آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی، ایران پر اقتصادی دباؤ زیادہ
وقت اشاعت 14 اپریل 2026آخری اپ ڈیٹ 14 اپریل 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- اسرائیل اور لبنان کے مابین عشروں بعد پہلے براہ راست سفارتی مذاکرات واشنگٹن میں، روبیو بھی شریک
- بوشہر کے ایرانی جوہری پلانٹ میں اب ہمارے بیس کارکن موجود ہیں، روسی ادارے کے سربراہ کا بیان
- یورپی یونین میں ایران جنگ کے باعث تاحال فضائی ایندھن کی قلت نہیں لیکن تشویش ہے، یورپی کمیشن
- اطالوی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ معطل کر دیا، وجہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات
- قطر پر ایرانی حملے رکوانے کے لیے تہران کو مالی ادائیگیوں کی کبھی بات ہی نہیں ہوئی، دوحہ حکومت
- اٹلی کا جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات جاری رکھنے اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھولے جانے کا مطالبہ
- جنگ بندی ڈیل کی امید میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی، اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی
- ایرانی تیل کی یومیہ برآمدات تقریباﹰ دو ملین بیرل، بلاکیڈ کا مقصد تہران کی مذاکرات کی میز پر واپسی
- امریکی بحریہ کی طرف سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث ایران پر اقتصادی اور مالیاتی دباؤ میں اضافہ
اسرائیل اور لبنان کے مابین عشروں بعد پہلے براہ راست سفارتی مذاکرات واشنگٹن میں، روبیو بھی شریک
اسرائیل اور لبنان کے مابین عشروں بعد پہلے براہ راست سفارتی مذاکرات امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں مقامی وقت کے مطابق آج منگل کی شام شروع ہو رہے ہیں، جن میں میزبان ملک کے وزیر خارجہ کے طور پر مارکو روبیو بھی شریک ہو رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی، ایران پر اقتصادی دباؤ زیادہ
بیروت اور واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ان مذاکرات میں فریقین کے مابین بات چیت اس پس منظر میں ہو گی کہ 28 فروری کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل کے ہمسایہ ملک لبنان میں ایران نواز ملیشیا حزب اللہ بھی اسرائیل کے خلاف جنگ شروع کر چکی ہے۔
اس جنگ میں اب تک حزب اللہ کی طرف سے بار بار اسرائیل کی طرف راکٹ اور میزائل فائر کیے جاتے رہے جبکہ اسرائیل نے بھی لبنانی دارالحکومت بیروت پر، جنوبی لبنان میں اور وادی بیقا پر نہ صرف مسلسل فضائی حملے کیے بلکہ اسرائیلی فوج بھی اب تک لبنان میں موجود ہے اور وہاں اپنی مسلح کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیل کی حزب اللہ کے خلاف یہ نئی جنگ لبنان کے لیے ایک نیا اور بہت بڑا دھچکہ ثابت ہوئی ہے۔
امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کو عملاﹰ بلاک کر دیا، ٹرمپ
لبنان میں ہونے والی ہلاکتیں
لبنانی وزارت صحت کے مطابق ایک ماہ سے بھی زیادہ عرصے سے جاری اس جنگ میں لبنان میں کم از کم بھی 2,089 افراد اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں 252 خواتین، 166 بچے اور 88 طبی کارکن بھی شامل تھے۔
اس کے علاوہ یہی اسرائیلی عسکری کارروائیاں اب تک لبنان میں 6,762 افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بھی بن چکی ہیں جبکہ ان حملوں کے باعث اب تک مشرق وسطیٰ کے اس ملک میں ایک ملین سے زائد شہری بے گھر بھی ہو چکے ہیں۔
ایران امریکہ کے ساتھ ’کھیل‘ نہ کھیلے، جے ڈی وینس کی وارننگ
