اسرائیل میں پارلیمان کا سزائے موت بحال کرنے پر غور
23 فروری 2026
یہ کہ اس مجوزہ بل کی نوعیت نہ صرف انسانوں کے زندگی کے حق کی نفی کرتی ہے، بلکہ اس کی مدد سے فلسطینیوں کے ساتھ امتیازی سلوک بھی کیا جائے گا، یہ رائے صرف اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل ہی کی نہیں بلکہ بہت سے غیر جانب دار مبصرین اور ماہرین کی بھی ہے۔
اسرائیل میں آخری مرتبہ کسی مجرم کو سزائے موت دینے کا واقعہ 1962ء میں پیش آیا تھا، جب دوسری عالمی جنگ کے دوران نازیوں کے ہاتھوں ہولوکاسٹ کی ایک سرکردہ شخصیت اور بدنام مجرم اڈولف آئشمان کو یروشلم میں ہونے والی طویل عدالتی سماعت کے بعد سنائی گئی سزائے موت پر عمل کیا گیا تھا۔
اسرائیلی ارکان پارلیمان متنازعہ مسودہ قانون کے حامی
اسرائیل میں 1962ء کے بعد سے اب تک کسی بھی مجرم کو سزائے موت نہیں دی گئی۔ لیکن اب کئی عشرے بعد اور فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کی طرف سے سات اکتوبر 2023ء کو اسرائیل میں کیے جانے والے بڑے دہشت گردانہ حملے کے تناظر میں اسرائیلی پارلیمان کے ارکان کے ایک بڑے گروپ کی طرف سے اس مطالبے پر زور دیا جا رہا ہے کہ ملک میں سزائے موت قانوناﹰ بحال کر دی جائے، خاص طور پر ان فلسطینی مجرمان کے لیے جنہیں اسرائیلی فوجی عدالتوں نے سزائیں سنائی ہوں۔
امریکہ اور اسرائیل کا ایران سے نمٹنے کے طریقہ کار پر اختلاف
اس مجوزہ مسودہ قانون کے مخالفین کا دعویٰ ہے کہ یہ قانونی بل ''غیر اخلاقی اور نسل پرستانہ‘‘ ہے، جو اسرائیلی یہودیوں اور فلسطینیوں کے مابین واضح طور پر امتیاز کرتا ہے، اس لیے کہ تجویز کے مطابق اس کا اطلاق صرف فلسطینیوں پر کیا جائے گا۔
مسودے میں اختیار کیا جانے والا موقف
اس انتہائی متنازعہ مسودہ قانون میں اس کی موجودہ شکل میں جو موقف اختیار کیا گیا ہے، اس کے مطابق ایسے فلسطینی ملزمان کو لازمی طور پر سزائے موت دی جانا چاہیے، جو مخصوص نوعیت کے جرائم کے ارتکاب کے الزامات میں اسرائیلی فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ ہوں۔
مزید یہ کہ اسی مسودے میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ایسے ملزمان کے لیے معافی یا ان کو سنائی گئی سزائے موت کو سزائے قید میں بدل دینے کا کوئی امکان نہیں ہونا چاہیے۔
ویسٹ بینک میں زمینوں کے اندراج کا معاملہ، اسرائیلی فیصلے پر شدید رد عمل
اس مسودہ قانون کو اسرائیل کی کنیسٹ کہلانے والی پارلیمان نے نومبر 2025ء میں اس پر ہونے والی پہلی بحث میں منظور کر لیا تھا۔ اس کے بعد اسے واپس قومی سلامتی کونسل کو بھیج دیا گیا تھا تاکہ اس پر مزید قانونی مشاورت کی جا سکے۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ کنیسٹ کو اس مسودہ قانون پر دوسری اور تیسری مرتبہ بھی بحث کرنا اور اسے منظور کرنا ہے، جس کے بعد یہ بل باقاعدہ قانون بن جائے گا۔
یہ بات تاہم غیر واضح ہے کہ اسرائیلی پارلیمان میں اس بل پر دوسری اور تیسری مرتبہ بحث اور رائے شماری کب ہو گی۔
پارلیمان میں اس بل کی محرک سیاسی جماعت
اسرائیل میں اس قانونی مسودے کو ملکی پارلیمان میں انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت جیوئش پاور پارٹی کے اراکین نے پیش کیا اور اس عمل میں انہیں لیکوڈ پارٹی اور یسرائیل بیت نو نامی پارٹیوں کے منتخب اراکین کی حمایت بھی حاصل ہے۔
اسرائیلی توسیع منصوبہ: یورپی یونین اور مسلم ممالک کی مذمت
اس سلسلے میں اہم بات یہ بھی ہے کہ اس مسودے کی کنیسٹ میں پہلی بار منظوری کے لیے ہونے والی رائے شماری کے بعد وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی کابینہ میں قومی سلامتی کے وزیر اور جیوئش پاور پارٹی کے سربراہ ایتمار بین گویر نے کہا تھا، ''یہ بل اسرائیلی ریاست کی تاریخ میں منظور کیا جانے والا اہم ترین قانونی بل ہے۔‘‘
