1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایران آبنائے ہرمز کھولے ورنہ پہلے سے بھی شدید بمباری، ٹرمپ

شکور رحیم اے پی، اے ایف پی، روئٹرز، ڈی پی اے
وقت اشاعت 6 مئی 2026آخری اپ ڈیٹ 6 مئی 2026

اس سے قبل صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں ’پروجیکٹ فریڈم‘ عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا تھا، جس پر عمل پیر سے جاری تھا۔ اسی دوران ایرانی نیوز ایجنسی اسنا نے بتایا کہ تہران نئی امریکی جنگ بندی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔

https://p.dw.com/p/5DLJg
علامتی تصویر | آبنائے ہرمز میں میرین ٹریفک پر  بحری جہازوں  کی نقل و حرکت
علامتی تصویر | آبنائے ہرمز میں میرین ٹریفک پر بحری جہازوں کی نقل و حرکتتصویر: Hanno Bode/IMAGO
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  •  
  • فرانسیسی طیارہ بردار بحری بیڑہ نہر سوئز عبور کر کے بحیرہ احمر میں داخل
  • بھارت کا پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنے ہاں کثیرالملکی ایونٹس میں شرکت کی اجازت دینے کا فیصلہ، رپورٹ
  • ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولے ورنہ پہلے سے بھی شدید بمباری کا سامنا کرنا پڑے گا، ٹرمپ
  • ہنٹا وائرس کیا ہے اور اس کی روک تھام کیسے ممکن ہے؟
  • یوکرینی جنگ میں فائر بندی کے اعلان کے باوجود دو طرفہ شدید حملے جاری، درجنوں ہلاکتیں
  • مشرقی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے جاری، چار افراد ہلاک
  • ’معرکہ حق‘ کا ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان کا خطے میں مکالمت اور امن پر زور
  • نرگس محمدی ’قریب المرگ‘ ہیں، حامیوں کا عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ
  • کروز شپ پر ہنٹا وائرس سے متاثرہ ہونے کے شبے میں  تین افراد نیدرلینڈز منتقل، عالمی ادارہ صحت 
  • شکریہ صدر ٹرمپ! پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف ’پروجیکٹ فریڈم‘ معطل کیے جانے پر امن کے لیے پر امید 
  • جرمنی میں دائیں بازو کے شدت پسند نوجوانوں کے گروہوں کے خلاف ملک گیر چھاپے
  • چین کی جانب سے ایران کے پرامن جوہری حق کی حمایت، فوری جنگ بندی اور مذاکرات پر زور
  • پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر ’پروجیکٹ فریڈم‘ کی معطلی کا فیصلہ کیا، ٹرمپ 
فرانسیسی طیارہ بردار بحری بیڑہ نہر سوئز عبور کر کے بحیرہ احمر میں داخل سیکشن پر جائیں
6 مئی 2026

فرانسیسی طیارہ بردار بحری بیڑہ نہر سوئز عبور کر کے بحیرہ احمر میں داخل

فرانسیسی طیارہ بردار بحری بیڑہ چارلس ڈیگال
فرانسیسی طیارہ بردار بحری بیڑہ چارلس ڈیگالتصویر: Angelos Tzortzinis/AFP

فرانس  نے کہا ہے کہ اس کا طیارہ بردار بحری بیڑہ چارلس ڈیگال نہر سوئز عبور کر کے بحیرہ احمر میں داخل ہو گیا ہے اور اب خلیج عدن کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں وہ برطانیہ کے ساتھ مشترکہ قیادت میں ایک مشن کا حصہ ہے، جس کا مقصد جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
فرانسیسی فوج کے مطابق یہ جہاز بدھ کے روز نہر سوئز سے گزرا۔ ایک فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ یہبحری مشن اس وقت مشرقی بحیرہ روم میں تعینات کیا گیا تھا جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے تھے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں کی سرکاری رہائش گاہ ایلیزے پیلس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ فرانس اور اس کے شراکت دار ممالک اس قابل ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کی اپنی ذمہ داری ادا کر سکیں۔

ایلیزے پیلس کے مطابق فرانس چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات سے الگ رکھا جائے۔
یہ فرانسیسی اقدام ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور عالمی بحری تجارتی راستوں کی سکیورٹی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
خاص طور پر یمن میں ایران نواز حوثی باغی ماضی میں کئی بار بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ ایران کی حالیہ جنگ میں بھی حوثی مکمل طور پر شامل تو نہیں ہوئے لیکن اس دوران انہوں نے عارضی جنگ بندی سے قبل اسرائیل کی جانب چند میزائل داغے تھے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں
فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں تصویر: Karen Minasyan/AFP
https://p.dw.com/p/5DNTB
بھارت کا پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنے ہاں کثیرالملکی ایونٹس میں شرکت کی اجازت دینے کا فیصلہ، رپورٹ سیکشن پر جائیں
6 مئی 2026

