بیروت: حزب اللہ کے چیف آف اسٹاف اسرائیلی حملے کا نشانہ
وقت اشاعت 23 نومبر 2025آخری اپ ڈیٹ 23 نومبر 2025
آپ کو یہ جاننا چاہیے
* پاکستان میں ضمنی انتخابات: 13 نشستوں پر پولنگ سخت سکیورٹی میں جاری
* امریکی بائیکاٹ کے باوجود G20 اعلامیہ منظور
* مارکو روبیو یوکرین منصوبے پر بات چیت کے لیے جنیوا پہنچ گئے
* غزہ میں حماس کے کمانڈر کو ہلاک کر دیا، اسرائیلی فوج
* یمن میں حوثی عدالت نے 17 افراد کو جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنا دی
* یوکرین میں پائیدار امن کے لیے سفارت کاری ناگزیر، ایردوآن
* حماس کا وفد قاہرہ میں، نیتن یاہو کا متعدد محاذوں پر کارروائی جاری رکھنے پر زور
* یوکرین امن منصوبے میں ہمارا مرکزی کردار یقینی بنایا جائے، فان ڈیئر لائن
* بیروت میں اسرائیلی حملہ: حزب اللہ کے چیف آف اسٹاف کو نشانہ بنایا گیا
بیروت میں اسرائیلی حملہ: حزب اللہ کے چیف آف اسٹاف کو نشانہ بنایا گیا
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیجمن نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق اسرائیل نے اتوار کو لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات میں ایران نواز حزب اللہ کے چیف آف اسٹاف کو نشانہ بنایا۔
یہ حملہ کئی ماہ بعد بیروت کے جنوبی علاقے میں کیا گیا ہے، جو حزب اللہ کے رہنماؤں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیلی اور لبنانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق حملے کا ہدف حزب اللہ کا فوجی عہدیدار علی طباطبائی تھا۔ نیتن یاہو کے دفتر نے یہ واضح نہیں کیا کہ طباطبائی ہلاک ہوا یا نہیں۔
ایک سینئر امریکی اہلکار نے بتایا کہ اسرائیل نے حملے سے قبل امریکہ کو اطلاع نہیں دی تھی۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کو حملے کے فوراً بعد آگاہ کیا گیا جبکہ ایک اور اہلکار نے کہا کہ امریکہ کو کئی دن پہلے علم تھا کہ اسرائیل لبنان میں حملے بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اہم حزب اللہ رہنما
امریکہ نے سن 2016 ء میں طباطبائی پر پابندیاں عائد کی تھیں اور اسے حزب اللہ کا اہم فوجی رہنما قرار دیتے ہوئے اس کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 50 لاکھ ڈالر تک انعام کی پیشکش کی تھی۔
یہ حملہ بیروت کےجنوبی علاقے کی ایک مرکزی سڑک پر ہوا، جہاں رہائشیوں نے بتایا کہ دھماکے سے پہلے انہوں نے جنگی طیاروں کی آواز سنی۔ خوف کے باعث لوگ عمارتوں سے باہر نکل آئےکیونکہ انہیں مزید حملوں کا خدشہ تھا۔
طبی ذرائع کے مطابق حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور دو درجن زخمی ہوئے، جنہیں قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔ حزب اللہ نے فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
یوکرین امن منصوبے میں ہمارا مرکزی کردار یقینی بنایا جائے، فان ڈیئر لائن
یورپی کمیشن کی سربراہ ارزولا فان ڈیئر لائن نے اتوار کو کہا کہ یوکرین کے امن منصوبے میں یورپی یونین کے کردار کی ’’مرکزی حیثیت‘‘ کو مکمل طور پر ظاہر ہونا چاہیے۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا، ’’کسی بھی قابلِ اعتماد اور پائیدار امن منصوبے کا اولین مقصد قتل و غارت کو روکنا اور جنگ کو ختم کرنا ہونا چاہیے ، تاکہ مستقبل میں کسی ممکنہ تنازعے کا بیج ہی نہ بویا جا سکے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’یوکرین کو اپنی تقدیر کا انتخاب کرنے کی آزادی اور حق خودمختاری حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے اپنا مستقبل یورپ کے ساتھ وابستہ کرنےکا انتخاب کیا ہے۔‘‘
فان ڈیئر لائن کے مطابق اس منصوبے میں یوکرین کی تعمیرِ نو، یورپی یونین کی سنگل مارکیٹ میں انضمام اور بالآخر بلاک کی مکمل رکنیت شامل ہونی چاہیے۔
