ایرانی وفد کی واپسی کے بعد امریکی وفد کی پاکستان آمد منسوخ
وقت اشاعت 25 اپریل 2026آخری اپ ڈیٹ 25 اپریل 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- ایرانی وفد کی اسلام آباد سے واپسی کے بعد امریکی وفد کی پاکستانی آمد بھی منسوخ
- ایرانی وفد امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بغیر ہی پاکستان سے واپس
- ایران نے مطالبات پاکستان کے حوالے کر دیے، امریکی شرائط پر تحفظات بھی پیش، ذرائع
- جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں چار افراد ہلاک، جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار
- امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہی تو سخت جواب دیں گے، ایران کی دھمکی
- غزہ میں دو دہائیوں بعد بلدیاتی انتخابات، دیر البلح میں ووٹنگ
- جرمنی کی طرف سے بحیرہ روم میں ممکنہ فوجی تعیناتی
- ایران میں ’اسرائیلی کارندہ‘ قرار دیے گئے شخص کو پھانسی دے دی گئی
- امریکہ جنگ سے نکلنے کے لیے ’باعزت راستہ‘ تلاش کر رہا ہے، ایرانی وزارت دفاع
- امریکی کویتی صحافی احمد شہاب الدین کو بری کر دیا گیا، تمام الزامات ختم
- اسلام آباد میں اہم ملاقاتیں، ایرانی امریکی مذاکرات کے لیے پاکستانی کوششیں تیز
- ایران میں کمرشل فضائی آپریشن بحال، دو ماہ بعد تہران سے پروازیں پھر شروع
- اسلام آباد میں کوئی براہ راست امریکی ایرانی امن مذاکرات نہیں ہوں گے، ایرانی وزارت خارجہ
ایرانی وفد کی واپسی کے بعد امریکی وفد کی پاکستان آمد بھی منسوخ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ انہوں نے اپنے دونوں ایلچیوں وٹکوف اور کشنر کا دورہ پاکستان منسوخ کر دیا ہے۔ امریکی صدر کے اس اعلان سے قبل پاکستان کے دورے پر آیا ہوا ایرانی وفد ہفتے کو واپس تہران چلا گیا تھا۔
پاکستان کی ثالثی میں ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے دوسرے دور کو ممکن بنانے کے لیے کوششیں ہفتہ 25 اپریل کو بھی جاری رہیں۔ لیکن ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں جو وفد جمعرت کی رات اسلام آباد پہنچا تھا، اس نے جمعے اور ہفتے کے روز پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں، لیکن ساتھ ہی ایران کی طرف سے واضح کر دیا گیا تھا کہ تہران امریکہ کے ساتھ کسی براہ راست مکالمت میں حصہ نہیں لے گا۔
اس پس منظر میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ تقریباﹰ دو گھنٹے کی ملاقات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کا وفد اسلام آباد کے مقامی وقت کے بعد ہفتہ 25 اپریل کی سہ پہر واپس تہران کے لیے روانہ ہو گیا۔
آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی: ترکی کی شمولیت ممکن
اس وفد کی امریکی صدر ٹرمپ کے دونوں ایلچیوں کے ساتھ ملاقات کا تو کوئی ارادہ نہیں تھا، مگر اس نے پاکستان کی مدد سے امریکی نمائندوں کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کے لیے بھی پاکستان میں نہ رکنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ جانے سے پہلے ایرانی وفد نے پاکستان کو اس بارے میں تفصیل سے آگاہ کر دیا تھا کہ امن مذاکرات کے حوالے سے تہران کے مطالبات کیا ہیں اور اس کے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے پیش کردہ تجاویز پر تحفظات کیا ہیں۔
صدر ٹرمپ کا اعلان
ایرانی وفد کی پاکستان سے واپسی کے محض چند ہی گھنٹے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے نشریاتی ادارے فوکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں واشنگٹن کے مقامی وقت کے مطابق ہفتے کی دوپہر کہا کہ انہوں نے اپنے دونوں ایلچیوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے کہہ دیا ہے کہ وہ ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کی غرض سے اب پاکستان کا سفر نہ کریں۔
پاکستانی امن کوششیں: صرف اچھی شہرت یا اثر دیرپا ترقی پر بھی؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ امریکی عہدیداروں کو اس لیے اسلام آباد بھیجیں کہ وہ وہاں بیٹھ کر بات چیت تو کریں، مگر نتیجہ کچھ بھی نہ نکلے۔
صدر ٹرمپ نے کہا، ’’میں نے ابھی کچھ ہی دیر قبل اپنے مندوبین کو بتا دیا ہے، جو کہ روانگی کی تیاری کر رہے تھے، کہ نہیں، اب آپ 18 گھنٹے کا فضائی سفر کر کے اسلام آباد نہیں جائیں گے۔‘‘
یورپ کی نظریں آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے محفوظ بنانے پر
امریکی صدر نے اس انٹرویو میں مذاکرات کے تسلسل کے لیے زیادہ وزن ایران پر ڈالا اور کہا، ’’ہمارے پاس اپنے سارے پتے موجود ہیں۔ وہ جب چاہیں، ہمیں کال کر سکتے ہیں۔ لیکن آپ (وٹکوف اور کشنر) 18 گھنٹے کی پرواز کے بعد صرف اس لیے وہاں نہیں جائیں گے کہ وہاں بیٹھ کر بات چیت تو کریں لیکن نتیجہ کچھ نہ نکلے۔‘‘
