1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتمشرق وسطیٰ

آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی، ایران پر اقتصادی دباؤ زیادہ

مقبول ملک روئٹرز، اے ایف پی، اے پی اور ڈی پی اے کے ساتھ
وقت اشاعت 14 اپریل 2026آخری اپ ڈیٹ 14 اپریل 2026

خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران پر اقتصادی اور مالیاتی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ ایران اب تک جتنا بھی تیل برآمد کر پاتا ہے، اس کے رک جانے سے تہران کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ معطل ہو جائے گا۔

https://p.dw.com/p/5C8BD
خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کے قریب امریکہ کا ایک طیارہ بردار جنگی بحری جہاز
صدر ٹرمپ کے حکم پر امریکی بحریہ کی طرف سے ایرانی بندرگاہوں کو پیر کے روز عملی طور پر بلاک کر دیا گیاتصویر: Ruskin Naval/U.S. Navy/AP Photo/picture alliance
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • اسرائیل اور لبنان کے مابین عشروں بعد پہلے براہ راست سفارتی مذاکرات واشنگٹن میں، روبیو بھی شریک
  • بوشہر کے ایرانی جوہری پلانٹ میں اب ہمارے بیس کارکن موجود ہیں، روسی ادارے کے سربراہ کا بیان
  • یورپی یونین میں ایران جنگ کے باعث تاحال فضائی ایندھن کی قلت نہیں لیکن تشویش ہے، یورپی کمیشن
  • اطالوی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ معطل کر دیا، وجہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات
  • قطر پر ایرانی حملے رکوانے کے لیے تہران کو مالی ادائیگیوں کی کبھی بات ہی نہیں ہوئی، دوحہ حکومت
  • اٹلی کا جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات جاری رکھنے اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھولے جانے کا مطالبہ
  • جنگ بندی ڈیل کی امید میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی، اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی
  • ایرانی تیل کی یومیہ برآمدات تقریباﹰ دو ملین بیرل، بلاکیڈ کا مقصد تہران کی مذاکرات کی میز پر واپسی
  • امریکی بحریہ کی طرف سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث ایران پر اقتصادی اور مالیاتی دباؤ میں اضافہ
اسرائیل اور لبنان کے مابین عشروں بعد پہلے براہ راست سفارتی مذاکرات واشنگٹن میں، روبیو بھی شریک سیکشن پر جائیں
وقت اشاعت 14 اپریل 2026آخری اپ ڈیٹ 14 اپریل 2026

اسرائیل اور لبنان کے مابین عشروں بعد پہلے براہ راست سفارتی مذاکرات واشنگٹن میں، روبیو بھی شریک

اسرائیلی بلڈوزر جنوبی لبنان میں گھروں کو منہدم کرتے ہوئے، بارہ اپریل کو لی گئی تصویر
اسرائیلی بلڈوزر جنوبی لبنان میں گھروں کو منہدم کرتے ہوئے، بارہ اپریل کو لی گئی تصویرتصویر: Ariel Schalit/AP Photo/picture alliance

اسرائیل اور لبنان کے مابین عشروں بعد پہلے براہ راست سفارتی مذاکرات امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں مقامی وقت کے مطابق آج منگل کی شام شروع ہو رہے ہیں، جن میں میزبان ملک کے وزیر خارجہ کے طور پر مارکو روبیو بھی شریک ہو رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی، ایران پر اقتصادی دباؤ زیادہ

بیروت اور واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ان مذاکرات میں فریقین کے مابین بات چیت اس پس منظر میں ہو گی کہ 28 فروری کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل کے ہمسایہ ملک لبنان میں ایران نواز ملیشیا حزب اللہ بھی اسرائیل کے خلاف جنگ شروع کر چکی ہے۔

اس جنگ میں اب تک حزب اللہ کی طرف سے بار بار اسرائیل کی طرف راکٹ اور میزائل فائر کیے جاتے رہے جبکہ اسرائیل نے بھی لبنانی دارالحکومت بیروت پر، جنوبی لبنان میں اور وادی بیقا پر نہ صرف مسلسل فضائی حملے کیے بلکہ اسرائیلی فوج بھی اب تک لبنان میں موجود ہے اور وہاں اپنی مسلح کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیل کی حزب اللہ کے خلاف یہ نئی جنگ لبنان کے لیے ایک نیا اور بہت بڑا دھچکہ ثابت ہوئی ہے۔

امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کو عملاﹰ بلاک کر دیا، ٹرمپ

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو جنوبی لبنان میں موجود اور وہاں مسلح کارروائیوں میں مصروف اسرائیلی فوجیوں سے ملاقات کرتے ہوئے، اتوار بارہ اپریل کو لی گئی تصویر
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو جنوبی لبنان میں موجود اور وہاں مسلح کارروائیوں میں مصروف اسرائیلی فوجیوں سے ملاقات کرتے ہوئے، اتوار بارہ اپریل کو لی گئی تصویرتصویر: Kobi Gideon/Israel GPO/ZUMA/IMAGO

لبنان میں ہونے والی ہلاکتیں

لبنانی وزارت صحت کے مطابق ایک ماہ سے بھی زیادہ عرصے سے جاری اس جنگ میں لبنان میں کم از کم بھی 2,089 افراد اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں 252 خواتین، 166 بچے اور 88 طبی کارکن بھی شامل تھے۔

اس کے علاوہ یہی اسرائیلی عسکری کارروائیاں اب تک لبنان میں 6,762  افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بھی بن چکی ہیں جبکہ ان حملوں کے باعث اب تک مشرق وسطیٰ کے اس ملک میں ایک ملین سے زائد شہری بے گھر بھی ہو چکے ہیں۔

ایران امریکہ کے ساتھ ’کھیل‘ نہ کھیلے، جے ڈی وینس کی وارننگ

واشنگٹن میں ان اسرائیلی لبنانی مذاکرات میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی شامل ہوں گے جبکہ دیگر شرکاء میں امریکہ میں اسرائیلی سفیر اور واشنگٹن میں تعینات لبنانی سفیر بھی شامل ہوں گے۔

ایران امریکہ سیزفائر ڈیل میں لبنان پر شدید اسرائیلی حملوں کے باعث دراڑیں

لبنان اور اسرائیل کے مابین ان سفارتی مذاکرات میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو (تصویر) بھی حصہ لیں گے
لبنان اور اسرائیل کے مابین ان سفارتی مذاکرات میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو (تصویر) بھی حصہ لیں گےتصویر: Thomas Trutschel/IMAGO

سترہ ممالک کے وزرائے خارجہ کا اسرائیل اور لبنان سے مطالبہ

واشنگٹن میں انہی اسرائیلی لبنانی مذاکرات کے پیش منظر میں 17 مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل اور لبنان دونوں سے بھرپور اپیل کی ہے کہ وہ قیام امن کے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور بات چیت میں کسی ٹھوس اور مثبت نتیجے تک پہنچیں۔

ایران جنگ بند مگر بیروت پر اسرائیلی حملوں میں سو سے زائد ہلاکتیں

ان ممالک میں برطانیہ بھی شامل ہے اور ان سترہ ملکوں کے وزرائے خارجہ کے لندن میں وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل اور لبنان کو آپس میں قیام امن کا یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے۔

بیان میں کہا گیا، ’’ان براہ راست سفارتی مذاکرات سے وہ راہ ہموار کی جا سکتی ہے، جس پر چل کر آئندہ لبنان اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ خطے میں بھی دیرپا سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔‘‘

’گریٹر اسرائیل‘ کیا ہے؟

https://p.dw.com/p/5CAIs
بوشہر کے ایرانی جوہری پلانٹ میں اب ہمارے بیس کارکن موجود ہیں، روسی ادارے کے سربراہ کا بیان سیکشن پر جائیں
14 اپریل 2026

بوشہر کے ایرانی جوہری پلانٹ میں اب ہمارے بیس کارکن موجود ہیں، روسی ادارے کے سربراہ کا بیان

بوشہر کے ایرانی ایٹمی بجلی گھر کے پلانٹ کی اندر سے لی گئی ایک تصویر
بوشہر کے ایرانی ایٹمی بجلی گھر کے پلانٹ کی اندر سے لی گئی ایک تصویرتصویر: Iranian Presidency/APA Images/ZUMA/picture alliance

روس کے جوہری توانائی کے ریاستی ادارے روساٹوم کے سربراہ نے منگل 14 اپریل کے روز کہا کہ ایران کے شہر بوشہر میں واقع جوہری بجلی گھر میں اب اس کے صرف 20 کارکن موجود ہیں۔