یورپ اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجویز کردہ امن منصوبے پر ہونے والے مذاکرات میں اسے نظر انداز نہ کیا جائے۔
یورپی کمیشن کی سربراہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب یورپی اور یوکرینی اعلیٰ نمائندوں نے اتوار 23 نومبر کو جنیوا میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یوکرین جنگ ختم کرنے کے منصوبے پر بات چیت سے قبل آپس میں بات چیت کی۔
یوکرینی وفد کے سربراہ اور صدارتی چیف آف اسٹاف اینڈری یرماک نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ انہوں نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے قومی سلامتی مشیروں کے ساتھ پہلی ملاقات کی ہے۔ اتحادی ممالک کییف کے ساتھ مل کر اس منصوبے میں ترمیم کے لیے کوشش کر رہے ہیں، جسے ماسکو کے حق میں سمجھا جا رہا ہے۔
روبیو کی مذاکرات میں شرکت امریکی آرمی سکریٹری ڈان ڈرسکول اور صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ متوقع ہے۔
یرماک نے کہا، ’’اگلی ملاقات امریکی وفد کے ساتھ ہے۔ ہم انتہائی تعمیری موڈ میں ہیں۔ ہم یوکرین کے لیے پائیدار اور منصفانہ امن حاصل کرنے کے لیے مل کر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘
اتوار کو جنیوا میں یوکرینی اور امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات میں یورپی کمیشن کی سربراہ فان ڈیئر لائن کے نائب بیورن زائبرٹ یونین کی نمائندگی کریں گے۔
حماس کا وفد قاہرہ میں، نیتن یاہو کا متعدد محاذوں پر کارروائی جاری رکھنے پر زور
فلسطینی اسلامی گروپ حماس کا ایک وفد اتوار کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچا ہے تاکہ غزہ میں تشدد کے تازہ واقعات میں اضافے کے بعد مذاکرات میں حصہ لے سکے۔
اطلاعات کے مطابق وفد کی قیادت حماس کے بیرونِ ملک کے لیے سب سے اعلیٰ عہدیدار خلیل الحیا کر رہے ہیں۔ مذاکرات میں ثالث ممالک مصر، قطر اور امریکہ کے نمائندے شامل ہوں گے، جو اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازعے پر بات کریں گے۔
سعودی ٹی وی چینل ’’الحدث‘‘ کے مطابق بات چیت کا محور حالیہ کشیدگی ہوگا، جو 10 اکتوبر کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کے باوجود بڑھ گئی ہے۔ ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کی جانب پیش رفت پر بھی غور کیا جائے گا۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے حال ہی میں اس منصوبے کو محفوظ بنانے کے لیے امریکہ کی پیش کردہ قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
غزہ میں بار بار ہونے والے پرتشدد واقعات نے اس کمزور جنگ بندی کے تسلسل پر خدشات بڑھا دیے ہیں۔ حماس کے زیرِ کنٹرول غزہ کی صحت کے حکام کے مطابق صرف ہفتے کے روز اسرائیلی حملوں میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہوئے۔
متعدد محاذوں پر فوجی کارروائی جاری رکھیں گے، نیتن یاہو
اسرائیلی فوج نے کہا کہ ایسے فلسطینیوں کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور فوجیوں پر حملوں کے جواب میں تازہ حملےکیے گئے، جو اب بھی غزہ کے نصف سے زیادہ حصے پر قابض ہیں۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے یروشلم میں کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے دوران کہا کہ اسرائیل حماس اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ ملیشیا کے دوبارہ ابھرنے کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
دریں اثناء نیتن یاہو نے اتوار کو اس امر پر زور دیا کہ اسرائیل حزب اللہ کو لبنان میں دوبارہ منظم ہونے اور حماس کو غزہ میں ایسا کرنے سے روکنے کے لیے ’’ہر ضروری اقدام‘‘ کرے گا۔
گزشتہ ہفتے کے دوران اسرائیل نے پڑوسی ملک لبنان میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی فوج نے ہفتے کو کہا کہ اس نے حزب اللہ کے لانچرز اور فوجی مقامات پر حملے کیے ہیں۔