ایرانی وفد امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بغیر ہی پاکستان سے واپس
ایرانی وزیر خارجہ عراقچی کی قیادت میں آیا ہوا وفد ہفتے کے روز اسلام آباد سے واپس روانہ ہو گیا۔ اس وفد نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔
ذرائع کے مطابق ایران نے اپنے مذاکراتی مطالبات اور امریکی شرائط پر اپنے تحفظات پاکستانی حکام کے حوالے کر دیے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق شہباز شریف کے ساتھ ملاقات میں علاقائی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسلام آباد میں وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ایران کے سفیر رضا امیری بھی موجود تھے۔
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے اس ملاقات کو ’’نہایت خوشگوار اور دوستانہ تبادلہ خیال‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی بات ہوئی۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق یہ ملاقات تقریباً دو گھنٹے جاری رہی، جس دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے لیے مکالمت اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں دو ہفتے قبل ہونے والے پہلے براہ راست امن مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ہی ختم ہو گئے تھے، اور اب تک اس نوعیت کے دوسرے دور کی بات چیت شروع نہیں ہو سکی۔
یہ مذاکرات ایک عارضی فائر بندی کے بعد ہوئے تھے، لیکن اہم تنازعات خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق اختلافات برقرار رہے، جن کے باعث پیش رفت رک گئی تھی۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو اسلام آباد بھیجنے کا اعلان کیا گیا تھا تاکہ یہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔
تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے کیونکہ ایران کی جانب سے براہ راست مذاکرات کے حوالے سے ہچکچاہٹ ظاہر کی گئی ہے اور امکان ہے کہ نئی بات چیت ابتدا میں بالواسطہ طور پر پاکستان کے ذریعے ہی آگے بڑھے گی۔
ایران نے مطالبات پاکستان کے حوالے کر دیے، امریکی شرائط پر تحفظات بھی پیش، ذرائع
پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے آج بروز ہفتہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ اسلام آباد میں وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ اس ملاقات کے دوران علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس سے قبل عباس عراقچی نے اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عراقچی نے اسلام آباد میں ملاقاتوں کے دوران تہران کے مطالبات اور امریکہ کی شرائط پر اپنے تحفظات پاکستانی حکام کے حوالے کر دیے۔
ذرائع کے مطابق یہ گفتگو ایرانی وزیر کے دورے کے دوران ایسے وقت پر ہوئی، جب پاکستان خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار امن مذاکرات کو بحال کرانے کی کوششیں کر رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت پر بھی سامنے آئی ہے جب فریقین کے درمیان بات چیت کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں اور مذاکرات کے دوسرے دور کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے ہوئے ہے۔
ادھر امریکی ایلچیوں کی آمد اور ایران کی جانب سے براہ راست ملاقات سے انکار نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ فریقین بالواسطہ رابطوں کے ذریعے آگے بڑھنے پر غور کر رہے ہیں۔
جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں چار افراد ہلاک، جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار
لبنان کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ ملک کے جنوبی حصے میں اسرائیلی حملوں میں ہفتے کے روز چار افراد ہلاک ہو گئے، حالانکہ لبنان جنگ میں اسرائیل اور ایران نواز لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے درمیان فائر بندی کی مدت حال ہی میں بڑھا دی گئی تھی۔
بیروت میں ملکی وزارت صحت کے مطابق جنوبی ضلع نبطیہ کے علاقے یحمر الشقیف میں دو الگ الگ اسرائیلی حملے کیے گئے، جن میں ایک ٹرک اور ایک موٹر سائیکل کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں چار افراد مارے گئے۔
یہ پیش رفت اس وقت پر آئی ہے جب خطے میں جاری کشیدگی کے دوران لبنان جنگ میں فائر بندی کو برقرار رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم سرحدی علاقوں میں وقفے وقفے سے جھڑپیں اور فضائی حملے بھی جاری ہیں۔
امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہی تو سخت جواب دیں گے، ایران کی دھمکی
ایران کی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھی تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا۔
سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ خاتم الانبیا نے اپنے بیان میں امریکی اقدامات کو ’’ڈاکہ زنی‘‘ اور ’’سمندری قذاقی‘‘ قرار دیا ہے۔
ایران کیی مرکزی فوجی کمان کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’اگر جارحیت کرنے والی امریکی فوج خطے میں ناکہ بندی اور قذاقی جاری رکھتی ہے، تو اسے ایران کی طاقت ور مسلح افواج کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘
ایرانی فوج نے مزید کہا کہ وہ ’’دشمن کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے‘‘ ہوئے ہے اور ’’ہر طرح کے ردعمل کے لیے تیار اور پرعزم‘‘ ہے۔
غزہ میں دو دہائیوں بعد بلدیاتی انتخابات، دیر البلح میں ووٹنگ
غزہ پٹی کے وسطی شہر دیر البلح میں ہفتے کے روز 20 سال سے زائد عرصے بعد پہلی بار بلدیاتی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہوئی، جو حالیہ غزہ جنگ کے بعد پہلا انتخابی عمل بھی ہے۔
مبصرین کے مطابق تقریباً 70 ہزار اہل ووٹرز پر مشتمل یہ انتخابی عمل زیادہ تر علامتی نوعیت کا ہے، تاہم اسے مستقبل کے انتخابات کے لیے ایک ماڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ انتخابات فلسطینی اتھارٹی کے تحت منعقد کیے گئے، جس کی قیادت فتح تحریک کے سربراہ اور فلسطینی صدر محمود عباس کر رہے ہیں۔
ماضی میں حماس نے انتخابات میں کامیابی کے بعد غزہ پٹی سے فتح کو بے دخل کر دیا تھا، جس کے بعد سے حماس نے اس علاقے میں مقامی حکومت پر 2006ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد 2007ء میں غزہ پر حاصل کیا گیا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ حماس دیر البلح کے ان انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرے گی یا نہیں۔ ماضی میں حماس بلدیاتی کونسلز کا تقرر خود کرتی رہی ہے اور مقامی انتخابات کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ رپورٹوں کے مطابق بعض امیدوار حماس کے قریب سمجھے جاتے ہیں تاہم اس فلسطینی عسکریت پسند تنظیم نے باضابطہ طور پر کسی بھی امیدوار کی حمایت کا اعلان نہیں کیا۔
اس انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے لیے لازم تھا کہ وہ اس دو ریاستی حل کی حمایت کا اعلان کریں، جس کے تحت ایک آزاد فلسطینی ریاست اسرائیل کے ساتھ پرامن طور پر موجود ہو۔ تاہم حماس اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو دونوں اس موقف کو مسترد کرتے ہیں۔
دیر البلح کے مقامی شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ نئی بلدیاتی کونسل شہر میں پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنائے گی، جو غزہ پٹی کی جنگ اور اسرائیل کے کنٹرول کے باعث اب بھی نمایاں طور پر متاثر ہیں۔
جرمنی کی طرف سے بحیرہ روم میں ممکنہ فوجی تعیناتی
جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے کہا ہے کہ جرمنی ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز میں فوجی تعیناتی کی تیاری کے تحت بحیرہ روم میں اپنے بحری جہاز بھیج رہا ہے۔
اخبار ’رائنیشے پوسٹ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ایک مائن سویپر شپ اور ایک کمانڈ اینڈ سپلائی بحری جہاز بحیرہ روم بھیجے جائیں گے، تاہم ان کی روانگی کے وقت کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
وفاقی جرمن وزیر دفاع نے واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ تعیناتی کے لیے فائر بندی کا برقرار رہنا، بین الاقوامی قانون کے تحت قانونی فریم ورک اور جرمن پارلیمان کے ایوان زیریں بنڈس ٹاگ کی طرف سے منظوری ناگزیر ہوں گے۔
جرمن چانسلر فریڈرش میرس پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ برلن آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کے لیےترجیحاً امریکی شمولیت کے ساتھ ایک کثیرالملکی مشن میں شرکت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی اس اہم آبی گزرگاہ میں تجارتی جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے بارودی سرنگوں کی صفائی اور بحری نگرانی میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔
وزیر دفاع پسٹوریئس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بارودی سرنگوں کی صفائی کے شعبے میں جرمنی روایتی طور پر نیٹو کے اندر اپنا ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔
ایران میں ’اسرائیلی کارندہ‘ قرار دیے گئے شخص کو پھانسی دے دی گئی
ایران نے ہفتے کے روز ایک اور ایسے شخص کو پھانسی دے دی، جس پر الزام تھا کہ وہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے کام کر رہا تھا اور رواں برس ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران تخریب کاری میں بھی ملوث تھا۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق سزائے موت پانے والے اس شخص کی شناخت عرفان کیانی کے نام سے کی گئی ہے، جسے ’’موساد کا کارندہ‘‘ قرار دیا گیا تھا۔
دیگر رپورٹوں کے مطابق عرفان کیانی پر وسطی ایرانی شہر اصفہان میں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور انہیں آگ لگانے کے الزامات بھی تھے۔
ایرانی عدلیہ کے مطابق ملکی سپریم کورٹ کی طرف سے سزائے موت کے ذیلی عدالتی حکم کی توثیق کے بعد مجرم کو ہفتہ 25 اپریل کی صبح پھانسی دے دی گئی۔
عدالتی بیان میں اس پر عوامی اور نجی املاک کی تباہی، آتش زنی، تیز دھار ہتھیار اپنے پاس رکھنے، سڑکیں بند کرنے، سرکاری اہلکاروں پر حملے اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانے جیسے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز پر ایران میں حکومت مخالف مظاہرے ملک کی کمزور معیشت کے باعث شروع ہوئے تھے، جنہیں حکام نے سختی سے کچل دیا تھا۔ اس پھانسی کو حالیہ ہفتوں میں بڑھتی ہوئی سزاؤں کے سلسلے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جو اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے تیز ہو چکا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق 19 مارچ کے بعد ایسے مقدمات میں تاحال کم از کم نو سزا یافتہ مجرموں کو پھانسی کے ذریعے سزائے موت دی جا چکی ہے۔
امریکہ جنگ سے نکلنے کے لیے ’باعزت راستہ‘ تلاش کر رہا ہے، ایرانی وزارت دفاع
ایران کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ امریکہ جنگ سے نکلنے کے لیے اپنا ’’چہرہ (ساکھ) بچانے‘‘ کا راستہ تلاش کر رہا ہے۔ تہران سے یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے، جب امریکی ایلچی ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ ہو چکے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ملکی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا، ’’آج ہماری فوجی طاقت غالب ہے اور دشمن اس جنگی دلدل سے نکلنے کے لیے باعزت راستہ ڈھونڈ رہا ہے، جس میں وہ پھنس چکا ہے۔‘‘
یہ بیان ایسے وقت پر دیا گیا ہے، جب امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اسلام آباد جا رہے ہیں، تاہم ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی مندوبین سے ایران کے براہ راست مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔
امریکی کویتی صحافی احمد شہاب الدین کو بری کر دیا گیا
خلیجی ریاست کویت کی ایک عدالت نے امریکی کویتی صحافی احمد شہاب الدین کو تقریباً دو ماہ کی حراست کے بعد تمام الزامات سے بری کر دیا ہے، یہ بات صحافیوں کے تحفظ کی بین الاقوامی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے بتائی۔
اس اکتالیس سالہ صحافی کو ایران جنگ سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹس کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ کویتی حکام نے ان پر جھوٹی معلومات پھیلانے، قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور موبائل فون کے غلط استعمال کے الزامات عائد کیے تھے۔
امریکی حکام نے خبر رساں اداروں کو بتایا کہ رہائی کے بعد احمد شہاب الدین کویت چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ وہ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز، بی بی سی اور الجزیرہ انگلش جیسے عالمی نشریاتی اداروں کے ساتھ بطور کنٹریبیوٹر کام کرتے رہے ہیں۔
شہاب الدین ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے فوری بعد 28 فروری کو اپنے اہل خانہ سے ملنے کویت پہنچے تھے اور سوشل میڈیا پر اس جنگ سے متعلق پوسٹس کر رہے تھے، جس کے بعد تین مارچ کو انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔
تب ان کی آخری پوسٹس میں ایک ویڈیو بھی شامل تھی، جس کی تصدیق سی این این نے بھی کر دی تھی، اور جس میں کویت میں ایک امریکی ایئر بیس کے قریب ایک جنگی طیارے کے گرنے کا منظر دکھایا گیا تھا۔
15 مارچ کو کویت نے ایک نیا قانون بھی نافذ کر دیا تھا، جس کے تحت فوجی اداروں کے بارے میں جھوٹی افواہیں پھیلانے پر 10 سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ مختلف رپورٹوں کے مطابق اس کریک ڈاؤن کے دوران خلیجی عرب ممالک میں سینکڑوں افراد کو ان کی میڈیا اور سوشل میڈیا سرگرمیوں کے باعث گرفتار کر لیا گیا تھا۔
