آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ٹرمپ کی مہلت میں پانچ دن کی توسیع
وقت اشاعت 23 مارچ 2026آخری اپ ڈیٹ 23 مارچ 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- پاکستان کی ایران جنگ میں ثالثی کی کوششیں اور امریکی صدر سے رابطہ، رپورٹ
- ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش ’معاشی دہشت گردی‘ ہے، یو اے ای
- بیروت کے مضافاتی علاقے میں اسرائیلی حملہ، ایک شخص ہلاک
- ایران جنگ نے عالمی معیشت کو ’یرغمال ‘ بنا لیا ہے، سنگاپور
- اسرائیلی شہری اپنی ہی فوج کی فائرنگ سے ہلاک، تحقیقات شروع
- جرمن چانسلر کا ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے مؤخر کرنے پر اظہار تشکر
- ایران ’معاہدہ کرنا چاہتا ہے،‘ صدر ٹرمپ کا دعویٰ
- ایران کے خلاف کارروائی منصوبے کے مطابق جاری، امریکی سینٹرل کمانڈ
- کریملن کا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی و سفارتی حل پر زور
- ایران نے ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے مسترد کر دیے
- چین کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال ’قابو سے باہر‘ ہونے کے خلاف انتباہ
- ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی مہلت پانچ دن بڑھا دی
- ایران کی خلیج فارس میں بارودی سرنگیں بچھانے کی دھمکی، کشیدگی میں مزید اضافہ
- آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت کو سنگین خطرات لاحق، آئی ای اے
- اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے بھی جاری
- اسرائیل کے تہران پر بڑے پیمانے پر حملے، شہر دھماکوں کی آوازوں سے گونج اٹھا
- آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کی ڈیڈلائن کے جواب میں ایرانی دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری
پاکستان کی ایران جنگ میں ثالثی کی کوششیں اور امریکی صدر سے رابطہ، رپورٹ
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے مرکزی ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار 22 مارچ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات چیت کی، جس کا حوالہ اس معاملے سے آگاہ دو قابل اعتماد ذرائع نے دیا۔
نیوز ایجنسی روئٹرز اس رپورٹ کی اپنے طور پر تصدیق نہیں کر سکی۔
اس سے قبل امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ ایگزیوس نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ پاکستان، مصر اور ترکی بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے ایران جنگ میں فائر بندی کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش ’معاشی دہشت گردی‘ ہے، یو اے ای
متحدہ عرب امارات کی سرکاری توانائی کمپنی ادنوک کے سربراہ سلطان احمد الجابر نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کرنے کے اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سیرا ویک کانفرنس سے ورچوئل خطاب میں انہوں نے کہا، ’’آبنائے ہرمز کو ہتھیار بنانا کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت نہیں بلکہ ہر ملک کے خلاف معاشی دہشت گردی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’کسی بھی ملک کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ آبنائے ہرمز کو یرغمال بنائے۔‘‘
امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ میں رکاوٹوں کے باعث تیل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے اور قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
بیروت کے مضافاتی علاقے میں اسرائیلی حملہ، ایک شخص ہلاک
لبنانی وزارت صحت نے پیر کے روز بتایا کہ دارالحکومت بیروت کے مشرقی علاقے حضمیہ میں ایک اسرائیلی حملے کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہو گیا۔
یہ اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین جنگ کے دوران اس مسیحی اکثریتی رہائشی علاقے پر دوسرا حملہ ہے۔
اسی دوران اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے بیروت میں پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے ایک اہلکار کو نشانہ بنایا ہے۔
لبنان کے صدارتی محل کے قریب واقع حضمیہ میں کئی غیر ملکی سفارت خانوں کی عمارات بھی ہیں۔
