اسرائیل اور حزب اللہ دوطرفہ سیزفائر پر متفق، عمل درآمد شروع
وقت اشاعت 19 جون 2026آخری اپ ڈیٹ 19 جون 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- ’پورے لبنان کو لازمی طور پر جلنا چاہیے،‘ چار فوجی ہلاکتوں کے بعد اسرائیلی وزیر بن گویر کا بیان
- حزب اللہ اور اسرائیل کے مابین لبنان جنگ میں سیزفائر پر اتفاق کے بعد عمل درآمد شروع بھی ہو گیا
- لبنان جنگ میں سیزفائر کے بغیر تہران کے امریکہ سے مذاکرات میں تعطل، ایران کا حزب اللہ کو پیغام
- آئل ریفائنری پر یوکرینی ڈرون حملے کے اعتراف کے ساتھ روس کا یوکرین پر حملوں کے تسلسل کا اعلان
- اسرائیل کا لبنان میں 80 سے زائد اہداف پر حملوں میں حزب اللہ کے ’درجنوں‘ ارکان کی ہلاکت کا دعویٰ
- غزہ پٹی کی جنگ میں اسرائیل کی طرف سے سیزفائر کی خلاف ورزیاں بند ہونا چاہییں، چینی مطالبہ
- جنوبی لبنان میں نئے اسرائیلی فضائی حملوں میں 18 افراد ہلاک، چار اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے
- عبوری امن ڈیل پر دستخطوں کے بعد سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے مابین مجوزہ مذاکرات ملتوی
’پورے لبنان کو لازمی طور پر جلنا چاہیے،‘ چار فوجی ہلاکتوں کے بعد اسرائیلی وزیر بن گویر کا بیان
اسرائیل میں وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف عسکری کارروائیوں کے دوران مارے جانے والے چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد جمعہ 19 جون کے روز کہا کہ اب ’’لازمی طور پر پورے لبنان کو جلنا چاہیے۔‘‘
لبنان جنگ میں اسرائیل اور حزب اللہ سیزفائر پر متفق، عمل درآمد شروع
یروشلم سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اپنے بہت متنازعہ اور اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے جانے جانے والے اس اسرائیلی وزیر نے اپنا یہ بیان اس وقت دیا جب اس بات کی اسرائیلی فوج کی طرف سے تصدیق کر دی گئی کہ جنوبی لبنان میں مزید چار اسرائیلی فوجی مارے گئے ہیں، جن میں لیفٹیننٹ کرنل کے رینک کا ایک افسر بھی شامل تھا۔
ان اسرائیلی فوجی ہلاکتوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ امریکہ اور ایران کے مابین عبوری امن ڈیل طے پانے کے بعد سے لبنان جنگ میں ہونے والی اولین اسرائیلی فوجی ہلاکتیں تھیں۔
امریکہ اور ایران نے ابتدائی امن معاہدے پر دستخط کر دیے
اس ہلاکتوں کی اسرائیلی فوج کی طرف سے ایک بیان میں تصدیق کے بعد قومی سلامتی کے ملکی وزیر ایتمار بن گویر کی طرف سے جو بیان جاری کیا گیا، اس میں انہوں نے کہا، ’’کسی بھی اسرائیلی ماں کی طرف سے بہائے جانے والے ہر آنسو کے بدلے ایک ہزار لبنانی ماؤں کو رونا پڑے گا۔‘‘
ساتھ ہی بن گویر نے اپنے بیان میں کہا، ’’مشرق وسطیٰ میں آپ نپے تلے ردعمل اور احتیاط پسندی سے نہیں جیت سکتے۔‘‘
ایرانی امریکی معاہدے سے حزب اللہ کے مضبوط ہونے کے امکانات
بن گویر کے اسی بیان کی طرز پر نیتن یاہو کابینہ کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک اور رکن اور ملکی وزیر خزانہ اسموٹریچ نے کہا کہ اسرائیل کو اب ’’اندھا دھند کارروائی کرنا چاہیے۔ ختم کر دو۔ دہشت گردی کو شکست دے دو۔‘‘
وزیر خزانہ اسموٹریچ نے لبنان کا نام لیے بغیر کہا، ’’لازم ہو گیا ہے کہ ہم اب آگ کے شعلوں کو بولنے کا موقع دیں، اور جہنم کے دروازے کھول دیں۔‘‘
امن ڈیل سے ایران جنگ کے خاتمے کا وعدہ، لیکن معاہدہ کام کیسے کرے گا؟
اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی طرف سے اسرائیل کے بن گویر اور اسموٹریچ جیسے وزراء کی طرف سے دیے جانے والے بیانات کے بعد کہا گیا کہ جیسے بیانات اس وقت دیے جا رہے ہیں، وہ اسرائیل کی ’’مستقل جنگ‘‘ کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔
بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا سخت ردعمل
