علی خامنہ ای مارے گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
وقت اشاعت 28 فروری 2026آخری اپ ڈیٹ 28 فروری 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
علی خامنہ ای مارے گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
ایسے بڑھتے اشارے ہیں کہ خامنہ ای نہیں رہے، نیتن یاہو
یورپی یونین کی پاکستان اور افغانستان سے تحمل کی اپیل
حملوں کا جواب دیا جائے گا، ایران
جیٹ طیارہ مار گرانے کے افغان دعوے غلط ہیں، پاکستان
ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملے
جنگ کا دائرہ وسیع ہوا تو نتائج سنگین ہوں گے، افغان طالبان
امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو دفاع کا حق حاصل ہے
علی خامنہ ای مارے گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای مارے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا، ’’یہ صرف ایران کے عوام کے لیے ہی نہیں بلکہ عظیم امریکیوں اور دنیا کے بہت سے ممالک کے ان لوگوں کے لیے بھی انصاف ہے، جو خامنہ ای اور خون کے پیاسے ان کے گروہ کے ہاتھوں قتل یا معذور ہوئے۔‘‘
امریکی صدر نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ایرانی انقلابی گارڈز اور پولیس پرامن طور پر محب وطن ایرانی عوام میں ضم ہو جائیں گے، “یوں انہیں معافی مل سکتی ہے، دوسری صورت میں وہ بھی مارے جائیں گے۔”
تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا، ’’ایران پر بمباری اگلے پورے ہفتے، یا جب تک ضروری ہوا، بلا تعطل جاری رہے گی تاکہ مشرق وسطیٰ اور درحقیقت پوری دنیا میں امن کے ہمارے مقصد کو حاصل کیا جا سکے۔‘‘
ایسے بڑھتے اشارے ہیں کہ خامنہ ای نہیں رہے، نیتن یاہو
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایسے اشارے بڑھتے جا رہے ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای مارے گئے ہیں۔
نیتن یاہو نے ہفتے کی رات اپنے ایک بیان میں کہا، ’’ہم نے خامنہ ای کی رہائش گاہ تباہ کر دی ہے۔ ایسے بڑھتے ہوئے اشارے موجود ہیں کہ یہ آمر اب زندہ نہیں۔‘‘
اپنے بیان میں نیتن یاہو نے ایرانی عوام سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ سڑکوں پر نکلیں اور ملک کی موجودہ سیاسی قیادت کا تختہ الٹ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ حقیقی امن کا باعث بنے گی۔
ایرانی میڈیا نے خامنہ ای کی ہلاکت کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ قبل ازیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ جہاں تک انہیں علم ہے، ملکی سپریم لیڈر اور صدر دنوں زندہ ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز نے بھی امریکی عسکری ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر ایرانی سپریم لیڈر ہفتے کو تہران میں اپنے رہائشی کمپاؤنڈ پر ہونے والی بمباری میں مارے گئے۔ ایرانی خبر رساں اداروں تسنیم اور مہر نے رپورٹ کیا کہ سپریم لیڈر خامنہ ای ’’میدان کی قیادت میں ثابت قدم اور مضبوط‘‘ ہیں۔
فوجی ذرائع کے مطابق ایران پر حملہ اسرائیلی فضائیہ کی تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن تھا۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز تقریباً 200 لڑاکا طیاروں نے لگ بھگ 500 اہداف کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوج کا موقف ہے کہ یہ “پیشگی تدارک کے لیے کیا جانے والا حملہ‘‘ تھا۔
واضح رہے کہ ہفتے کی صبح اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد امریکہ نے بھی مختلف ایرانی اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان امریکی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔
ایران پر حملوں سے قبل کئی ماہ تک تیاری کی گئی، اسرائیلی فوج
اسرائیل کی فوج کے مطابق ہفتے کی صبح امریکا کے ساتھ کیے گئے مشترکہ حملوں کے دوران اسرائیلی فورسز نے تہران میں متعدد مقامات پر بیک وقت بمباری کرکے ایرانی قیادت کے ارکان کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسے یقین ہے کہ ان حملوں میں ایران کے کئی سینئر حکام ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا کہ ایسے مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ’ایران کی سیاسی اور سکیورٹی قیادت کے اعلیٰ سطح کے نمائندے جمع تھے‘۔
مزید کہا گیا کہ ان حملوں کی مہینوں تک منصوبہ بندی کی گئی تھی اور اس میں فوجی انٹیلی جنس کی مدد بھی شامل تھی، جس کا مقصد یہ تھا کہ ایسے وقت کا چناؤ کیا جائے، ’جب اہم شخصیات ایک جگہ جمع ہوں۔‘‘
اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا کہ دن کے وقت حملہ کرنے کا فیصلہ دانستہ طور پر کیا گیا کیونکہ ایرانی کمانڈروں اور اعلیٰ رہنماؤں کے ٹھکانوں کی درست نشاندہی کرنے میں کامیابی حاصل ہو چکی تھی۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ اس حملے کے ابتدائی اثرات کا جائزہ لے رہی ہے اور خود کو اس امکان کے لیے تیار کر رہی ہے کہ یہ تنازعہ ایران سے آگے کسی بڑے علاقائی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
تہران سے آنے والی ایرانی رپورٹس کے مطابق اہم ایرانی رہنما حملوں کے باوجود زندہ ہیں۔
اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد ایران نے بھی حملے شروع کر دیے ہیں۔ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات میں قائم چار امریکی فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے گئے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی ایران بھر میں امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔
ایک اسکول پر اسرائیلی حملے میں تقریبا 70 طالبات ہلاک، ایرانی میڈیا
ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا کہ ملک کے جنوبی حصے میں ایک اسکول پر ہونے والے حملے میں 70 طالبات ہلاک ہو گئی ہیں۔
ضلعی گورنر کے مطابق آج صبح اسرائیلی میزائل حملے میں میناب کاؤنٹی کے ایک گرلز پرائمری اسکول کو نشانہ بنایا گیا اور اس کے نتیجے میں ستر بچیاں ماری گئیں جبکہ نوے زخمی ہوئیں۔ بتایا گیا ہے حملے کے وقت اس اسکول میں کم از کم ایک سو ستر بچیاں موجود تھیں۔
ادھر اسرائیلی فوج نے کہا کہ ایران میں ’’سینکڑوں فوجی اہداف‘‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں مغربی ایران میں میزائل لانچرز بھی شامل ہیں۔ یہ حملے امریکا کے ساتھ مل کر شروع کی جانے والی بڑی فوجی کارروائی کے تحت کیے گئے۔
اسرائیلی دفاعی فوج نے ٹیلیگرام پر بتایا کہ مغربی ایران میں اہداف پر حملے ابھی بھی جاری ہیں۔ امریکا اور اسرائیل کی اس مشترکہ فوجی کارروائی کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر میزائلوں کی بوچھاڑ کر دی ہے اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
’جوابی کارروائی‘ میں پاکستان کے دو فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، افغان طالبان
افغان طالبان کی وزارت دفاع نے کہا کہ اس نے جمعے کی رات دو پاکستانی فوجی اڈوں پر فضائی حملے کیے۔ وزارت کے مطابق یہ کارروائیاں پاکستان کی جانب سے ’’بار بار فضائی جارحیت‘‘ کے جواب میں کی گئیں۔
ہفتے کے روز جاری کیے گئے اس بیان میں کہا گیا کہ میـران شاہ اور سپین وام میں موجود پاکستانی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔
افغان طالبان کے ایک ترجمان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ صوبہ ننگرہار میں پاکستانی فوج کا ایک لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا ہے اور اس کا پائلٹ زندہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تاہم پاکستان نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
افغان طالبان نے ایک بار پھر پاکستان کے اس الزام کو مسترد کر دیا کہ وہ پاکستانی طالبان (TTP) کی حمایت کرتے ہیں۔
افغان وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے قطر، ترکی اور سعودی عرب کی ثالثی پر مبنی سفارتی کوششوں میں شامل ہے۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا کہ پاکستان نے بارہا افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور شہری علاقوں پر بمباری کی، جس میں بے گناہ افراد، بشمول بچے ہلاک ہوئے۔
اقوام متحدہ نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ ہفتے مشرقی افغانستان میں پاکستانی حملوں میں کم از کم 13 عام شہری ہلاک ہوئے۔
اسی ماہ جاری کردہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق سن 2025 کی آخری سہ ماہی میں افغانستان میں ہوئے حملوں میں کم از کم 70 شہری ہلاک جبکہ 478 زخمی ہوئے۔
ایران پر حملے، روس اور ناروے کی سخت مذمت
روس کی وزارت خارجہ نے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں اقوام متحدہ کے ایک خودمختار اور آزاد رکن ملک کے خلاف کی گئی ’’ایک منصوبہ بند اور بلا اشتعال مسلح جارحیت‘‘ قرار دیا ہے۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر فوجی کارروائی روکی جائے اور سفارتی عمل کی طرف واپسی کی جائے۔
ٹیلیگرام پر جاری بیان میں وزارت نے واشنگٹن اور تل ابیب پر الزام لگایا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش کو ’’ڈھال بنا کر‘‘ دراصل حکومت کی تبدیلی کا ہدف رکھے ہوئے ہیں۔
ناروے نے بھی ان حملوں کی مذمت کی ہے۔ اس یورپی ملک کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران پر اسرائیلی حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور بحران کا حل سفارت کاری کے ذریعے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا، ’’اسرائیل اس حملے کو پیشگی کارروائی قرار دے رہا ہے مگر بین الاقوامی قانون کے مطابق اس کے لیے فوری اور واضح خطرے کا موجود ہونا ضروری ہے، جو اس صورت میں ثابت نہیں کیا گیا۔‘‘
