غزہ سے آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات بھی برآمد
وقت اشاعت 26 جنوری 2026آخری اپ ڈیٹ 26 جنوری 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
-
سویڈن میں فوجداری ذمہ داری کی عمر تیرہ برس کرنے کی تجویز
-
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ چند روز بعد، محسن نقوی
-
رفح کراسنگ فقط راہ گیروں کے لیے کھولیں گے، اسرائیل
-
انڈونیشیا کو فرانس سے تین رافیل طیارے موصول
-
بحیرہ احمر میں دوبارہ حملے کر سکتے ہیں، حوثی باغی
-
سابق فلپائنی صدر پری ٹرائل سماعت کے لیے فٹ ہیں، عالمی عدالت
-
حساس تنصیبات کا تحفظ انتہائی اہم ہے، جرمن وزیر اقتصادیات
- یوکرین کے ساتھ گفتگو تعمیری ماحول میں ہوئی، روس
غزہ سے آخری یرغمالی کی باقیات بھی برآمد
اسرائیلی فوج نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ غزہ میں آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات بھی برآمد کر لی گئی ہیں۔ اس طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ کے خاتمے کے منصوبے کے ابتدائی مرحلے کی ایک اہم شرط پوری ہو گئی ہے۔
فوج کے ایک بیان کے مطابق پولیس اہلکار ران گولی کی باقیات کی شناخت کر لی گئی ہے اور انہیں تدفین کے لیے واپس منتقل کیا رہا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ گولی کی باقیات کی واپسی یا ان کیلاش کی تلاش کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد وہ غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح بارڈر کراسنگ کو دوبارہ کھول دے گا۔
حماس اور اسرائیل نے اکتوبر میں علاقائی طاقتوں اور صدر ٹرمپ کے دباؤ کے تحت جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، جسے ٹرمپ نے ایک اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ چند روز بعد، محسن نقوی
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ محسن نقوی نے پیر کے روز کہا ہے کہ اگلے ماہ ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی شرکت سے متعلق حتمی فیصلہ ایک ہفتے تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ اس سے بنگلہ دیش کے دستبردار ہونے پر ممکنہ بائیکاٹ کا آپشن بھی کھلا رہے گا۔
نقوی نے پیر کو وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات کر کےصورتحال پر مشاورت کی۔ کہا جا رہا تھا کہ اس ملاقات کے بعد محسن نقوی کسی باضابطے فیصلے کے اعلان کر دیں گے، تاہم ملاقات کے بعد محسن نقوی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا گیا کہ اس بابت حتمی فیصلہ یا تو جمعے کو ہو گا یا پھر آئندہ پیر کو۔
انہوں نے وزیرِاعظم کے ساتھ ملاقات کو ’’نتیجہ خیز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ’’تمام آپشنز کھلے رکھتے ہوئے مسئلے کا حل نکالا جائے۔‘‘
نقوی نے ہفتے کے روز قومی ٹیم کی شرکت پر سوالیہ نشان لگایا تھا، جب انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے ٹورنامنٹ میں بنگلہ دیش کی جگہ کسی اور ٹیم کو شامل کرنے کے بعد پاکستان بھی دستبردار ہو سکتا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق سیاسی کشیدگی کے باعث پاکستان 15 فروری کو روایتی حریف بھارت کے خلاف میچ کا بھی بائیکاٹ کر سکتا ہے۔
پاکستان کا یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب آئی سی سی نے بنگلہ دیش کی وہ درخواست مسترد کر دی، جس میں انہوں نے سکیورٹی خدشات کے باعث اپنے ورلڈ کپ میچز بھارت کے بجائے سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
بتایا گیا ہے کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کر رہی ہے۔
