1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایران نے خلیج میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، تہران کا دعویٰ

مقبول ملک روئٹرز، اے پی، اے ایف پی اور ڈی پی اے کے ساتھ
وقت اشاعت 6 جون 2026آخری اپ ڈیٹ 6 جون 2026

ایرانی پاسداران انقلاب نے ہفتہ چھ جون کے روز دعویٰ کیا کہ انہوں نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو پھر نشانہ بنایا ہے۔ اس دوران کویت نے ایرانی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا جبکہ بحرین میں فضائی حملے کے خلاف سائرن بجائے گئے۔

https://p.dw.com/p/5EwjC
کویت پر یہ نئے حملے تین جون کو اس حملے کے محض چند ہی روز بعد کیے گئے، جس میں کویت سٹی کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ کا نشانہ بنایا گیا تھا (تصویر) اور جس میں ایک شخص ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے
کویت پر یہ نئے حملے تین جون کو اس حملے کے محض چند ہی روز بعد کیے گئے، جس میں کویت سٹی کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ کا نشانہ بنایا گیا تھا (تصویر) اور جس میں ایک شخص ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھےتصویر: Civil Aviation Kuwait/Handout/REUTERS
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • امن کے لیے سسکتی دنیا کی پکار سنیں، پوپ لیو کی عالمی رہنماؤں سے اپیل
  • سیاسی محرکات کی بنا پر جرمنی میں جرائم کے ارتکاب کی سالانہ تعداد کا نیا ریکارڈ، رپورٹ
  • جرمنی میں زیر علاج ایبولا کا امریکی مریض صحتیابی کے بعد برلن کے شاریٹے ہسپتال سے فارغ
  • پوٹن نے زیلنسکی کی ملاقات کی پیش کش ٹھکرا دی، یوکرین کے روس پر نئے فضائی حملے
  • جنوبی لبنان میں ایک فوجی گاڑی پر اسرائیلی فضائی حملے میں لبنانی آرمی کے تین اہلکار ہلاک
  • آبنائے ہرمز کی طرف لانچ کیے گئے چار ایرانی ڈرونز اور متعدد میزائل تباہ کر دیے، امریکی فوج
  • کویتی فضائی دفاعی نظام نے ایرانی ڈرونز کے خلاف کارروائی کی، بحرین میں خطرے کے سائرن
  • خلیجی عرب ممالک میں امریکی اڈوں کو پھر نشانہ بنایا گیا، ایرانی پاسداران انقلاب کا دعویٰ
امن کے لیے سسکتی دنیا کی پکار سنیں، پوپ لیو کی عالمی رہنماؤں سے اپیل سیکشن پر جائیں
6 جون 2026

امن کے لیے سسکتی دنیا کی پکار سنیں، پوپ لیو کی عالمی رہنماؤں سے اپیل

پوپ لیو کا میڈرڈ کے شاہی محل پہنچنے پر (تصویر) اسپین کے بادشاہ فیلیپے ششم اور ملکہ لیٹیسیا نے ذاتی طور پر استقبال کیا
پوپ لیو کا میڈرڈ کے شاہی محل پہنچنے پر اسپین کے بادشاہ فیلیپے ششم اور ملکہ لیٹیسیا نے ذاتی طور پر استقبال کیاتصویر: Alessandra Tarantino/AP Photo

دنیا بھر کے کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو ہفتہ چھ جون کے روز اپنے کئی روزہ دورے پر اسپین پہنچ گئے۔ یہ ان کا پاپائے روم کے طور پر اسپین کا اولین سرکاری دورہ ہے اور گزشتہ 15 برسوں میں کسی بھی پوپ کا اسپین کا پہلا دورہ بھی۔

اس کے علاوہ اپنے اس دورے کے دوران پوپ لیو میڈرڈ میں ہسپانوی پارلیمان سے خطاب  بھی کریں گے۔ ان سے پہلے آج تک کسی بھی پوپ نے میڈرڈ میں اسپین کی قومی پارلیمان سے کبھی خطاب نہیں کیا۔

