پاکستان اب بھی امریکہ اور ایران کو قریب لانے کے لیے کوشاں
27 اپریل 2026
امریکہ اور ایران کے درمیان امن کی بحالی کی امیدیں اختتام ہفتہ پر اس وقت مزید کم ہو گئیں جب امریکی صدر نے اپنے نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا مجوزہ دورہ اسلام آباد منسوخ کر دیا اور ایران سے کہا کہ جب وہ معاہدہ کرنا چاہے تو فون کرے۔ اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی ویک اینڈ پر دو مرتبہ پاکستانی دارالحکومت کے دورہ کیا۔
پاکستان کے ساتھ ساتھ عمان کا دورہ کرنے والے عراقچی پیر کے روز روس پہنچے تاکہ صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کر سکیں، جو ایران کے ایک دیرینہ اتحادی ہیں۔
چونکہ متحارب فریقین کے درمیان ایران کے جوہری عزائم اور آبنائے ہرمز تک رسائی جیسے مسائل پر اب بھی واضح اختلافات موجود ہیں، اس لیے پیر کو تجارت دوبارہ شروع ہونے پر تیل کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھا گیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 2.5 فیصد بڑھ کر تقریباً 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ٹرمپ نے 'فاکس نیوز‘ کے پروگرام 'دی سنڈے بریفنگ‘ میں کہا، ''اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس آ سکتے ہیں یا ہمیں فون کر سکتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں، فون موجود ہے۔ ہمارے پاس محفوظ لائنیں ہیں۔‘‘
ٹرمپ نے کہا، ''انہیں معلوم ہے کہ معاہدے میں کیا ہونا چاہیے۔ یہ بہت سادہ ہے۔ انہیں ایٹمی ہتھیار نہیں رکھنے چاہئیں، ورنہ ملاقات کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘
اسلام آباد میں معمول کی سرگرمیاں بحال
اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ فی الحال آمنے سامنے ملاقاتیں متوقع نہیں ہیں۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی سڑکیں دوبارہ کھول دی گئی ہیں، جو ایک ہفتے تک ان مذاکرات کی توقع میں بند رہی تھیں جو کبھی ہو ہی نہ سکے۔ وہ لگژری ہوٹل، جسے مذاکرات کے مقام کے طور پر خالی کرایا گیا تھا، اب دوبارہ عوام کے لیے بکنگ شروع کر رہا ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات اب بھی جاری ہیں، مگر وہ دور سے (ریموٹلی) ہو رہے ہیں، اور جب تک فریقین کسی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے قریب نہیں پہنچ جاتے، اس وقت تک آمنے سامنے ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں۔
ان مذاکرات سے واقف ایک ذریعے نے کہا، ''مسودہ دور بیٹھ کر ہی تیار کیا جائے گا جب تک اس پر کسی حد تک اتفاقِ رائے نہ ہو جائے۔‘‘
اگرچہ ایران پر 28 فروری کو شروع ہونے والے امریکی-اسرائیلی حملے فائربندی کی وجہ سے عارضی طور پر رک گئے ہیں، لیکن جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کی شرائط طے نہیں ہو سکیں۔ اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی معیشت کے لیے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
دونوں فریق ممکنہ طور پر ایک دوسرے کی برداشت کا امتحان لے رہے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کون معاشی دباؤ زیادہ دیر تک برداشت کر سکتا ہے۔
جنگ کے آغاز سے ہی ایران نے خلیج کے راستے آبنائے ہرمز سے اپنی کشتیوں کے سوا تقریباً تمام جہاز رانی کو محدود کر دیا ہے۔ اس مہینے امریکہ نے ایرانی جہازوں کی ناکہ بندی شروع کر دی، جسے ایران مذاکرات کی ایک شرط کے طور پر ختم کروانا چاہتا ہے۔
ٹرمپ کو اندرونی دباؤ کا سامنا
اپنی مقبولیت میں کمی کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس غیر مقبول جنگ کو ختم کرنے کے لیے اندرونی دباؤ کا سامنا ہے۔ اگرچہ ایران کی قیادت فوجی لحاظ سے کمزور ہوئی ہے، لیکن اس نے مذاکرات میں اپنی پوزیشن اس صلاحیت کے ذریعے مضبوط بنائی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو روک سکتی ہے، جہاں سے عام طور پر دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تیل کے تقریباً پانچویں حصہ کی ترسیل ہوتی ہے۔
جب عراقچی پاکستانی حکام سے ملاقات کر رہے تھے، اسی دوران ٹرمپ نے ہفتے کے روز فلوریڈا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے نمائندوں کا دورہ اس لیے منسوخ کیا کیونکہ ان کے خیال میں ایرانی پیشکش ناکافی تھی اور اس پر زیادہ سفر اور اخراجات کرنا مناسب نہیں تھا۔
انہوں نے کہا، ''ایران نے بہت کچھ پیش کیا، لیکن کافی نہیں۔‘‘
ایرانی حکام پہلے ہی اس امکان کی اہمیت میں یہ کہہ کر کمی لا چکے تھے کہ اسلام آباد میں قیام کے دوران عراقچی کی امریکی حکام سے ملاقات نہیں ہو گی۔
ادارت: شکور رحیم