بھارت میں آسٹریلوی خواتین کرکٹرز جنسی ہراسانی کا شکار
27 اکتوبر 2025
آسٹریلوی خواتین کرکٹرز کے ساتھ جنسی ہراسانی کا یہ معاملہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت والی ریاست مدھیہ پردیش کے اندور شہر میں پیش آیا، جہاں آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کے کچھ میچز کھیلے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان دونوں معروف خواتین کرکٹرز کو، جب وہ ایک کیفے کی طرف جا رہی تھیں، ایک موٹر سائیکل سوار نے مبینہ طور پر ہراساں کیا اور نامناسب انداز میں ہاتھ لگایا۔ پولیس کے مطابق ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
کرکٹ آسٹریلیا نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جمعرات کو یہ واقعہ اس صبح پیش آیا جب آسٹریلیا نے انگلینڈ کو شکست دی تھی۔
حالانکہ اس واقعہ نے بھارت میں بالخصوص خواتین کی سکیورٹی سے متعلق سوالات اٹھا دیے تھے لیکن مدھیہ پردیش کے وزیر کیلاش وجے ورگیہ کے اتوار کے روز دیے گئے متنازع بیان کے بعد ایک نیا سیاسی طوفان بھی کھڑا ہو گیا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس واقعے اور وزیر کے بیان نے اولمپک گیمس منعقد کرانے کی بھارت کی امیدوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
بھارت نے 2036 کے سمر اولمپکس کی میزبانی کے لیے بین الاقوامی اولمپک کمیٹی میں درخواست جمع کرائی ہے۔ وہ گجرات کے شہر احمد آباد میں 2030 کے کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی کرنے کا بھی متمنی ہے۔
وجے ورگیہ کا متنازعہ بیان
وجے ورگیہ مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت میں شہری ترقی، ہاؤسنگ اور پارلیمانی امور کے وزیر ہیں۔ انہوں نے اس واقعے پر پولیس کی ناکامی پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے خواتین کرکٹرز کو ہی مورد الزام ٹھہرانے کی مبینہ کوشش کی اور کہا کہ خاتون کرکٹرز کی طرف سے بھی کچھ لاپرواہی ہوئی ہے۔
انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ''کھلاڑیوں کو اس واقعے سے سبق لینا چاہیے، میرا خیال ہے کہ اب کھلاڑیوں کو یہ سمجھ آ جائے گا کہ آئندہ جب بھی ہم اپنی قیام گاہ سے نکلیں تو اپنی سکیورٹی یا مقامی انتظامیہ کو ضرور بتائیں، کیونکہ یہاں کرکٹ کھلاڑیوں کا بڑا جنون ہے۔‘‘
وجے ورگیہ کے اس بیان کو عوامی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، کیونکہ بہت سے لوگ اسے متاثرہ خواتین کو قصوروار ٹھہرانے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔
بھارت میں خواتین کو سڑکوں پر ہراسانی کے واقعات عام ہیں، مگر یہ واقعہ عالمی سرخیوں میں آیا کیونکہ یہ ان بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ساتھ پیش آیا جو ویمنز ورلڈ کپ جیسے بڑے ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے بھارت آئی تھیں۔
شدید ردعمل
اس واقعے کی بھارت کے کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے مذمت کی، جبکہ دنیا بھر میں اس واقعے پر شدید غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
بی سی سی آئی نے وعدہ کیا کہ سکیورٹی کے موجودہ انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر انہیں مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے بھی شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ ہندو قوم پرست جماعت شیو سینا (ٹھاکرے) کے رہنما آدتیہ ٹھاکرے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ''یہ ظاہر ہے کہ حکومت ان (وجے ورگیہ) کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی، لیکن ایسے وقت میں جب ہم اولمپکس اور کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی کے لیے بولی لگا رہے ہیں اور سرمایہ کاروں کو بھی بلا رہے ہیں، حکومت میں اس طرح کی گھٹیا ذہنیت کا ہونا شرمناک ہے۔‘‘
سابق مرکزی وزیر اور سینیئر کانگریسی رہنما ارون یادو نے اس بیان کو 'قابلِ نفرت اور پسماندہ سوچ‘ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی سلامتی یقینی بنانے کی بجائے وزیر متاثرہ خواتین کو ہی موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی یہ معاملہ کافی گرم اور بیشتر صارفین بی جے پی وزیر کی شدید نکتہ چینی کر رہے ہیں۔
بی جے پی وزیر پہلے بھی متنازعہ دیتے رہے ہیں
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ وِجے ورگیہ خواتین سے متعلق اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے خبروں میں آئے ہوں۔
چند ماہ قبل انہوں نے کہا تھا کہ انہیں خواتین کے مختصر یا کھلے لباس پہننے پر اعتراض ہے اور ماضی میں انہوں نے ایسی خواتین کے ساتھ تصاویر کھنچوانے سے انکار بھی کیا تھا۔
جنوری 2013 میں جب بھارت میں ریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر بحث ہو رہی تھی، تو وجے ورگیہ کے ایک بیان نے زبردست تنازع کھڑا کر دیا تھا۔ جس پر بعد میں بی جے پی کو صفائی دینی پڑی تھی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وجے ورگیہ نے رامائن میں درج سیتا کا راون کے ذریعہ اغوا کے واقعے کے حوالے سے کہا تھا ''ایک لفظ ہے مریادا (اخلاقی حد)۔ جب اس مریادا کا کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو سیتا ہرن (اغوا) ہو جاتا ہے۔ لکشمن ریکھا (حد) ہر شخص کے لیے کھینچی گئی ہے۔ جو بھی اُس لکشمن ریکھا کو پار کرے گا، راون سامنے بیٹھا ہے، وہ سیتا ہرن کرکے لے جائے گا۔‘‘
ان کے اس متنازع اور اشتعال انگیز بیان کے بعد عوامی غصہ کو دیکھتے ہوئے اُس وقت کے بی جے پی ترجمان روی شنکر پرساد نے کہا تھا کہ پارٹی اس بیان سے خود کو الگ کرتی ہے اور وجے ورگیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنا بیان واپس لیں۔
ادارت: کشور مصطفیٰ