جی سیون ممالک کا عام شہریوں پر حملے فوری روکے جانے کا مطالبہ
وقت اشاعت 27 مارچ 2026آخری اپ ڈیٹ 27 مارچ 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- لبنان میں ہیومینیٹیرین بحران کی صورتحال شدید تر، اقوام متحدہ کا انتباہ
- ایران سے منسلک ہیکرز کا ایف بی آئی ڈائریکٹر کا ذاتی ای میل اکاؤنٹ ہیک کرنے کا دعویٰ
- ایرانی میزائلوں کے ٹکڑوں سے اسرائیلی اور فلسطینی شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ
- اسرائیل کا ایران پر حملے مزید تیز اور وسیع کرنے کا اعلان
- لبنان میں تین ہفتوں میں تین لاکھ 70 ہزار سے زائد بچے بے گھر، یونیسیف
- جرمنی کا روس پر ایران کو ممکنہ اہداف کی نشاندہی میں مدد دینے کا الزام
- چین اور پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ میں امن مذاکرات کی حمایت پر اتفاق
- امریکہ ایران میں اسکول پر مہلک حملے کی تحقیقات جلد مکمل کرے، اقوام متحدہ
- یوکرین اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ
- ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی خطے کے عوام کو امریکی فوجی تنصیبات سے دور رہنے کی ہدایت
- امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان میں براہِ راست مذاکرات کی تیاری، جرمن وزیر خارجہ
- ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کو دی گئی مہلت مزید دس دن بڑھا دی
لبنان میں ہیومینیٹیرین بحران کی صورتحال شدید تر، اقوام متحدہ کا انتباہ
اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں سے متعلق ایجنسی (یو این ایچ سی آر) نے آج بروز جمعہ انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کا ایک ماہ مکمل ہونے کے قریب لبنان کو شدید نوعیت کی ہنگامی انسانی صورتحال کا سامنا ہے، جس کے اب کسی بڑے انسانی المیے میں بدل جانے کا خطرہ ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشن برائے مہاجرین کے مطابق دو مارچ کے بعد سے ایک ملین سے زائد افراد یعنی ہر پانچ میں سے ایک رہائشی اپنے گھر سے بے گھر ہو چکا ہے۔
اس ادارے کی لبنان میں نمائندہ کیرولینا لِنڈہوم بلنگ نے کہا، ’’یہ واقعی ایک ہیومینیٹیرین بحران کی گہری صورتحال ہے، جسے ہم یہاں لبنان میں زمینی سطح پر دیکھ رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور کسی بڑے انسانی المیے کا خطرہ حقیقی ہے۔‘‘
لِنڈہوم بلنگ نے بتایا، ’’136,000 سے زائد بے گھر افراد 660 اجتماعی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں، جن میں سے زیادہ تر اسکول ہیں، جو اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ بھر چکے ہیں۔‘‘ انہوں نے صفائی ستھرائی کی محدود سہولتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بزرگ افراد کلاس رومز کے فرش پر سونے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، ’’بے گھر ہونے والے افراد اب خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے۔‘‘
’’خاندان مسلسل خوف میں زندگی گزار رہے ہیں اور اس خوف کے نفسیاتی اثرات، خاص طور پر بچوں پر، موجودہ تنازعے سے بھی کہیں بعد تک باقی رہیں گے۔‘‘
ایران سے منسلک ہیکرز کا ایف بی آئی ڈائریکٹر کا ذاتی ای میل اکاؤنٹ ہیک کرنے کا دعویٰ
ایران سے منسلک ہیکرز نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے ذاتی ای میل اکاؤنٹ میں دراندازی کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کی تصاویر اور دیگر دستاویزات انٹرنیٹ پر شائع کر دی ہیں۔
ہینڈالہ ہیکر گروپ نامی ہیکروں کے گروہ نے اپنی ویب سائٹ پر کہا، پٹیل ’’اب کامیابی سے ہیک کیے گئے افراد کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔‘‘ امریکی محکمہ انصاف کے ایک اہلکار نے اس بات کی تصدیق کی کہ پٹیل کا ای میل اکاؤنٹ ہیک ہوا ہے اور آن لائن شائع ہونے والا مواد بظاہر مستند معلوم ہوتا ہے۔
ایف بی آئی نے فوری طور پر اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہ دیا، جبکہ ہیکرز کی جانب سے بھی ان کو بھیجے گئے سوالات کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
مغربی محققین کے مطابق خود کو فلسطین نواز ہیکرز کا گروپ قرار دینے والا ہینڈالہ گروہ ایرانی حکومتی سائبر انٹیلیجنس یونٹس کی جانب سے استعمال کیے جانے والے کئی نقابوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
