بارودی سرنگیں بچھانے والی ہر کشتی تباہ کر دی جائے، ٹرمپ
وقت اشاعت 23 اپریل 2026آخری اپ ڈیٹ 23 اپریل 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- آبنائے ہرمز میں ’بارودی سرنگیں بچھانے والی‘ کسی بھی کشتی کو تباہ کر دیا جائے، ٹرمپ کی امریکی بحریہ کو ہدایت
- یورپی یونین نے یوکرین کے لیے 90 بلین یورو کے قرض کی منظوری دے دی
- برلن میں سابق ایرانی شاہ کے بیٹے رضا پہلوی پر سرخ محلول پھینک دیا گیا
- بلوچستان میں ایک کان پر عسکریت پسندوں کا حملہ، ایک ترک شہری سمیت 10 افراد ہلاک
- لبنان اور اسرائیل کے درمیان سیزفائر میں توسیع پر آج مذاکرات کا دوسرا دور
- امریکی بحریہ کے سیکرٹری جان فیلن ٹرمپ انتظامیہ سے مستعفی
- ڈنمارک میں دو مسافر ریل گاڑیوں میں تصادم، متعدد افراد زخمی
- ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات کی کوششوں پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے سائے
بارودی سرنگیں بچھانے والی ہر کشتی تباہ کر دی جائے، ٹرمپ
ٹرمپ نے جمعرات کو اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ امریکی نیوی کو ہدایت دے دی گئی ہے کہ وہ ایسی کسی بھی کشتی، خواہ وہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہو، کے خلاف فوری کارروائی کرے، جو آبنائے ہرمز کی اہم آبی گزرگاہ میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرے اور اس عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں ہونا چاہیے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی فوج اس اہم آبی راستے میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائی بھی تیز کر رہی ہے۔ ان کے مطابق امریکی بحری ’’مائن سویپر‘‘ اس وقت آبنائے ہرمز کو صاف کرنے میں مصروف ہیں اور انہوں نے اس کارروائی کو تین گنا تک بڑھا دینے کا حکم دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے رہنماؤں نے کہا کہ جب تک امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، اس وقت تک واشنگٹن کے ساتھ مزید امن مذاکرات ممکن نہیں۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور فروری کے آخر میں شروع ہونے والی ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے اس اہم عالمی تجارتی راستے سے جہازوں کی معمول کی آمد و رفت تقریباً رک چکی ہے۔
آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت
ایران نے جمعرات کو آبنائے ہرمز پر اپنی مضبوط گرفت کا مظاہرہ کرنے والی ایک ویڈیو جاری کی، جس میں اس کے کمانڈوز کو ایک بڑے کارگو شپ پر چڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ان امن مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد سامنے آئی ہے، جن سے امریکہ کو امید تھی کہ دنیا کی یہ انتہائی اہم سمندری گزرگاہ دوبارہ کھل جائے گی۔
سرکاری ٹیلی وژن سے نشر ہونے والی فوٹیج میں نقاب پوش ایرانی اہلکاروں کو ایک سرمئی رنگ کی تیز رفتار کشتی کے ذریعے کارگو شپ ایم ایس سی فرانسسکا کے قریب پہنچتے، رسی کی سیڑھی کے ذریعے جہاز کے ڈھانچے تک چڑھتے اور ہتھیار لہراتے ہوئے اندر داخل ہوتے دکھایا گیا ہے۔
اس ویڈیو میں بغیر کسی تبصرے کے ایک اور جہاز کی جھلکیاں بھی شامل تھیں۔ ایران نے کہا کہ اس نے بدھ کے روز دونوں جہازوں کو قبضے میں لے لیا تھا اور الزام لگایا کہ وہ بغیر اجازت آبنائے ہرمز کو عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ایران نے فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اپنی کشتیوں کو چھوڑ کر دیگر جہازوں کے لیے اس آبنائے کو مؤثر طور پر بند کر رکھا ہے۔
دریں اثنا ایک پاکستانی حکومتی ذریعے کے مطابق پاکستان، جس نے رواں ماہ مذاکرات کی میزبانی کی تھی اور منگل کو منسوخ ہونے سے پہلے دوسرے دور کی تیاری کر رہا تھا، اب بھی دونوں فریقوں سے رابطے میں ہے۔
یورپی یونین نے یوکرین کے لیے 90 بلین یورو کے قرض کی منظوری دے دی
ہنگری کی جانب سے مخالفت واپس لیے جانے کے بعد جمعرات 23 اپریل کو یورپی یونین کے رکن ممالک نے جنگ سے متاثرہ یوکرین کے لیے 90 بلین یورو کے قرض کی متفقہ طور پر منظوری دے دی۔
یہ مالی امداد یوکرین کی فوری معاشی اور فوجی ضروریات کو پورا کرنے اور روس کے خلاف اس کی دفاعی جدوجہد جاری رکھنے میں مدد دینے کے لیے دی جا رہی ہے۔