ایران پر اسرائیلی حملے اور جوہری آلودگی کے خطرات

روس کی اسٹیٹ نیوکلیئر کارپوریشن کی طرف سے کل پیر کے دن کہا گیا تھا کہ اس نے بوشہر کے ایرانی ایٹمی بجلی گھر سے اپنے عملے کے انخلا کے حتمی مرحلے کا آغاز کر دیا تھا۔ اب اس روسی کارپویشن کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ وہاں اس کے عملے کے ارکان میں سے فی الوقت صرف 20 باقی ہیں۔

ایران کو اپنا جوہری توانائی پلانٹ کیوں بند کرنا پڑا؟

ایران میں بوشہر کی نیول بیس پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد لی گئی ایک سیٹلائٹ تصویر
ایران میں بوشہر کی نیول بیس پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد لی گئی ایک سیٹلائٹ تصویرتصویر: Vantor/AP Photo/picture alliance

روساٹوم کی طرف سے بوشہر کی جوہری تنصیبات والے علاقے میں دو نئے یونٹ تعمیر کیے جا رہے تھے، مگر 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں اور ان کے ساتھ ہی ایران جنگ کے آغاز کے بعد اس روسی نیوکلیئر کارپوریشن نے بوشہر سے اپنے عملے کے سینکڑوں ارکان کو نکال لیا تھا۔

آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی، ایران پر اقتصادی دباؤ زیادہ

روساٹوم کے سربراہ الیکسی لیخاچوف نے کہا کہ روساٹوم کو لازمی طور پر اس حالت میں رہنا چاہیے کہ بوشہر کے جوہری بجلی گھر کے دوسرے اور تیسرے یونٹ کی تعمیر کا کام کسی بھی وقت دوبارہ شروع کرنے کے لیے اس کی تیاریاں ہر ممکن حد تک مکمل ہوں۔

انہوں نے کہا، ’’ان دونوں یونٹوں پر کام کی بحالی، وہ جب بھی ممکن ہو، ہماری اولین ترجیح رہے گی۔‘‘

روساٹوم کے سربراہ الیکسی لیخاچوف
روساٹوم کے سربراہ الیکسی لیخاچوفتصویر: Alexander Ryumin/ITAR-TASS/imago images

پاکستان اب امریکی ایرانی مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوشاں

لیخاچوف نے کہا، ’’ہم نے وہاں سے اپنے کارکنوں کے جس آخری گروپ کو نکالا ہے، وہ 108 افراد پر مشتمل ہے اور یہ گروپ متوقع طور پر منگل 14 اپریل کی رات زمینی سر‌حد پار کر کے ایران سے آرمینیا میں داخل ہو جائے گا۔

https://p.dw.com/p/5CA7m
یورپی یونین میں ایران جنگ کے باعث ابھی تک فضائی ایندھن کی قلت نہیں لیکن تشویش ہے، یورپی کمیشن سیکشن پر جائیں
14 اپریل 2026

یورپی یونین میں ایران جنگ کے باعث ابھی تک فضائی ایندھن کی قلت نہیں لیکن تشویش ہے، یورپی کمیشن

جرمن شہر میونخ کے ایئر پورٹ پر لفتھانزا کے مسافر طیارے
جرمن شہر میونخ کے ایئر پورٹ پر لفتھانزا کے مسافر طیارےتصویر: Frank Hoermann/SvenSimon/picture alliance

یورپی یونین کے انتظامی بازو یورپی کمیشن کی طرف سے منگل 14 اپریل کے روز بتایا گیا کہ ایران جنگ کے باعث یونین کے رکن 27 ممالک میں ابھی تک فضائی سفر کے لیے استعمال ہونے والے جیٹ فیول کی کوئی کمی تو نہں، تاہم کمیشن کو اس بات پر گہری تشویش ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ جاری رہی، تو مستقبل قریب میں فضائی ایندھن کی سپلائی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی، ایران پر اقتصادی دباؤ زیادہ

برسلز میں یورپی یونین کے صدر دفاتر سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق نیوز ایجنسی روئٹرز کو ملنے والی ایک یورپی دستاویز میں اس بلاک نے یونین کے رکن ممالک کی فضائی کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران جنگ کے اثرات کے باعث پیدا ہونے والے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے طور پر ہنگامی اقدامات کریں۔