بدھ کو آئی سی سی بورڈ کے ورچوئل اجلاس میں پاکستان نے بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت کی تھی اور کہا تھا کہ گزشتہ سال چیمپئنز ٹرافی میں سکیورٹی خدشات کے باعث بھارت کے میچز پاکستان سے منتقل کیے جانے کی مثال موجود ہے۔
یہ بات اہم ہے کہ بھارت نے سن دو ہزار آٹھ کے بعد سے آج تک پاکستان کا کبھی دورہ نہیں کیا جب کے گزشتہ برس چیمپیئنز ٹرافی کے اپنے تمام میچز بھارتی ٹیم نے دبئی میں کھیلے تھے۔ اسی طرح ماضی میں پاکستان کو بھی یہ سہولت دی گئی تھی کہ وہ بھارت کا دورہ نہ کرے۔ یوں اس نے اپنے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچز سری لنکا میں کھیلے تھے۔
سویڈن میں فوجداری ذمہ داری کی عمر تیرہ برس کرنے کی تجویز
سویڈن کی حکومت ایک انتہائی متنازع بل کو آگے بڑھا رہی ہے، جس کے تحت سنگین جرائم کے لیے فوجداری ذمہ داری کی عمر 15 سال سے کم کر کے 13 سال کی جائے گی۔ اس اقدام کے نتیجے میں بعض معاملات میں قید کی سزا بھی ممکن ہو سکے گی۔ پولیس، جیل انتظامیہ اور استغاثہ سمیت متعدد اداروں نے اس منصوبے کی مخالفت کی ہے۔
سویڈن کے وزیر انصاف گنار اسٹرومر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ فوجداری ذمہ داری کی عمر میں عمومی کمی نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا، ’’ہم صرف انتہائی سنگین جرائم کے لیے عمر کم کرنے کی بات کر رہے ہیں، جیسے قتل،اقدام قتل، بم دھماکے، اسلحہ سے متعلق سنجیدہ جرائم اور ریپ۔
اس اسکینڈینیوین ملک کو ایک دہائی سے زائد عرصے سے منظم جرائم میں اضافے کا سامنا ہے، جو بنیادی طور پر حریف گینگز کے درمیان منشیات کی منڈی پر کنٹرول کی جنگ سے جڑے ہوئے ہیں۔
یہ نیٹ ورکس 15 سال سے کم عمر بچوں کو بم دھماکوں اور فائرنگ کے لیے استعمال کر رہے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ گرفتاری کی صورت میں ان بچوں کو قید کی سزا نہیں دی جا سکتی۔
جنوری 2025 ء میں حکومت کے حکم پر کی گئی ایک تحقیق میں فوجداری ذمہ داری کی عمر 14 سال کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
تاہم ستمبر میں حکومت نے اعلان کیا کہ وہ اس عمر کو 13 سال تک کم کرنا چاہتی ہے اور اس بل کو 126 اداروں اور تنظیموں سے رائے لینے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ تاہم زیادہ تر تنظیموں اور اداروں کی جانب سے اس حکومتی منصوبے پر تنقید کی گئی تھی۔
اسٹورمر کا کہنا تھا کہ قانون میں ہ تبدیلی عارضی طور پر متعارف کرائی جائے گی اور ابتدائی طور پر اس کی مدت پانچ برس تک ہوگی۔
یہ بل پہلے کونسل آن لیجسلیشن کو بھیجا جائے گا جو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے والے حکومتی بلوں کا جائزہ لیتی ہے۔ اسٹرومر کے مطابق حکومت کا منصوبہ ہے کہ یہ قانون رواں موسم گرما میں نافذ العمل ہو جائے۔
انڈونیشیا کو فرانس سے تین رافیل طیارے موصول
انڈونیشیا کو فرانس سے رافیل لڑاکا طیاروں کی پہلی کھیپ کے طور پر تین طیارے موصول ہو گئے ہیں۔ وزارت دفاع کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے کے تحت پہلی ترسیل ہے، جو انڈونیشیا کی فوج کو نئے خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
جنوب مشرقی ایشیا میں فرانسیسی ہتھیاروں کے سب سے بڑے خریدار جکارتہ نے رافیل ساز فرانسیسی ادارے Dassault Aviation کو 42 رافیل طیاروں کی فراہمی کے آرڈر دیے ہیں۔ انڈونیشیا فرانس سے فریگیٹس اور آبدوزیں بھی حاصل کر رہا ہے۔ ماضی میں اسپیشل فورسز کے کمانڈر اور موجودہ صدر پرابووو سبیانتو کے دور میں انڈونیشیا نے اپنے دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