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق ہفتے کو اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم بائیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے جبکہ حماس اوراسرائیل نے ایک بار پھر 10 اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات کا تبادلہ کیا۔
نیتن یاہو نے کابینہ کے اجلاس کے آغاز پر کہا، ’’ہم متعدد محاذوں پر دہشت گردی کو نشانہ بنانا جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘
یوکرین میں پائیدار امن کے لیے سفارت کاری ناگزیر، ایردوآن
ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں سے کہا ہے کہ یوکرین میں جنگ ختم کرنے کے لیے ’’تمام سفارتی وسائل‘‘ بروئے کار لائے جائیں تاکہ منصفانہ اور دیرپا امن قائم ہو سکے۔ ترک صدر کے دفتر کے مطابق یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب مختلف ممالک امریکہ کے تیار کردہ یوکرین امن منصوبے پر بات چیت کر رہے ہیں۔
ترکی کا کردار
نیٹو کے رکن ترکی نے جنگ کے دوران کییف اور ماسکو دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات قائم رکھے ہیں۔ انقرہ نے یوکرین کو عسکری امداد فراہم کی لیکن ماسکو پر مغربی پابندیوں میں شامل ہونے سے انکار کیا۔
ترکی نے فریقین کے درمیان تین مرحلوں پر امن مذاکرات کی میزبانی کی اور رہنماؤں کی ملاقات کے لیے بھی پیشکش کی ہے۔
یوکرین امن منصوبے اہمیت
یوکرین میں روسی جارحیت نے یورپ اور عالمی سیاست میں شدید کشیدگی پیدا کر رکھی ہے۔ ایسے میں ترکی کی سفارتی کوششیں اس تنازعے کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، خاص طور پر اس وقت جب امریکہ کا نیا امن منصوبہ زیرِ بحث ہے، جس پر کییف اور یورپی اتحادیوں نے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
یمن میں حوثی عدالت نے 17 افراد کو جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنا دی
یمن کے دارالحکومت صنعاء میںحوثی باغیوں کے زیرِ کنٹرول عدالت نے ہفتے کی شام دیر گئے 17 افراد کو امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنا دی۔ دفاعی ٹیم کے سربراہ عبدالباسط غازی کے مطابق ایک خاتون کو 10 سال قید کی سزا دی گئی جبکہ دو افراد کو بری کر دیا گیا۔ ان فیصلوں کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی ہے۔
حوثی نیوز ایجنسی ’’صبا‘‘ کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے حوثی رہنماؤں کے ٹھکانوں، ان کی نقل و حرکت اور میزائل سائٹس سے متعلق معلومات ’دشمنوں‘ کو فراہم کیں۔
ایک الگ کیس میں، حوثیوں نے مقامی امدادی کارکنوں کو بھی جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا ہے۔ غازی نے بتایا کہ ان کارکنوں کو تفتیش کے دوران اہلِ خانہ سے رابطے کی اجازت نہیں دی گئی، تاہم وکیل رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
حوثی ملیشیا اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی امدادی اداروں کو نشانہ بناتی رہی ہے۔ اگست سے صنعاء میں ان کے دفاتر پر چھاپے مارے گئے اور کئی ملازمین کو گرفتار کیا گیا۔ گروپ کے رہنما عبدالملک الحوثی نے اقوامِ متحدہ پر ’’جاسوسی اور جارحانہ سرگرمیوں‘‘ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔
یہ کریک ڈاؤن اس وقت شروع ہوا جب رواں سال اگست کے آخر میں اسرائیلی حملے میں حوثیوں کے اس وقت کے وزیرِاعظم احمد غالب الرحاوی اور نو وزراء ہلاک ہو گئے تھے۔
اکتوبر 2023 ء میں غزہ تنازعہ شروع ہونے کے بعد حوثیوں نے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جنہیں انہوں نے فلسطینیوں کی حمایت کے طور پر پیش کیا۔ حوثی اس وقت یمن کے شمالی حصے اور صنعاء پر قابض ہیں۔
غزہ میں حماس کے کمانڈر کو ہلاک کر دیا، اسرائیلی فوج
