یورپی یونین: یوکرین کے لیے 105 ارب ڈالر کا قرض منظور
19 دسمبر 2025
یہ معاہدہ برسلز میں ہونے والے یورپی یونین سربراہی اجلاس میں ایک دن سے زائد مذاکرات کے بعد طے پایا۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ قرض آئندہ دو برسوں کے دوران یوکرین کی فوجی اور معاشی ضروریات پوری کرے گا۔
یورپی یونین کے سربراہ انتونیو کوسٹا نے ایکس پر لکھا،''ہم نے عزم کیا، ہم نے فراہم کر دیا‘‘ اور اعلان کیا کہ یہ قرض یورپی یونین کے مشترکہ بجٹ کی ضمانت کے تحت دیا جائے گا۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے یورپی رہنماؤں پر زور دیا تھا کہ تقریباً 246 ارب ڈالر کے منجمد روسی اثاثے استعمال کیے جائیں، لیکن بیلجیم، جہاں اس رقم کا بڑا حصہ رکھا گیا ہے، نے ذمہ داری کی مشترکہ تقسیم پر ضمانتیں مانگیں، جو دیگر ممالک کے لیے قابلِ قبول نہ تھیں۔
جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے یوکرین کو 105 ارب کا قرض دینے کے یورپی کونسل کے فیصلے کو ''جنگ کے خاتمے کے لیے ایک فیصلہ کن پیغام‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بلا سود قرض آئندہ دو برسوں کے لیے یوکرین کی فوجی اور بجٹ سے متعلق ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔ میرس کے مطابق،''روسی صدر ولادیمیر پوٹن تبھی رعایتیں دیں گے جب انہیں یہ احساس ہو جائے گا کہ ان کی جنگ فائدہ مند ثابت نہیں ہو رہی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''اگر روس ہرجانہ ادا نہیں کرتا تو ہم، بین الاقوامی قانون کے مکمل احترام کے ساتھ، قرض کی واپسی کے لیے منجمد روسی اثاثوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔
بیلجیم کے وزیرِ اعظم بارٹ ڈی ویور نے جمعے کے اوائل میں کہا کہ منجمد روسی اثاثوں کے بجائے قرض کے ذریعے یوکرین کو مالی مدد دینے کے فیصلے سے ''افراتفری اور تقسیم‘‘ سے بچا لیا گیا۔
انہوں نے کہا، ''ہم متحد رہے۔‘‘
یورپی یونین میں منجمد روسی ریاستی اثاثوں کو یوکرین کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ کئی ہفتوں سے شدید بحث کا موضوع بنا ہوا تھا۔ اس وقت یورپی یونین میں روسی مرکزی بینک کے تقریباً 246 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد حالت میں موجود ہیں۔
’بڑی پیش رفت‘
فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے یوکرین کی مالی معاونت سے متعلق اس معاہدے کو ایک بڑی پیش رفت قرار دیا۔
انہوں نے یوکرین کو بلا سود قرض دینے کے فیصلے کو، جو صرف اسی صورت میں واپس کیا جائے گا جب روس ہرجانے ادا کرے، یوکرین اور اس کی جنگی کوششوں کی مالی معاونت کے لیے ''سب سے حقیقت پسندانہ اور عملی طریقہ‘‘ قرار دیا۔
ماکروں نے مزید کہا کہ اس معاہدے میں ایک ایسا طریقۂ کار بھی شامل ہے جس کے تحت تین ممالک، ہنگری، سلوواکیہ اور جمہوریۂ چیک، کو کسی بھی ممکنہ مالی نقصان سے تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں یورپ کے لیے آنے والے ہفتوں میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ دوبارہ رابطہ قائم کرنا ''مفید‘‘ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا، ''میرا ماننا ہے کہ یورپی اور یوکرینی مفاد میں یہ ہے کہ ہم اس گفتگو کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے درست فریم ورک تلاش کریں۔‘‘
مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری
حالیہ ہفتوں میں امریکہ کی جانب سے روسی اور یوکرینی حکام کے ساتھ مذاکرات میں تیزی آئی ہے، تاہم یہ بات چیت فروری 2022 میں روس کی جانب سے یوکرین پر مکمل حملے کے آغاز کے بعد سے جاری جنگ میں کوئی نمایاں تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ امریکی اور روسی حکام اس ہفتے کے آخر میں میامی میں امن منصوبے پر مزید بات چیت کے لیے ملاقات کریں گے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ کریملن کے نمائندے کیرل دمتریئیف میامی میں ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کریں گے۔
ادھر صدر زیلنسکی نے اعلان کیا کہ یوکرین اور امریکہ کے وفود جمعہ اور ہفتے کو امریکہ میں نئی بات چیت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ واشنگٹن یوکرین کو کسی اور ممکنہ حملے سے بچانے کے لیے فراہم کی جانے والی ضمانتوں کے بارے میں مزید تفصیلات دے۔
ادارت: صلاح الدین زین