1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

متحدہ عرب امارات کا یمن سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ

مقبول ملک روئٹرز، اے پی، اے ایف پی اور ڈی پی اے کے ساتھ
وقت اشاعت 30 دسمبر 2025آخری اپ ڈیٹ 30 دسمبر 2025

متحدہ عرب امارات نے یمن میں سعودی عرب کے نئے فضائی حملوں کے بعد اس جنگ زدہ ملک سے اپنی باقی ماندہ فوجیں بھی واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ قبل ازیں منگل 30 دسمبر کے روز ریاض نے ابوظہبی سے ایسا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

https://p.dw.com/p/567gb
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان، دائیں، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان، دائیں، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھتصویر: WAM via REUTERS
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • یمن پر سعودی فضائی حملوں کے بعد یو اے ای کا وہاں سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ
  • اس سال اسپین پہنچنے کی کوشش میں تین ہزار سے زائد تارکین وطن ہلاک ہو گئے، امدادی تنظیم
  • ترکی میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن میں 357 مشتبہ عسکریت پسند گرفتار
  • جرمنی میں بہت بڑی بینک ڈکیتی، ملزم 30 ملین یورو کے برابر نقد رقوم اور زیورات لے اڑے
  • متحدہ عرب امارات کی ریاض کی طرف سے لگائے گئے یمنی تنازعے کو ہوا دینے کے الزامات کی تردید
  • صدر ٹرمپ کی طرف سے دوبارہ حملوں کی دھمکی کے بعد ایران کی ’سخت‘ ردعمل کی وارننگ
  • بھارتی معیشت نے جاپان کو پیچھے چھوڑ دیا، اب نظریں جرمن معیشت پر، نئی دہلی کا دعویٰ
یمن پر سعودی فضائی حملوں کے بعد یو اے ای کا وہاں سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ سیکشن پر جائیں
30 دسمبر 2025

یمن پر سعودی فضائی حملوں کے بعد یو اے ای کا وہاں سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ

یمن کے جنوبی عبوری کونسل سے تعلق رکھنے والے علیحدگی پسندوں کے مسلح دستے، جنہیں سعودی عرب کے بقول یو اے ای کی عسکری تائید و حمایت حاصل ہے
یمن کے جنوبی عبوری کونسل سے تعلق رکھنے والے علیحدگی پسندوں کے مسلح دستے، جنہیں سعودی عرب کے بقول یو اے ای کی عسکری تائید و حمایت حاصل ہےتصویر: Stringer/REUTERS

متحدہ عرب امارات نے یمن میں سعودی عرب کے نئے فضائی حملوں کے بعد اس جنگ زدہ ملک سے اپنی باقی ماندہ فوجیں بھی واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ قبل ازیں منگل 30 دسمبر کے روز ریاض نے ابوظہبی سے ایسا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

یمن: سعودی عرب اور یو اے ای کے حمایت یافتہ گروہوں کے مابین لڑائی

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے دارالحکومت ابوظہبی سے منگل کی شام ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اس خلیجی ریاست نے اعلان کیا کہ کئی سال سے خانہ جنگی کے شکار عرب ملک یمن سے، جو عرب دنیا کا غریب ترین ملک بھی ہے، اماراتی فوج کے باقی ماندہ دستے بھی واپس بلا لیے جائیں گے۔

ابوظہبی کا دیا گیا سعودی الٹی میٹم

اس سے قبل منگل ہی کے روز خلیج کی علاقائی طاقت اور یمن کے مسلح تنازعے کے ایک فریق سعودی عرب نے ابوظہبی کو باقاعدہ الٹی میٹم دے دیا تھا کہ وہ یمن سے اپنے فوجی دستے نکال لے۔

یمن کے بندرگاہی شہر المکالا میں کیے گئے نئے سعودی فضائی حملوں کے دوران لی گئی ایک تصویر
یمن کے بندرگاہی شہر المکالا میں کیے گئے نئے سعودی فضائی حملوں کے دوران لی گئی ایک تصویرتصویر: Murad/Xinhua News Agency/picture alliance