اسرائیلی فوج نے اتوار کو کہا کہ اس نے غزہ میں حماس کے ایک مقامی کمانڈر کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ اسرائیل اور فلسطینی عسکری گروپ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات کا تبادلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی دفاعی افواج کے بیان میں کمانڈر کی شناخت علاء الحدیدی کے طور پر کی گئی، جو حماس کے پروڈکشن ہیڈکوارٹر میں سپلائی کے سربراہ تھے۔ فوج کے مطابق، وہ ہفتے کو غزہ پٹی میں کیے گئے حملوں میں مارے گئے۔
حماس نے اس ہلاکت پر اب تک کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
اسرائیلی فوج نے ہفتے کو غزہ پر فضائی حملے کیے، جنہیں وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے اس اقدام کا ردعمل قرار دیا کہ حماس نے ایک جنگجو کو اسرائیلی کنٹرول والے علاقے میں بھیجا تھا۔ نیتن یاہو کے مطابق ان حملوں میں حماس کے پانچ سینیئر ارکان مارے گئے۔
اُدھر غزہ کی صحت کے حکام نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم 20 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔
مارکو روبیو یوکرین منصوبے پر بات چیت کے لیے جنیوا پہنچ گئے
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اتوار کو جنیوا پہنچے، جہاں امریکی، یوکرینی اور یورپی حکامصدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یوکرین جنگ ختم کرنے کے منصوبے پر بات چیت کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔
روبیو نے ہفتے کو کہا تھا کہ روس کی جنگ ختم کرنے کے لیے تازہ ترین امن منصوبہ امریکہ نے تیار کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان دو سینیٹرز کے پچھلے بیانات سے متصادم ہے جنہوں نے اسے زیادہ تر روسی تجویز قرار دیا تھا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یہ منصوبہ ’’جاری مذاکرات کے لیے ایک مضبوط فریم ورک‘‘ ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ امریکہ نے تیار کیا، جس میں ’’روس کی رائے‘‘ اور ’’یوکرین کی سابقہ اور نئی تجاویز‘‘ شامل ہیں۔
اس سے قبل ہفتے کو ریپبلکن سینیٹر مائیک راؤنڈز نے کینیڈا کے شہر ہیلی فیکس میں ایک سکیورٹی فورم سے خطاب میں کہا کہ امریکہ صرف اس تجویز کا وصول کنندہ تھا، جو ایک امریکی ثالث کو دی گئی تھی۔
انہوں نے کہا تھا: ’’یہ ہماری سفارش نہیں، یہ ہمارا امن منصوبہ نہیں ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے روبیو سے ہوئی ایک ٹیلی فون کال کا حوالہ بھی دیا تھا۔
سینیٹر اینگس کنگ نے مزید کہا کہ 28 نکاتی منصوبہ ’’بنیادی طور پر روسیوں کی خواہشات کی فہرست‘‘ ہے اوریوکرین اور روس کے درمیان مسائل کو محدود کرنے کے لیے ایک ’’رہنما اصول‘‘ فراہم کرتا ہے۔
امریکی میڈیا میں گردش کرنے والے مسودے کے مطابق اس منصوبے میں کییف سے بڑے پیمانے پر رعایتیں طلب کی گئی ہیں جبکہ کئی نکات روس کے حق میں ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں یوکرین پر زور دیا تھا کہ وہ جمعرات تک اس تجویز کو قبول کرے، لیکن بعد میں کہا کہ یہ حتمی پیشکش نہیں ہو سکتی۔
یہ مسودہ کییف اور یورپی اتحادیوں کو سخت تشویش میں ڈال چکا ہے۔ اتوار کو جرمنی، فرانس، برطانیہ، یورپی یونین، امریکہ اور یوکرین کے حکام جنیوا میں ملاقات کر رہے ہیں تاکہ اس منصوبے پر بات چیت کر سکیں۔ مغربی اتحادی ان نکات پر مذاکرات کرنا چاہتے ہیں جو یوکرین کے لیے ناقابل قبول ہیں۔
امریکی بائیکاٹ کے باوجود G20 اعلامیہ منظور
عالمی رہنماؤں نے جنوبی افریقہ میںمنعقدہ G20 سربراہی اجلاس کے آغاز پر ہی ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے 122 نکاتی اعلامیہ منظور کر لیا، حالانکہ امریکہ نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے۔