یورپی یونین کے خارجہ امور کی نگران عہدیدار کایا کالاس نے جمعرات کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’روس کی جنگی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ یوکرین کو بڑا سہارا مل رہا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید لکھا، ’’ہم یوکرین کو وہ سب کچھ فراہم کریں گے، جس کی اسے اپنے دفاع کے لیے ضرورت ہے، جب تک کہ ولادیمیر پوٹن کو یہ سمجھ نہ آ جائے کہ ان کی اس جنگ کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔‘‘
جمعرات 23 اپریل کا یہ فیصلہ اس معاہدے کو باضابطہ شکل دیتا ہے جو اس سے قبل یورپی یونین کے ارکان کے درمیان طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے ساتھ کییف اور بوڈاپسٹ کے درمیان کئی ماہ سے جاری تنازعہ بھی ختم ہو گیا ہے۔ یہ تنازعہ اس پائپ لائن کے ذریعے روسی تیل کی ترسیل کے رکنے سے پیدا ہوا تھا، جو یوکرین کے راستے ہنگری اور سلوواکیہ تک جاتی ہے۔
تب ہنگری کے وزیر اعظم وکٹور اوربان نے الزام لگایا تھا کہ یوکرین نے سیاسی وجوہات کی بنا پر اس پائپ لائن کے ذریعے روسی تیل کی فراہمی دوبارہ شروع ہونے سے روکی تھی۔ یوکرین نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنوری میں روسی فضائی حملوں کے باعث پائپ لائن کو نقصان پہنچا تھا اور اسے مرمت کی ضرورت تھی۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے رواں ہفتے کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ اس پائپ لائن کی مرمت مکمل ہو چکی ہے۔ اسی لیے جمعرات کے روز سلوواکیہ نے بھی تصدیق کر دی کہ روسی تیل دوبارہ اس ملک تک پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔
برلن میں سابق ایرانی شاہ کے بیٹے رضا پہلوی پر سرخ محلول پھینک دیا گیا
ایران کے جلاوطن سابق ولی عہد رضا پہلوی پر جمعرات کے روز برلن میں ایک عمارت سے باہر نکلتے وقت سرخ محلول پھینک دیا گیا۔
سابق شاہ ایران کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی ایران کی موجودہ قیادت کو ہٹانے کی اپنی مہم کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کے سلسلے میں ان دنوں جرمن دارالحکومت کے دورے پر ہیں۔
یہ واقعہ برلن میں جرمنی کی وفاقی پریس کانفرنس کی عمارت کے باہر پیش آیا، جب وہ ایک نیوز بریفنگ کے بعد باہر نکل رہے تھے۔
رضا پہلوی کو اس واقعے میں کوئی چوٹ تو نہیں آئی، تاہم یہ رنگ دار مائع مادہ ان کے بلیزر اور گردن کے پچھلے حصے پر گرا۔ پولیس کے مطابق یہ غالباً ٹماٹر کا رس تھا۔
پولیس نے مبینہ حملہ آور کو فوری طور پر حراست میں لے لیا۔ جرمنی کے ڈیٹا پرائیویسی قانون کے تحت ملزم کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔
رضا پہلوی کو ایران میں بادشاہت کی بحالی کے حامی شہری ایرانی اپوزیشن کا رہنما سمجھتے ہیں۔ لیکن ان کا برلن کا موجودہ دورہ نجی حیثیت میں کیا جا رہا ہے۔ البتہ وہ بعض سیاسی رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے ۔ تاہم جرمن حکومت کے کسی رکن سے ان کی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
اپنے حامیوں سے ایک خطاب کے دوران انہوں نے جرمن حکومت کی جانب سے ان سے ملاقات نہ کرنے کو ’’باعث شرم‘‘ قرار دیا۔
رضا پہلوی نے یورپی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ایران کی قیادت کو خوش کرنے یا رعایت دینے کی پالیسی نہ اپنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات جاری رکھنے سے صرف موجودہ نظام ہی برقرار رہے گا۔
’’اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اس حکومت کے ساتھ مل کر امن قائم کیا جا سکتا ہے، تو آپ سخت غلطی پر ہیں۔ اس نظام کی کمزور ترین شکل بھی اگر باقی رہی، تو بھی کبھی استحکام نہیں آ سکے گا۔‘‘
رضا پہلوی کے مطابق ایران کی موجودہ مذہبی یا سیاسی قیادت میں کوئی اعتدال پسند یا اصلاحات پسند رہنما موجود نہیں، بلکہ سب لوگ ’اسی نظام کے مختلف چہرے‘ ہیں۔
سابق ایرانی ولی عہد نے اپنے طور پر خود کو ایک ایسی شخصیت کے طور پر پیش کیا ہے، جو اگر ایران کی موجودہ قیادت کا خاتمہ ہو جائے، تو ملک میں جمہوری تبدیلی کی قیادت کر سکتی ہے۔
بلوچستان میں ایک کان پر عسکریت پسندوں کا حملہ، ایک ترک شہری سمیت 10 افراد ہلاک
پاکستانی حکام کے مطابق ملک کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں تانبے اور سونے کی ایک مائننگ سائٹ پر عسکریت پسندوں کے ایک حملے میں 10 افراد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک شدگان میں ایک ترک شہری بھی شامل ہے، جبکہ ایک دوسرے ترک شہری کو اغوا بھی کر لیا گیا۔
ایک مقامی انتظامی اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ بدھ 22 اپریل کے روز موٹر سائیکلوں اور دیگر سواریوں پر سوار تقریباً 40 مسلح افراد نے نیشنل ریسورسز پرائیویٹ لمیٹڈ کی ایک کان پر دھاوا بول دیا۔ یہ کان ضلع چاغی کے داریگوان نامی علاقے میں واقع ہے۔
