1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

خلیجی توانائی تنصیبات پر حملے ناقابلِ قبول، بھارت کا انتباہ

کشور مصطفیٰ اے پی، اے ایف پی، روئٹرز، ڈی پی اے کے ساتھ
وقت اشاعت 19 مارچ 2026آخری اپ ڈیٹ 19 مارچ 2026

بھارت نے خلیجی خطے میں توانائی مراکز پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ایسے واقعات عالمی توانائی رسد کو مزید غیر مستحکم کر سکتے ہیں۔

https://p.dw.com/p/5AgHI
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کا پریس کانفرنس سے خطاب
بھارت کے مطابق خلیج میں 22 بھارتی جہاز اور 600 سے زائد عملہ پھنس چکا ہے، ایل این جی سپلائی میں مزید رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں اور درآمدی لاگت اور ملک کے اندر قیمتوں پر شدید دباؤ متوقع ہےتصویر: ANI Video Grab
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

* خلیجی توانائی تنصیبات پر حملے ’ناقابلِ قبول‘ ہیں، بھارت کا سخت ردعمل 

 مشرقِ وسطیٰ میں کارروائی کے اختتام  کا  کوئی حتمی ٹائم فریم نہیں، امریکی وزیرِ دفاع 

* سعودی آئل فیلڈ کے قریب ڈرون آ گرا، نقصان کا جائزہ جاری

* لاریجانی کا قتل ناقابلِ قبول اقدام، چین کی سخت مذمت

قطر، سعودی عرب اور امارات کی ایران کے حملوں کی شدید مذمت

* اسرائیلی حملے کے بعد خلیج میں تیل و گیس تنصیبات پر ایرانی حملے

’یہ ہماری جنگ نہیں‘ یورپ کا ٹرمپ کو انکار

ایران آبنائے ہرمز پر ٹول وصول کرنے پر غور کر رہا ہے

* بائیکاٹ امریکہ کا ہے، ورلڈ کپ کا نہیں، ایران

* کراچی میں طوفانی بارشوں سے 15 افراد ہلاک، متعدد زخمی

ڈرون حملے، کویت میں دو بڑی آئل ریفائنریوں میں آگ لگ گئی

* ایران کے حملے جاری رہے تو فوجی اقدام ہوگا، سعودی انتباہ 

ایران نے قطر پر دوبارہ حملہ کیا تو ایرانی گیس فیلڈ تباہ کر دیں گے، ٹرمپ

خلیجی توانائی تنصیبات پر حملے ناقابلِ قبول، بھارت کا انتباہ سیکشن پر جائیں
19 مارچ 2026

خلیجی توانائی تنصیبات پر حملے ناقابلِ قبول، بھارت کا انتباہ

Iran Buschehr 2026 | Rauch und Feuer nahe dem South-Pars-Gasfeld nach Angriff
تصویر: Social Media via REUTERS

خلیجی خطے میں توانائی تنصیبات پر ایران کے تازہ حملوں نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے بلکہ عالمی توانائی منڈی کی نازک صورتحال کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔متعدد ممالک ان حملوں کی مذمت کر رہے ہیں۔بھارت نے انہیں ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
 بھارت کا یہ ردعمل ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب ایران نے قطر کے راس لفان ایل این جی (LNG) کمپلیکس، جو دنیا کی سب سے بڑی ایل این جی تنصیبات میں شمار ہوتا ہے، پر حملہ کیا۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساؤتھ پارسگیس فیلڈ پر بمباری کے جوابی اقدام کے طور پر کیا گیا۔

Iran Assalujeh 2007 | Archivfoto der Borzouyeh-Petrochemieanlage am Hafen Assalujeh
تصویر: Javad M. Parsa/Parspix/ABACAPRESS/IMAGO


بھارت  کی توانائی رسد خطرے میں ہے کیونکہ قطر بھارت کو اس کی ایل این جی ضروریات کا 40 فیصد سے زائد فراہم کرتا ہے، جو بجلی کی پیداوار، صنعتی سرگرمیوں، کھاد سازی، اور گھریلو استعمال کے لیے انتہائی اہم ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا،’’ توانائی تنصیبات پر حالیہ حملے ناقابلِ قبول ہیں اور انہیں فوراﹰ روکنا ضروری ہے۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ خطے میں اس قسم کی کارروائیاں ’’پہلے سے غیر یقینی عالمی توانائی منظرنامے کو مزید خراب کر رہی ہیں۔‘‘
بھارت کے مطابق خلیج میں 22 بھارتی جہاز اور 600 سے زائد عملہ پھنس چکا ہے، ایل این جی سپلائی میں مزید رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں اور درآمدی لاگت اور ملک کے اندر قیمتوں پر شدید دباؤ متوقع ہے۔

توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے الیکٹرک رکشوں کا ٹرینڈ زیادہ؟


بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے نئی دہلی میں میڈیابریفنگ کے دوران کہا، ’’آبنائے ہرمز کی بندش سے ہماری توانائی  سپلائی پہلے ہی متاثر ہوئی ہے۔ تازہ حملوں کے بعد ایل این جی کی فراہمی مزید متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ بھارت تمام متعلقہ ممالک اور شراکت داروں سے رابطے میں ہے تاکہ توانائی کارگو کی بلا رکاوٹ آمدورفت یقینی بنائی جا سکے۔


 

https://p.dw.com/p/5AjKY
مشرقِ وسطیٰ میں کارروائی کے اختتام کا کوئی حتمی ٹائم فریم نہیں، امریکی وزیرِ دفاع سیکشن پر جائیں
19 مارچ 2026

مشرقِ وسطیٰ میں کارروائی کے اختتام کا کوئی حتمی ٹائم فریم نہیں، امریکی وزیرِ دفاع

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ
امریکی وزارتِ دفاع کے مطابق صورتِ حال تیزی سے بدل رہی ہے اور فوجی قیادت زمینی حقائق کی روشنی میں پیش رفت جاری رکھے ہوئے ہےتصویر: Rebecca Blackwell/AP Photo/picture alliance

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ پینٹاگون کے پاس مشرقِ وسطیٰ میں جاری کارروائیوں کے اختتام کے لیے کوئی واضح یا حتمی ٹائم فریم موجود نہیں ہے۔
ہیگستھ نے کہا، ’’ہم اس مرحلے پر کوئی قطعی ٹائم لائن طے نہیں کرنا چاہتے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ فوجی آپریشن ’’منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے‘‘ اور جنگ ختم کرنے کا حتمی فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی کریں گے۔
وزیرِ دفاع کے مطابق، ’’بالآخر صدر ہی یہ طے کریں گے کہ کب ہم یہ کہہ سکیں گے کہ ہم اپنے اہداف حاصل کر چکے ہیں۔‘‘
ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف جاری حملوں کے لیے اب تک  کوئی واضح یا حتمی مقاصد بیان نہیں کیے، جس کے باعث کانگریس کے چند اراکین اور مبصرین نے واشنگٹن کی مجموعی حکمتِ عملی کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔
امریکی وزارتِ دفاع کے مطابق صورتِ حال تیزی سے بدل رہی ہے اور فوجی قیادت زمینی حقائق کی روشنی میں پیش رفت جاری رکھے ہوئے ہے۔

حملے کا مقصد ایران کی بحریہ اور میزائل تباہ کرنا ہے، ٹرمپ


 

https://p.dw.com/p/5Aj21
سعودی آئل فیلڈ کے قریب ڈرون آ گرا، نقصان کا جائزہ جاری سیکشن پر جائیں
19 مارچ 2026

سعودی آئل فیلڈ کے قریب ڈرون آ گرا، نقصان کا جائزہ جاری

سعودی عرب: ریاض سے تقریباً 160 کلومیٹر دور خریص آئل فیلڈ میں ریگستان میں گیس کا شعلہ نظر آ رہا ہے
سعودی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ سامرف (SAMREF) ریفائنری کے علاقے میں ڈرون گرنے کے بعد تکنیکی ٹیمیں نقصان کا جائزہ لے رہی ہیںتصویر: ALI HAIDER/EPA/picture alliance / dpa

 خطے کی تیل کی تنصیبات پر جاری حملوں کے تبادلے کے دوران جمعرات کو سعودی بندرگاہ ینبع میں واقع ایک آئل ریفائنری کے قریب ایک ڈرون گرنے کی اطلاع ملی ہے۔ حکام کے مطابق واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب خلیج میں توانائی کے انفراسٹرکچر پر کشیدگی پہلے ہی بڑھ چکی ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ سامرف (SAMREF) ریفائنری کے علاقے میں ڈرون گرنے کے بعد تکنیکی ٹیمیں نقصان کا جائزہ لے رہی ہیں۔ وزارت کے مطابق اسی روز اس مقام کے قریب ایک بیلسٹک میزائل بھی روکا گیا تھا، جسے فضائی دفاع نے کامیابی سے تباہ کر دیا۔
سامرف ریفائنری سعودی عرب کی سرکاری توانائی کمپنی آرامکو  اور امریکی کمپنی ایکسون موبل کے مشترکہ استعمال میں ہے، اور ملک کے اہم ترین توانائی مراکز میں شمار ہوتی ہے۔
حکام نے فوری طور پر کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی، تاہم سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔


صدر ٹرمپ کے سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں!

https://p.dw.com/p/5Aifm
لاریجانی کا قتل ناقابلِ قبول اقدام، چین کی سخت مذمت سیکشن پر جائیں
19 مارچ 2026

لاریجانی کا قتل ناقابلِ قبول اقدام، چین کی سخت مذمت

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی
لاریجانی رواں ہفتے منگل کے روز ایک اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھےتصویر: Marwan Naamani/ZUMA/IMAGO

 چین نے جمعرات کے روز ایرانی قومی سلامتی کے سربراہ علی لاریجانی کی ہلاکت کی سخت مذمت کرتے  ہوئے اسے ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا ہے۔ لاریجانی رواں ہفتے منگل کے روز ایک اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے پریس بریفنگ میں کہا کہ بیجنگ ایران کی اعلیٰ قیادت اور عام شہریوں پر حملوں کی کھل کر مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’چین متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کریں اور خطے کو مزید تباہی سے روکیں۔‘‘

ایران کا قریبی شراکت دار ہونے کے ناطے چین حالیہ کشیدگی میں مسلسل تحمل کی اپیل کرتا آیا ہے، خصوصا اس وقت سے جب خلیجی ممالک،جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں ، ایرانی حملوں کی زد میں آئے۔
چین نے خطے میں بگڑتی صورتحال کے انسداد کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرتے ہوئے مؤثر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔


ایران میں غیرملکی مداخلت کا ہدف پاسدارانِ انقلاب؟

https://p.dw.com/p/5AidW
قطر، سعودی عرب اور امارات کی ایران کے حملوں کی شدید مذمت سیکشن پر جائیں
19 مارچ 2026

قطر، سعودی عرب اور امارات کی ایران کے حملوں کی شدید مذمت

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط
سعودی وزارتِ دفاع اور آئل کمپنی شیل نے کہا ہے کہ متاثرہ تنصیبات پر نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہےتصویر: Xinhua/Imago

خلیجی ممالک قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے توانائی تنصیبات  پر ایران کے تازہ حملوں کی سخت مذمت کی ہے، جبکہ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے ان کارروائیوں کو خطے میں کشیدگی میں’’انتہائی خطرناک اضافہ‘‘ قرار دیا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق ایران کی جانب سے خطے میں توانائی کے انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد سعودی عرب نے بڑے پیمانے پر تیل کو بحیرہ احمر کی جانب پمپ کرنا شروع کر دیا تھا تاکہ آبنائے ہرمز کو بائی پاس کیا جا سکے۔
سعودی وزارتِ دفاع اور آئل کمپنی شیل نے کہا ہے کہ متاثرہ تنصیبات پر نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

خلیجی ریاستوں میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے ایران پر اثرات

اُدھر متحدہ عرب امارات نے بھی تصدیق کی ہے کہ حبشان گیس تنصیب اور باب فیلڈ پر ایران کے رات گئے حملوں کے بعد ان تنصیبات کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ابوظہبی حکام نے ان حملوں کو ’’خطرناک‘‘ قرار دیا اور کہا کہ تکنیکی ٹیمیں صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں۔

قطر کے راس لافان انڈسٹریل سٹی میں مائع قدرتی گیس (LNG) کی پیداواری سہولت کا ایک منظر
متحدہ عرب امارات نے بھی تصدیق کی ہے کہ حبشان گیس تنصیب اور باب فیلڈ پر ایران کے رات گئے حملوں کے بعد ان تنصیبات کو عارضی طور پر بند کر دیا گیاتصویر: dpa/picture alliance

اس دوران اسرائیل کے مختلف علاقوں پر ایران کے متعدد میزائل حملوں کے باعث لاکھوں افراد کو پناہ گاہوں میں منتقل ہونا پڑا۔
ان حملوں سے عمارتوں کو نقصان پہنچا، تاہم اسرائیلی حکام کے مطابق کوئی بڑا جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔

تہران کے تازہ حملے اسرائیل کی جانب سے ساؤتھ پارس پر کیے جانے والے حملے کے ردعمل میں کیے گئے ہیں۔ یہ خلیج فارس میں واقع دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ ہے جسے ایران اور قطر مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق ایران کی 80 فیصد بجلی قدرتی گیس سے تیار ہوتی ہے ، لہٰذا اس فیلڈ پر حملہ ایران کی توانائی اور بجلی کی فراہمی کے لیے براہ راست خطرہ بن گیا ہے۔
قدرتی گیس گھروں میں ہیٹنگ اور کھانا پکانے کے لیے بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے، اس لیے ایران میں روزمرہ زندگی پر بھی اثرات مرتب ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

ایران کے ساتھ امریکی اسرائیل تنازعہ کے درمیان، صوبہ بوشہر میں ایک حملے کے بعد جنوبی پارس گیس فیلڈ کے قریب دھواں اور آگ بڑھ رہی ہے
ساؤتھ پارس خلیج فارس میں واقع دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ ہے جسے ایران اور قطر مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیںتصویر: Social Media via REUTERS

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل ساؤتھ پارس پر مزید حملے نہیں کرے گا۔ تاہم انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے قطر کی توانائی تنصیبات پر حملے جاری رکھے تو امریکہ جواب میں ’’پوری گیس فیلڈ کو تباہ کر دے گا‘‘۔
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی کہا، ’’ میں اس درجے کی تباہی کی اجازت نہیں دینا چاہتا کیونکہ اس کے ایران کے مستقبل پر طویل مدتی اثرات بہت سنگین ہوں گے۔‘‘

خلیج میں جاری کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال  مزید بڑھا دی ہے، اور ماہرین کے مطابق یہ بحران عالمی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
 

https://p.dw.com/p/5AiBC
اسرائیلی حملے کے بعد خلیج میں تیل و گیس تنصیبات پر ایرانی حملے سیکشن پر جائیں
19 مارچ 2026

اسرائیلی حملے کے بعد خلیج میں تیل و گیس تنصیبات پر ایرانی حملے

ڈرون حملے کے بعد دبئی کے دبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر لگنے والی آگ سے دھوئیں کے بادل اٹھ رہے ہیں
ایرانی جوابی کارروائیوں کے بعد عالمی منڈیوں میں ایندھن کی قیمتیں تیزی سے اوپر گئیںتصویر: AFP/Getty Images


 خلیج میں جاری کشیدگی جمعرات کے روز اُس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران نے اسرائیل کی جانب سے ایک اہم ایرانی گیس فیلڈ پر حملے کے جواب میں خطے کے تیل اور گیس کے مراکز پر اپنے حملے تیز کر دیے۔ اس صورتحال نے عالمی معیشت میں ہلچل پیدا کر دی ہے اور توانائی کی سپلائی پر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ایرانی جوابی کارروائیوں کے بعد عالمی منڈیوں میں ایندھن کی قیمتیں تیزی سے اوپر گئیں ، جب کہ مبصرین کے مطابق یہ حملے خلیجی عرب ممالک کو بھی ممکنہ طور پر اس تنازعے میں کھینچ سکتے ہیں۔ ایران کی جانب سے خطے بھر میں توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا ایسے وقت میں پریشان کن ہے جب آبنائے ہرمز تقریبا بندش کا شکار ہے۔ اس آبی راستے کو عالمی ضرورت کے بیس فیصد کی گزرگاہ قرار دیا جاتا ہے۔
اسی تناظر میں آبی راستے بھی غیر محفوظ ہیں۔  متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب ایک تجارتی جہاز میں آگ بھڑک اٹھی جبکہ قطر کے قریب ایک اور جہاز کو نقصان پہنچا۔

لاس اینجلس، کیلیفورنیا کے ایک گیس اسٹیشن پر ایک شخص اپنی گاڑی میں پٹرول پمپ کر رہا ہے
تیل کی قیمت چار سالوں میں پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چُکی ہےتصویر: Patrick T. Fallon/AFP