واشنگٹن میں ان اسرائیلی لبنانی مذاکرات میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی شامل ہوں گے جبکہ دیگر شرکاء میں امریکہ میں اسرائیلی سفیر اور واشنگٹن میں تعینات لبنانی سفیر بھی شامل ہوں گے۔
ایران امریکہ سیزفائر ڈیل میں لبنان پر شدید اسرائیلی حملوں کے باعث دراڑیں
سترہ ممالک کے وزرائے خارجہ کا اسرائیل اور لبنان سے مطالبہ
واشنگٹن میں انہی اسرائیلی لبنانی مذاکرات کے پیش منظر میں 17 مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل اور لبنان دونوں سے بھرپور اپیل کی ہے کہ وہ قیام امن کے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور بات چیت میں کسی ٹھوس اور مثبت نتیجے تک پہنچیں۔
ایران جنگ بند مگر بیروت پر اسرائیلی حملوں میں سو سے زائد ہلاکتیں
ان ممالک میں برطانیہ بھی شامل ہے اور ان سترہ ملکوں کے وزرائے خارجہ کے لندن میں وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل اور لبنان کو آپس میں قیام امن کا یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا، ’’ان براہ راست سفارتی مذاکرات سے وہ راہ ہموار کی جا سکتی ہے، جس پر چل کر آئندہ لبنان اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ خطے میں بھی دیرپا سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔‘‘
بوشہر کے ایرانی جوہری پلانٹ میں اب ہمارے بیس کارکن موجود ہیں، روسی ادارے کے سربراہ کا بیان
روس کے جوہری توانائی کے ریاستی ادارے روساٹوم کے سربراہ نے منگل 14 اپریل کے روز کہا کہ ایران کے شہر بوشہر میں واقع جوہری بجلی گھر میں اب اس کے صرف 20 کارکن موجود ہیں۔
ایران پر اسرائیلی حملے اور جوہری آلودگی کے خطرات
روس کی اسٹیٹ نیوکلیئر کارپوریشن کی طرف سے کل پیر کے دن کہا گیا تھا کہ اس نے بوشہر کے ایرانی ایٹمی بجلی گھر سے اپنے عملے کے انخلا کے حتمی مرحلے کا آغاز کر دیا تھا۔ اب اس روسی کارپویشن کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ وہاں اس کے عملے کے ارکان میں سے فی الوقت صرف 20 باقی ہیں۔
ایران کو اپنا جوہری توانائی پلانٹ کیوں بند کرنا پڑا؟
روساٹوم کی طرف سے بوشہر کی جوہری تنصیبات والے علاقے میں دو نئے یونٹ تعمیر کیے جا رہے تھے، مگر 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں اور ان کے ساتھ ہی ایران جنگ کے آغاز کے بعد اس روسی نیوکلیئر کارپوریشن نے بوشہر سے اپنے عملے کے سینکڑوں ارکان کو نکال لیا تھا۔
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی، ایران پر اقتصادی دباؤ زیادہ
روساٹوم کے سربراہ الیکسی لیخاچوف نے کہا کہ روساٹوم کو لازمی طور پر اس حالت میں رہنا چاہیے کہ بوشہر کے جوہری بجلی گھر کے دوسرے اور تیسرے یونٹ کی تعمیر کا کام کسی بھی وقت دوبارہ شروع کرنے کے لیے اس کی تیاریاں ہر ممکن حد تک مکمل ہوں۔
انہوں نے کہا، ’’ان دونوں یونٹوں پر کام کی بحالی، وہ جب بھی ممکن ہو، ہماری اولین ترجیح رہے گی۔‘‘
پاکستان اب امریکی ایرانی مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوشاں
لیخاچوف نے کہا، ’’ہم نے وہاں سے اپنے کارکنوں کے جس آخری گروپ کو نکالا ہے، وہ 108 افراد پر مشتمل ہے اور یہ گروپ متوقع طور پر منگل 14 اپریل کی رات زمینی سرحد پار کر کے ایران سے آرمینیا میں داخل ہو جائے گا۔
یورپی یونین میں ایران جنگ کے باعث ابھی تک فضائی ایندھن کی قلت نہیں لیکن تشویش ہے، یورپی کمیشن
