1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اسرائیل اور حزب اللہ دوطرفہ سیزفائر پر متفق، عمل درآمد شروع

مقبول ملک اے پی، اے ایف پی، ڈی پی اے اور روئٹرز کے ساتھ
وقت اشاعت 19 جون 2026آخری اپ ڈیٹ 19 جون 2026

لبنان جنگ میں جمعے کے روز قریب دو درجن تازہ ہلاکتوں کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین فائر بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ امریکی حکام نے اس سیزفائر کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ یہ فائر بندی جمعے کی سہ پہر سے مؤثر بھی ہو گئی۔

https://p.dw.com/p/5Fgu6
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی تصویر کے ساتھ ایران کا قومی پرچم، ایک علامتی تصویر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی تصویر کے ساتھ ایران کا قومی پرچم، ایک علامتی تصویرتصویر: Taidgh Barron/ZUMA/picture alliance
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • ’پورے لبنان کو لازمی طور پر جلنا چاہیے،‘ چار فوجی ہلاکتوں کے بعد اسرائیلی وزیر بن گویر کا بیان
  • حزب اللہ اور اسرائیل کے مابین لبنان جنگ میں سیزفائر پر اتفاق کے بعد عمل درآمد شروع بھی ہو گیا
  • لبنان جنگ میں سیزفائر کے بغیر تہران کے امریکہ سے مذاکرات میں تعطل، ایران کا حزب اللہ کو پیغام
  • آئل ریفائنری پر یوکرینی ڈرون حملے کے اعتراف کے ساتھ روس کا یوکرین پر حملوں کے تسلسل کا اعلان
  • اسرائیل کا لبنان میں 80 سے زائد اہداف پر حملوں میں حزب اللہ کے ’درجنوں‘ ارکان کی ہلاکت کا دعویٰ
  • غزہ پٹی کی جنگ میں اسرائیل کی طرف سے سیزفائر کی خلاف ورزیاں بند ہونا چاہییں، چینی مطالبہ
  • جنوبی لبنان میں نئے اسرائیلی فضائی حملوں میں 18 افراد ہلاک، چار اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے
  • عبوری امن ڈیل پر دستخطوں کے بعد سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے مابین مجوزہ مذاکرات ملتوی
’پورے لبنان کو لازمی طور پر جلنا چاہیے،‘ چار فوجی ہلاکتوں کے بعد اسرائیلی وزیر بن گویر کا بیان سیکشن پر جائیں
19 جون 2026

’پورے لبنان کو لازمی طور پر جلنا چاہیے،‘ چار فوجی ہلاکتوں کے بعد اسرائیلی وزیر بن گویر کا بیان

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر یروشلم میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، فائل فوٹو
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر یروشلم میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، فائل فوٹوتصویر: Debbie Hill/UPI Photo/IMAGO

اسرائیل میں وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف عسکری کارروائیوں کے دوران مارے جانے والے چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد جمعہ 19 جون کے روز کہا کہ اب ’’لازمی طور پر پورے لبنان کو جلنا چاہیے۔‘‘

لبنان جنگ میں اسرائیل اور حزب اللہ سیزفائر پر متفق، عمل درآمد شروع

یروشلم سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اپنے بہت متنازعہ اور اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے جانے جانے والے اس اسرائیلی وزیر نے اپنا یہ بیان اس وقت دیا جب اس بات کی اسرائیلی فوج کی طرف سے تصدیق کر دی گئی کہ جنوبی لبنان میں مزید چار اسرائیلی فوجی مارے گئے ہیں، جن میں لیفٹیننٹ کرنل کے رینک کا ایک افسر بھی شامل تھا۔

ان اسرائیلی فوجی ہلاکتوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ امریکہ اور ایران کے مابین عبوری امن ڈیل طے پانے کے بعد سے لبنان جنگ میں ہونے والی اولین اسرائیلی فوجی ہلاکتیں تھیں۔

امریکہ اور ایران نے ابتدائی امن معاہدے پر دستخط کر دیے

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر خزانہ بیزالل اسموٹریچ
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر خزانہ بیزالل اسموٹریچتصویر: Saeed Qaq/SOPA Images/Sipa USA/picture alliance

اس ہلاکتوں کی اسرائیلی فوج کی طرف سے ایک بیان میں تصدیق کے بعد قومی سلامتی کے ملکی وزیر ایتمار بن گویر کی طرف سے جو بیان جاری کیا گیا، اس میں انہوں نے کہا، ’’کسی بھی اسرائیلی ماں کی طرف سے بہائے جانے والے ہر آنسو کے بدلے ایک ہزار لبنانی ماؤں کو رونا پڑے گا۔‘‘

