1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

نئے ایران مخالف امریکی اقدام، موجودہ سیزفائر کا تسلسل مشکوک

جاوید اختر اے پی، روئٹرز، اے ایف پی اور ڈی پی اے کے ساتھ
وقت اشاعت 20 اپریل 2026آخری اپ ڈیٹ 20 اپریل 2026

پیر کے روز اس بات پر تشویش بڑھ گئی کہ آیا امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی برقرار رہ سکے گی؟ امریکہ نے ایک مال بردار ایرانی بحری جہاز قبضے میں لے لیا ہے جبکہ تہران نے جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/5CTKG
پاکستان میں ممکنہ امن مذاکرات کی تیاریوں کے باوجود یہ تشویش بڑھ گئی ہے کہ آیا ایران جنگ میں فائر بندی جاری رہ سکے گی
پاکستان میں ممکنہ امن مذاکرات کی تیاریوں کے باوجود یہ تشویش بڑھ گئی ہے کہ آیا ایران جنگ میں فائر بندی جاری رہ سکے گیتصویر: Anjum Naveed/AP Photo/picture alliance
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • چین کی امریکہ، جاپان اور فلپائن کی مشترکہ جنگی مشقوں  کے خلاف تنبیہ
  • روس امریکہ اور ایران کے مابین ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار، کریملن
  • غزہ پٹی میں حماس اور اسرائیل کی حمایت یافتہ ملیشیا میں جھڑپیں
  • نیتن یاہو کا لبنان میں یسوع مسیح کا مجسمہ توڑنے والے اسرائیلی فوجی کے خلاف ’سخت کارروائی‘ کا عندیہ
  • پاکستان نے سوڈان کے ساتھ 1.5 بلین ڈالر کے اسلحہ معاہدے کو مؤخر کیوں کیا؟
  • جنگ بندی مذاکرات: فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا، ٹرمپ 
  • جنگ کے دوران ایران میں 3,300 سے زائد افراد ہلاک
  • یوکرین کی خلیجی ممالک کو مدد کی پیش کش محض ’مذاق‘ ہے، ایرانی سفیر
  • ایرانی صدر پزشکیان کا سفارت کاری پر زور لیکن امریکہ پر عدم اعتماد کا اظہار بھی
  • ایران کے خلاف امریکہ کی تازہ کارروائی کے بعد جنگ بندی کے مستقبل پر سوالیہ نشان
چین کی امریکہ، جاپان اور فلپائن کی مشترکہ جنگی مشقوں کے خلاف تنبیہ سیکشن پر جائیں
20 اپریل 2026

چین کی امریکہ، جاپان اور فلپائن کی مشترکہ جنگی مشقوں کے خلاف تنبیہ

ان فوجی مشقوں میں آسٹریلیا کو دوبارہ شامل کیا گیا ہے اور کینیڈا، فرانس، نیوزی لینڈ اور جاپان پہلی بار فعال شرکاء کے طور پر ان میں شامل ہیں
ان فوجی مشقوں میں آسٹریلیا کو دوبارہ شامل کیا گیا ہے اور کینیڈا، فرانس، نیوزی لینڈ اور جاپان پہلی بار فعال شرکاء کے طور پر ان میں شامل ہیںتصویر: AP Photo/picture alliance

ایسے میں جبکہ امریکہ، فلپائن اور جاپان اپنی مشترکہ سالانہ فوجی مشقیں شروع کر رہے ہیں، چین نے پیر کے روز اس فوجی تعاون کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطے میں اعتماد کو کمزور اور تقسیم کو گہرا کر سکتا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گوو جیاکن نے بیجنگ میں معمول کی ایک پریس بریفنگ کے دوران ان مشقوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا، ’’ایشیا بحرالکاہل کے خطے کو سب سے زیادہ امن اور سکون کی ضرورت ہے، اور اسے سب سے کم بیرونی قوتوں کی مداخلت درکار ہے جو تقسیم اور محاذ آرائی پیدا کریں۔‘‘

گوو جیاکن نے کہا کہ مختلف ریاستوں کے درمیان فوجی تعاون ایسا نہیں ہونا چاہیے جو خطے کے ممالک کے درمیان باہمی تفہیم اور اعتماد کو نقصان پہنچائے، علاقائی امن و استحکام میں خلل ڈالے، کسی تیسرے فریق کے خلاف ہو یا ان کے مفادات کو نقصان پہنچائے۔