اس گروپ نے حال ہی میں 11 مارچ کو مشیگن میں قائم طبی آلات اور خدمات فراہم کرنے والی کمپنی Stryker کو ہیک کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس نے کمپنی کا بڑا ڈیٹا حذف کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارہ روئٹرز اس بات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا کہ پٹیل کے ای میلز واقعی ہیک ہوئے، تاہم جس ذاتی جی میل اکاؤنٹ میں دراندازی کا دعویٰ کیا گیا ہے، وہ اس پتے سے مطابقت رکھتا ہے جو اس سے قبل ڈیٹا لیکس میں پٹیل سے منسلک رہا ہے۔
جی سیون ممالک کا عام شہریوں پر حملے فوری روکے جانے کا مطالبہ
جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ نے جمعے کے روز ایران جنگ کے دوران شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے فوری طور پر روکے جانے کا مطالبہ کیا۔ فرانس میں ہونے والے جی سیون اجلاس کے دوسرے روز جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ اس تنازعے کے علاقائی شراکت داروں، شہری آبادی اور اہم تنصیبات پر اثرات کو محدود رکھا جائے۔
بیان میں کہا گیا، ’’ہم نے متنوع شراکت داری، باہمی ہم آہنگی اور ان اقدامات کی حمایت کی اہمیت پر توجہ مرکوز کی، جو عالمی معاشی جھٹکوں کو کم کرنے میں مدد دیں، جیسے کہ معیشت، توانائی، کھاد اور تجارتی سپلائی چینز میں خلل، جن کے براہ راست اثرات ہمارے شہریوں پر پڑتے ہیں۔‘‘
وزرائے خارجہ نے آبنائے ہرمز میں محفوظ اور بلا معاوضہ جہاز رانی کی آزادی کی بحالی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
جی سیون ممالک میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور جاپان شامل ہیں، جبکہ یورپی یونین بھی اس کا حصہ ہے۔
ایرانی میزائلوں کے ٹکڑوں سے اسرائیلی اور فلسطینی شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ
اسرائیل میں فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرائے جانے والے سینکڑوں ایرانی میزائلوں کے بڑے بڑے ٹکڑے اسرائیلی اور فلسطینی شہریوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
ان میں سے کچھ میزائلوں کے ٹکڑے سائز میں ایک چھوٹے ٹرک جتنے بڑے ہیں۔ اٹھائیس فروری سے شروع ہونے والی موجودہ جنگ کے بعد سے میزائلوں کے یہ ٹکڑے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر اسکولوں کے میدانوں، سڑکوں کے کناروں اور پہاڑی علاقوں میں گر رہے ہیں۔ یہ بکھرے ہوئے دھاتی ٹکڑے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خوفناک آثار ہیں۔
اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف مشترکہ جنگ کے آغاز کے تقریباً ایک ماہ بعد اسرائیلی اور فلسطینی عوام کثرت سے جاری کیے جانے والے ان سرکاری انتباہات کے عادی ہو چکے ہیں، جن میں انہیں میزائلوں کے ٹکڑوں سے دور رہنے کی ہدایات دی جاتی ہیں، کیونکہ ان میں بچا کچھا دھماکا خیز مواد یا زہریلے عناصر ہو سکتے ہیں۔
اسرائیل کی قومی ایمبولینس سروس نے جمعہ کو کہا، ’’یہ اشیاء پہلی نظر میں بے ضرر لگ سکتی ہیں، لیکن یہ دھماکے اور شیلنگ کے خطرے کا سبب بن سکتی ہیں۔‘‘
فلسطینی شہروں میں میزائل کے ٹکڑے
مقبوضہ مغربی کنارے میں مزائیلوں کے کم از کم 270 ٹکڑے گر چکے ہیں، جن میں زیادہ تر رام اللہ کے قریب، جبکہ دیگر نابلس، بیت لحم، ہیبرون اور صلفیت کے نزدیک زمین پر گرے، یہ اعداد و شمار فلسطینی اتھارٹی کی سول ڈیفنس نے جاری کیے ہیں۔
ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیل کی جانب سینکڑوں میزائل داغے ہیں، جس کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں ہزاروں اہداف کو بمباری کا نشانہ بنایا، جس سے تقریباً 3,300 افراد ہلاک ہوئے۔
جب یہ میزائل اسرائیل کے دفاعی نظام سے مار گرائے جاتے ہیں، جس کی حکام کے مطابق میزائلوں کو تباہ کرنے کی شرح 90 فیصد درست ہے، تو ان تباہ شدہ میزائلوں کے ٹکڑے زمین پر گرتے ہیں، جس سے جسمانی نقصان پہنچتا ہے اور کبھی کبھار ہلاکتیں بھی ہوتی ہیں۔
اسرائیلی ایمبولینس سروس کے مطابق ایران اور لبنان سے اسرائیل کی جانب داغے گئے میزائلوں سے اسرائیل میں اب تک 18 افراد ہلاک ہوئے۔ مغربی کنارے میں فلسطینی وزارت صحت کے مطابق ان میزائل حملوں کے نتیجے میں چار فلسطینی خواتین ہلاک ہوئیں۔
زیادہ تر اسرائیلی بم شیلٹرز تک رسائی رکھتے ہیں جو کلسٹر بموں اور گرنے والے ٹکڑوں سے انہیں محفوظ رکھتے ہیں، لیکن مغربی کنارے میں فلسطینی عوام کے لیے اس قسم کے شیلٹرز تقریباً موجود نہیں ہیں۔