عرب ممالک کی کوشش تھی کہ آبنائے ہرمز کو بائی پاس کر کے متبادل راستوں  سے توانائی کی ترسیل جاری رکھی جائے، لیکن ایران نے بحیرہ احمر میں واقع ایک سعودی ریفائنری پر ڈرون حملہ کر کے اس کوشش کو بھی متاثر کیا۔
برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 118 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جو کہ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کے آغاز کے بعد سے 60 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق اگر خلیج میں کشیدگی اسی طرح بڑھتی رہی  تو توانائی کی رسد میں بڑے پیمانے پر رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت پر محسوس کیے جائیں گے۔

امریکی ’بنکر بسٹر‘ بم، ایرانی فردو جوہری تنصیب کو تباہ کر سکتا ہے؟


 

https://p.dw.com/p/5Ai3g
’یہ ہماری جنگ نہیں‘ یورپ کا ٹرمپ کو انکار سیکشن پر جائیں
19 مارچ 2026

’یہ ہماری جنگ نہیں‘ یورپ کا ٹرمپ کو انکار

جرمن چانسلر فریڈرش میرس وفاقی پارلیمان میں کے اجلاس کے دوران ایک بیان دیتے ہوئے
بریفنگ میں یورپی رہنماؤں نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جاری جنگ کے محرکات پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیاتصویر: Markus Schreiber/AP Photo/picture alliance

جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے بُدھ کے روز قانون سازوں کو بریفنگ دیتے ہوئے  کہا ہے کہ وہ اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو اپنے پڑوسیوں کے لیے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، تاہم امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے پیچھے دلیل کے بارے میں وہ شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔ 

ایران کے حوالے سے جرمنی کا موقف

میرس کا کہنا تھا،’’آج تک اس بات کا کوئی واضح اور معتبر پلان موجود نہیں کہ یہ آپریشن آخر کیسے کامیاب ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن نے نہ ہم سے مشورہ کیا اور نہ ہی یہ کہا  کہ یورپی تعاون ضروری ہے ۔‘‘ جرمن چانسلر نے مزید کہا،’’ہم نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک جنگ جاری ہے، ہم آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنانے میں حصہ نہیں لیں گے، چاہے وہ فوجی ذرائع استعمال کرنے ہی کی بات کیوں نہ ہو۔‘‘
یورپی رہنماؤں نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائیوں میں شریک ہونے  سے انکار کر دیا ہے، ان کے مطابق وہ ایک ایسے غیر متوقع تنازعے میں الجھنے میں محتاط ہیں جس کے مقاصد وہ پوری طرح سمجھ نہیں پا رہے اور جو ان کے اپنے عوام میں بھی غیر مقبول ہے۔

وفاقی جرمن پارلیمان میں چانسلر میرس اور جرمنی کے وزیرِ دفاع بورس پِسٹوریئس تبادلہ خیال کرتے ہوئے
یورپی رہنماؤں نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائیوں میں شریک ہونے سے انکار کر دیا ہےتصویر: John Macdougall/AFP


اس فیصلے کے ساتھ یورپی ممالک یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ غیر جانب دار رہنے کے فوائد ان متعدد خطرات سے زیادہ ہیں جو ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کے لیے پیدا ہو سکتے ہیں۔ وہ تعلقات جو پہلے ہی یوکرین جنگ سے لے کر تجارتی محصولات کے جھگڑوں تک کئی مسائل کی وجہ سے دباؤ میں ہیں۔
جرمنی کے وزیرِ دفاع بورس پِسٹوریئس نے جرمن چانسلر کا مؤقف دہراتے ہوئے  کہا، ’’یہ ہماری جنگ نہیں ہے، ہم نے اسے شروع نہیں کیا۔‘‘
جرمنی کی اس پالیسی کی بازگشت فرانس میں بھی سنائی دی، جہاں فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے کہا، ’’ہم اس تنازعے کے فریق نہیں ہیں۔‘‘

بریفنگ میں یورپی رہنماؤں نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جاری جنگ کے محرکات پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق کچھ ارکانِ پارلیمان نے سوال اٹھایا کہ اب تک اس آپریشن کی کامیابی کے حوالے سے کوئی ’’قابلِ اعتماد منصوبہ‘‘ پیش نہیں کیا گیا۔
 

https://p.dw.com/p/5AhOy
ایران آبنائے ہرمز پر ٹول وصول کرنے پر غور کر رہا ہے سیکشن پر جائیں
19 مارچ 2026

