1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستافریقہ

کیا اب کسی نئے عالمی نظام کے قیام کا امکان ہے؟

جاوید اختر (مصنفہ: لیزا ہینل)
18 اپریل 2026

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کئی حلقوں کے لیے اس امر کی دلیل تھا کہ قواعد پر مبنی عالمی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا۔ اگر دوسری عالمی جنگ کے بعد تشکیل پانے والا یہ نظام ختم ہو چکا ہے، تو آگے کیا ہے؟

https://p.dw.com/p/5C6Qy
اقوام متحدہ ان چند اداروں میں سے ایک تھی جو دوسری عالمی جنگ کے بعد قواعد پر مبنی عالمی نظام قائم کرنے کے لیے بنائے گئے تھے
اقوام متحدہ ان چند اداروں میں سے ایک تھی جو دوسری عالمی جنگ کے بعد قواعد پر مبنی عالمی نظام قائم کرنے کے لیے بنائے گئے تھےتصویر: BPMI Setpres/Laily Rachev

دوسری عالمی جنگ کے بعد مغربی دنیا نے ایک ایسا عالمی نظام قائم کیا تھا، جسے قواعد پر مبنی عالمی نظام کہا جاتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جس میں عالمی سیاست کو قوانین اور اداروں کے ذریعے منظم کرنے کی کوشش کی گئی۔

بہت سے مبصرین کے نزدیک موجودہ ایران جنگ، جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس کی کوئی واضح قانونی یا اخلاقی بنیاد نہیں تھی، بین الاقوامی تعلقات میں مزید بگاڑ کی علامت ہے۔ ایک امریکی صدر کی طرف سے یہ دھمکی کہ ''آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے‘‘ بھی اس کشیدگی کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔

امریکی ماہر سیاسیات اسٹیسی گوڈارڈ، جو ویلزلی کالج میں پروفیسر ہیں، نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا، ''ہم واقعی اس وقت قواعد پر مبنی عالمی نظام کے ایک بہت کمزور مرحلے میں ہیں۔‘‘

قواعد پر مبنی عالمی نظام دراصل اصولوں اور اداروں کا ایک مجموعہ ہے جو دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد قائم کیا گیا تھا اور سرد جنگ کے بعد اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی تھی۔ اس کے پیچھے بنیادی خیال یہ تھا کہ عالمی سیاست کو طاقت کے بجائے قانون، اداروں اور مشترکہ اصولوں کے ذریعے چلایا جائے۔

ڈونلڈ ٹرمپ
بعض ماہرین کے مطابق واقعی اس وقت قواعد پر مبنی عالمی نظام کے ایک بہت کمزور مرحلے میں ہیں۔تصویر: Timothy A. Clary/AFP/Getty Images

مقاصد اور کمزوریاں

بیسویں صدی میں دو عالمی جنگوں کی تباہ کاریوں کے بعد دنیا میں زیادہ استحکام، آزادی اور خوشحالی پیدا کرنے کے مقصد کے تحت کئی بین الاقوامی ادارے قائم کیے گئے۔ ان اداروں کے رکن ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف جارحیت سے گریز کریں گے اور حملے کی صورت میں دفاع کا حق رکھتے ہوں گے۔

تاہم گوڈارڈ کے مطابق یہ نظام عملی طور پر ہمیشہ اپنے دعووں کے مطابق کام نہیں کر سکا۔ انہوں نے کہا، ''اس میں کوئی شک نہیں کہ لبرل اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کی خواہشات عالمی اور سب کے لیے تھیں۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوا۔ اس کے بہت سے حامی ممالک، جن میں امریکہ بھی شامل ہے، اکثر منافقانہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور قواعد سے فائدہ اٹھا کر دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔‘‘

گلوبل ساؤتھ کہلانے والے ممالک میں طویل عرصے سے یہ احساس رہا ہے کہ مغربی ممالک نے جو حفاظتی نظام اور قواعد بنائے، ان سے انہیں کوئی حقیقی فائدہ نہیں پہنچا۔