بھارت کا پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنے ہاں کثیرالملکی ایونٹس میں شرکت کی اجازت دینے کا فیصلہ، رپورٹ

2024 سمر اولمپکس میں مردوں کے جیولن تھرو فائنل کے بعد بھارت کے سلور میڈلسٹ نیرج چوپڑا اور پاکستان کے گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم ایک دوسرے کے ساتھ خوشی کے لمحات شیئر کرتے
2024 سمر اولمپکس میں مردوں کے جیولن تھرو فائنل کے بعد بھارت کے سلور میڈلسٹ نیرج چوپڑا اور پاکستان کے گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم ایک دوسرے کے ساتھ خوشی کے لمحات شیئر کرتےتصویر: Ravi Choudhary/Press Trust of India/IMAGO

بھارت  نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ہاں ہونے والے کثیرالملکی کھیلوں کے مقابلوں میں پاکستانی کھلاڑیوں کو شرکت کی اجازت دے دے گا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ اسپورٹس روابط بشمول کرکٹ بدستور معطل رہیں گے۔

بھارتی وزارت نوجوانان و کھیل کی ایک دستاویز کے مطابق، جو اے ایف پی نے دیکھی ہے، پاکستان کے ساتھ کسی بھی دوطرفہ کھیلوں کی سرگرمی کو فی الحال ایجنڈے سے باہر رکھا گیا ہے۔

بھارت اور پاکستان گزشتہ برس ایک ہلاکت خیز فوجی کشیدگی میں الجھے رہے تھے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی دوطرفہ کرکٹ سیریز ایک دہائی سے بھی زائد عرصے سے نہیں کھیلی گئی۔ دونوں ملکوں کی ٹیمیں صرف عالمی یا علاقائی ٹورنامنٹس میں آمنے سامنے آتی ہیں۔

بھارت 2030 میں کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی کرے گا اور 2036 کے اولمپکس اور 2038 کی ایشین گیمز کی میزبانی کے لیے بھی سرگرم ہے، جس کا مقصد خود کو ایک بڑی اسپورٹس پاور کے طور پر منوانا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ اسپورٹس روابط بشمول کرکٹ بدستور معطل رہیں گے
دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ اسپورٹس روابط بشمول کرکٹ بدستور معطل رہیں گےتصویر: Sajjad Hussain/AFP

نئی دہلی میں کھیلوں کی وزارت کے مطابق بھارتی ٹیمیں اور انفرادی کھلاڑی بین الاقوامی مقابلوں میں اپنی شرکت جاری رکھیں گے، چاہے ان میں پاکستان کی ٹیمیں بھی شامل ہوں تاکہ عالمی اسپورٹس اداروں کے اصولوں کی پاسداری کی جا سکے اور بھارتی کھلاڑیوں کے مفاد کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔

اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے کھلاڑی اور ٹیمیں بھارت میں منعقد ہونے والے کثیرالملکی ایونٹس میں شرکت کر سکیں گے جبکہ ویزا کے عمل کو کھلاڑیوں، آفیشلز اور میڈیا کے لیے مزید آسان بنایا جائے گا۔

حالیہ برسوں میں پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزا دینے میں تاخیر پر عالمی اسپورٹس اداروں کی جانب سے بھارت کو تنقید کا سامنا بھی رہا ہے۔
 

https://p.dw.com/p/5DNUH
ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولے ورنہ پہلے سے بھی شدید بمباری کا سامنا کرنا پڑے گا، ٹرمپ سیکشن پر جائیں
6 مئی 2026

ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولے ورنہ پہلے سے بھی شدید بمباری کا سامنا کرنا پڑے گا، ٹرمپ

امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس مائیکل مرفی سمندر میں رسد کی منتقلی کی مشق کے دوران
امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس مائیکل مرفی سمندر میں رسد کی منتقلی کی مشق کے دورانتصویر: US Navy/AFP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا، تو اسے ماضی قریب کے مقابلے میں زیادہ شدید امریکی بمباری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صدر ٹرمپ کا یہ تازہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے، جب ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے کی طرف پیش رفت کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے اسنا نے ملکی وزارت خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے بدھ کے روز بتایا کہ تہران واشنگٹن کی جانب سے بھجوائی گئی نئی جنگ بندی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے اور اس پر اپنا رد عمل اس تنازعے میں ثالثی کرنے والے اپنے ہمسایہ ملک پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچائے گا۔

صدر ٹرمپ نے آج بروز  بدھ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے اور تیل اور گیس کی ترسیل بھی بحال ہو سکتی ہے، تاہم یہ سب کچھ ایران کی جانب سے اسے تجویز کردہ معاہدہ قبول کر لینے سے مشروط ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران نے اتفاق نہ کیا تو بمباری دوبارہ شروع ہو جائے گی۔

تہران میں ایک عمارت پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے لگایا گیا پوسٹر
تہران میں ایک عمارت پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے لگایا گیا پوسٹرتصویر: Majid Asgaripour/WANA/REUTERS