انہوں نے کہا، ’’ہم متعلقہ ممالک کو یہ یاد دلانا چاہتے ہیں کہ سکیورٹی کے معاملے میں ایک دوسرے سے خود کو مسلسل باندھے رکھنا بالآخر خود کو نقصان پہنچانے اور الٹا اثر دکھانے کے مترادف ہو گا۔‘‘

سالانہ ’’بالیکاتان‘‘ یا ’’کندھے سے کندھا ملا کر‘‘ کی جانے والی یہ مشقیں 20 اپریل سے 8 مئی تک جاری رہیں گی۔ ان فوجی مشقوں میں آسٹریلیا کو دوبارہ شامل کیا گیا ہے اور کینیڈا، فرانس، نیوزی لینڈ اور جاپان پہلی بار فعال شرکاء کے طور پر ان میں شامل ہیں۔

https://p.dw.com/p/5CX8L
روس امریکہ اور ایران کے مابین ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار، کریملن سیکشن پر جائیں
20 اپریل 2026

روس امریکہ اور ایران کے مابین ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار، کریملن

پیسکوف
پیسکوف نے کہا کہ روس اس وقت ایران سے متعلق مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا نہیں کر رہا، تاہم اگر اس سے درخواست کی گئی تو وہ تعاون کے لیے تیار ہےتصویر: Mikhail Tereshchenko/TASS/ZUMA/picture alliance

روس کا کہنا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں ثالث نہیں ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر وہ یہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

ماسکو میں کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے پیر کے روز کہا کہ روس کو امید ہے کہ ایران سے متعلق مذاکرات جاری رہیں گے تاکہ خطے اور عالمی معیشت پر منفی اثرات سے بچا جا سکے۔

پیسکوف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ہم دیکھ سکتے ہیں کہ خلیج فارس میں صورتحال اب بھی نازک اور غیر یقینی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ مذاکراتی عمل جاری رہے گا اور ہم مزید کشیدگی کو فوجی تصادم کی صورت حال تک پہنچنے سے روک سکیں گے۔‘‘

پیسکوف نے کہا کہ روس اس وقت ایران سے متعلق مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا نہیں کر رہا، تاہم اگر اس سے درخواست کی گئی تو وہ تعاون کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا، ’’ہم پرامن حل کو آسان بنانے اور کسی معاہدے تک پہنچنے میں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘ پیسکوف نے کہا کہ روس متعدد مواقع پر پہلے بھی یہ بات کہہ چکا ہے۔

https://p.dw.com/p/5CWmy
غزہ پٹی میں حماس اور اسرائیل کی حمایت یافتہ ملیشیا میں جھڑپیں سیکشن پر جائیں
20 اپریل 2026

غزہ پٹی میں حماس اور اسرائیل کی حمایت یافتہ ملیشیا میں جھڑپیں

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس اور دیگر مسلح فلسطینی گروہوں کے حملوں کو روکنے کے لیے کارروائیاں کر رہا ہے
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس اور دیگر مسلح فلسطینی گروہوں کے حملوں کو روکنے کے لیے کارروائیاں کر رہا ہےتصویر: Omar Al-Qattaa/AFP

غزہ پٹی کے فلسطینی علاقے میں پیر کے روز حماس کے جنگجوؤں اور اسرائیل کی حمایت یافتہ ایک ملیشیا کے مسلح افراد کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ 

گزشتہ برس اکتوبر میں شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی فوج غزہ پٹی کے نصف سے زیادہ حصے پر مشتمل ایک خالی کرائے گئے علاقے پر قابض ہے، جبکہ باقی بچ جانے والی تنگ ساحلی پٹی پر حماس کا کنٹرول برقرار ہے۔

مقامی طبی ذرائع کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک 750 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے اس دوران اس کے چار فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزام لگاتے رہے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس اور دیگر مسلح فلسطینی گروہوں کے حملوں کو روکنے کے لیے کارروائیاں کر رہا ہے۔