یورپی یونین کے انتظامی بازو یورپی کمیشن کی طرف سے منگل 14 اپریل کے روز بتایا گیا کہ ایران جنگ کے باعث یونین کے رکن 27 ممالک میں ابھی تک فضائی سفر کے لیے استعمال ہونے والے جیٹ فیول کی کوئی کمی تو نہں، تاہم کمیشن کو اس بات پر گہری تشویش ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ جاری رہی، تو مستقبل قریب میں فضائی ایندھن کی سپلائی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی، ایران پر اقتصادی دباؤ زیادہ
برسلز میں یورپی یونین کے صدر دفاتر سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق نیوز ایجنسی روئٹرز کو ملنے والی ایک یورپی دستاویز میں اس بلاک نے یونین کے رکن ممالک کی فضائی کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران جنگ کے اثرات کے باعث پیدا ہونے والے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے طور پر ہنگامی اقدامات کریں۔
یورپی ایئر لائنز کو جن ممکنہ حالات کے قبل از وقت تدارک کے لیے ایمرجنسی اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے، ان میں مختلف خطوں میں وسیع تر فضائی حدود کی بندش اور جیٹ فیول کی ممکنہ کمی سے پیدا ہونے والی صورت حال بھی شامل ہیں۔
امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کو عملاﹰ بلاک کر دیا، ٹرمپ
اس بارے میں برسلز میں یورپی کمیشن کے ایک ترجمان نے روئٹرز کو بتایا، ’’ابھی تک یورپی یونین میں جیٹ فیول کی کمی کے کوئی شواہد نہیں ہیں، لیکن مستقبل قریب میں اس شعبے میں ایندھن کی دستیابی میں رکاوٹوں جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔‘‘
تیل کے بحران کے باوجود برلن کا نواحی گاؤں توانائی میں خود کفیل کیسے بنا؟
ایران جنگ: عالمی معیشت کے لیے ایک اور تاریک باب
یورپی کمیشن کے ترجمان نے کہا، ’’یورپی ممالک کی ریفائنریوں کو خام تیل کی ترسیل ابھی تک مستحکم ہے۔ اس وجہ سے محفوظ ذخائر میں سے اضافی خام تیل جاری کر دیے جانے کی فی الحال ضرورت نہیں۔ تاہم یہ معاملہ ابھی تک ہمارے لیے تشویش کی بنیادی وجہ بنا ہوا ہے۔‘‘
اطالوی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ معطل کر دیا، وجہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات
یورپی یونین کے رکن ملک اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی شعبے میں تعاون کے اپنے معاہدے کو معطل کر دیا ہے۔ یہ بات اطالوی خاتون وزیر اعظم جارجیا میلونی نے منگل 14 اپریل کے روز کہی۔
اسلام آباد مذاکرات، اہم نکات کیا ہیں؟
ملکی دارالحکومت روم سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق جارجیا میلونی نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کا وہ معاہدہ، جس کی خود بجود تجدید ہو جانا تھی، اب معطل کر دیا گیا ہے۔
صنعتی طور پر ترقی یافتہ ملکوں کے گروپ جی سیون کے رکن اٹلی کی سربراہ حکومت جارجیا میلونی نے کہا کہ ان کی حکومت نے یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ میں پائے جانے والے موجودہ تنازعات کی وجہ سے کیا ہے۔
اٹلی یورپ میں اسرائیل کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک
وزیر اعظم جارجیا میلونی دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی حکومت کی سربراہ ہیں اور اٹلی کو روایتی طور پر یورپ میں اسرائیل کے قریب ترین اتحادیوں میں سے ایک سمجھا جاتا رہا ہے۔
ایران امریکہ سیزفائر ڈیل میں لبنان پر شدید اسرائیلی حملوں کے باعث دراڑیں
تاہم حالیہ ہفتوں کے دوران روم حکومت کی طرف سے اسرائیل پر اس کی فوج اور فضائیہ کے ہمسایہ ملک لبنان پر مسلسل اور ہلاکت خیز حملوں کی وجہ سے شدید تنقید بھی کی جاتی رہی ہے۔