ساتھ ہی بن گویر نے اپنے بیان میں کہا، ’’مشرق وسطیٰ میں آپ نپے تلے ردعمل اور احتیاط پسندی سے نہیں جیت سکتے۔‘‘

ایرانی امریکی معاہدے سے حزب اللہ کے مضبوط ہونے کے امکانات

بن گویر کے اسی بیان کی طرز پر نیتن یاہو کابینہ کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک اور رکن اور ملکی وزیر خزانہ اسموٹریچ نے کہا کہ اسرائیل کو اب ’’اندھا دھند کارروائی کرنا چاہیے۔ ختم کر دو۔ دہشت گردی کو شکست دے دو۔‘‘

وزیر خزانہ اسموٹریچ نے لبنان کا نام لیے بغیر کہا، ’’لازم ہو گیا ہے کہ ہم اب آگ کے شعلوں کو بولنے کا موقع دیں، اور جہنم کے دروازے کھول دیں۔‘‘

امن ڈیل سے ایران جنگ کے خاتمے کا وعدہ، لیکن معاہدہ کام کیسے کرے گا؟

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی تہران میں ملکی وزارت خارجہ میں لی گئی ایک تصویر
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچیتصویر: Sha Dati/Xinhua/IMAGO

اسی  دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی طرف سے اسرائیل کے بن گویر اور اسموٹریچ جیسے وزراء کی طرف سے دیے جانے والے بیانات کے بعد کہا گیا کہ جیسے بیانات اس وقت دیے جا رہے ہیں، وہ اسرائیل کی ’’مستقل جنگ‘‘ کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔

بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا سخت ردعمل

بن گویر کے بیان کے بعد عباس عراقچی نے اس بارے میں ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا، ’’یہ بیانات کسی نسل کش خبطی انسان کی طرف سے نہیں دیے جا رہے، بلکہ اسرائیلی حکومت کے قومی سلامتی کے وزیر کی طرف سے دیے جا رہے ہیں، اور وہ بھی ایک پبلک پوسٹ میں۔‘‘

https://p.dw.com/p/5FjGS
لبنان جنگ میں اسرائیل اور حزب اللہ میں سیزفائر پر اتفاق، عمل درآمد شروع بھی ہو گیا سیکشن پر جائیں
19 جون 2026

لبنان جنگ میں اسرائیل اور حزب اللہ میں سیزفائر پر اتفاق، عمل درآمد شروع بھی ہو گیا

جنوبی لبنان میں اپنے تباہ شدہ گاؤں میں لوٹنے والا ایک مقامی شیعہ رہنما، 15 جون کو لی گئی ایک  تصویر
جنوبی لبنان میں اپنے تباہ شدہ گاؤں میں لوٹنے والا ایک مقامی شیعہ رہنما، 15 جون کو لی گئی ایک تصویرتصویر: Mohammed Zaatari/AP Photo/picture alliance

لبنان جنگ میں جمعے کے روز قریب دو درجن تازہ ہلاکتوں کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین فائر بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ امریکی حکام نے اس سیزفائر کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ یہ فائر بندی جمعے کی سہ پہر سے مؤثر بھی ہو گئی۔

امریکہ میں واشنگٹن، اسرائیل میں یروشلم اور لبنان میں بیروت سے جمعہ 19 جون کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے نیوز  ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ لبنان جنگ میں اسرائیل اور ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مابین دوطرفہ فائر بندی پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے مجوزہ مذاکرات ملتوی

اس امریکی اہلکار کے مطابق، جس کا روئٹرز نے نام نہیں بتایا، یہ فائر بندی مقامی وقت کے مطابق سہ پہر چار بجے اور عالمی وقت کے مطابق بعد دوپہر ایک بجے شروع ہونا تھی، جس پر عمل درآمد اب شروع بھی ہو چکا ہے۔

بیروت میں لبنانی پارلیمان کے ایک اجلاس کی ایک تصویر۔ اس قومی پارلیمان میں حزب اللہ ایک بڑی منتخب سیاسی طاقت ہے
بیروت میں لبنانی پارلیمان کے ایک اجلاس کی ایک تصویر۔ اس قومی پارلیمان میں حزب اللہ ایک بڑی منتخب سیاسی طاقت ہےتصویر: Houssam Shbaro/Anadolu/picture alliance

تازہ فائر بندی قبل جنگ میں نئی شدت

اس فائر بندی سے قبل لبنان جنگ میں، ایران جنگ میں امریکہ اور ایران کے مابین عبوری امن معاہدے پر دستخطوں کے باوجود، جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات سے دوبارہ ہلاکت خیز شدت آ گئی تھی۔