ساتھ ہی سعودی حکومت کی طرف سے یو اے ای پر یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ وہ یمن کی خانہ جنگی کو ہوا دے رہا ہے۔ اس اعلان کی متحدہ عرب امارات نے آج ہی واضح طور پر تردید بھی کر دی تھی۔

حوثی باغیوں نے صنعا میں اقوام متحدہ کے عملے کو اغوا کر لیا

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مابین یہ نئی پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں خلیجی ریاستوں کے مابین یمن کی خانہ جنگی کے تناظر میں کشیدگی اور کھچاؤ اپنے عروج پر پہنچ چکے ہیں۔

ایسا اسی لیے بھی ہوا کہ سعودی عرب نے یمن کے بندرگاہی شہر المکلا پر 30 دسمبر کو جو فضائی حملے کیے، ان کے بعد دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان حملوں میں وہ فوجی ساز و سامان، ہتھیار اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کر دیے گئے، جو ابوظہبی نے یمن کے علیحدگی پسندوں کی مدد کرتے ہوئے اور یمنی تنازعے کو ہوا دیتے ہوئے جنوبی یمن کی ان مسلح قوتوں کے لیے بھجوائے تھے، جو حوثی باغیوں کے خلاف قائم سعودی عسکری اتحاد کی مخالف قوتیں ہیں۔

یمن کے ایران نواز حوثی باغی، جن کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں ایک بین الاقوامی عسکری اتحاد قائم ہے
یمن کے ایران نواز حوثی باغی، جن کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں ایک بین الاقوامی عسکری اتحاد قائم ہےتصویر: Mohammad/Xinhua/IMAGO

اماراتی وزارت دفاع کا بیان

یمن سے اماراتی دستوں کے انخلا کا اعلان کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی وزارت دفا ع نے منگل کے روز کہا، ’’تازہ ترین حالات و واقعات اور ان کے سلامتی کے شعبے میں ان نتائج کے پیش نظر، جن کا یمن میں یو اے ای کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے مؤثر ہونے کے حوالے سے ابوظہبی کو سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ یمن سے تمام باقی ماندہ اماراتی فوجی دستے واپس بلا لیے جائیں گے۔

اسرائیل اور یمنی حوثیوں کے مابین کشیدگی میں اضافہ

ابوظہبی میں اماراتی وزارت دفاع نے تاہم یہ نہیں بتایا کہ یمن سے اس ملک کے باقی ماندہ تمام فوجی دستوں کا انخلا کب تک عمل میں آئے گا۔

ایران کا مشرق وسطیٰ کے بحران میں کلیدی کردار

https://p.dw.com/p/568iJ
اس سال اسپین پہنچنے کی کوشش میں تین ہزار سے زائد تارکین وطن ہلاک ہو گئے، امدادی تنظیم سیکشن پر جائیں
30 دسمبر 2025

اس سال اسپین پہنچنے کی کوشش میں تین ہزار سے زائد تارکین وطن ہلاک ہو گئے، امدادی تنظیم

سمندر میں تارکین وطن کی ایک بھری ہوئی کشتی
سمندری راستے سے اسپین پہنچنے کی کوشش کرنے والے زیادہ تر تارکین وطن افریقی ممالک کے باشندے ہوتے ہیںتصویر: Europa Press/ABACA/picture alliance

اسپین میں تارکین وطن کے حقوق کے لیے سرگرم ایک بڑی تنظیم کے مطابق سال 2025ء کے دوران اسپین پہنچنے اور اسپین کے راستے یورپی یونین میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران تین ہزار سے زائد تارکین وطن ہلاک ہو گئے۔

یورپی یونین کے ممالک میں مہاجرین کی ملک بدری تیز تر کرنے کی دوڑ

ہسپانوی دارالحکومت میڈرڈ سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق کامینانڈو فرنٹیراس (واکنگ بارڈرز) نامی اس تنظیم نے بتایا کہ سال 2025ء میں بہت خطرناک سمندری راستوں سے اسپین کی ریاستی حدود میں داخل ہونے کی کوششوں میں جو  3,000 سے زائد تارکین وطن اپنی جان کی بازی ہار گئے، ان کی مجموعی سالانہ تعداد 2024ء کے مقابلے میں واضح طور پر کم بنتی ہے۔

