اسرائیلی فوج کا غزہ سے جزوی انخلا شروع
وقت اشاعت 10 اکتوبر 2025آخری اپ ڈیٹ 10 اکتوبر 2025
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- اسرائیلی فوج کا غزہ سے جزوی انخلا شروع
- غزہ میں جنگ بندی پر عمل شروع ہو چکا ہے، اسرائیل
- جرمن چانسلر کا غزہ میں جنگ بندی کا خیرمقدم، امن منصوبے پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا
- اسرائیل نے غزہ معاہدے کے پہلے مرحلے کی منظوری دے دی ہے
- ٹرمپ کی نظریں نوبل امن انعام پر
غزہ کے شہری زیرقبضہ علاقوں میں داخل نہ ہوں، اسرائیلی فوج کا انتباہ
اسرائیلی فوج نے جمعہ دس اکتوبر کے روز غزہ کے شہریوں کو متنبہ کیا کہ وہ ان علاقوں میں داخل نہ ہوں، جو اب بھی اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں کیونکہ جنگ بندی کے باوجود بعض مقامات پر خطرہ برقرار ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے ایک پریس بریفنگ میں کہا، ’’میں غزہ کے شہریوں سے کہتا ہوں کہ وہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے زیرقبضہ علاقوں میں داخل نہ ہوں۔ معاہدے کی پاسداری کریں اور اپنی حفاظت کو یقینی بنائیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج حماس کے خلاف اپنے مقاصد حاصل کر چکی ہے، ’’حماس اب وہ حماس نہیں رہی جو وہ دو سال پہلے تھی۔ جہاں جہاں ہم نے ان سے لڑائی کی، وہ ہر جگہ شکست کھا چکے ہیں۔‘‘
یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب امریکی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کے بعد غزہ کے مختلف علاقوں میں جمعے ہی کے روز ہزاروں بے گھر فلسطینی اپنے تباہ شدہ گھروں کی طرف واپس جانے لگے۔
غزہ کے شہریوں کے قافلے شمال کی جانب، خاص طور پرغزہ سٹی اور وسطی غزہ پٹی کے علاقوں کی طرف بڑھنے لگے ہیں، جہاں حالیہ ہفتوں میں شدید لڑائی اور بمباری ہوئی تھی۔ مقامی ذرائع کے مطابق کئی مقامات پر فوجی نقل و حرکت اب بھی دیکھی جا رہی ہے۔
اسرائیلی دفاعی افواج کے مطابق جنگ بندی دوپہر کے وقت نافذ ہوئی، جس کے بعد اسرائیلی دستوں نے غزہ کے بعض حصوں سے جزوی انخلا شروع کر دیا۔ تاہم فوج کا کہنا ہے کہ چند اہم علاقوں میں اس کی موجودگی برقرار رہے گی تاکہ ’’حفاظتی نگرانی‘‘ جاری رکھی جا سکے۔
غزہ پٹی کے باشندے امید ظاہر کر ر ہے ہیں کہ یہ جنگ بندی دو سال سے جاری تباہ کن لڑائی کے حتمی خاتمے کی طرف ایک حقیقی قدم ثابت ہو گی۔
امن انعام وینزویلا کی رہنما کے نام، وائٹ ہاؤس کی نوبل کمیٹی پر شدید تنقید
اس سال کا امن کا نوبل انعام وینزویلا کی اپوزیشن رہنما کو دسمبر میں دیے جانے کے اعلان کے بعد وائٹ ہاؤس نے نوبل کمیٹی پر سخت تنقید کی ہے۔ اس کمیٹی نے سن 2025 کا نوبل امن انعام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بجائے ماریا کورینا ماچاڈو کو دینے کا اعلان کیا۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان اسٹیون چیونگ نے ایک بیان میں کہا، ’’صدر ٹرمپ امن معاہدے کرتے رہیں گے، جنگوں کو ختم کراتے رہیں گے اور زندگیاں بچائیں گے۔ ان کا دل انسانیت کے لیے دھڑکتا ہے اور ان جیسا کوئی نہیں جو اپنی قوت ارادی سے پہاڑ ہلا سکے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’نوبل کمیٹی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ امن پر نہیں بلکہ سیاست پر یقین رکھتی ہے۔‘‘
ناروے میں نوبل کمیٹی نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ ماچاڈو کو وینزویلا کے عوام کے لیے جمہوری حقوق کے فروغ اور آمریت سے منصفانہ و پُرامن انتقالِ اقتدار کی تاحال جاری جدوجہد پر یہ انعام دیا ھائے گا۔
اسرائیلی فوج غزہ میں رہے گی تاکہ حماس غیر مسلح ہو اور علاقے کو محفوظ بنایا جا سکے، وزیر اعظم نیتن یاہو
اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج غزہ میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے موجود رہیں گی تاکہ علاقے کو محفوظ بنایا جا سکے اور حماس کو مستقبل میں غیر مسلح کیا جائے۔ نیتن یاہو نے اپنے ایک نشریاتی خطاب میں کہا، ’’اگر یہ آسان طریقے سے ممکن ہوا، تو اچھا ہے۔ اگر نہیں تو مشکل طریقے سے ممکن بنایا جائے گا۔‘‘