امریکی صدر کا یہ بیان اپنے وقت کے لحاظ سے اس لیے بھی اہم ہے کہ  بدھ کے روز ہی چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ بیجنگ میں ملاقات کے بعد ایران جنگ میں فوری اور جامع جنگ بندی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ چین کو اس تنازعے پر گہری تشویش ہے اور صرف مذاکرات ہی اس مسئلے کا حل ہیں۔

چین کے ایران کے ساتھ قریبی معاشی اور سیاسی تعلقات اسے ایک اہم کردار دیتے ہیں، جبکہ واشنگٹن بیجنگ پر زور دے رہا ہے کہ وہ تہران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دینے پر آمادہ کرے۔

ادھر صدر ٹرمپ نے عالمی وقت کے مطابق منگل کی رات اعلان کیا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی بحری جہازوں کی رہنمائی کے لیے شروع کیے گئے’پروجیکٹ فریڈم‘ کو اس لیے عارضی طور پر روک رہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے امکانات کو پرکھا جا سکے۔ اگرچہ اس تنازعے میں فائر بندی بڑی حد تک برقرار ہے، تاہم پیر کے روز اس سمندری راستے کو کھلوانے کی امریکی کوششوں کے دوران جھڑپوں کی رپورٹیں بھی ملی تھیں۔
 

https://p.dw.com/p/5DMyl
ہنٹا وائرس کیا ہے اور اس کی روک تھام کیسے ممکن ہے؟ سیکشن پر جائیں
6 مئی 2026

ہنٹا وائرس کیا ہے اور اس کی روک تھام کیسے ممکن ہے؟

ہانٹا وائرس کی علامتی تصویر
ہانٹا وائرس کی علامتی تصویرتصویر: Imagepointfr/Depositphotos/IMAGO

ایک لگژری کروز شپ پر ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ مزید پانچ کیسز کی تصدیق ہو گئی ہے یا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس صورتحال کے بعد یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ ہنٹا وائرس ہے کیا اور اس کی روک تھام کے لیے کیا کچھ کیا جا سکتا ہے۔

ہنٹا وائرس کیا ہے؟

ہنٹا وائرس چوہوں اور انہی کی طرح کے دیگر جانداروں  سے پھیلنے والا وائرس ہے جو انسانوں کو متاثر کر کے مختلف بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال اس کے تقریباً 10 ہزار سے ایک لاکھ تک کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، جبکہ اس کی شدت مختلف اقسام کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔

یہ وائرس کیسے پھیلتا ہے؟

یہ وائرس بنیادی طور پر چوہوں کے ذریعے اس لمحے انسانوں تک پہنچتا ہے، جب لوگ متاثرہ چوہوں یا ان کے پیشاب، فضلے یا لعاب کے ساتھ رابطے میں آتے ہیں۔ اکثر یہ وائرس اس وقت ہوا میں شامل ہو جاتا ہے، جب آلودہ جگہوں کی صفائی کی جاتی ہے۔ اس بات کا امکان کم لیکن بہرحال موجود ہے کہ یہ وائرس آلودہ سطحوں کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے۔

ہانٹا وائرس کی علامتی تصویر
ہانٹا وائرس کی علامتی تصویرتصویر: CDC/Image Point FR/BSIP/IMAGO

ماہرین کے مطابق ہنٹا وائرس کی ایک قسم، جسے ’’اینڈیز اسٹرین‘‘ کہا جاتا ہے اور جو زیادہ تر ارجنٹائن اور چلی میں پائی جاتی ہے، وہ واحد قسم ہے، جو انسانوں میں قریبی اور طویل رابطے کے ذریعے بھی منتقل ہو سکتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ متاثرہ کروز شپ پر پھیلنے والا وائرس یہی ’اینڈیز اسٹرین‘ ہے۔

علامات کیا ہیں؟

انفیکشن کی علامات عام طور پر ایک سے آٹھ ہفتے کے اندر ظاہر ہوتی ہیں، جن میں بخار، جسم میں درد اور معدے کے مسائل شامل ہو سکتے ہیں۔ یورپ اور ایشیا میں یہ وائرس گردوں اور خون کی نالیوں کو متاثر کرنے والی بیماری کا سبب بنتا ہےجبکہ امریکہ میں یہ تیزی سے پھیل کر پھیپھڑوں میں پانی بھر جانے اور دل کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق بعض اقسام میں شرح اموات 50 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ دیگر علاقوں میں یہ شرح ایک سے 15 فیصد تک کے درمیان رہتی ہے۔

علاج اور بچاؤ

ہنٹا وائرس کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں، اس لیے طبی توجہ بنیادی طور پر علامات کے مطابق دی جاتی ہے، جس میں آرام کرنا، سیال مادوں کی فراہمی اور بعض صورتوں میں وینٹی لیٹر کے ذریعے سانس لینے میں مدد کرنا شامل ہیں۔

