1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
لائیو

اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین فائر بندی ناکامی کے راستے پر

مقبول ملک روئٹرز، اے پی، اے ایف پی اور ڈی پی اے کے ساتھ
وقت اشاعت 29 اپریل 2026آخری اپ ڈیٹ 29 اپریل 2026

اسرائیل اور لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے مابین فائر بندی فریقین کے ایک دوسرے پر مسلسل حملوں کے باعث ناکامی کے راستے پر ہے۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق تازہ اسرائیلی فضائی حملوں میں چار افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔

https://p.dw.com/p/5CzK6
جنوبی لبنان میں منگل 28 اپریل کے روز کیے جانے والے اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران دھماکوں کے بعد فضا میں اٹھتے ہوئے دھوئیں کے بادل
جنوبی لبنان میں منگل 28 اپریل کے روز کیے جانے والے اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران دھماکوں کے بعد فضا میں اٹھتے ہوئے دھوئیں کے بادلتصویر: Shir Torem/REUTERS
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک ایران میں 21 افراد کو سزائے موت دی گئی جبکہ چار ہزار گرفتار، اقوام متحدہ
  • دوطرفہ حملوں کے باعث اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین فائر بندی مسلسل ناکامی کی طرف بڑھتی ہوئی
جنگ کے آغاز سے اب تک ایران میں 21 افراد کو سزائے موت دی گئی جبکہ چار ہزار گرفتار، اقوام متحدہ سیکشن پر جائیں
29 اپریل 2026

جنگ کے آغاز سے اب تک ایران میں 21 افراد کو سزائے موت دی گئی جبکہ چار ہزار گرفتار، اقوام متحدہ

تہران میں ایک پولیس اہلکار ایک مجرم کو سرعام پھانسی دیے جانے کی تیاری کرتے ہوئے، فائل فوٹو
تہران میں ایک پولیس اہلکار ایک مجرم کو سرعام پھانسی دیے جانے کی تیاری کرتے ہوئے، فائل فوٹوتصویر: Abedin Taherkenareh/EPA/picture-alliance/dpa

اقوام متحدہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی مشرق وسطیٰ کی موجودہ جنگ کے دوران اب تک ایران میں کم از کم 21 افراد کو سنائی گئی موت کی سزاؤں پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے جبکہ تقریباﹰ 4,000 افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

ایران میں پھانسیوں کے خلاف قیدیوں کا احتجاج اور بھوک ہڑتال

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا سے بدھ 29 اپریل کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ بات اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی طرف سے بتائی گئی۔

عالمی ادارے کے اس دفتر کی طرف سے کہا گیا کہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی مشرق وسطیٰ میں موجودہ جنگ کے دوران جن 21 مبینہ مجرموں کو پھانسی کے ذریعے سزائے موت دے دی گئی، ان میں سے ’’کم از کم نو افراد کو اس سال جنوری میں ہونے والے ملک گیر حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی وجہ سے سزا دی گئی، 10 دیگر افراد کو اس لیے پھانسی دی گئی کہ ان پر اپوزیشن گروپوں کی رکنیت کے الزامات تھے جبکہ دو افراد کو اس لیے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا کہ ان کے خلاف مبینہ جاسوسی کے الزامات تھے۔‘‘

اسرائیل کے لیے جاسوسی، ایران میں ایک اور شخص کو سزائے موت دے دی گئی

اس سال جنوری میں ایران میں حکومت کے خلاف ہونےو الے ملک گیر اور پرتشدد عوامی احتجاجی مظاہروں کے دوران تہران کے ایک بس ٹرمینل پر جلا دی گئی بہت سی بسوں کی ایک تصویر
اس سال جنوری میں ایران میں حکومت کے خلاف ہونےو الے ملک گیر اور پرتشدد عوامی احتجاجی مظاہروں کے دوران تہران کے ایک بس ٹرمینل پر جلا دی گئی بہت سی بسوں کی ایک تصویرتصویر: Morteza Nikoubazl/NurPhoto/picture alliance

ایران میں گزشتہ برس 975 افراد کو سزائے موت دی گئی

جنیوا میں عالمی ادارے کے ہیومن راٹتس آفس کے بدھ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں مزید کہا گیا، ’’ایران میں 28 فروری سے اب تک 4,000 سے زائد افراد کو اس لیے گرفتار بھی کیا جا چکا ہے کہ  ان پر قومی سلامتی کے منافی سرگرمیوں میں حصہ لینے یا اس سے ملتے جلتے الزامات تھے۔‘‘

https://p.dw.com/p/5Czrl
دوطرفہ حملوں کے باعث اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین فائر بندی مسلسل ناکامی کی طرف بڑھتی ہوئی سیکشن پر جائیں
29 اپریل 2026

دوطرفہ حملوں کے باعث اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین فائر بندی مسلسل ناکامی کی طرف بڑھتی ہوئی

جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے باعث ہونے والی تباہی، کل منگل کے روز لی گئی ملبہ صاف کرتے ہوئے ایک کارکن کی تصویر
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے باعث ہونے والی تباہی، کل منگل کے روز لی گئی ملبہ صاف کرتے ہوئے ایک کارکن کی تصویرتصویر: Marko Djurica/REUTERS

اسرائیل اور لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے مابین فائر بندی فریقین کے ایک دوسرے پر مسلسل حملوں کے باعث ناکامی کے راستے پر ہے۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق تازہ اسرائیلی فضائی حملوں میں چار افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔

بارودی سرنگیں بچھانے والی ہر کشتی تباہ کر دی جائے، ٹرمپ امن مذاکرات کی کوششوں پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے سائے

