نئے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کون؟
16 جنوری 2026
پاکستان میں معروف پختون قوم پرست سیاستدان محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف مقرر کر دیا گیا۔ ان کی تقرری کا سرکاری نوٹیفکیشن اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی جانب سے آج بروز جمعہ جاری کیا گیا۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا اہم ترین آئینی منصب تقریباً پانچ ماہ سے خالی تھا۔ سابق قائد حزب اختلاف اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن عمر ایوب کو اگست 2025 میں ایک عدالت نے نو مئی 2023 کے پُرتشدد ہنگاموں سے متعلق مقدمات میں سزا سنائی، جس کے بعد انہیں نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔
پی ٹی آئی کے مطابق بعدازاں عمران خان نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے لیے اپنی اتحادی جماعت پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کو لیڈر آف اپوزیشن نامزد کیا تھا۔
قائد حزب اختلاف کا کردار
قائدِ حزبِ اختلاف پارلیمانی نگرانی اور جمہوری احتساب میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ وہ حکومتی پالیسیوں، قانون سازی اور انتظامی اقدامات کا جائزہ لیتا ہے، عوامی مفادات کی نمائندگی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ مختلف اہم قومی امور پر ایک متبادل نقطۂ نظر پیش کرتا ہے۔
قانون سازی کی نگرانی کے علاوہ قائدِ حزبِ اختلاف کو اہم ریاستی تقرریوں میں مشاورتی کردار بھی حاصل ہوتا ہے، جن میں وزیرِاعظم، چیف الیکشن کمشنر اور نگران حکومتوں کی تقرری شامل ہے، جبکہ وہ حکومتی اور اپوزیشن بنچوں کے درمیان مکالمے کو بھی فروغ دیتا ہے۔
محمود اچکزئی کون؟
77 سالہ محمود خان اچکزئی پختون خوا ملی عوامی پارٹی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان نامی اتحاد کے سربراہ بھی ہیں، جبکہ پی ٹی آئی نے عمران خان کی قید کے بعد سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تمام تر اختیارات بھی محمود خان اچکزئی کو دے رکھے ہیں۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پیدا ہونے والے اچکزئی نے پشاور میں قائم یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے سول انجنئیرنگ میں بیچلرز کی ڈگری لے رکھی ہے۔ انہوں نے معروف پختون قوم پرست سیاستدان اور اپنے والد عبدالصمد خان اچکزئی کی وفات کے بعد ان کی جماعت پختون خوا ملی عوامی پارٹی کی سربراہی سنبھالی۔
وہ اس وقت بلوچستان کے دو اضلاع چمن اور قلعہ عبداللہ پر مشتمل حلقہ این اے 266 سے رکن قومی اسمبلی ہیں اور اس سے قبل بھی متعدد بار انتخابات جیت چکے ہیں۔
حال ہی میں محمود اچکزئی کے ساتھ اپنے پوڈ کاسٹ شو 'ان کہی‘ کے لیے تفصیلی انٹرویو کرنے والے صحافی اسد طور کا کہنا ہےکہ اچکزئی صاحب کی اپنی جماعت کافی کمزور پوزیشن میں ہے اور انہیں اس جانب بھی بھر پور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اسد طور کا کہنا تھا، ''پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) ، جہاں دیگر قوم پرست پختون سیاسی جماعتوں کی مقبولیت میں کمی لائی ہے، وہیں اچکزئی صاحب کی جماعت کو بھی کافی نقصان ہوا اور اس کا اندازہ یوں لگائیں کہ جماعتی پلیٹ فارم سے صرف وہ اپنی اکلوتی نشست ہی حاصل کر سکے ہیں۔‘‘
بلوچستان سے جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر اور سپریم کورٹ کے وکیل کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ سیاسی اور نظریاتی اختلافات کے باوجود وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ محمود اچکزئی جمہوریت اور آئین کی بالادستی پر یقین رکھنے والے سیاستدان ہیں۔ ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے کامران مرتضیٰ نے کہا،''اچکزئی صاحب اپنے والد اور خود اپنی شخصیت کی وجہ سے بھی پختون سیاست میں مقبول ہیں اور انہوں نے مختلف ادوار میں جمہوریت اور آئین کے لیے نمایاں جدوجہد کی ہے۔‘‘
