متحدہ عرب امارات کا یمن سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ
وقت اشاعت 30 دسمبر 2025آخری اپ ڈیٹ 30 دسمبر 2025
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- یمن پر سعودی فضائی حملوں کے بعد یو اے ای کا وہاں سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ
- اس سال اسپین پہنچنے کی کوشش میں تین ہزار سے زائد تارکین وطن ہلاک ہو گئے، امدادی تنظیم
- ترکی میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن میں 357 مشتبہ عسکریت پسند گرفتار
- جرمنی میں بہت بڑی بینک ڈکیتی، ملزم 30 ملین یورو کے برابر نقد رقوم اور زیورات لے اڑے
- متحدہ عرب امارات کی ریاض کی طرف سے لگائے گئے یمنی تنازعے کو ہوا دینے کے الزامات کی تردید
- صدر ٹرمپ کی طرف سے دوبارہ حملوں کی دھمکی کے بعد ایران کی ’سخت‘ ردعمل کی وارننگ
- بھارتی معیشت نے جاپان کو پیچھے چھوڑ دیا، اب نظریں جرمن معیشت پر، نئی دہلی کا دعویٰ
یمن پر سعودی فضائی حملوں کے بعد یو اے ای کا وہاں سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ
متحدہ عرب امارات نے یمن میں سعودی عرب کے نئے فضائی حملوں کے بعد اس جنگ زدہ ملک سے اپنی باقی ماندہ فوجیں بھی واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ قبل ازیں منگل 30 دسمبر کے روز ریاض نے ابوظہبی سے ایسا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
یمن: سعودی عرب اور یو اے ای کے حمایت یافتہ گروہوں کے مابین لڑائی
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے دارالحکومت ابوظہبی سے منگل کی شام ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اس خلیجی ریاست نے اعلان کیا کہ کئی سال سے خانہ جنگی کے شکار عرب ملک یمن سے، جو عرب دنیا کا غریب ترین ملک بھی ہے، اماراتی فوج کے باقی ماندہ دستے بھی واپس بلا لیے جائیں گے۔
ابوظہبی کا دیا گیا سعودی الٹی میٹم
اس سے قبل منگل ہی کے روز خلیج کی علاقائی طاقت اور یمن کے مسلح تنازعے کے ایک فریق سعودی عرب نے ابوظہبی کو باقاعدہ الٹی میٹم دے دیا تھا کہ وہ یمن سے اپنے فوجی دستے نکال لے۔
ساتھ ہی سعودی حکومت کی طرف سے یو اے ای پر یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ وہ یمن کی خانہ جنگی کو ہوا دے رہا ہے۔ اس اعلان کی متحدہ عرب امارات نے آج ہی واضح طور پر تردید بھی کر دی تھی۔
حوثی باغیوں نے صنعا میں اقوام متحدہ کے عملے کو اغوا کر لیا
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مابین یہ نئی پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں خلیجی ریاستوں کے مابین یمن کی خانہ جنگی کے تناظر میں کشیدگی اور کھچاؤ اپنے عروج پر پہنچ چکے ہیں۔
ایسا اسی لیے بھی ہوا کہ سعودی عرب نے یمن کے بندرگاہی شہر المکلا پر 30 دسمبر کو جو فضائی حملے کیے، ان کے بعد دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان حملوں میں وہ فوجی ساز و سامان، ہتھیار اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کر دیے گئے، جو ابوظہبی نے یمن کے علیحدگی پسندوں کی مدد کرتے ہوئے اور یمنی تنازعے کو ہوا دیتے ہوئے جنوبی یمن کی ان مسلح قوتوں کے لیے بھجوائے تھے، جو حوثی باغیوں کے خلاف قائم سعودی عسکری اتحاد کی مخالف قوتیں ہیں۔
اماراتی وزارت دفاع کا بیان
یمن سے اماراتی دستوں کے انخلا کا اعلان کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی وزارت دفا ع نے منگل کے روز کہا، ’’تازہ ترین حالات و واقعات اور ان کے سلامتی کے شعبے میں ان نتائج کے پیش نظر، جن کا یمن میں یو اے ای کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے مؤثر ہونے کے حوالے سے ابوظہبی کو سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ یمن سے تمام باقی ماندہ اماراتی فوجی دستے واپس بلا لیے جائیں گے۔
اسرائیل اور یمنی حوثیوں کے مابین کشیدگی میں اضافہ
ابوظہبی میں اماراتی وزارت دفاع نے تاہم یہ نہیں بتایا کہ یمن سے اس ملک کے باقی ماندہ تمام فوجی دستوں کا انخلا کب تک عمل میں آئے گا۔
اس سال اسپین پہنچنے کی کوشش میں تین ہزار سے زائد تارکین وطن ہلاک ہو گئے، امدادی تنظیم
اسپین میں تارکین وطن کے حقوق کے لیے سرگرم ایک بڑی تنظیم کے مطابق سال 2025ء کے دوران اسپین پہنچنے اور اسپین کے راستے یورپی یونین میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران تین ہزار سے زائد تارکین وطن ہلاک ہو گئے۔
یورپی یونین کے ممالک میں مہاجرین کی ملک بدری تیز تر کرنے کی دوڑ
ہسپانوی دارالحکومت میڈرڈ سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق کامینانڈو فرنٹیراس (واکنگ بارڈرز) نامی اس تنظیم نے بتایا کہ سال 2025ء میں بہت خطرناک سمندری راستوں سے اسپین کی ریاستی حدود میں داخل ہونے کی کوششوں میں جو 3,000 سے زائد تارکین وطن اپنی جان کی بازی ہار گئے، ان کی مجموعی سالانہ تعداد 2024ء کے مقابلے میں واضح طور پر کم بنتی ہے۔
جرمنی میں مہاجرین کی تعداد میں 2011ء کے بعد سے پہلی بار کمی
اس تنظیم نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ غیر قانونی طور پر سفر کرنے والے تارکین وطن کے لیے یورپ تک پہنچنے کےسمندری راستے آج بھی بہت خطرناک ہیں، تاہم ان سالانہ ہلاکتوں کی تعداد اس لیے پچھلے برس کے مقابلے میں کم رہی کہ اب پناہ کی تلاش میں یورپی یونین اور اسپین کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی طرف سے ہسپانوی ساحلوں تک پہنچنے کی کوششیں بھی ماضی کے مقابلے میں کم کی جا رہی ہیں۔
یورپی یونین میں پناہ کی درخواستوں میں 23 فیصد کمی
کامینانڈو فرنٹیراس نامی اس تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال یکم جنوری سے 15 دسمبر تک افریقی ممالک سے سمندر پار کر کے اسپین تک پہنچنے کی کوشش کے دوران ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 3,090 ہو چکی تھی۔
ترکی میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن میں 357 مشتبہ عسکریت پسند گرفتار
ترک حکومت کے مطابق ممنوعہ دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے عسکریت پسندوں کے خلاف تازہ ترین ملک گیر کریک ڈاؤن میں 357 مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
عدم اعتماد کی فضا: شام میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے لیے تاحال حمایت
استنبول سے منگل 30 دسمبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق ترک وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے کہا کہ یہ گرفتاریاں شمال مغربی ترکی میں اس واقعے کے ایک روز بعد عمل میں آئیں، جس میں کل پیر کے دن ترک پولیس کے خصوصی دستوں اور داعش کے شدت پسندوں کے مابین ایک طویل اور خونریز جھڑپ میں نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اس جھڑپ میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے چھ عسکریت پسندوں کے علاوہ تین ترک پولیس اہلکار بھی مارے گئے تھے جب کہ آٹھ سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہو گئے تھے۔
ٹرمپ، الشرع ملاقات کے بعد شام داعش مخالف اتحاد میں شامل
علی یرلیکایا نے بتایا کہ منگل کے روز عمل میں آنے والی گرفتاریاں ایک ایسے ملک گیر آپریشن کے دوران کی گئیں، جس میں درجنوں مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ ترک وزیر داخلہ کے بقول داعش کے مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف یہ چھاپے ترکی کے 21 صوبوں میں مارے گئے۔
ترک ریاست کا دہشت گردی کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے سے انکار
ترک وزیر داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا، ’’جیسا کہ ہم نے دہشت گردوں کو کبھی یہ اجازت نہیں دی کہ وہ اپنی شدت پسندی کے ساتھ ترک ریاست کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیک دینے پر مجبور کر سکیں، اسی طرح ہم مستقبل میں بھی دہشت گردی اور دہشت گردوں کو کبھی ایسا کوئی موقع نہیں دیں گے۔‘‘
افریقہ کا ساحل خطہ: جہادی حملوں میں اب تک 77 ہزار افراد ہلاک
وزیر داخلہ علی یرلیکایا کے ایکس پر اس بیان سے قبل استنبول میں ریاستی دفتر استغاثہ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ داعش کے نئے گرفتار کیے گئے 357 مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف چھاپے 21 صوبوں میں مارے گئے، جن میں سے صرف استنبول اور دو دیگر صوبوں میں ہی ایسی کارروائیاں 114 مختلف مقامات پر کی گئیں۔
اس دوران گرفتار کیے گئے افراد سے ’اسلامک اسٹیٹ‘ سے متعلق بہت سا ڈیجیٹل مواد اور دستاویزات بھی برآمد کر کے قبضے میں لے لیے گئے۔
جرمنی میں بہت بڑی بینک ڈکیتی، ملزم 30 ملین یورو کے برابر نقد رقوم اور زیورات لے اڑے
جرمنی کے مغربی شہر گیلزن کرشن میں بینک ڈکیتی کے ایک بڑے واقعے میں نامعلوم ملزمان ایک بینک کے والٹ روم میں داخل ہو کر تقریباﹰ 30 ملین یورو کے برابر نقد رقوم اور قیمتی زیورات و جواہرات لے اڑے۔
جرمنی: ایک گھر سے ایک لاکھ یورو سے زائد مالیت کے سونے کی چوری
جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے دارالحکومت ڈسلڈورف سے منگل 30 دسمبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق سکیورٹی ذرائع اور تفتیش کاروں نے بتایا کہ اس ڈکیتی میں ملزمان جتنی بڑی مالیت میں زر و جواہر سمیٹ کر غائب ہو گئے، وہ قریب 30 ملین یورو یا 35.2 ملین ڈالر کے برابر بنتے ہیں۔
اس واقعے میں مجرموں نے بینک کے والٹ میں سیف ڈیپازٹ کے لیے استعمال ہونے والے قریب 3,200 لاکر توڑ کر ان میں رکھی گئی نقدی اور زیورات پر ہاتھ صاف کر دیا۔
جدید جرمنی کی تاریخ میں کسی بینک میں ڈکیتی کا سب سے بڑا واقعہ
جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ اس جرم کی چھان بین کرنے والے تفتیشی ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ممکنہ طور پر جدید جرمنی کی تاریخ میں کسی بینک میں ڈکیتی کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔
اٹلی کا غیر معروف لیکن انتہائی خطرناک فورتھ مافیا کیا ہے؟
متعلقہ بینک کے ذرائع کے مطابق والٹ روم میں نصب لاکروں کی سہولت استعمال کرنے والے بینک کے گاہکوں میں سے کئی ایک نے ایک سے زیادہ لاکر کرائے پر لے رکھے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ جن قریب 3,200 لاکروں کو توڑا گیا، ان میں رکھی گئی قیمتی اشیاء کے مالک اور بینک کے متاثرہ گاہکوں کی تعداد 2,500 سے زائد بنتی ہے۔
دیگر رپورٹوں کے مطابق اس بینک میں ڈکیتی کے واقعے کا سکیورٹی کو علم اس وقت ہوا، جب پیر 29 دسمبر کی صبح وہاں نصب فائر الارم یکدم فعال ہو گیا تھا۔
بینک کے متاثرہ گاہکوں کا احتجاج
اس واقعے کے بعد آج منگل کے روز گیلزن کرشن میں لوٹے گئے بینک کی برانچ کے سامنے تقریباﹰ 200 ایسے متاثرہ کسٹمر جمع ہو گئے، جو یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ بینک کی طرف سے انہیں ان کی لاکروں سے لوٹ لی گئی املاک کے بارے میں واضح تفصیلات بتائی جائیں۔
لبنان: اپنی ہی رقم نکالنے کے لیے'بینک ڈکیتیوں' کا سلسلہ تیز
اس دوران کئی متاثرہ گاہکوں نے اشتعال میں آ کر زبردستی بینک میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی، جس پر پولیس طلب کرنا پڑ گئی۔ پولیس نے ان متاثرین کو بینک کے دروازے کے سامنے سے ہٹا کر اس برانچ کے بند کر دیے جانے کا اعلان کر دیا۔
ڈاکو بینک کی دیوار کاٹ کر ڈھائی سو سیف ڈیپازٹ باکس لے اڑے
گیلزن کرشن میں جس بینک کو لوٹا گیا، وہ جرمنی میں علاقائی بینکوں کے اس سلسلے کا ایک بینک ہے، جو چھوٹے بڑے شہروں میں اکثر کام کرتے ہیں اور جن میں عام شہری اپنی بچتی رقوم جمع کراتے ہیں۔
اسی لیے ان بینکوں کو جرمن زبان میں ’شپارکاسن‘ یا ’سیونگ بینکس‘ کہا جاتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی ریاض کی طرف سے لگائے گئے یمنی تنازعے کو ہوا دینے کے الزامات کی تردید
خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کی طرف سے اپنے خلاف لگائے گئے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے کہ ابوظہبی یمن میں مسلح تنازعے کو ہوا دے رہا ہے۔
یمن: سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مابین تناؤ عروج پر
دبئی سے منگل 30 دسمبر کو ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کے اس بیان کے بعد کہ اس نے فضائی حملوں میں یمن کی علیحدگی پسند قوتوں کے لیے بھیجے گئے اماراتی اسلحے کی ایک کھیپ تباہ کر دی ہے، متحدہ عرب امارات کی حکومت کی طرف سے اپنے خلاف لگائے گئے ریاض کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس خلیجی ریاست نے یمنی علیحدگی پسند قوتوں کے لیے کوئی ہتھیار نہیں بھیجے تھے اور نہ ہی ابوظہبی کی طرف سے یمن کے کئی سالہ خونریز تنازعے کو ہوا دی جا رہی ہے۔
یمن: سعودی عرب اور یو اے ای کے حمایت یافتہ گروہوں کے مابین لڑائی
متحدہ عرب امارات کا ’اجتناب اور ہوش مندی‘ کا مطالبہ
متحدہ عرب امارات کی حکومت کی ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ ان الزامات کی سختی سے اور قطعی طور پر تردید کرتی ہے کہ امارات کی طرف سے یمنی تنازعے کو ہوا دی جا رہی ہے۔‘‘
اسرائیل اور یمنی حوثیوں کے مابین کشیدگی میں اضافہ
اس بیان کے بعد ابوظہبی میں ملکی وزارت خارجہ نے بھی اپنا ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ ریاض حکومت کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات درست نہیں اور اس سارے معاملے میں ’’اجتناب اور ہوش مندی‘‘ کی سوچ اپنائی جانا چاہیے۔
یمن میں زیر حراست گیارہ یو این کارکن مشتبہ جاسوس، حوثی باغی
اماراتی وزارت خارجہ کی طرف سے یہ بیان سعودی عرب کی طرف سے سامنے آنے والی اس پیش رفت کے بعد دیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی فضائی حملوں میں یمن کے بندرگاہی شہر المکلا میں ان ہتھیاروں اور بکتر بند گاڑیوں کو ہدف بنا کر تباہ کر دیا گیا، جو مبینہ طور پر دو بحری جہازوں کے ذریعے متحدہ عرب امارات نے وہاں بھیجے تھے اور جن کا مقصد یمن کے علیحدگی پسند باغیوں کی عملی طور پر عسکری حمایت تھا۔
صدر ٹرمپ کی طرف سے دوبارہ حملوں کی دھمکی کے بعد ایران کی ’سخت‘ ردعمل کی وارننگ
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف دوبارہ کسی جارحیت کا ارتکاب کیا تو اس کے خلاف تہران کا ردعمل ’سخت‘ ہو گا۔ ایرانی صدر نے یہ بات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اس بیان کے ایک روز بعد کہی، جس میں امریکی صدر نے تہران کو ایک نئے ممکنہ حملے کے خلاف خبردار کیا تھا۔
تہران سے منگل 30 دسمبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف کسی بھی نئی جارحیت کی صورت میں تہران ’’فوری اور سخت‘‘ جواب دے گا۔
اقوام متحدہ کے ادارے اور ایران میں جوہری معائنے پر پیش رفت
قبل ازیں کل پیر کی شام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست فلوریڈا میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ اپنی ایک ملاقات کے بعد کہا تھا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیاروں کے اپنے پروگرام یا اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کی بحالی کے لیے دوبارہ کام کرنا شروع کیا، تو اسے ایک بار پھر بڑے فضائی حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور امریکہ ایسے حملوں کی حمایت کرے گا۔
نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد دیا جانے والا بیان
امریکی صدر نے اپنا یہ بیان اس تناظر میں دیا کہ اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے اس سال جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر بڑے فضائی حملے کیے تھے، جن کے ساتھ ہی ایران اور اسرائیل کا وہ براہ راست فوجی تصادم شروع ہو گیا تھا، جو کئی روز تک جاری رہا تھا۔
ایران پر امریکی بمباری کا تخمینہ، امریکی جنرل برطرف
صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی موجودگی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ تاثر بھی دیا کہ ممکن ہے کہ ایران جون میں کیے جانے والے حملوں کے بعد اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کی بحالی کے لیے کام کر رہا ہو۔
اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے بیس مبینہ جاسوس گرفتار، ایران کا سخت انتباہ
ایران کی طرف سے تاہم ان الزامات کی بھرپور تردید کی جاتی ہے کہ وہ پہلے یا اب اپنے جوہری ہتھیاروں کے کسی پروگرام پر کام کر رہا ہے۔
روس کی امریکہ کو تنبیہ
اسی بارے میں ماسکو سے منگل کے روز ملنے والی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ روس نے امریکی صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی نئے ممکنہ حملے کے حوالے سے احتیاط و اجتناب سے کام لیں۔
ماسکو میں کریملن کی طرف سے کہا گیا کہ روس کا موقف یہ ہے کہ اس تنازعے میں تمام فریق تناؤ اور کشیدگی میں اضافے کا باعث بننے والے اقدامات کے بجائے ایران کے ساتھ مکالمت کو فروغ دینے کی کوشش کریں، جو ناگزیر ہے۔
امریکی حملے ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے میں ناکام رہے، انٹیلیجنس رپورٹ
روس کی ایران سے متعلق سیاسی ترجیحات کے سلسلے میں یہ بات اہم ہے کہ ماسکو نے یوکرین کے ساتھ اپنی جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران کے ساتھ اپنے روابط کو خاص طور پر تقویت دی ہے اور اسی سال تہران اور ماسکو نے آپس میں ایک اسٹریٹیجک پارٹنرشپ معاہدے پر دستخط بھی کر دیے تھے۔
بھارتی معیشت نے جاپان کو پیچھے چھوڑ دیا، اب نظریں جرمن معیشت پر، نئی دہلی کا دعویٰ
آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک بھارت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی معیشت نے جاپانی معیشت کے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یوں بھارت کے دنیا کی چوتھی سب سے بڑی اقتصادی طاقت بن جانے کے بعد اس کی نظریں اب جرمن معیشت پر لگی ہیں۔
ایمازون کی بھارت میں پینتیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری
نئی دہلی سے منگل 30 دسمبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق بھارتی حکام کو اب امید ہے کہ یہ جنوبی ایشیائی ملک اپنے اقتصادی حجم کے حوالے سے اگلے تقریباﹰ تین برسوں میں جرمنی کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔
باقاعدہ تصدیق اگلے برس
نیوز ایجنسی اے ایف پی نے لکھا ہے کہ نئی دہلی میں حکام کی طرف سے یہ بات ایسے وقت پر کہی گئی، جب بھارت میں سال کے آخر پر لیے جانے والے اقتصادی جائزے کو آخری شکل دی جا رہی ہے۔
بھارت نے اپنے دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت ہونے کا دعویٰ تو کر دیا ہے، تاہم سرکاری طور پر اس کا تصدیق کا انحصار اس قومی اکنامک ڈیٹا کے اجرا پر ہو گا، جو اگلے برس 2026ء میں جاری کیا جائے گا۔
بھارت کے اس کی مجموعی اقتصادی پیداوار سے متعلق اگلے سالانہ اعداد و شمار نئے سال میں جاری کیے جائیں گے۔
بھارت اور امریکہ میں تجارتی جنگ، نقصان کس کا؟
لیکن اس کی باقاعدہ تصدیق اس لیے بھی متوقع ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) کی طرف سے بھی یہ اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ بھارت 2026ء میں اپنے اقتصادی حجم کے حوالے سے جاپان کو پیچھے چھوڑ دے گا۔
بھارت کے سالانہ بجٹ میں ترقی کے لیے حکمت عملی کا فقدان، تجزیہ کار مایوس
بھارتی حکومت کا جاری کردہ اکنامک بریفنگ نوٹ
بھارتی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک اکنامک بریفنگ نوٹ میں کہا گیا ہے، ’’بھارت کا شمار دنیا کی سب سے تیز رفتاری سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں ہوتا ہے اور یہ تیز رفتاری آئندہ بھی جاری رہے گی۔‘‘
بھارتی ٹاٹا گروپ کا سرمایہ پاکستان کی مجموعی معیشت سے زیادہ
ساتھ ہی اس نوٹ میں کہا گیا ہے، ’’اپنی مجموعی اقتصادی پیداوار کے حجم، جو 4.18 ٹریلین ڈالر بنتا ہے، کے ساتھ بھارت جاپان کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے۔ اگلے ڈھائی سے تین برسوں کے دوران اسی تیز رفتاری کے باعث بھارت جرمنی کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی راہ پر بھی گامزن ہے۔‘‘
بھارتی حکومت کی اس اقتصادی دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2030ء تک بھارت کی مجموعی قومی پیداوار اپنے حجم میں متوقع طور پر 7.3 ٹریلین ڈالر ہو جائے گی۔
ادارت: امتیاز احمد، رابعہ بگٹی