پیر کے روز مقامی رہائشی افراد اور حماس کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ غزہ پٹی میں اسرائیل کے زیر کنٹرول علاقے میں سرگرم ایک اسرائیل نواز ملیشیا کے افراد خان یونس کے مشرق میں حماس کے زیر انتظام علاقے میں داخل ہونے کے بعد فلسطینی جنگجوؤں سے ٹکرا گئے۔

جب اس ملیشیا کے افراد واپس ہٹنے کی کوشش کر رہے تھے تو حماس کے ایک جنگجو نے ان کی گاڑی پر ایک اینٹی ٹینک گرینیڈ فائر کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی، تاہم ہلاکتوں یا زخمیوں کے بارے میں فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ملی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان گروہوں کا ابھرنا، اگرچہ وہ ابھی چھوٹے اور مقامی سطح تک محدود ہیں، حماس پر دباؤ میں اضافہ کر رہا ہے اور جنگ سے تباہ حال اور منقسم غزہ پٹی کو مستحکم اور متحد کرنے کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ یہ گروہ اسرائیلی کنٹرول میں کام کرنے کی وجہ سے مقامی آبادی میں زیادہ مقبول نہیں ہیں۔

https://p.dw.com/p/5CVm9
نیتن یاہو کا لبنان میں یسوع مسیح کا مجسمہ توڑنے والے اسرائیلی فوجی کے خلاف ’سخت کارروائی‘ کا عندیہ سیکشن پر جائیں
20 اپریل 2026

نیتن یاہو کا لبنان میں یسوع مسیح کا مجسمہ توڑنے والے اسرائیلی فوجی کے خلاف ’سخت کارروائی‘ کا عندیہ

یہ مجسمہ جنوبی لبنان کے مسیحی گاؤں ڈبل میں واقع ہے، جو اسرائیل کے ساتھ  سرحد کے قریب ہے
یہ مجسمہ جنوبی لبنان کے مسیحی گاؤں ڈبل میں واقع ہے، جو اسرائیل کے ساتھ  سرحد کے قریب ہےتصویر: Social Media/REUTERS

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے پیر کے روز کہا کہ جنوبی لبنان میں یسوع مسیح کے مجسمے کو نقصان پہنچانے والے اسرائیلی فوجی کے خلاف ’’سخت کارروائی‘‘ کی جائے گی۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔

اس ویڈیو میں، جس کی آئی ڈی ایف نے تصدیق کی ہے، ایک اسرائیلی فوجی کو ہتھوڑے سے یسوع مسیح کے ایک مجسمے کے سر پر ضرب لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ 

یہ مجسمہ جنوبی لبنان کے مسیحی گاؤں ڈبل میں واقع ہے، جو اسرائیل کے ساتھ  سرحد کے قریب ہے۔ بینجمن نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’مجھے یہ جان کر شدید صدمہ اور افسوس ہوا کہ اسرائیلی فوج کے ایک اہلکار نے جنوبی لبنان میں ایک کیتھولک مذہبی علامت کو نقصان پہنچایا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’میں اس عمل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ فوجی حکام اس معاملے کی فوجداری تحقیقات کر رہے ہیں اور ذمہ دار شخص کے خلاف مناسب اور سخت تادیبی کارروائی کریں گے۔‘‘

اسرائیلی فوج نے اپنی تحقیقات کے بعد کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر حقیقی ہے اور کہا کہ اس میں ملوث افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی، تاہم اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔ ساتھ ہی فوج نے یہ بھی کہا کہ وہ مقامی کمیونٹی کے ساتھ مل کر مجسمے کو دوبارہ اس کی جگہ پر نصب کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

https://p.dw.com/p/5CVln
پاکستان نے سوڈان کے ساتھ 1.5 بلین ڈالر کے اسلحہ معاہدے کو مؤخر کیوں کیا؟ سیکشن پر جائیں
20 اپریل 2026

پاکستان نے سوڈان کے ساتھ 1.5 بلین ڈالر کے اسلحہ معاہدے کو مؤخر کیوں کیا؟

جنوری میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ یہ معاہدہ آخری مراحل میں ہے اور اسے سعودی عرب کی ثالثی سے طے کیا گیا تھا
جنوری میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ یہ معاہدہ آخری مراحل میں ہے اور اسے سعودی عرب کی ثالثی سے طے کیا گیا تھاتصویر: Yu Ming Bj/imaginechina/picture alliance

