’جرمنی سے امریکی فوجیوں کی واپسی‘، نیٹو نے وضاحت مانگ لی
وقت اشاعت 2 مئی 2026آخری اپ ڈیٹ 2 مئی 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- برطانیہ میں غزہ ریلیوں کے دوران انتہا پسند نعروں پر اسٹارمر کا سخت ردعمل
- لبنان میں تازہ اسرائیلی حملے اور حزب اللہ کے اسرائیل میں ڈرون حملے
- روسی فوج کی مشرقی یوکرین کے ایک اہم اسٹریٹیجک شہر کی طرف پیش قدمی
- ایران میں مزید دو افراد کی سزائے موت پر عملدر آمد
- جنگ دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے، ایرانی فوجی کمانڈر
- جرمنی اور یورپ کو اپنی سکیورٹی کا انتظام خود کرنا ہو گا، جرمن وزیر دفاع
- جرمنی میں امریکی فوج کم کرنے کا اعلان
جرمنی سے پانچ ہزار امریکی فوجیوں کی واپسی، نیٹو نے وضاحت مانگ لی
مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ جرمنی سے پانچ ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کے فیصلے کی تفصیلات سمجھنے کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں دراڑ گہری ہوتی جا رہی ہے۔
اس پیش رفت پر جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے کہا ہے کہ جرمنی سے ہزاروں امریکی فوجیوں کے انخلا کے اعلان کے باوجود امریکہ اور جرمنی کے مشترکہ فوجی مفادات برقرار ہیں۔
پسٹوریئس نے ہفتے کے روز جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یورپ اور خاص طور پر جرمنی میں، امریکی فوج کی موجودگی ہمارے اور امریکہ دونوں کے مفاد میں ہے۔‘‘
پسٹوریئس نے مزید کہا کہ جرمنی سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا فیصلہ غیر متوقع نہیں بلکہ ’’متوقع‘‘ تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ نیٹو کو مزید ’’یورپی‘‘ بننا ہو گا تاکہ ٹرانس اٹلانٹک اتحاد مضبوط رہے، ’’ہم یورپی ممالک کو اپنی سکیورٹی کی ذمہ داری زیادہ خود سنبھالنا ہو گی۔‘‘
دریں اثنا نیٹو کے ترجمان نے کہا کہ یہ اتحاد جرمنی میں امریکی افواج کے انخلا کے منصوبے کی تفصیلات جاننے کے لیے امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یورپ کو دفاع پر مزید سرمایہ کاری اور مشترکہ سکیورٹی کی ذمہ داری میں زیادہ حصہ ڈالنا ہو گا۔
خصوصی برطانوی مندوب برائے افغانستان کی تازہ پوسٹ پر پاکستان کا سخت ردعمل
پاکستانی دفتر خارجہ نے افغانستان کے لیے خصوصی برطانوی مندوب رچرڈ لنڈسے کی اس سوشل میڈیا پوسٹ پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے، جس میں انہوں نے پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر تناؤ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
دفتر خارجہ کی طرف سے ہفتے کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ رچرڈ لنڈسے کے اس تبصرے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں صورتحال سے اچھی طرح واقفیت نہیں ہے۔
جمعے کی صبح لنڈسے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اقوام متحدہ کے افغانستان مشن (UNAMA) کی ایک پوسٹ شیئر کی تھی، جس میں انہوں نے مشرقی افغانستان میں فضائی حملوں کے نتیجے میں ہوئی مبینہ شہری ہلاکتوں پر تحفظات ظاہر کیے تھے۔
لنڈسے نے لکھا، ’’افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر بڑھتے تشدد پر تشویش ہے، جس میں کنڑ میں حملے بھی شامل ہیں۔ شہریوں کے تحفظ اور مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جانا چاہیے۔ میں مذاکرات اور تحمل کی اپیل جاری رکھے ہوئے ہوں، جس میں اس ہفتے افغانستان میں ہونے والی ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔‘‘
یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان کی وزارت اطلاعات افغان میڈیا کی ان رپورٹس کو مسترد کر چکی ہے، جن میں الزام لگایا گیا تھا کہ پاکستان نے کنڑ صوبے میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی ’’بلااشتعال کارروائیوں‘‘ کے جواب میں کی گئی اس کارروائی میں طالبان کی چیک پوسٹوں کا نشانہ بنایا گیا۔
ہفتے کے روز پاکستانی دفتر خارجہ کی طرف سے ایک باقاعدہ بیان جاری کیا گیا، جس میں رچرڈ لنڈسے کی اس پوسٹ پر برہمی کا اظہار کیا گیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا، ’’ہم نے افغان سرحدی صورتحال سے متعلق برطانوی نمائندے کی سوشل میڈیا پوسٹ کا نوٹس لیا ہے۔ یہ یک طرفہ بیانات زمینی حقائق کی صحیح عکاسی نہیں کرتے۔‘‘
تاہم اقوام متحدہ کی ہیومینیٹیرین ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوج کی طرف سے کی جانے والی گولہ باری کی وجہ سے صوبہ کنڑ میں ایک اسکول اور ایک طبی مرکز کو نقصان پہنچا۔ اس رپورٹ کے مطابق پیر کے روز اسدآباد شہر اور کنڑ کے اضلاع سرکانی اور مراورہ میں مارٹر حملوں اور فضائی کارروائیوں میں کم از کم سات افراد ہلاک جبکہ 79 زخمی ہوئے۔