اسلام آباد میں اہم ملاقاتیں، ایرانی امریکی مذاکرات کے لیے پاکستانی کوششیں تیز
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر سے ملاقات کی، ایرانی سفارت خانے نے بھی اس ملاقات کی تصدیق کر دی ہے۔ حکام کے مطابق اس ملاقات میں پاکستان کے وزیر داخلہ اور قومی سلامتی کے مشیر بھی موجود تھے، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور امن کوششوں پر بات چیت کی گئی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب گزشتہ ہفتے فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران کا تین روزہ دورہ کر چکے ہیں، جس کا مقصد ایران جنگ کے حوالے سے تعطل کا شکار مذاکرات کو بحال کرانا اور امریکہ و ایران کو دوبارہ براہ راست بات چیت کے لیے میز پر لانا تھا۔
دوسری جانب امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی ہفتے کے روز اسلام آباد پہنچنے والے ہیں۔
تاہم ایران کی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکی وفد کے ساتھ کوئی براہ راست ملاقات نہیں ہوگی، اور بات چیت صرف بالواسطہ طریقے سے کی جائے گی۔ ایرانی حکام کے مطابق عباس عراقچی اپنے دورے کے دوران پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، جن میں خطے کی تازہ صورتحال اور امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر غور کیا جا رہا ہے۔
ایران میں کمرشل فضائی آپریشن بحال، دو ماہ بعد تہران سے پروازیں پھر شروع
ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازعے کے آغاز کے تقریباً دو ماہ بعد ہفتے کے روز ملکی دارالحکومت کے مرکزی ہوائی اڈے امام خمینی انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے کمرشل پروازیں دوبارہ شروع کر دیں۔
ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق تہران سے یہ کمرشل پروازیں استنبول، مسقط اور مدینہ کے لیے روانہ ہوئیں۔ اس سے قبل ایران نے فائر بندی کے شروع ہونے کے بعد رواں ماہ کے آغاز میں اپنی فضائی حدود جزوی طور پر کھول دی تھیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد پہنچنے کے بعد پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت سے دو بار ملاقاتیں کی ہیں، جہاں خطے کی صورتحال اور علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
اسلام آباد میں امریکہ سے براہ راست مکالمت نہیں ہو گی، ایران
پاکستان کی طرف سے ایران جنگ میں موجودہ فائر بندی کے تسلسل کو یقینی بناتے ہوئے ایک باقاعدہ جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے امریکہ اور ایران کے مابین امن مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے سفارتی کوششیں ہنوز جاری ہیں۔
امریکی ایرانی مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق ابہام
امریکہ اورایران نے ممکنہ امن مذاکرات کی صورتحال پر متضاد بیانات دیے ہیں، جبکہ پاکستان دوسرے دور کی بات چیت شروع کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔
دو ہفتے قبل اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات، جن کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کی تھی، 21 گھنٹے جاری رہنے کے باوجود بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے تھے۔ اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے کی بات کی تھی، تاہم انہوں نے تہران کے خلاف اپنے سخت بیانات بھی جاری رکھے۔
اس دوران کوئی حتمی معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں عالمی معیشت بدستور دباؤ کا شکار ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل، گیس اور دیگر اشیاء کی ترسیل ایرانی حملوں کے خدشات اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ہفتے کے روز پاکستان جائیں گے تاکہ ایرانی وفد کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کر سکیں۔ انہوں نے کہا، ’’گزشتہ چند دنوں میں ہمیں ایران کی جانب سے کچھ پیش رفت نظر آئی ہے،‘‘ تاہم انہوں نے اس کی کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
لیویٹ کے مطابق ایران نے خود رابطہ کر کے بالمشافہ مذاکرات کی درخواست کی اور امید ظاہر کی کہ یہ بات چیت کسی معاہدے کی جانب پیش رفت کا باعث بنے گی۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ملکی وزیر خارجہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، تاہم انہوں نے امریکی ایلچیوں سے براہ راست ملاقات کے امکان کو مسترد کر دیا۔ ایرانی حکام کے مطابق عباس عراقچی پاکستان کے ذریعے اپنے ’’مشاہدات‘‘ امریکہ تک پہنچائیں گے۔
ادارت: مقبول ملک