نیوز ایجنسی روئٹرز نے دو پاکستانی سکیورٹی ذرائع اور ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ سعودی عرب نے اس معاہدے کو ختم کرنے کی درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اس خریداری کی مالی معاونت نہیں کرے گا۔

اس معاہدے کے تحت پاکستان کو سوڈان کو 1.5 بلین ڈالر مالیت کا اسلحہ اور جنگی طیارے فراہم کرنا تھے۔

پہلی بار جنوری میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ یہ معاہدہ آخری مراحل میں ہے اور اسے سعودی عرب کی ثالثی سے طے کیا گیا تھا، تاہم اس وقت ریاض کی مالی معاونت کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔

ایک سکیورٹی ذریعے نے کہا، ’’سعودی عرب نے اشارہ دیا ہے کہ پاکستان کو یہ معاہدہ ختم کر دینا چاہیے کیونکہ اس نے اس کی مالی معاونت کا خیال ترک کر دیا ہے۔‘‘

سوڈان کی فوج اور نیم فوجی دستوں ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جاری تنازعہ تقریباً تین سال سے دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کو جنم دے چکا ہے
سوڈان کی فوج اور نیم فوجی دستوں ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جاری تنازعہ تقریباً تین سال سے دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کو جنم دے چکا ہےتصویر: Marco Simoncelli

سعودی حکومت کے میڈیا دفتر نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جبکہ سوڈان کی مسلح افواج نے بھی روئٹرز کے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔

پاکستانی فوج نے بھی اس خبر پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس سے پہلے فوج اور فضائیہ نے اس معاہدے کی باضابطہ تصدیق بھی نہیں کی تھی۔

ایک ذریعے نے مزید بتایا کہ بعض مغربی ممالک نے سعودی عرب کو مشورہ دیا تھا کہ وہ افریقہ میں پراکسی جنگوں سے دور رہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات خطے کے مختلف تنازعات میں اکثر مخالف فریقوں کی حمایت کرتے رہے ہیں، جن میں سوڈان بھی شامل ہے۔

سوڈان کی فوج اور نیم فوجی دستوں ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جاری تنازعہ تقریباً تین سال سے دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کو جنم دے چکا ہے۔ اس جنگ نے بیرونی طاقتوں کے مفادات کے ٹکراؤ کو بھی بڑھایا ہے اور خدشہ پیدا کر دیا ہے کہ بحیرۂ احمر کے کنارے واقع یہ ملک، جہاں سونے کے بڑے ذخائر ہیں، ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتا ہے۔

https://p.dw.com/p/5CVck
جنگ بندی مذاکرات: فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا، ٹرمپ سیکشن پر جائیں
20 اپریل 2026

جنگ بندی مذاکرات: فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا، ٹرمپ

عاصم منیر، صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم شہباز شریف
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی ایران کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔تصویر: Government of Pakistan

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک پاکستانی سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیرسے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔ 

اس ذریعے نے بتایا کہ اس گفتگو کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہا کہ وہ ایران کے ساتھ امن مذاکرات میں رکاوٹ بننے والی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے معاملے پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مشورے پر غور کریں گے۔

اس پاکستانی سکیورٹی ذریعے کے مطابق عاصم منیر نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی ایران کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

گیارہ اپریل کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی بالمشافہ امن بات چیت میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر ان دو پاکستانی ثالثوں میں سے ایک تھے، جو مذاکرات کے دوران کمرے میں موجود تھے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی فیلڈ مارشل عاصم منیر کا استقبال کرتے ہوئے
عاصم منیر کے ایران کے حالیہ دورے کو دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم قرار دیا جا رہا ہےتصویر: Abbas Araghchi/Telegram/AP Photo/picture alliance

ایک پاکستانی عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، ’’ایسے حالات میں فیصلے سیاسی قیادت نہیں بلکہ فوجی قیادت کرتی ہے۔‘‘

اس عہدیدار کے مطابق عاصم منیر کے ایران کے حالیہ دورے کا دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار انتہائی اہم ہے۔

اس پاکستانی اہلکار نے مزید کہا، ’’وہ واحد شخصیت ہیں جو ایرانی قیادت کو معاہدے پر آمادہ کر سکتے ہیں، اور اس کی وجہ دونوں طرف موجود اعتماد کی اونچی سطح ہے۔‘‘