لبنان پر ان اسرائیلی حملوں کے مجموعی طور پر لاکھوں متاثرین میں وہاں اقوام متحدہ کے مینیڈیٹ کے تحت فرائض انجام دینے والے اطالوی فوجی دستے بھی شامل تھے۔
ایران جنگ بند مگر بیروت پر اسرائیلی حملوں میں سو سے زائد ہلاکتیں
ملکی نیوز ایجنسیوں کے مطابق جارجیا میلونی نے شمالی اٹلی کے شہر ویرونا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’موجودہ صورت حال کی روشنی میں حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خود بخود تجدید معطل کر دی جائے۔‘‘
معاہدے کی معطلی کے نتائج
اطالوی وزارت دفاع کے ایک ذریعے نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ اس دوطرفہ معاہدے کی معطلی کا ایک نتیجہ یہ بھی ہو گا کہ اب اٹلی اسرائیل کے ساتھ فوجی تربیتی شعبے میں کوئی تعاون نہیں کرے گا۔
ایران جنگ سے کس کو برتری ملی، کس کا اثر و رسوخ کم ہوا؟
وزارت دفاع کے اس ذریعے نے، جسے میڈیا سے بات کرنے کا اختیار نہیں تھا، روئٹرز کو بتایا کہ جارجیا میلونی نے اسرائیل کے ساتھ اس معاہدے کو معطل کرنے کا فیصلہ پیر 13 اپریل کو کیا اور یہ فیصلہ وزیر خارجہ انٹونیو تاجانی، وزیر دفاع گیڈو کروسیٹو اور نائب وزیر اعظم ماتیو سالوینی کے ساتھ مشاورت سے کیا گیا۔
مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے چینی صدر شی جن پنگ کی چار نکاتی تجویز
روئٹرز کے مطابق اٹلی کی حکومت کے اس فیصلے پر اسرائیلی موقف جاننے کے لیے جب اسرائیل میں وزارت خارجہ سے تحریری درخواست کی گئی، تو اس کا کوئی فوری جواب نہ دیا گیا۔
قطر پر ایرانی حملے رکوانے کے لیے تہران کو مالی ادائیگیوں پر کبھی کوئی بات نہیں ہوئی، دوحہ حکومت
خلیجی عرب ریاست قطر میں حکام نے زور دے کر کہا ہے کہ اس عرب امارت اور ایران کے مابین اس بارے میں کبھی کوئی بات نہیں ہوئی کہ قطر پر ایرانی حملے رکوانے کے لیے تہران کو کوئی مالی ادائیگیاں کی جا سکتی تھیں۔
ایران جنگ جاری رہی تو جلد ہی توانائی برآمدات رک سکتی ہیں، قطر
قطر کے دارالحکومت دوحہ سے منگل 14 اپریل کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق اس خلیجی ریاست کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایسے تمام درپردہ دعوے یا مبینہ اشارے قطعی غلط اور بے بنیاد ہیں کہ قطر نے کبھی بھی ایران کے ساتھ اس بارے میں کوئی بات چیت کی ہے کہ اگر وہ اس ملک پر اپنے حملے روک دے، تو اسے مالی ادائیگیاں کی جا سکتی تھیں۔
پاک افغان کشیدگی، سعودی عرب اور قطر جنگ بندی کی کوششوں میں
نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق دوحہ میں قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران آج کہا کہ اس بارے میں تو آج تک کبھی کوئی بات ہوئی ہی نہیں کہ ایران کی طرف سے قطر پر حملے بند کیے جانے پر دوحہ حکومت تہران کو کوئی رقوم ادا کر سکتی تھی۔
ایران جنگ بند مگر بیروت پر اسرائیلی حملوں میں سو سے زائد ہلاکتیں
ٹرمپ مشرق وسطی کے ’طاقتور‘ رہنماؤں کی قربت کے خواہاں کیوں؟
ماجد الانصاری نے واضح طور پر کہا، ’’ایران جنگ سے متعلق قطر کے پاکستان اور امریکہ کے ساتھ اعلیٰ سطحی اور مربوط رابطے جاری ہیں اور ہم ایران سے اپنے مطالبات صرف انہی رابطوں کے ذریعے پیش کر رہے ہیں۔‘‘
اٹلی کا جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات جاری رکھنے اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھولے جانے کا مطالبہ
اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے کہا ہے کہ ایران جنگ اور مشرق وسطیٰ میں جاری خونریز بحران کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین امن مذاکرات جاری رہیں اور خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کو بھی تجارتی جہاز رانی کے لیے بلاتاخیر دوبارہ کھولا جائے۔
