خلیجی توانائی تنصیبات پر حملے ناقابلِ قبول، بھارت کا انتباہ
وقت اشاعت 19 مارچ 2026آخری اپ ڈیٹ 19 مارچ 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
* خلیجی توانائی تنصیبات پر حملے ’ناقابلِ قبول‘ ہیں، بھارت کا سخت ردعمل
* مشرقِ وسطیٰ میں کارروائی کے اختتام کا کوئی حتمی ٹائم فریم نہیں، امریکی وزیرِ دفاع
* سعودی آئل فیلڈ کے قریب ڈرون آ گرا، نقصان کا جائزہ جاری
* لاریجانی کا قتل ناقابلِ قبول اقدام، چین کی سخت مذمت
* قطر، سعودی عرب اور امارات کی ایران کے حملوں کی شدید مذمت
* اسرائیلی حملے کے بعد خلیج میں تیل و گیس تنصیبات پر ایرانی حملے
* ’یہ ہماری جنگ نہیں‘ یورپ کا ٹرمپ کو انکار
* ایران آبنائے ہرمز پر ٹول وصول کرنے پر غور کر رہا ہے
* بائیکاٹ امریکہ کا ہے، ورلڈ کپ کا نہیں، ایران
* کراچی میں طوفانی بارشوں سے 15 افراد ہلاک، متعدد زخمی
* ڈرون حملے، کویت میں دو بڑی آئل ریفائنریوں میں آگ لگ گئی
* ایران کے حملے جاری رہے تو فوجی اقدام ہوگا، سعودی انتباہ
* ایران نے قطر پر دوبارہ حملہ کیا تو ایرانی گیس فیلڈ تباہ کر دیں گے، ٹرمپ
خلیجی توانائی تنصیبات پر حملے ناقابلِ قبول، بھارت کا انتباہ
خلیجی خطے میں توانائی تنصیبات پر ایران کے تازہ حملوں نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے بلکہ عالمی توانائی منڈی کی نازک صورتحال کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔متعدد ممالک ان حملوں کی مذمت کر رہے ہیں۔بھارت نے انہیں ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
بھارت کا یہ ردعمل ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب ایران نے قطر کے راس لفان ایل این جی (LNG) کمپلیکس، جو دنیا کی سب سے بڑی ایل این جی تنصیبات میں شمار ہوتا ہے، پر حملہ کیا۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساؤتھ پارسگیس فیلڈ پر بمباری کے جوابی اقدام کے طور پر کیا گیا۔
بھارت کی توانائی رسد خطرے میں ہے کیونکہ قطر بھارت کو اس کی ایل این جی ضروریات کا 40 فیصد سے زائد فراہم کرتا ہے، جو بجلی کی پیداوار، صنعتی سرگرمیوں، کھاد سازی، اور گھریلو استعمال کے لیے انتہائی اہم ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا،’’ توانائی تنصیبات پر حالیہ حملے ناقابلِ قبول ہیں اور انہیں فوراﹰ روکنا ضروری ہے۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ خطے میں اس قسم کی کارروائیاں ’’پہلے سے غیر یقینی عالمی توانائی منظرنامے کو مزید خراب کر رہی ہیں۔‘‘
بھارت کے مطابق خلیج میں 22 بھارتی جہاز اور 600 سے زائد عملہ پھنس چکا ہے، ایل این جی سپلائی میں مزید رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں اور درآمدی لاگت اور ملک کے اندر قیمتوں پر شدید دباؤ متوقع ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے نئی دہلی میں میڈیابریفنگ کے دوران کہا، ’’آبنائے ہرمز کی بندش سے ہماری توانائی سپلائی پہلے ہی متاثر ہوئی ہے۔ تازہ حملوں کے بعد ایل این جی کی فراہمی مزید متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ بھارت تمام متعلقہ ممالک اور شراکت داروں سے رابطے میں ہے تاکہ توانائی کارگو کی بلا رکاوٹ آمدورفت یقینی بنائی جا سکے۔
مشرقِ وسطیٰ میں کارروائی کے اختتام کا کوئی حتمی ٹائم فریم نہیں، امریکی وزیرِ دفاع
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ پینٹاگون کے پاس مشرقِ وسطیٰ میں جاری کارروائیوں کے اختتام کے لیے کوئی واضح یا حتمی ٹائم فریم موجود نہیں ہے۔
ہیگستھ نے کہا، ’’ہم اس مرحلے پر کوئی قطعی ٹائم لائن طے نہیں کرنا چاہتے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ فوجی آپریشن ’’منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے‘‘ اور جنگ ختم کرنے کا حتمی فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی کریں گے۔