برسلز میں یورپی یونین کے صدر دفاتر کے باہر رکن ممالک کے قومی پرچم
برسلز میں یورپی یونین کے صدر دفاتر کے باہر رکن ممالک کے قومی پرچمتصویر: Nicolas Tucat/AFP/Getty Images

یورپی ایئر لائنز کو جن ممکنہ حالات کے قبل از وقت تدارک کے لیے ایمرجنسی اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے، ان میں مختلف خطوں میں وسیع تر فضائی حدود کی بندش اور جیٹ فیول کی ممکنہ کمی سے پیدا ہونے والی صورت حال بھی شامل ہیں۔

امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کو عملاﹰ بلاک کر دیا، ٹرمپ

اس بارے میں برسلز میں یورپی کمیشن کے ایک ترجمان نے روئٹرز کو بتایا، ’’ابھی تک یورپی یونین میں جیٹ فیول کی کمی کے کوئی شواہد نہیں ہیں، لیکن مستقبل قریب میں اس شعبے میں ایندھن کی دستیابی میں رکاوٹوں جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔‘‘

تیل کے بحران کے باوجود برلن کا نواحی گاؤں توانائی میں خود کفیل کیسے بنا؟

جرمن شہر برلن میں ایک پٹرول پمپ کے سامنے لگا، بہت زیادہ ہو چکی قیمتوں کا بورڈ
جرمن شہر برلن میں ایک پٹرول پمپ کے سامنے لگا، بہت زیادہ ہو چکی قیمتوں کا بورڈتصویر: Achille Abboud/IMAGO

ایران جنگ: عالمی معیشت کے لیے ایک اور تاریک باب

یورپی کمیشن کے ترجمان نے کہا، ’’یورپی ممالک کی ریفائنریوں کو خام تیل کی ترسیل ابھی تک مستحکم ہے۔ اس وجہ سے محفوظ ذخائر میں سے اضافی خام تیل جاری کر دیے جانے کی فی الحال ضرورت نہیں۔ تاہم یہ معاملہ ابھی تک ہمارے لیے تشویش کی بنیادی وجہ بنا ہوا ہے۔‘‘

https://p.dw.com/p/5CA1l
اطالوی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ معطل کر دیا، وجہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات سیکشن پر جائیں
14 اپریل 2026

اطالوی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ معطل کر دیا، وجہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات

اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کی روم میں ملکی سینیٹ کے ایک اجلاس کے دوران لی گئی ایک تصویر
اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کی روم میں ملکی سینیٹ کے ایک اجلاس کے دوران لی گئی ایک تصویرتصویر: Mauro Scrobogna/LaPresse/picture alliance

یورپی یونین کے رکن ملک اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی شعبے میں تعاون کے اپنے معاہدے کو معطل کر دیا ہے۔ یہ بات اطالوی خاتون وزیر اعظم جارجیا میلونی نے منگل 14 اپریل کے روز کہی۔

اسلام آباد مذاکرات، اہم نکات کیا ہیں؟

ملکی دارالحکومت روم سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق جارجیا میلونی نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کا وہ معاہدہ، جس کی خود بجود تجدید ہو جانا تھی، اب معطل کر دیا گیا ہے۔

صنعتی طور پر ترقی یافتہ ملکوں کے گروپ جی سیون کے رکن اٹلی کی سربراہ حکومت جارجیا میلونی نے کہا کہ ان کی حکومت نے یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ میں پائے جانے والے موجودہ تنازعات کی وجہ سے کیا ہے۔

جارجیا میلونی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ، گزشتہ برس اکتوبر میں شرم الشیخ میں
جارجیا میلونی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ، گزشتہ برس اکتوبر میں شرم الشیخ میںتصویر: Ufficio Stampa/AGF/SIPA/picture alliance

اٹلی یورپ میں اسرائیل کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک

وزیر اعظم جارجیا میلونی دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی حکومت کی سربراہ ہیں اور اٹلی کو روایتی طور پر یورپ میں اسرائیل کے قریب ترین اتحادیوں میں سے ایک سمجھا جاتا رہا ہے۔