ایرانی میزائل کے کچھ ٹکڑے چار سے پانچ میٹر لمبے ہیں اور ایک اسرائیلی فوجی اہلکار کے مطابق یہ ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے ٹکڑے ہو سکتے ہیں۔
اسرائیل کا ایران پر حملے مزید تیز اور وسیع کرنے کا اعلان
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ایران پر اسرائیلی حملے ’’مزید تیز اور وسیع‘‘ کیے جائیں گے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ مل کر ایرانی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ وہ اسرائیل میں شہری آبادی پر میزائل حملے بند کرے۔
ان کا کہنا تھا، ’’انتباہ کے باوجود میزائل حملے جاری رہے ہیں، اس لیے ایران میں اسرائیلی فوجی حملے مزید شدت اختیار کریں گے اور ان اہداف اور علاقوں تک پھیلائے جائیں گے جو حکومت کو اسرائیلی شہریوں کے خلاف ہتھیار بنانے اور استعمال کرنے میں مدد دیتے ہیں۔‘‘
انہوں نے زور دیا کہ ایرانی حکومت کو ’’اس جنگی جرم کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔‘‘
اسرائیل کے مضبوط میزائل دفاعی نظام کے باوجود کچھ ایرانی میزائل ملک میں داخل ہونے میں کامیاب رہے ہیں اور مختلف مقامات کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
لبنان میں تین ہفتوں میں تین لاکھ 70 ہزار سے زائد بچے بے گھر، یونیسیف
اقوام متحدہ کے حکام کے مطابق لبنان میں صرف تین ہفتوں کے دوران تین لاکھ 70 ہزار سے زائد بچے اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں، کیونکہ اسرائیلی حملوں میں شدت اور بڑے پیمانے پر انخلا کے احکامات نے ملک کی تاریخ میں آبادی کی تیز ترین اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کو جنم دیا ہے۔
ایرانی حمایت یافتہ لبنانی تنظیم حزب اللہ نے دو مارچ کو تہران کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اسرائیل پر راکٹ حملے شروع کیے تھے، جس کے بعد سے اسرائیل نے لبنان پر شدید فضائی حملے اور وہاں زمینی فوجی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ اسرائیلی افواج نے لبنان کے تقریباً 15 فیصد علاقوں، بشمول پورے جنوبی خطے، سے شہریوں کو اپنے گھروں سے رخصتی کی ہدایت کی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کے نمائندے مارکو لوئیجی کورسی نے کہا کہ نقل مکانی کی شدت ’’حیران کن‘‘ہے، جہاں روزانہ تقریباً 19 ہزار بچے بے گھر ہو رہے ہیں، جن میں سے کئی گزشتہ 15 ماہ میں پائی جانے والی کشیدگی کے باعث دوسری یا تیسری بار نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں۔
انہوں نے بیروت سے ویڈیو لنک کے ذریعے کہا، ’’لبنان کے بچوں پر ذہنی اور جذباتی دباؤ تباہ کن حد تک بڑھ چکا ہے۔ لوگوں کے پاس جانے کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں رہی۔‘‘
یونیسیف کے مطابق حالیہ کشیدگی کے آغاز سے اب تک کم از کم 121 بچے ہلاک اور 399 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں شہری 660 سے زائد اجتماعی پناہ گاہوں، زیادہ تر اسکولوں، میں غیر محفوظ اور پرہجوم حالات میں رہنے پر مجبور ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی لبنان میں نمائندہ کیرولینا لِنڈہوم بلنگ نے کہا کہ اسکولوں کے پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کیے جانے سے ایک لاکھ 50 ہزار سے زائد طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک اور ذیلی ادارے یو این ویمن کی اہلکار Gielan El Messiri کے مطابق بے گھر خواتین اور بچیاں استحصال اور صنفی تشدد کے بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار ہیں، جبکہ 85 فیصد سے زائد افراد باقاعدہ پناہ گاہوں سے باہر، اکثر بھیڑ بھاڑ اور غیر محفوظ ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔
جرمنی کا روس پر ایران کو ممکنہ اہداف کی نشاندہی میں مدد دینے کا الزام
جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران کو ممکنہ حملوں کے اہداف کی نشاندہی میں مدد فراہم کر رہا ہے اور کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن ایران کی جنگ کو یوکرین پر اپنے حملے سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