وزیرِ دفاع کے مطابق، ’’بالآخر صدر ہی یہ طے کریں گے کہ کب ہم یہ کہہ سکیں گے کہ ہم اپنے اہداف حاصل کر چکے ہیں۔‘‘
ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف جاری حملوں کے لیے اب تک کوئی واضح یا حتمی مقاصد بیان نہیں کیے، جس کے باعث کانگریس کے چند اراکین اور مبصرین نے واشنگٹن کی مجموعی حکمتِ عملی کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔
امریکی وزارتِ دفاع کے مطابق صورتِ حال تیزی سے بدل رہی ہے اور فوجی قیادت زمینی حقائق کی روشنی میں پیش رفت جاری رکھے ہوئے ہے۔
سعودی آئل فیلڈ کے قریب ڈرون آ گرا، نقصان کا جائزہ جاری
خطے کی تیل کی تنصیبات پر جاری حملوں کے تبادلے کے دوران جمعرات کو سعودی بندرگاہ ینبع میں واقع ایک آئل ریفائنری کے قریب ایک ڈرون گرنے کی اطلاع ملی ہے۔ حکام کے مطابق واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب خلیج میں توانائی کے انفراسٹرکچر پر کشیدگی پہلے ہی بڑھ چکی ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ سامرف (SAMREF) ریفائنری کے علاقے میں ڈرون گرنے کے بعد تکنیکی ٹیمیں نقصان کا جائزہ لے رہی ہیں۔ وزارت کے مطابق اسی روز اس مقام کے قریب ایک بیلسٹک میزائل بھی روکا گیا تھا، جسے فضائی دفاع نے کامیابی سے تباہ کر دیا۔
سامرف ریفائنری سعودی عرب کی سرکاری توانائی کمپنی آرامکو اور امریکی کمپنی ایکسون موبل کے مشترکہ استعمال میں ہے، اور ملک کے اہم ترین توانائی مراکز میں شمار ہوتی ہے۔
حکام نے فوری طور پر کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی، تاہم سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔
لاریجانی کا قتل ناقابلِ قبول اقدام، چین کی سخت مذمت
چین نے جمعرات کے روز ایرانی قومی سلامتی کے سربراہ علی لاریجانی کی ہلاکت کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا ہے۔ لاریجانی رواں ہفتے منگل کے روز ایک اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے پریس بریفنگ میں کہا کہ بیجنگ ایران کی اعلیٰ قیادت اور عام شہریوں پر حملوں کی کھل کر مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’چین متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کریں اور خطے کو مزید تباہی سے روکیں۔‘‘
ایران کا قریبی شراکت دار ہونے کے ناطے چین حالیہ کشیدگی میں مسلسل تحمل کی اپیل کرتا آیا ہے، خصوصا اس وقت سے جب خلیجی ممالک،جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں ، ایرانی حملوں کی زد میں آئے۔
چین نے خطے میں بگڑتی صورتحال کے انسداد کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرتے ہوئے مؤثر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
قطر، سعودی عرب اور امارات کی ایران کے حملوں کی شدید مذمت
خلیجی ممالک قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے توانائی تنصیبات پر ایران کے تازہ حملوں کی سخت مذمت کی ہے، جبکہ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے ان کارروائیوں کو خطے میں کشیدگی میں’’انتہائی خطرناک اضافہ‘‘ قرار دیا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق ایران کی جانب سے خطے میں توانائی کے انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد سعودی عرب نے بڑے پیمانے پر تیل کو بحیرہ احمر کی جانب پمپ کرنا شروع کر دیا تھا تاکہ آبنائے ہرمز کو بائی پاس کیا جا سکے۔
سعودی وزارتِ دفاع اور آئل کمپنی شیل نے کہا ہے کہ متاثرہ تنصیبات پر نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اُدھر متحدہ عرب امارات نے بھی تصدیق کی ہے کہ حبشان گیس تنصیب اور باب فیلڈ پر ایران کے رات گئے حملوں کے بعد ان تنصیبات کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ابوظہبی حکام نے ان حملوں کو ’’خطرناک‘‘ قرار دیا اور کہا کہ تکنیکی ٹیمیں صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں۔
اس دوران اسرائیل کے مختلف علاقوں پر ایران کے متعدد میزائل حملوں کے باعث لاکھوں افراد کو پناہ گاہوں میں منتقل ہونا پڑا۔