امریکہ اور ایران نے ابتدائی امن معاہدے پر دستخط کر دیے

اس دوران اسرائیل نے جنوبی لبنان پر 80 سے زائد مقامات پر فضائی حملے کیے، جن میں اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ کے ’درجنوں‘ عسکریت پسندوں‌ کو ہلاک کر دیا گیا۔ بیروت میں لبنانی وزرات صحت کے مطابق گزشتہ رات اور آج جمعے کی صبح تک جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 18 افراد ہلاک اور 33 زخمی ہو گئے تھے۔

دوسری طرف اسرائیلی فوج نے بھی اپنے ایک بیان میں جمعے ہی کے روز تصدیق کر دی تھی کہ لبنان میں اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے مزید چار اسرائیلی فوجی مارے گئے، جن میں لیفٹیننٹ کرنل کے رینک کا ایک افسر بھی شامل تھا۔

ایرانی امریکی معاہدے سے حزب اللہ کے مضبوط ہونے کے امکانات

واشنگٹن میں تین جون کو لبنان اور اسرائیل کے مابین امریکی ثالثی میں ہونے والے براہ راست مذاکرات کے موقع پر لی گئی ایک تصویر
واشنگٹن میں تین جون کو لبنان اور اسرائیل کے مابین امریکی ثالثی میں ہونے والے براہ راست مذاکرات کے موقع پر لی گئی ایک تصویرتصویر: Nathan Howard/REUTERS

نئی فائر بندی میں امریکی، قطری اور ایرانی ثالثوں کا کردار

لبنان جنگ میں اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین آج طے پانے اور چند گھنٹوں کے بعد نافذ ہو جانے والی فائر بندی کے بارے میں امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ اس سیزفائر کے طے پانے میں امریکہ اور خلیجی ریاست قطر کے ثالثی کرنے والے نمائندوں کے ساتھ ساتھ ایران کی طرف سے کی جانے والی کوششیں بھی شامل رہیں۔

امن ڈیل سے ایران جنگ کے خاتمے کا وعدہ، لیکن معاہدہ کام کیسے کرے گا؟

اس امریکی اہلکار نے کہا، ’’ہمارے علم کے مطابق آج صبح تک ہونے والے حملوں کے تبادلے کے بعد اسرائہل اور حزب اللہ کے مابین اب فائر بندی پر عمل درآمد کا آغاز ہو چکا ہے۔‘‘

بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا سخت ردعمل

لبنان جنگ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے عبوری امریکی ایرانی امن معاہدے کے لیے اس وجہ سے مشکلات کا باعث بنی ہوئی ہے کہ اس عارضی امن ڈیل میں تمام محاذوں پر جنگ بندی کی شرط شامل ہے اور ایران کا کہنا ہے کہ جب تک دستخط شدہ مفاہمتی دستاویز پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہوتا، تب تک امریکہ کے ساتھ مزید کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

https://p.dw.com/p/5FjBB
لبنان جنگ میں سیزفائر کے بغیر امریکہ سے مذاکرات میں تعطل، ایران کا حزب اللہ کو پیغام سیکشن پر جائیں
19 جون 2026

لبنان جنگ میں سیزفائر کے بغیر امریکہ سے مذاکرات میں تعطل، ایران کا حزب اللہ کو پیغام

اس تصویر میں جنوبی لبنان کے شہر صور پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد کا ایک منظر
جنوبی لبنان کے شہر صور پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد کا ایک منظرتصویر: Kawnat Haju/AFP

ایران نے مبینہ طور پر لبنان میں اپنی حلیف شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو یہ پیغام دیا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے تہران کے واشنگٹن کے ساتھ طے پانے والے عبوری امن معاہدے کے تحت جب تک لبنان جنگ سمیت تمام محاذوں پر جنگی کارروائیاں ختم نہیں ہوتیں، تب تک ایران امریکہ کے ساتھ اپنے مزید مذاکرات شروع نہیں کرے گا۔

ایران جنگ کے خاتمے کے لیے جی سیون رہنما ٹرمپ کے پلان کے حامی

لبنانی دارالحکومت بیروت سے جمعہ 19 جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق ایران نواز شیعہ ملیشیا سے تعلق رکھنے والے لبنانی پارلیمان کے ایک رکن حسن فضل اللہ نے روئٹرز کو بتایا کہ حزب اللہ کو تہران کی طرف سے یہ اطلاع دے دی گئی ہے کہ عبوری امن معاہدے اور 60 روزہ فائر بندی پر جامع عمل درآمد کے بغیر واشنگٹن کے ساتھ مزید کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔

حزب اللہ کے سربراہ کا ’جامع‘ جنگ بندی کا مطالبہ

اس تصویر میں لبنان کی جنگ میں کئی تباہ شدہ عمارات کے ملبے کے درمیان میں کھڑی کچھ دیکھتی ایک کم سن بچی
لبنان کی جنگ میں کئی تباہ شدہ عمارات کے ملبے کے درمیان میں کھڑی کچھ دیکھتی ایک کم سن بچیتصویر: Mohammed Zaatari/AP Photo/picture alliance

سوئٹزرلینڈ میں امریکی ایرانی مذاکرات کا التوا

اس تناظر میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ’اسلام آباد مفاہمتی دستاویز‘ کہلانے والے جس میمورنڈم پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اس تنازعے میں ثالث ملک کے سربراہ حکومت کے طور پر اب دستخط کر چکے ہیں، اس کے تحت آج جمعہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں بیورگن شٹوک کے سیاحتی مقام پر امریکی ایرانی مذاکرات شروع ہونا تھے۔

مگر یہ مذاکرات عین آخری وقت پر ملتوی کر دیے گئے اور یہ اعلان بیرن میں سوئس وزارت خارجہ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ ان مذاکرات میں ایران سے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف اور امریکہ سے نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت متوقع تھی۔

اس التوا کے اعلان سے کچھ ہی دیر قبل امریکہ کی طرف سے بھی یہ کہہ دیا گیا تھا کہ بیورگن شٹوک مذاکرات ملتوی کر دیے گئے ہیں اور اب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سوئٹزرلینڈ نہیں جا رہے۔

ایرانی امریکی معاہدے سے حزب اللہ کے مضبوط ہونے کے امکانات

اس تصویر میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی توپ جانے سے گولہ باری کے بعد کا ایک منظر
لبنان کی جنگ میں دو مارچ سے اب تک ساڑھے تین ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیںتصویر: AFP

لبنانی پارلیمان میں حزب اللہ کے رکن کا موقف

بیروت میں لبنانی پارلیمان کے حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے جس رکن حسن فضل اللہ نے آج لبنان جنگ سے متعلق تہران کے حزب اللہ کو بھیجے گئے پیغام کا ذکر کیا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ لبنانی حکومت کو بھی اسرائیل کے ساتھ کسی بھی طرح کے براہ راست مذاکرات جاری رکھنے سے انکار کر دینا چاہیے۔

امن ڈیل سے ایران جنگ کے خاتمے کا وعدہ، لیکن معاہدہ کام کیسے کرے گا؟

انہوں نے اپنے اس مطالبے کے لیے دلیل یہ دی کہ جس طرح اسرائیل لبنان پر اپنے ہلاکت خیز حملے جاری رکھے ہوئے ہے، اس کی تمام تر ذمے داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔

حسن فضل اللہ نے روئٹرز کے ساتھ گفتگو میں یہ مطالبہ بھی کیا کہ بنیادی طور پر یہ امریکہ کی ذمے داری ہے کہ وہ ایران کے ساتھ طے شدہ عبوری امن ڈیل پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائے اور اپنی اسی ذمے داری کے تحت اسرائیل کو لبنان پر زمینی اور فضائی حملے جاری رکھنے سے باز رکھے۔
ادارت: رابعہ بگٹی

حزب اللہ لبنان میں طاقت ور کیوں ہے؟

https://p.dw.com/p/5Fizm
ماسکو آئل ریفائنری پر یوکرینی ڈرون حملے کے اعتراف کے ساتھ روس کا یوکرین پر حملوں کے تسلسل کا اعلان سیکشن پر جائیں
19 جون 2026

ماسکو آئل ریفائنری پر یوکرینی ڈرون حملے کے اعتراف کے ساتھ روس کا یوکرین پر حملوں کے تسلسل کا اعلان

ماسکو کے مضافات میں ایک روسی آئل ریفائنری پر یوکرینی ڈرون حملے سے لگنے والی آگ کے شعلے اور آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے گہرے دھوئیں کے بادل (تصویر)، اس وجہ سے کئی قریبی سڑکوں پر ٹریفک بھی جام ہو گئی
ماسکو کے مضافات میں ایک روسی آئل ریفائنری پر یوکرینی ڈرون حملے سے لگنے والی آگ کے شعلے اور آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے گہرے دھوئیں کے بادل۔ اس وجہ سے کئی قریبی سڑکوں پر ٹریفک بھی جام ہو گئیتصویر: Sefa Karacan/Anadolu/picture alliance