ایران آبنائے ہرمز پر ٹول وصول کرنے پر غور کر رہا ہے

Oman Maskat 2026 | Küstenwachboot patrouilliert bei geringer Schifffahrt in der Straße von Hormus
تصویر: Benoit Tessier/REUTERS

ایک ایرانی قانون ساز نے کہا ہے کہ ایرانی رہنما آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران، ایران نے عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی نقل و حمل کے لیے اہم آبی گزرگاہ  پر مضبوط گرفت برقرار رکھی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق خلیج کے اہم بحری راستوں پر کی جانے والی یہ ناکہ بندی اُن ملکوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہے جو برسوں سے ایران کے خلاف پابندیوں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ اس پالیسی کے نتیجے میں گزرگاہوں پر ایندھن بردار جہازوں کو روکنے سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ایران امریکی حملے کا جواب کیسے دے سکتا ہے؟


دریں اثناء امریکی حکام نے توانائی کی رسد میں مسلسل تعطل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے اتحادی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے اقدامات کا مشترکہ جواب دیں۔ تاہم واشنگٹن کے مطابق اس سلسلے میں کیے گئے سفارتی رابطوں کو خاطر خواہ پذیرائی نہیں مل رہی۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر کے ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول لینے جیسے اقدامات مغربی ممالک کے خلاف مؤثر ’’جوابی پابندی‘‘ کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مغرب نے طویل عرصے سے ایران پر معاشی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، اور موجودہ صورتِ حال اس کا جواب ہے۔
 

https://p.dw.com/p/5Ah57
بائیکاٹ امریکہ کا ہے، ورلڈ کپ کا نہیں، ایران سیکشن پر جائیں
19 مارچ 2026

بائیکاٹ امریکہ کا ہے، ورلڈ کپ کا نہیں، ایران

ایران کی فٹ بال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج  فیفا ورلڈ کپ کی نقاب کشائی کی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے
ابتدائی مخالفت کے باوجود ایرانی حکام نے فیفا کے ساتھ مذاکرات شروع کیے ہیںتصویر: Ffiri/Zuma/IMAGO


ایران کی فٹبال فیڈریشن کے سربراہ مہدی تاج نے کہا ہے کہ ایران ’’ورلڈ کپ کا نہیں بلکہ صرف امریکہ کا بائیکاٹ‘‘ کر رہا ہے۔ یہ بیان ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق اس وقت سامنے آیا جب ٹیم نے امریکہ میں ہونے والے گروپ میچوں میں شرکت پر تحفظات ظاہر کیے۔
ابتدائی مخالفت کے باوجود ایرانی حکام نے فیفا کے ساتھ مذاکرات شروع کیے ہیں تاکہ ایران کے تمام گروپ اسٹیج میچوں کو امریکہ سے ہٹا کر صرف کینیڈا اور میکسیکو میں منتقل کیا جا سکے۔
دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی کھلاڑیوں  کو ’’امریکہ میں خوش آمدید‘‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم اگر انہیں اپنی سکیورٹی سے متعلق خدشات ہوں تو وہ اسے سمجھ سکتے ہیں۔
میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شائن باؤم نے منگل کے روز کہا کہ میکسیکو ایران کے تمام میچوں کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
 

https://p.dw.com/p/5AgvV
کراچی میں طوفانی بارشوں سے 15 افراد ہلاک، متعدد زخمی سیکشن پر جائیں
19 مارچ 2026

کراچی میں طوفانی بارشوں سے 15 افراد ہلاک، متعدد زخمی

ریسکیو کارکنان ایک متاثرہ شخص کی لاش کو اتار رہے ہیں جو شدید بارش اور تیز ہواؤں کے باعث ایک واقعے میں ہلاک ہو گیا تھا
طبی ذرائع کے مطابق شہر کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں 15 سے زائد لاشیں لائی گئیں جبکہ دو درجن سے زائد زخمی افراد کا علاج جاری ہےتصویر: Muhammad Farooq/AP Photo/picture alliance

پاکستان کے سب سے بڑے بندرگاہی شہر کراچی میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب آنے والے شدید طوفان، تیز ہواؤں اور موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد لقمہ اجل بن گئے اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ ہنگامی خدمات اور ہسپتال حکام کے مطابق مختلف علاقوں میں دیواریں اور چھتیں گرنے کے واقعات میں ہلاکتیں ہوئیں۔
شہر میں بدھ کی شام شروع ہونے والا طوفانی سلسلہ رات بھر جاری رہا۔ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔

رہائشی ایک سرحدی دیوار کے ملبے سے گزر رہے ہیں جو شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کی وجہ سے گر گئی
ہنگامی خدمات اور ہسپتال حکام کے مطابق مختلف علاقوں میں دیواریں اور چھتیں گرنے کے واقعات میں ہلاکتیں ہوئیںتصویر: Ali Raza/AP Photo/dpa/picture alliance


طبی ذرائع کے مطابق شہر کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں 15 سے زائد لاشیں لائی گئیں جبکہ دو درجن سے زائد زخمی افراد کا علاج جاری ہے۔
 تیز ہواؤں نے کئی درخت جڑوں سے اکھاڑ دیے، جس کے باعث ٹریفک کا نظام بھی متاثر ہوا۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہر میں 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلتی رہی ہیں۔
کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں کی صفائی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ ایمرجنسی سروسز کے مطابق ملک کے دیگر علاقوں میں بھی بارشوں اور آندھی کا سلسلہ جاری ہے۔

کراچی میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبے تاخیر کا شکار کیوں؟


 

https://p.dw.com/p/5AgZ5
ڈرون حملے، کویت میں دو بڑی آئل ریفائنریوں میں آگ لگ گئی سیکشن پر جائیں
19 مارچ 2026

ڈرون حملے، کویت میں دو بڑی آئل ریفائنریوں میں آگ لگ گئی

کویت سٹی کے شمال میں قائم ایک آئل کمپنی کے سامنے کمپنی کا ایک ملازم کھڑا ہے
ایک رپورٹ کے مطابق مینا عبداللہ ریفائنری کے ایک پراسیسنگ یونٹ پر ڈرون حملہ کیا گیا جس سے آگ بھڑک اٹھیتصویر: Ysser Al-Zayyat/AFP


جمعرات کو کویت کی سرکاری آئل کمپنی کے زیر انتظام چلنے والی دو ریفائنریز  کو ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مینا عبداللہ ریفائنری کے ایک پراسیسنگ یونٹ پر ڈرون حملہ کیا گیا جس سے آگ بھڑک اٹھی۔ اسی طرح مینا الاحمدی ریفائنری کے ایک اور یونٹ کو بھی اسی نوعیت کے حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں محدود نوعیت کی آگ لگی۔ یہ دونوں مقامات  خلیجی خطے کی چند اہم ترین آئل ریفائنریوں میں شمار ہوتے ہیں۔ حکام کے مطابق ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ 
واضح رہے کہ اٹھائیس فروری کو ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد ایران  نے خلیج کے مختلف ممالک کے خلاف ڈرون اور میزائل حملوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔
 

https://p.dw.com/p/5AgTY
ایران نے قطر پر دوبارہ حملہ کیا تو ایرانی گیس فیلڈ تباہ کر دیں گے، ٹرمپ سیکشن پر جائیں
19 مارچ 2026

ایران نے قطر پر دوبارہ حملہ کیا تو ایرانی گیس فیلڈ تباہ کر دیں گے، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اوول آفس میں
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کی جانب سے دوبارہ ایسا کوئی حملہ کیا گیا تو وہ ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گےتصویر: Aaron Schwartz/Consolidated News Photos/picture alliance


قطری گیس فیلڈ پر ایرانی حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے قطر پر دوبارہ میزائل حملہ کیا تو امریکہ ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو مکمل طور پر تباہ کر سکتا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایرانی گیس تنصیبات پر حملے کے جواب میں ایران نے قطر میں گیس انفرسٹرکچر کو نشانہ بنایا تھا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کی جانب سے دوبارہ ایسا کوئی حملہ کیا گیا تو وہ ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے۔
بدھ کی شب اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں ٹرمپ نے ایران کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ خطے میں توانائی کے ڈھانچے پر حملوں کو برداشت نہیں کرے گا۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایران نے قطر میں قدرتی گیس کی ایک اہم سائٹ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی اور تنصیبات کو ’’وسیع نقصان‘‘ پہنچا۔

اس تصویر میں قطرانرجی کا لوگو نظر آ رہا ہے جو ایک سرکاری قطری کمپنی ہے جس کا صدر دفتر دوحہ میں ہے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو قطری گیس فیلڈ پر حملے سے خبردار کیا ہےتصویر: Frank Hoermann/Sven Simon/IMAGO


