اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین فائر بندی ناکامی کے راستے پر
وقت اشاعت 29 اپریل 2026آخری اپ ڈیٹ 29 اپریل 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک ایران میں 21 افراد کو سزائے موت دی گئی جبکہ چار ہزار گرفتار، اقوام متحدہ
- دوطرفہ حملوں کے باعث اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین فائر بندی مسلسل ناکامی کی طرف بڑھتی ہوئی
جنگ کے آغاز سے اب تک ایران میں 21 افراد کو سزائے موت دی گئی جبکہ چار ہزار گرفتار، اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی مشرق وسطیٰ کی موجودہ جنگ کے دوران اب تک ایران میں کم از کم 21 افراد کو سنائی گئی موت کی سزاؤں پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے جبکہ تقریباﹰ 4,000 افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔
ایران میں پھانسیوں کے خلاف قیدیوں کا احتجاج اور بھوک ہڑتال
سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا سے بدھ 29 اپریل کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ بات اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی طرف سے بتائی گئی۔
عالمی ادارے کے اس دفتر کی طرف سے کہا گیا کہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی مشرق وسطیٰ میں موجودہ جنگ کے دوران جن 21 مبینہ مجرموں کو پھانسی کے ذریعے سزائے موت دے دی گئی، ان میں سے ’’کم از کم نو افراد کو اس سال جنوری میں ہونے والے ملک گیر حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی وجہ سے سزا دی گئی، 10 دیگر افراد کو اس لیے پھانسی دی گئی کہ ان پر اپوزیشن گروپوں کی رکنیت کے الزامات تھے جبکہ دو افراد کو اس لیے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا کہ ان کے خلاف مبینہ جاسوسی کے الزامات تھے۔‘‘
اسرائیل کے لیے جاسوسی، ایران میں ایک اور شخص کو سزائے موت دے دی گئی
ایران میں گزشتہ برس 975 افراد کو سزائے موت دی گئی
جنیوا میں عالمی ادارے کے ہیومن راٹتس آفس کے بدھ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں مزید کہا گیا، ’’ایران میں 28 فروری سے اب تک 4,000 سے زائد افراد کو اس لیے گرفتار بھی کیا جا چکا ہے کہ ان پر قومی سلامتی کے منافی سرگرمیوں میں حصہ لینے یا اس سے ملتے جلتے الزامات تھے۔‘‘
دوطرفہ حملوں کے باعث اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین فائر بندی مسلسل ناکامی کی طرف بڑھتی ہوئی
اسرائیل اور لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے مابین فائر بندی فریقین کے ایک دوسرے پر مسلسل حملوں کے باعث ناکامی کے راستے پر ہے۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق تازہ اسرائیلی فضائی حملوں میں چار افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔
اسرائیل میں تل ابیب اور لبنان میں بیروت سے بدھ 29 اپریل کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں ایران جنگ کی وجہ سے شروع ہونے والی لبنان جنگ میں اس وقت توسیع شدہ فائر بندی کا وقفہ ہے، تاہم اس سیزفائر کی دونوں متحارب فریقوں کی طرف سے ایسے خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں، جن کی بنا پر یہ فائر بندی مسلسل ناکامی کی طرف بڑھتی دکھا ئی دے رہی ہے۔
بیروت میں لبنان کی وزارت صحت نے بتایا کہ اسرائیل نے کل منگل کے روز جنوبی لبنان میں جو نئے فضائی حملے کیے، ان میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔
ان اسرائیلی عسکری کارروائیوں میں ایک مسلح ڈرون سے کیا جانے والا ایک حملہ بھی شامل تھا، جس میں جنوبی لبنان میں ایک موٹر سائیکل سوار کو ہدف بنا کر ہلاک کر دیا گیا۔
اسرائیلی فوج کی طرف سے ہمسایہ ملک لبنان کے جنوب میں ان تازہ فضائی حملوں پر تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہ دیا گیا۔
لبنان میں جھڑپیں: اقوامِ متحدہ کا ایک اور امن فوجی ہلاک
اسرائیلی فوج کی طرف سے تاہم ایک بیان میں یہ کہا گیا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی زمینی دستوں کی پوزیشنوں کے قریب متعدد واقعات میں ’فضا میں ایسے مشکوک ڈھانچے اڑتے ہوئے‘ دیکھے گئے، جنہیں دوران پرواز تباہ کر دینے کے لیے کئی انٹرسیپٹر میزائل فائر کیے گئے۔
ساتھ ہی فوج نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جنوبی لبنان میں اس کے زمینی دستوں کے قریب ہی کئی مسلح جنگی ڈرونز بھی پھٹے، مگر ان کی وجہ سے کوئی فوجی زخمی نہیں ہوا۔
چار لبنانی ہلاک شدگان میں سے تین شہری دفاع کے کارکن
بیروت سے موصولہ دیگر رپورٹوں کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں گزشتہ روز جو چار افراد مارے گئے، ان میں سے تین سول ڈیفنس کے ایسے کارکن تھے، جو ایک ریسکیو مشن میں مصروف تھے کہ خود بھی ایک حملے کا نشانہ بن گئے۔
لبنانی صدر جوزف عون نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں شہری دفاع کے امدادی کارکنوں پر اس اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے۔ ان کارکنوں کو مجدل زون نامی قصبے میں فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
ایران امریکہ سیزفائر ڈیل میں لبنان پر شدید اسرائیلی حملوں کے باعث دراڑیں
صدر جوزف عون کے دفتر کی طرف سے کہا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے ان امدادی کارکنوں کو نشانہ بنایا جانا، جو ایک دوسرے اسرائیلی فضائی حملے کے بعد ریسکیو کارروائیوں میں مصروف تھے، بین الاقوامی قانون کے صریح خلاف ورزی ہے۔
جنوبی لبنان میں ڈرون حملے میں اسرائیلی ملٹری کنٹریکٹر ہلاک
اسی دوران اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی لبنان میں فوج کے ساتھ مختلف منصوبوں پر کام کرنے والی ایک انجینئرنگ کمپنی کا ایک کارکن حزب اللہ کی طرف سے کیے گئے ایک ڈرون حملے میں مارا گیا۔
اس اسرائیلی ملٹری کنٹریکٹر کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایک سویلین تھا اور فوج کے ساتھ مل کر کام کر رہا تھا، جو ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہو گیا۔
ایران جنگ سے کس کو برتری ملی، کس کا اثر و رسوخ کم ہوا؟
جنوبی لبنان میں اسرائیلی زمین دستے وہاں اسرائیل کی قومی سرحد اور لبنان میں دریائے لیطانی تک کے درمیانی علاقے میں ایک ایسا بفر زون قائم کرنے کی کوششوں میں ہیں، جس کا وزیر دفاع کاٹز کے مطابق مقصد یہ ہے کہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی شہریوں پر مسلح حملوں کے خطرات کا تدارک کیا جا سکے۔
ادارت: جاوید اختر