1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

آبنائے ہرمز: ایران عالمی معیشت کو یرغمال بنا رہا ہے،برطانیہ

جاوید اختر اے پی، اے ایف پی، روئٹرز، ڈی پی اے کے ساتھ
وقت اشاعت 2 اپریل 2026آخری اپ ڈیٹ 2 اپریل 2026

برطانیہ نے جمعرات کو ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ عالمی معیشت کو یرغمال بنا رہا ہے، جبکہ 40 سے زائد ممالک کے سفارتکاروں نے ایک اجلاس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے طریقوں پر بات چیت کی۔

https://p.dw.com/p/5BZH8
آبنائے ہرمز
برطانیہ کی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر  نے کہا کہ ایران کی ’’غیر ذمہ دارانہ‘‘ کارروائی، یعنی اس اہم آبی راستے کی ناکہ بندی، عالمی معاشی سلامتی کو نقصان پہنچا رہی ہےتصویر: Jonathan Raa/NurPhoto/picture alliance
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

 

  • پوٹن اور سعودی ولی عہد کی مشرقِ وسطیٰ بحران پر گفتگو
  • مسلم ممالک کی اسرائیل کے نئے سزائے موت قانون کی مذمت
  • آبنائے ہرمز: ایران عالمی معیشت کو یرغمال بنا رہا ہے،برطانیہ
  • عراق نے شام کے ذریعے تیل کی برآمدات شروع کر دیں
  • ایران جنگ میں ماسکو ثالثی کے لیے تیار
  • آبنائے ہرمز: جرمنی برطانیہ کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات میں شامل
  • آسٹریا نے امریکہ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا
  • پاکستان اور افغانستان نے چین میں جاری امن مذاکرات کی تصدیق کر دی
  • طاقت کے زور پر آبنائے ہرمز کو کھولنے کی کوشش کرنا غیر حقیقت پسندانہ، ماکروں
  • امریکہ آبنائے ہرمز کی کشیدہ صورتحال کا ذمہ دار ہے، چین 
  • بھارتی پینٹنگ 17.9 ملین ڈالر کی ریکارڈ قیمت میں فروخت
  • ایران نے اسرائیل کے لیے مبینہ جاسوسی کے ملزم کو پھانسی دے دی
  • برکینا فاسو اور مالی میں جہادی گروہوں کے مقابلے فوج کے ہاتھوں زیادہ شہری ہلاک
  • انڈونیشیا میں 7.4 شدت کا زلزلہ، ایک شخص ہلاک
  • ایران کو پتھر کے دور میں بھیج دیں گے، ٹرمپ
پوٹن اور سعودی ولی عہد کی مشرقِ وسطیٰ بحران پر گفتگو سیکشن پر جائیں
2 اپریل 2026

پوٹن اور سعودی ولی عہد کی مشرقِ وسطیٰ بحران پر گفتگو

دونوں رہنماؤں نے خطے میں بگڑتی ہوئی فوجی اور سیاسی صورتحال، شہری ہلاکتوں اور اہم اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کی تباہی پر شدید تشویش کا اظہار کیا
دونوں رہنماؤں نے خطے میں بگڑتی ہوئی فوجی اور سیاسی صورتحال، شہری ہلاکتوں اور اہم اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کی تباہی پر شدید تشویش کا اظہار کیاتصویر: Alexei Nikolsky/Sputnik, Kremlin Pool Photo/AP/picture alliance

روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے جمعرات کو ایک ٹیلی فونک گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور اوپیک پلس کے فریم ورک کے تحت تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

کریملن نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں بگڑتی ہوئی فوجی اور سیاسی صورتحال، شہری ہلاکتوں اور اہم اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کی تباہی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ دونوں فریقوں نے فوری جنگ بندی اور تنازعے کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ تنازعہ 28 فروری کو اس وقت شروع ہوا جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملے کیے۔

کریملن کے مطابق پوٹن اور محمد بن سلمان نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ اس بحران کے باعث توانائی کی پیداوار اور ترسیل میں پیدا ہونے والے مسائل عالمی انرجی سکیورٹی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

اسی تناظر میں دونوں رہنماؤں نے کہا کہ روس اور سعودی عرب کی اوپیک پلس کے تحت مشترکہ کوششیں عالمی تیل کی منڈی کو مستحکم رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

https://p.dw.com/p/5BbWG
مسلم ممالک کی اسرائیل کے نئے سزائے موت قانون کی مذمت سیکشن پر جائیں
2 اپریل 2026

مسلم ممالک کی اسرائیل کے نئے سزائے موت قانون کی مذمت

بل منظور ہونے پر ایک رکن پارلیمان خوشی کا اظہار کرتے ہوئے
اس بل کے تحت مقبوضہ علاقوں میں فوجی عدالتوں کی جانب سے دہشت گردی کے طور پر قتل کے جرم میں سزا پانے والے فلسطینیوں کو لازمی طور پر سزائے موت دی جائے گی۔تصویر: Oren Ben Hakoon/REUTERS