روئٹزرز کے مطابق ایک تحریری جواب میں وزارت دفاع کے ترجمان نے بھی طیاروں کی حوالگی کی تصدیق کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ تینوں طیارے جمعے کے روز پہنچے اور انہیں مغربی جزیرے سماٹرا میں واقع پیکنبارو کے روسمین نورجادین ایئر بیس پر تعینات کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال کے دوران مزید طیارے بھی پہنچنے کی توقع ہے، تاہم تعداد کی وضاحت نہیں کی۔
انڈونیشیا بین الاقوامی لڑاکا طیاروں کی منڈی میں بڑے خریداروں میں شامل رہا ہے، کیونکہ وہ اپنے فضائی بیڑے کو جدید بنانے کے لیے دفاعی بجٹ میں نمایاں رقم مختص کر رہا ہے۔ رافیل کے ساتھ ساتھ وہ دیگر آپشنز پر بھی غور کرتا رہا ہے، جن میں چین کے J-10 لڑاکا طیارے اور امریکہ کے تیار کردہ F-15EX شامل ہیں۔
طویل المدتی منصوبے کے تحت انڈونیشیا نے ترکی سے بھی لڑاکا طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ روئٹرز کے مطابق رواں ماہ کے اوائل میں انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان لڑاکا طیارے اور جنگی ڈرونز فروخت کرنے کے ممکنہ معاہدے پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔
بحیرہ احمر میں دوبارہ حملے کر سکتے ہیں، حوثی باغی
ایران نواز یمنی حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر کے راستے سے گزرنے والے بحری جہازوں پر نئے حملوں کی دھمکی دی ہے۔ بظاہر یہ اقدام ایران کی حمایت کے لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ تہران نے ایک طیارہ بردار امریکی بحری جہاز کی خطے میں آمد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس سے قبل ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف سخت کریک ڈاؤن پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو عسکری کارروائی کی دھمکی دی تھی۔
حوثیوں کی جانب سے جاری کی گئی ایک مختصر ویڈیو میں ایک جلتے ہوئے جہاز کی تصاویر شامل تھیں، جن کے ساتھ کیپشن تھا،’’جلد‘‘۔
باغیوں نے اس تصویر کی مزید وضاحت نہیں کی، تاہم بحیرہ احمر میں حوثی ڈرون اور میزائل حملوں میں 100 سے زائد بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ حوثیوں نے اپنی ان کارروائیوں کو غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیلی آپریشن کا ردعمل قرار دیا تھا۔
واضح رہے کہ امریکی بحری بیڑہ یو ایس ایس ابراہم لنکن متعدد چھوٹے جنگی بحری جہازوں کے ہمراہ خطے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اس طیارہ بردار جہاز کی ایران کے قریب تعیناتی ’’صرف احتیاطی‘‘ طور پر کی جا رہی ہے تاکہ اگر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی ضرورت ہو تو وہ بلاتاخیر ممکن ہو پائے۔ صدر ٹرمپ باور کروا چکے ہیں کہ حکومت مخالف مظاہرین کے قتل یا زیرحراست مظاہرین کی پھانسیاں امریکہ کے لیے سرخ لکیر ہو گی۔
سابق فلپائنی صدر پری ٹرائل سماعت کے لیے فٹ ہیں، عالمی عدالت
بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے ججوں نے فیصلہ دیا ہے کہفلپائن کے سابق صدر روڈریگو ڈوٹیرٹے انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق الزامات کے تحت پری ٹرائل ہیئرنگ کے لیے فٹ ہیں۔ ڈوٹیرٹے کی عمر اسی برس ہے اور ان کے وکلا کا موقف رہا ہے کہ ڈوٹیرٹے معمر ہیں اور محدود ذہنی صلاحیتوں کی بنا پر وہ اس مقدمے کا سامنا کرنے کے قابل نہیں۔