برطانیہ میں غزہ ریلیوں کے دوران انتہا پسند نعروں پر اسٹارمر کا سخت ردعمل
برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ہفتے کے روز خبردار کیا کہ فلسطینوں کے حق میں ہونے والے مظاہروں کے دوران کچھ مخصوص نعرے لگانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب لندن میں دو یہودی افراد پر چاقو سے حملوں کے بعد برطانوی یہودی کمیونٹی کی سکیورٹی کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔
کیئر اسٹارمر نے کہا کہ وہ احتجاج کے حق کا ہمیشہ دفاع کریں گے لیکن بعض حالات میں غزہ جنگ کے خلاف احتجاج کرنے والی کچھ ریلیوں پر پابندی لگانے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے حق میں ہونے والے متواتر مظاہروں کا ایک ’’مجموعی اثر‘‘ یہ بھی ہوا ہے کہ برطانیہ میں یہود مخالف واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ جمعے کے روز ایک 45 سالہ شخص پر اقدام قتل کا الزام عائد کیا گیا۔ پولیس نے اس حملے کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔ اس مشتبہ شخص نے بدھ کو لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں دو یہودی افراد کو چاقو کے وار کر کے زخمی کر دیا تھا۔ یہ علاقہ برطانیہ میں یہودی کمیونٹی کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔
یہ واقعہ حالیہ عرصے میں پیش آنے والے یہود مخالف متعدد واقعات کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ ایسے حملوں میں عبادت گاہوں اور دیگر یہودی مقامات کو آگ لگانے کے واقعات بھی شامل ہیں۔
برطانوی پولیس کے اعلیٰ ترین عہدیدار مارک راؤلی نے خبردار کیا ہے کہ برطانوی یہودی اپنی تاریخ کے سب سے بڑے خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس کا ذمہ دار سوشل میڈیا کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے یہود دشمنی مزید عام ہو گئی ہے۔
چیریٹی ادارے کمیونٹی سکیورٹی ٹرسٹ کے مطابق سات اکتوبر 2023ء کو حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے اور اس کے بعد غزہ جنگکے بعد برطانیہ بھر میں یہود مخالف واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ سن 2025 میں ایسے 3700 واقعات رپورٹ ہوئے، جو سن 2022 میں 1662 تھے۔
روسی فوج کی مشرقی یوکرین کے ایک اہم اسٹریٹیجک شہر کی طرف پیش قدمی
یوکرین کی فوج نے کہا ہے کہ روسی فوجیں مشرقی یوکرین کے صوبے ڈونیٹسک میں واقع شہر کوستیان تینیوکا کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں۔
کوستیان تینیوکا اور مشرقی یوکرین کے کچھ دیگر سرحدی شہروں کا جغرافیہ ایسا ہے، جو اس علاقے کے دفاع کے لیے اسے ایک قدرتی قلعہ بناتا ہے۔ یوکرینی فوج کی جانب سے اس علاقے کے دفاع کے لیے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
یوکرین کے آرمی چیف اولیکسانڈر سرسکی نے روسی پیش قدمی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’ہم روسی قابض افواج کی کوششوں کو مسلسل ناکام بنا رہے ہیں، جو کوستیان تینیوکا کے مضافات میں قدم جمانا چاہتی ہیں۔‘‘
یوکرین میں جنگی محاذوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے والے ادارے ڈیپ اسٹیٹ کے مطابق روسی فوجی اس شہر کے جنوبی مضافاتی علاقے سے صرف تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر کنٹرول قائم کر چکے ہیں۔
شہر کے جنوب مشرقی حصے کے بعض علاقے “گرے زون” قرار دیے گئے ہیں یعنی ان پر نہ مکمل طور پر یوکرین کا کنٹرول ہے اور نہ ہی روس کا۔
سرسکی کے مطابق اپریل میں روسی حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ اس ہفتے کے دوران روسی افواج نے اپنی انفنٹری کے ذریعے اس محاذ پر 83 حملے کیے۔
روس کا مطالبہ ہے کہ یوکرینی فوج ڈونیٹسک اور ہمسایہ صوبے لوہانسک کے ان علاقوں سے پیچھے ہٹ جائے۔ واضح رہے کہ روس چار سالہ جنگ کے باوجود ان علاقوں پر قبضہ نہیں کر سکا۔
امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات اسی معاملے پر تعطل کا شکار ہیں کیونکہ یوکرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی زمین کسی صورت نہیں چھوڑے گا۔
گزشتہ چند برسوں میں روسی افواج کسی بڑے یوکرینی شہر پر قبضہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں، اس لیے وہ بالخصوص زیادہ تر مشرقی یوکرین میں چھوٹی بستیوں پر کنٹرول حاصل کر رہی ہیں۔
جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے، سات افراد ہلاک