فرانس میں جی سیون اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جرمن وزیر نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بات کی ہے اور جرمنی کا مؤقف واضح کیا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا، ’’پوٹن سفاکانہ انداز میں امید رکھتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہماری توجہ یوکرین میں ان کے جرائم سے ہٹا دے گا۔ یہ حکمت عملی کامیاب نہیں ہونی چاہیے۔ ہم واضح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ دونوں تنازعات کس قدر آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ روس بظاہر ایران کو ممکنہ اہداف سے متعلق معلومات فراہم کر رہا ہے۔‘‘
چین اور پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ میں امن مذاکرات کی حمایت پر اتفاق
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ان کے چینی ہم منصب وانگ یی نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں کی حمایت پر اتفاق کیا ہے۔
دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطے میں خطے میں امن اور استحکام کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا گیا، جس کا ذکر اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کیا۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ فوری جنگ بندی، امن مذاکرات کی بحالی، غیر جنگجو افراد کے تحفظ، بحری راستوں کی سلامتی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کو یقینی بنانے کی تمام کوششوں کی حمایت کی جائے گی۔‘‘
چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وانگ یی نے اسحاق ڈار کو بتایا کہ چین امن عمل میں پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت کرتا ہے۔ وانگ یی کا کہنا تھا کہ ایران سے متعلق جنگ میں امن مذاکرات کا آغاز ’’آسان کام نہیں‘‘ تاہم یہ آبنائے ہرمز میں معمول کی جہاز رانی کی بحالی کے لیے معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکہ ایران میں اسکول پر مہلک حملے کی تحقیقات جلد مکمل کرے، اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر فولکر ترک نے ایران میں 28 فروری کو ایک اسکول پر ہونے والی مہلک بمباری کو ’’شدید صدمے‘‘کا باعث قرار دیتے ہوئے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات جلد مکمل کرے۔
انہوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’امریکی اعلیٰ حکام کہہ چکے ہیں کہ اس حملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ یہ عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے اور اس کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اس ہولناک نقصان پر انصاف ہونا چاہیے۔‘‘
ترک کا کہنا تھا،’’ممالک کے درمیان اختلافات کچھ بھی ہوں، ہم سب اس بات پر متفق ہو سکتے ہیں کہ ان کا حل اسکول کے بچوں کو ہلاک کر کے نہیں نکالا جا سکتا۔‘‘
اخبار نیویارک ٹائمز کی جانب سے شائع کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایک امریکی ٹوماہاک کروز میزائل نشانے کی غلطی کے باعث اسکول پر جا گرا تھا۔
یوکرین اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جو مستقبل کے معاہدوں، تکنیکی تعاون اور سرمایہ کاری کی بنیاد فراہم کرے گا۔
صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’ہم سعودی عرب کے ساتھ اپنی مہارت اور نظام شیئر کرنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’سعودی عرب کے پاس بھی ایسی صلاحیتیں موجود ہیں، جو یوکرین کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں اور یہ تعاون دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘
زیلنسکی، جو اس وقت سعودی عرب کے دورے پر ہیں، نے کہا کہ یہ معاہدہ ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ان کی ملاقات سے قبل طے پایا۔
اے ایف پی سے بات کرنے والے دو سینیئر حکام کے مطابق یوکرین اور سعودی عرب نے فضائی دفاع سے متعلق ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز کے بعد سے تہران نے متعدد بار سعودی عرب پر حملے کیے ہیں۔
جمعہ کو سعودی سرکاری میڈیا نے بتایا کہ ریاض اور مشرقی علاقے میں دو ڈرونز کو مار گرایا گیا۔ یوکرین، جو گزشتہ چار برس سے روس کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا کر رہا ہے، اب اپنی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے خلیجی ممالک کو فراہم کیے جانے والے مہنگے دفاعی سازوسامان کے معاہدے حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی خطے کے عوام کو امریکی فوجی تنصیبات سے دور رہنے کی ہدایت