ادھر یورپی کمیشن اور یورپی کونسل کے صدو نے مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی سے خبردار کر دیا ہے۔ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ایران میں ہونے والی تازہ پیش رفت نہایت تشویشناک ہے۔
اس بیان میں مزید کہا گیا، ’’ہم تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ ضبط، شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کی مکمل پاسداری کی اپیل کرتے ہیں۔‘‘
یورپی یونین نے ایران پر وسیع پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام سے نمٹنے کے لیے سفارتی کوششوں کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔
اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد ایران نے بھی حملے شروع کر دیے
ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات میں قائم چار امریکی فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے گئے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی ایران بھر میں امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے حوالے سے بتایا ہے کہ نشانہ بنائے گئے مقامات میں العدید ایئر بیس (قطر)، السالم ایئر بیس (کویت)، الظفرہ ایئر بیس (متحدہ عرب امارات) اور بحرین میں امریکی بحری بیڑا شامل ہیں۔
ادھر قطر کی وزارت دفاع کے مطابق دوحہ بھر میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ اس خلیجی ریاست کو نشانہ بنانے والے کئی ایرانی میزائل حملوں کو روک لیا گیا۔
مرکزی دوحہ اور خطے میں امریکا کی سب سے بڑی فوجی تنصیب العدید فوجی اڈے کے قریب بھی دھماکے سنائی دیے۔
اے ایف پی کے ایک صحافی نے بتایا کہ ایک انٹرسیپٹر میزائل نے فضا میں ایک میزائل کو تباہ کر دیا جبکہ قطر کی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’متعدد حملوں کو پسپا کر دیا گیا ہے۔‘‘
امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کے روز ایرانی دارالحکومت سمیت متعدد شہروں پر حملے شروع کیے، جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کھلی جنگ کی صورت اختیار کر گئی۔
ایرانی فورسز نے اسرائیل کی جانب بھی میزائلوں کی ایک بڑی تعداد داغی ہے۔
دہشت گرد یا پاکستان، افغان طالبان کو ایک کا انتخاب کرنا ہو گا، پاکستانی فوج
پاکستان نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تازہ سرحدی جھڑپوں کے دوران 331 افغان طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ اس دوران عسکری ڈھانچے اور اسلحے کے ذخائر کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ یہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان حالیہ برسوں کی چند سب سے ہلاکت خیز جھڑپوں میں شمار کی جا رہی ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک پریس کانفرنس میں افغان طالبان کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ انہیں پاکستان اور دہشت گرد تنظیموں میں کسی ایک کو چننا ہوگا، افغان طالبان کالعدم تحریک طالبان پاکستان، بلوچ لبریشن آرمی، داعش کو چنے یا پھر پاکستان کو۔ فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہے۔
پاکستانی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ہفتے کے دن بتایا کہ ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کے نتیجے میں پانچ سو سے زائد افغان طالبان جنگجو زخمی ہوئے جبکہ افغانستان کے 37 مقامات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی فورسز نے طالبان کی 104 چوکیاں اور 163 ٹینک یا مسلح بکتر بند گاڑیاں تباہ کر دی ہیں۔
ادھر افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعے کے دن ایک پریس کانفرنس میں حالیہ کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس لڑائی میں بارہ افغان مارے گئے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پچپن پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
اطراف کی طرف سے کیے گئے ان دعوؤں کی آزادانہ ذارئع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
خطے کے اتحادی ممالک نے دونوں فریقوں سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ سعودی عرباور قطر کے وزرائے خارجہ نے ثالثی کی پیشکش کر دی ہے۔ تاہم اب تک اس سلسلے میں کسی پیش رفت کا کوئی اشارہ نہیں ملا۔
اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق کابل میں قائم حکومت ملک میں سرگرم مختلف عسکریت پسند گروہوں کے لیے نرم ماحول فراہم کرتی ہے اور پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) کی حمایت بھی کرتی ہے۔