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران نے ابھی تک امریکہ کے ساتھ کسی بھی مذاکراتی عمل میں دوبارہ شرکت کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا۔

بقائی کا یہ بیان امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی کارگو شپ کے اپنے قبضے میں لے لیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
 

https://p.dw.com/p/5CU9S
جنگ کے دوران ایران میں 3,300 سے زائد افراد ہلاک سیکشن پر جائیں
20 اپریل 2026

جنگ کے دوران ایران میں 3,300 سے زائد افراد ہلاک

 میناب میں ان افراد کی نماز جنازہ میں شرکا کا ہجوم جو 28 فروری کو ایک لڑکیوں کے اسکول پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہوئے
مسجدی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 383 بچے بھی شامل ہیں، جن کی عمریں 18 سال یا اس سے کم تھیںتصویر: Abbas Zakeri/Mehr News Agency/AP Photo/picture alliance

ایران نے پیر 20 اپریل کے روز اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جاری اپنی جنگ میں ہلاکتوں کی ایک نئی تعداد جاری کی، جس کے مطابق ایران میں اب تک کم از کم 3,375 افراد اس تنازعے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ تعداد ایران کی فورینزک میڈیسن کی ملکی تنظیم کے سربراہ عباس مسجدی نے جاری کی۔

ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان اور دیگر ذرائع کے مطابق مسجدی نے پیر کے روز بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے صرف چار افراد کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی۔

انہوں نے ان ہلاکتوں کی تفصیل شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان الگ الگ بیان نہیں کی، بلکہ صرف یہ بتایا کہ 2,875 مرد اور 496 خواتین ہلاک ہوئیں۔

مسجدی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 383 بچے بھی شامل ہیں، جن کی عمریں 18 سال یا اس سے کم تھیں۔

ان اعداد و شمار میں مارے جانے والے ایرانی سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، تاہم یہ بات واضح ہے کہ ان میں اس لیے بڑی تعداد ملکی سکیورٹی فورسز کے ارکان کی بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ امریکہ اور اسرائیل نے موجودہ جنگ بندی سے پہلے تک ایران میں فوجی اڈوں اور اسلحے کے گوداموں کو شدید بمباری کا نشانہ بنایا تھا۔

https://p.dw.com/p/5CU2P
یوکرین کی خلیجی ممالک کو مدد کی پیش کش محض ’مذاق‘ ہے، ایرانی سفیر سیکشن پر جائیں
20 اپریل 2026

یوکرین کی خلیجی ممالک کو مدد کی پیش کش محض ’مذاق‘ ہے، ایرانی سفیر

ایک یوکرینی فوجی ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے
یوکرین کو روس کی طرف سے تقریباً روزانہ ہی ایران کے ڈیزائن کردہ جنگی ڈرونز سے کیے جانے والے حملوں کا سامنا ہےتصویر: Ashley Chan/ZUMA/IMAGO

یوکرین میں ایران کے ایلچی شہریار آموزگار نے امریکہ اور اس کے خلیجی اتحادیوں کے لیے کییف حکومت کی جانب سے مدد کی پیش کش کو ’’مذاق اور نمائشی اقدام‘‘ قرار دیا ہے۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب یوکرین نے روس کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ایران کے تیار کردہ ڈرونز کو تباہ کرنے میں اپنی مہارت کا ذکر کیا۔

آموزگار نے اے ایف پی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا، ’’جہاں تک مشرق وسطیٰ میں ڈرونز کے خلاف یوکرین کی کارروائیوں کا تعلق ہے، ہم انہیں دراصل ایک مذاق اور محض نمائشی قدم سمجھتے ہیں۔‘‘

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے جواب میں تہران نے حالیہ عرصے میں خطے کے مختلف ممالک پر ڈرون حملے کیے ہیں۔

یوکرین نے 2022 میں تہران کی جانب سے روس کو شاہد طرز کے ڈرونز فراہم کرنے کے ردعمل میں ایرانی سفارتی مشن کو محدود کر دیا تھا۔ 

