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے گا، اس لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کا موازنہ 1970 کی دہائی کے تیل کے بحران اور یوکرینی جنگ کے اثرات سے کرتے ہوئے کہا، ’’موجودہ بحران دراصل تیل کے دو بحرانوں اور گیس کے ایک بحران کا مجموعہ بن چکا ہے۔‘‘

ان کے مطابق اس مسئلے کا اہم ترین حل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے۔

امریکہ نے ایرانی آئل ایکپسورٹ پر عائد پابندیاں کیوں نرم کر دیں؟

https://p.dw.com/p/5AuTI
اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے بھی جاری سیکشن پر جائیں
23 مارچ 2026

اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے بھی جاری

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اتوار کے روز ایرانی میزائل حملوں کا نشانہ بننے والے شہر عراد کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھا
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اتوار کے روز ایرانی میزائل حملوں کا نشانہ بننے والے شہر عراد کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھاتصویر: Avi Ohayon/GPO/Handout/Anadolu/picture alliance

اسرائیلی فوج نے آج بروز پیر کہا کہ وہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ فوج کی جانب سے ٹیلیگرام پر جاری کردہ ایک پیغام میں کہا گیا، ’’ملکی دفاعی نظام خطرے کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘‘ اسرائیل کی ہوم فرنٹ کمانڈ نے متعلقہ علاقوں میں موبائل فونز پر ہنگامی الرٹ بھی جاری کیے۔

بیان میں کہا گیا،’’الرٹ ملنے پر عوام فوری طور پر محفوظ مقامات کی طرف چلے جائیں اور اگلی ہدایت تک وہیں رہیں۔‘‘ تقریباً 20 منٹ بعد اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ شہری پناہ گاہوں سے باہر آ سکتے ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت پر سامنے آئی،  جب اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ اس نے تہران میں ایرانی تنصیبات کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔

https://p.dw.com/p/5AuV2
مزید پوسٹیں