پوپ لیو کا استنبول کی تاریخی نیلی مسجد کا دورہ

کلیسائے روم کے سربراہ کا جزیرہ نما آئبیریا کی بادشاہت اسپین کا ہفتہ چھ جون کو شروع ہونے والا یہ دورہ 12 جون کو اپنے اختتام کو پہنچے گا۔

پوپ لیو میڈرڈ ایئر پورٹ پر اپنے طیارے سے باہر آتے ہوئے
پاپائے روم لیو ہفتے کے دن ایک ہفتے کے دورے پر اسپین پہنچےتصویر: Manu Fernandez/AP Photo/picture alliance

پاپائے روم کا عالمی رہنماؤں سے مطالبہ

میڈرڈ پہنچنے کے بعد پوپ لیو نے اس دورے کے دوران اپنا جو پہلا خطاب کیا، وہ اپنے پیغام میں بہت پرزور اور بالکل واضح تھا۔

پوپ لیو نے عالمی رہنماؤں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ انہیں ’’امن کے لیے روتی اور چیخیں مارتی ہوئی دنیا کی آوازیں‘‘ سننا چاہییں۔
پوپ لیو کے الفاظ میں، ’’(عالمی رہنماؤں کو) صرف اپنی مقبولیت میں اضافے کے لیے معاملات کو حد سے زیادہ سادہ بنا کر پیش کرتے ہوئے عوام کو تقسیم کر دینے کی روش ترک کرنا چاہیے۔‘‘

کیتھولک پوپ اور برطانوی بادشاہ کا 500 سال بعد مشترکہ دعائیہ اجتماع

پوپ لیو نے حالیہ ہفتوں میں ایران جنگ اور تارکین وطن کے خلاف پالیسیوں کی وجہ سے جنگوں سے تباہی اور مہاجرین کے ساتھ بدسلوکی کے خلاف جو بیانات دیے تھے، ان پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کافی ناراض ہو گئے تھے۔ اپنی اس ناراضی کے اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے پوپ پر بہت کم نظر آنے والے تنقید بھی کی تھی۔

ٹرمپ اور پوپ میں مصالحت کی روبیو کی کوشش کتنی کامیاب رہی؟

میڈرڈ میں اسپین کی قومی پارلیمان میں لی گئی منتخب ارکان کی ایک تصویر: اس دورے کے دوران پوپ لیو ہسپانوی پارلیمان سے خطاب کرنے والے پہلے پوپ بن جائیں گے
میڈرڈ میں اسپین کی قومی پارلیمان میں لی گئی منتخب ارکان کی ایک تصویر: اس دورے کے دوران پوپ لیو ہسپانوی پارلیمان سے خطاب کرنے والے پہلے پوپ بن جائیں گےتصویر: Bernat Armangue/AP/picture alliance

اس کے جواب میں پوپ لیو نے کہا تھا کہ جنگوں کی تباہ کاریوں اور خود پسند حکمرانوں کے خلاف آئندہ بھی بولتے رہیں گے۔

اس پس منظر میں پوپ لیو اسپین میں اپنے قیام کے دوران میڈرڈ میں بے گھر انسانوں اور جزائر کیناری پر تارکین وطن سے بھی ملیں گے۔

میڈرڈ سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق پاپائے روم بے گھر انسانوں اور تارکین وطن اور مہاجرین سے مل کر اس بارے میں دنیا کے لیے ایک عملی مثال قائم کریں گے کہ ’’ہر انسان کی عزت اور تکریم‘‘ کی جانا چاہیے۔

https://p.dw.com/p/5ExCU
جرمنی میں سیاسی محرکات کی بنا پر جرائم کے ارتکاب کی سالانہ تعداد کا نیا ریکارڈ، رپورٹ سیکشن پر جائیں
6 جون 2026

جرمنی میں سیاسی محرکات کی بنا پر جرائم کے ارتکاب کی سالانہ تعداد کا نیا ریکارڈ، رپورٹ

