1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتیمن

یمن میں سعودی عرب اور یو اے ای ایک دوسرے کے خلاف کیوں؟

امتیاز احمد اے پی، ڈی پی اے اور روئٹرز کے ساتھ
26 دسمبر 2025

یمن میں متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ان کی فورسز کو فضائی حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔ اس ملک میں سعودی عرب اور یو اے ای کے اختلافات میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

https://p.dw.com/p/55zLz
جمعرات کو ریاض حکومت نے متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں سے کہا تھا کہ وہ پیش قدمی نہ کریں اور پیچھے ہٹ جائیں
جمعرات کو ریاض حکومت نے متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں سے کہا تھا کہ وہ پیش قدمی نہ کریں اور پیچھے ہٹ جائیںتصویر: Mohammad/Xinhua/IMAGO

جنگ زدہ ملک یمن میں متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل نے جمعے کے روز کہا کہ سعودی عرب کی طرف سے یہ فضائی حملے یمن کے صوبہ حضرموت میں کیے گئے۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان حملوں سے کوئی ہلاکتیں ہوئیں یا نہیں۔ تاہم ان حملوں نے اس جنگ زدہ ملک میں کشیدگی کو مزید بڑھا اور سعودی قیادت والے اس نازک اتحاد کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جو گزشتہ ایک دہائی سے یمن کے شمال میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف برسرپیکار ہے۔

کونسل کے خارجہ امور کے لیے خصوصی نمائندے عمرو البیض نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ ان کے جنگجو جمعے کو مشرقی حضرموت میں آپریشن کر رہے تھے، جب  مسلح افراد نے ان کے خلاف گھات لگا کر متعدد حملے کیے، جن میں کونسل کے دو جنگجو ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے۔

 ان کے مطابق سعودی فضائی حملے اس کے بعد کیے گئے۔ حضرموت میں قبائل کے اتحاد کے ایک سرکردہ رکن فائز بن عمر نے اے پی کو بتایا کہ ان کے خیال میں یہ حملے کونسل کو خبردار کرنے کے لیے تھے کہ وہ اپنی فورسز کو اس علاقے سے واپس بلا لے۔

حملوں کے ایک عینی شاہد احمد الخید نے کہا کہ انہوں نے تباہ شدہ فوجی گاڑیاں دیکھیں، جو کونسل سے منسلک فورسز کی بتائی جاتی ہیں۔کونسل کے سیٹلائٹ چینل اے آئی سی نے موبائل فون سے بنائی گئی ایک فوٹیج نشر کی، جسے حملوں کی فوٹیج قرار دیا جا رہا ہے۔

 ایک ویڈیو میں ایک شخص سعودی طیاروں کو  ان حملوں کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے۔ سعودی عرب کے حکام نے اس تناظر میں تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی فوری جواب نہیں دیا۔

حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے گروہ اب اس جنوبی علاقے پر قبضے کے لیے آپس میں لڑ رہے ہیں
حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے گروہ اب اس جنوبی علاقے پر قبضے کے لیے آپس میں لڑ رہے ہیںتصویر: Fawaz Salman/REUTERS

سعودی عرب کی طرف سے وارننگ

 قبل ازیں جمعرات کو ریاض حکومت نے متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں سے کہا تھا کہ وہ پیش قدمی نہ کریں اور پیچھے ہٹ جائیں۔ اس کونسل کے جنگجوؤں نے رواں ماہ یمن کے صوبوں حضرموت اور المہرہ میں پیش قدمی کی تھی۔ اس سے سعودی حمایت یافتہ نیشنل شیلڈ فورسز سے منسلک فورسز کو پیچھے دھکیلا گیا، جو حوثیوں کے خلاف اتحاد کا حصہ ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ کونسل سے منسلک افراد جنوبی یمن کا پرچم لہرا رہے ہیں، جو 1967ء سے 1990ء تک ایک علیحدہ ملک تھا۔