ایران جنگ نے عالمی معیشت کو ’یرغمال ‘ بنا لیا ہے، سنگاپور
سنگاپور کے وزیر خارجہ ویوین بالا کرشنن نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جنگ، جو اب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، ایشیائی معیشتوں کو شدید بحران میں دھکیل سکتی ہے۔
روئٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا، ’’اس وقت آبنائے ہرمز کی بندش ایک طرح سے ایشیائی بحران بن چکی ہے۔‘‘
ان کے مطابق اس تنازعے نے ’’پوری عالمی معیشت کو یرغمال بنا لیا ہے‘‘ اور اس سے ایک مالیاتی بحران جنم لے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں نہیں سمجھتا کہ یہ جنگ ضروری تھی، اور اب بھی اس کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔‘‘انہوں نے امریکا اور ایران کے مابین مذاکراتی تعطل پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس جنگ کے اچانک آغاز پر حیرت ہوئی۔
اسرائیلی شہری اپنی ہی فوج کی فائرنگ سے ہلاک، تحقیقات شروع
اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ شمالی علاقے کے ایک گاؤں میں ایک اسرائیلی کسان اپنے ہی ملک کی فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔
اسرائیلی شمالی کمان کے سربراہ میجر جنرل رافی میلو نے کہا کہ یہ شخص ایک ایسے آپریشن کے دوران مارا گیا، جس کا مقصد شہریوں کا تحفظ تھا۔
انہوں نے اس واقعے کو ’’انتہائی سنگین‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ’’سنگین خامیاں اور آپریشنل غلطیاں‘‘ سامنے آئی ہیں۔
ابتدائی طور پر خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ شہری لبنان سے داغے گئے حزب اللہ کے میزائلوں میں سے ایک کا نشانہ بنا، تاہم تحقیقات سے ظاہر ہوا کہ وہ جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی فوجیوں کی مدد کے لیے کی گئی اسرائیلی توپ خانے کی فائرنگ سے ہلاک ہوا۔
اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
جرمن چانسلر کا ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے مؤخر کرنے پر اظہار تشکر
جرمن چانسلر فریڈش میرس نے پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے پاور پلانٹس پر مجوزہ حملوں کو مؤخر کرنے کے فیصلے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
چانسلر میرس نے برلن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ انہوں نے اتوار کو ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں ایران کی توانائی کی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔
میرس نے کہا، ’’میں شکر گزار ہوں کہ انہوں نے آج اعلان کیا کہ وہ ان حملوں کو مزید پانچ دن کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔‘‘
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ امریکا ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچوں پر اپنے ممکنہ حملے روک رہا ہے۔ ساتھ ہی امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ تہران کے ساتھ ’’بہت اچھی‘‘ بات چیت ہوئی ہے۔ تاہم ایرانی میڈیا نے ایسے کسی بھی طرح کے مذاکرات کی تردید کی ہے۔
جرمن چانسلر میرس نے اس تاخیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ’’ایرانی قیادت کے ساتھ فوری اور براہ راست رابطے‘‘ کا امکان پیدا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی اس تنازعے میں ثالثی کے لیے سفارتی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، کیونکہ جنگ کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور شدید معاشی اثرات کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
فریڈرش میرس نے کہا، ’’ہمارے خطے بھر میں اچھے روابط ہیں۔ ہم ابھی مشترکہ اقدامات کے مرحلے پر نہیں پہنچے، لیکن ہم جنگ بندی کے لیے ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہیں۔‘‘
اگرچہ چانسلر میرس نے ماضی میں ایران کی قیادت پر تنقید اور امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی ابتدائی حمایت کی تھی، تاہم اب وہ اس تنازعے کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