تاہم کامران مرتضیٰ کے بقول ان کے لیے موجودہ حالات میں قائد حزب اختلاف بننا چیلنجز سے بھرپور ہو گا۔ اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ''اس وقت پاکستان میں قانون اور دستور کی نہیں بلکہ زور کو حکومت ہے، تو دیکھنا یہ ہو گا کہ اس سیاسی طور پر انتہائی گھٹن زدہ ماحول میں وہ (اچکزئی) کیا کردار ادا کرسکیں گے؟‘‘
محمود خان اچکزئی ملکی موجودہ سیاسی بحران میں آئین پر عمل اور جمہوری تسلسل کے تحفظ پر کھل کر زور دیتے ہیں۔ انہوں نے بار بار فوج، عدلیہ اور دیگر اداروں کے آئین کے دائرہ کار میں کام کرنے کی وکالت کی ہے اور سیاسی مداخلت سے باز رہنے کی تاکید کی ہے۔
صحافی اسد طور کے مطابق سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہو گا کہ فوج کے زیر اثر موجودہ حکومت اگر پانچ ماہ بعد محمود اچکزئی کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرنے پر راضی ہوئی تو اس کے درپردہ کیا محرکات تھے،''کیا کوئی ڈیل کی گئی اور اگر کی گئی تو اس کی نوعیت کیا ہے؟‘‘
پی ٹی آئی کی طرف سے خیرمقدم
پی ٹی آئی کے رکن ذوالفقار بخاری نے ایک بیان میں کہا، ''یہ اطمینان بخش ہے کہ آئینی تقاضے پورے کیے گئے اور محمود خان اچکزئی کو قائدِ حزبِ اختلاف مقرر کیا گیا۔ عمران خان کی طرح پوری جماعت کو بھی ان پر مکمل اعتماد ہے۔‘‘
تاہم سینیٹر کامران مرتضیٰ کے بقول پی ٹی آئی کی شکل میں محمود اچکزئی کو ایک اور بڑے چیلنج کا سامنا ہو گا، ''ہم دیکھ چکے ہیں کہ موجود صورتحال میں جب عمران خان خود جیل میں ہیں اور ان کا باہر کی دنیا سے رابطہ کم ہے، تو پی ٹی آئی کے اندر بھی قیادت کے حوالے سے بحران نظر آتا ہے، مختلف رہنما مختلف بیانات دے رہے ہوتے ہیں، ایسے میں اچکزئی صاحب کو بھی یہ دیکھنا ہو گا کہ وہ پی ٹی آئی پر کس حد تک اعتبار کر سکتے ہیں اور ان کے سیاسی مقاصد کی تکمیل میں ان کی کس حد تک مد کر سکتے ہیں۔‘‘
کامران مرتضیٰ کا مزید کہنا تھا، ''ہم ماضی میں دیکھ چکے ہیں کہ نوازشریف کے ساتھ قربت کی وجہ سے عمران خان اچکزئی صاحب پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے رہے ہیں اور اطلاعات اب بھی یہی ہیں کہ اچکزئی کے قائد حزب اختلاف بننے میں سب سے زیادہ موثر کردار نوازشریف نے ہی ادا کیا ہے اور اگر آگے چل کر اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ پی ٹی آئی کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ہو گا اور پھر اچکزئی صاحب کے لیے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔‘‘
اصل امتحان کیا ہو گا؟
صحافی اسد طور کے مطابق آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کرنے والے محمود اچکزئی کے لیے اصل امتحان اس پولیٹیکل اسپیس کو دوبارہ حاصل کرنا ہے، جو مختلف سیاسی جماعتیں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سمجھوتے کر کے کھو چکی ہیں، ''کیا محمود اچکزئی صاحب موجود صورتحال میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بٹھا کر یہ باور کرا سکتے ہیں کہ انہوں نے آپس کی لڑائی میں کتنا نقصان کر لیا ہے اور کس طرح وہ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں؟‘‘
اسد طور کے مطابق اگر نئے قائد حزب اختلاف سیاسی جماعتوں کے اختلافات کو ختم کراتے ہوئے انہیں جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے متحد کر لیتے ہیں، تو پھر شاید پی ٹی آئی اور ن لیگ کے درمیان جاری سیاسی ڈیڈ لاک بھی ختم ہو جائے اور آخر کار عمران خان کو بھی کچھ ریلیف مل سکے گا۔
ادارت: امتیاز احمد