افغانستان کی حکمران طالبان انتظامیہ نے اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں عائد کردہ تمام تر الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کشیدگی ختم کریں، یورپی یونین
یورپی یونین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی کے بعد فوری کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔
یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے ایک بیان میں کہا، ’’ہم تمام فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر کشیدگی کم کریں اور سرحد پار حملوں کو روک دیں کیونکہ اس کے خطے پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین دوبارہ واضح کرتی ہے کہ افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کو دھمکانے یا اس پر حملہ کرنے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
خاتون سفارتکار نے مزید کہا، ’’میں افغان ڈی فیکٹو حکام سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ افغانستان میں یا افغانستان سے سرگرم تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات کریں۔‘‘
امریکی حملوں میں خامنہ ای کی رہائش گاہ کو بھی نشانہ بنایا گیا؟ ایران کا شدید ردعمل
ایران نے اسرائیل اور امریکا کی جانب سے اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کے جواب میں سخت اور واضح انتباہ جاری کر دیا ہے۔
ایران کی سلامتی کونسل کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا، ’’ہم نے پہلے ہی آپ کو خبردار کیا تھا۔ اب آپ نے ایک ایسے راستے پر قدم رکھ دیا ہے، جس کا انجام اب آپ کے اختیار میں نہیں رہا۔‘‘
امریکا اور اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران پر حملے کیے، جنہیں اسرائیل نے اپنے ’’ازلی دشمن‘‘ کے خلاف ’’پیشگی حملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ’’خطرات کو ختم کرنا‘‘ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، ’’ہمارا مقصد امریکی عوام کا دفاع کرنا ہے۔۔۔ ایرانی حکومت کی طرف سے درپیش فوری خطرات کو ختم کر کے۔‘‘
ایران کے خلاف یہ عسکری کارروائیاں ایک ایسے وقت پر کی گئی ہیں، جب امریکا نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے خطے میں اپنی فوجی تعیناتی میں بڑے پیمانے پر اضافہ کیا تاکہ تہران کو اپنے جوہری پروگرام کو ترکرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
صدر ٹرمپ متعدد بار دھمکی دے چکے تھے کہ اگر جوہری مسئلے پر مذاکراتی حل نہ نکلا، تو وہ فوجی کارروائی کریں گے۔
عینی شاہدین کے مطابق ایرانی دارالحکومت تہران میں ہونے والی بمباری میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی رہائش گاہ بھی نشانہ بنی۔ تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ وہ محفوظ مقام پر منتقل کیے جا چکے ہیں۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ اگر خامنہ ای پر حملہ ہوا تو اس کا مطلب مکمل جنگ ہو گا۔
پاکستانی جیٹ مار گرانے کے دعوے غلط ہیں، پاکستان
پاکستان کی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز افغان طالبان اور پولیس کی جانب سے پاکستانی جیٹ مار گرانے اور پائلٹ کو زندہ پکڑنے کے دعوے کو ’’مکمل طور پر غلط‘‘ قرار دے دیا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ یہ جھوٹا دعویٰ ہے۔ بالکل غلط ہے۔‘‘
اس سے قبل افغان طالبان اور پولیس نے کہا تھا کہ جلال آباد شہر میں ایک پاکستانی طیارہ گر کر تباہ ہوا ہے اور اس کا پائلٹ زندہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔
مقامی رہائشیوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ پائلٹ نے طیارہ گرنے سے قبل پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگائی اور پھر اسے گرفتار کر لیا گیا۔
افغان پولیس کے ترجمان طیب حماد نے کہا، ’’جلال آباد شہر کے چھٹے ضلع میں ایک پاکستانی فائٹر جیٹ مار گرایا گیا اور پائلٹ کو زندہ پکڑا گیا ہے۔‘‘
مشرقی افغانستان کی فوج کے ترجمان وحیداللہ محمدی نے بھی یہی دعویٰ دہراتے ہوئے کہا کہ طیارہ افغان فورسز نے مار گرایا ’’اور پائلٹ کو زندہ گرفتار کیا گیا۔‘‘
یہ اعلانات ایک ایسے وقت سامنے آئے، جب اے ایف پی کے ایک صحافی نے جلال آباد کے اوپر ایک جیٹ طیارے کی آواز سنی، جس کے بعد شہر کے ہوائی اڈے کی سمت سے دو دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔
پاکستان نے جمعے کے روز افغان دارالحکومت کابل اور جنوبی قندھار میں فضائی حملے کیے تھے، جہاں طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ مقیم ہیں۔
اسرائیل کا ایران پر ’پیشگی‘ حملہ، خطے میں کشیدگی عروج پر