کئی مسلم ممالک نے اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے اس ہفتے منظور کیے گئے نئے سزائے موت کے قانون پر سخت تنقید کی ہے۔

سعودی عرب، مصر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، قطر، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں مقبوضہ مغربی کنارے میں سزائے موت کے نفاذ اور اس کے فلسطینیوں کے خلاف عملی استعمال کی شدید مذمت کی۔

جمعرات کو سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ان وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی ’’بڑھتی ہوئی امتیازی اور جارحانہ پالیسیوں‘‘ سے خطے میں صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات ’’اپارتھائیڈ سسٹم‘‘ کے قیام کو مضبوط کرتے ہیں اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق اور وجود سے انکار کے مترادف ہیں۔

اسرائیلی پارلیمنٹ نے پیر کے روز معمولی اکثریت سے ایک متنازع بل منظور کیا تھا جس کے تحت دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت دوبارہ متعارف کرائی گئی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ قانون نسل پرستانہ ہے کیونکہ اس کا اطلاق عملاً زیادہ تر فلسطینیوں پر ہو گا۔

اس بل کے تحت مقبوضہ علاقوں میں فوجی عدالتوں کی جانب سے دہشت گردی کے طور پر قتل کے جرم میں سزا پانے والے فلسطینیوں کو لازمی طور پر سزائے موت دی جائے گی۔ سزا سنائے جانے کی صورت میں 90 دن کے اندر پھانسی دی جائے گی، جو جیل کا ایک اہلکار انجام دے گا۔

دوسری جانب اسرائیل کی سول عدالتوں میں اگر کسی شخص کو دہشت گردی کے مقصد سے قتل کا مجرم قرار دیا جاتا ہے اور اس کا مقصد ریاست اسرائیل کو نقصان پہنچانا سمجھا جائے تو عدالت کے پاس سزائے موت یا عمر قید دونوں میں سے کسی ایک سزا دینے کا اختیار ہوگا۔

اسرائیل میں ایسوسی ایشن فار سول رائٹس نے کہا ہے کہ اس نے اس قانون کے خلاف اسرائیلی سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ قانون ’’اس حکومت کی جانب سے انسانی حقوق پر حملے کا سب سے شدید اور خطرناک اظہار ہے۔‘‘

https://p.dw.com/p/5BbW4
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر غور سیکشن پر جائیں
2 اپریل 2026

آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر غور

برطانیہ کی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر
برطانیہ کی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر کے مطابق تیل اور خوراک کی قیمتوں میں ناقابلِ برداشت اضافہ دنیا بھر کے گھروں اور کاروباروں کو متاثر کر رہا ہےتصویر: Leon Neal/AFP

برطانیہ نے جمعرات کو کہا کہ تقریباً 40 ممالک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر غور کر رہے ہیں تاکہ ایران کو ’’عالمی معیشت کو یرغمال بنانے‘‘ سے روکا جا سکے۔ یہ بات اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس آبی راستے کی حفاظت دیگر ممالک کی ذمہ داری ہے۔

برطانیہ کی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر  نے ایک آن لائن اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی ’’غیر ذمہ دارانہ‘‘ کارروائی، یعنی اس اہم آبی راستے کی ناکہ بندی، عالمی معاشی سلامتی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

اس اجلاس میں فرانس، جرمنی، کینیڈا، متحدہ عرب امارات اور بھارت سمیت کئی ممالک نے شرکت کی۔ ایک عہدیدار کے مطابق امریکہ نے ان مذاکرات میں شرکت نہیں کی۔

میڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں کوپر نے کہا، ’’ہم نے دیکھا ہے کہ ایران نے ایک بین الاقوامی سمندری راستے کو ہائی جیک کر کے عالمی معیشت کو یرغمال بنا لیا ہے۔‘‘

ایران نے فروری کے آخر میں شروع ہونے والے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں اس اہم آبی راستے کو بند کر دیا۔ اس راستے سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک بہت کم رہ گئی ہے اور جو جہاز اب بھی گزر رہے ہیں ان میں زیادہ تر وہ ٹینکر ہیں جو پابندیوں سے بچ کر ایرانی تیل لے جا رہے ہیں۔ ایران یہ بھی طے کر رہا ہے کہ کن جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے۔

لیکن موجودہ جنگ کے دوران کوئی ملک فوجی طاقت کے ذریعے اس راستے کو کھولنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا کیونکہ ایران کے پاس جہاز شکن میزائل، ڈرون، تیز رفتار حملہ آور کشتیاں اور سمندری بارودی سرنگیں موجود ہیں۔

فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں نے کہا کہ طاقت کے ذریعے آبنائے ہرمز کو کھولنا ’’غیر حقیقت پسندانہ‘‘ ہے۔

توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث دنیا بھر کی حکومتوں کے لیے اس راستے کو دوبارہ کھولنا ایک اہم ترجیح بن گیا ہے۔