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی این این اے کے مطابق ہفتے کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے تازہ سلسلے میں مزید سات افراد ہلاک ہو گئے۔ بتایا گیا ہے کہ ان کارروائیوں میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
این این اے کے مطابق ایک ڈرون نے النبطہ کے قریب ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس میں سوار دو افراد ہلاک ہو گئے۔ اس سے قبل حزب اللہ کا مضبوط گڑھ تصور کیے جانے والے اقلیم التفاح کے علاقے میں ایک گھر پر حملے میں تین افراد مارے گئے تھے۔
اسرائیلی فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ اس نے جنوبی لبنان میں 24 گھنٹوں کے دوران تقریباً 50 حملے کیے۔ بیان میں کہا گیا کہ فوج ’’دہشت گردی کے ڈھانچے‘‘ کو تباہ کر رہی ہے اور جنگجوؤں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
ادھر جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں پر ایران نواز ملیشیا حزب اللہ کی جانب سے متعدد راکٹ داغے گئے جبکہ اس جنگجو گروہ نے شمالی اسرائیل میں ڈرون حملے کیے۔
اگرچہ رسمی طور پر اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی برقرار ہے لیکن عملی طور پر دونوں جانب سے تقریباً روزانہ ہی حملے کیے جا رہے ہیں۔ لبنان باضابطہ طور پر اس تنازعے کا فریق نہیں ہے۔
لبنانی ذرائع کے مطابق مارچ کے آغاز سے اب تک 2,600 سے زائد افراد ہلاک اور 10 لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔
دریں اثنا جنگ بندی کی نازک صورتحال کے پیش نظر امریکہ، اسرائیل اور لبنان کے درمیان اعلیٰ سطح کے براہ راست مذاکرات کا مطالبہ کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل کے وسط میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون سے بات چیت کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔
اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں دو ایرانیوں کو پھانسی دے دی گئی
ایران نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں دو افراد کو پھانسی دے دی ہے۔ ہفتے کے دن ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن پر بتایا گیا، ’’یعقوب کریم پور اور ناصر بکرزادہ کو ’صیہونی ریاست‘ کے لیے انٹیلیجنس تعاون فراہم کرنے اور جاسوسی کے جرم میں پھانسی دی گئی۔‘‘
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان دونوں کو کب گرفتار کیا گیا تھا۔ میزان کے مطابق یعقوب کریم پور کو ’’محاربہ (یعنی خدا کے خلاف جنگ چھیڑنے) جیسے سنگین جرم کا مرتکب پانے پر سزا سنائی گئی۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ’’سکیورٹی اور فوجی مقامات کی ویڈیوز اور تصاویر بنا کر جنگ کے دوران موساد کے ایک اہلکار کو بھیجی تھیں‘‘۔ یہ حوالہ جون سن 2025 میں اسرائیل کے ساتھ ایران کی 12 روزہ جنگ کا ہے۔
اس بیان میں مزید کہا گیا کہ بکرزادہ نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ’’مذہبی اور صوبائی شخصیات اور اہم مقامات، جیسے نطنز کے علاقے کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔‘‘
ایران نے جنوری میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے منسلک افراد کو بھی حالیہ ہفتوں میں سزائے موت دی ہے۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل، امریکہ اور اپوزیشن گروہوں بشمول کالعدم تنظیم مجاہدین خلق نے ان مظاہروں کو ہوا دی تھی۔
جمعرات کو ایران نے ساسان آزادور نامی ایک شخص کو بھی پھانسی دی، جسے ایسے گروہوں کے لیے کام کرنے اور اصفہان میں جنگ سے قبل مظاہروں کے دوران ’’پولیس پر حملہ کرنے‘‘ کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔
یہ مظاہرے دسمبر 2025ء کے آخر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو بعد میں ملک بھر میں پھیل گئے اور حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہو گئے تھے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ مظاہرے ابتدا میں پُرامن تھے لیکن بعد میں ’’بیرونی قوتوں کی پشت پناہی سے ہونے والے ہنگاموں‘‘ میں بدل گئے، جن میں ہلاکتیں ہوئیں اور املاک کو نقصان بھی پہنچا۔
جنگ دوبارہ شروع ہونے کا اندیشہ ہے، ایرانی فوجی کمانڈر
ایران کے ایک سینیئر فوجی افسر کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کردہ نئی مذاکراتی تجاویز کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ان پر عدم اطیمنان کا اظہار کیا تھا۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق ایران نے یہ مسودہ پاکستان کے ذریعے پیش کیا تھا تاہم اس کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’فی الوقت میں ان (ایران) کی پیشکش سے مطمئن نہیں ہوں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے مذاکرات میں تعطل کی وجہ ایران کی قیادت کے اندر ’’شدید اختلافات‘‘ کو قرار دیا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ دو ہی سوال ہیں، ’’کیا ہم جا کر انہیں مکمل تباہ کر دیں یا کوئی معاہدہ کرنے کی کوشش کریں؟ تاہم انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وہ پہلے آپشن کو ترجیح نہیں دیتے۔
ادھر ہفتے کی صبح ایرانی فوج کی مرکزی کمان کے ایک سینیئر عہدیدار محمد جعفر اسدی نے فارس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ جنگ کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا، ’’شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کسی بھی وعدے یا معاہدے پر قائم نہیں رہتا۔‘‘
جنگ کے آغاز سے ہی ایران نے آبنائے ہرمز پر مضبوط گرفت برقرار رکھی ہوئی ہے، جس سے عالمی معیشت کے لیے تیل، گیس اور کھاد کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے جبکہ امریکہ نے جواباً ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
دوسری طرف واشنگٹن میں قانون ساز اس قانونی تنازعے پر بحث میں مصروف ہیں کہ آیا ٹرمپ نے ایران جنگ کے لیے کانگریس سے منظوری حاصل کرنے کی مقررہ مدت کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔
سن 1973 کے وار پاورز ریزولوشن کے تحت کسی بھی جنگ کے آغاز کے 60 دن کے اندر کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنا یا فوجی کارروائی کی منظوری دینا ضروری ہوتا ہے۔ ایران جنگ کے لیے یہ 60 دن جمعہ یکم مئی کو مکمل ہو گئے تھے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگی کارروائیاں’’ختم‘‘ ہو چکی ہیں لیکن امریکی فوجی پوزیشن میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ امریکی بحریہ اب بھی ایرانی بندرگاہوں اور بحری آمد و رفت کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی فوجیوں کی واپسی متوقع تھی، جرمن وزیر دفاع
امریکی محکمہ دفاع نے جرمنی میں تعینات امریکی فوجیوں میں سے پانچ ہزار کو واپس بلانے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جرمن چانسلر فریڈرش میرس کے درمیان ایران جنگ کے حوالے سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
اس پیش رفت پر جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے کہا کہ جرمنی سے امریکی فوجیوں کی واپسی متوقع تھی اور یورپ کو اپنی سکیورٹی کے لیے زیادہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیر دفاع نے اے ایف پی کو بھیجے گئے بیان میں کہا: ’’امریکی فوجی یورپ اور جرمنی سے واپس جا رہے ہیں، اس کی توقع تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم یورپی ممالک کو اپنی سکیورٹی کی ذمہ داری خود زیادہ سنبھالنا ہو گی۔‘‘
اس امریکی فیصلے سے ایک دن قبل ہی صدر ٹرمپ نے میرس کی طرف سے دیے گئے ایک بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ جرمن چانسلر نے قبل ازیں کہا تھا کہ ایران کے مذاکرات کاروں کے ہاتھوں امریکہ کو ’’ذلت‘‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
جمعرات کو سوشل میڈیا پر جاری پیغامات میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میرس ’’انتہائی خراب کارکردگی‘‘ دکھا رہے ہیں اور انہیں ’’ہر طرح کے مسائل‘‘ کا سامنا ہے، جن میں امیگریشن اور توانائی کے معاملات بھی شامل ہیں۔ امریکی صدر نے اٹلی اور اسپین سے بھی امریکی فوجیوں کے انخلا کی تجویز دی ہے۔
گزشتہ دسمبر تک جرمنی بھر میں قائم مختلف فوجی اڈوں پر 36,000 سے زائد امریکی اہلکار تعینات تھے۔
پینٹاگون کے ترجمان شین پارنیل نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حکم وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ فیصلہ یورپ میں محکمے کی فوجی پوزیشن کا جامع جائزہ لینے کے بعد خطے کی ضروریات اور زمینی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے لیا گیا ہے۔‘‘
شین پارنیل نے مزید کہا، ’’ہم توقع کرتے ہیں کہ فوجیوں کا انخلا آئندہ چھ سے بارہ ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔‘‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک طویل عرصے سے نیٹو اتحاد کے ناقد رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ہونے والی کارروائیوں میں شرکت نہ کرنے پر بھی صدر ٹرمپ نیٹو اتحادی ممالک کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