یوکرین کو، جس کی اپنے ہاں روسی فوجی مداخلت کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ اب اپنے پانچویں سال میں ہے، تقریباً روزانہ ہی ایران کے ڈیزائن کردہ جنگی ڈرونز سے کیے جانے والے حملوں کا سامنا ہے۔ یوکرین نے کہا تھا کہ اس نے اپنے تجربہ کار ڈرون ماہرین خلیجی ممالک کو بھیجے ہیں، جہاں ایسے ہی خطرات موجود ہیں۔

آموزگار نے کہا، ’’بدقسمتی سے یوکرین اب ہمارے ساتھ براہ راست محاذ آرائی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، یعنی اس نے خود کو ہمارے دشمنوں کے ساتھ کھڑا کر لیا ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے روس کے یوکرین پر کیے جانے والے حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران یوکرین کی علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے۔

https://p.dw.com/p/5CTyf
ایرانی صدر پزشکیان کا سفارت کاری پر زور لیکن امریکہ پر عدم اعتماد کا اظہار بھی سیکشن پر جائیں
20 اپریل 2026

ایرانی صدر پزشکیان کا سفارت کاری پر زور لیکن امریکہ پر عدم اعتماد کا اظہار بھی

ایرانی صدر مسعود پزشکیان
تہران نے ابھی تک یہ اعلان نہیں کیا کہ آیا وہ پاکستان میں ان مذاکرات کے لیے اپنا کوئی وفد بھیجے گا یا نہیںتصویر: Iranian Presidency/ZUMA/picture alliance

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پیر کے روز کہا کہ امریکہ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر معقول اور سفارتی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں چوکس رہنا اور عدم اعتماد بھی ’’ناقابل تردید ضرورت‘‘ ہیں۔ یہ خبر ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے دی۔

ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی بدھ کے روز ختم ہونے والی ہے۔ اسی دوران امریکی نمائندوں کے پیر کے روز اسلام آباد پہنچنے کی توقع ہے تاکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کیے جا سکیں، جبکہ تہران نے ابھی تک یہ اعلان نہیں کیا کہ آیا وہ پاکستان میں ان مذاکرات کے لیے اپنا کوئی وفد بھیجے گا یا نہیں۔

اتوار کے روز ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا، ’’تہران کا فی الحال ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور میں شرکت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔‘‘

ایرانی خبر رساں اداروں فارس اور تسنیم نے اس سے پہلے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کے خواہش مند ملکی ذرائع کے حوالے سے کہا تھا کہ ’’مجموعی ماحول کو بہت مثبت قرار نہیں دیا جا سکتا‘‘ اور ساتھ ہی یہ بھی کہ ان مذاکرات کے لیے آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ ایک بنیادی شرط ہے۔

https://p.dw.com/p/5CTR2
نئے ایران مخالف امریکی اقدام، موجودہ سیزفائر کا تسلسل مشکوک سیکشن پر جائیں
20 اپریل 2026

نئے ایران مخالف امریکی اقدام، موجودہ سیزفائر کا تسلسل مشکوک

جاوید اختر اے پی، روئٹرز، اے ایف پی اور ڈی پی اے کے ساتھ
امریکہ کی جانب سے ایرانی کارگو پر فائرنگ کی ریلیز کی گئی تصویر
امریکی فوج نے ایرانی پرچم والے ایک کارگو شپ پر فائرنگ کی، جس سے اس کے انجن ناکارہ ہو گئے۔تصویر: US Central Command Public Affairs/AFP

خطے میں زیادہ پائیدار امن قائم کرنے کی کوششیں غیر یقینی دکھائی دے رہی ہیں، کیونکہ ایران نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت نہیں کرے گا، جسے امریکہ جنگ بندی کے منگل کے روز ختم ہونے سے پہلے شروع کرنا چاہتا تھا۔

امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر اپنی پابندی پہلے ہٹائی اور پھر دوبارہ نافذ کر دی ہے۔ عام طور پر اس آبنائے سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برآمدی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔

اس دوران کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب امریکی فوج نے کہا کہ اس نے اتوار کو ایران کی بندر عباس نامی بندرگاہ کی طرف جانے والے اور ایرانی پرچم والے ایک کارگو شپ پر فائرنگ کی، جس سے اس کے انجن ناکارہ ہو گئے۔

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ چھ گھنٹے کی کارروائی کے بعد امریکی میرینز ہیلی کاپٹروں سے رسیوں کے ذریعے جہاز پر اترے۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’’اب اس جہاز پر ہمارا مکمل قبضہ ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس میں کیا موجود ہے۔‘‘

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کی جاری کردہ تصویر
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ چھ گھنٹے کی کارروائی کے بعد امریکی میرینز ہیلی کاپٹروں سے رسیوں کے ذریعے جہاز پر اترےتصویر: US Central Command Public Affairs/AFP

ایران کا ردعمل

ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ یہ جہاز چین سے سفر کر کے آ رہا تھا۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایک فوجی ترجمان نے کہا، ’’ہم خبردار کرتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج جلد ہی امریکی فوج کی اس مسلح بحری قذاقی کا جواب دیں گی اور جوابی کارروائی کریں گی۔‘‘ 

ترجمان نے امریکہ پر الزام لگایا کہ اس نے آٹھ اپریل سے نافذ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔

اس جنگ بندی کے ممکنہ طور پر ناکام ہو جانے اور خلیج فارس میں بھری تجارتی آمد و رفت انتہائی محدود ہو جانے کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہو گیا جبکہ اسٹاک مارکیٹوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔

آبنائے ہرمز پر ٹرانزٹ فیس کی تجویز، یورپ کے لیے بڑا مسئلہ

ایران نے امن مذاکرات مسترد کر دیے

ایران کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ تہران نے نئے امن مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔ اس کی وجہ آبنائے ہرمز کی ابھی تک جاری امریکی ناکہ بندی، دھمکی آمیز بیانات، واشنگٹن کا بدلتا ہوا موقف اور ’’ضرورت سے زیادہ مطالبات ‘‘ بتائے گئے ہیں۔

ایران کے اول نائب صدر محمد رضا عارف نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’’ایران کی تیل کی برآمدات کو محدود نہیں کیا جا سکتا جبکہ دوسروں کے لیے آزاد سکیورٹی کی توقع کی جائے۔ انتخاب واضح ہے: یا تو سب کے لیے آزاد تیل کی منڈی ہو گی، یا پھر سب کو ہی بھاری قیمت چکانے کا خطرہ ہو گا۔‘‘

امریکی صدر ٹرمپ اس سے پہلے ایران کو خبردار کر چکے ہیں کہ اگر تہران نے ان کی شرائط مسترد کیں تو امریکہ ایران کے تمام پلوں اور بجلی گھروں کو تباہ کر دے گا۔ ایران نے بھی خلیجی عرب ممالک میں امریکی مفادات کو دوبارہ نشانہ بنانے کی جوابی دھمکی دی ہے۔

اسلام آباد میں مذاکرات کی تیاریاں جاری ہیں
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے نمائندے پیر کی شام اسلام آباد پہنچیں گے،تصویر: Qamar Zaman/dpa/picture alliance

ایسے مذاکرات کی تیاری جو شاید نہ ہوں

دریں اثنا پاکستان، جو اس تنازعے میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، مذاکرات کی تیاری کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اتوار کی دوپہر دو بڑے امریکی سی–17 کارگو طیارے ایک فضائی اڈے پر اترے جن میں سکیورٹی کا سامان اور گاڑیاں لائی گئیں، تاکہ امریکی وفد کی آمد کی تیاری کی جا سکے۔ یہ بات دو پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے بتائی۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی حکام نے شہر کے اندر عوامی ٹرانسپورٹ اور بھاری گاڑیوں کی آمد و رفت عارضی طور پر روک دی ہے۔ سرینا ہوٹل کے قریب خاردار تاریں لگا دی گئیں، جہاں گزشتہ ہفتے مذاکرات ہوئے تھے۔ اس ہوٹل نے اپنے تمام مہمانوں کو اپنے کمرے خالی کر دینے کے لیے کہہ دیا ہے۔

امریکی صدر رمپ نے کہا ہے کہ ان کے نمائندے پیر کی شام اسلام آباد پہنچیں گے، جبکہ ایران جنگ میں دو ہفتوں کی موجودہ جنگ بندی کی مدت بدھ 22 اپریل کو پوری ہونے والی ہے۔

ادارت: مقبول ملک

https://p.dw.com/p/5CTKH
مزید پوسٹیں
Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