ایران امریکہ سیزفائر ڈیل میں لبنان پر شدید اسرائیلی حملوں کے باعث دراڑیں

تاہم حالیہ ہفتوں کے دوران روم حکومت کی طرف سے اسرائیل پر اس کی فوج اور فضائیہ کے ہمسایہ ملک لبنان پر مسلسل اور ہلاکت خیز حملوں کی وجہ سے شدید تنقید بھی کی جاتی رہی ہے۔

لبنان پر ان اسرائیلی حملوں کے مجموعی طور پر لاکھوں متاثرین میں وہاں اقوام متحدہ کے مینیڈیٹ کے تحت فرائض انجام دینے والے اطالوی فوجی دستے بھی شامل تھے۔

ایران جنگ بند مگر بیروت پر اسرائیلی حملوں میں سو سے زائد ہلاکتیں

اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی اور اس وقت کے عبوری لبنانی وزیر اعظم نجیب میقاتی کی بیروت میں ملاقات، اکتوبر دو ہزار چوبیس میں لی گئی ایک تصویر
اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی اور اس وقت کے عبوری لبنانی وزیر اعظم نجیب میقاتی کی بیروت میں ملاقات، اکتوبر دو ہزار چوبیس میں لی گئی ایک تصویرتصویر: Hassan Ammar/AP Photo/picture alliance

ملکی نیوز ایجنسیوں کے مطابق جارجیا میلونی نے شمالی اٹلی کے شہر ویرونا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’موجودہ صورت حال کی روشنی میں حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خود بخود تجدید معطل کر دی جائے۔‘‘

معاہدے کی معطلی کے نتائج

اطالوی وزارت دفاع کے ایک ذریعے نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ اس دوطرفہ معاہدے کی معطلی کا ایک نتیجہ یہ بھی ہو گا کہ اب اٹلی اسرائیل کے ساتھ فوجی تربیتی شعبے میں کوئی تعاون نہیں کرے گا۔

ایران جنگ سے کس کو برتری ملی، کس کا اثر و رسوخ کم ہوا؟

لبنانی دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد کا منظر، دو روز پہلے بارہ اپریل کو لی گئی ایک تصویر
لبنانی دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد کا منظر، دو روز پہلے بارہ اپریل کو لی گئی ایک تصویرتصویر: Marwan Naamani/ZUMA/IMAGO

وزارت دفاع کے اس ذریعے نے، جسے میڈیا سے بات کرنے کا اختیار نہیں تھا، روئٹرز کو بتایا کہ جارجیا میلونی نے اسرائیل کے ساتھ اس معاہدے کو معطل کرنے کا فیصلہ  پیر 13 اپریل کو کیا اور یہ فیصلہ وزیر خارجہ انٹونیو تاجانی، وزیر دفاع گیڈو کروسیٹو اور نائب وزیر اعظم ماتیو سالوینی  کے ساتھ مشاورت سے کیا گیا۔

مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے چینی صدر شی جن پنگ کی چار نکاتی تجویز

روئٹرز کے مطابق اٹلی کی حکومت کے اس فیصلے پر اسرائیلی موقف جاننے کے لیے جب اسرائیل میں وزارت خارجہ سے تحریری درخواست کی گئی، تو اس کا کوئی فوری جواب نہ دیا گیا۔

حزب اللہ لبنان میں طاقت ور کیوں ہے؟

https://p.dw.com/p/5C9hm
قطر پر ایرانی حملے رکوانے کے لیے تہران کو مالی ادائیگیوں پر کبھی کوئی بات نہیں ہوئی، دوحہ حکومت سیکشن پر جائیں
14 اپریل 2026

قطر پر ایرانی حملے رکوانے کے لیے تہران کو مالی ادائیگیوں پر کبھی کوئی بات نہیں ہوئی، دوحہ حکومت

قطر کے دارالحکومت دوحہ کی فضا میں ایران کی طرف سے فائر کردہ دو بیلسٹک میزائل، مارچ کی تین تاریخ کو لی گئی ایک تصویر
قطر کے دارالحکومت دوحہ کی فضا میں ایران کی طرف سے فائر کردہ دو بیلسٹک میزائل، مارچ کی تین تاریخ کو لی گئی ایک تصویرتصویر: Mahmud Hams/AFP