بن گویر کے بیان کے بعد عباس عراقچی نے اس بارے میں ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا، ’’یہ بیانات کسی نسل کش خبطی انسان کی طرف سے نہیں دیے جا رہے، بلکہ اسرائیلی حکومت کے قومی سلامتی کے وزیر کی طرف سے دیے جا رہے ہیں، اور وہ بھی ایک پبلک پوسٹ میں۔‘‘
لبنان جنگ میں اسرائیل اور حزب اللہ میں سیزفائر پر اتفاق، عمل درآمد شروع بھی ہو گیا
لبنان جنگ میں جمعے کے روز قریب دو درجن تازہ ہلاکتوں کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین فائر بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ امریکی حکام نے اس سیزفائر کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ یہ فائر بندی جمعے کی سہ پہر سے مؤثر بھی ہو گئی۔
امریکہ میں واشنگٹن، اسرائیل میں یروشلم اور لبنان میں بیروت سے جمعہ 19 جون کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ لبنان جنگ میں اسرائیل اور ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مابین دوطرفہ فائر بندی پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے مجوزہ مذاکرات ملتوی
اس امریکی اہلکار کے مطابق، جس کا روئٹرز نے نام نہیں بتایا، یہ فائر بندی مقامی وقت کے مطابق سہ پہر چار بجے اور عالمی وقت کے مطابق بعد دوپہر ایک بجے شروع ہونا تھی، جس پر عمل درآمد اب شروع بھی ہو چکا ہے۔
تازہ فائر بندی قبل جنگ میں نئی شدت
اس فائر بندی سے قبل لبنان جنگ میں، ایران جنگ میں امریکہ اور ایران کے مابین عبوری امن معاہدے پر دستخطوں کے باوجود، جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات سے دوبارہ ہلاکت خیز شدت آ گئی تھی۔
امریکہ اور ایران نے ابتدائی امن معاہدے پر دستخط کر دیے
اس دوران اسرائیل نے جنوبی لبنان پر 80 سے زائد مقامات پر فضائی حملے کیے، جن میں اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ کے ’درجنوں‘ عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ بیروت میں لبنانی وزرات صحت کے مطابق گزشتہ رات اور آج جمعے کی صبح تک جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 18 افراد ہلاک اور 33 زخمی ہو گئے تھے۔
دوسری طرف اسرائیلی فوج نے بھی اپنے ایک بیان میں جمعے ہی کے روز تصدیق کر دی تھی کہ لبنان میں اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے مزید چار اسرائیلی فوجی مارے گئے، جن میں لیفٹیننٹ کرنل کے رینک کا ایک افسر بھی شامل تھا۔
ایرانی امریکی معاہدے سے حزب اللہ کے مضبوط ہونے کے امکانات
نئی فائر بندی میں امریکی، قطری اور ایرانی ثالثوں کا کردار
لبنان جنگ میں اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین آج طے پانے اور چند گھنٹوں کے بعد نافذ ہو جانے والی فائر بندی کے بارے میں امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ اس سیزفائر کے طے پانے میں امریکہ اور خلیجی ریاست قطر کے ثالثی کرنے والے نمائندوں کے ساتھ ساتھ ایران کی طرف سے کی جانے والی کوششیں بھی شامل رہیں۔
امن ڈیل سے ایران جنگ کے خاتمے کا وعدہ، لیکن معاہدہ کام کیسے کرے گا؟
اس امریکی اہلکار نے کہا، ’’ہمارے علم کے مطابق آج صبح تک ہونے والے حملوں کے تبادلے کے بعد اسرائہل اور حزب اللہ کے مابین اب فائر بندی پر عمل درآمد کا آغاز ہو چکا ہے۔‘‘
بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا سخت ردعمل
لبنان جنگ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے عبوری امریکی ایرانی امن معاہدے کے لیے اس وجہ سے مشکلات کا باعث بنی ہوئی ہے کہ اس عارضی امن ڈیل میں تمام محاذوں پر جنگ بندی کی شرط شامل ہے اور ایران کا کہنا ہے کہ جب تک دستخط شدہ مفاہمتی دستاویز پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہوتا، تب تک امریکہ کے ساتھ مزید کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔
لبنان جنگ میں سیزفائر کے بغیر امریکہ سے مذاکرات میں تعطل، ایران کا حزب اللہ کو پیغام
ایران نے مبینہ طور پر لبنان میں اپنی حلیف شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو یہ پیغام دیا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے تہران کے واشنگٹن کے ساتھ طے پانے والے عبوری امن معاہدے کے تحت جب تک لبنان جنگ سمیت تمام محاذوں پر جنگی کارروائیاں ختم نہیں ہوتیں، تب تک ایران امریکہ کے ساتھ اپنے مزید مذاکرات شروع نہیں کرے گا۔
ایران جنگ کے خاتمے کے لیے جی سیون رہنما ٹرمپ کے پلان کے حامی
لبنانی دارالحکومت بیروت سے جمعہ 19 جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق ایران نواز شیعہ ملیشیا سے تعلق رکھنے والے لبنانی پارلیمان کے ایک رکن حسن فضل اللہ نے روئٹرز کو بتایا کہ حزب اللہ کو تہران کی طرف سے یہ اطلاع دے دی گئی ہے کہ عبوری امن معاہدے اور 60 روزہ فائر بندی پر جامع عمل درآمد کے بغیر واشنگٹن کے ساتھ مزید کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔
حزب اللہ کے سربراہ کا ’جامع‘ جنگ بندی کا مطالبہ
سوئٹزرلینڈ میں امریکی ایرانی مذاکرات کا التوا
اس تناظر میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ’اسلام آباد مفاہمتی دستاویز‘ کہلانے والے جس میمورنڈم پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اس تنازعے میں ثالث ملک کے سربراہ حکومت کے طور پر اب دستخط کر چکے ہیں، اس کے تحت آج جمعہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں بیورگن شٹوک کے سیاحتی مقام پر امریکی ایرانی مذاکرات شروع ہونا تھے۔
مگر یہ مذاکرات عین آخری وقت پر ملتوی کر دیے گئے اور یہ اعلان بیرن میں سوئس وزارت خارجہ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ ان مذاکرات میں ایران سے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف اور امریکہ سے نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت متوقع تھی۔
اس التوا کے اعلان سے کچھ ہی دیر قبل امریکہ کی طرف سے بھی یہ کہہ دیا گیا تھا کہ بیورگن شٹوک مذاکرات ملتوی کر دیے گئے ہیں اور اب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سوئٹزرلینڈ نہیں جا رہے۔
ایرانی امریکی معاہدے سے حزب اللہ کے مضبوط ہونے کے امکانات
لبنانی پارلیمان میں حزب اللہ کے رکن کا موقف
بیروت میں لبنانی پارلیمان کے حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے جس رکن حسن فضل اللہ نے آج لبنان جنگ سے متعلق تہران کے حزب اللہ کو بھیجے گئے پیغام کا ذکر کیا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ لبنانی حکومت کو بھی اسرائیل کے ساتھ کسی بھی طرح کے براہ راست مذاکرات جاری رکھنے سے انکار کر دینا چاہیے۔
امن ڈیل سے ایران جنگ کے خاتمے کا وعدہ، لیکن معاہدہ کام کیسے کرے گا؟
انہوں نے اپنے اس مطالبے کے لیے دلیل یہ دی کہ جس طرح اسرائیل لبنان پر اپنے ہلاکت خیز حملے جاری رکھے ہوئے ہے، اس کی تمام تر ذمے داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔
حسن فضل اللہ نے روئٹرز کے ساتھ گفتگو میں یہ مطالبہ بھی کیا کہ بنیادی طور پر یہ امریکہ کی ذمے داری ہے کہ وہ ایران کے ساتھ طے شدہ عبوری امن ڈیل پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائے اور اپنی اسی ذمے داری کے تحت اسرائیل کو لبنان پر زمینی اور فضائی حملے جاری رکھنے سے باز رکھے۔
ادارت: رابعہ بگٹی
ماسکو آئل ریفائنری پر یوکرینی ڈرون حملے کے اعتراف کے ساتھ روس کا یوکرین پر حملوں کے تسلسل کا اعلان
روس نے یوکرین کے خلاف اپنی جنگ میں جمعہ 19 جون کے روز یہ اعتراف کر لیا کہ اس جنگ میں کییف کی طرف سے روسی دارالحکومت ماسکو کے قریب ایک آئل ریفائنری پر حال ہی میں ایک بڑا ڈرون حملہ کیا گیا، جس سے وہاں آگ لگ گئی تھی۔
