1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاک افغان کشیدگی، سعودی عرب اور قطر جنگ بندی کی کوششوں میں

عاطف توقیر اے ایف پی، ڈی پی اے، روئٹرز کے ساتھ | ادارت | کشور مصطفیٰ | عدنان اسحاق
وقت اشاعت 27 فروری 2026آخری اپ ڈیٹ 27 فروری 2026

پاکستان نے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب افغان دارالحکومت کابل سمیت اہم شہروں پر وسیع فضائی حملے کیے۔ پاک افغان جھڑپوں سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں کی لائیو اپ ڈیٹس یہاں ملاحظہ کیجے۔

https://p.dw.com/p/59VLo
خوست صوبے میں ایک افغان پوسٹ پر حملے کے بعد
پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس نے افغانستان کے خلاف وسیع تر کارروائیاں کی ہیںتصویر: Saifullah Zahir/AP Photo/picture alliance
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • پاک افغان کشیدگی، سعودی عرب اور قطر جنگ بندی کی کوششوں میں
  • پاک افغان کشیدگی اور جھڑپیں، بڑے دعوؤں کی جنگ
  • پاکستان اور افغانستان کے درمیان شدید جھڑپیں
  • فضائی دفاعی نظام، یوکرین کے اتحادیوں کے ساتھ کنسورشیم بنانے پر غور
  • بھارتی عدالت نے اروند کیجریوال کو کرپشن کیس میں بری کر دیا
  • امریکی سفارت خانے نے عملے کو اسرائیل چھوڑنے کی اجازت دے دی
  • ایران کے گرد علاقائی جنگ کے خدشات، اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمشنر کو تشویش
  • کینیڈین وزیراعظم کا دورہ بھارت
  • سویڈن کے قریب ڈرون واقعہ، کریملن نے روس پر الزامات مسترد کر دیے
  • ڈیل کے لیے امریکہ غیر ضروری مطالبات ترک کرے، ایران
پاک افغان کشیدگی، سعودی عرب اور قطر جنگ بندی کی کوششوں میں سیکشن پر جائیں
27 فروری 2026

پاک افغان کشیدگی، سعودی عرب اور قطر جنگ بندی کی کوششوں میں

ننگر ہار میں ایک پاکستانی فضائی حملے کے بعد کا منظر
پاکستان نے چند روز قبل افغانستان میں فضائی حملے کیے تھےتصویر: Stringer/Anadolu Agency/IMAGO

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی عرب اور قطر پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی خون ریز جھڑپوں کو روکنے کے لیے سرگرم سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان نے افغان شہروں پر بمباری کے بعد صورتحال کو ’’کھلی جنگ‘‘ قرار دیا۔

ذرائع کے مطابق ریاض اور دوحہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔

جمعے کو طالبان کے وزیرخارجہ مولوی امیر خان متقی نے قطری مذاکرات کار محمد الخلیفی سے جب کہ سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے پاکستان وزیرخارجہ إسحاق ڈار سے گفتگو کی۔

یہ سفارتی مہم اس وقت تیز ہوئی جب پاکستان نے کابل سمیت اہم افغان شہروں پر وسیع فضائی حملے کیے۔ یہ 2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد افغان دارالحکومت پر یہ سب سے بڑی بمباری تھی۔

پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین سے سرگرم شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہا، جبکہ طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

پاکستان کے حملوں کا ہدف طالبان قیادت؟

یاد رہے کہ اکتوبر میں بھی شدید جھڑپوں کے بعد قطر اور ترکی کی ثالثی سے جنگ بندی ہوئی تھی، مگر دوحہ اور استنبول میں ہونے والے متعدد مذاکرات کسی پائیدار معاہدے پر منتج نہ ہو سکے۔

سعودی عرب کے پاکستان کے ساتھ قریبی عسکری تعلقات ہیں اور گزشتہ سال دونوں ممالک نے باہمی دفاعی معاہدہ بھی کیا تھا۔ حالیہ تشدد میں پاکستان اور افغانستان نے ایک دوسرے کے درجنوں فوجیوں کی ہلاکتوں کے دعوے کیے ہیں جب کہ سرحدی گزرگاہیں گزشتہ برس اکتوبر سے بڑی حد تک بند ہیں۔

علاقائی طاقتوں کی یہ سفارتی کوششیں اس خدشے کے پیش نظر کی جا رہی ہیں کہ اگر فوری جنگ بندی نہ ہوئی تو یہ تنازع وسیع تر علاقائی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

https://p.dw.com/p/59XLv
فضائی دفاعی نظام، یوکرین کے اتحادیوں کے ساتھ کنسورشیم بنانے پر غور سیکشن پر جائیں
27 فروری 2026