یوویٹ کوپر نے کہا کہ مذاکرات کا مقصد فوجی اقدامات کے بجائے سیاسی اور سفارتی طریقوں پر غور کرنا ہے تاکہ اس راستے کو دوبارہ کھولا جا سکے۔

کوپر کے مطابق تیل اور خوراک کی قیمتوں میں ناقابلِ برداشت اضافہ دنیا بھر کے گھروں اور کاروباروں کو متاثر کر رہا ہے۔

اس دوران برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، کینیڈا، جاپان اور متحدہ عرب امارات سمیت 30 سے زیادہ ممالک نے ایک مشترکہ بیان پر دستخط کیے ہیں جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی کوششیں بند کرے۔

https://p.dw.com/p/5BbV1
عراق نے شام کے ذریعے تیل کی برآمدات شروع کر دیں سیکشن پر جائیں
2 اپریل 2026

عراق نے شام کے ذریعے تیل کی برآمدات شروع کر دیں

اربیل کے قریب ایک آئل ڈپو پر ڈرون حملہ
ایران عراق میں تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے، جن میں اربيل میں واقع یہ تیل کا ذخیرہ بھی شامل ہےتصویر: Ismael Adnan/dpa/picture alliance

عراق نے اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے پڑوسی ملک شام کے ذریعے تیل برآمد کرنا شروع کر دیا ہے۔ موجودہ مشرق وسطیٰ تنازع نے عراقی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

بدھ کو عراقی وزارت تیل نے کہا کہ وہ شام کے ساتھ تعاون کر رہی ہے تاکہ تیل کو برآمدی مراکز تک پہنچایا جا سکے اور برآمدات کو بتدریج بڑھایا جائے۔

عراق کی سرکاری تیل مارکیٹنگ کمپنی سومو نے اعلان کیا کہ اس نے خام تیل کے 50 ہزار بیرل یومیہ شام کے ذریعے بحیرہ روم اور یورپی خریداروں تک پہنچانے کا معاہدہ کیا ہے۔

ادارے کے ڈائریکٹر جنرل علی نذر نے کہا کہ مستقبل میں اس مقدار کو بڑھانے کا بھی منصوبہ ہے۔

عراق اپنی 90 فیصد آمدنی کے لیے تیل کی برآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ عموماً عراقی تیل کی بڑی مقدار بصرہ کی بندرگاہ اور آبنائے ہرمز کے ذریعے برآمد کی جاتی ہے، جسے ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں بند کر دیا ہے۔

اگرچہ ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ عراقی تیل آبنائے ہرمز سے محفوظ طریقے سے گزر سکتا ہے، لیکن چونکہ عراق کے پاس اپنا ٹینکر بیڑا نہیں ہے اور وہ بیرونی جہازوں پر انحصار کرتا ہے، اس لیے یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ ٹینکر مالکان اس خطرناک راستے سے گزرنے کا رسک لینے پر تیار ہوتے ہیں یا نہیں اور زیادہ تر ایسا کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

شام اور اردن کے ذریعے زمینی برآمدی راستوں کی گنجائش محدود ہے اور ٹرکوں کے ذریعے ترسیل مہنگی اور غیر مؤثر ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر تیل کی فروخت جلد بحال نہ ہوئی تو عراقی حکومت کے پاس موجود مالی ذخائر صرف مئی کے وسط تک ہی ملک کو سنبھالنے کے لیے کافی ہوں گے، اس لیے بغداد کے پاس فی الحال یہی واحد راستہ بچا ہے۔

https://p.dw.com/p/5Bb7C
ایران جنگ میں ماسکو ثالثی کے لیے تیار سیکشن پر جائیں
2 اپریل 2026

ایران جنگ میں ماسکو ثالثی کے لیے تیار

روسی صدر ولادیمیر پوٹن
روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے جمعرات کو کریملن میں مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی سے ملاقات کیتصویر: Alexander Zemlianichenko/AP Photo/picture alliance

روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ کریملن ایران جنگ کے تناظر میں خطے کے رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں ہے اور ضرورت پڑنے پر ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

پیسکوف نے کہا، ’’صدر یہ رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں اور اگر ہماری خدمات کی ضرورت پڑی تو ہم یقیناً اس میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں کہ مسلح صورتحال جلد از جلد پرامن راستے کی طرف منتقل ہو جائے۔‘‘

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پوٹن مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی کی میزبانی کر رہے تھے تاکہ جاری تنازعے اور مشرق وسطیٰ کے وسیع تر مسائل پر بات چیت کی جا سکے۔

https://p.dw.com/p/5Bb6h
آبنائے ہرمز: جرمنی برطانیہ کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات میں شامل سیکشن پر جائیں
2 اپریل 2026

آبنائے ہرمز: جرمنی برطانیہ کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات میں شامل

برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر
برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر جمعرات کو تقریباً 35 ممالک کے ساتھ ایک آن لائن اجلاس کی صدارت کریں گیتصویر: Yuki Iwamura/AP Photo/picture alliance

جرمنی نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے حوالے سے برطانیہ کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات میں شمولیت اختیار کر لی ہے، خاص طور پر اس کے بعد جب امریکہ نے اشارہ دیا کہ اس مسئلے کو دیگر ممالک کو سنبھالنا چاہیے۔

برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا کہ وہ جمعرات کو تقریباً 35 ممالک کے ساتھ ایک آن لائن اجلاس کی صدارت کریں گی۔

جرمنی اس عمل میں فرانس، اٹلی، کینیڈا اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر شراکت داروں کے ساتھ شامل ہو رہا ہے تاکہ اس اہم سمندری گزرگاہ میں آزادانہ جہاز رانی بحال کرنے کے طریقوں پر غور کیا جا سکے۔

امریکہ کے اس اجلاس میں شرکت کرنے کی توقع نہیں ہے۔

یہ مذاکرات اس وقت ہو رہے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز ’’فطری طور پر دوبارہ کھل سکتی ہے‘‘ اور جو ممالک اس راستے پر انحصار کرتے ہیں انہیں اسے کھلا رکھنے کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔

جرمنی کے لیے یہ راستہ توانائی کی ایک اہم عالمی گزرگاہ ہے، اور اس میں رکاوٹیں توانائی کی فراہمی اور قیمتوں کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

https://p.dw.com/p/5Bb4r
آسٹریا نے امریکہ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا سیکشن پر جائیں
2 اپریل 2026

آسٹریا نے امریکہ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا

کرسٹیان اسٹوکر
آسٹریا یورپی یونین کے ان ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں میں، حتیٰ کہ بالواسطہ شرکت کی بھی مخالفت کر رہے ہیںتصویر: Yves Herman/REUTERS

چانسلر کرسٹیان اسٹوکر کی قیادت والی آسٹریا کی حکومت نے کہا ہے کہ اس نے ایران پر بمباری کے مشنز کے لیے امریکی فوج کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

اس طرح آسٹریا یورپی یونین کے ان ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں میں، حتیٰ کہ بالواسطہ شرکت کی بھی مخالفت کر رہے ہیں۔

حال ہی میں اٹلی نے بھی اعلان کیا تھا کہ امریکی افواج سسیلی میں واقع سیگونیلہ ایئر بیس کو اس جنگ کے لیے استعمال نہیں کر سکیں گی اور واشنگٹن کے کسی بھی فوجی طیارے کے وہاں اترنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

اسی طرح فرانس نے ان تمام طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں جن پر اسرائیل کو فوجی سامان لے جانے کا شبہ ہو، جبکہ اسپین نے بھی اسی نوعیت کے اقدامات کیے ہیں۔

https://p.dw.com/p/5Bb4D
پاکستان اور افغانستان نے چین میں جاری امن مذاکرات کی تصدیق کر دی سیکشن پر جائیں
2 اپریل 2026

پاکستان اور افغانستان نے چین میں جاری امن مذاکرات کی تصدیق کر دی

یہ مذاکرات دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان حالیہ مہلک جھڑپوں کے بعد ہو رہے ہیں
یہ مذاکرات دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان حالیہ مہلک جھڑپوں کے بعد ہو رہے ہیںتصویر: Ministry of Foreign Affairs - Pakistan

افغانستان نے جمعرات کو کہا کہ اس نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنے نمائندے چین بھیجے ہیں۔ اسلام آباد نے بھی آج تصدیق کی کہ وہ افغان طالبان  کے ساتھ چینی شہر ارمچی میں امن مذاکرات کر رہا ہے۔

 یہ اقدام دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان حالیہ مہلک جھڑپوں کے بعد کیا گیا ہے۔

افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ’’عوامی جمہوریہ چین کی پہل پر اسلامی امارت افغانستان کا ایک درمیانی سطح کا وفد عوامی جمہوریہ چین پہنچ چکا ہے تاکہ پاکستانی فریق کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کیے جا سکیں۔‘‘

ادھر پاکستان نے بھی جمعرات کو تصدیق کی کہ وہ افغانستان کی طالبان حکومت کے ساتھ چین میں امن مذاکرات کر رہا ہے، جہاں بیجنگ کئی ہفتوں سے جاری لڑائی کے بعد دیرپا جنگ بندی کرانے کے لیے ثالثی کر رہا ہے۔ اس لڑائی میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تجارت و سرحد پار سفر شدید متاثر ہوا ہے۔

نئے مذاکرات کی تصدیق ایک دن بعد سامنے آئی جب دونوں ممالک کے حکام نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا تھا کہ دونوں ممالک کے نمائندے شمالی چین کے شہر ارمچی پہنچے ہیں جہاں مذاکرات کا پہلا دور منعقد ہوا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ چین میں ہونے والے تازہ مذاکرات میں پاکستان اور افغانستان کی نمائندگی کون کر رہا ہے۔

اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بتایا کہ مذاکرات جاری ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کا زیادہ تر انحصار کابل پر ہے۔

انہوں نے کہا، ’’حقیقی عمل کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے، جسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے والے دہشت گرد گروہوں کے خلاف واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات کر رہا ہے۔‘‘

https://p.dw.com/p/5Baka
طاقت کے زور پر آبنائے ہرمز کو کھولنے کی کوشش کرنا غیر حقیقت پسندانہ، ماکروں سیکشن پر جائیں
2 اپریل 2026

طاقت کے زور پر آبنائے ہرمز کو کھولنے کی کوشش کرنا غیر حقیقت پسندانہ، ماکروں

فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں
ماکروں نے کہا کہ کچھ لوگ فوجی آپریشن کے ذریعے طاقت کے استعمال سے آبنائے ہرمز کو آزاد کرانے کی بات کرتے ہیںتصویر: Ludovic Marin/AFP

فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں نے جمعرات کو کہا ہے کہ فوجی کارروائی کے ذریعے آبنائے ہرمزکو  کھولنے کی کوشش کرنا غیر حقیقت پسندانہ ہو گا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں سے اس گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔

جنوبی کوریا کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ماکروں نے کہا، ’’کچھ لوگ فوجی آپریشن کے ذریعے طاقت کے استعمال سے آبنائے ہرمز کو آزاد کرانے کی بات کرتے ہیں، یہ مؤقف بعض اوقات امریکہ کی جانب سے بھی سامنے آتا ہے، اگرچہ اس میں اتار چڑھاؤ رہا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’یہ کبھی بھی وہ راستہ نہیں رہا جس کی ہم نے حمایت کی ہو، کیونکہ یہ غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ بہت طویل وقت لے گا اور اس سے آبنائے سے گزرنے والے تمام جہازوں کو ایرانی انقلابی گارڈز اور بیلسٹک میزائلوں کے خطرے کا سامنا ہو گا۔‘‘

ماکروں نے یہ بھی کہا کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے تہران کے جوہری پروگرام کے مسئلے کا دیرپا حل فراہم نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا، ’’چند ہفتوں کے لیے کی گئی محدود فوجی کارروائی بھی جوہری مسئلے کو طویل مدت میں حل نہیں کر سکتی۔‘‘

ماکروں کے مطابق اگر سفارتی اور تکنیکی مذاکرات کا کوئی فریم ورک قائم نہ کیا گیا تو صورتحال چند ماہ یا چند سال کے اندر دوبارہ خراب ہو سکتی ہے۔

اسی موقع پر فرانسیسی صدر نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نیٹو اتحاد کو کمزور کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’اگر آپ اپنے عزم کے بارے میں روزانہ شکوک پیدا کرتے ہیں تو آپ اس اتحاد کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔‘‘

https://p.dw.com/p/5BaVV
امریکہ آبنائے ہرمز کی کشیدہ صورتحال کا ذمہ دار ہے، چین سیکشن پر جائیں
2 اپریل 2026

امریکہ آبنائے ہرمز کی کشیدہ صورتحال کا ذمہ دار ہے، چین

اّبنائے ہرمز
یہ گزرگاہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ سمجھی جاتی ہےتصویر: Modis Team/Nasa Gsfc/ZUMA/IMAGO

چین نے آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو ٹھہرایا ہے، جس کی وجہ سے اس اہم سمندری گزرگاہ کے ذریعے ہونے والی عالمی تیل اور گیس کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔

چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے جمعرات کو بیجنگ میں کہا کہ اس ناکہ بندی کی ’’بنیادی وجہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی غیر قانونی فوجی سرگرمیاں ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی جہاز رانی کے راستوں کی سلامتی صرف جنگ بندی اور خلیجی خطے میں امن و استحکام کے قیام کے ذریعے ہی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔

اٹھائیس فروری کو جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے تو اس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔ یہ گزرگاہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔

ایرانی ساحل کے قریب ہونے کی وجہ سے امریکہ کے لیے جہازوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنا تقریباً ناممکن ہے اور اب تک صرف چند ہی تیل بردار جہازوں کو تہران کی اجازت حاصل کرنے کے بعد وہاں سے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

بدھ کی شام قوم سے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ آبنائے ہرمز میں سکیورٹی کی بنیادی ذمہ داری ان ممالک پر عائد ہوتی ہے جو ایران سے تیل کی ترسیل پر انحصار کرتے ہیں۔ ٹرمپ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ اس مسئلے کو حل کرنا صرف امریکہ کی ذمہ داری نہیں ہے۔

https://p.dw.com/p/5BaUp
بھارتی پینٹنگ 17.9 ملین ڈالر کی ریکارڈ قیمت میں فروخت سیکشن پر جائیں
2 اپریل 2026

بھارتی پینٹنگ 17.9 ملین ڈالر کی ریکارڈ قیمت میں فروخت

Gemälde Indien Vishnu Shesha Naga
راجا روی ورما 1848 میں پیدا ہوئے تھے اور وہ بھارتی کہانیوں اور روایات کو یورپی مصوری کی تکنیک کے ساتھ پیش کرنے کے لیے مشہور ہیںتصویر: picture alliance/Yvan Travert/akg-images

انیسویں صدی کے معروف بھارتی مصور راجا روی ورما کی ایک آئل پینٹنگ ممبئی میں ہونے والی نیلامی میں 17.9 ملین ڈالر میں فروخت ہوئی، جو کسی بھی جدید بھارتی فن پارے کی اب تک کی سب سے زیادہ قیمت ہے۔

ممبئی میں قائم نیلام گھر سیفرون آرٹ کے مطابق پینٹنگ ’یشودا اور کرشن‘ میں ہندو دیوتا کرشن کو ان کی والدہ یشودا کے ساتھ دکھایا گیا ہے، جب وہ گائے کا دودھ دوہ رہی ہیں۔ یہ نیلامی میں فروخت ہونے والی روی ورما کی کسی بھی پینٹنگ کی عالمی سطح پر سب سے زیادہ قیمت بھی ہے۔

یہ آئل آن کینوس پینٹنگ بدھ کے روز نیلامی کے لیے پیش کی گئی اور اس نے اپنی متوقع قیمت 8.6 ملین سے 12.9 ملین ڈالر کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔

سیفرون آرٹ نے کہا، ’’یہ عالمی سطح پر نیلامی میں فروخت ہونے والی کسی بھی بھارتی مصور کی تخلیق کی سب سے زیادہ قیمت ہے۔‘‘

اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یہ پینٹنگ صنعت کار اور ویکسین بنانے والی کمپنی کے مالک سائرس پوناوالا نے خریدی ہے۔

راجا روی ورما 1848 میں پیدا ہوئے تھے اور وہ بھارتی کہانیوں اور روایات کو یورپی مصوری کی تکنیک کے ساتھ پیش کرنے کے لیے مشہور ہیں۔

نیلام گھر کے مطابق یہ پینٹنگ آئل پینٹنگ میں مصور کی غیر معمولی مہارت اور بھارتی دیوتاؤں کی قدرتی انداز میں پیشکش کی بہترین مثال ہے، جس نے جدید بھارت میں مذہبی داستانوں کے تصور کو ایک نئی شکل دی۔

https://p.dw.com/p/5BaR6
ایران نے اسرائیل کے لیے مبینہ جاسوسی کے ملزم کو پھانسی دے دی سیکشن پر جائیں
2 اپریل 2026

ایران نے اسرائیل کے لیے مبینہ جاسوسی کے ملزم کو پھانسی دے دی

ایران میں پھانسی
اس سے قبل 19 مارچ کو بھی ایران میں تین دیگر افراد کو بھی پھانسی دے دی گئی تھی، جنہیں امریکہ اور اسرائیل کے لیے کارروائیاں کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھاتصویر: Parspix/abaca/picture alliance

ایران میں جمعرات دو اپریل کے روز ایک ایسے شخص کو پھانسی دے دی گئی، جسے اس سال کے آغاز میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران اسرائیل اور امریکہ کے لیے مبینہ جاسوسی کے الزام میں باقاعدہ مجرم قرار دے دیا گیا تھا۔

ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن کے مطابق، ’’امیر حسین حاتمی، جو دشمن کے دہشت گرد عناصر میں سے ایک تھے اور جنوری کے احتجاج کے دوران بدامنی میں ملوث تھے، کو آج علی الصبح پھانسی دے دی گئی۔‘‘

بیان کے مطابق حاتمی پر الزام تھا کہ انہوں نے ’’اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے قومی سلامتی کے خلاف کارروائیاں کیں۔‘‘ ان میں مظاہروں کے دوران ایک فوجی مرکز میں گھس کر اسے تباہ کرنا اور وہاں موجود ہتھیار قبضے میں لینے کی کوشش کرنا بھی شامل تھے۔

حاتمی کو جمعرات کو دی گئی پھانسی ان احتجاجی مظاہروں سے متعلق حالیہ سزاؤں میں سے ایک ہے، جو دسمبر کے آخر میں مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات زندگی کے خلاف شروع ہوئے تھے اور بعد میں پورے ملک میں حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہو گئے تھے۔ یہ مظاہرے 8 اور 9 جنوری کو اپنے عروج پر پہنچ گئے تھے۔

اس سے قبل 19 مارچ کو بھی ایران میں تین دیگر افراد کو بھی پھانسی دے دی گئی تھی، جنہیں احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے اور ’’امریکہ اور اسرائیل کے لیے کارروائیاں کرنے‘‘ کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

https://p.dw.com/p/5BaFB
برکینا فاسو اور مالی میں جہادی گروہوں کے مقابلے فوج کے ہاتھوں زیادہ شہری ہلاک سیکشن پر جائیں
2 اپریل 2026