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آج بروز جمعہ خطے بھر کے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی افواج تنصیبات کے قریب موجود علاقوں سے دور رہیں، یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگ کو تقریباً ایک ماہ مکمل ہونے والا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے اپنی ویب سائٹ ’’سپاہ نیوز‘‘ پر جاری کردہ بیان میں کہا ،’’بزدل امریکی و صہیونی افواج شہری علاقوں اور بے گناہ افراد کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا، ’’ہم آپ کو مشورہ دیتے ہیں کہ فوری طور پر ان مقامات کو چھوڑ دیں جہاں امریکی افواج تعینات ہیں تاکہ آپ کسی نقصان سے محفوظ رہ سکیں۔‘‘
امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان میں براہِ راست مذاکرات کی تیاری، جرمن وزیر خارجہ
جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک کے نمائندے جلد پاکستان میں ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے جرمن ریڈیو ڈوئچ لینڈ فنک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میری معلومات کے مطابق بالواسطہ رابطے ہو چکے ہیں اور براہِ راست ملاقات کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ بظاہر یہ ملاقات بہت جلد پاکستان میں ہوگی۔‘‘
وزیر خارجہ نے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا، ’’یہ بہرحال اچھی خبر ہے کہ یہ مذاکرات ممکن ہو رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو متوقع طور پر فرانس میں جی سیون وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے موقع پر اس معاملے پر مزید تفصیلات فراہم کریں گے۔
جرمن وزیر خارجہ کے مطابق امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے جرمنی سے کسی مخصوص مدد کی درخواست نہیں کی، تاہم جرمنی نے تنازع کے بعد تعاون کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دہرایا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد جرمنی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنے پر تیار ہے۔
ان کا کہنا تھا، ’’جیسا کہ ہم ہمیشہ کہتے آئے ہیں کہ جب یہ جنگ ختم ہو جائے گی تو اصولی طور پر جرمنی اس بات پر غور کرنے کے لیے تیار ہے کہ آیا ہم آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ میں مدد دے سکتے ہیں۔ لیکن پہلے ہمیں وہاں تک پہنچنا ہوگا۔‘‘
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی مہلت مزید دس دن بڑھا دی
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی توانائی کی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کی ڈیڈ لائن مؤخر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات ’’بہت اچھے انداز میں‘‘ آگے بڑھ رہے ہیں۔ اسی دوران اسرائیل نے آج بروز جمعہ کی صبح تہران پر نئے حملوں کی لہر کا اعلان کیا ہے۔
گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے ابتدائی طور پر ایران کو آبنائے ہرمز کی بندش ختم کرنے کے لیے اڑتالیس گھنٹے کا وقت دیتے ہوئے انتباہ کیا تھا کہ تہران تیل بردار جہازوں کے لیے یہ اسٹریٹیجک آبی گزرگاہ کھول دے، بصورت دیگر اس کے بجلی گھروں کو تباہ کر دیا جائے گا، تاہم اب وہ اس ڈیڈ لائن میں دو مرتبہ توسیع کر چکے ہیں۔
ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے بیان میں کہا، ’’ایرانی حکومت کی درخواست پر میں توانائی کے پلانٹس کی تباہی کے عمل کو مزید 10 دن کے لیے، پیر چھ اپریل 2026 تک مؤخر کر رہا ہوں۔‘‘
امن کے زمانے میں دنیا کی خام تیل اور مائع قدرتی گیسں کی مجموعی پیداوار کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ ٹرمپ اس سے قبل اس تاثر کی تردید کر چکے ہیں کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے لیے بے چین ہیں، حالانکہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکی امن منصوبے پر سرد ردعمل دیا تھا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا، ’’مذاکرات جاری ہیں اور جعلی خبریں پھیلانے والے میڈیا کے دعووں کے برعکس یہ بہت اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘
ادارت: عاطف توقیر