جرمنی میں مہاجرین کی تعداد میں 2011ء کے بعد سے پہلی بار کمی

تارکین وطن کی ایک خطرناک لیکن بھری ہوئی غیر محفوظ کشتی سمندر میں سفر کرتے ہوئے
اس سال اسپین پہنچنے کی کوشش میں تین ہزار سے زائد تارکین وطن سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو گئےتصویر: Europa Press/AP Photo/picture alliance

اس تنظیم نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ غیر قانونی طور پر سفر کرنے والے تارکین وطن کے لیے یورپ تک پہنچنے کےسمندری راستے آج بھی بہت خطرناک ہیں، تاہم ان سالانہ ہلاکتوں کی تعداد اس لیے پچھلے برس کے مقابلے میں کم رہی کہ اب پناہ کی تلاش میں یورپی یونین اور اسپین کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی طرف سے ہسپانوی ساحلوں تک پہنچنے کی کوششیں بھی ماضی کے مقابلے میں کم کی جا رہی ہیں۔

یورپی یونین میں پناہ کی درخواستوں میں 23 فیصد کمی

کامینانڈو فرنٹیراس نامی اس تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال یکم جنوری سے 15 دسمبر تک افریقی ممالک سے سمندر پار کر کے اسپین تک پہنچنے کی کوشش کے دوران ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 3,090 ہو چکی تھی۔

یونان کشتی حادثہ، کیا یونانی کوسٹ گارڈز ذمہ دار ہیں؟

https://p.dw.com/p/568hW
ترکی میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن میں 357 مشتبہ عسکریت پسند گرفتار سیکشن پر جائیں
30 دسمبر 2025

ترکی میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن میں 357 مشتبہ عسکریت پسند گرفتار

ترکی میں وہ مکان جہاں داعش کے عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں چھ شدت پسند اور تین ترک پولیس اہلکار مارے گئے
ترکی میں وہ مکان جہاں داعش کے عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں چھ شدت پسند اور تین ترک پولیس اہلکار مارے گئےتصویر: Umit Bektas/REUTERS

ترک حکومت کے مطابق ممنوعہ دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے عسکریت پسندوں کے خلاف تازہ ترین ملک گیر کریک ڈاؤن میں 357 مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

عدم اعتماد کی فضا: شام میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے لیے تاحال حمایت

استنبول سے منگل 30 دسمبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق ترک وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے کہا کہ یہ گرفتاریاں شمال مغربی ترکی میں اس واقعے کے ایک روز بعد عمل میں آئیں، جس میں کل پیر کے دن ترک پولیس کے خصوصی دستوں اور داعش کے شدت پسندوں کے مابین ایک طویل اور خونریز جھڑپ میں نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس جھڑپ میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے چھ عسکریت پسندوں کے علاوہ تین ترک پولیس اہلکار بھی مارے گئے تھے جب کہ آٹھ سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہو گئے تھے۔

ترکی میں داعش کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لینے والے سکیورٹی اہلکار
ترکی میں داعش کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لینے والے سکیورٹی اہلکارتصویر: Umit Bektas/REUTERS

ٹرمپ، الشرع ملاقات کے بعد شام داعش مخالف اتحاد میں شامل

علی یرلیکایا نے بتایا کہ منگل کے روز عمل میں آنے والی گرفتاریاں ایک ایسے ملک گیر آپریشن کے دوران کی گئیں، جس میں درجنوں مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ ترک وزیر داخلہ کے بقول داعش کے مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف یہ چھاپے ترکی کے 21 صوبوں میں مارے گئے۔

ترک ریاست کا دہشت گردی کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے سے انکار

ترک وزیر داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا، ’’جیسا کہ ہم نے دہشت گردوں کو کبھی یہ اجازت نہیں دی کہ وہ اپنی شدت پسندی کے ساتھ ترک ریاست کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیک دینے پر مجبور کر سکیں، اسی طرح ہم مستقبل میں بھی دہشت گردی اور دہشت گردوں کو کبھی ایسا کوئی موقع نہیں دیں گے۔‘‘