یورپی رہنماؤں کی یوکرین اور روس جنگ بندی مذاکرات کی حمایت، براہِ راست بات چیت پر زور
نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق یہ یوکرینی ڈرون حملہ ایک دن پہلے ہی کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں روسی دارالحکومت کے مضافات میں ایک ایسی بہت بڑی آئل ریفائنری کو آگ لگ گئی تھی اور اس کی پیداوار روکنا پڑ گئی تھی، جو ماسکو کو صاف تیل کی ترسیل کے لیے کافی اہمیت کی حامل ہے۔
روس کی طرف سے یوکرین کے خلاف جنگ میں کییف کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی برائے نام ہی تصدیق کی جاتی ہے اور ایسی تفصیلات سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے، جن سے پتا چل سکے کہ کس یوکرینی جنگی حملے میں روس کو کتنا شدید نقصان ہوا۔
روس کی یوکرین کے خلاف جنگ آئندہ کیا رخ اختیار کر سکتی ہے؟
یوکرین جنگ: پوٹن کی سابق جرمن چانسلر کو ثالث بنانے کی تجویز، برلن محتاط
ماسکو کے نواح میں آئل ریفائنری پر یوکرینی ڈرون حملہ اتنا بڑا تھا کہ اب کریملن نے اس کی باقاعدہ تصدیق بھی کر دی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اس حملے کے تنائج (مادی نقصانات) کے ازالے (مرمت اور بحالی) کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعے کے روز ایک بریفنگ کے دوران یہ بھی کہا کہ روس کی طرف سے یوکرین کے خلاف حملے آئندہ بھی جاری رہیں گے۔
روس وکٹری ڈے پریڈ پر ممکنہ یوکرینی حملے سے خوف زدہ، زیلنسکی
اس بریفنگ کے دوران جب ایک صحافی نے کریملن کے ترجمان پسیکوف سے یہ پوچھا کہ آیا روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے بھی یوکرینی حملے سے آئل ریفائنری میں لگنے والی آگ کی ویڈیو فوٹیج دیکھی ہے، تو پیسکوف نے کہا کہ صحافیوں کو ان یوکرینی شہروں کی تصاویر دیکھنا چاہییں، جن پر روسی افواج حملے کر چکی ہیں۔
اسرائیل کا لبنان میں 80 سے زائد اہداف پر حملوں میں حزب اللہ کے ’درجنوں‘ ارکان کی ہلاکت کا دعویٰ
اسرائیلی فوج نے جمعہ 19 جون کے روز دعویٰ کیا کہ اس نے ہمسایہ ملک لبنان میں گزشتہ رات اور آج جمعے کی صبح بھی 80 سے زائد ایسے اہداف کو نشانہ بنایا، جو حزب اللہ کے ’دہشت گردانہ ڈھانچوں‘ کا حصہ تھے اور ان کارروائیوں میں اس ایران نواز لبنانی شیعہ ملیشیا کے ’درجنوں‘ ارکان کو ہلاک کر دیا گیا۔
ایرانی امریکی معاہدے سے حزب اللہ کے مضبوط ہونے کے امکانات
یروشلم سے موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی فوج نے مزید بتایا کہ اس نےحزب اللہ کے ٹھکانوں پر یہ حملے اس مسلح تنظیم کے عسکریت پسندوں کی طرف سے لبنان جنگ میں فائر بندی ڈیل کی خلاف ورزیوں کے جواب میں کیے۔
اسرائیل کی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’گزشتہ رات آئی ڈی ایف نے جنوبی لبنان میں نبطیہ کے علاقے اور سکیورٹی زون کے اندر اور اس سے باہر کے علاقوں میں بھی حزب اللہ کے دہشت گردانہ ڈھانچے کے حصوں، لانچنگ پوزیشنوں، دہشت گردوں اور ان کے کمانڈ مراکز پر 80 سے زیادہ حملے کیے۔‘‘
امن ڈیل سے ایران جنگ کے خاتمے کا وعدہ، لیکن معاہدہ کام کیسے کرے گا؟
بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا سخت ردعمل
بیان کے مطابق، ’’ان حملوں میں حزب اللہ کے ایسے درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا، جو ان کمانڈ سینٹرز اور لانچنگ پوزیشنوں کے ذریعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔‘‘
غزہ پٹی کی جنگ میں اسرائیل کی طرف سے سیزفائر کی خلاف ورزیاں بند ہونا چاہییں، چینی مطالبہ
اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کونگ نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ پٹی کے جنگ سے تباہ شدہ فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی طرف سے فائر بندی کی خلاف ورزیاں ختم ہونا چاہییں۔