ایک دروازے کا ٹوٹا ہوا شیشہ، جرم اور تشدد کی ایک علامتی تصویر
گزشتہ برس جرمنی میں سیاسی محرکات کی بنا پر کیے جانے والے جرائم کی سالانہ تعداد کم از کم 85 ہزار رہی، جو ایک نیا ریکارڈ تھاتصویر: Soeren Stache/dpa/picture alliance

جرمنی میں سیاسی محرکات کی بنا پر جرائم کے ارتکاب کی مجموعی تعداد کے حوالے سے گزشتہ سال ایک نیا ریکارڈ دیکھنے میں آیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2025ء کے دوران یورپی یونین کے آبادی کے لحاظ سے اس سب سے بڑے رکن ملک میں ایسے جرائم کی تعداد کم از کم بھی 85 ہزار رہی۔

اے ایف ڈی کا ملک کی داخلی انٹیلی جنس ایجنسی پر مقدمہ

جرمن اخبار ’ویلٹ ام زونٹاگ‘ نے ہفتہ چھ جون کے روز بتایا کہ جرمنی کے تمام 16 وفاقی صوبوں میں سے 15 میں 2025ء کے دوران ایسے جرائم کی مجموعی تعداد کم از کم بھی 85,000 رہی، جن کے ارتکاب کے بنیادی محرکات سیاسی نوعیت کے تھے۔ اس سے قبل 2024ء میں ایسے جرائم کی سالانہ تعداد 84,174 رہی تھی۔

اس بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ اخبار ’ویلٹ ام زونٹاگ‘ کی کل اتوار سات جون کی اشاعت میں شائع کی جا رہی ہے۔

جرمن سکیورٹی اداروں کی سخت گیر اسلام پسندوں پر کڑی نظر، وزیر داخلہ

جرمن شہر مانہائم میں عوامی جگہ پر ایک جرم کے ارتکاب کے بعد ایک پولیس اہلکار شواہد جمع کرتے ہوئے
گزشتہ برس جرمنی میں سیاسی محرکات والے، لیکن پرتشدد جرائم کی مجموعی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا گیاتصویر: Florian Wiegand/Getty Images

پندرہ وفاقی صوبوں کا ڈیٹا

اس جرمن جریدے نے اس موضوع پر اپنی تفصیلی چھان بین کے بعد بتایا کہ جرمنی میں ایسے جرائم کی سالانہ تعداد گزشتہ ایک دہائی کے دوران دو گنا ہو چکی ہے۔

جرمنی میں وفاقی صوبوں کی مجموعی تعداد 16 ہے اور یہ سالانہ اعداد و شمار 15 صوبوں کے ڈیٹا کو جمع کر کے تیار کیے گئے ہیں۔ ان میں صرف ایک صوبے رائن لینڈ پلاٹینیٹ کا گزشتہ برس کا سالانہ ڈیٹا شامل نہ کیا جا سکا۔

برلن میں ہزارہا شہریوں کا دائیں بازو کے انتہا پسندی خلاف احتجاجی مظاہرہ

جریدے کے مطابق ملک میں ایسے جرائم کی شرح بھی بڑھ رہی ہے، جن کے محرکات تو سیاسی تھے، لیکن جو پرتشدد جرائم تھے۔
گزشتہ برس ایسے پرتشدد سیاسی جرائم کی تعداد 4,100 سے زائد رہی۔ ان میں جسمانی حملے، توڑ پھوڑ، دھماکہ خیز مواد کے ساتھ کیے جانے والے جرائم اور نقص امن کے جرائم خاص طور پر قابل ذکر تھے۔

جرمن دارالحکومت برلن میں دائیں بازو کی انتہا پسندی کے خلاف عام شہریوں کے ایک احجاجی مظاہرے کے شرکاء اور ان کے پلے کارڈز
جرمن دارالحکومت برلن میں دائیں بازو کی انتہا پسندی کے خلاف عام شہریوں کے ایک احجاجی مظاہرے کے شرکاء اور ان کے پلے کارڈزتصویر: Matthias Gränzdörfer/pictureteam/IMAGO