افریقہ کا ساحل خطہ: جہادی حملوں میں اب تک 77 ہزار افراد ہلاک

ترک وزیر داخلہ علی یرلیکایا
ترک وزیر داخلہ علی یرلیکایاتصویر: ANKA

وزیر داخلہ علی یرلیکایا کے ایکس پر اس بیان سے قبل استنبول میں ریاستی دفتر استغاثہ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ داعش کے نئے گرفتار کیے گئے 357 مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف چھاپے 21 صوبوں میں مارے گئے، جن میں سے صرف استنبول اور دو دیگر صوبوں میں ہی ایسی کارروائیاں 114 مختلف مقامات پر کی گئیں۔

اس دوران گرفتار کیے گئے افراد سے ’اسلامک اسٹیٹ‘ سے متعلق بہت سا ڈیجیٹل مواد اور دستاویزات بھی برآمد کر کے قبضے میں لے لیے گئے۔

داعش اب بھی بھرتیاں کرنے کے قابل کیسے ہے؟

https://p.dw.com/p/568g0
جرمنی میں بہت بڑی بینک ڈکیتی، ملزم 30 ملین یورو کے برابر نقد رقوم اور زیورات لے اڑے سیکشن پر جائیں
30 دسمبر 2025

جرمنی میں بہت بڑی بینک ڈکیتی، ملزم 30 ملین یورو کے برابر نقد رقوم اور زیورات لے اڑے

نامعلوم ڈکیٹ ایک دیوار میں تصویر میں نظر آنے والا بڑا سوراخ کر کے بینک کے لاکر روم تک پہنچے
نامعلوم ڈکیٹ ایک دیوار میں تصویر میں نظر آنے والا بڑا سوراخ کر کے بینک کے لاکر روم تک پہنچےتصویر: Polizei Gelsenkirchen/dpa/picture alliance

جرمنی کے مغربی شہر گیلزن کرشن میں بینک ڈکیتی کے ایک بڑے واقعے میں نامعلوم ملزمان ایک بینک کے والٹ روم میں داخل ہو کر تقریباﹰ 30 ملین یورو کے برابر نقد رقوم اور قیمتی زیورات و جواہرات لے اڑے۔

جرمنی: ایک گھر سے ایک لاکھ یورو سے زائد مالیت کے سونے کی چوری

جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے دارالحکومت ڈسلڈورف سے منگل 30 دسمبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق سکیورٹی ذرائع اور تفتیش کاروں نے بتایا کہ اس ڈکیتی میں ملزمان جتنی بڑی مالیت میں زر و جواہر سمیٹ کر غائب ہو گئے، وہ قریب 30 ملین یورو یا 35.2 ملین ڈالر کے برابر بنتے ہیں۔

اس واقعے میں مجرموں نے بینک کے والٹ میں سیف ڈیپازٹ کے لیے استعمال ہونے والے قریب 3,200 لاکر توڑ کر ان میں رکھی گئی نقدی اور زیورات پر ہاتھ صاف کر دیا۔

بہت سے گاہکوں نے اس بینک کے لاکرز میں اپنا سونا اور جواہرات بھی رکھے ہوئے تھے
بہت سے گاہکوں نے اس بینک کے لاکرز میں اپنا سونا اور جواہرات بھی رکھے ہوئے تھےتصویر: Frank Hoermann/SVEN SIMON/picture alliance

جدید جرمنی کی تاریخ میں کسی بینک میں ڈکیتی کا سب سے بڑا واقعہ

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ اس جرم کی چھان بین کرنے والے تفتیشی ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ممکنہ طور پر جدید جرمنی کی تاریخ میں کسی بینک میں ڈکیتی کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔

اٹلی کا غیر معروف لیکن انتہائی خطرناک فورتھ مافیا کیا ہے؟

متعلقہ بینک کے ذرائع کے مطابق والٹ روم میں نصب لاکروں کی سہولت استعمال کرنے والے بینک کے گاہکوں میں سے کئی ایک نے ایک سے زیادہ لاکر کرائے پر لے رکھے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ جن قریب 3,200 لاکروں کو توڑا گیا، ان میں رکھی گئی قیمتی اشیاء کے مالک اور بینک کے متاثرہ گاہکوں کی تعداد  2,500 سے زائد بنتی ہے۔