ان حملوں سے عمارتوں کو نقصان پہنچا، تاہم اسرائیلی حکام کے مطابق کوئی بڑا جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
تہران کے تازہ حملے اسرائیل کی جانب سے ساؤتھ پارس پر کیے جانے والے حملے کے ردعمل میں کیے گئے ہیں۔ یہ خلیج فارس میں واقع دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ ہے جسے ایران اور قطر مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق ایران کی 80 فیصد بجلی قدرتی گیس سے تیار ہوتی ہے ، لہٰذا اس فیلڈ پر حملہ ایران کی توانائی اور بجلی کی فراہمی کے لیے براہ راست خطرہ بن گیا ہے۔
قدرتی گیس گھروں میں ہیٹنگ اور کھانا پکانے کے لیے بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے، اس لیے ایران میں روزمرہ زندگی پر بھی اثرات مرتب ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل ساؤتھ پارس پر مزید حملے نہیں کرے گا۔ تاہم انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے قطر کی توانائی تنصیبات پر حملے جاری رکھے تو امریکہ جواب میں ’’پوری گیس فیلڈ کو تباہ کر دے گا‘‘۔
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی کہا، ’’ میں اس درجے کی تباہی کی اجازت نہیں دینا چاہتا کیونکہ اس کے ایران کے مستقبل پر طویل مدتی اثرات بہت سنگین ہوں گے۔‘‘
خلیج میں جاری کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھا دی ہے، اور ماہرین کے مطابق یہ بحران عالمی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
اسرائیلی حملے کے بعد خلیج میں تیل و گیس تنصیبات پر ایرانی حملے
خلیج میں جاری کشیدگی جمعرات کے روز اُس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران نے اسرائیل کی جانب سے ایک اہم ایرانی گیس فیلڈ پر حملے کے جواب میں خطے کے تیل اور گیس کے مراکز پر اپنے حملے تیز کر دیے۔ اس صورتحال نے عالمی معیشت میں ہلچل پیدا کر دی ہے اور توانائی کی سپلائی پر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ایرانی جوابی کارروائیوں کے بعد عالمی منڈیوں میں ایندھن کی قیمتیں تیزی سے اوپر گئیں ، جب کہ مبصرین کے مطابق یہ حملے خلیجی عرب ممالک کو بھی ممکنہ طور پر اس تنازعے میں کھینچ سکتے ہیں۔ ایران کی جانب سے خطے بھر میں توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا ایسے وقت میں پریشان کن ہے جب آبنائے ہرمز تقریبا بندش کا شکار ہے۔ اس آبی راستے کو عالمی ضرورت کے بیس فیصد کی گزرگاہ قرار دیا جاتا ہے۔
اسی تناظر میں آبی راستے بھی غیر محفوظ ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب ایک تجارتی جہاز میں آگ بھڑک اٹھی جبکہ قطر کے قریب ایک اور جہاز کو نقصان پہنچا۔
عرب ممالک کی کوشش تھی کہ آبنائے ہرمز کو بائی پاس کر کے متبادل راستوں سے توانائی کی ترسیل جاری رکھی جائے، لیکن ایران نے بحیرہ احمر میں واقع ایک سعودی ریفائنری پر ڈرون حملہ کر کے اس کوشش کو بھی متاثر کیا۔
برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 118 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جو کہ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کے آغاز کے بعد سے 60 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق اگر خلیج میں کشیدگی اسی طرح بڑھتی رہی تو توانائی کی رسد میں بڑے پیمانے پر رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت پر محسوس کیے جائیں گے۔
’یہ ہماری جنگ نہیں‘ یورپ کا ٹرمپ کو انکار
جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے بُدھ کے روز قانون سازوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو اپنے پڑوسیوں کے لیے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، تاہم امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے پیچھے دلیل کے بارے میں وہ شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔
میرس کا کہنا تھا،’’آج تک اس بات کا کوئی واضح اور معتبر پلان موجود نہیں کہ یہ آپریشن آخر کیسے کامیاب ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن نے نہ ہم سے مشورہ کیا اور نہ ہی یہ کہا کہ یورپی تعاون ضروری ہے ۔‘‘ جرمن چانسلر نے مزید کہا،’’ہم نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک جنگ جاری ہے، ہم آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنانے میں حصہ نہیں لیں گے، چاہے وہ فوجی ذرائع استعمال کرنے ہی کی بات کیوں نہ ہو۔‘‘
یورپی رہنماؤں نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائیوں میں شریک ہونے سے انکار کر دیا ہے، ان کے مطابق وہ ایک ایسے غیر متوقع تنازعے میں الجھنے میں محتاط ہیں جس کے مقاصد وہ پوری طرح سمجھ نہیں پا رہے اور جو ان کے اپنے عوام میں بھی غیر مقبول ہے۔
اس فیصلے کے ساتھ یورپی ممالک یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ غیر جانب دار رہنے کے فوائد ان متعدد خطرات سے زیادہ ہیں جو ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کے لیے پیدا ہو سکتے ہیں۔ وہ تعلقات جو پہلے ہی یوکرین جنگ سے لے کر تجارتی محصولات کے جھگڑوں تک کئی مسائل کی وجہ سے دباؤ میں ہیں۔
جرمنی کے وزیرِ دفاع بورس پِسٹوریئس نے جرمن چانسلر کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا، ’’یہ ہماری جنگ نہیں ہے، ہم نے اسے شروع نہیں کیا۔‘‘
جرمنی کی اس پالیسی کی بازگشت فرانس میں بھی سنائی دی، جہاں فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے کہا، ’’ہم اس تنازعے کے فریق نہیں ہیں۔‘‘
بریفنگ میں یورپی رہنماؤں نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جاری جنگ کے محرکات پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق کچھ ارکانِ پارلیمان نے سوال اٹھایا کہ اب تک اس آپریشن کی کامیابی کے حوالے سے کوئی ’’قابلِ اعتماد منصوبہ‘‘ پیش نہیں کیا گیا۔
ایران آبنائے ہرمز پر ٹول وصول کرنے پر غور کر رہا ہے
ایک ایرانی قانون ساز نے کہا ہے کہ ایرانی رہنما آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران، ایران نے عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی نقل و حمل کے لیے اہم آبی گزرگاہ پر مضبوط گرفت برقرار رکھی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق خلیج کے اہم بحری راستوں پر کی جانے والی یہ ناکہ بندی اُن ملکوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہے جو برسوں سے ایران کے خلاف پابندیوں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ اس پالیسی کے نتیجے میں گزرگاہوں پر ایندھن بردار جہازوں کو روکنے سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
دریں اثناء امریکی حکام نے توانائی کی رسد میں مسلسل تعطل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے اتحادی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے اقدامات کا مشترکہ جواب دیں۔ تاہم واشنگٹن کے مطابق اس سلسلے میں کیے گئے سفارتی رابطوں کو خاطر خواہ پذیرائی نہیں مل رہی۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر کے ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول لینے جیسے اقدامات مغربی ممالک کے خلاف مؤثر ’’جوابی پابندی‘‘ کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مغرب نے طویل عرصے سے ایران پر معاشی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، اور موجودہ صورتِ حال اس کا جواب ہے۔
بائیکاٹ امریکہ کا ہے، ورلڈ کپ کا نہیں، ایران
ایران کی فٹبال فیڈریشن کے سربراہ مہدی تاج نے کہا ہے کہ ایران ’’ورلڈ کپ کا نہیں بلکہ صرف امریکہ کا بائیکاٹ‘‘ کر رہا ہے۔ یہ بیان ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق اس وقت سامنے آیا جب ٹیم نے امریکہ میں ہونے والے گروپ میچوں میں شرکت پر تحفظات ظاہر کیے۔
