1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

طالبان نے افغانستان کو بھارت کی کالونی بنادیا ہے، خواجہ آصف

کشور مصطفیٰ اے پی اور روئٹرز کے ساتھ
27 فروری 2026

پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ صبر کی حد اب ختم ہو گئی ہے اور افغانستان کے ساتھ تعلقات اب کھلی جنگ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ یہ بیان پاکستان اور افغانستان کے مابین غیر معمولی کشیدگی کی نشاندہی ہے۔

https://p.dw.com/p/59VS6
اس تصویر میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف پریس کانفرنس سے خطاب کرتے دکھائی دے رہے ہیں
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی چند ماہ کے سکون کے بعد دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہےتصویر: Lintao Zhang/Getty Images

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  'ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ پاکستان نے نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں امن کی امید کی تھی اور یہ توقع کی تھی کہ طالبان افغان عوام کی فلاح و بہبود اور علاقائی استحکام پر توجہ دیں گے۔ خواجہ آصف نے افغان طالبان  پر الزام لگایا کہ طالبان نے افغانستان کو ''بھارت کی کالونی‘‘ میں تبدیل کر دیا ہے اور دنیا بھر سے جنگجوؤں کو اکٹھا کیا ہے اور ''دہشت گردی برآمد کرنا‘‘ شروع کر دی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ہمارا صبر اب ختم ہو چکا ہے۔ اب ہمارے درمیان کھلی جنگ ہے۔‘‘ ان کے ان بیانات پر افغان حکومتی عہدیداروں کی جانب سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

 

پاکستان طویل عرصے سے پڑوسی ملک بھارت پر کالعدم بلوچ لبریشن آرمی اور  پاکستانی طالبان کی پشت پناہی کا الزام لگاتا آ رہا ہے، تاہم نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

افغان وزیر دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد اور پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف 19 اکتوبر 2025 کو دوحہ، قطر میں، قطر اور ترکی کی ثالثی میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد مصافحہ کر رہے ہیں
قطر اور ترکی پاکستان اور افغانستان کے درمیان فائر بندی قائم کرنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں تصویر: Qatar Ministry Of Foreign Affairs/REUTERS

ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب  چند گھنٹے قبل پاکستان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل  کے ساتھ ساتھ جنوب میں قندھار اور جنوب مشرق میں پکتیا صوبے میں فضائی حملے کیے، جن کی تصدیق پاکستانی حکام اور افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی کی۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ حملے افغان جانب سے سرحد پار حملوں کے جواب میں کیے گئے۔

کشیدگی کب سے بڑھی؟

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی چند ماہ کے سکون کے بعد دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے، حالانکہ قطر اور ترکی نے دونوں ممالک کے درمیان فائر بندی قائم کرنے کی کوششیں کی تھیں۔ اس دوران دونوں جانب سے ہلاکتوں کے متضاد اعداد و شمار پیش کیے گئے اور ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کے دعوے کیے گئے، جن کی آزادانہ تصدیق اب تک ممکن نہیں ہو سکی۔

پاک افغان تنازعات سے عوام سخت پریشان

افغان وزارت دفاع کا دعویٰ

افغانستان کی وزارتِ دفاع نے رات گئے دعویٰ کیا کہ 55 پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے  ہیں، جن میں وہ اہلکار بھی شامل ہیں جن کی لاشیں افغانستان منتقل کی گئیں، جبکہ متعدد پاکستانی فوجیوں کو زندہ پکڑنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

پاکستانی فضائی حملے کے بعد طالبان نے سرحدی گزرگاہوں کو محفوظ بنا لیا ہے، یہ طورخم سرحدی گزرگاہ
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ پاکستان نے نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں امن کی امید کی تھی تصویر: Aimal Zahir/AFP

وزارت کے مطابق آٹھ افغان فوجی مارے گئے اور 11 زخمی ہوئے۔ مزید یہ کہ 19 پاکستانی فوجی چوکیوں اور دو فوجی مراکز کو تباہ کیا گیا، اور لڑائی جمعرات کی شب شروع ہونے کے تقریباً چار گھنٹے بعد نصف شب کے قریب تھم گئی۔

پاکستان کی تردید

دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستانی  فوج کے صرف دو اہلکار مارے گئے اور تین زخمی ہوئے۔

پاکستان  کے وزیرِاعظم شہباز شریف کے ترجمان، مشرف علی زیدی نے کسی بھی پاکستانی فوجی کے پکڑے جانے کے دعوے کی تردید کی۔ ایکس پر اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ کم از کم 133 افغان جنگجو ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق 27 افغان چوکیوں کو تباہ اور نو جنگجو گرفتار کیے گئے، تاہم انہوں نے ہلاکتوں کے مقامات کی وضاحت نہیں کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کابل، پکتیا اور قندھار میں عسکری اہداف پر کیے گئے حملوں میں بھی اضافی جانی نقصان کا امکان ہے۔

حالیہ پاک افغان کشیدگی کے کیا نتائج مرتب ہوں گے؟

 

اسلام آباد میں دو سینیئر سکیورٹی حکام نے بتایا کہ سرحدی چوکیوں پر تعینات بعض افغان دستوں نے سفید پرچم بلند کیے، جو عموماً فائر بندی کی درخواست کے طور پر کیا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق پاکستانی فورسز افغان طالبان کی ''بلا اشتعال جارحیت‘‘ کے  خلاف بھرپور جوابی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں اور سرحد کے ساتھ طالبان کی متعدد اہم چوکیوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ وہ اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کر رہے ہیں، کیونکہ انہیں سرِعام بیان دینے کی اجازت نہیں ہے۔

ادارت: عدنان اسحاق