ابھی تک کسی بھی مسلح گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم حالیہ برسوں میں مقامی بلوچ علیحدگی پسند گروپوں نے اس علاقے میں اپنے وہ حملے تیز کر دیے ہیں، جن میں کان کنی کے منصوبوں کو بھی عسکریت پسندانہ کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ایک پولیس اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کے ساتھ گفتگو میں اس حملے کی تصدیق کی اور بتایا کہ اس واقعے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک ترک شہری، چھ مزدور اور تین سکیورٹی گارڈ شامل ہیں۔
اس اہلکار نے مزید بتایا، ’’حملہ آوروں نے اس حملے کے دوران ایک ترک شہری کو اغوا بھی کر لیا۔‘‘ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں آٹھ افراد زخمی بھی ہوئے۔
متعلقہ مائننگ کمپنی نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے فوری ردعمل کے دوران علاقے کو محفوظ بنا لیا۔ تاہم اس کمپنی نے جانی نقصانات کی کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
بلوچستان میں حالیہ برسوں میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جن میں وہ نہ صرف سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے آئے ہیں بلکہ نجی اداروں اور غیر ملکیوں پر بھی حملے کرتے رہے ہیں۔
دوسری طرف پاکستانی فوج اور ریاست کے ادارے صوبے میں عسکریت پسندوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان سیزفائر میں توسیع پر آج مذاکرات کا دوسرا دور
اسرائیلی اور لبنانی حکام جمعرات کو واشنگٹن میں براہ راست باہمی مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کرنے والے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے اعلیٰ سفارتی نمائندے لبنان جنگ میں گزشتہ جمعے سے نافذ 10 روزہ فائر بندی میں توسیع پر غور کریں گے۔
بیروت حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ فائر بندی کے ختم ہونے سے پہلے اس میں ایک ماہ کی توسیع کی درخواست کرے گی۔
لبنانی حکام ان مذاکرات کے دوران جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی جانب سے کی گئی وسیع پیمانے پر مسماریوں پر بھی تشویش کا اظہار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ مذاکرات ایسے وقت پر ہو رہے ہیں جب ایک دن پہلے ہی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں میں مزید کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے، جن میں لبنان کی خاتون صحافی امل خلیل بھی شامل تھیں۔
لبنانی حکام کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 2,454 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیل کے وزیر خارجہ گیدون سعار نے بدھ کے روز کہا تھا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان کوئی ’سنگین اختلافات‘ نہیں ہیں اور انہوں نے حزب اللہ کو ’’امن اور معمول کے تعلقات میں رکاوٹ‘‘ قرار دیا تھا۔
دوسری جانب ایران نواز لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے ایک رکن پارلیمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ تنظیم امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کو قبول کر سکتی ہے۔
امریکی بحریہ کے سیکرٹری جان فیلن ٹرمپ انتظامیہ سے مستعفی
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے جمعرات کے روز بتایا کہ ملکی بحریہ کے سیکرٹری جان فیلن فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔
جان فیلن کے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی خبر ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
بینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ فیلن ’فوری طور پر ٹرمپ انتظامیہ سے علیحدہ ہو رہے ہیں،‘ اور ان کی جگہ عبوری طور پر انڈر سیکرٹری ان کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ فیلن کے مستعفی ہونے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔
سابق انویسٹمنٹ بینکر جان فیلن نے مارچ 2025 میں یہ عہدہ سنبھالا تھا۔ ان کی توجہ جہاز سازی اور بحری صنعت کو مضبوط بنانے پر مرکوز تھی۔
اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کے خواہش مند ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ فیلن اور ان کے اعلیٰ حکام کے درمیان کئی ماہ سے کشیدگی بڑھ رہی تھی۔ ان اعلیٰ حکام میں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ بھی شامل ہیں۔