گیلزن کرشن میں لوٹا گیا بینک اسی طرز کا ’سپار کاسے‘ تھا، جیسا اس تصویر میں برلن کا ’شپار کاسے‘ یا علاقائی سیونگ بینک نظر آ رہا ہے
گیلزن کرشن میں لوٹا گیا بینک اسی طرز کا ’سپار کاسے‘ تھا، جیسا اس تصویر میں برلن کا ’شپار کاسے‘ یا علاقائی سیونگ بینک نظر آ رہا ہےتصویر: Schoening/picture alliance

دیگر رپورٹوں کے مطابق اس بینک میں ڈکیتی کے واقعے کا سکیورٹی کو علم اس وقت ہوا، جب پیر 29 دسمبر کی صبح وہاں نصب فائر الارم یکدم فعال ہو گیا تھا۔

بینک کے متاثرہ گاہکوں کا احتجاج

اس واقعے کے بعد آج منگل کے روز  گیلزن کرشن میں لوٹے گئے بینک کی برانچ کے سامنے تقریباﹰ 200 ایسے متاثرہ کسٹمر جمع ہو گئے، جو یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ بینک کی طرف سے انہیں ان کی لاکروں سے لوٹ لی گئی املاک کے بارے میں واضح تفصیلات بتائی جائیں۔ 

لبنان: اپنی ہی رقم نکالنے کے لیے'بینک ڈکیتیوں' کا سلسلہ تیز

اس دوران کئی متاثرہ گاہکوں نے اشتعال میں آ کر زبردستی بینک میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی، جس پر پولیس طلب کرنا پڑ گئی۔ پولیس نے ان متاثرین کو بینک کے دروازے کے سامنے سے ہٹا کر اس برانچ کے بند کر دیے جانے کا اعلان کر دیا۔

ڈاکو بینک کی دیوار کاٹ کر ڈھائی سو سیف ڈیپازٹ باکس لے اڑے

گیلزن کرشن میں جس بینک کو لوٹا گیا، وہ جرمنی میں علاقائی بینکوں کے اس سلسلے کا ایک بینک ہے، جو چھوٹے بڑے شہروں میں اکثر کام کرتے ہیں اور جن میں عام شہری اپنی بچتی رقوم جمع کراتے ہیں۔

اسی لیے ان بینکوں کو جرمن زبان میں ’شپارکاسن‘ یا ’سیونگ بینکس‘ کہا جاتا ہے۔

https://p.dw.com/p/568Wa
متحدہ عرب امارات کی ریاض کی طرف سے لگائے گئے یمنی تنازعے کو ہوا دینے کے الزامات کی تردید سیکشن پر جائیں
30 دسمبر 2025

متحدہ عرب امارات کی ریاض کی طرف سے لگائے گئے یمنی تنازعے کو ہوا دینے کے الزامات کی تردید

یمن میں متحدہ عرب امارات کا تربیت یافتہ اور حوثی باغیوں کی مخالف جنوبی عبوری کونسل میں شامل سکیورٹی بیلٹ فورس کا رکن ایک مسلح عسکریت پسند ماضی کی ریاست جنوبی یمن کے پرچم کے ساتھ
یمن میں متحدہ عرب امارات کا تربیت یافتہ اور حوثی باغیوں کی مخالف جنوبی عبوری کونسل میں شامل سکیورٹی بیلٹ فورس کا رکن ایک مسلح عسکریت پسند ماضی کی ریاست جنوبی یمن کے پرچم کے ساتھتصویر: Nabil Hasan/AFP

خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کی طرف سے اپنے خلاف لگائے گئے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے کہ ابوظہبی یمن میں مسلح تنازعے کو ہوا دے رہا ہے۔