ساتھ ہی بین گویر نے کہا تھا، ''ہر دہشت گرد کو یہ علم ہونا چاہیے کہ یہ بل ایک ایسی دستاویز ہے، جو (دہشت گردوں کو) روک دے گی، یہ ایک ایسا بل ہے جو انہیں خوف زدہ کرے گا۔ یہ بل انہیں ایک ہزار مرتبہ سوچنے پر مجبور کرے گا، اس سے قبل کہ وہ دوبارہ سات اکتوبر جیسے کسی حملے کے ارتکاب کا سوچیں۔‘‘
مسودہ قانون پر وسیع تر داخلی تنقید
اسرائیل میں اس قانونی مسودے پر داخلی سطح پر وسیع تر تنقید کی جا رہی ہے۔ اس بل کے کڑے ناقدین میں سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں، سپریم کورٹ کے سابق جج بھی، اور بہت سے سرکردہ ڈاکٹر اور ربی بھی۔
ایسی بہت سی شخصیات نے ایک کھلے خط میں پارلیمانی قانون سازی کی اس متنازعہ کوشش کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ''بل کے کئی حصے خاص طور پر انتہا پسندانہ اور استثنائی ہیں۔‘‘
اس بل پر کنیسٹ میں ہونے والے مباحث میں حصہ لینے والوں میں ہاگائی لیوین بھی شامل رہے ہیں۔ وہ اسرائیل کے پبلک ہیلتھ فزیشنز کی ملکی تنظیم کے سربراہ بھی ہیں اور انہوں نے بھی اس قانونی مسودے کی بھرپور مخالفت کی ہے۔
غزہ میں ہلاکتوں کی ’تردید اب مشکل‘ ہے، تنازعات کے مبصرین
ہاگائی لیوین کے مطابق، ''ہم موت کی ایسی سزاؤں کی مخالفت کرتے ہیں، جو نسل پرستانہ ہیں اور جن میں ایسے باقی تمام دیگر پہلوؤں کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا کہ جن پر غور کیا جانا لازمی ہے۔‘‘ لیوین غزہ کی جنگ کے دوران یرغمال بنائے گئے یا لاپتا ہو جانے والے افراد کے خاندانوں کے فورم کے لیے کام کرنے والی طبی ٹیم کے سربراہ بھی رہے ہیں۔
ہاگائی لیوین کے الفاظ میں، ''میں یرغمالیوں اور ان کے اہل خانہ کا معالج رہا ہوں۔ میں معصوم شہریوں کے قتل کا بدلہ لیے جانے سے متعلق جذبات کو بھی اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں۔ لیکن ہم ایک جمہوری ملک ہیں۔ ہمیں ایک ایسا اچھا فیصلہ کرنا ہے، جس سے ہمارے ملک کو فائدہ پہنچے۔‘‘
اسرائیلی حراستی مراکز میں فلسطینیوں سے بدسلوکی کے الزامات
غزہ کی جنگ اور انسانی ہلاکتیں
سات اکتوبر 2023ء کو حماس کے عسکریت پسندوں نے اسرئیل میں جو بڑا دہشت گردانہ حملہ کیا تھا، اس میں تقریباﹰ 1,200 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ فلسطینی عسکریت پسند واپس جاتے ہوئے 251 اسرائیلی اور غیر ملکی شہریوں کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ بھی لے گئے تھے۔
اس حملے کے فوراﹰ بعد شروع ہونے والی غزہ کی جنگ میں مجموعی طور پر 70,000 سے زائد فلسطینی مارے گئے تھے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔ اس کے علاوہ بہت سے فلسطینی آج بھی غزہ پٹی میں لاپتا ہیں اور ممکنہ طور پر ان کی لاشیں ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔ غزہ پٹی کی اسی جنگ میں مجموعی طور پر سینکڑوں اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے تھے۔
غزہ سے آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات بھی برآمد
اسرائیل میں سزائے موت کی بحالی کی پارلیمانی کوششوں کے بارے میں فلسطینی قیدیوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم Palestinian Prisoner Society کے ترجمان امجد النجار نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''یہ اسرائیلی قانونی بل فلسطینیوں کو دہشت زدہ کر رہا ہے۔ ہم اس کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں۔‘‘
النجار نے کہا، ''یہ بل فلسطینی قیدیوں کے خاندانوں کے لیے بہت زیادہ خوف کا باعث اور نئی لیکن شدید کشیدگی کی وجہ بن رہا ہے۔‘‘
ادارت: جاوید اختر، کشور مصطفیٰ