برکینا فاسو اور مالی میں جہادی گروہوں کے مقابلے فوج کے ہاتھوں زیادہ شہری ہلاک

برکینا فاسو
مالی اور برکینا فاسو اس سے پہلے ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزامات کی تردید کر چکے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ ان کی افواج نے دراصل ’’دہشت گردوں‘‘ کو ہلاک کیا ہےتصویر: Le Pictorium/IMAGO

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے جمعرات کو جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق برکینا فاسو میں سرکاری اور اتحادی فورسز نے 2023 سے اب تک اسلام پسند عسکریت پسندوں کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔

یہ رجحان اس ڈیٹا سے بھی کافی حد تک مطابقت رکھتا ہے جو مسلح تنازعات کی نگرانی کرنے والی تنظیم آرمڈ کانفلِکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا (اے سی ایل ای ڈی) نے روئٹرز کے ساتھ شیئر کیا ہے۔ یہی صورتحال ہمسایہ ملک مالی میں بھی دیکھی جا رہی ہے۔

جنوری 2023 سے اگست 2025 کے درمیان کے عرصے کا احاطہ کرنے والی ہیومن رائٹس واچ کی اس رپورٹ میں 57 واقعات درج کیے گئے ہیں، جن میں کم از کم 1,837 شہری مارے گئے۔ ان میں سے 33 واقعات سرکاری فورسز اور ان کے اتحادیوں کے ہاتھوں پیش آئے جن میں 1,255 شہری ہلاک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق اس تنازعے میں شامل تمام فریقوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اے سی ایل ای ڈی کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 2025 میں برکینا فاسو کی فوج اور حکومت نواز ملیشیا ہوم لینڈ ڈیفنس وولنٹیئرز نے 523 شہریوں کو ہلاک کیا، جبکہ عسکریت پسند گروہوں جے این آئی ایم اور اسلامک اسٹیٹ صوبہ ساحل نے 339 شہریوں کو قتل کیا۔

اے سی ایل ای ڈی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی میں فوج نے روسی نیم فوجی گروہوں واگنر اور افریقہ کور کے ساتھ مل کر 2025 میں 918 شہریوں کو ہلاک کیا، جبکہ جے این آئی ایم اور آئی ایس ایس پی نے 232 شہریوں کو مارا۔

جے این آئی ایم سے مؤقف لینے کے لیے رابطہ نہیں ہو سکا۔ روس کی وزارتِ دفاع، جو واگنر اور افریقہ کور کو چلاتی ہے، نے بھی تبصرے کی درخواست پر فوری ردِعمل نہیں دیا۔

مالی اور برکینا فاسو اس سے پہلے ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزامات کی تردید کر چکے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ ان کی افواج نے دراصل ’’دہشت گردوں‘‘ کو ہلاک کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/5BZpP
انڈونیشیا میں 7.4 شدت کا زلزلہ، ایک شخص ہلاک سیکشن پر جائیں
2 اپریل 2026

انڈونیشیا میں 7.4 شدت کا زلزلہ، ایک شخص ہلاک

انڈونیشیا زلزلہ
انڈونیشیا کی سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے مطابق 70 سالہ ایک خاتون مانادو شہر میں ایک عمارت گرنے سے ہلاک ہو گئیں جبکہ ایک اور شخص زخمی ہواتصویر: Tonny Rarung/AFP

سمندر کے اندر آنے والے 7.4 شدت کے زلزلے سے شمالی انڈونیشیا کے بعض علاقوں میں عمارتیں منہدم ہو گئیں،کم از کم ایک شخص ہلاک ہو گیا اور اس کے نتیجے میں سونامی کی معمولی لہریں بھی پیدا ہوئیں۔

انڈونیشیا کی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ ایجنسی کے مطابق شمالی سولاویسی صوبے کے شہر بٹونگ اور پڑوسی شمالی مالوکو صوبے کے شہر ٹرنیٹ میں 10 سے 20 سیکنڈ تک شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ یہ دونوں صوبے مالوکا سمندر کے قریب واقع ہیں، جہاں اس زلزلے کا مرکز تھا۔

ابتدائی جائزوں کے مطابق ٹرنیٹ کے بعض علاقوں میں نقصان کی اطلاعات ہیں، جن میں ایک چرچ اور دو مکانات شامل ہیں۔ بٹونگ میں نقصان کا اندازہ لگانے کا عمل ابھی جاری ہے۔

انڈونیشیا کی سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے مطابق 70 سالہ ایک خاتون مانادو شہر میں ایک عمارت گرنے سے ہلاک ہو گئیں جبکہ ایک اور شخص زخمی ہوا۔ ٹرنیٹ میں کم از کم تین زخمی افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

زلزلے کے بعد درجنوں آفٹر شاکس بھی آئے، جن میں ایک کی شدت 6.2 ریکارڈ کی گئی۔ حکام مختلف علاقوں خصوصاً دور دراز دیہات سے نقصانات اور ممکنہ متاثرین کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہے ہیں تاکہ آفت کے دائرہ کار کا اندازہ لگایا جا سکے۔