واشنگٹن میں امریکی یونیورسٹی کے اسکول آف انٹرنیشنل سروس کے پروفیسر امیتابھ اچاریہ کے مطابق، ''یہ ایک بہت محدود کلب تھا۔ اس کا اصل فائدہ زیادہ تر امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کو ہوا۔‘‘ ان کے مطابق، ''گلوبل ساؤتھ کے پاس حقیقی اختیار نہیں تھا۔ انہیں وہ مقام کبھی نہیں ملا جس کے وہ مستحق تھے۔‘‘

گزشتہ دہائی میں قواعد پر مبنی عالمی نظام پر اعتماد مزید کمزور ہوا ہے۔ اس لیے اب یہ سوال زیادہ شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر قواعد پر مبنی عالمی نظام کا دور ختم ہو رہا ہے تو اس کے بعد دنیا کس سمت میں جا سکتی ہے؟

میناب اسکول امریکی حملے کے بعد
بہت سے مبصرین کے نزدیک موجودہ ایران جنگ، جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس کی کوئی واضح قانونی یا اخلاقی بنیاد نہیں تھی، بین الاقوامی تعلقات میں مزید بگاڑ کی علامت ہےتصویر: IRIB TV/AFP

منظرنامہ 1: علاقائی یا نصف کرے کی بالادستی

بہت سے سیاسی ماہرین ایک ایسے منظرنامے پر بھی بحث کرتے ہیں، جسے علاقائی یا نصف کرے کی بالادستی کہا جاتا ہے۔ اس تصور کے مطابق بڑی طاقتیں دنیا کو مختلف اثر و رسوخ والے علاقوں میں تقسیم کر سکتی ہیں۔

ماہر سیاسیات اسٹیسی گوڈارڈ کے مطابق اس تصور میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ خود مختار ممالک اس بات کو آسانی سے قبول نہیں کریں گے کہ انہیں کسی اور طاقت کے دائرۂ اثر میں رکھ دیا جائے۔

گوڈارڈ کے مطابق ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض عالمی رہنما جیسے پوٹن یا ٹرمپ ہمیشہ اپنے اپنے ممالک کے مفادات کے مطابق نہیں بلکہ اپنے اور اپنے وفادار حلقوں کے مفاد کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔

اسی رجحان کو بیان کرنے کے لیے گوڈارڈ اور جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے کچھ محققین نے 'نیو رائل ازم‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ اس کا مطلب ایسا عالمی نظام ہے جس میں طاقت چند طاقتور اشرافیہ گروہوں کے ہاتھ میں ہو، بالکل ویسے ہی جیسے تاریخی بادشاہتوں میں چھوٹے حلقے عالمی سیاست کو اپنے مفاد کے لیے شکل دیتے تھے۔

ملٹی پلیکس دنیا میں جنوبی افریقہ جیسے ممالک زیادہ بااثر ہوتے ہیں
ملٹی پلیکس دنیا میں جنوبی افریقہ جیسے ممالک زیادہ بااثر ہوتے ہیںتصویر: Kyodo/dpa/picture alliance

منظرنامہ 2: ’’ملٹی پلیکس‘‘ عالمی نظام

اس منظرنامے کے مقابلے میں ایک اور امکان کثیر قطبی یا جیسا کہ امیتابھ اچاریہ کے مطابق 'ملٹی پلیکس عالمی نظام‘ کا ہے۔

اچاریہ کے مطابق اس نظام میں طاقت صرف ایک یا دو بڑی طاقتوں تک محدود نہیں ہو گی۔ ان کے الفاظ میں، ''ملٹی پلیکس نظام میں صرف چند بڑی طاقتیں نہیں ہوتیں۔ اس میں بہت کچھ ایک ساتھ چل رہا ہوتا ہے۔ اس میں درمیانی طاقتیں، علاقائی طاقتیں اور سول سوسائٹی کے ریاستی کردار بھی شامل ہوتے ہیں۔‘‘