ابتدائی مخالفت کے باوجود ایرانی حکام نے فیفا کے ساتھ مذاکرات شروع کیے ہیں تاکہ ایران کے تمام گروپ اسٹیج میچوں کو امریکہ سے ہٹا کر صرف کینیڈا اور میکسیکو میں منتقل کیا جا سکے۔
دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی کھلاڑیوں کو ’’امریکہ میں خوش آمدید‘‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم اگر انہیں اپنی سکیورٹی سے متعلق خدشات ہوں تو وہ اسے سمجھ سکتے ہیں۔
میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شائن باؤم نے منگل کے روز کہا کہ میکسیکو ایران کے تمام میچوں کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
کراچی میں طوفانی بارشوں سے 15 افراد ہلاک، متعدد زخمی
پاکستان کے سب سے بڑے بندرگاہی شہر کراچی میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب آنے والے شدید طوفان، تیز ہواؤں اور موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد لقمہ اجل بن گئے اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ ہنگامی خدمات اور ہسپتال حکام کے مطابق مختلف علاقوں میں دیواریں اور چھتیں گرنے کے واقعات میں ہلاکتیں ہوئیں۔
شہر میں بدھ کی شام شروع ہونے والا طوفانی سلسلہ رات بھر جاری رہا۔ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔
طبی ذرائع کے مطابق شہر کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں 15 سے زائد لاشیں لائی گئیں جبکہ دو درجن سے زائد زخمی افراد کا علاج جاری ہے۔
تیز ہواؤں نے کئی درخت جڑوں سے اکھاڑ دیے، جس کے باعث ٹریفک کا نظام بھی متاثر ہوا۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہر میں 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلتی رہی ہیں۔
کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں کی صفائی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ ایمرجنسی سروسز کے مطابق ملک کے دیگر علاقوں میں بھی بارشوں اور آندھی کا سلسلہ جاری ہے۔
ڈرون حملے، کویت میں دو بڑی آئل ریفائنریوں میں آگ لگ گئی
جمعرات کو کویت کی سرکاری آئل کمپنی کے زیر انتظام چلنے والی دو ریفائنریز کو ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مینا عبداللہ ریفائنری کے ایک پراسیسنگ یونٹ پر ڈرون حملہ کیا گیا جس سے آگ بھڑک اٹھی۔ اسی طرح مینا الاحمدی ریفائنری کے ایک اور یونٹ کو بھی اسی نوعیت کے حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں محدود نوعیت کی آگ لگی۔ یہ دونوں مقامات خلیجی خطے کی چند اہم ترین آئل ریفائنریوں میں شمار ہوتے ہیں۔ حکام کے مطابق ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ اٹھائیس فروری کو ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد ایران نے خلیج کے مختلف ممالک کے خلاف ڈرون اور میزائل حملوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔
ایران نے قطر پر دوبارہ حملہ کیا تو ایرانی گیس فیلڈ تباہ کر دیں گے، ٹرمپ
قطری گیس فیلڈ پر ایرانی حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے قطر پر دوبارہ میزائل حملہ کیا تو امریکہ ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو مکمل طور پر تباہ کر سکتا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایرانی گیس تنصیبات پر حملے کے جواب میں ایران نے قطر میں گیس انفرسٹرکچر کو نشانہ بنایا تھا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کی جانب سے دوبارہ ایسا کوئی حملہ کیا گیا تو وہ ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے۔
بدھ کی شب اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں ٹرمپ نے ایران کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ خطے میں توانائی کے ڈھانچے پر حملوں کو برداشت نہیں کرے گا۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایران نے قطر میں قدرتی گیس کی ایک اہم سائٹ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی اور تنصیبات کو ’’وسیع نقصان‘‘ پہنچا۔