مالوکا سمندر کے ساحل کے قریب مختلف مانیٹرنگ اسٹیشنز پر سونامی کی لہریں معمول کی سطح سے 75 سینٹی میٹر تک بلند ریکارڈ کی گئیں۔ بعد ازاں انڈونیشیا کی موسمیاتی ایجنسی نے زلزلے کے چند گھنٹوں بعد سونامی کی وارننگ واپس لے لی، جبکہ فلپائن انسٹی ٹیوٹ آف وولکینولوجی اینڈ سیسمولوجی نے کہا کہ فلپائن کے لیے کسی تباہ کن خطرے کی اطلاع نہیں ہے۔

https://p.dw.com/p/5BZmm
ایران کو پتھر کے دور میں بھیج دیں گے، ٹرمپ سیکشن پر جائیں
2 اپریل 2026

ایران کو پتھر کے دور میں بھیج دیں گے، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا قوم کے نام خطاب
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ چار ہفتوں میں ہماری مسلح افواج نے میدان جنگ میں تیز، فیصلہ کن اور زبردست فتوحات حاصل کی ہیں، ایسی فتوحات جیسی اس سے پہلے کم ہی لوگوں نے دیکھی ہوں گیتصویر: Alex Brandon/AFP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ کے بارے میں قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا، ’’مجھے بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم بنیادی اسٹریٹیجک مقاصد مکمل کرنے کے قریب ہیں۔‘‘

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا آج 32 واں دن ہے۔ امریکہ نے اس جنگ کو ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ میں ’زبردست فتوحات‘ حاصل کرنے پر امریکی افواج کی تعریف کرتے ہوئے کہا،’’ان گزشتہ چار ہفتوں میں ہماری مسلح افواج نے میدان جنگ میں تیز، فیصلہ کن اور زبردست فتوحات حاصل کی ہیں، ایسی فتوحات جیسی اس سے پہلے کم ہی لوگوں نے دیکھی ہوں گی۔‘‘

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے خلیجی عرب اتحادیوں اور اسرائیل کو ’نقصان اٹھانے یا ناکام ہونے‘ نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی کارروائیوں کے 32 دن بعد، ایران ’’واقعی اب کوئی خطرہ نہیں رہا۔‘‘

امریکی صدر نے کہا، ’’ہماری پیش رفت کی بدولت، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم جلد ہی اپنے تمام فوجی اہداف مکمل کرنے کی راہ پر ہیں۔‘‘ اور ’’ہم آنے والے چند ہفتوں میں ان پر شدید حملے کریں گے اور انہیں واپس پتھر کے دور میں لے جائیں گے جہاں سے ان کا تعلق ہے۔‘‘

ایران جنگ، جنگ بندی کی کوششیں اور زمینی کارروائی کے امکانات

امریکی صدر نے آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرنے والے ممالک پر زور دیا کہ وہ ’ہمت‘ کریں اور اس اہم آبی گزرگاہ پر قبضہ کر لیں۔’’دنیا کے وہ ممالک جو آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرتے ہیں، انہیں اس گزرگاہ کی دیکھ بھال کرنی چاہیے۔ بس اس پر قبضہ کریں، اس کی حفاظت کریں، اسے اپنے لیے استعمال کریں۔‘‘

ٹرمپ کے خطاب کے بعد ایران کی مسلح افواج کے مشترکہ کمانڈ کے ترجمان نے کہا کہ تہران مشرق وسطیٰ کی جنگ اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک امریکہ اور اسرائیل کو ’’مستقل پچھتاوے اور ہتھیار ڈالنے‘‘ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ایران اپنی فوجی کارروائیوں میں اضافہ کرے گا اور  مخالفین کے خلاف ’’زیادہ سخت، زیادہ وسیع اور زیادہ تباہ کن‘‘ حملے کیے جائیں گے۔’’ہماری مزید سخت، وسیع اور زیادہ تباہ کن کارروائیوں کا انتظار کریں۔‘‘

اپوزیشن ڈیموکریٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے ٹرمپ کے خطاب کو ’غیر مربوط‘ قرار دیا اور کہا کہ اس میں ’بنیادی سوالات‘ کے جواب دینے کی بہت کم کوشش کی گئی۔
سینیٹرمارک وارنر نے اپنے بیان میں کہا، ’’ٹرمپ پر لازم تھا کہ وہ امریکی عوام کو اس تنازعے کے بارے میں مزید وضاحت دیتے، جس کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے ساتھ ڈیزل، کھاد، ایلومینیم اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں، جن کے اثرات طویل عرصے تک معیشت پر پڑتے رہیں گے۔‘‘

سینیٹر کرس مرفی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ’’اس تقریر کو سننے کے بعد امریکہ میں کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ ہم کشیدگی بڑھا رہے ہیں یا کم کر رہے ہیں۔‘‘

ادارت: عاطف توقیر

https://p.dw.com/p/5BZHi
مزید پوسٹیں
Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