یمن: سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مابین تناؤ عروج پر

دبئی سے منگل 30 دسمبر کو ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کے اس بیان کے بعد کہ اس نے فضائی حملوں میں یمن کی علیحدگی پسند قوتوں کے لیے بھیجے گئے اماراتی اسلحے کی ایک کھیپ تباہ کر دی ہے، متحدہ عرب امارات کی حکومت کی طرف سے اپنے خلاف لگائے گئے ریاض کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس خلیجی ریاست نے یمنی علیحدگی پسند قوتوں کے لیے کوئی ہتھیار نہیں بھیجے تھے اور نہ ہی ابوظہبی کی طرف سے یمن کے کئی سالہ خونریز تنازعے کو ہوا دی جا رہی ہے۔

یمن: سعودی عرب اور یو اے ای کے حمایت یافتہ گروہوں کے مابین لڑائی

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان، دائیں، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان، دائیں، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھتصویر: Rashed Al Mansoori/Ministry of Presidential Affairs/AP/picture alliance

متحدہ عرب امارات کا ’اجتناب اور ہوش مندی‘ کا مطالبہ

متحدہ عرب امارات کی حکومت کی ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ ان الزامات کی سختی سے اور قطعی طور پر تردید کرتی ہے کہ امارات کی طرف سے یمنی تنازعے کو ہوا دی جا رہی ہے۔‘‘

اسرائیل اور یمنی حوثیوں کے مابین کشیدگی میں اضافہ

اس بیان کے بعد ابوظہبی میں ملکی وزارت خارجہ نے بھی اپنا ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ ریاض حکومت کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات درست نہیں اور اس سارے معاملے میں ’’اجتناب اور ہوش مندی‘‘ کی سوچ اپنائی جانا چاہیے۔

یمن میں زیر حراست گیارہ یو این کارکن مشتبہ جاسوس، حوثی باغی

اماراتی وزارت خارجہ کی طرف سے یہ بیان سعودی عرب کی طرف سے سامنے آنے والی اس پیش رفت کے بعد دیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی فضائی حملوں میں یمن کے بندرگاہی شہر المکلا میں ان ہتھیاروں اور بکتر بند گاڑیوں کو ہدف بنا کر تباہ کر دیا گیا، جو مبینہ طور پر دو بحری جہازوں کے ذریعے متحدہ عرب امارات نے وہاں بھیجے تھے اور جن کا مقصد یمن کے علیحدگی پسند باغیوں کی عملی طور پر عسکری حمایت تھا۔

فاقہ کشی کا شکار یمنی بچے

https://p.dw.com/p/568HP
صدر ٹرمپ کی طرف سے دوبارہ حملوں کی دھمکی کے بعد ایران کی ’سخت‘ ردعمل کی وارننگ سیکشن پر جائیں
30 دسمبر 2025

صدر ٹرمپ کی طرف سے دوبارہ حملوں کی دھمکی کے بعد ایران کی ’سخت‘ ردعمل کی وارننگ

ایرانی دارالحکومت تہران میں ایک آئل ریفائنری پر اس سال جون میں کیے گئے اسرائیلی فضائی حملے کے بعد لگنے والی آگ کا ایک منظر
ایرانی دارالحکومت تہران میں ایک آئل ریفائنری پر اس سال جون میں کیے گئے اسرائیلی فضائی حملے کے بعد لگنے والی آگ کا ایک منظرتصویر: Ahmad Hatefi/newscom/picture alliance

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف دوبارہ کسی جارحیت کا ارتکاب کیا تو اس کے خلاف تہران کا ردعمل ’سخت‘ ہو گا۔ ایرانی صدر نے یہ بات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اس بیان کے ایک روز بعد کہی، جس میں امریکی صدر نے تہران کو ایک نئے ممکنہ حملے کے خلاف خبردار کیا تھا۔

تہران سے منگل 30 دسمبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف کسی بھی نئی جارحیت کی صورت میں تہران ’’فوری اور سخت‘‘ جواب دے گا۔

اقوام متحدہ کے ادارے اور ایران میں جوہری معائنے پر پیش رفت

امریکی صدر ٹرمپ، دائیں، کی پیر کے روز ریاست فلوریڈا میں لی گئی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ ایک تصویر
امریکی صدر ٹرمپ، دائیں، کی پیر کے روز ریاست فلوریڈا میں لی گئی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ ایک تصویرتصویر: Jim Watson/AFP