اس وائرس سے بچاؤ کے لیے متاثرہ جانوروں سے رابطہ کم کرنا اور صفائی کا خاص خیال رکھنا ضروری ہیں۔ وبا کی صورت میں بیماری کے ذریعے سے رابطہ رکھنے والوں کی نگرانی اور بروقت علاج سے اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔

ہانٹا وائرس کی علامتی تصویر | حفاظتی ماسک، سرنج اور لیبارٹری رپورٹ کے ساتھ خون کے فرضی  نمونے
ہانٹا وائرس کی علامتی تصویر | حفاظتی ماسک، سرنج اور لیبارٹری رپورٹ کے ساتھ خون کے فرضی نمونےتصویر: Membio/Depositphotos/IMAGO
https://p.dw.com/p/5DMXJ
یوکرینی جنگ میں فائر بندی کے اعلان کے باوجود دو طرفہ شدید حملے جاری، درجنوں ہلاکتیں سیکشن پر جائیں
6 مئی 2026

یوکرینی جنگ میں فائر بندی کے اعلان کے باوجود دو طرفہ شدید حملے جاری، درجنوں ہلاکتیں

یہ تصویر 5 مئی کو یوکرین کے شہر کراماتورسک پر روسی حملوں کے بعد کی صورتحال کو ظاہر کرتی ہے، جس میں تباہی کے آثار نمایاں ہیں۔ تصویر یوکرین کی ایمرجنسی سروس کی جانب سے جاری کی گئی ہے
یہ تصویر 5 مئی کو یوکرین کے شہر کراماتورسک پر روسی حملوں کے بعد کی صورتحال کو ظاہر کرتی ہے، جس میں تباہی کے آثار نمایاں ہیں۔ تصویر یوکرین کی ایمرجنسی سروس کی جانب سے جاری کی گئی ہےتصویر: Notdienst der Ukraine

یوکرین نے بدھ کے روز الزام عائد کیا کہ روس نے کییف کی جانب سے یکطرفہ جنگ بندی کے اعلان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رات بھر 100 سے زائد جنگی ڈرونز اور تین میزائلوں کے ذریعے یوکرینی شہروں کو نشانہ بنایا۔

یوکرینی حکام کے مطابق منگل کی رات مشرقی یوکرین میں روسی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ یہ حملے اس وقت کیے گئے، جب یوکرین کی مجوزہ جنگ بندی بدھ کی نصف شب سے نافذ ہونے والی تھی۔

یوکرین کے وزیر خارجہ آندرے سیبیہا نے سوشل میڈیا پر کہا کہ جنگ بندی کے نفاذ سے چند گھنٹے قبل ہی روس کی جانب سے جارحیت میں اضافہ دیکھا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ماسکو امن کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ بندی یا امن سے زیادہ فوجی پریڈز میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ماسکو کی جانب سے نو مئی کو جنگ بندی کی اپیل محض دکھاوا ہے، جس کا سفارت کاری سے کوئی تعلق نہیں۔

دوسری جانب روسی سرحد کے اندر بھی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ یوکرینی حکام کے مطابق جنگ بندی سے قبل یوکرین نے روسی صنعتی اور عسکری اہداف پر حملے کیے، جن میں چیبوکساری میں ملکی دفاعی صنعت سے وابستہ تنصیبات شامل ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق ان حملوں میں کم از کم تین افراد زخمی ہوئے۔ 
یوکرینی ڈرونز نے سینٹ پیٹرزبرگ کے قریب کیریشی آئل ریفائنری کو بھی نشانہ بنایا، جس کے بعد صنعتی علاقے میں آگ بھڑک اٹھی۔ ادھر روسی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کی جانب سے جنگ بندی کے لیے ڈیڈ لائن سے قبل کریمیا کے قصبے جانکوئی میں ایک ڈرون حملے میں پانچ شہری ہلاک ہو گئے۔  روسی وزارت دفاع کے مطابق ملکی فضائی دفاعی نظام نے 18 مختلف علاقوں میں 289 یوکرینی ڈرونز فضا میں ہی تباہ کر دیے۔

اس تصویر میں 5 مئی کو یوکرین کے شہر کراماتورسک پر روسی حملوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کو دکھاتی ہے، یہ تصویر یوکرین کی سرکاری ہنگامی خدمات کے ادارے کی جانب سے جاری کی گئی ہے
اس تصویر میں 5 مئی کو یوکرین کے شہر کراماتورسک پر روسی حملوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کو دکھاتی ہے، یہ تصویر یوکرین کی سرکاری ہنگامی خدمات کے ادارے کی جانب سے جاری کی گئی ہےتصویر: Notdienst der Ukraine
https://p.dw.com/p/5DMXb
مشرقی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے جاری، چار افراد ہلاک سیکشن پر جائیں
6 مئی 2026

