1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اسرائيل اور لبنان کے مابين دہائيوں بعد براہ راست مذاکرات

3 دسمبر 2025

اسرائيل اور لبنان کے مابين براہ راست مذاکرات کی قيادت سويلين نمائندگان کر رہے ہيں۔ مذاکرات ميں جنگ بندی ميں توسيع اور تعاون کا دائرہ کار بڑھانے پر بات چيت کی جا رہی ہے۔

https://p.dw.com/p/54hMO
Libanesisch-Israelische Grenze I Friedenstruppe der Vereinten Nationen (UNIFIL)
تصویر: Thaier Al-Sudani/REUTERS

اسرائيل اور لبنان کے مابين کئی دہائيوں بعد براہ راست مذاکرات ہو رہے ہيں۔ مذاکراتی عمل سے واقف ايک ذريعے نے نيوز ايجنسی اے ايف پی کو بتايا کہ ايرانی حمايت يافتہ لبنانی جنگجو گروپ حزب اللہ اور اسرائيل کے مابين يہ بات چيت جنگ بندی معاہدے کے تحت ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی  پندرہ رکنی سلامتی کونسل کے نمائندے بھی بیروت پہنچے ہوئے ہيں۔

اسرائيلی لبنانی سرحد پر لبنانی حدود ميں واقع النقورہ کے علاقے ميں ہونے والے ان مذاکرات ميں نومبر 2024ء ميں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کا جائزہ ليا جا رہا ہے۔ امکان ہے کہ اس ميں توسيع اور تعاون کا دائرہ کار بڑھانے پر بھی بات چيت کی جا رہی ہے۔

يہ مذاکرات منفرد کيوں ہيں اور ان کی اہميت کيا ہے؟

مشرق وسطیٰ کے ممالک اسرائيل اور لبنان کے مابين سفارتی تعلقات نہيں ہيں۔ واشنگٹن انتظاميہ ان دنوں بيروت حکومت پر حزب اللہ کو غير مسلح کرنے کے ليے دباؤ ڈال رہی ہے۔ يہی وجہ ہے کہ لبنان کے ليے امريکہ کی خصوصی مندوب مورگن اورٹيگس بھی بات چيت کا حصہ ہيں۔ ايک روز قبل وہ يروشلم ميں تھيں، جہاں انہوں نے اسرائيلی وزير خارجہ گيدون سعار سے ملاقات کی تھی۔

اب تک مذاکرات کے ليے فريقين عسکری نمائندگان کا سہارا ليتے آئے ہيں تاہم اسرائيل نے امسالہ مذاکراتی دور کے ليے سويلين نمائندوں کا اعلان کيا۔ اسی طرح لبنانی صدر جوزف عون نے بھی اعلان کيا کہ ان کے وفد کی قيادت سابق سفير سيمون کرم کر رہے ہيں۔

کيا يہ لبنان اور اسرائيل کے مابين سفارتی تعلقات کے قيام کا آغاز ہو سکتا ہے؟

اسرائيلی وزير اعظم بينجمن نيتن ياہو متعدد مرتبہ مطالبہ کر چکے ہيں کہ لبنان کو 'ابراہيمی معاہدے‘ کا حصہ بننا چاہيے۔ امریکی قیادت میں اس معاہدے کے تحت چند مسلم عرب ممالک نے اسرائيل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کيے۔

اسرائيلی وزير اعظم کے دفتر سے جاری کردہ ایک بيان ميں کہا گيا ہے کہ لبنانی وفد سے ملاقات کے ليے سويلين اہلکاروں کا انتخاب دونوں ممالک کے مابين بہتر تعلقات کی سمت ميں ايک کوشش ہے۔

Libanon Beirut 2025 | Libanesische Soldaten nach israelischem Angriff auf ranghohes Hisbollah-Mitglied
تصویر: Anonymous/Middle East Images/IMAGO

لبنان اور اسرائيل کے پيچيدہ تعلقات

لبنان اب بھی اسرائیل کے ساتھ باضابطہ طور پر حالتِ جنگ میں ہے۔ بيروت حکومت اسرائیلی شہریوں سے رابطوں کو جرم قرار دیتی ہے۔ دونوں ممالک کے اتار چڑھاؤ سے بھرپور تعلقات میں سويلين حکام کی ملاقاتیں نہایت غیر معمولی ہیں۔

دوسری جانب جنگجو گروپ حزب اللہ کے میڈیا دفتر نے مذاکرات کے دائرہ کار میں ممکنہ توسیع سے متعلق نيوز ايجنسی روئٹرز کے سوالات کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔ اس ایرانی حمایت یافتہ گروپ نے بارہا اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کو 'جال‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔

اسرائیل اور لبنان نے 2024ء میں امریکی ثالثی کے نتيجے ميں ایک جنگ بندی معاہدہ کیا تھا، جس سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک سال سے زیادہ جاری رہنے والی جھڑپيں ختم ہو گئی تھيں۔ تب سے دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

اسرائیل نے فضائی حملے جاری رکھے، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا جواب دیتے ہوئے  اور اس کی طرف سے  فوجی صلاحیتیں بحال کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے ليے کيے گئے۔ دوسری جانب بیروت حکومت کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی بمباری اور  گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہیں۔

کیا شام اور لبنان اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں؟

عاصم سليم: روئٹرز اور اے ايف پی کے ساتھ

ادارت: عاطف بلوچ/ امتیاز احمد