سعوی عرب اور متحدہ عرب امارات آمنے سامنے

 جمعرات کو جنوبی بندرگاہی شہر عدن میں مظاہرین نے ایک ریلی نکالی اور جنوبی یمن کی دوبارہ علیحدگی کے مطالبے کی حمایت کی۔ اس وقت سعودی عرب اور امارات مختلف یمنی فورسز کی حمایت کر رہے ہیں۔ سن 2014 میں حوثی باغیوں کی طرف سے دارالحکومت صنعاء اور ملک کے بڑے حصے پر قبضے کے بعد سے عدن بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور حوثی باغیوں کے خلاف برسر پیکار فورسز کا مرکزِ اقتدار رہا ہے۔ حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے گروہ اب اس جنوبی علاقے پر قبضے کے لیے آپس میں لڑ رہے ہیں۔

جنوبی عبوری کونسل نے جمعے کے روز کہا کہ سعودی عرب کی طرف سے یہ فضائی حملے یمن کے صوبہ حضرموت میں کیے گئے
جنوبی عبوری کونسل نے جمعے کے روز کہا کہ سعودی عرب کی طرف سے یہ فضائی حملے یمن کے صوبہ حضرموت میں کیے گئےتصویر: Stringer/REUTERS

علیحدگی پسندوں کے ان اقدامات نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات پر بھی دباؤ ڈالا ہے، جو قریبی تعلقات رکھتے ہیں اور اوپیک کا حصہ ہیں، مگر حالیہ برسوں میں اثر و رسوخ اور بین الاقوامی کاروبار میں آپس میں مقابلہ بھی کر رہے ہیں۔

تاہم متحدہ عرب امارات نے جمعے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ''یمن میں سکیورٹی اور استحکام کی حمایت کے لیے مملکت سعودی عرب کی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔‘‘

یمن: حوثیوں کے خلاف جنگ، امریکہ کو مہنگی پڑ رہی ہے

بحیرہ احمر کے کنارے واقع ایک اور ملک سوڈان میں بھی تشدد بڑھ رہا ہے اور وہاں بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جنگ میں مخالف فورسز کی حمایت کر رہے ہیں۔

یمن کی کشیدہ صورت حال اور اس کا پس منظر

 یمن کی جنگ اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی، جب ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے ستمبر 2014ء میں صنعاء پر قبضہ کرتے ہوئے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو جلاوطنی پر مجبور کیا۔ ایران حوثی باغیوں کو ہتھیار دینے سے انکار کرتا ہے تاہم اقوام متحدہ کی طرف سے ہتھیاروں کی پابندی کے باوجود میدان جنگ اور سمندر میں یمن کی طرف جانے والے جہازوں سے ایرانی ساختہ ہتھیار برآمد ہوئے۔

اس پیش رفت کے جواب میں امریکی ہتھیاروں اور انٹیلیجنس سے لیس سعودی قیادت والے اتحاد نے مارچ 2015ء میں جلاوطن حکومت کی حمایت کرتے ہوئے اس جنگ میں مداخلت کی۔ برسوں کی غیر فیصلہ کن لڑائی نے عرب دنیا کے اس غریب ترین ملک کو قحط کے دہانے پر پہنچا دیا۔

اس جنگ میں ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں جنگجو اور عام شہری دونوں شامل ہیں۔ دریں اثنا حوثیوں نے اسرائیل اور حماس کی جنگ کے تناطر میں بحیرہ احمر میں سینکڑوں جہازوں پر حملے کیے، جن سے علاقائی شپنگ شدید متاثر ہوئی ہے۔

مبصرین کے مطابق یمن میں مزید افراتفری امریکہ کو دوبارہ اس ملک میں کھینچ سکتی ہے۔ واشنگٹن نے رواں سال حوثی باغیوں کے خلاف شدید بمباری کی مہم شروع کی تھی، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اکتوبر میں مشرق وسطیٰ کے دورے سے قبل روک دیا تھا۔

ادارت: مقبول ملک

DW Mitarbeiterportrait | Imtiaz Ahmad
امتیاز احمد ڈی ڈبلیو اکیڈمی سے جرنلزم کی عملی تربیت حاصل کی اور بطور ملٹی میڈیا ایڈیٹر کام کر رہے ہیں۔