مشرقی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے جاری، چار افراد ہلاک

لبنان میں زوتر الشرقیہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد دھواں اٹھتا ہوا
اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے حزب اللہ سے منسلک بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے لبنان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں شروع کر دی ہیںتصویر: AFP

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق  وادی بیقا کے مشرقی علاقے میں بدھ کے روز ایک اسرائیلی فضائی حملے میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ حملہ اسرائیلی فوج کی جانب سے انخلا کی اس وارننگ کے جاری کیے جانے سے پہلے کیا گیا، جو ایک درجن سے زائد قصبوں کے لیے جاری کی گئی تھی۔

بیروت میں وزارت صحت کے مطابق، ’’اسرائیلی دشمن کے حملے‘‘ میں مغربی بیقا کے قصبے زلایا میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے، جن میں دو خواتین اور ایک بزرگ شخص بھی شامل تھے۔

لبنان کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ اس حملے میں قصبے کے میئر کا گھر نشانہ بنا، جس میں وہ خود اور ان کے خاندان کے تین افراد ہلاک ہوئے۔

اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز کہا کہ اس نے حزب اللہ سے منسلک بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے لبنان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں شروع کر دی ہیں، حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک جنگ بندی معاہدہ موجود ہے جس کا مقصد حزب اللہ کے ساتھ لڑائی روکنا تھا۔

اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا کہ اس نے ’’حزب اللہ کے دہشت گردی سے متعلق انفراسٹرکچر‘‘ کو مختلف علاقوں میں نشانہ بنایا ہے۔

یہ کارروائیاں اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہیں، جس میں کہا گیا تھا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی دستوں کے پاس کئی ڈرون دھماکے ہوئے۔ اس کے علاوہ بدھ کے روز ہی جنوبی لبنان کے ایک درجن دیہات کے لیے اسرائیلی فوج کی طرف سے انخلا کی نئی وارننگ بھی جاری کر دی گئی۔
 

https://p.dw.com/p/5DMXK
’معرکہ حق‘ کا ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان کا خطے میں مکالمت اور امن پر زور سیکشن پر جائیں
6 مئی 2026

’معرکہ حق‘ کا ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان کا خطے میں مکالمت اور امن پر زور

پاکستانی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار
پاکستانی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈارتصویر: Abu Sayed Rigel/AFP

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جنوبی ایشیا میں مذاکرات، سفارت کاری اور پرامن بقائے باہمی کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق اسلام آباد میں سفارتی برادری کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بھارت کے خلاف فوجی آپریشن  ’’معرکہ حق‘‘کی پہلی سالگرہ کے موقع پر قوم اور مسلح افواج کے اس عزم کو اجاگر کیا کہ پاکستان اپنی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ’’معرکہ حق‘‘ قومی یکجہتی، ثابت قدمی اور مسلح افواج کے غیر متزلزل عزم کی علامت ہے، جس کا مقصد ملک کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع ہے۔

سات مئی کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پام پور کے علاقے میں زمین پر پڑا ہوا ایک جنگی طیارے کے ملبے کا حصہ
پاکستانی فضائیہ نے اس چار روزہ جھڑپ کے دوران متعدد بھارتی جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیاتصویر: picture alliance / Middle East Images

انہوں نے کہا کہ آپریشن ’’بنیان المرصوص‘‘ کے دوران پاکستان کا ردعمل محتاط، قانونی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تھا، جس میں صرف عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اس دوران کشیدگی میں اضافے، شہریوں کو پہنچ سکنے والے نقصان اور خطے کو درپیش امن و سلامتی کے خطرات سے بھی خبردار کیا گیا۔

پاکستانی نائب وزیر اعظم نے کہا کہجموں و کشمیر کا تنازعہ خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے، اور اس کا منصفانہ حل اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سندھ طاس معاہدے پر کسی بھی یکطرفہ اقدام کے خطے پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پاکستان کثیرالجہتی سفارت کاری، امن مشنوں اور عالمی سطح پر اپنے تعمیری کردار کے لیے پرعزم ہے۔

اسحاق ڈار نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے خلیجی خطے اور مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی کوششوں اور امن کے فروغ میں سہولت کاری اور ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔

آپریشن سندور، ایک برس بعد بھی پریشانیاں موجود

https://p.dw.com/p/5DMYM
نرگس محمدی ’قریب المرگ‘ ہیں، حامیوں کا عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ سیکشن پر جائیں
6 مئی 2026

نرگس محمدی ’قریب المرگ‘ ہیں، حامیوں کا عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ

54 سالہ نرگس محمدی کو 2023 میں ایران میں خواتین کے خلاف جبر اور سزائے موت کے خلاف مہم چلانے پر نوبل امن انعام دیا گیا تھا۔
54 سالہ نرگس محمدی کو 2023 میں ایران میں خواتین کے خلاف جبر اور سزائے موت کے خلاف مہم چلانے پر نوبل امن انعام دیا گیا تھاتصویر: Nooshin Jafari/Middle East Images/picture alliance