روس نے یوکرین کے خلاف اپنی جنگ میں جمعہ 19 جون کے روز یہ اعتراف کر لیا کہ اس جنگ میں کییف کی طرف سے روسی دارالحکومت ماسکو کے قریب ایک آئل ریفائنری پر حال ہی میں ایک بڑا ڈرون حملہ کیا گیا، جس سے وہاں آگ لگ گئی تھی۔

یورپی رہنماؤں کی یوکرین اور روس جنگ بندی مذاکرات کی حمایت، براہِ راست بات چیت پر زور

نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق یہ یوکرینی ڈرون حملہ ایک دن پہلے ہی کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں روسی دارالحکومت کے مضافات میں ایک ایسی بہت بڑی آئل ریفائنری کو آگ لگ گئی تھی اور اس کی پیداوار روکنا پڑ گئی تھی، جو ماسکو کو صاف تیل کی ترسیل کے لیے کافی اہمیت کی حامل ہے۔

روس کی طرف سے یوکرین کے خلاف جنگ میں کییف کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی برائے نام ہی تصدیق کی جاتی ہے اور ایسی تفصیلات سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے، جن سے پتا چل سکے کہ کس یوکرینی جنگی حملے میں روس کو کتنا شدید نقصان ہوا۔

روس کی یوکرین کے خلاف جنگ آئندہ کیا رخ اختیار کر سکتی ہے؟

ماسکو میں یوکرینی ڈرون حملے کے بعد آتشزدگی کا شکار ہونے والی آئل ریفائنری (تصویر) ریاستی انتظام میں کام کرنے والے روسی ادارے گیس پروم نیفٹ کی ملکیت ہے
ماسکو میں یوکرینی ڈرون حملے کے بعد آتشزدگی کا شکار ہونے والی آئل ریفائنری (تصویر) ریاستی انتظام میں کام کرنے والے روسی ادارے گیس پروم نیفٹ کی ملکیت ہےتصویر: REUTERS

یوکرین جنگ: پوٹن کی سابق جرمن چانسلر کو ثالث بنانے کی تجویز، برلن محتاط

ماسکو کے نواح میں آئل ریفائنری پر یوکرینی ڈرون حملہ اتنا بڑا تھا کہ اب کریملن نے اس کی باقاعدہ تصدیق بھی کر دی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اس حملے کے تنائج (مادی نقصانات) کے ازالے (مرمت اور بحالی) کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعے کے روز ایک بریفنگ کے دوران یہ بھی کہا کہ روس کی طرف سے یوکرین کے خلاف حملے آئندہ بھی جاری رہیں گے۔

روس وکٹری ڈے پریڈ پر ممکنہ یوکرینی حملے سے خوف زدہ، زیلنسکی

اس بریفنگ کے دوران جب ایک صحافی نے کریملن کے ترجمان پسیکوف سے یہ پوچھا کہ آیا روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے بھی یوکرینی حملے سے آئل ریفائنری میں لگنے والی آگ کی ویڈیو فوٹیج دیکھی ہے، تو پیسکوف نے کہا کہ صحافیوں کو ان یوکرینی شہروں کی تصاویر دیکھنا چاہییں، جن پر روسی افواج حملے کر چکی ہیں۔

یوکرین میں جنگ کے چار سال، کب کیا ہوا؟

https://p.dw.com/p/5FiLY
اسرائیل کا لبنان میں 80 سے زائد اہداف پر حملوں میں حزب اللہ کے ’درجنوں‘ ارکان کی ہلاکت کا دعویٰ سیکشن پر جائیں
19 جون 2026

اسرائیل کا لبنان میں 80 سے زائد اہداف پر حملوں میں حزب اللہ کے ’درجنوں‘ ارکان کی ہلاکت کا دعویٰ

جنوبی لبنان میں دیر قانون نامی گاؤں پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد فضا میں اٹھنے والا دھواں
جنوبی لبنان میں ایک گاؤں پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد فضا میں اٹھنے والا دھواںتصویر: Kawnat Haju/AFP

اسرائیلی فوج نے جمعہ 19 جون کے روز دعویٰ کیا کہ اس نے ہمسایہ ملک لبنان میں گزشتہ رات اور آج جمعے کی صبح بھی 80 سے زائد ایسے اہداف کو نشانہ بنایا، جو حزب اللہ کے ’دہشت گردانہ ڈھانچوں‘ کا حصہ تھے اور ان کارروائیوں میں اس ایران نواز لبنانی شیعہ ملیشیا کے ’درجنوں‘ ارکان کو ہلاک کر دیا گیا۔