فضائی دفاعی نظام، یوکرین کے اتحادیوں کے ساتھ کنسورشیم بنانے پر غور

یوکرینی صدر زیلنسکی
زیلنسکی پہلے ہی میزائلوں کی کمی کی شکایت کر چکے ہیںتصویر: Jens Büttner/dpa/picture alliance

یوکرین اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ ایک کنسورشیم بنانے پر غور کر رہا ہے تاکہ روسی میزائلوں کو مار گرانے والے فضائی دفاعی نظام تیار کیے جا سکیں یوکرین کے وزیر دفاع میخائلو فیدوروف نے کہا کہ امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائل نظام کے لیے میزائلوں کا ذخیرہ شدید کمی کا شکار ہے۔ پیٹریاٹ نظام یوکرین کے لیے اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ روسی ہائپر سونک بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

صدر وولودیمیر زیلنسکی بھی بارہا اتحادیوں کی جانب سے پیٹریاٹ میزائلوں کی فراہمی میں تاخیر پر تنقید کر چکے ہیں۔ یوکرین کا کہنا تھا کہ جنوری میں کچھ دفاعی نظام ایمونیشن سے مکمل خالی تھے۔

یوکرین کا جرمنی سے مزید اسلحے کا مطالبہ

فیڈوروف کے مطابق یوکرین کے پاس خود مختار طور پر بیلسٹک میزائل شکن نظام اور میزائل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر اس کے لیے طویل المدتی اور پیچیدہ منصوبہ بندی درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی وزارت کا اولین ترجیحی ہدف ہے۔
 

https://p.dw.com/p/59XKU
بھارتی عدالت نے اروند کیجریوال کو کرپشن کیس میں بری کر دیا سیکشن پر جائیں
27 فروری 2026

بھارتی عدالت نے اروند کیجریوال کو کرپشن کیس میں بری کر دیا

سابق وزیراعلیٰ کیجریوال
کیجریوال کو کرپشن کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا گیا تھاتصویر: Sanjeev Verma/Hindustan Times/IMAGO

ایک بھارتی عدالت نے جمعے کے روز دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو کرپشن کے ایک بڑے کیس میں بری کر دیا۔ انہوں نے رہائی کے بعد وزیر اعظم نیرندر مودی اور ان کی جماعت کی پر ’’سیاسی سازش‘‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

عدالت نے کیجریوال، ان کے سابق نائب مانش سیسودیا اور دیگر 21 افراد کے خلاف تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ محض پالیسی فیصلوں کی منظوری، بددیانتی کے ثبوتوں کے بغیر فوجداری جرم کے زمرے میں نہیں آتی۔

57 سالہ کیجریوال جو عام آدمی پارٹی کے سربراہ اور اور اپوزیشن کے نمایاں رہنما ہیں، عدالتی فیصلے کے بعد جذباتی ہو گئے اور عدالت سے باہر نکلتے وقت آبدیدہ دکھائی دیے۔ ان کے حامیوں کی بڑی تعداد نے ان کی گاڑی کے گرد جمع ہو کر نعرے لگائے اور پھول نچھاور کیے۔

کیجریوال نے ایک پریس کانفرنس میں وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس پورے معاملے کے اصل سازشی یہی دو لوگ ہیں‘‘ اور ان کا مقصد عام آدمی پارٹی کو ختم کرنا تھا۔

یاد رہے کہ کیجریوال کو 2024 میں شراب لائسنسوں کی الاٹمنٹ میں مبینہ کک بیکس کے الزام پر گرفتار کیا گیا تھا اور وہ کئی ماہ جیل میں رہے۔ اسی دوران 2025 کے انتخابات میں وہ دہلی کی وزارتِ اعلیٰ کی نشست ہار گئے تھے۔

مرکزی تفتیشی ادارے سینٹرل بورڈ آف انویسٹیگیشن نے اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
 

https://p.dw.com/p/59Wq5
امریکی سفارت خانے نے عملے کو اسرائیل چھوڑنے کی اجازت دے دی سیکشن پر جائیں
27 فروری 2026

امریکی سفارت خانے نے عملے کو اسرائیل چھوڑنے کی اجازت دے دی

اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر
امریکی سفیر کے مطابق اسرائیل میں موجود غیرہنگامی عملے کو اسرائیل چھوڑنے کی اجازت دے دی گئی ہےتصویر: Jim Hollander/UPI Photo/Newscom/picture alliance

اسرائیل میں امریکی سفارت خانے نے اپنے عملے کو ملک چھوڑنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو افراد اسرائیل چھوڑنا چاہتے ہیں وہ فوراً  فیصلہ کر لیں۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

امریکی سفیر مائیک ہکابی نے عملے کو بھیجی گئی ایک ای میل میں کہا کہ واشنگٹن سے مشاورت کے بعدآتھرائیزڈ ڈیپارچر کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ جو لوگ جانا چاہتے ہیں وہ فوری طور پر دستیاب کسی بھی پرواز کے ذریعے اسرائیل سے نکل جائیں اور بعد میں واشنگٹن پہنچنے کا انتظام کریں۔ 

یہ پیش رفت ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کے کسی اتفاق رائے تک پہنچے بغیر ختم ہو جانے کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔ اسی دوران نیدرلینڈز کی ایئرلائن کے ایل ایم نے تل ابیب کے لیے اپنی پروازیں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ دیگر ممالک نے بھی اسرائیل اور خطے میں اپنے سفارتی عملے کے اہل خانہ کی واپسی کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

ایران پر حملہ امریکہ کے لیے کتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے؟

دوسری جانب عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی، جو مذاکرات میں ثالثی کر رہے ہیں، نے کہا کہ بات چیت میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ایران اور امریکہ نے باضابطہ طور پر کسی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی تفصیلات بتانے سے گریز کیا، تاہم کہا کہ ایران نے اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث سفارتی اور عسکری سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے، جبکہ عالمی برادری ممکنہ تصادم کو روکنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

https://p.dw.com/p/59Wpf
پاک افغان کشیدگی اور جھڑپیں، بڑے دعوؤں کی جنگ سیکشن پر جائیں
27 فروری 2026

پاک افغان کشیدگی اور جھڑپیں، بڑے دعوؤں کی جنگ

ننگر ہار میں ایک پاکستانی حملے کے بعد کا منظر
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کچھ عرصے میں متعدد بار جھڑپیں ہو چکی ہیںتصویر: Aimal Zahir/AFP/Getty Images

اے ایف پی کے مطابق کابل اور قندھار میں رات بھر دھماکوں اور جنگی طیاروں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ 2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے کابل اور قندھار پر اس نوعیت کے فضائی حملے کیے ہیں۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستانی فضائی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، جبکہ افغان وزارت دفاع کے مطابق زمینی جھڑپوں میں اس کے آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے۔ 

سعودی عرب، ایران اور چین نے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ حملے پہلے سے جاری جھڑپوں کے مقابلے میں ایک خطرناک اور نمایاں اضافہ ہیں۔
 

https://p.dw.com/p/59VOZ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان شدید جھڑپیں سیکشن پر جائیں
27 فروری 2026

پاکستان اور افغانستان کے درمیان شدید جھڑپیں

چند روز قبل ایک پاکستانی فضائی حملے کے بعد کا منظر
کشیدگی کی تازہ لہر متعدد افغان علاقوں میں پاکستانی فضائی حملوں کے بعد شروع ہوئی ہےتصویر: AFP

پاکستان اور افغانستان کے درمیان شدید سرحدی جھڑپیں جاری ہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب، قطر، ایران اور روس سمیت علاقائی ممالک نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب چند روز قبل پاکستانی فضائیہ نے افغانستان میں مبینہ طور پر شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی سرحد پار حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔ اس سے قبل پاکستان کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ اسلام آباد کی ایک امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش حملے کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان حکومت پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا، ’’اب صبر ختم ہو چکا، یہ کھلی جنگ ہے۔‘‘ وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کے مطابق ان تازہ جھڑپوں میں 130 سے زائد طالبان جنگجو مارے گئے ہیں جبکہ دو پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

دوسری جانب کابل میں طالبان ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی کارروائیوں میں 50 سے زائد پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے۔ تاہم دونوں جانب کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

گزشتہ سال اکتوبر میں بھی شدید جھڑپوں کے بعد قطر اور ترکی کی مشترکہ کوششوں سےجنگ بندی ممکن ہوئی تھی، مگر حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔


 

https://p.dw.com/p/59VM9
ایران کے گرد علاقائی جنگ کے خدشات، اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمشنر کو تشویش سیکشن پر جائیں
27 فروری 2026

ایران کے گرد علاقائی جنگ کے خدشات، اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمشنر کو تشویش

فولکر ترک
فولکر ترک نے ایرانی صورتحال پر تشویش ظاہر کیتصویر: DW

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے شعبے کے سربراہ فولکر ترک نے  ایران کے گرد ممکنہ علاقائی فوجی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر ’’انتہائی فکرمند‘‘ ہیں۔

انہوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ خطے میں فوجی تصادم عام شہریوں پر سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ 

یہ بیان ایران اور امریکہ کے درمیان جنیوا میں ہونے والے بالواسطہ جوہری مذاکرات کے بعد سامنے آیا، جنہیں جنگ ٹالنے کی آخری کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو معاہدے کے لیے 15 دن کی مہلت دے چکے ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ بھی ہو چکا ہے۔

فولکر ترک نے ایران کی اندرونی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق گزشتہ ماہ ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد صورتحال بدستور غیر مستحکم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں جامعات میں احتجاج کی نئی لہر دیکھی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنیادی مسائل اب بھی موجود ہیں۔

ايران اور امريکہ کے جوہری مذاکرات، جنگ سے بچنے کے ليے سمجھوتہ لازمی

انہوں نے گرفتاریوں، تعلیمی اداروں پر دباؤ اور ہزاروں افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ مظاہروں سے متعلق مقدمات میں دو کم سن افراد سمیت آٹھ شہریوں کو سزائے موت سنائی گئی ہے، جبکہ مزید 30 افراد کو بھی اسی خطرے کا سامنا ہے۔
 

https://p.dw.com/p/59WOv
کینیڈین وزیراعظم کا دورہ بھارت سیکشن پر جائیں
27 فروری 2026

کینیڈین وزیراعظم کا دورہ بھارت

کینیڈین وزیراعظم کارنی
کارنی بھارت کا دورہ کر رہے ہیںتصویر: Christinne Muschi/The Canadian Press/ZUMA/picture alliance

کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی جمعے کو بھارت پہنچ گئے جہاں وہ دو طرفہ تعلقات کی ازسرنو بحالی اور تجارتی حجم بڑھانے جیسے امور پر بات چیت کریں گے۔ کارنی یہ دورہ ایک ایسے موقع پر کر رہے ہیں جب امریکہ کے ساتھ کینیڈا کے تعلقات میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔
کارنی کا یہ دورہ 2023 کے بعد تعلقات میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، جب اوٹاوا نے نئی دہلی پر کینیڈا میں سکھ کارکنوں کے خلاف مہلک کارروائی کا الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سفارتی تعلقات شدید متاثر ہوئے تھے۔

کارنی اس دورے میں سب سے پہلے ممبئی پہنچے ہیں جہاں وہ کاروباری رہنماؤں سے خطاب کریں گے اس کے بعد وہ نئی دہلی جا کر بھارتی وزیر اعظم نیرندر مودی سے ملاقات کریں گے۔

کارنی کے دفتر کے مطابق مذاکرات میں تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، افرادی قوت، ثقافت اور دفاع کے شعبوں میں نئے شراکتی منصوبوں پر بات ہوگی۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی حکومت نے 2023 میں ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی حکومت کے مبینہ کردار کا الزام لگایا تھا۔ بھارت نے ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے اعلیٰ سفارتکاروں کو بے دخل کر دیا تھا۔

تاہم مارچ 2025 میں کارنی کے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد تعلقات میں بہتری آئی اور سفیروں کی بحالی عمل میں آئی۔ بھارت کے بعد کارنی آسٹریلیا اور جاپان کا بھی دورہ کریں گے، جو کینیڈا کی معیشت کو امریکہ پر انحصار سے نکال کر متنوع بنانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔

https://p.dw.com/p/59WJq
سویڈن کے قریب ڈرون واقعہ، کریملن نے روس پر الزامات مسترد کر دیے سیکشن پر جائیں
27 فروری 2026

سویڈن کے قریب ڈرون واقعہ، کریملن نے روس پر الزامات مسترد کر دیے

بحیرہ بالٹ میں نیٹو مشقوں کا منظر
بحیرہ بالٹک میں نیٹو بڑی فوجی مشقوں میں مصروف ہےتصویر: Dursun Aydemir/Anadolu Agency/IMAGO

روسی حکومت نے اس دعوے کو ’’مضحکہ خیز‘‘ قرار دیا ہے کہ سویڈن کے قریب فرانسیسی طیارہ بردار بحری جہاز کے پاس جام شدہ  ڈرون روسی تھا۔

سویڈن کے مطابق بدھ کے روز بحیرہء بالٹک کو بحیرہ شمالی سے ملانے والی آبنائے اوری سنڈ میں ایک سویڈش بحری جہاز نے ایک ڈرون کو الیکٹرانک سگنلز کے ذریعے جام کیا۔ یہ واقعہ فرانس کے طیارہ بردار بحری جہاز چارلس ڈے گال سے تقریباً 13 کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا، جو نیٹو کی جنگی مشقوں میں شرکت کے لیے وہاں رُکا  تھا۔