خلیجی عرب ریاست قطر میں حکام نے زور دے کر کہا ہے کہ اس عرب امارت اور ایران کے مابین اس بارے میں کبھی کوئی بات نہیں ہوئی کہ قطر پر ایرانی حملے رکوانے کے لیے تہران کو کوئی مالی ادائیگیاں کی جا سکتی تھیں۔

ایران جنگ جاری رہی تو جلد ہی توانائی برآمدات رک سکتی ہیں، قطر

قطر کے دارالحکومت دوحہ سے منگل 14 اپریل کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق اس خلیجی ریاست کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایسے تمام درپردہ دعوے یا مبینہ اشارے قطعی غلط اور بے بنیاد ہیں کہ قطر نے کبھی بھی ایران کے ساتھ اس بارے میں کوئی بات چیت کی ہے کہ اگر وہ اس ملک پر اپنے حملے روک دے، تو اسے مالی ادائیگیاں کی جا سکتی تھیں۔

پاک افغان کشیدگی، سعودی عرب اور قطر جنگ بندی کی کوششوں میں

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق دوحہ میں قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران آج کہا کہ اس بارے میں تو آج تک کبھی کوئی بات ہوئی ہی نہیں کہ ایران کی طرف سے قطر پر حملے بند کیے جانے پر دوحہ حکومت تہران کو کوئی رقوم ادا کر سکتی تھی۔

ایران جنگ بند مگر بیروت پر اسرائیلی حملوں میں سو سے زائد ہلاکتیں

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری پریس بریفنگ کے دوران
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری پریس بریفنگ کے دورانتصویر: Imad Creidi/REUTERS

ٹرمپ مشرق وسطی کے ’طاقتور‘ رہنماؤں کی قربت کے خواہاں کیوں؟

ماجد الانصاری نے واضح طور پر کہا، ’’ایران جنگ سے متعلق قطر کے پاکستان اور امریکہ کے ساتھ اعلیٰ سطحی اور مربوط رابطے جاری ہیں اور ہم ایران سے اپنے مطالبات صرف انہی رابطوں کے ذریعے پیش کر رہے ہیں۔‘‘

https://p.dw.com/p/5C9VT
اٹلی کا جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات جاری رکھنے اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھولے جانے کا مطالبہ سیکشن پر جائیں
14 اپریل 2026

اٹلی کا جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات جاری رکھنے اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھولے جانے کا مطالبہ

اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کی برسلز میں یورپی کونسل کے ایک سربراہی اجلاس میں شرکت سے قبل لی گئی ایک تصویر
اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کی برسلز میں یورپی کونسل کے ایک سربراہی اجلاس میں شرکت سے قبل لی گئی ایک تصویرتصویر: Benoit Doppagne/Belga/IMAGO

اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے کہا ہے کہ ایران جنگ اور مشرق وسطیٰ میں جاری خونریز بحران کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین امن مذاکرات جاری رہیں اور خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کو بھی تجارتی جہاز رانی کے لیے بلاتاخیر دوبارہ کھولا جائے۔

آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی، ایران پر اقتصادی دباؤ زیادہ

اٹلی کے دارالحکومت روم سے منگل 14 اپریل کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق وزیر اعظم میلونی نے شمالی اٹلی کے شہر ویرونا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ ضروری ہے کہ امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوششیں جاری رہیں، ہر وہ ممکنہ کاوش کی جائے جس کی مدد سے خطے میں صورت حال کو دوبارہ مستحکم کیا جا سکے، اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو بھی معمول کی کمرشل شپنگ کے لیے کھولا جائے، کیونکہ یہ ہم سب کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل سمندری تجارتی راستہ ہے۔‘‘

امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کو عملاﹰ بلاک کر دیا، ٹرمپ

انڈونیشیا میں یوریا کھاد کو تھیلوں میں بھرتا ہوا ایک صنعتی کارکن
دنیا کے بہت سے ممالک کو ان کے زرعی شعبے کے لیے کیمیائی کھادوں کی بین الاقوامی ترسیل آبنائے ہرمز کے راستے ہی ہوتی ہےتصویر: Dasril Roszandi/ZUMA/IMAGO

جارجیا میلونی نے صحافیوں کو بتایا، ’’آبنائے ہرمز عالمی سطح پر صرف خام تیل اور گیس کی برآمد کے لیے ہی اہم نہیں بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر زرعی شعبے کے لیے کیمیائی کھادوں کی ترسیل کا بھی انتہائی اہم راستہ ہے۔‘‘