قبل ازیں کل پیر کی شام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست فلوریڈا میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ اپنی ایک ملاقات کے بعد کہا تھا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیاروں کے اپنے پروگرام یا اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کی بحالی کے لیے دوبارہ کام کرنا شروع کیا، تو اسے ایک بار پھر بڑے فضائی حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور امریکہ ایسے حملوں کی حمایت کرے گا۔

نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد دیا جانے والا بیان

امریکی صدر نے اپنا یہ بیان اس تناظر میں دیا کہ اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے اس سال جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر بڑے فضائی حملے کیے تھے، جن کے ساتھ ہی ایران اور اسرائیل کا وہ براہ راست فوجی تصادم شروع ہو گیا تھا، جو کئی روز تک جاری رہا تھا۔

ایران پر امریکی بمباری کا تخمینہ، امریکی جنرل برطرف

ترکمانستان میں دسمبر کی بارہ تاریخ کو لی گئی روسی صدر پوٹن، دائیں، اور ایرانی صدر پزشکیان کی ایک تصویر
ترکمانستان میں دسمبر کی بارہ تاریخ کو لی گئی روسی صدر پوٹن، دائیں، اور ایرانی صدر پزشکیان کی ایک تصویرتصویر: Kristina Kormilitsyna/TASS/ZUMA/picture alliance

صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی موجودگی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ تاثر بھی دیا کہ ممکن ہے کہ ایران جون میں کیے جانے والے حملوں کے بعد اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کی بحالی کے لیے کام کر رہا ہو۔

اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے بیس مبینہ جاسوس گرفتار، ایران کا سخت انتباہ

ایران کی طرف سے تاہم ان الزامات کی بھرپور تردید کی جاتی ہے کہ وہ پہلے یا اب اپنے جوہری ہتھیاروں کے کسی پروگرام پر کام کر رہا ہے۔

روس کی امریکہ کو تنبیہ

اسی بارے میں ماسکو سے منگل کے روز ملنے والی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ روس نے امریکی صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی نئے ممکنہ حملے کے حوالے سے احتیاط و اجتناب سے کام لیں۔

تہران کی ایک بڑی جیل پر جون میں کیے گئے اسرائیلی فضائی حملے کے بعد کا منظر
تہران کی ایک بڑی جیل پر جون میں کیے گئے اسرائیلی فضائی حملے کے بعد کا منظرتصویر: Mostafa Roudaki/mizanonline/AFP/Getty Images

ماسکو میں کریملن کی طرف سے کہا گیا کہ روس کا موقف یہ ہے کہ اس تنازعے میں تمام فریق تناؤ اور کشیدگی میں اضافے کا باعث بننے والے اقدامات کے بجائے ایران کے ساتھ مکالمت کو فروغ دینے کی کوشش کریں، جو ناگزیر ہے۔

امریکی حملے ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے میں ناکام رہے، انٹیلیجنس رپورٹ

روس کی ایران سے متعلق سیاسی ترجیحات کے سلسلے میں یہ بات اہم ہے کہ ماسکو نے یوکرین کے ساتھ اپنی جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران کے ساتھ اپنے روابط کو خاص طور پر تقویت دی ہے اور اسی سال تہران اور ماسکو نے آپس میں ایک اسٹریٹیجک پارٹنرشپ معاہدے پر دستخط بھی کر دیے تھے۔

اسرائیل کے ایران پر حملے: کب کیا ہوا؟

https://p.dw.com/p/5684l
بھارتی معیشت نے جاپان کو پیچھے چھوڑ دیا، اب نظریں جرمن معیشت پر، نئی دہلی کا دعویٰ سیکشن پر جائیں
30 دسمبر 2025

بھارتی معیشت نے جاپان کو پیچھے چھوڑ دیا، اب نظریں جرمن معیشت پر، نئی دہلی کا دعویٰ