داخلی سیاسی تقسیم اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات

جریدے کے مطابق ملک میں ان جرائم کی شرح میں اضافے کی بڑی وجوہات میں گزشتہ برس داخلی سیاسی تقسیم کا باعث بننے والے قومی انتخابات اور مشرق وسطیٰ میں پائے جانے والے خونریز تنازعات بھی شامل تھے۔

'دائیں بازو کی انتہا پسندی سے جرمن معیشت کو ممکنہ خطرہ'

اہم بات یہ ہے کہ ان جرائم میں سے نصف سے زائد کو تفتیشی اہلکاروں نے انتہائی دائیں بازو کی سوچ کے نتیجے میں ہونے والے جرائم قرار دیا۔

اس کے علاوہ بائیں بازو کی انتہا پسندانہ سوچ کی وجہ سے جن جرائم کا ارتکاب کیا گیا، ان کی سالانہ تعداد میں بھی قریب 35 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

https://p.dw.com/p/5ExCG
جرمنی میں زیر علاج ایبولا کا امریکی مریض صحت یابی کے بعد برلن کے شاریٹے ہسپتال سے فارغ سیکشن پر جائیں
6 جون 2026

جرمنی میں زیر علاج ایبولا کا امریکی مریض صحت یابی کے بعد برلن کے شاریٹے ہسپتال سے فارغ

ایبولا وائرس کے امریکی مریض کو 20 مئی کی رات کو شاریٹے ہسپتال میں لانے والی ایمبولینس
ایبولا وائرس کے اس امریکی مریض کو بیس مئی کو برلن کے شاریٹے ہسپتال میں لایا گیا تھاتصویر: Sven Kaeuler/dpa/picture alliance

جرمنی کے دارالحکومت برلن میں زیر علاج ایبولا وائرس کے ایک امریکی مریض کو دو ہفتوں تک علاج کے نتیجے میں صحت یاب ہونے کے بعد ہفتہ چھ جون کو شاریٹے نامی ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔

برلن کے اس بہت بڑے اور مشہور ہسپتال کی طرف سے بتایا گیا کہ یہ مریض ایک ایسا امریکی ڈاکٹر ہے جو ڈیموکریٹک ریپبلک کانگو میں ایبولا وائرس کا شکار ہو گیا تھا، ’’لیکن اب یہ مریض صحت یاب ہو چکا ہے اور اس کی جسمانی حالت بھی اچھی ہے۔‘‘

شاریٹے ہسپتال کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’یہ مریض، جو امریکہ کا شہری ہے، 20 مئی سے شاریٹے ہسپتال کے قرنطینہ کے طور پر تیا رکردہ ایک خصوصی میڈیکل یونٹ میں زیر علاج تھا اور اس میں 72 گھنٹے سے بھی زیادہ عرصے تک، ایبولا وائرس سے لگنے والی بیماری کے مزید کوئی طبی شواہد نہ ملنے اور اس کے جسم میں ایبولا وائرس کی موجودگی کی تصدیق نہ ہونے پر، اسے ہفتے کے روز ہسپتال سے چھٹی دے دی گئی۔‘‘

دنیا کے دس انتہائی خطرناک وائرس

برلن کا شاریٹے ہسپتال (تصویر میں سب سے بلند عمارت) بین الاقوامی سطح پر بھی بہت اچھی شہرت کا حامل ایک بہت بڑا ہسپتال ہے
برلن کا شاریٹے ہسپتال (تصویر میں سب سے بلند عمارت) بین الاقوامی سطح پر بھی بہت اچھی شہرت کا حامل ایک بہت بڑا ہسپتال ہےتصویر: Jens Kalaene/dpa/picture alliance

بیس مئی کو علاج کے لیے برلن کے اس ہسپتال میں لائے جانے کے بعد سے اس مریض کے ہر روز تفصیلی طبی ٹیسٹ کیے جاتے رہے تھے اور ساتھ اس کی مسلسل ’کمبائنڈ اینٹی وائرل‘ تھیراپی بھی کی گئی تھی۔