ایران کی قید میں موجود انسانی حقوق کی کارکن اور نوبل امن انعام یافتہ نرگس محمدی کے حامیوں نے خبردار کیا ہے کہ محمدی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

چھ مئی بروز بدھ پیرس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ان کی وکیل شیرین اردکانی نے کہا، ’’ہمیں نرگس محمدی کی زندگی کے حوالے سے پہلے کبھی اتنا خوف محسوس نہیں ہوا تھا، وہ کسی بھی لمحے ہم سے جدا ہو سکتی ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف ان کی رہائی کے لیے ہی نہیں بلکہ ان کی زندگی بچانے کے لیے بھی جدوجہد کر رہی ہیں اور ’’موجودہ صورت حال میں موت کا حقیقی خطرہ موجود ہے، اس لیے فوری اقدام ناگزیر ہے۔‘‘

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے مشرق وسطیٰ کے لیے علاقائی ڈائریکٹر جوناتھن ڈاگر نے بھی کہا ہے کہ پہلی بار وہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ نرگس محمدی زندگی اور موت کے درمیان ہیں۔

نرگس محمدی کے حامیوں نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر فولکر ترک سے بھی باضابطہ اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں۔

وکیل شیرین اردکانی نے بتایا کہ محمدی کے دو بچے اور شوہر پیرس میں مقیم ہیں اور انہوں نے فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر مضبوط موقف اختیار کریں۔ 54 سالہ نرگس محمدی کو 2023 میں ایران میں خواتین کے خلاف جبر اور سزائے موت کے خلاف مہم چلانے پرنوبل امن انعام دیا گیا تھا۔

وہ اس وقت شمال مغربی ایران کے شہر زنجان  کے ایک ہسپتال میں دوران حراست زیر علاج ہیں، جہاں انہیں دل کے شدید عارضے کے باعث انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں منتقل کیا جا چکا ہے۔

رپورٹوں کے مطابق وہ مسلسل غیر مستحکم بلڈ پریشر اور شدید متلی کا شکار ہیں، جبکہ اپریل میں ان کے بھائی حمید رضا محمدی نے بھی ان کی صحت کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔

نرگس محمدی کی وکیل کے مطابق فروری میں انہیں ایک بار پھر سازش اور پروپیگنڈا کے الزامات میں کئی سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جبکہ ان پر دو سال کی سفری پابندی بھی عائد ہے۔

https://p.dw.com/p/5DMKi
کروز شپ پر ہنٹا وائرس سے متاثرہ ہونے کے شبے میں تین افراد نیدرلینڈز منتقل، عالمی ادارہ صحت سیکشن پر جائیں
6 مئی 2026

کروز شپ پر ہنٹا وائرس سے متاثرہ ہونے کے شبے میں تین افراد نیدرلینڈز منتقل، عالمی ادارہ صحت

کیپ ویردی کے قریب لنگر انداز کروز شپ; جس پر موجود کم ازکم تین مسافروں کے ہنتا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے
کیپ ویردی کے قریب لنگر انداز کروز شپ; جس پر موجود کم ازکم تین مسافروں کے ہنتا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہےتصویر: Arilson Almeida/AP Photo/picture alliance

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ ہنٹا وائرس سے متاثرہ ہونے کے شبے میں تین افراد کو کیپ ویردی کے قریب لنگر انداز ایک کروز شپ سے نکال کر علاج کے لیے نیدرلینڈز منتقل کیا جا رہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادہانوم گیبریئسس کے مطابق اس شاذ و نادر سامنے آنے والی بیماری کے حوالے سے عالمی سطح پر صحت عامہ کو  تاحال کم خطرہ لاحق ہے۔ یہ وائرس عموماً چوہوں جیسے متاثرہ جانداروں کے پیشاب، فضلے یا لعاب کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مشتبہ مریضوں کو جہاز سے نکال کر نیدرلینڈز منتقل کیا جا رہا ہے جہاں انہیں طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

ایم وی ہونڈیئس نامی کروز شپ ہفتے کے روز اس وقت سے عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جب ڈبلیو ایچ او کو اطلاع ملی تھی کہ اس کے تین مسافر ہلاک ہو گئے ہیں اور شبہ ہے کہ ان اموات کی وجہ ہنٹا وائرس بنا۔

نیدرلینڈز کے پرچم والے اس بحری جہاز نے یکم اپریل کو ارجنٹائن کے شہر اوشوایا سے بحر اوقیانوس کے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا اور وہ اتوار سے کیپ ویردی کے قریب سمندر میں لنگر انداز ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس جہاز پر 88 مسافر اور  عملے کے 59 ارکان سوار ہیں، جن کا تعلق 23 مختلف ممالک سے ہے۔