آئرلینڈ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے آمدہ مصنوعات پر پابندی لگانے کا خواہاں
چینی دارالحکومت بیجنگ اور نیو یارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر سے جمعہ 19 جون کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق عالمی ادارے میں بیجنگ کے مستقل مندوب فو کونگ نے کہا کہ غزہ پٹی کے فلسطینی علاقے میں اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے، وہ وہاں طے شدہ اور نافذالعمل فائر بندی معاہدے کی واضح خلاف ورزیاں ہیں۔
چین کے سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا نے بتایا کہ چینی سفیر نے غزہ پٹی میں پائے جانے والے بحران کے موضوع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پٹی میں اسرائیلی فوج کے زیر قبضہ علاقے میں مسلسل توسیع کا عمل انتہائی تشویش ناک ہے۔
اقوام متحدہ کا اسرائیل سے غزہ میں 'نسل کشی‘ سے بچاؤ کا مطالبہ
یورپی یونین کی اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیوں کی منظوری
اپنے خطاب میں فو کونگ نے مطالبہ کیا کہ تمام فریقوں، خاص طور پر اسرائیل کو غزہ کی جنگ میں طے شدہ فائر بندی معاہدے کا پوری طرح احترام کرنا چاہیے اور وہ تمام اقدامات بند کرنا چاہییں، جو اس سیزفائر معاہدے کی بے دریغ خلاف ورزیوں کا باعث بن رہے ہیں۔
لبنان پر نئے اسرائیلی فضائی حملوں میں 18 افراد ہلاک، چار اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے
لبنانی وزرات صحت کی طرف سے جمعہ 19 جون کے روز بتایا گیا کہ جنوبی لبنان میں نئے اسرائیلی فضائی حملوں میں 18 افراد ہلاک ہو گئے۔ دوسری طرف اسرائیل نے بھی اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے مجوزہ مذاکرات ملتوی
لبنانی دارالحکومت سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق بیروت میں وزارت صحت نے تازہ ترین اسرائیلی فضائی حملوں کے بارے میں بتایا کہ جنوبی لبنان میں جمعے کے دن کی گئی یہ اسرائیلی فضائی کارروائیاں 18 افراد کی ہلاکت کا باعث بنیں۔
وزارت صحت کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’اسرائیل کی طرف سے کیے گئے شدید نوعیت کے فضائی حملے گزشتہ رات شروع ہو کر آج جمعے کی صبح تک جاری رہے، جن کی وجہ سے نشانہ بنائے گئے علاقوں سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو نکالنے کو کام بھی بری طرح متاثر ہوا۔‘‘
امریکہ اور ایران نے ابتدائی امن معاہدے پر دستخط کر دیے
ساتھ ہی اس لبنانی وزارت کی طرف سے کہا گیا، ’’ان اسرائیلی حملوں کے بعد ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق 18 افراد ہلاک اور 33 زخمی ہوئے اور یہ حملے جنوبی لبنان میں کم از کم 10 دیہات اور قصبوں میں کیے گئے۔‘‘
امریکی ایرانی امن ڈیل کے بعد سب سے خونریز کارروائی
جنوبی لبنان پر تازہ اسرائیلی حملوں اور لبنان جنگ میں مزید چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ایران جنگ میں واشنگٹن اور تہران کے مابین ایک عبوری امن معاہدے کے طور پر ’اسلام آباد مفاہمتی دستاویز‘ پر دستخط ہو جانے کے بعد سے یہ لبنان جنگ میں ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔
ایران جنگ کے خاتمے کے لیے جی سیون رہنما ٹرمپ کے پلان کے حامی
اس امن ڈیل کے تحت ایران جنگ کے عبوری خاتمے کے ساتھ ہی لبنان میں ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور اسرائیل کے مابین جنگ کا بھی خاتمہ ہوجانا چاہیے تھا، لیکن وہاں یہ خونریزی ابھی تک جاری ہے۔
اس وجہ سے یہ خدشات بھی پیدا ہو گئے ہیں کہ لبنان جنگ کا ختم نہ ہونا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے اب تک کی کوششوں سے حاصل شدہ نتائج کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے اور مستقبل میں ایران جنگ کا مستقل خاتمہ مشکل تر ہو سکتا ہے۔