ٹرمپ کا ایرانی جزیرے خارگ کے آئل ٹرمینل پر قبضے پر غور

اطالوی وزیر اعظم نے یہ باتیں ویرونا میں اٹلی کی وائن تیار کرنے والی صنعت کے اہتمام کردہ ایک تجارتی میلے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔

https://p.dw.com/p/5C96j
جنگ بندی ڈیل کی امید میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی، اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی سیکشن پر جائیں
14 اپریل 2026

جنگ بندی ڈیل کی امید میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی، اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی

یورپی ملک نیدرلینڈز کے شہر روٹرڈیم میں تیل کے اسٹریٹیجک ذخائر کی تنصیبات کی ایک تصویر
یورپی ملک نیدرلینڈز کے شہر روٹرڈیم میں تیل کے اسٹریٹیجک ذخائر کی تنصیبات کی ایک تصویرتصویر: Jasper Juinen/dpa/picture alliance

ایران جنگ میں موجودہ فائر بندی کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے مابین کسی ممکنہ جنگ بندی ڈیل کی امید کے باعث منگل 14 اپریل کو عالمی منڈیوں میں خام تیل کی فی بیرل قیمتوں میں کچھ کمی ہوئی جبکہ بین الاقوامی اسٹاک مارکیٹوں میں حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

پاکستان اب امریکی ایرانی مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوشاں

یہ تبدیلی خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد دیکھنے میں آئی جس میں انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کی طرف سے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی عملاﹰ شروع ہو تو گئی ہے، تاہم ایران کی طرف سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ اس عسکری تنازعے کے حل کے لیے معاہدے کا خواہش مند ہے۔

تہران اور واشنگٹن کے مابین پاکستانکے دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ ویک اینڈ پر جو براہ راست مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں ہوئے تھے، ان میں کوئی جامع اتفاق رائے تو نہیں ہو سکا تھا، تاہم عالمی سطح پر سرمایہ کاروں نے اس بات کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا تھا کہ دونوں جنگی حریف ممالک کے مابین کچھ معاملات پر اتفاق رائے تو ہو ہی گیا تھا۔

ایران امریکہ کے ساتھ ’کھیل‘ نہ کھیلے، جے ڈی وینس کی وارننگ

دنیا کی سب سے بڑی اسٹاک مارکیٹ نیو یارک اسٹاک ایکسچینج کے ٹریڈنگ فلور پر بدلتی قیمتوں پر نظر رکھے ہوئے ایک ٹریڈر
دنیا کی سب سے بڑی اسٹاک مارکیٹ نیو یارک اسٹاک ایکسچینج کے ٹریڈنگ فلور پر بدلتی قیمتوں پر نظر رکھے ہوئے ایک ٹریڈرتصویر: Charly Triballeau/AFP

ایران جنگ سے کس کو برتری ملی، کس کا اثر و رسوخ کم ہوا؟

اس امید پسندی کی ایک وجہ ایران کی طرف سے دیا جانے والا یہ بیان بھی بنا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد مذاکرات کے دوران ایک وقت پر تو بات چیت کے دونوں فریق ممکنہ ڈیل سے صرف ’’چند انچوں‘‘ کی دوری پر تھے۔

https://p.dw.com/p/5C8jl
امریکی بحریہ کی طرف سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث ایران پر اقتصادی دباؤ میں اضافہ سیکشن پر جائیں
14 اپریل 2026

امریکی بحریہ کی طرف سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث ایران پر اقتصادی دباؤ میں اضافہ

ایران سے تیل کی برآمد میں اس کی خارگ نامی جزیرے پر برآمدی تنصیبات (تصویر) کلیدی کردار ادا کرتی ہیں
ایران سے تیل کی برآمد میں اس کی خارگ نامی جزیرے پر برآمدی تنصیبات (تصویر) کلیدی کردار ادا کرتی ہیںتصویر: Fatemeh Bahrami/Anadolu Agency/IMAGO

خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران پر اقتصادی اور مالیاتی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ ایران اب تک جتنا بھی تیل برآمد کر پاتا ہے، اس کے رک جانے سے تہران کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ معطل ہو جائے گا۔