اس طرح کے نظام میں تعاون صرف عالمی سطح تک محدود نہیں ہو گا بلکہ علاقائی سطح پر بھی ہو گا۔ مثال کے طور پر عالمی اداروں جیسے اقوام متحدہ کے ذریعے تعاون جاری رہ سکتا ہے، جبکہ مختلف خطوں میں علاقائی اتحاد اور تعاون بھی اہم کردار ادا کریں گے۔

یہ نظام صرف طاقت کی تقسیم کے بارے میں نہیں ہو گا بلکہ اس میں خیالات، مہارت اور مشترکہ اصولوں کا تبادلہ بھی شامل ہو گا۔

اس منظرنامے میں درمیانی طاقتیں اہم کردار ادا کریں گی۔ اچاریہ کے مطابق دنیا کے مختلف خطوں میں مختلف ممالک علاقائی کردار ادا کریں گے، مثلاً جنوب مشرقی ایشیا میں انڈونیشیا اور افریقہ میں جنوبی افریقہ۔

تاہم اچاریہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ملٹی پلیکس عالمی نظام بھی مکمل یا مثالی نہیں ہو گا۔ ان کے مطابق اس میں بھی تنازعات اور عدم استحکام موجود رہیں گے، لیکن یہ مسائل کسی ایک بالادست طاقت کے زیر اثر کم ہوں گے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد مغربی دنیا نے ایک ایسا عالمی نظام قائم کیا تھا، جسے قواعد پر مبنی عالمی نظام کہا جاتا ہے
دوسری عالمی جنگ کے بعد مغربی دنیا نے ایک ایسا عالمی نظام قائم کیا تھا، جسے قواعد پر مبنی عالمی نظام کہا جاتا ہےتصویر: dpa/picture alliance

منظرنامہ 3: مکمل انہدام؟

ایک اور ممکنہ منظرنامہ یہ ہے کہ قواعد پر مبنی عالمی نظام مکمل طور پر ٹوٹ جائے اور اس کی جگہ افراتفری اور بے نظمی لے لے،  یعنی ایسی دنیا جو ایک اور بڑی عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہو۔

امیتابھ اچاریہ کے مطابق بہت سے لوگ اس امکان سے خوفزدہ ہیں، لیکن ان کے خیال میں فی الحال اس کا امکان زیادہ نہیں ہے۔

اسٹیسی گوڈارڈ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ دور کتنا تباہ کن تھا جب مختلف براعظموں میں مسلسل بڑی جنگیں ہوئیں، اس لیے وہ دوبارہ ایسی قیمت ادا کرنے سے گریز کریں گے۔

قواعد پر مبنی عالمی نظام کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ ممالک کیا کرتے ہیں، جو اب بھی سمجھتے ہیں کہ یہ نظام قیمتی ہے اور جن کے پاس اسے برقرار رکھنے کی کچھ طاقت بھی ہے۔ اگر وہ دوسرے رجحانات کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے تیار ہوں، چاہے اس کی قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنا پڑے۔

اس تناظر میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ کیا یورپی یونین اور جاپان، جنوبی کوریا اور بھارت جیسے ممالک اپنے آزاد تجارتی معاہدے کریں گے، دفاعی لحاظ سے امریکہ پر انحصار کم کریں گے اور ساتھ ہی قواعد پر مبنی اصولوں کا احترام بھی برقرار رکھیں گے؟

ممکن ہے یہی عوامل مستقبل میں ایک نئے عالمی نظام کے ابھرنے کا فیصلہ کن سبب بنیں۔ ایک ایسا نظام جو صرف مغربی طاقتوں کی طرف سے تشکیل نہ دیا گیا ہو، بلکہ زیادہ وسیع عالمی شراکت داری پر مبنی ہو۔

ادارت: مقبول ملک

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