ڈوٹیرٹے پر الزامات ہیں کہ انہوں نے اپنے دورِ صدارت میں منشیات کے خلاف جنگ کی مہم کے دوران بڑی تعداد میں لوگوں کو قتل کروایا اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب ہوئے۔ ان پر باقاعدہ طور پر مقدمے کے آغاز سے قبل الزامات کی توثیق کے لیے عدالتی سماعت 23 فروری کو ہو گی۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ججوں کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آزاد طبی ماہرین کی رپورٹ کے مطابق ڈوٹیرٹے اپنے مقدمے کو سمجھنے اور اس میں موثر طور پر شرکت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
عدالت کے مطابق کسی شخص کو مقدمے کا سامنا کرنے کا اہل قرار دینے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ عدالتی کارروائیوں کی مجموعی سمجھ رکھتا ہو، یہ ضروری نہیں کہ وہ اپنی ذہنی صلاحیت کے اعلیٰ ترین درجے پر کام کر رہا ہو۔
ججوں کے مطابق، ’’عدالت قانونی طور پر مطمئن ہے کہ ڈوٹیرٹے اپنے آئینی اور عدالتی حقوق کو موثر انداز میں استعمال کرنے کے قابل ہیں اور اس لیے وہ قبل از مقدمہ کارروائی میں شرکت کے اہل ہیں۔‘‘
رفح کراسنگ فقط راہ گیروں کے لیے کھولیں گے، اسرائیل
اسرائیل نے پیر کے روز کہا ہے کہ وہ غزہ پٹی اور مصر کے درمیان واقع رفح کراسنگ کو صرف پیدل مسافروں کے لیے کھولے گا اور یہ اقدام اس وقت کیا جائے گا، جب فلسطینی علاقے میں موجود آخری یرغمالی کی باقیات بھی برآمد کر لی جائیں گی۔
رفح کراسنگ غزہ میں امداد کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم راستہ ہے۔ اس کراسنگ کی بحالی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اکتوبر میں اعلان کیے گئے جنگ بندی کے فریم ورک کا حصہ ہے تاہم فلسطینی علاقے میں جنگ کے دوران اسرائیلی افواج کے اس پر کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے یہ کراسنگ بند ہی رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ہفتے کے آخر میں یروشلم میں ہونے والی بات چیت کے دوران امریکی نمائندوں نے اسرائیلی حکام پر زور دیا تھا کہ وہ رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولیں۔
عالمی رہنماؤں اور امدادی اداروں نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک مزید امدادی قافلوں کو رسائی دی جائے، کیونکہ دو سال سے زائد عرصے کی جنگ نے علاقے کو تباہ حال کر دیا ہے اور وہاں زندگی کا انحصار طبی سامان، خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی پر ہے۔
وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسرائیل رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے پر تیار ہے تاہم یہ سہولت ’’صرف پیدل آمدورفت کے لیے ہوگی اور مکمل اسرائیلی معائنے کے نظام سے مشروط ہوگی۔‘‘
دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ یہ اقدام ’’تمام زندہ یرغمالیوں کی واپسی اور حماس کی جانب سے تمام ہلاک شدہ یرغمالیوں کی تلاش اور واپسی کے لیے سو فیصد کوشش سے مشروط ہوگا۔‘‘
یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ آیا کراسنگ کے دوبارہ کھلنے سے مریضوں کو علاج کے لیے مصر یا دیگر ممالک جانے کی اجازت ملے گی یا نہیں۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ اتوار کے روز غزہ کی پٹی میں ایک قبرستان میں آخری یرغمالی، ران گویلی، کی باقیات کی تلاش کر رہی تھی۔ نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق، ’’اس کارروائی کی تکمیل کے بعد اسرائیل رفح کراسنگ کھول دے گا۔‘‘
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب غزہ کے نو مقرر کردہ منتظم علی شعث نے کہا کہکراسنگ اس ہفتے مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔
علی شعث نے جمعرات کو داووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ غزہ کے فلسطینیوں کے لیے رفح محض ایک دروازہ نہیں، بلکہ زندگی کی ایک ڈور اور مواقع کی علامت ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے یروشلم میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران نیتن یاہو پر رفح کراسنگ کھولنے پر زور دیا تھا۔