اسرائیل نے آج بروز ہفتہ ایران کے خلاف ایک’’پیشگی‘‘ حملہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ یہ کارروائی ’’خطرات کو ختم کرنے‘‘ کے لیے کی گئی، تاہم انہوں نے فوری طور پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
عینی شاہدین کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں ہفتہ کو زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہدف کیا تھا۔ ایرانی حکومت کی جانب سے ابتدائی طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران اورامریکہ کے درمیان تہران کے جوہری اور میزائل پروگرام پر کشیدگی عروج پر ہے۔ واشنگٹن ایران پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے خطے میں لڑاکا طیاروں اور جنگی جہازوں کا بڑا بیڑا تعینات کر چکا ہے۔
ادھر اسرائیل بھر میں سائرن بجنے لگے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ ’’پیشگی انتباہ‘‘ ہے تاکہ عوام کو ممکنہ میزائل حملوں کے خدشے کے پیش نظر تیار کیا جا سکے۔
اسرائیل کی ایئرپورٹس اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی فضائی حدود شہری پروازوں کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔
یہ ایک بریکنگ خبر ہے، مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
پاکستان کو یہ لڑائی ’’بہت مہنگی‘‘ پڑے گی، افغان طالبان
پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے ساتھ جمعے اور ہفتے کی درمیانی رات فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق ’’غضب للحق‘‘ نامی آپریشن جاری ہے اور پاکستانی فورسز نے طالبان کی متعدد پوسٹس اور کیمپ تباہ کر دیے ہیں۔ البتہ آزادانہ طور پر ان دعوؤں کی تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے خوست میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ لڑائی ’’بہت مہنگی‘‘ پڑے گی، لیکن افغان افواج نے ابھی بڑے پیمانے پر تعیناتی نہیں کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ طالبان نے دنیا کو ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ ’’اتحاد، یکجہتی اور صبر” سے شکست دی۔ واضح رہے کہ طالبان امریکی اتحادی افواج کے خلاف برسوں تک لڑ کر گوریلا جنگ میں انتہائی تجربہ کار ہو چکے ہیں۔
سفارتی کوششیں جاری ہیں: پاکستان کو دفاع کا حق حاصل ہے، امریکا
پاکستان اور افغانستان کے مابین جاری لڑائی روکنے کی خاطر جمعے شب سفارتی رابطوں میں اضافہ ہوا۔ افغانستان نے بتایا کہ طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی چینلز کھلے رکھنے پر بات ہوئی۔
یورپی یونین نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ حالات کو معمول پر لائیں اور مذاکرات کا راستہ اپنائیں جبکہ اقوام متحدہ نے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
روس نے بھی دونوں فریقوں سے کہا کہ وہ جھڑپوں کو روکیں اور مذاکرات کی طرف لوٹیں۔
چین نے کہا کہ وہ اس صورتحال پر ’’گہری تشویش‘‘ رکھتا ہے اور کشیدگی کم کرنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔
امریکہ نے کہا کہ پاکستان کو اپنے خلاف ہونے والے طالبان کے حملوں کے خلاف دفاع کا حق حاصل ہے۔
ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واشنگٹن اس تازہ کشیدگی میں پاکستان کو ’’جارح فریق‘‘ نہیں سمجھتا اور امید کرتا ہے کہ حالات مزید خراب نہیں ہوں گے۔
قندھار میں بھی دھماکوں کی آوازیں
پاکستان اور افغانستان کے مابین گزشتہ رات بھر جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں اور بین الاقوامی برادری نے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری مذاکرات کی اپیل کی۔ کابل، قندھار اور پکتیا کے بعد ہفتے کے دن جلال آباد میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
پاکستان کے جمعے کے روز کیے گئے حملوں میں طالبان کی فوجی تنصیبات اور چوکیاں نشانہ بنیں، جن میں کابل اور قندھار بھی شامل تھے۔ حکام کے مطابق یہ گزشتہ کئی برسوں میں پاکستان کی جانب سے پڑوسی ملک میں کی جانے والی سب سے شدید کارروائیوں میں شمار ہوتی ہے۔
اسلام آباد کا الزام ہے کہ افغان طالبان، تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے عسکریت پسندوں کو پناہ دیتے ہیں، جو پاکستان کے اندر حملوں میں ملوث ہیں۔ طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ حملے سرحد پار ہونے والی طالبان کی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے، جبکہ کابل نے انہیں اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن خبردار کیا کہ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوا تو نتائج سنگین ہوں گے۔
یہ لڑائی دونوں ممالک کے درمیان 2,600 کلومیٹر طویل سخت پہاڑی سرحد پر ایک طویل اور خطرناک تنازعے کا خطرہ بڑھا رہی ہے۔