جرمن فوج آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے مشن کی تیاری میں
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں ضرورت پڑنے پر جاری رکھے گا جبکہ ایسے حملوں کے جواب میں حزب اللہ کی طرف سے جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی فوجیوں پر حملے بھی کیے جاتے رہے ہیں۔
اسرائیلی لیفٹیننٹ کرنل سمیت چار فوجی ہلاک
اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس کے چار فوجی ’’لڑائی کے دوران اپنی خدمات انجام دیتے ہوئے‘‘ مارے گئے۔
امن ڈیل سے ایران جنگ کے خاتمے کا وعدہ، لیکن معاہدہ کام کیسے کرے گا؟
ان میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے کا ایک افسر، ڈور گیڈالیا بن سمہون بھی شامل ہے، جبکہ باقی تین فوجیوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ چاروں اسرائیلی فوجی کس جگہ پر ہونے والی لڑائی میں کب ہلاک ہو ئے۔
ایرانی امریکی معاہدے سے حزب اللہ کے مضبوط ہونے کے امکانات
اسی دوران ایک دوسرے بیان میں اسرائیلی فوج کی طرف سے یہ بھی کہا گہا کہ ایک ریزرو فوجی افسر ’’جنوبی لبنان میں ایک ڈرون حملے کے دوران ہونے والے دھماکے‘‘ میں شدید زخمی ہو گیا۔ اس ڈرون حملے میں چار دیگر اسرائیلی فوجی معمولی زخمی بھی ہوئے۔
ادارت: جاوید اختر
عبوری امن ڈیل پر دستخطوں کے بعد سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے مابین مجوزہ مذاکرات ملتوی
سوئس وزارت خارجہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ امریکہ، ایران، قطر اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات فی الحال مؤخر کر دیے گئے ہیں۔ وزارت کے مطابق سوئٹزرلینڈ ان مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری کے لیے بدستور تیار ہے، جبکہ بیورگن شٹوک میں جاری تیاریوں کا عمل بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ تاہم مذاکرات کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا سوئٹزرلینڈ کا طے شدہ دورہ بھی منسوخ کر دیا گیا۔
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق سوئس وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا،’’بیورگن شٹوک میں آج ہونے والے مذاکرات طے شدہ شیڈول کے مطابق نہیں ہوں گے۔‘‘ تاہم اس فیصلے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی۔
سوئس حکام اب تک مذاکرات کے مندرجات اور تفصیلات سے متعلق سوالات کو متعلقہ فریقین پر چھوڑتے رہے ہیں۔
جمعرات کی رات تک سوئٹزرلینڈ کم از کم تکنیکی سطح پر مذاکرات کے آغاز کی تیاری کر رہا تھا۔ ان مذاکرات میں امریکہ اور ایران کے نمائندوں کے علاوہ قطر اور پاکستان کے بہ طور ثالث کردار ادا کرنے کی توقع تھی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کی شام فریم ورک معاہدے پر علیحدہ علیحدہ دستخط کیے تھے۔ پاکستان کے مطابق یہ معاہدہ ’’فوری طور پر نافذ العمل‘‘ ہو گیا تھا۔
معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سمیت متعدد نکات شامل ہیں۔ فریم ورک کے تحت ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر اہم معاملات پر حتمی معاہدے کے لیے 60 روز کے اندر مذاکرات مکمل کیے جانے تھے۔
وینس کا دورہ ملتوی
اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکہ اور ایران معاہدے کے اگلے اقدامات پر بات چیت کے لیے سوئٹزرلینڈ کا دورہ ملتوی کر دیا ہے جو جمعے کو طے تھا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وائٹ ہاؤس نے جمعرات کی رات بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے نئے دور کی قیادت کے لیے سوئٹزرلینڈ کا دورہ ملتوی کر رہے ہیں۔
اس طرح جنگ کے خاتمے کے عبوری معاہدے کے مستقبل پر سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
ادارت: عاطف توقیر