جرمنی اور نیٹو کے رکن دیگر یورپی ممالک نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ اس جنگ میں براہ راست شامل نہیں ہوں گے، جس پر ٹرمپ نے امریکہ کے ایسے اتحادیوں کو’’بزدل‘‘ قرار دیا تھا۔
ایران ’معاہدہ کرنا چاہتا ہے،‘ صدر ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران ’’معاہدہ کرنا چاہتا ہے‘‘ اور ساتھ ہی انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی نمائندے ایک ’’باوقار‘‘ ایرانی رہنما کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے اتوار کی شام تک یہ مذاکرات کیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات چیت پیر 23 مارچ کو بھی جاری رہے گی۔
تاہم ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کی جانب سے کون سے عہدیدار ان مذاکرات میں شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا نے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے کوئی بات چیت نہیں کی۔
ٹرمپ کے مطابق اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو امریکا ایران کے جوہری پروگرام کے لیے اہم افزودہ یورینیم کو اپنے کنٹرول میں لے لے گا۔
اس سے قبل تہران نے پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا کہ دونوں ممالک نے مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم کرنے کے لیے ’’تعمیری‘‘ مذاکرات کیے ہیں۔
ایران کے ریاستی خبر رساں اداروں فارس اور تسنیم نے رپورٹ کیا کہ تہران کا ٹرمپ انتظامیہ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، نہ براہ راست اور نہ ہی ثالثوں کے ذریعے۔
ایران کے خلاف کارروائی منصوبے کے مطابق جاری، امریکی سینٹرل کمانڈ
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی مہم ’’زیادہ تر منصوبے سے آگے یا اس کے مطابق‘‘ جاری ہے۔
فارسی زبان کے چینل ایران انٹرنیشنل پر پیر کی صبح نشر ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں کوپر نے کہا کہ امریکی کارروائیاں اپنے اہداف حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران گنجان آباد علاقوں سے میزائل اور ڈرون حملے کر رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ایسے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایرانی شہریوں کو خبردار کیا، ’’فی الحال گھروں کے اندر رہیں۔‘‘
کوپر نے کہا کہ کسی مرحلے پر واضح اشارہ دیا جائے گا، جیسا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے، جس کے بعد شہری باہر آ سکیں گے۔
ایران کی جوابی کارروائیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ ’’مایوسی کی علامت‘‘ ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے بیک وقت بڑی تعداد میں ڈرون اور میزائل داغنے کے بجائے اب ’’ایک یا دو‘‘ حملوں کی حکمت عملی اختیار کر لی ہے اور فوجی اہداف کے بجائے شہری مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے۔
کریملن کا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی و سفارتی حل پر زور
روسی ایوان صدر یا کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے آج بروز پیر کہا کہ روس مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ’’سیاسی اور سفارتی‘‘ حل پر زور دے رہا ہے۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو ڈیڈ لائن کے اندر اندر نہ کھولا تو اس کے توانائی کے نظام کو ’’تباہ‘‘کر دیا جائے گا۔
پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ’’ہم سمجھتے ہیں کہ صورتحال کو سیاسی اور سفارتی حل کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’یہی واحد راستہ ہے جو خطے میں پیدا ہونے والی انتہائی کشیدہ صورتحال کو مؤثر طریقے سے بہتر بنا سکتا ہے۔‘‘
28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے، جس سے توانائی کی عالمی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔
ایران نے ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے مسترد کر دیے
ایران نے پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ دونوں ممالک نے مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم کرنے کے لیے ’’تعمیری‘‘ مذاکرات کیے ہیں۔
ایران کے ریاستی خبر رساں اداروں فارس اور تسنیم نے رپورٹ کیا کہ تہران کا ٹرمپ انتظامیہ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، نہ براہ راست اور نہ ہی ثالثوں کے ذریعے۔