اپنے افتتاحی خطاب میں جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے کہا، ’’ہمیں کسی ایسی چیز کی اجازت نہیں دینی چاہیے جو اولین افریقی G20 صدارت کی قدر، وقار اور اثر کو کم کرے۔‘‘
جنوبی افریقی حکام نے کہا کہ واشنگٹن نے ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ امریکی عدم موجودگی میں اعلامیہ منظور نہ کریں۔
دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کے باوجود، رامافوسا نے دلیل دیکہ G20 اب بھی بین الاقوامی تعاون میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اجلاس کے میزبان نے کہا،’’جی ٹوئنٹی کثیرالجہتی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ تسلیم کرتا ہے کہ جن چیلنجز کا ہم سامنا کر رہے ہیں، وہ صرف تعاون، اشتراک اور شراکت داری کے ذریعے ہی حل ہو سکتے ہیں۔‘‘
امریکی بائیکاٹ اور دباؤ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اجلاس میں امریکی وفد نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا۔
جنوبی افریقی حکام کے مطابق واشنگٹن نے اعلامیہ منظور نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا، لیکن اس کے باوجود اس کی منظوری دے دی گئی۔
اعلامیہ کے اہم نکات
ماحولیاتی تبدیلی:
عالمی سطح پر سرمایہ کاری اور کلائمیٹ فنانس کو "اربوں سے کھربوں" تک بڑھانے پر زور۔
COP30 مذاکرات کے اختتام کے ساتھ ہم آہنگی۔
مالیاتی نظام کی اصلاح:
کم آمدنی والے ممالک کے قرضوں سے نمٹنے کے لیے عالمی مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات۔ انتہائی امیر افراد پر ٹیکس لگانے کے بارے میں ریو ڈی جینیرو میں منعقد ہونے والے اجلاس کے اعلامیے کے مقابلے میں اس بار زیادہ زوردار الفاظ کا استعمال نہیں کیا گیا۔
امن و سلامتی
یوکرین، سوڈان، کانگو اور فلسطینی علاقوں میں "جامع اور دیرپا امن" کی اپیل کی گئی۔
یوکرین پر اختلافات
اگرچہ 30 صفحات پر مشتمل اعلامیے کے متن میں یوکرین کا ذکر صرف ایک بار آیا، لیکن اجلاس کے دوران مغربی رہنما امریکی تجویز کردہ امن منصوبے پر بات چیت کے لیے سرگرم رہے، جو یوکرین کی جنگ کو ایسے شرائط پر ختم کرنے کا مقصد رکھتا ہے جو روس کے حق میں سمجھے جا رہے ہیں۔
جنوبی افریقہ پہلی بار G20 کی صدارت کر رہا ہے، جسے صدر سیرل رامافوسا نے ’’افریقہ کے لیے تاریخی لمحہ‘‘ قرار دیا۔
پاکستان میں ضمنی انتخابات: 13 نشستوں پر پولنگ سخت سکیورٹی میں جاری
پاکستان میں اتوار 23 نومبر کو قومی اور پنجاب اسمبلی کی 13 نشستوں پر ضمنی انتخابات کی پولنگ جاری ہے جو شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔
زیادہ تر نشستیں اس وقت خالی ہوئیں جب پی ٹی آئی کے ارکان کو 9 مئی 2023 کے پرتشدد فسادات میں مبینہ کردار پر نااہل قرار دیا گیا۔
نشستیں کیوں خالی ہوئیں؟
زیادہ تر نشستیں اس وقت خالی ہوئیں جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان کو 9 مئی 2023 کے پرتشدد فسادات میں مبینہ کردار پر نااہل قرار دیا گیا۔ یہ فسادات سابق وزیرِاعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد پھوٹ پڑے تھے۔
کن حلقوں میں پولنگ ہو رہی ہے؟
قومی اسمبلی کی چھ نشستوں پر پولنگ جاری ہے، جن میں ایک خیبر پختونخوا میں ہے:
NA-18 (ہری پور)
جبکہ باقی پنجاب میں ہیں:
NA-96 (فیصل آباد)
NA-104 (فیصل آباد)
NA-129 (لاہور)
NA-143 (ساہیوال)
NA-185 (ڈیرہ غازی خان)
پنجاب اسمبلی کی سات نشستوں پر بھی ووٹنگ ہو رہی ہے، جن میں لاہور، فیصل آباد اور دیگر اضلاع شامل ہیں۔
سکیورٹی انتظامات
الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے مطابق، فوجی اہلکار حساس ترین پولنگ اسٹیشنز کے باہر تعینات ہیں جبکہ دیگر اسٹیشنز پر فوری ردعمل کے لیے تیسرے درجے کے طور پر موجود رہیں گے۔ اہلکاروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 245 اور قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