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے 28 فروری کے فضائی حملوں کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں جس جنگ کا آغاز ہوا تھا، وہ ابھی ختم نہیں ہوئی، تاہم اس میں دو ہفتے کی فائر بندی ابھی جاری ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مابین گزشتہ ہفتے کے روز پاکستان ہی کی ثالثی کوششوں کے نتیجے میں جو مذاکرات ہوئے تھے، ان کے بے نتیجہ اختتام کے دو دن بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل پیر 13 اپریل کو اعلان کیا تھا کہ ان کے حکم پر امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں تمام ایرانی بندرگاہوں کو عملی طور پر بلاک کر دیا ہے۔

آبنائے ہرمز سے گزرتا ہوا ایک کارگو ٹینکر
آبنائے ہرمز سے گزرتا ہوا ایک کارگو ٹینکرتصویر: IMAGO/Anadolu Agency

ایران پر مذاکرات کی میز پر واپسی کے لیے دباؤ

اس بلاکیڈ کے تحت آبنائے ہرمز کو جانے والے اور وہاں سے آنے والے تمام مال بردار بحری جہازوں کی نگرانی کی جائے گی اور تیل کی برآمدات کی حد تک یہ عمل امریکہ کی طرف سے ایران کی بحری ناکہ بندی ہی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام کا مقصد تہران میں ملکی قیادت پر اس مقصد کے لیے دباؤ میں مزید اضافہ کرنا ہے کہ ایران دوبارہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر لوٹ آئے۔

ایران میں داخلی کشمکش، جنگ بندی کو لاحق سب سے بڑا خطرہ

اس امریکی بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران پر، جو پہلے ہی پابندیوں کی وجہ سے اپنا تیل دیگر ممالک کی طرح آسانی سے برآمد نہیں کر سکتا، اقتصادی اور مالی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ اگر یہ ناکہ بندی کافی عرصے تک جاری رہی، تو ایران کے لیے اسے ابھی تک دستیاب اس مالی آمدنی کا ذریعہ بھی غیر فعال ہو جائے گا، جس کی اسے اشد ضرورت ہے۔

اسلام آباد مذاکرات، اہم نکات کیا ہیں؟

آبنائے ہرمز سے گزرنے والی سمندری ٹریفک، میرین ٹریفک نامی ویب سائٹ سے لیا گیا ایک اسکرین شاٹ
آبنائے ہرمز سے گزرنے والی سمندری ٹریفک، میرین ٹریفک نامی ویب سائٹ سے لیا گیا ایک اسکرین شاٹتصویر: www.marinetraffic.com

ایرانی تیل کی یومیہ برآمدات تقریباﹰ دو ملین بیرل

ایران اب بھی یومیہ بنیادوں پر اپنا تقریباﹰ دو ملین بیرل تیل برآمد کرتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایرانی بندرگاہوں کو بلاک کر کے امریکہ  ایران کو حاصل اس برتر اسٹریٹیجک پوزیشن کو ختم کرنا چاہتا ہے، جو اسے آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور بحری مال برداری کو زیادہ تر روک دینے سے حاصل ہوئی ہے۔
امریکی نیوی نے آبنائے ہرمز کو اس لیے بھی بلاک کیا ہے کہ ایران کو ٹول ٹیکس کے طور پر اس تنگ سمندری راستے سے گزرنے والے مال بردار بحری جہازوں سے مالی وصولی  سے روکا جا سکے۔

ایران جنگ سے کس کو برتری ملی، کس کا اثر و رسوخ کم ہوا؟

کچھ میڈیا رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے کارگو بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے کے لیے مبینہ طور پر دو ملین ڈالر (1.71 ملین یورو)  فی جہاز وصول کر رہا ہے، جو بظاہر بہت بڑی رقم ہے۔

دنیا بھر کو خام تیل اور قدرتی گیس کی برآمدات کے لیے آبنائے ہرمز اس لیے کلیدی اہمیت کی حامل ہے کہ عالمی منڈیوں کو تیل اور گیس کی سپلائی کا تقریباﹰ پانچواں حصہ اسے آبنائے سے ہو کر گزرتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر

آبنائے ہرمز اتنی اہم کیوں ہے؟

https://p.dw.com/p/5C8H3
مزید پوسٹیں
Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