1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان: ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت پر اپوزیشن جماعتیں برہم

جاوید اختر اے پی پی، اے ایف پی، پاکستانی میڈیا ادارے
23 جنوری 2026

پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمانی منظوری کے بغیر ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت پر حکومت کی شدید نکتہ چینی کی۔ حکومت کا تاہم کہنا ہے کہ یہ قدم قومی مفاد اور مسلم برادری کی اجتماعی ترجیحات کے مدنظر اٹھایا گیا ہے۔

https://p.dw.com/p/57Gyo
بورڈ آف پیس
حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ فلسطینی عوام کے مفاد میں کیا گیا ہے اور مسئلۂ فلسطین پر پاکستان کے دیرینہ اصولی مؤقف کی توثیق کرتا ہےتصویر: Fabrice Coffrini/AFP/Getty Images

پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے اس فیصلے پر شدید تنقید کی کہ اس نے پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 'بورڈ آف پیس‘ میں شرکت کا اعلان کیا، اور مطالبہ کیا کہ مکمل مشاورتی عمل کے بغیر کسی بھی رسمی شمولیت کو واپس لیا جائے۔

شہباز شریف حکومت نے ایک دن قبل غزہ امن منصوبے کے نفاذ میں معاونت کے لیے قائم کیے گئے نئے بین الاقوامی فورم، ٹرمپ کے 'بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کی دعوت قبول کی تھی۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بورڈ آف پیس کی تشکیل یا اس کے عملی طریقۂ کار کی تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی اور دیگر میڈیا اداروں کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ اس فورم سے جنگ بندی کے انتظامات، انسانی امداد اور جنگ کے بعد تعمیرِ نو میں سہولت فراہم کرنے، اور اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں وسیع تر سیاسی عمل کی حمایت کی توقع کی جا رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کو کسی صورت بھی ایسے امریکی قیادت والے 'بورڈ آف پیس‘ کو قبول نہیں کرنا چاہیے جس میں نیتن یاہو شامل ہوںتصویر: Muhammed Semih Ugurlu/Anadolu/picture alliance

اپوزیشن سخت ناراض

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک میں پالیسیاں بیرونی دباؤ کے تحت تشکیل دی جارہی ہیں اور پاکستان نے کبھی اپنی خارجہ پالیسی قومی مفادات کی بنیاد پر مرتب نہیں کی۔

انہوں نے حکومت پر اہم فیصلوں پر قومی اسمبلی کو اعتماد میں نہ لینے پر بھی تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ کیا ایوان سے کوئی مشاورت کی گئی تھی۔

قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کو کسی صورت بھی ایسے امریکی قیادت والے 'بورڈ آف پیس‘ کو قبول نہیں کرنا چاہیے جس میں نیتن یاہو شامل ہوں۔

انہوں نے'بورڈ آف پیس‘ کے قیام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اپنی مرضی سے 'بورڈ آف پیس‘ تشکیل دے رہے ہیں، خود ہی اس کی رکنیت طے کر رہے ہیں اور خود ہی اس کے چیئرمین ہیں۔ ''اگر ہم پھر بھی امن، معاشی استحکام اور فلسطینیوں کے بہتر مستقبل کی امیدیں ایسے بورڈ سے وابستہ کریں تو یہ خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہو گا۔‘‘

شہباز شریف ڈونلڈ ٹرمپ
شہباز شریف حکومت نے غزہ امن منصوبے کے نفاذ میں معاونت کے لیے قائم کیے گئے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کی دعوت قبول کرلی تصویر: Suzanne Plunkett/POOL/AFP/Getty Images

'جلد بازی میں شرکت نہ صرف نامناسب بلکہ ناقابلِ فہم‘ 

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے بھی حکومت کے 'بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کے فیصلے کو مسترد کردیا۔

ایکس پر جاری بیان میں پارٹی نے کہا کہ وہ اس فیصلے کو قبول نہیں کرتی اور زور دیا کہ ''اس نوعیت کے بین الاقوامی فیصلے ہمیشہ مکمل شفافیت اور تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے جامع مشاورت کے ساتھ کیے جانے چاہئیں۔‘‘

فیصلے پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے پی ٹی آئی نے حکومت سے کہا کہ وہ جامع مشاورتی عمل مکمل ہونے تک اس اقدام سے دستبردار ہو جائے۔

پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے بھی کہا کہ حکومت کی 'جلد بازی میں شرکت‘ نہ صرف 'نامناسب بلکہ ناقابلِ فہم‘ ہے۔

حکومت نے اپنے فیصلے کا دفاع کیا

وزیرِ امورِ پارلیمانی ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پاکستان کے 'بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام سیاسی مصلحتوں کے بجائے قومی مفاد اور عالمی مسلم برادری کی اجتماعی ترجیحات کے تحت اٹھایا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ فلسطینی عوام کے مفاد میں کیا گیا ہے اور مسئلۂ فلسطین پر پاکستان کے دیرینہ اصولی مؤقف کی توثیق کرتا ہے۔

انہوں نے کہا،''بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شرکت کا مقصد ان کوششوں کی حمایت کرنا ہے جبکہ فلسطینی اور قومی مفادات دونوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔‘‘ انہوں نے اس معاملے سے سیاسی فائدہ نہ اٹھانے کی بھی اپیل کی۔

بورڈ آف پیس
ناقدین بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھ رہے ہیںتصویر: Fabrice Coffrini/AFP/Getty Images

’بورڈ آف پیس‘: اقوام متحدہ کے لیے چیلنج؟

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز باضابطہ طور پر ایک نئے بین الاقوامی ادارے، 'بورڈ آف پیس‘کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے ممالک کے ایک متنوع گروپ کے ساتھ مل کر اس کے اولین منشور پر دستخط کیے۔ حالانکہ ناقدین اس ادارے کو اقوام متحدہ کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر داووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اسٹیج پر بورڈ کی بنیادی دستاویز پر دستخط کرنے کے بعد ٹرمپ نے اعلان کیا، ''ہم دنیا میں امن قائم کرنے جا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ''اس بورڈ کے پاس اب تک کا سب سے اہم اور بااثر ادارہ بننے کا موقع موجود ہے۔‘‘

پاکستان کے ساتھ ہی مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب اور قطر بھی 'بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ البانیہ، ارجنٹینا، ہنگری، اسرائیل، قزاقستان، پیراگوئے اور ازبکستان بھی اس بورڈ میں شامل ہونے کی تصدیق کر چکے ہیں۔

تقریباً 60 حکومتوں کو اس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، لیکن واشنگٹن کے چند ہی مغربی اتحادیوں نے عوامی طور پر اسے قبول کیا ہے۔

ادارت: صلاح الدین زین

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