ایرانی امریکی معاہدے سے حزب اللہ کے مضبوط ہونے کے امکانات

یروشلم سے موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی فوج نے مزید بتایا کہ اس نےحزب اللہ کے ٹھکانوں پر یہ حملے اس مسلح تنظیم کے عسکریت پسندوں کی طرف سے لبنان جنگ میں فائر بندی ڈیل کی خلاف ورزیوں کے جواب میں کیے۔

اسرائیل کی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’گزشتہ رات آئی ڈی ایف نے  جنوبی لبنان میں نبطیہ کے علاقے اور سکیورٹی زون کے اندر اور اس سے باہر کے علاقوں میں بھی حزب اللہ کے دہشت گردانہ ڈھانچے کے حصوں، لانچنگ پوزیشنوں، دہشت گردوں اور ان کے کمانڈ مراکز پر 80 سے زیادہ حملے کیے۔‘‘

امن ڈیل سے ایران جنگ کے خاتمے کا وعدہ، لیکن معاہدہ کام کیسے کرے گا؟

اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنے زمینی دستے (تصویر) کئی مہینوں سے تعینات کر رکھے ہیں، جنہوں نے وہاں ایک نام نہاد سکیورٹی زون بھی قائم کر رکھا ہے
اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنے زمینی دستے کئی مہینوں سے تعینات کر رکھے ہیں، جنہوں نے وہاں ایک نام نہاد سکیورٹی زون بھی قائم کر رکھا ہےتصویر: Israel Defense Forces/Handout/Xinhua/picture alliance

بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا سخت ردعمل

بیان کے مطابق، ’’ان حملوں میں حزب اللہ کے ایسے درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا، جو ان کمانڈ سینٹرز اور لانچنگ پوزیشنوں کے ذریعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔‘‘

https://p.dw.com/p/5Fi0V
غزہ پٹی کی جنگ میں اسرائیل کی طرف سے سیزفائر کی خلاف ورزیاں بند ہونا چاہییں، چینی مطالبہ سیکشن پر جائیں
19 جون 2026

غزہ پٹی کی جنگ میں اسرائیل کی طرف سے سیزفائر کی خلاف ورزیاں بند ہونا چاہییں، چینی مطالبہ

اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کونگ
اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کونگتصویر: Ng Han Guan/AP/picture alliance

اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کونگ نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ پٹی کے جنگ سے تباہ شدہ فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی طرف سے فائر بندی کی خلاف ورزیاں ختم ہونا چاہییں۔

آئرلینڈ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے آمدہ مصنوعات پر پابندی لگانے کا خواہاں

چینی دارالحکومت بیجنگ اور نیو یارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر سے جمعہ 19 جون کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق عالمی ادارے میں بیجنگ کے مستقل مندوب فو کونگ نے کہا کہ غزہ پٹی کے فلسطینی علاقے میں اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے، وہ وہاں طے شدہ اور نافذالعمل فائر بندی معاہدے کی واضح خلاف ورزیاں ہیں۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا نے بتایا کہ چینی سفیر نے غزہ پٹی میں پائے جانے والے بحران کے موضوع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پٹی میں اسرائیلی فوج کے زیر قبضہ علاقے میں مسلسل توسیع کا عمل انتہائی تشویش ناک ہے۔

اقوام متحدہ کا اسرائیل سے غزہ میں 'نسل کشی‘ سے بچاؤ کا مطالبہ

غزہ پٹی کے ساتھ سرحد پر موجود اسرائیلی ٹینک اور ان پر کھڑے ہوئے فوجی
غزہ پٹی کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اور سیزفائر کے دوران بھی اسرائیلی فوج اب تک اس بہت گنجان آباد لیکن تنگ ساحلی پٹی کے وسیع تر حصے پر قبضہ کر چکی ہےتصویر: Jack Guez/AFP/Getty Images

یورپی یونین کی اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیوں کی منظوری

اپنے خطاب میں فو کونگ نے مطالبہ کیا کہ تمام فریقوں، خاص طور پر اسرائیل کو غزہ کی جنگ میں طے شدہ فائر بندی معاہدے کا پوری طرح احترام کرنا چاہیے اور وہ تمام اقدامات بند کرنا چاہییں، جو اس سیزفائر معاہدے کی بے دریغ خلاف ورزیوں کا باعث بن رہے ہیں۔

https://p.dw.com/p/5FhjJ
لبنان پر نئے اسرائیلی فضائی حملوں میں 18 افراد ہلاک، چار اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے سیکشن پر جائیں
19 جون 2026

لبنان پر نئے اسرائیلی فضائی حملوں میں 18 افراد ہلاک، چار اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے

جنوبی لبنان پر جمعے کے روز تازہ اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد فضا میں اٹھتا ہوا دھواں
جنوبی لبنان پر تازہ اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد فضا میں اٹھتا ہوا دھواںتصویر: Jalaa Marey/AFP

لبنانی وزرات صحت کی طرف سے جمعہ 19 جون کے روز بتایا گیا کہ جنوبی لبنان میں نئے اسرائیلی فضائی حملوں میں 18 افراد ہلاک ہو گئے۔ دوسری طرف اسرائیل نے بھی اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے مجوزہ مذاکرات ملتوی

لبنانی دارالحکومت سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق بیروت میں وزارت صحت نے تازہ ترین اسرائیلی فضائی حملوں کے بارے میں بتایا کہ جنوبی لبنان میں جمعے کے دن کی گئی یہ اسرائیلی فضائی کارروائیاں 18 افراد کی ہلاکت کا باعث بنیں۔

وزارت صحت کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’اسرائیل کی طرف سے کیے گئے شدید نوعیت کے فضائی حملے گزشتہ رات شروع ہو کر آج جمعے کی صبح تک جاری رہے، جن کی وجہ سے نشانہ بنائے گئے علاقوں سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو نکالنے کو کام بھی بری طرح متاثر ہوا۔‘‘

امریکہ اور ایران نے ابتدائی امن معاہدے پر دستخط کر دیے

جنوبی لبنان میں ایک دیہی سڑک پر موجود ایک اسرائیلی فوجی ٹینک
جنوبی لبنان میں ایک دیہی سڑک پر موجود ایک اسرائیلی فوجی ٹینکتصویر: Ariel Schalit/AP Photo/picture alliance

ساتھ ہی اس لبنانی وزارت کی طرف سے کہا گیا، ’’ان اسرائیلی حملوں کے بعد ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق 18 افراد ہلاک اور 33 زخمی ہوئے اور یہ حملے جنوبی لبنان میں کم از کم 10 دیہات اور قصبوں میں کیے گئے۔‘‘

امریکی ایرانی امن ڈیل کے بعد سب سے خونریز کارروائی

جنوبی لبنان پر تازہ اسرائیلی حملوں اور لبنان جنگ میں مزید چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ایران جنگ میں واشنگٹن اور تہران کے مابین ایک عبوری امن معاہدے کے طور پر ’اسلام آباد مفاہمتی دستاویز‘ پر دستخط ہو جانے کے بعد سے یہ لبنان جنگ میں ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

ایران جنگ کے خاتمے کے لیے جی سیون رہنما ٹرمپ کے پلان کے حامی

اس امن ڈیل کے تحت ایران جنگ کے عبوری خاتمے کے ساتھ ہی لبنان میں ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور اسرائیل کے مابین جنگ کا بھی خاتمہ ہوجانا چاہیے تھا، لیکن وہاں یہ خونریزی ابھی تک جاری ہے۔

جنوبی لبنان کے ضلع صور میں ایک اسرائیلی فضائی حملے کے بعد کا منظر
جنوبی لبنان پر تازہ اسرائیلی فضائی حملے جمعرات کی رات شروع ہو کر جمعے کی صبح تک جاری رہےتصویر: Abdul Kader Al Bay/ZUMA/IMAGO

اس وجہ سے یہ خدشات بھی پیدا ہو گئے ہیں کہ لبنان جنگ کا ختم نہ ہونا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے اب تک کی کوششوں سے حاصل شدہ نتائج کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے اور مستقبل میں ایران جنگ کا مستقل خاتمہ مشکل تر ہو سکتا ہے۔

جرمن فوج آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے مشن کی تیاری میں

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں ضرورت پڑنے پر جاری رکھے گا جبکہ ایسے حملوں کے جواب میں حزب اللہ کی طرف سے جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی فوجیوں پر حملے بھی کیے جاتے رہے ہیں۔

اسرائیلی لیفٹیننٹ کرنل سمیت چار فوجی ہلاک

اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس کے چار فوجی ’’لڑائی کے دوران اپنی خدمات انجام دیتے ہوئے‘‘ مارے گئے۔

امریکی صدر ٹرمپ (بائیں) نے فرانسیسی صدر ماکروں کی موجودگی میں ایران کے ساتھ مفاہمتی دستاویز پر دستخط پیرس کے نواح میں ایک عشائیے کے دوران بدھ کی رات کیے تھے
امریکی صدر ٹرمپ (بائیں) نے فرانسیسی صدر ماکروں کی موجودگی میں ایران کے ساتھ مفاہمتی دستاویز پر دستخط پیرس کے نواح میں ایک عشائیے کے دوران بدھ کی رات کیے تھےتصویر: @EmmanuelMacron/AFP