ہسپتال کے بیان کے مطابق اس علاج کے نتیجے میں 30 مئی کے بعد بھی ہر روز کیے جانے والے طبی ٹیسٹوں میں اس مریض میں ایبولا وائرس کی موجودگی ایک بار بھی ثابت نہ ہوئی، جس کے بعد اسے ہسپتال سے فارغ کر دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

https://p.dw.com/p/5Ex9p
پوٹن نے زیلنسکی کی ملاقات کی پیشکش ٹھکرا دی، یوکرین کے روس پر نئے فضائی حملے سیکشن پر جائیں
6 جون 2026

پوٹن نے زیلنسکی کی ملاقات کی پیشکش ٹھکرا دی، یوکرین کے روس پر نئے فضائی حملے

روسی صدر پوٹن، دائیں، اور یوکرینی صدر زیلنسکی، دونوں صدور کی علیحدہ علیحدہ تصویریں
روسی صدر پوٹن، دائیں، اور یوکرینی صدر زیلنسکیتصویر: Mandel Ngan/Andrew Caballero-Reynolds/AFP

روسی صدر دلاویمیر پوٹن کی طرف سے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کی براہ راست امن مذاکرات کے لیے ملاقات کی پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد کییف کی مسلح افواج نے روس پر نئے فضائی حملے کیے ہیں۔

روسی یوکرینی جنگ میں کییف کی طرف سے یہ نئے فوجی حملے خاص طور پر روسی شہر سینٹ پیٹرزبرگ پر کیے گئے۔ یوکرین نے روس کے اس دوسرے سب سے بڑے شہر کو  چھ جون کی صبح تازہ فضائی حملوں کا نشانہ بنایا۔

روس کی یوکرین کے خلاف جنگ آئندہ کیا رخ اختیار کر سکتی ہے؟

سینٹ پیٹرزبرگ سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق مقامی حکام نے آج صبح ہی عام شہریوں کو ہدایت کر دی تھی کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ مختلف نیوز ایجنسیوں نے اس بارے میں اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ کییف کی سینٹ پیٹرزبرگ کو بار بار نشانہ بنانے کی کوششیں اور وہاں مقامی حکام کا عام شہریوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ دینا، دونوں ہی اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس جنگ میں یوکرین کی روس کے بہت اندر تک کے علاقوں پر حملے کرنے کی صلاحیت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔

یوکرین جنگ: پوٹن کی سابق جرمن چانسلر کو ثالث بنانے کی تجویز، برلن محتاط

یوکرینی دارالحکومت کییف اور اس کے مضافاتی علاقوں میں جمعہ پانچ جون کو کیے گئے روسی فضائی حملوں میں سے ایک حملے میں ہونے والی تباہی کی ایک تصویر
یوکرینی دارالحکومت کییف اور اس کے مضافاتی علاقوں میں جمعہ پانچ جون کو کیے گئے روسی فضائی حملوں میں سے ایک حملے میں ہونے والی تباہی کی ایک تصویرتصویر: Ukrainian Emergency Service/AFP

سینٹ پیٹرزبرگ کے گورنر الیکسانڈر بیگلوف نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے گھروں میں ہی رہنا چاہیے اور ممکن ہے کہ موبائل انٹربیٹ رابطے بھی غیر فعال ہو جائیں۔

روس وکٹری ڈے پریڈ پر ممکنہ یوکرینی حملے سے خوف زدہ، زیلنسکی

دوسری طرف علاقائی گورنر الیکساندڑ دروزدینکو نے کہا کہ ہمسایہ روسی علاقے لینن گراڈ کی فضا میں گزشتہ شب اور آج ہفتے کی صبح تک مجموعی طور پر 141 ایسے ڈرونز مار گرائے گئے، جو یوکرین کی طرف سے حملوں کے لیے بھیجے گئے تھے۔

یوکرینی صدر زیلنسکی نے ہفتے کے روز ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا، ’’گزشتہ رات ہمارے ڈرونز تقریباﹰ ایک ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے روس میں سینٹ پیٹرزبرگ تک کے علاقے میں پہنچ گئے، وہاں تک جہاں دشمن کی بحریہ کے جنگی سامان کی ایک ذخیرہ گاہ ہے اور ایک بحری اڈہ بھی۔‘‘

جرمن چانسلر کا زیلنسکی سے اصلاحات کا عمل تیز کرنے کا مطالبہ

روسی صدر پوٹن سینٹ پیٹرزبرگ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے
یوکرین نے سینٹ پیٹرزبرگ کو ایسے وقت پر ڈرون حملون کا نشانہ بنایا، جب وہاں صدر پوٹن کی میزبانی میں انٹرنیشنل اکنامک فورم جاری تھاتصویر: Anastasia Barashkova/REUTERS

بحیرہ بالٹک میں روسی تیل کی برآمدی بندرگاہ پر ایک بار پھر یوکرینی حملہ

اسی دوران یوکرینی فوج کی طرف سے بھی ایک بیان میں ہفتے کے روز کہا گیا کہ اس نے روسی خطے لینن گراڈ میں ایک آئل ڈپو اور ایک آئل ٹرمینل کو مسلح ڈرونز کے ساتھ کیے گئے حملوں میں نشانہ بنایا۔

https://p.dw.com/p/5Ex8f
جنوبی لبنان میں ایک فوجی گاڑی پر اسرائیلی فضائی حملے میں لبنانی آرمی کے تین اہلکار ہلاک سیکشن پر جائیں
6 جون 2026

جنوبی لبنان میں ایک فوجی گاڑی پر اسرائیلی فضائی حملے میں لبنانی آرمی کے تین اہلکار ہلاک

جنوبی لبنانی شہر نبطیہ کے نواح میں اسرائیلی فوج کی طرف سے کل جمعے کے روز کیے گئے ایک فضائی حملے کے فوری بعد کا منظر
جنوبی لبنانی شہر نبطیہ کے نواح میں اسرائیلی فوج کی طرف سے کل جمعے کے روز کیے گئے ایک فضائی حملے کے فوری بعد کا منظرتصویر: REUTERS

اسرائیل کی طرف سے ہمسایہ ملک لبنان کے جنوب میں ایک گاڑی پر کیے جانے والے ایک نئے فضائی حملے میں لبنانی فوج کے تین اہلکار ہلاک ہو گئے۔ یہ بات ملکی دارالحکومت بیروت میں لبنانی فوج کی طرف سے بتائی گئی۔

یہ فوجی ہلاکتیں ایسے وقت پر ہوئی ہیں، جب ابھی چند روز قبل ہی واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے مابین ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ دونوں ممالک کے مابین ایک مشروط فائر بندی ڈیل طے پا گئی ہے۔

ایران کا حزب اللہ کی حمایت کا اعادہ، امن کی منزل ہنوز دور

لبنانی فوج کی طرف سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا گیا، ’’اسرائیل نے بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی لبنان میں خردلی اور نبطیہ کے درمیان سڑک پر ایک فوجی گاڑی کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک فوجی افسر سمیت متعدد فوجی اہلکار مارے گئے۔‘‘

جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی طرف سے بلڈوزروں کی مدد سے منہدم کر دیے گئے گھروں کا ملبہ
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی طرف سے بلڈوزروں کی مدد سے منہدم کر دیے گئے گھروں کا ملبہتصویر: Hussein Malla/AP Photo/picture alliance

دوسری طرف اسرائیلی فوج نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کی طرف سے ایک ایسی گاڑی کو فضائی حملے میں ٹارگٹ کیا گیا، جو ’’مشکوک انداز میں حرکت‘‘ کر رہی تھی، وہ بھی ’’ایک ایسے فعال جنگی علاقے میں، جسے خالی کرایا جا چکا تھا۔‘‘

اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کی طرف سے مزید کہا گیا، ’’اسرائیلی فوج دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کے خلاف مسلح کارروائیاں کرتی ہے، لبنانی فوج کے خلاف نہیں۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیلی فوج اس واقعے کا جائزہ لے رہی ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ کا ’جامع‘ جنگ بندی کا مطالبہ

اسرائیل اور لبنان کی ایران نواز ملیشیا حزب اللہ کے مابین جنگ کو ختم کرانے کے لیے جو فائر بندی 17 اپریل سے نافذ ہے، اس کا اب تک مکمل احترام نہیں کیا گیا اور سیزفائر طے ہونے کے بعد سے لبنان میں اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائیاں اور فضائی حملے بھی مسلسل جاری ہیں، جبکہ جواباﹰ حزب اللہ کی طرف سے بھی اسرائیلی فوجیوں پر حملوں کی بار بار کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔

اسرائیل اور لبنان میں امن مذاکرات، مگر اسرائیلی فوجی پیش قدمی بھی جاری

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اپریل کے وسط میں جنوبی لبنان میں تعنیات اسرائیلی فوجیوں‌ سے ملاقات کرتے ہوئے
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اپریل کے وسط میں جنوبی لبنان میں تعنیات اسرائیلی فوجیوں‌ سے ملاقات کرتے ہوئےتصویر: Kobi Gideon/Israel GPO/ZUMA/IMAGO

جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی مزید پیش قدمی: شدید فضائی و زمینی حملے

لبنان جنگ میں اسرائیل اور لبنان نے جس تازہ فائر بندی پر اتفاق کیا تھا، اسے حزب اللہ کی طرف سے یہ کہہ کر مسترد کیا جا چکا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیلی فوج لبنان کے وہ تمام ریاستی علاقے خالی کرے، جن پر اس کا قبضہ ہے یا جہاں وہ موجود ہے۔

https://p.dw.com/p/5Ex6i
آبنائے ہرمز کی طرف لانچ کیے گئے چار ایرانی ڈرونز اور متعدد میزائل تباہ کر دیے، امریکی فوج سیکشن پر جائیں
6 جون 2026

آبنائے ہرمز کی طرف لانچ کیے گئے چار ایرانی ڈرونز اور متعدد میزائل تباہ کر دیے، امریکی فوج

امریکی بحریہ کی طرف سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے دوران آبنائے ہرمز کی فضا میں پرواز کرتے ہوئے امریکی جنگی ہیلی کاپٹر
امریکی بحریہ کی طرف سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے دوران آبنائے ہرمز کی فضا میں پرواز کرتے ہوئے امریکی جنگی ہیلی کاپٹرتصویر: US Central Command/AFP

امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے ہفتہ چھ جون کے روز کہا کہ اس نے ایران کی طرف سے اسٹریٹیجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کی طرف لانچ کیے گئے متعدد بیلسٹک میزائلوں اور چار جنگی ڈرونز کو مار گرایا۔

ایران نے خلیج فارس میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، تہران کا دعویٰ

امریکہ کی فوج کے جاری کردہ ایک بیان میں ہفتے کو علی الصبح کہا گیا کہ یہ چاروں مسلح ڈرونز ایسے تھے جو ’’اپنے ہدف کو نشانہ بناتے ہوئے خود بھی تباہ ہو جاتے ہیں۔‘‘

سینٹ کام کی طرف سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا گیا، ’’ون وے حملوں کے لیے بھیجے گئے یہ ایرانی ڈرونز خطے میں میری ٹائم ٹریفک کے لیے فوری نوعیت کا ایک بڑا خطرہ تھے، جسے ناکام بنا دیا گیا۔‘‘

جنگ کا دباؤ، کیا ایران میں نظام اب بھی مستحکم ہے؟

ایران کا حزب اللہ کی حمایت کا اعادہ، امن کی منزل ہنوز دور

ساتھ ہی امریکی فوج نے مزید کہا کہ اس نے خلیج فارس میں ایرانی جزیرے قشم پر بھی تازہ حملے کیے ہیں اور ایرانی شہر گروک میں ان ریڈار تنصیبات کو بھی ہدف بنایا گیا، جو ایرانی ساحلی علاقوں کی نگرانی کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔

اس سے قبل یو ایس سینٹ کام کی طرف سے ایک مختلف بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ امریکی فوج نے مجموعی طور پر کئی ایسے ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، جو ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کے سمندری علاقے میں اور خطے کی ہمسایہ عرب ریاستوں پر حملوں کے لیے لانچ کیے گئے تھے۔

کویت کے مرکزی ہوائی اڈے پر ایرانی ڈرون حملہ، ایک بھارتی شہری ہلاک اور درجنوں افراد زخمی

سینٹ کام نے ایک بیان میں کہا، ’’ابتدائی اندازوں کے مطابق چھ ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا جبکہ ساتواں ایرانی میزائل اپنے ٹارگٹ تک پہنچنے میں ناکام رہا۔‘‘

https://p.dw.com/p/5EwyX
خلیجی عرب ممالک میں امریکی اڈوں کو پھر نشانہ بنایا گیا، ایرانی پاسداران انقلاب کا دعویٰ سیکشن پر جائیں
وقت اشاعت 6 جون 2026آخری اپ ڈیٹ 6 جون 2026

خلیجی عرب ممالک میں امریکی اڈوں کو پھر نشانہ بنایا گیا، ایرانی پاسداران انقلاب کا دعویٰ

آبنائے ہرمز میں ایرانی جزیرے قشم کے قریب سمندر میں لنگر انداز ایک کنٹینر شپ
آبنائے ہرمز میں ایرانی جزیرے قشم کے قریب سمندر میں لنگر انداز ایک کنٹینر شپتصویر: Asghar Besharati/AP Photo/picture alliance

ایرانی پاسداران انقلاب نے ہفتہ چھ جون کے روز دعویٰ کیا کہ انہوں نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو پھر نشانہ بنایا ہے۔ اس دوران کویت نے ایرانی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا جبکہ بحرین میں فضائی حملے کے خلاف سائرن بجائے گئے۔

تہران سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب اسلامی کور (آئی آر جی سی) نے ہفتے کے دن کہا کہ اس نے خلیج فارس کے خطے میں جو نئے حملے کیے، ان کا ہدف علاقے میں امریکی فوجی اڈے تھے۔

جنگ کا دباؤ، کیا ایران میں نظام اب بھی مستحکم ہے؟

ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے اپنی نشریات میں پاسداران انقلاب کے جاری کردہ ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکہکی فوج کی طرف سے ’’سیریک شہر اور قشم کے جزیرے پر دہشت گردانہ حملوں اور ایک بچے کی ہلاکت کا سبب بننے والی جارحیت کے بعد خطے میں دشمن کے اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔‘‘

ایران کا حزب اللہ کی حمایت کا اعادہ، امن کی منزل ہنوز دور

ایران جنگ کے دوران تہران کی طرف سے بحرین میں کیے گےے ایک گزشتہ ڈرون حملے سے ہونے والے مادی نقصان کی ایک تصویر
ایران جنگ کے دوران تہران کی طرف سے بحرین میں کیے گےے ایک گزشتہ ڈرون حملے سے ہونے والے مادی نقصان کی ایک تصویرتصویر: Hamad I Mohammed/REUTERS

ایرانی ڈرونز کے خلاف کویت کی کارروائی، بحرین میں خطرے کے سائرن

انہی حملوں کے تناظر میں بعد ازاں خلیجی عرب ریاست کویت کی طرف سے کہا گیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ’’جارحانہ‘‘ ڈرونز اور میزائلوں کے خلاف کارروائی کی۔

اسی طرح خلیج فارس کے ایک دوسرے ملک بحرین میں بھی فضائی حملوں سے خبردار کرنے والے سائرن بجانا پڑ گئے۔

حزب اللہ کے سربراہ کا ’جامع‘ جنگ بندی کا مطالبہ

ہفتے کو علی الصبح بحرین میں جب سائرن بجائے گئے، تو ساتھ ہی ملکی وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا، ’’تمام شہریوں اور مقامی رہائشیوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور قریب ترین محفوط جگہوں کا رخ کریں۔‘‘
ادارت: عدنان اسحاق

https://p.dw.com/p/5Ewkx
مزید پوسٹیں
Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