اسرائیل میں تل ابیب اور لبنان میں بیروت سے بدھ 29 اپریل کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں ایران جنگ کی وجہ سے شروع ہونے والی لبنان جنگ میں اس وقت توسیع شدہ فائر بندی کا وقفہ ہے، تاہم اس سیزفائر کی دونوں متحارب فریقوں کی طرف سے ایسے خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں، جن کی بنا پر یہ فائر بندی مسلسل ناکامی کی طرف بڑھتی دکھا ئی دے رہی ہے۔

بیروت میں لبنان کی وزارت صحت نے بتایا کہ اسرائیل نے کل منگل کے روز جنوبی لبنان میں جو نئے فضائی حملے کیے، ان میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔

جنوبی لبنان میں سرگرم اسرائیلی زمینی دستے اور ان کی فوجی گاڑیاں
جنوبی لبنان میں سرگرم اسرائیلی زمینی دستے اور ان کی فوجی گاڑیاںتصویر: Shir Torem/REUTERS

ان اسرائیلی عسکری کارروائیوں میں ایک مسلح ڈرون سے کیا جانے والا ایک حملہ بھی شامل تھا، جس میں جنوبی لبنان میں ایک موٹر سائیکل سوار کو ہدف بنا کر ہلاک کر دیا گیا۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے ہمسایہ ملک لبنان کے جنوب میں ان تازہ فضائی حملوں پر تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہ دیا گیا۔

لبنان میں جھڑپیں: اقوامِ متحدہ کا ایک اور امن فوجی ہلاک

اسرائیلی فوج کی طرف سے تاہم ایک بیان میں یہ کہا گیا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی زمینی دستوں کی پوزیشنوں کے قریب متعدد واقعات میں ’فضا میں ایسے مشکوک ڈھانچے اڑتے ہوئے‘ دیکھے گئے، جنہیں دوران پرواز تباہ کر دینے کے لیے کئی انٹرسیپٹر میزائل فائر کیے گئے۔

ساتھ ہی فوج نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جنوبی لبنان میں اس کے زمینی دستوں کے قریب ہی کئی مسلح جنگی ڈرونز بھی پھٹے، مگر ان کی وجہ سے کوئی فوجی زخمی نہیں ہوا۔

لبنان جنگ کی وجہ سے بیروت میں بے گھر ہونے والے عام شہریوں کی عارضی قیام گاہوں کے پاس حفاظتی گشت کرتے لبنانی فوجی دستے
لبنان جنگ کی وجہ سے بیروت میں بے گھر ہونے والے عام شہریوں کی عارضی قیام گاہوں کے پاس حفاظتی گشت کرتے لبنانی فوجی دستےتصویر: Zohra Bensemra/REUTERS

چار لبنانی ہلاک شدگان میں سے تین شہری دفاع کے کارکن

بیروت سے موصولہ دیگر رپورٹوں کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں گزشتہ روز جو چار افراد مارے گئے، ان میں سے تین سول ڈیفنس کے ایسے کارکن تھے، جو ایک ریسکیو مشن میں مصروف تھے کہ خود بھی ایک حملے کا نشانہ بن گئے۔

لبنانی صدر جوزف عون نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں شہری دفاع کے امدادی کارکنوں پر اس اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے۔ ان کارکنوں کو مجدل زون نامی قصبے میں فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

ایران امریکہ سیزفائر ڈیل میں لبنان پر شدید اسرائیلی حملوں کے باعث دراڑیں

صدر جوزف عون کے دفتر کی طرف سے کہا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے ان امدادی کارکنوں کو نشانہ بنایا جانا، جو ایک دوسرے اسرائیلی فضائی حملے کے بعد ریسکیو کارروائیوں میں مصروف تھے، بین الاقوامی قانون کے صریح خلاف ورزی ہے۔

جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی دستوں سے ملاقات کے لیے وہاں کا دورہ کرنے والے وزیر دفاع اسرئیل کاٹز کی دو فروری کو لی گئی ایک تصویر
جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی دستوں سے ملاقات کے لیے وہاں کا دورہ کرنے والے وزیر دفاع اسرئیل کاٹز کی دو فروری کو لی گئی ایک تصویرتصویر: Ariel Hermoni/Verteidigungsministerium/dpa/picture alliance

جنوبی لبنان میں ڈرون حملے میں اسرائیلی ملٹری کنٹریکٹر ہلاک

اسی دوران اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی لبنان میں فوج کے ساتھ مختلف منصوبوں پر کام کرنے والی ایک انجینئرنگ کمپنی کا ایک کارکن حزب اللہ کی طرف سے کیے گئے ایک ڈرون حملے میں مارا گیا۔

اس اسرائیلی ملٹری کنٹریکٹر کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایک سویلین تھا اور فوج کے ساتھ مل کر کام کر رہا تھا، جو ایک ڈرون حملے  میں ہلاک ہو گیا۔

ایران جنگ سے کس کو برتری ملی، کس کا اثر و رسوخ کم ہوا؟

جنوبی لبنان میں اسرائیلی زمین دستے وہاں اسرائیل کی قومی سرحد اور لبنان میں دریائے لیطانی تک کے درمیانی علاقے میں ایک ایسا بفر زون قائم کرنے کی کوششوں میں ہیں، جس کا وزیر دفاع کاٹز کے مطابق مقصد یہ ہے کہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی شہریوں پر مسلح حملوں کے خطرات کا تدارک کیا جا سکے۔
ادارت: جاوید اختر

حزب اللہ لبنان میں طاقت ور کیوں ہے؟

https://p.dw.com/p/5CzO9
مزید پوسٹیں
Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