حساس تنصیبات کا تحفظ انتہائی اہم ہے، جرمن وزیر اقتصادیات
جرمن وزیرِ اقتصادیات کاترینا رائشے نے یورپی رہنماؤں کے ہیمبرگ میں تیسری نارتھ سی سمٹ کے موقع پر حساس اور اہم تنصیبات کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ اس سمٹ میں توانائی کے شعبے میں سرحد پار تعاون کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
بیلجیم اور ڈنمارک کے وزرا اعظم، آئرلینڈ، لکسمبرگ، ناروے اور نیدرلینڈز کے رہنماؤں کے علاوہ بحیرہ شمالی سے متصل تمام نو ممالک کے وزرائے توانائی اس سمٹ کا حصہ ہیں جب کہنیٹو اور یورپی یونین کے حکام بھی اس ایک روزہ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔
اس سمٹ کے آغاز میں رائشے نے کہا کہ صرف یوکرین کے خلاف روس کی جارحانہ کارروائی ہی نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی اہم یورپی تنصیبات پر حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’بجلی کے گرڈز،پائپ لائنز اور اہم ڈیٹا کیبلز جو یورپ کی ڈیجیٹل خودمختاری کے لیے نہایت اہم ہیں، حملوں کی زد میں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پہلی بار اس سمٹ میں نیٹو کی اعلیٰ قیادت کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔‘‘
رائشے نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ یورپ کی توانائی کی صلاحیتوں کو زیادہ مضبوط بنانے کی کوششوں کے تحت بحیرہ شمالی میں بڑے آف شور ونڈ فارمز تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
یوکرین کے ساتھ گفتگو تعمیری ماحول میں ہوئی، روس
ماسکو حکومت نے پیر کے روز کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں امریکی ثالثی میں روسی اور یوکرینی مذاکرات کاروں کے درمیان ہونے والے سہ فریقی مذاکرات ایک ’’تعمیری ماحول‘‘ میں ہوئے، تاہم ابھی ’’واضح پیش رفت ہونا باقی ہے۔‘‘
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ابتدائی رابطوں سے کسی بڑے نتیجے کی توقع کرنا غلطی ہوگی لیکن یہ حقیقت کہ یہ رابطے ایک تعمیری انداز میں شروع ہوئے ہیں، تاہم ابھی بہت سا کام باقی ہے۔‘‘
ابوظہبی میں جمعے اور ہفتے کو ہونے والی دو روزہ ملاقات یوکرین پر روسی حملے کے بعد دونوں ممالک کے وفود کے درمیان براہ راست بات چیت کا پہلا موقع تھی۔ تقریباً چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے منصوبے پر ماسکو اور کییف کے وفود نے گفتگو کی۔
ایک امریکی اہلکار کے مطابق متحدہ عرب امارات میں ہونے والے یہ سہ فریقی مذاکرات یکم فروری کو دوبارہ شروع ہوں گے۔ پیسکوف نے پیر کے روز کہا، ’’میں یہ نہیں کہوں گا کہ وہاں کوئی دوستانہ ماحول تھا، اس مرحلے پر یہ مشکل ہے۔ لیکن اگر آپ مذاکرات کے ذریعے کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو تعمیری انداز میں بات کرنا ضروری ہے۔‘‘
یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے اس سے قبل کہا تھا کہ ابوظہبی کی ملاقات کے دوران ’’کافی تفصیلی گفتگو ہوئی اور اہم بات یہ ہے کہ یہ گفتگو تعمیری رہی۔‘‘
دوسری جانب روسی ڈرونز اور میزائل حملوں کی وجہ سے یوکرین میں لاکھوں افراد بجلی سے محروم ہیں، جب کہ کییف حکومت شدید سردی میں شہری انفراسٹرکچر سے متعلق تنصیبات پر ان نئے حملوں کو امن مذاکرات کو نقصان پہنچانے کی روسی کوشش قرار دے رہی ہے۔
کییف حکومت کے مطابق گزشتہ شب روس کی جانب سے یوکرین میں گیارہ مقامات پر ایک سو اڑتیس ڈرون حملے کیے گئے۔