ایک بھارتی فیکٹری میں کام کرتے ہوئے کارکن
بھارت میں صنعتی پیداوار کے لیے اب زیادہ سے زیادہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہےتصویر: Sam Panthaky/AFP/Getty Images

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک بھارت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی معیشت نے جاپانی معیشت کے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یوں بھارت کے دنیا کی چوتھی سب سے بڑی اقتصادی طاقت بن جانے کے بعد اس کی نظریں اب جرمن معیشت پر لگی ہیں۔

ایمازون کی بھارت میں پینتیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری

نئی دہلی سے منگل 30 دسمبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق بھارتی حکام کو اب امید ہے کہ یہ جنوبی ایشیائی ملک اپنے اقتصادی حجم کے حوالے سے اگلے تقریباﹰ تین برسوں میں جرمنی کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔

باقاعدہ تصدیق اگلے برس

نیوز ایجنسی اے ایف پی نے لکھا ہے کہ نئی دہلی میں حکام کی طرف سے یہ بات ایسے وقت پر کہی گئی، جب بھارت میں سال کے آخر پر لیے جانے والے اقتصادی جائزے کو آخری شکل دی جا رہی ہے۔

مختلف مالیت کے بھارتی کرنسی نوٹ
بھارتی حکومت کے مطابق ملک کی مجموعی اقتصادی پیداوار کے حجم اس وقت 4.18 ٹریلین ڈالر کے برابر بنتا ہےتصویر: Pond5 Images/IMAGO

بھارت نے اپنے دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت ہونے کا دعویٰ تو کر دیا ہے، تاہم سرکاری طور پر اس کا تصدیق کا انحصار اس قومی اکنامک ڈیٹا کے اجرا پر ہو گا، جو اگلے برس 2026ء میں جاری کیا جائے گا۔

بھارت کے اس کی مجموعی اقتصادی پیداوار سے متعلق اگلے سالانہ اعداد و شمار نئے سال میں جاری کیے جائیں گے۔

بھارت اور امریکہ میں تجارتی جنگ، نقصان کس کا؟

لیکن اس کی باقاعدہ تصدیق اس لیے بھی متوقع ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) کی طرف سے بھی یہ اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ بھارت 2026ء میں اپنے اقتصادی حجم کے حوالے سے جاپان کو پیچھے چھوڑ دے گا۔

بھارت کے سالانہ بجٹ میں ترقی کے لیے حکمت عملی کا فقدان، تجزیہ کار مایوس

جاپان میں، جو اب دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے، ٹوکیو کے گنزا شاپنگ سینٹر کا ایک منظر
جاپان میں، جو اب دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے، ٹوکیو کے گنزا شاپنگ سینٹر کا ایک منظرتصویر: Taidgh Barron/Zuma/picture alliance

بھارتی حکومت کا جاری کردہ اکنامک بریفنگ نوٹ

بھارتی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک اکنامک بریفنگ نوٹ میں کہا گیا ہے، ’’بھارت کا شمار دنیا کی سب سے تیز رفتاری سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں ہوتا ہے اور یہ تیز رفتاری آئندہ بھی جاری رہے گی۔‘‘

بھارتی ٹاٹا گروپ کا سرمایہ پاکستان کی مجموعی معیشت سے زیادہ

ساتھ ہی اس نوٹ میں کہا گیا ہے، ’’اپنی مجموعی اقتصادی پیداوار کے حجم، جو 4.18 ٹریلین ڈالر بنتا ہے، کے ساتھ بھارت جاپان کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے۔ اگلے ڈھائی سے تین برسوں کے دوران اسی تیز رفتاری کے باعث بھارت جرمنی کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی راہ پر بھی گامزن ہے۔‘‘

بھارتی حکومت کی اس اقتصادی دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2030ء تک بھارت کی مجموعی قومی پیداوار اپنے حجم میں متوقع طور پر 7.3 ٹریلین ڈالر ہو جائے گی۔
ادارت: امتیاز احمد، رابعہ بگٹی

بھارتی معیشت کو درپیش چیلنجز کیا ہیں؟

https://p.dw.com/p/567he
مزید پوسٹیں
Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