اب تک ہنٹا وائرس کے تین کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں ایک ہلاک ہونے والا شخص بھی شامل ہے، جبکہ مزید پانچ افراد میں اس بیماری کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
بدھ کے روز ہونے والی منتقلی عالمی ادارہ صحت، اس بحری جہاز کو چلانے والی ڈچ کمپنی، کیپ ویردی، برطانیہ اور نیدرلینڈز کے حکام کے تعاون سے عمل میں آئی۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کا کہنا ہے کہ مسافروں اور عملے کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ اس جہاز سے اترنے والے افراد کے طبی معائنوں اور فالو اپ کا عمل بھی جاری ہے۔
 

https://p.dw.com/p/5DMGH
شکریہ صدر ٹرمپ! پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف ’پروجیکٹ فریڈم‘ معطل کیے جانے پر امن کے لیے پر امید سیکشن پر جائیں
6 مئی 2026

شکریہ صدر ٹرمپ! پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف ’پروجیکٹ فریڈم‘ معطل کیے جانے پر امن کے لیے پر امید

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف تصویر: Aamir Qureshi/AFP

پاکستان  کے وزیر اعظم شہباز شریف  نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو معطل کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

یہ مشن آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو امریکی بحریہ کی نگرانی میں محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا، جس کے دوران ایران کے ساتھ محدود نوعیت کی جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، جن میں ایرانی فورسز کی جانب سے بحری جہازوں پر فائرنگ اور امریکی کارروائیوں میں چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی شامل تھے۔

صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ یہ فیصلہ پاکستان کی درخواست پر کیا گیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ایک ویب سائٹ پر اپنے بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کی حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ پیش رفت ایک ایسے دیرپا معاہدے کی راہ ہموار کرے گی، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر امن اور استحکام کو بھی یقینی بنائے گا۔

https://p.dw.com/p/5DLzr
جرمنی میں دائیں بازو کے شدت پسند نوجوانوں کے گروہوں کے خلاف ملک گیر چھاپے سیکشن پر جائیں
6 مئی 2026

جرمنی میں دائیں بازو کے شدت پسند نوجوانوں کے گروہوں کے خلاف ملک گیر چھاپے

کرسٹوفر اسٹریٹ ڈے کے موقع پر دائیں بازو کے انتہاپسندوں کی جوابی ریلی، ڈی جے وی کے جھنڈے کے ساتھ
حکام کے مطابق ان شدت پسند گروہوں کے حملوں میں متاثرہ افراد کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں شدید زخمی کیا گیاتصویر: Bernd von Jutrczenka/dpa


جرمنی میں پولیس نے بدھ کے روز دائیں بازو کے ان شدت پسند نوجوانوں پر مشتمل گروہوں کے خلاف ملک بھر میں چھاپے مارے، جن پر بائیں بازو کے کارکنوں اور مبینہ طور پر کم عمر افراد سے جنسی تعلقات قائم کرنے کے جرائم میں ملوث افراد پر حملے کرنے کے الزامات ہیں۔
وفاقی جرمن دفتر استغاثہ کے مطابق سینکڑوں اہلکاروں نے ملک کے مختلف حصوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے ’’ینگ اینڈ اسٹرونگ‘‘ اور ’’جرمن یوتھ فارورڈ‘‘ نامی گروہوں سے تعلق رکھنے والے 36 مشتبہ افراد کے ٹھکانوں کی تلاشی لی۔

حکام کے مطابق اس دوران کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی، اور چھاپوں کا مقصد شواہد اکٹھا کر کے مقدمات کو مضبوط بنانا ہے۔ دفتر استغاثہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مشتبہ افراد پر مجرمانہ تنظیموں کی رکنیت اور پرتشدد حملوں میں شرکت جیسے الزامات ہیں۔

حکام کے مطابق ان حملوں میں متاثرہ افراد کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں شدید زخمی کیا گیا، جبکہ ان گروہوں پر سیاسی مخالفین کے خلاف تشدد پر اکسانے کا بھی الزام ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ دونوں تنظیمیں کم از کم 2024 کے وسط سے سرگرم ہیں اور قومی و علاقائی سطح پر منظم انداز میں کام کر رہی ہیں، جبکہ ان میں شامل بعض مشتبہ افراد کم عمر بھی ہیں۔

جرمن حکام دائیں بازو کی انتہا پسندی کو ملک کو درپیش سب سے بڑا سکیورٹی خطرہ قرار دیتے ہیں، جو شدت پسند مذہبی گروہوں سے بھی زیادہ سنگین سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کے حملوں اور سازشوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے پیش نظر پولیس باقاعدگی سے ایسے گروہوں کے خلاف کارروائیاں کرتی رہتی ہے۔

'انتہا پسند' اے ایف ڈی پر پابندی لگ سکتی ہے؟

https://p.dw.com/p/5DLyc
چین کی جانب سے ایران کے پرامن جوہری حق کی حمایت، فوری جنگ بندی اور مذاکرات پر زور سیکشن پر جائیں
6 مئی 2026

چین کی جانب سے ایران کے پرامن جوہری حق کی حمایت، فوری جنگ بندی اور مذاکرات پر زور

ایران کے وزیر خارجہ عراقچی کی چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات
ایران کے وزیر خارجہ عراقچی کی چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقاتتصویر: Seyed Abbas Araqchi via Telegram/Handout/REUTERS

چین  نے ایران  کے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے فوری جنگ بندی اور مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بیجنگ میں ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات کے بعد  بدھ کے روز کہا کہ تمام فریقوں کو آبنائے ہرمز میں معمول کی محفوظ بحری آمد و رفت کی بحالی کو یقینی بنانا چاہیے۔

چینی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق وانگ یی نے کہا کہ لڑائی کا فوری خاتمہ ناگزیر ہے اور دوبارہ جھڑپوں کا آغاز کسی بھی صورت قابل قبول نہیں، جبکہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ چین ایران کے اس عزم کو سراہتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا، تاہم ساتھ ہی بیجنگ پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کے ایران کے جائز حق کو بھی تسلیم کرتا ہے۔

ملاقات کے دوران وانگ یی نے جنگ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ مختلف خبر رساں اداروں کے مطابق انہوں نے کہا کہ فوری اور جامع جنگ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے اور مذاکرات ہی مسئلے کا واحد حل ہیں۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران اور بیجنگ قریبی دوست ہیں اور موجودہ حالات میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو اس کی شرائط کے مطابق نہ ہو، اور تہران مذاکرات میں اپنے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے گا۔

اعداد و شمار کے مطابق ایران جنگ سے قبل چین ایران کے تیل کی تقریباً 80 فیصد خریداری کرتا تھا، کیونکہ دیگر ممالک امریکی پابندیوں کے باعث ایسی خریداری سے گریز کرتے رہے ہیں۔
 

https://p.dw.com/p/5DLo7
پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر ’پروجیکٹ فریڈم‘ کی معطلی کا فیصلہ کیا، ٹرمپ سیکشن پر جائیں
6 مئی 2026

پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر ’پروجیکٹ فریڈم‘ کی معطلی کا فیصلہ کیا، ٹرمپ

امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے دوران
امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے دورانتصویر: U.S. Navy/Planet Pix/ZUMA/picture alliance

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششوں کے دوران ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو عارضی طور پر روک دیا جائے گا۔

سماجی رابطوں کے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو وہاں سے بحفاظت نکالنے کے لیے شروع کیے گئے اس مشن کو وقتی طور پر معطل کیا جا رہا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے یا نہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ پیر کے دن سے شروع ہونے والا ’پروجیکٹ فریڈم‘ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی جانب ’بڑی پیش رفت‘ کے امکان کے باعث ’باہمی اتفاق‘ سے روکا جا رہا ہے۔

 ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ ’’پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر کیا ہے۔‘‘ امریکی صدر نے مزید لکھا کہ ایران کے خلاف مہم میں غیر معمولی عسکری کامیابی ملی اور ’پروجیکٹ فریڈم‘ قلیل مدت کے لیے معطل کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی بدستور جاری رہے گی۔ 

دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا نے ٹرمپ کے اس بیان کو تہران کی فتح قرار دیا اور کہا کہ یہ وقفہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سمندری تجارت کے لیے اہم آبی گزر گاہ کو دوبارہ کھولنے میں ’مسلسل ناکامیوں‘ کے بعد ٹرمپ ’پیچھے ہٹ گئے ہیں‘۔

امریکی صدر کا یہ اعلان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز کہا تھا کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ آپریشن ’’ایپک فیوری‘‘ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد مکمل ہو چکا ہے۔

 عراقچی نے جنگ کے آغاز کے بعد سے پہلی بار بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کی
عراقچی نے جنگ کے آغاز کے بعد سے پہلی بار بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کیتصویر: Iranian Foreign Minister/Telegram/AP Photo/picture alliance

عباس عراقچی چین میں 

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنگ کے آغاز کے بعد سے پہلی بار بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کی۔ چین کے سرکاری خبر رساں ادارے نے اس ملاقات کی تصدیق کی تاہم کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، جبکہ ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی اس ملاقات کی توثیق کر دی ہے۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملاقات میں ایران جنگ سرفہرست موضوع رہی ہو گی۔ تہران اور بیجنگ قریبی معاشی شراکت دار ہیں اور چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، جبکہ بیجنگ امریکی اقدامات پر کھل کر تنقید بھی کرتا رہا ہے۔

یہ ملاقات ایسے وقت پر ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کی توقع کی جا رہی ہے۔ واشنگٹن نے اس دورے کا اعلان کیا ہے، تاہم بیجنگ کی جانب سے اس کی تاحال کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

ادارت: مقبول احمد ملک 

ایران کی امریکہ کو سخت بیان بازی پر تنبیہ

https://p.dw.com/p/5DLKR
مزید پوسٹیں