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی، ایران پر اقتصادی دباؤ زیادہ
اٹلی کے دارالحکومت روم سے منگل 14 اپریل کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق وزیر اعظم میلونی نے شمالی اٹلی کے شہر ویرونا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ ضروری ہے کہ امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوششیں جاری رہیں، ہر وہ ممکنہ کاوش کی جائے جس کی مدد سے خطے میں صورت حال کو دوبارہ مستحکم کیا جا سکے، اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو بھی معمول کی کمرشل شپنگ کے لیے کھولا جائے، کیونکہ یہ ہم سب کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل سمندری تجارتی راستہ ہے۔‘‘
امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کو عملاﹰ بلاک کر دیا، ٹرمپ
جارجیا میلونی نے صحافیوں کو بتایا، ’’آبنائے ہرمز عالمی سطح پر صرف خام تیل اور گیس کی برآمد کے لیے ہی اہم نہیں بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر زرعی شعبے کے لیے کیمیائی کھادوں کی ترسیل کا بھی انتہائی اہم راستہ ہے۔‘‘
ٹرمپ کا ایرانی جزیرے خارگ کے آئل ٹرمینل پر قبضے پر غور
اطالوی وزیر اعظم نے یہ باتیں ویرونا میں اٹلی کی وائن تیار کرنے والی صنعت کے اہتمام کردہ ایک تجارتی میلے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔
جنگ بندی ڈیل کی امید میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی، اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی
ایران جنگ میں موجودہ فائر بندی کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے مابین کسی ممکنہ جنگ بندی ڈیل کی امید کے باعث منگل 14 اپریل کو عالمی منڈیوں میں خام تیل کی فی بیرل قیمتوں میں کچھ کمی ہوئی جبکہ بین الاقوامی اسٹاک مارکیٹوں میں حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
پاکستان اب امریکی ایرانی مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوشاں
یہ تبدیلی خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد دیکھنے میں آئی جس میں انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کی طرف سے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی عملاﹰ شروع ہو تو گئی ہے، تاہم ایران کی طرف سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ اس عسکری تنازعے کے حل کے لیے معاہدے کا خواہش مند ہے۔
تہران اور واشنگٹن کے مابین پاکستانکے دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ ویک اینڈ پر جو براہ راست مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں ہوئے تھے، ان میں کوئی جامع اتفاق رائے تو نہیں ہو سکا تھا، تاہم عالمی سطح پر سرمایہ کاروں نے اس بات کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا تھا کہ دونوں جنگی حریف ممالک کے مابین کچھ معاملات پر اتفاق رائے تو ہو ہی گیا تھا۔
ایران امریکہ کے ساتھ ’کھیل‘ نہ کھیلے، جے ڈی وینس کی وارننگ
ایران جنگ سے کس کو برتری ملی، کس کا اثر و رسوخ کم ہوا؟
اس امید پسندی کی ایک وجہ ایران کی طرف سے دیا جانے والا یہ بیان بھی بنا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد مذاکرات کے دوران ایک وقت پر تو بات چیت کے دونوں فریق ممکنہ ڈیل سے صرف ’’چند انچوں‘‘ کی دوری پر تھے۔