امن ڈیل سے ایران جنگ کے خاتمے کا وعدہ، لیکن معاہدہ کام کیسے کرے گا؟

ان میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے کا ایک افسر، ڈور گیڈالیا بن سمہون بھی شامل ہے، جبکہ باقی تین فوجیوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ چاروں اسرائیلی فوجی کس جگہ پر ہونے والی لڑائی میں کب ہلاک ہو ئے۔

ایرانی امریکی معاہدے سے حزب اللہ کے مضبوط ہونے کے امکانات

اسی دوران ایک دوسرے بیان میں اسرائیلی فوج کی طرف سے یہ بھی کہا گہا کہ ایک ریزرو فوجی افسر ’’جنوبی لبنان میں ایک ڈرون حملے کے دوران ہونے والے دھماکے‘‘ میں شدید زخمی ہو گیا۔ اس ڈرون حملے میں چار دیگر اسرائیلی فوجی معمولی زخمی بھی ہوئے۔

ادارت: جاوید اختر

امریکہ، ایران معاہدہ: لبنان کا کیا بنے گا؟

https://p.dw.com/p/5FhJC
عبوری امن ڈیل پر دستخطوں کے بعد سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے مابین مجوزہ مذاکرات ملتوی سیکشن پر جائیں
وقت اشاعت 19 جون 2026آخری اپ ڈیٹ 19 جون 2026

عبوری امن ڈیل پر دستخطوں کے بعد سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے مابین مجوزہ مذاکرات ملتوی

سوئٹرزلینڈ میں بیورگن شٹوک کے پہاڑی علاقے کے نام کا بورڈ
جمعرات کی رات تک سوئٹزرلینڈ کم از کم تکنیکی سطح پر مذاکرات کے آغاز کی تیاری کر رہا تھا۔تصویر: Köbi Schenkel/IMAGO

سوئس وزارت خارجہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ امریکہ، ایران، قطر اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات فی الحال مؤخر کر دیے گئے ہیں۔ وزارت کے مطابق سوئٹزرلینڈ ان مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری کے لیے بدستور تیار ہے، جبکہ بیورگن شٹوک میں جاری تیاریوں کا عمل بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ تاہم مذاکرات کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا سوئٹزرلینڈ کا طے شدہ دورہ بھی منسوخ کر دیا گیا۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق سوئس وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا،’’بیورگن شٹوک میں آج ہونے والے مذاکرات طے شدہ شیڈول کے مطابق نہیں ہوں گے۔‘‘ تاہم اس فیصلے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی۔

سوئس حکام اب تک مذاکرات کے مندرجات اور تفصیلات سے متعلق سوالات کو متعلقہ فریقین پر چھوڑتے رہے ہیں۔

جمعرات کی رات تک سوئٹزرلینڈ کم از کم تکنیکی سطح پر مذاکرات کے آغاز کی تیاری کر رہا تھا۔ ان مذاکرات میں امریکہ اور ایران کے نمائندوں کے علاوہ قطر اور پاکستان کے بہ طور ثالث کردار ادا کرنے کی توقع تھی۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کی شام فریم ورک معاہدے پر علیحدہ علیحدہ دستخط کیے تھے۔ پاکستان کے مطابق یہ معاہدہ ’’فوری طور پر نافذ العمل‘‘ ہو گیا تھا۔

معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سمیت متعدد نکات شامل ہیں۔ فریم ورک کے تحت ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر اہم معاملات پر حتمی معاہدے کے لیے 60 روز کے اندر مذاکرات مکمل کیے جانے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فرانس میں ایران امریکہ فریم ورک معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کی شام فریم ورک معاہدے پر علیحدہ علیحدہ دستخط کیے تھےتصویر: Daniel Torok/White House/ZUMA/picture alliance

وینس کا دورہ ملتوی

اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکہ اور ایران معاہدے کے اگلے اقدامات پر بات چیت کے لیے سوئٹزرلینڈ کا دورہ ملتوی کر دیا ہے جو جمعے کو طے تھا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وائٹ ہاؤس نے جمعرات کی رات بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے نئے دور کی قیادت کے لیے سوئٹزرلینڈ کا دورہ ملتوی کر رہے ہیں۔

اس طرح جنگ کے خاتمے کے عبوری معاہدے کے مستقبل پر سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔

ادارت: عاطف توقیر

https://p.dw.com/p/5Fguo
مزید پوسٹیں
Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