صدر ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل اپنی ایک ٹروتھ سوشل پوسٹ میں اعلان کیا تھا کہ وہ ایرانی پاور پلانٹس اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں پر کسی بھی امریکی حملے کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر رہے ہیں، اور اس تاخیر کو انہوں نے ’’تعمیری بات چیت‘‘ سے منسلک کیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز دھمکی دی تھی کہ اگر آبنائے ہرمز کو 48 گھنٹوں میں دوبارہ نہ کھولا گیا، تو وہ ایرانی پاور پلانٹس کو نشانہ بنائیں گے۔ ایران نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ اگر اس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچوں پر کوئی حملہ کیا گیا، تو وہ مکمل طور پر آبنائے ہرمز بند کر دے گا اور خطے میں امریکہ سے تعلقات رکھنے والے ملکوں کے توانائی اور پانی کے پلانٹس کو بھی نشانہ بنائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی اس پوسٹ میں لکھا تھا، ’’امریکہ اور ایران نے پچھلے دو دنوں میں مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے مکمل اور جامع حل کے لیے بہت اچھی اور تعمیری بات چیت کی ہے۔‘‘
چین کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال ’قابو سے باہر‘ ہونے کے خلاف انتباہ
چین نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ کی صورتحال ’’قابو سے باہر‘‘ ہو سکتی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ’’اگر جنگ مزید پھیلتی ہے اور صورتحال مزید بگڑتی ہے تو پورا خطہ ایک ایسی حالت میں داخل ہو سکتا ہے جو قابو سے باہر ہو۔‘‘
انہوں نے کہا کہ طاقت کا استعمال صرف ایک ’’خطرناک چکر‘‘کو جنم دے گا، اور انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ کشیدگی میں کمی ضروری ہے۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی اور ایران کے جوابی انتباہ کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس میں دونوں جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی بات کی گئی تھی۔
چین، جو ایرانی تیل پر انحصار بھی کرتا ہے اور تہران کا شراکت دار بھی ہے، نے واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں حملوں کی پالیسی کی حمایت نہیں کرتا۔ اس سے قبل چینی وزیر خارجہ وانگ یی بھی کہہ چکے ہیں کہ یہ جنگ ’’ہونا ہی نہیں چاہیے تھی‘‘ اور انہوں نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
جنگ کے باعث تیل کی عالمی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس کا اثر چین سمیت دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے چین سمیت دیگر ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے فوجی کردار ادا کریں، تاہم بیجنگ نے اس کا کوئی مثبت اشارہ نہیں دیا۔ چین نے اس کے بجائے اپنے خصوصی ایلچی ژائی جون کو خطے میں بھیجا ہے تاکہ کشیدگی کم کرانے کی کوشش کی جا سکے۔
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی مہلت پانچ دن بڑھا دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 23 مارچ بروز پیر اعلان کیا کہ ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے دیا گیا الٹی میٹم پانچ دن کے لیے بڑھا دیا گیا ہے، اور اس دوران توانائی کی ایرانی تنصیبات اور بجلی گھروں پر امریکی حملے مؤخر رہیں گے۔ ایران کے ریاستی ٹی وی نے امریکی صدر کے اس اقدام پر اپنے ردعمل میں کہا، ’’امریکی صدر ایران کی سخت وارننگ کے بعد پیچھے ہٹ گئے۔‘‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک ٹروتھ سوشل پوسٹ میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ’’بہت اچھی اور تعمیری بات چیت‘‘ہو رہی ہے، جس سے ’’مکمل اور جامع حل‘‘نکلنے کے امکانات ہیں، اور مذاکرات ’’پورا ہفتہ جاری رہیں گے۔‘‘
قبل ازیں ایران نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر ایرانی انرجی پلانٹس پر امریکی حملہ کیا گیا یا کسی زمینی حملے کا حکم دیا گیا تو پورے خطے کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا اور خلیج فارس میں بارودی سرنگیں بچھا دی جائیں گی۔