ایرانی میزائل حملہ دراصل اس اسرائیلی حملے کا ردعمل تھا، جو اسی روز ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر کیا گیا تھا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کو اس حملے کا ’’علم نہیں تھا‘‘، مگر ایک باخبر ذریعے کے مطابق واشنگٹن کو اسرائیل کے اس منصوبے سے قبل از وقت آگاہ کر دیا گیا تھا، اگرچہ امریکہ نے کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ نے توانائی کی عالمی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ ساؤتھ پارس پر حملے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایندھن اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ 
ایران 28 فروری کو جنگ کے آغاز سے اب تک خلیج کے متعدد ممالک کی ایندھن کی تنصیبات کو نشانہ بنا چکا ہے، جب کہ آبنائے ہرمز  تقریباً ناقابل سفر ہو چکی ہے ۔ یہ وہ گزرگاہ ہے جس سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات ریاض اور مشرقی صوبے کی فضا میں چھ ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔ کویت نے بھی جمعرات کے روز تصدیق کی کہ ایک ڈرون حملے سے مینا الاحمدی ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی۔ کویتی حکام کے مطابق آگ پر قابو پالیا گیا ہے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

آبنائے ہرمز اتنی اہم کیوں ہے؟

ادارت: عاطف توقیر/ رابعہ بگٹی

https://p.dw.com/p/5AgMT
ایران کے حملے جاری رہے تو فوجی اقدام ہوگا، سعودی انتباہ سیکشن پر جائیں
19 مارچ 2026

ایران کے حملے جاری رہے تو فوجی اقدام ہوگا، سعودی انتباہ

میونخ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان خطاب کرتے ہوئے
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق ایران کے چار بیلسٹک میزائلوں کو نشانہ بنانے سے پہلے ہی گرا دیا گیاتصویر: Alexandra Beier/AFP

سعودی عرب نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خلیجی ممالک پر اپنے حملے فوری طور پر بند کرے، ورنہ ریاض ضرورت پڑنے پر براہِ راست فوجی اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایک قطری نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے حملے ’’سوچے سمجھے اور منصوبہ بندی کے تحت‘‘ کیے گئے ہیں اور تہران کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ اس کے میزائل امریکی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ ایران کی پیشگی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ امید ہے آج کے اجلاس کا پیغام وہ سمجھے، اپنا رویہ تبدیل کرے اور ہمسایہ ممالک پر حملے بند کریں۔‘‘

یہ بیان اُس اجلاس کے بعد سامنے آیا جو بدھ کی شب ریاض میں عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد منعقد ہوا۔ اجلاس میں ترکی، متحدہ عرب امارات، اردن، قطر، شام اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔

سعودی عرب کے شہر ریاض سے سیاہ بادل اور دھواں اُٹھتا دکھائی دے رہا ہے
ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل تنازع کے نتیجے میں سعودی عرب پر بھی حملے ہوئےتصویر: REUTERS


اجلاس کے دوران سعودی دارالحکومت کے اوپر میزائل روکنے والے  انٹرسیپٹرز فائر ہوتے ہوئے دیکھے گئے، جو اس بات کا اشارہ تھا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل ایک بار پھر سعودی عرب کی جانب داغے گئے ہیں۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق ایران کے چار بیلسٹک میزائلوں کو نشانہ بنانے سے پہلے ہی گرا دیا گیا، جیسا کہ اس سے قبل سینکڑوں میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنائے جا چکے ہیں۔ تاہم اس بار شہر بھر میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور شہریوں کو انتباہی پیغامات بھی موصول ہوئے۔
وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان نے واضح کیا کہ سعودی عرب اب بھی سفارتی راستے کو ترجیح دیتا ہے، مگر ساتھ ہی انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا، ’’اگر ایران نے فوراً حملے بند نہ کیے تو اعتماد کی بحالی تقریباً ناممکن ہو جائے گی۔ ایران کا یہ دباؤ سیاسی اور اخلاقی طور پر اُسے ہی نقصان پہنچائے گا۔ اور ظاہر ہے کہ ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کا حق ہم رکھتے ہیں۔‘‘
سعودی عرب کے اس سخت مؤقف کو خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کے مسلسل میزائل حملوں کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب ابراہیمی معاہدے کا حصہ بننے کو تیار، مگر!


 

https://p.dw.com/p/5AgRN
مزید پوسٹیں