امریکی بحریہ کی طرف سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث ایران پر اقتصادی دباؤ میں اضافہ
خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران پر اقتصادی اور مالیاتی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ ایران اب تک جتنا بھی تیل برآمد کر پاتا ہے، اس کے رک جانے سے تہران کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ معطل ہو جائے گا۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے 28 فروری کے فضائی حملوں کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں جس جنگ کا آغاز ہوا تھا، وہ ابھی ختم نہیں ہوئی، تاہم اس میں دو ہفتے کی فائر بندی ابھی جاری ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مابین گزشتہ ہفتے کے روز پاکستان ہی کی ثالثی کوششوں کے نتیجے میں جو مذاکرات ہوئے تھے، ان کے بے نتیجہ اختتام کے دو دن بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل پیر 13 اپریل کو اعلان کیا تھا کہ ان کے حکم پر امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں تمام ایرانی بندرگاہوں کو عملی طور پر بلاک کر دیا ہے۔
ایران پر مذاکرات کی میز پر واپسی کے لیے دباؤ
اس بلاکیڈ کے تحت آبنائے ہرمز کو جانے والے اور وہاں سے آنے والے تمام مال بردار بحری جہازوں کی نگرانی کی جائے گی اور تیل کی برآمدات کی حد تک یہ عمل امریکہ کی طرف سے ایران کی بحری ناکہ بندی ہی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام کا مقصد تہران میں ملکی قیادت پر اس مقصد کے لیے دباؤ میں مزید اضافہ کرنا ہے کہ ایران دوبارہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر لوٹ آئے۔
ایران میں داخلی کشمکش، جنگ بندی کو لاحق سب سے بڑا خطرہ
اس امریکی بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران پر، جو پہلے ہی پابندیوں کی وجہ سے اپنا تیل دیگر ممالک کی طرح آسانی سے برآمد نہیں کر سکتا، اقتصادی اور مالی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ اگر یہ ناکہ بندی کافی عرصے تک جاری رہی، تو ایران کے لیے اسے ابھی تک دستیاب اس مالی آمدنی کا ذریعہ بھی غیر فعال ہو جائے گا، جس کی اسے اشد ضرورت ہے۔
اسلام آباد مذاکرات، اہم نکات کیا ہیں؟
ایرانی تیل کی یومیہ برآمدات تقریباﹰ دو ملین بیرل
ایران اب بھی یومیہ بنیادوں پر اپنا تقریباﹰ دو ملین بیرل تیل برآمد کرتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایرانی بندرگاہوں کو بلاک کر کے امریکہ ایران کو حاصل اس برتر اسٹریٹیجک پوزیشن کو ختم کرنا چاہتا ہے، جو اسے آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور بحری مال برداری کو زیادہ تر روک دینے سے حاصل ہوئی ہے۔
امریکی نیوی نے آبنائے ہرمز کو اس لیے بھی بلاک کیا ہے کہ ایران کو ٹول ٹیکس کے طور پر اس تنگ سمندری راستے سے گزرنے والے مال بردار بحری جہازوں سے مالی وصولی سے روکا جا سکے۔
ایران جنگ سے کس کو برتری ملی، کس کا اثر و رسوخ کم ہوا؟
کچھ میڈیا رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے کارگو بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے کے لیے مبینہ طور پر دو ملین ڈالر (1.71 ملین یورو) فی جہاز وصول کر رہا ہے، جو بظاہر بہت بڑی رقم ہے۔
دنیا بھر کو خام تیل اور قدرتی گیس کی برآمدات کے لیے آبنائے ہرمز اس لیے کلیدی اہمیت کی حامل ہے کہ عالمی منڈیوں کو تیل اور گیس کی سپلائی کا تقریباﹰ پانچواں حصہ اسے آبنائے سے ہو کر گزرتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر