نئے ایران مخالف امریکی اقدام، موجودہ سیزفائر کا تسلسل مشکوک
وقت اشاعت 20 اپریل 2026آخری اپ ڈیٹ 20 اپریل 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- چین کی امریکہ، جاپان اور فلپائن کی مشترکہ جنگی مشقوں کے خلاف تنبیہ
- روس امریکہ اور ایران کے مابین ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار، کریملن
- غزہ پٹی میں حماس اور اسرائیل کی حمایت یافتہ ملیشیا میں جھڑپیں
- نیتن یاہو کا لبنان میں یسوع مسیح کا مجسمہ توڑنے والے اسرائیلی فوجی کے خلاف ’سخت کارروائی‘ کا عندیہ
- پاکستان نے سوڈان کے ساتھ 1.5 بلین ڈالر کے اسلحہ معاہدے کو مؤخر کیوں کیا؟
- جنگ بندی مذاکرات: فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا، ٹرمپ
- جنگ کے دوران ایران میں 3,300 سے زائد افراد ہلاک
- یوکرین کی خلیجی ممالک کو مدد کی پیش کش محض ’مذاق‘ ہے، ایرانی سفیر
- ایرانی صدر پزشکیان کا سفارت کاری پر زور لیکن امریکہ پر عدم اعتماد کا اظہار بھی
- ایران کے خلاف امریکہ کی تازہ کارروائی کے بعد جنگ بندی کے مستقبل پر سوالیہ نشان
چین کی امریکہ، جاپان اور فلپائن کی مشترکہ جنگی مشقوں کے خلاف تنبیہ
ایسے میں جبکہ امریکہ، فلپائن اور جاپان اپنی مشترکہ سالانہ فوجی مشقیں شروع کر رہے ہیں، چین نے پیر کے روز اس فوجی تعاون کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطے میں اعتماد کو کمزور اور تقسیم کو گہرا کر سکتا ہے۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گوو جیاکن نے بیجنگ میں معمول کی ایک پریس بریفنگ کے دوران ان مشقوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا، ’’ایشیا بحرالکاہل کے خطے کو سب سے زیادہ امن اور سکون کی ضرورت ہے، اور اسے سب سے کم بیرونی قوتوں کی مداخلت درکار ہے جو تقسیم اور محاذ آرائی پیدا کریں۔‘‘
گوو جیاکن نے کہا کہ مختلف ریاستوں کے درمیان فوجی تعاون ایسا نہیں ہونا چاہیے جو خطے کے ممالک کے درمیان باہمی تفہیم اور اعتماد کو نقصان پہنچائے، علاقائی امن و استحکام میں خلل ڈالے، کسی تیسرے فریق کے خلاف ہو یا ان کے مفادات کو نقصان پہنچائے۔
انہوں نے کہا، ’’ہم متعلقہ ممالک کو یہ یاد دلانا چاہتے ہیں کہ سکیورٹی کے معاملے میں ایک دوسرے سے خود کو مسلسل باندھے رکھنا بالآخر خود کو نقصان پہنچانے اور الٹا اثر دکھانے کے مترادف ہو گا۔‘‘
سالانہ ’’بالیکاتان‘‘ یا ’’کندھے سے کندھا ملا کر‘‘ کی جانے والی یہ مشقیں 20 اپریل سے 8 مئی تک جاری رہیں گی۔ ان فوجی مشقوں میں آسٹریلیا کو دوبارہ شامل کیا گیا ہے اور کینیڈا، فرانس، نیوزی لینڈ اور جاپان پہلی بار فعال شرکاء کے طور پر ان میں شامل ہیں۔
روس امریکہ اور ایران کے مابین ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار، کریملن
روس کا کہنا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں ثالث نہیں ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر وہ یہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
ماسکو میں کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے پیر کے روز کہا کہ روس کو امید ہے کہ ایران سے متعلق مذاکرات جاری رہیں گے تاکہ خطے اور عالمی معیشت پر منفی اثرات سے بچا جا سکے۔
پیسکوف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ہم دیکھ سکتے ہیں کہ خلیج فارس میں صورتحال اب بھی نازک اور غیر یقینی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ مذاکراتی عمل جاری رہے گا اور ہم مزید کشیدگی کو فوجی تصادم کی صورت حال تک پہنچنے سے روک سکیں گے۔‘‘
پیسکوف نے کہا کہ روس اس وقت ایران سے متعلق مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا نہیں کر رہا، تاہم اگر اس سے درخواست کی گئی تو وہ تعاون کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا، ’’ہم پرامن حل کو آسان بنانے اور کسی معاہدے تک پہنچنے میں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘ پیسکوف نے کہا کہ روس متعدد مواقع پر پہلے بھی یہ بات کہہ چکا ہے۔
غزہ پٹی میں حماس اور اسرائیل کی حمایت یافتہ ملیشیا میں جھڑپیں
غزہ پٹی کے فلسطینی علاقے میں پیر کے روز حماس کے جنگجوؤں اور اسرائیل کی حمایت یافتہ ایک ملیشیا کے مسلح افراد کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
گزشتہ برس اکتوبر میں شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی فوج غزہ پٹی کے نصف سے زیادہ حصے پر مشتمل ایک خالی کرائے گئے علاقے پر قابض ہے، جبکہ باقی بچ جانے والی تنگ ساحلی پٹی پر حماس کا کنٹرول برقرار ہے۔
مقامی طبی ذرائع کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک 750 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے اس دوران اس کے چار فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزام لگاتے رہے ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس اور دیگر مسلح فلسطینی گروہوں کے حملوں کو روکنے کے لیے کارروائیاں کر رہا ہے۔
پیر کے روز مقامی رہائشی افراد اور حماس کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ غزہ پٹی میں اسرائیل کے زیر کنٹرول علاقے میں سرگرم ایک اسرائیل نواز ملیشیا کے افراد خان یونس کے مشرق میں حماس کے زیر انتظام علاقے میں داخل ہونے کے بعد فلسطینی جنگجوؤں سے ٹکرا گئے۔
جب اس ملیشیا کے افراد واپس ہٹنے کی کوشش کر رہے تھے تو حماس کے ایک جنگجو نے ان کی گاڑی پر ایک اینٹی ٹینک گرینیڈ فائر کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی، تاہم ہلاکتوں یا زخمیوں کے بارے میں فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ملی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان گروہوں کا ابھرنا، اگرچہ وہ ابھی چھوٹے اور مقامی سطح تک محدود ہیں، حماس پر دباؤ میں اضافہ کر رہا ہے اور جنگ سے تباہ حال اور منقسم غزہ پٹی کو مستحکم اور متحد کرنے کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ یہ گروہ اسرائیلی کنٹرول میں کام کرنے کی وجہ سے مقامی آبادی میں زیادہ مقبول نہیں ہیں۔
نیتن یاہو کا لبنان میں یسوع مسیح کا مجسمہ توڑنے والے اسرائیلی فوجی کے خلاف ’سخت کارروائی‘ کا عندیہ
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے پیر کے روز کہا کہ جنوبی لبنان میں یسوع مسیح کے مجسمے کو نقصان پہنچانے والے اسرائیلی فوجی کے خلاف ’’سخت کارروائی‘‘ کی جائے گی۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔
اس ویڈیو میں، جس کی آئی ڈی ایف نے تصدیق کی ہے، ایک اسرائیلی فوجی کو ہتھوڑے سے یسوع مسیح کے ایک مجسمے کے سر پر ضرب لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ مجسمہ جنوبی لبنان کے مسیحی گاؤں ڈبل میں واقع ہے، جو اسرائیل کے ساتھ سرحد کے قریب ہے۔ بینجمن نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’مجھے یہ جان کر شدید صدمہ اور افسوس ہوا کہ اسرائیلی فوج کے ایک اہلکار نے جنوبی لبنان میں ایک کیتھولک مذہبی علامت کو نقصان پہنچایا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’میں اس عمل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ فوجی حکام اس معاملے کی فوجداری تحقیقات کر رہے ہیں اور ذمہ دار شخص کے خلاف مناسب اور سخت تادیبی کارروائی کریں گے۔‘‘
اسرائیلی فوج نے اپنی تحقیقات کے بعد کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر حقیقی ہے اور کہا کہ اس میں ملوث افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی، تاہم اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔ ساتھ ہی فوج نے یہ بھی کہا کہ وہ مقامی کمیونٹی کے ساتھ مل کر مجسمے کو دوبارہ اس کی جگہ پر نصب کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
پاکستان نے سوڈان کے ساتھ 1.5 بلین ڈالر کے اسلحہ معاہدے کو مؤخر کیوں کیا؟
نیوز ایجنسی روئٹرز نے دو پاکستانی سکیورٹی ذرائع اور ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ سعودی عرب نے اس معاہدے کو ختم کرنے کی درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اس خریداری کی مالی معاونت نہیں کرے گا۔
اس معاہدے کے تحت پاکستان کو سوڈان کو 1.5 بلین ڈالر مالیت کا اسلحہ اور جنگی طیارے فراہم کرنا تھے۔
پہلی بار جنوری میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ یہ معاہدہ آخری مراحل میں ہے اور اسے سعودی عرب کی ثالثی سے طے کیا گیا تھا، تاہم اس وقت ریاض کی مالی معاونت کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
ایک سکیورٹی ذریعے نے کہا، ’’سعودی عرب نے اشارہ دیا ہے کہ پاکستان کو یہ معاہدہ ختم کر دینا چاہیے کیونکہ اس نے اس کی مالی معاونت کا خیال ترک کر دیا ہے۔‘‘
سعودی حکومت کے میڈیا دفتر نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جبکہ سوڈان کی مسلح افواج نے بھی روئٹرز کے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔
پاکستانی فوج نے بھی اس خبر پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس سے پہلے فوج اور فضائیہ نے اس معاہدے کی باضابطہ تصدیق بھی نہیں کی تھی۔
ایک ذریعے نے مزید بتایا کہ بعض مغربی ممالک نے سعودی عرب کو مشورہ دیا تھا کہ وہ افریقہ میں پراکسی جنگوں سے دور رہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات خطے کے مختلف تنازعات میں اکثر مخالف فریقوں کی حمایت کرتے رہے ہیں، جن میں سوڈان بھی شامل ہے۔
سوڈان کی فوج اور نیم فوجی دستوں ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جاری تنازعہ تقریباً تین سال سے دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کو جنم دے چکا ہے۔ اس جنگ نے بیرونی طاقتوں کے مفادات کے ٹکراؤ کو بھی بڑھایا ہے اور خدشہ پیدا کر دیا ہے کہ بحیرۂ احمر کے کنارے واقع یہ ملک، جہاں سونے کے بڑے ذخائر ہیں، ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتا ہے۔
جنگ بندی مذاکرات: فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا، ٹرمپ
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک پاکستانی سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیرسے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔
اس ذریعے نے بتایا کہ اس گفتگو کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہا کہ وہ ایران کے ساتھ امن مذاکرات میں رکاوٹ بننے والی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے معاملے پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مشورے پر غور کریں گے۔
اس پاکستانی سکیورٹی ذریعے کے مطابق عاصم منیر نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی ایران کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
گیارہ اپریل کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی بالمشافہ امن بات چیت میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر ان دو پاکستانی ثالثوں میں سے ایک تھے، جو مذاکرات کے دوران کمرے میں موجود تھے۔
ایک پاکستانی عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، ’’ایسے حالات میں فیصلے سیاسی قیادت نہیں بلکہ فوجی قیادت کرتی ہے۔‘‘
اس عہدیدار کے مطابق عاصم منیر کے ایران کے حالیہ دورے کا دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار انتہائی اہم ہے۔
اس پاکستانی اہلکار نے مزید کہا، ’’وہ واحد شخصیت ہیں جو ایرانی قیادت کو معاہدے پر آمادہ کر سکتے ہیں، اور اس کی وجہ دونوں طرف موجود اعتماد کی اونچی سطح ہے۔‘‘
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران نے ابھی تک امریکہ کے ساتھ کسی بھی مذاکراتی عمل میں دوبارہ شرکت کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا۔
بقائی کا یہ بیان امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی کارگو شپ کے اپنے قبضے میں لے لیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
جنگ کے دوران ایران میں 3,300 سے زائد افراد ہلاک
ایران نے پیر 20 اپریل کے روز اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جاری اپنی جنگ میں ہلاکتوں کی ایک نئی تعداد جاری کی، جس کے مطابق ایران میں اب تک کم از کم 3,375 افراد اس تنازعے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ تعداد ایران کی فورینزک میڈیسن کی ملکی تنظیم کے سربراہ عباس مسجدی نے جاری کی۔
ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان اور دیگر ذرائع کے مطابق مسجدی نے پیر کے روز بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے صرف چار افراد کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی۔
انہوں نے ان ہلاکتوں کی تفصیل شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان الگ الگ بیان نہیں کی، بلکہ صرف یہ بتایا کہ 2,875 مرد اور 496 خواتین ہلاک ہوئیں۔
مسجدی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 383 بچے بھی شامل ہیں، جن کی عمریں 18 سال یا اس سے کم تھیں۔
ان اعداد و شمار میں مارے جانے والے ایرانی سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، تاہم یہ بات واضح ہے کہ ان میں اس لیے بڑی تعداد ملکی سکیورٹی فورسز کے ارکان کی بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ امریکہ اور اسرائیل نے موجودہ جنگ بندی سے پہلے تک ایران میں فوجی اڈوں اور اسلحے کے گوداموں کو شدید بمباری کا نشانہ بنایا تھا۔
یوکرین کی خلیجی ممالک کو مدد کی پیش کش محض ’مذاق‘ ہے، ایرانی سفیر
یوکرین میں ایران کے ایلچی شہریار آموزگار نے امریکہ اور اس کے خلیجی اتحادیوں کے لیے کییف حکومت کی جانب سے مدد کی پیش کش کو ’’مذاق اور نمائشی اقدام‘‘ قرار دیا ہے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب یوکرین نے روس کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ایران کے تیار کردہ ڈرونز کو تباہ کرنے میں اپنی مہارت کا ذکر کیا۔
آموزگار نے اے ایف پی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا، ’’جہاں تک مشرق وسطیٰ میں ڈرونز کے خلاف یوکرین کی کارروائیوں کا تعلق ہے، ہم انہیں دراصل ایک مذاق اور محض نمائشی قدم سمجھتے ہیں۔‘‘
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے جواب میں تہران نے حالیہ عرصے میں خطے کے مختلف ممالک پر ڈرون حملے کیے ہیں۔
یوکرین نے 2022 میں تہران کی جانب سے روس کو شاہد طرز کے ڈرونز فراہم کرنے کے ردعمل میں ایرانی سفارتی مشن کو محدود کر دیا تھا۔
یوکرین کو، جس کی اپنے ہاں روسی فوجی مداخلت کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ اب اپنے پانچویں سال میں ہے، تقریباً روزانہ ہی ایران کے ڈیزائن کردہ جنگی ڈرونز سے کیے جانے والے حملوں کا سامنا ہے۔ یوکرین نے کہا تھا کہ اس نے اپنے تجربہ کار ڈرون ماہرین خلیجی ممالک کو بھیجے ہیں، جہاں ایسے ہی خطرات موجود ہیں۔
آموزگار نے کہا، ’’بدقسمتی سے یوکرین اب ہمارے ساتھ براہ راست محاذ آرائی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، یعنی اس نے خود کو ہمارے دشمنوں کے ساتھ کھڑا کر لیا ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے روس کے یوکرین پر کیے جانے والے حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران یوکرین کی علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے۔
ایرانی صدر پزشکیان کا سفارت کاری پر زور لیکن امریکہ پر عدم اعتماد کا اظہار بھی
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پیر کے روز کہا کہ امریکہ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر معقول اور سفارتی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں چوکس رہنا اور عدم اعتماد بھی ’’ناقابل تردید ضرورت‘‘ ہیں۔ یہ خبر ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے دی۔
ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی بدھ کے روز ختم ہونے والی ہے۔ اسی دوران امریکی نمائندوں کے پیر کے روز اسلام آباد پہنچنے کی توقع ہے تاکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کیے جا سکیں، جبکہ تہران نے ابھی تک یہ اعلان نہیں کیا کہ آیا وہ پاکستان میں ان مذاکرات کے لیے اپنا کوئی وفد بھیجے گا یا نہیں۔
اتوار کے روز ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا، ’’تہران کا فی الحال ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور میں شرکت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔‘‘
ایرانی خبر رساں اداروں فارس اور تسنیم نے اس سے پہلے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کے خواہش مند ملکی ذرائع کے حوالے سے کہا تھا کہ ’’مجموعی ماحول کو بہت مثبت قرار نہیں دیا جا سکتا‘‘ اور ساتھ ہی یہ بھی کہ ان مذاکرات کے لیے آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ ایک بنیادی شرط ہے۔
نئے ایران مخالف امریکی اقدام، موجودہ سیزفائر کا تسلسل مشکوک
خطے میں زیادہ پائیدار امن قائم کرنے کی کوششیں غیر یقینی دکھائی دے رہی ہیں، کیونکہ ایران نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت نہیں کرے گا، جسے امریکہ جنگ بندی کے منگل کے روز ختم ہونے سے پہلے شروع کرنا چاہتا تھا۔
امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر اپنی پابندی پہلے ہٹائی اور پھر دوبارہ نافذ کر دی ہے۔ عام طور پر اس آبنائے سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برآمدی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
اس دوران کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب امریکی فوج نے کہا کہ اس نے اتوار کو ایران کی بندر عباس نامی بندرگاہ کی طرف جانے والے اور ایرانی پرچم والے ایک کارگو شپ پر فائرنگ کی، جس سے اس کے انجن ناکارہ ہو گئے۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ چھ گھنٹے کی کارروائی کے بعد امریکی میرینز ہیلی کاپٹروں سے رسیوں کے ذریعے جہاز پر اترے۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’’اب اس جہاز پر ہمارا مکمل قبضہ ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس میں کیا موجود ہے۔‘‘
ایران کا ردعمل
ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ یہ جہاز چین سے سفر کر کے آ رہا تھا۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایک فوجی ترجمان نے کہا، ’’ہم خبردار کرتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج جلد ہی امریکی فوج کی اس مسلح بحری قذاقی کا جواب دیں گی اور جوابی کارروائی کریں گی۔‘‘
ترجمان نے امریکہ پر الزام لگایا کہ اس نے آٹھ اپریل سے نافذ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔
اس جنگ بندی کے ممکنہ طور پر ناکام ہو جانے اور خلیج فارس میں بھری تجارتی آمد و رفت انتہائی محدود ہو جانے کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہو گیا جبکہ اسٹاک مارکیٹوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔
ایران نے امن مذاکرات مسترد کر دیے
ایران کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ تہران نے نئے امن مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔ اس کی وجہ آبنائے ہرمز کی ابھی تک جاری امریکی ناکہ بندی، دھمکی آمیز بیانات، واشنگٹن کا بدلتا ہوا موقف اور ’’ضرورت سے زیادہ مطالبات ‘‘ بتائے گئے ہیں۔
ایران کے اول نائب صدر محمد رضا عارف نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’’ایران کی تیل کی برآمدات کو محدود نہیں کیا جا سکتا جبکہ دوسروں کے لیے آزاد سکیورٹی کی توقع کی جائے۔ انتخاب واضح ہے: یا تو سب کے لیے آزاد تیل کی منڈی ہو گی، یا پھر سب کو ہی بھاری قیمت چکانے کا خطرہ ہو گا۔‘‘
امریکی صدر ٹرمپ اس سے پہلے ایران کو خبردار کر چکے ہیں کہ اگر تہران نے ان کی شرائط مسترد کیں تو امریکہ ایران کے تمام پلوں اور بجلی گھروں کو تباہ کر دے گا۔ ایران نے بھی خلیجی عرب ممالک میں امریکی مفادات کو دوبارہ نشانہ بنانے کی جوابی دھمکی دی ہے۔
ایسے مذاکرات کی تیاری جو شاید نہ ہوں
دریں اثنا پاکستان، جو اس تنازعے میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، مذاکرات کی تیاری کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اتوار کی دوپہر دو بڑے امریکی سی–17 کارگو طیارے ایک فضائی اڈے پر اترے جن میں سکیورٹی کا سامان اور گاڑیاں لائی گئیں، تاکہ امریکی وفد کی آمد کی تیاری کی جا سکے۔ یہ بات دو پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے بتائی۔
پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی حکام نے شہر کے اندر عوامی ٹرانسپورٹ اور بھاری گاڑیوں کی آمد و رفت عارضی طور پر روک دی ہے۔ سرینا ہوٹل کے قریب خاردار تاریں لگا دی گئیں، جہاں گزشتہ ہفتے مذاکرات ہوئے تھے۔ اس ہوٹل نے اپنے تمام مہمانوں کو اپنے کمرے خالی کر دینے کے لیے کہہ دیا ہے۔
امریکی صدر رمپ نے کہا ہے کہ ان کے نمائندے پیر کی شام اسلام آباد پہنچیں گے، جبکہ ایران جنگ میں دو ہفتوں کی موجودہ جنگ بندی کی مدت بدھ 22 اپریل کو پوری ہونے والی ہے۔
ادارت: مقبول ملک