اٹھائیس فرور سے جاری اس جنگ کے باعث ایران میں 1,500 سے زیادہ، لبنان میں 1,000 سے زائد، اسرائیل میں کم ازکم 15 اور امریکی فوج میں 13 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ خلیجی خطے کے ساحلوں اور سمندری علاقوں میں بھی متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ لبنان اور ایران میں لاکھوں شہری بے گھر بھی ہو چکے ہیں۔
خلیجی عرب ریاست عمان کے ایک اعلیٰ سفارتکار نے بتایا کہ ان کا ملک، جو طویل عرصے سے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کرتا آیاہے، آبنائے ہرمز میں ایک محفوظ تجارتی گزرگاہ کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
ایران کی خلیج فارس میں بارودی سرنگیں بچھانے کی دھمکی، کشیدگی میں مزید اضافہ
ایران کی دفاعی کونسل نے پیر کے روز خبردار کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے اس کے جنوبی ساحل یا اہم جزیرے خارگ پر حملہ کیا تو وہ خلیج فارس میں وسیع پیمانے پر بارودی سرنگیں بچھا دے گا۔ ایک بیان میں کہا گیا، ’’ایران کے ساحلوں یا جزیروں پر حملے کی کسی بھی کوشش کے نتیجے میں خلیج میں تمام راستوں پر مختلف اقسام کی سمندری بارودی سرنگیں بچھا دی جائیں گی، جن میں تیرتی ہوئی بارودی سرنگیں بھی شامل ہوں گی۔‘‘
ایرانی حکام کے مطابق اس صورت میں پوری خلیج فارس کی صورتحال آبنائے ہرمز جیسی ہو جائے گی، جہاں جہاز رانی پہلے ہی شدید متاثر ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اگر ایران کو یہ قدم اٹھانا پڑا تو یہ صورتحال ’’طویل عرصے‘‘ تک برقرار رہ سکتی ہے۔ بیان میں 1980 کی دہائی کی ایران عراق جنگ کے دوران بارودی سرنگیں صاف کرنے میں پیش آنے والی مشکلات کا حوالہ بھی دیا گیا۔ امریکی میڈیا رپورٹوں کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے خارگ کے جزیرے پر قبضہ کرنے یا اسے محاصرے میں لینے پر غور کر رہے ہیں، جو ایرانی تیل کی برآمدات کا انتہائی اہم مرکز ہے۔
ایران نے ایک بار پھر کہا ہے کہ غیر متحارب ممالک کے مال بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں، تاہم انہیں پہلے ایرانی حکام کے ساتھ سکیورٹی اور حفاظتی انتظامات کے لیے رابطہ کرنا ہوگا۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت کو سنگین خطرات لاحق، آئی ای اے
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ فاتح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں تہران کی طرف سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ انہوں نے آسٹریلیا کے نیشنل پریس کلب سے اپنے خطاب میں کہا، ’’آج عالمی معیشت کو ایک بڑا، بہت بڑا خطرہ درپیش ہے، اور میں امید کرتا ہوں کہ اس مسئلے کا حل جلد نکال لیا جائے گا۔‘‘
بیرول نے کہا کہ اگر یہ بحران اسی طرح جاری رہا تو کوئی بھی ملک اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے گا، اس لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کا موازنہ 1970 کی دہائی کے تیل کے بحران اور یوکرینی جنگ کے اثرات سے کرتے ہوئے کہا، ’’موجودہ بحران دراصل تیل کے دو بحرانوں اور گیس کے ایک بحران کا مجموعہ بن چکا ہے۔‘‘
ان کے مطابق اس مسئلے کا اہم ترین حل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے۔
اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے بھی جاری
اسرائیلی فوج نے آج بروز پیر کہا کہ وہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ فوج کی جانب سے ٹیلیگرام پر جاری کردہ ایک پیغام میں کہا گیا، ’’ملکی دفاعی نظام خطرے کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘‘ اسرائیل کی ہوم فرنٹ کمانڈ نے متعلقہ علاقوں میں موبائل فونز پر ہنگامی الرٹ بھی جاری کیے۔
بیان میں کہا گیا،’’الرٹ ملنے پر عوام فوری طور پر محفوظ مقامات کی طرف چلے جائیں اور اگلی ہدایت تک وہیں رہیں۔‘‘ تقریباً 20 منٹ بعد اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ شہری پناہ گاہوں سے باہر آ سکتے ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت پر سامنے آئی، جب اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ اس نے تہران میں ایرانی تنصیبات کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