یہ اقدام ملکی فوجی قیادت میں ہونے والی دیگر حالیہ تبدیلیوں کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں چند ہفتے قبل امریکی فوج کے چیف آف اسٹاف رینڈی جارج کا استعفیٰ دے دینا بھی شامل تھا۔ پیٹ ہیگستھ نے رینڈی جارج سے اپنا عہدہ چھوڑ دینے کی ’درخواست‘ کی تھی۔
ڈنمارک میں دو مسافر ریل گاڑیوں میں تصادم، متعدد افراد زخمی
جرمنی کے ہمسایہ شمالی یورپی ملک ڈنمارک میں دو مسافر ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں، جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہو گئے۔ یہ حادثہ 23 اپریل جمعرات کی صبح ملکی دارالحکومت کوپن ہیگن کے شمال میں پیش آیا۔
مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق پولیس نے اسے ایک ’سنگین حادثہ‘ قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ پولیس اہلکار اور ہنگامی امدادی ٹیموں کے ارکان بڑی تعداد میں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔
گریٹر کوپن ہیگن فائر ڈیپارٹمنٹ کے ایک ترجمان نے کہا، ’’یہ دونوں لوکل ٹرینیں تھیں، جو آمنے سامنے آ کر ٹکرا گئیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’مسافروں میں سے کئی زخمی ہیں۔ لیکن تمام مسافر اب ٹرینوں سے باہر آ چکے ہیں، اور اب کوئی بھی شخص دونوں میں سے کسی بھی ٹرین کے اندر پھنسا ہوا نہیں ہے۔ ‘‘
سرکاری نشریاتی ادارے ڈینش براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ زخمیوں کی تعداد پانچ سے لے کر دس تک کے درمیان ہو سکتی ہے۔
ڈنمارک کو اپنے محفوظ ٹرانسپورٹ نظام پر فخر ہے، تاہم ماضی میں بھی ایسے حادثات پیش آ چکے ہیں۔
2019 میں ایک ٹرین حادثے میں آٹھ افراد ہلاک اور 16 زخمی ہو گئے تھے، جبکہ گزشتہ سال اگست میں جنوبی ڈنمارک میں جرمنی کے ساتھ سرحد کے قریب ایک ٹرین کے ایک ٹینکر سے ٹکرا کر پٹری سے اتر جانے کے باعث بھی ایک شخص ہلاک اور 27 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔
امن مذاکرات کی کوششوں پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے سائے
ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات کی بحالی کی کوششیں اس وقت مزید غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو گئیں، جب ایران نے آبنائے ہرمز میں تین مال بردار غیر ملکی بحری جہازوں پر فائرنگ کی اور دو کو قبضے میں لے لیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ میں فائر بندی کی مدت میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کرنے کی وجہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات کے لیے مزید وقت دینا ہے۔ پھر کل بدھ کے روز وائٹ ہاؤس نے بھی کہا کہ صدر ٹرمپ نے موجودہ توسیع شدہ سیزفائر کے خاتمے کے لیے کوئی نئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی۔
تاہم ایرانی حکام نے اس اقدام کی اب تک باضابطہ حمایت نہیں کی اور کہا ہے کہ نئے مذاکراتی دور میں شرکت کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ مکمل فائر بندی اسی صورت میں برقرار رہ سکتی ہے جب واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرے۔
ایران اس ناکہ بندی کو عملاﹰ جنگ ہی کے مترادف قرار دیتا ہے۔
باقر قاليباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’فائر بندی کی اتنی کھلی خلاف ورزی کے جاری رہتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ناممکن ہے۔‘‘
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ ایران نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ اسلام آباد میں نئے امن مذاکرات میں شامل ہوگا یا نہیں۔ تہران نے امریکہ پر ’بد نیتی سے کام کرنے‘ کا الزام بھی لگایا ہے۔
اس سے قبل مصر میں ایرانی سفارتی مشن کے سربراہ مجتبیٰ فردوسی پور نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا تھا کہ جب تک واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، کوئی ایرانی مذاکراتی وفد پاکستان نہیں جائے گا۔
خیال رہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں معمول کی تجارتی جہاز رانی معطل کر رکھی ہے، جس سے دنیا بھر کی معیشتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور مسلسل غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر انرجی سکیورٹی کے سلسلے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران جنگ میں فائر بندی کی مدت میں توسیع کے باوجود جمعرات 23 اپریل کو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ ہو گیا۔
ادارت: مقبول ملک