ایرانی میزائل حملہ دراصل اس اسرائیلی حملے کا ردعمل تھا، جو اسی روز ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر کیا گیا تھا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کو اس حملے کا ’’علم نہیں تھا‘‘، مگر ایک باخبر ذریعے کے مطابق واشنگٹن کو اسرائیل کے اس منصوبے سے قبل از وقت آگاہ کر دیا گیا تھا، اگرچہ امریکہ نے کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ نے توانائی کی عالمی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ ساؤتھ پارس پر حملے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایندھن اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
ایران 28 فروری کو جنگ کے آغاز سے اب تک خلیج کے متعدد ممالک کی ایندھن کی تنصیبات کو نشانہ بنا چکا ہے، جب کہ آبنائے ہرمز تقریباً ناقابل سفر ہو چکی ہے ۔ یہ وہ گزرگاہ ہے جس سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات ریاض اور مشرقی صوبے کی فضا میں چھ ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔ کویت نے بھی جمعرات کے روز تصدیق کی کہ ایک ڈرون حملے سے مینا الاحمدی ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی۔ کویتی حکام کے مطابق آگ پر قابو پالیا گیا ہے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ادارت: عاطف توقیر/ رابعہ بگٹی
ایران کے حملے جاری رہے تو فوجی اقدام ہوگا، سعودی انتباہ
سعودی عرب نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خلیجی ممالک پر اپنے حملے فوری طور پر بند کرے، ورنہ ریاض ضرورت پڑنے پر براہِ راست فوجی اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایک قطری نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے حملے ’’سوچے سمجھے اور منصوبہ بندی کے تحت‘‘ کیے گئے ہیں اور تہران کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ اس کے میزائل امریکی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ ایران کی پیشگی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ امید ہے آج کے اجلاس کا پیغام وہ سمجھے، اپنا رویہ تبدیل کرے اور ہمسایہ ممالک پر حملے بند کریں۔‘‘
یہ بیان اُس اجلاس کے بعد سامنے آیا جو بدھ کی شب ریاض میں عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد منعقد ہوا۔ اجلاس میں ترکی، متحدہ عرب امارات، اردن، قطر، شام اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔
اجلاس کے دوران سعودی دارالحکومت کے اوپر میزائل روکنے والے انٹرسیپٹرز فائر ہوتے ہوئے دیکھے گئے، جو اس بات کا اشارہ تھا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل ایک بار پھر سعودی عرب کی جانب داغے گئے ہیں۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق ایران کے چار بیلسٹک میزائلوں کو نشانہ بنانے سے پہلے ہی گرا دیا گیا، جیسا کہ اس سے قبل سینکڑوں میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنائے جا چکے ہیں۔ تاہم اس بار شہر بھر میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور شہریوں کو انتباہی پیغامات بھی موصول ہوئے۔
وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان نے واضح کیا کہ سعودی عرب اب بھی سفارتی راستے کو ترجیح دیتا ہے، مگر ساتھ ہی انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا، ’’اگر ایران نے فوراً حملے بند نہ کیے تو اعتماد کی بحالی تقریباً ناممکن ہو جائے گی۔ ایران کا یہ دباؤ سیاسی اور اخلاقی طور پر اُسے ہی نقصان پہنچائے گا۔ اور ظاہر ہے کہ ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کا حق ہم رکھتے ہیں۔‘‘
سعودی عرب کے اس سخت مؤقف کو خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کے مسلسل میزائل حملوں کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