سویڈن کے وزیر دفاع پال جونسن نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ڈرون کا تعلق غالباً روس سے تھا کیونکہ واقعے کے وقت قریب ہی ایک روسی فوجی جہاز موجود تھا۔

تاہم کریملن کے ترجماندیمیتری پیسکوف نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان ’’کافی حد تک مضحکہ خیز‘‘ ہے اور ماسکو کے پاس اس واقعے سے متعلق مزید معلومات نہیں ہیں۔

سویڈش حکام کے مطابق بحریہ نے ڈرون اور اس کے آپریٹر کے درمیان رابطہ منقطع کرنے اور اس کے نیویگیشن نظام کو متاثر کرنے کے لیے الیکٹرانک جامنگ کا استعمال کیا۔

روس کا خطرہ، فن لینڈ میں فوجی مشقیں

یوکرینی جنگ کے بعد سے بحیرہ بالٹک روس اور نیٹو ممالک کے درمیان کشیدگی کا اہم مرکز بن چکا ہے۔ نیٹو کے مشرقی فلینک کے رکن ممالک نے حالیہ مہینوں میں متعدد مشتبہ ڈرون سرگرمیوں کی اطلاع دی ہے، جن میں سے بعض کا الزام روس پر عائد کیا گیا ہے۔

یورپ میں یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ اس نوعیت کی کارروائیاں ماسکو کی مبینہ ’’ہائبرڈ وار‘‘ حکمت عملی کا حصہ ہو سکتی ہیں، جس کے ذریعے وہ یوکرین کی حمایت کرنے والے یورپی ممالک پر دباؤ ڈال رہا ہے۔
 

https://p.dw.com/p/59WHq
ڈیل کے لیے امریکہ غیر ضروری مطالبات ترک کرے، ایران سیکشن پر جائیں
27 فروری 2026

ڈیل کے لیے امریکہ غیر ضروری مطالبات ترک کرے، ایران

امریکہ بحری بیڑہ
امریکی بحری بیڑے خطے میں پہنچ چکے ہیںتصویر: Costas Metaxakis/AFP

ایران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ جوہری معاہدے کے لیے امریکہ کو اپنے ’’غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات‘‘ ترک کرنا ہوں گے جبکہ عمان کی ثالثی میں جاری مذاکرات کو جنگ سے بچنے کی آخری کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت کے لیے دوسری جانب سے سنجیدگی اور حقیقت پسندی ضروری ہے۔ جنیوا میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد انہوں نے بتایا کہ بات چیت میں جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے پر ’’اہم پیش رفت‘‘ ہوئی ہے اور اگلا دور ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں متوقع ہے۔ تکنیکی مذاکرات ویانا میں اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے میں ہوں گے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر یورپ اور خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل تیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ تہران ’’خطرناک جوہری عزائم‘‘ رکھتا ہے۔ ایران نے ان الزامات کو ’’بڑا جھوٹ‘‘ قرار دیا ہے اور مؤقف دہرایا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن ایران سے اس کے تین بڑے جوہری مراکز ختم کرنے اور افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے جبکہ امریکہ تہران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت پر بھی پابندیاں چاہتا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کا محور صرف جوہری پروگرام ہونا چاہیے۔

خطے میں کشیدگی کے درمیان امریکہ نے اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ بحیرہ روم میں دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ تعینات کیا گیا ہے، جبکہ پہلے ہی یو ایس ایس ابراہام لنکن سمیت ایک درجن سے زائد جنگی جہاز مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں۔ ایک ہی وقت میں دو امریکی طیارہ بردار جہازوں کی موجودگی غیر معمولی سمجھی جاتی ہے۔

ایران امریکی حملے کا جواب کیسے دے سکتا ہے؟

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران ہرگز جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں۔ تاہم ماضی میں مذاکرات اس وقت ناکام ہو گئے تھے جب اسرائیل نے ایران پر حملے کیے اور 12 روزہ جنگ شروع ہوئی، جس میں امریکہ نے بھی ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ مذاکرات ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں سفارت کاری اور فوجی دباؤ بیک وقت جاری ہیں اور کسی بھی غلط اندازے سے خطے میں وسیع تر تنازعہ جنم لے سکتا ہے۔

https://p.dw.com/p/59VLy
مزید پوسٹیں