ان کا یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی نافذ ہو گئی ہے اور اسرائیلی فوج نے غزہ کے بعض علاقوں سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے۔
دس اکتوبر جمعے کے روز ہزاروں بے گھر فلسطینی خاص طور پر غزہ سٹی کی جانب اپنے خالی کردہ گھروں کی طرف واپس جانے لگے، جو اس فلسطینی علاقے کا سب سے بڑا شہر ہے۔ چند دن پہلے تک یہ شہر شدید عسکری حملوں کی زد میں رہا تھا۔
توقع ہے کہ حماس 72 گھنٹوں کے اندر اندر 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں اور ہلاک ہو جانے والے 28 یرغمالیوں کی جسمانی باقیات کو اسرائیل کے حوالے کر دے گی، جس کے بعد اسرائیل 250 ایسے فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دے گا، جو طویل مدت کے لیے جیل میں ہیں۔ اس کے علاوہ جنگ کے دوران غزہ سے گرفتار کیے گئے تقریبا 1,700 فلسطینیوں کو بھی اسرائیلی جیلوں سے آزاد کر دیا جائے گا۔
اس معاہدے کے نفاذ کے بعد خوراک اور طبی امداد کے ٹرک غزہ میں بھیجے جائیں گے تاکہ وہاں لاکھوں شہریوں کی مدد کی جا سکے۔ یہ لوگ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں گھر تباہ ہو جانے کے باعث خیموں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
طالبان حکومت کا پاکستان پر افغانستان میں بمباری کا الزام
افغان طالبان کی حکومت نے جمعے کے روز پاکستان پر الزام عائد کیا کہ اس نے پکتیکا کے سرحدی علاقے مارغی میں شہری مارکیٹ پر بمباری کی اور کابل کی خود مختار سرزمین کی خلاف ورزی کی۔
افغان وزارت دفاع نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا، ’’پاکستان نے افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پکتیکا کے مارغی علاقے میں بمباری کی اور کابل کی خود مختار سرزمین کی بھی خلاف ورزی کی۔‘‘
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعہ 10 اکتوبر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا، ’’ہماری کارروائیاں صرف ان دہشت گردوں کے خلاف ہیں، جو افغان سرزمین کو پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے افغان طالبان کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ملک کی سرزمین کو دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہ بننے دے۔ تاہم اس معاملے پر پاکستانی فوج کے ترجمان نے اس الزام کے بارے میں واضح جواب نہ دیا۔
پاکستانی فوج کے ترجمان نے واضح کیا کہ افغانستان برادر پڑوسی ملک ہے جبکہ پاکستان نے چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی مہمان نوازی کی ہے۔
فوجی ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد حکومت ’’افغان حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔‘‘
پاکستانی فوج نے بتایا کہ یہ کارروائیاں افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف جاری آپریشن کا حصہ ہیں، جس کا مقصد پاکستان کی سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کیے جانے کی صورت میں پاکستان کو اپنی سرحدی حفاظت کے لیے خود اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔
یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہے، خاص طور پر اس وقت جب افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی بھارت کے دورے پر ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات پر بات چیت جاری ہے۔
غزہ میں جنگ بندی پر عمل شروع ہو چکا ہے، اسرائیل
اسرائیلی فوج نے جمعے کے روز بتایا کہ غزہ پٹی میں اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق دوپہر بارہ بجے نافذ ہو گئی اور اسرائیلی فوجیں واپس ان مقامات کی طرف لوٹ رہی ہیں، جو امن ڈیل کے تحت طے کیے گئے ہیں۔
دس اکتوبر جمعے کی صبح فلسطینیوں نے غزہ پٹی کے مختلف حصوں میں شدید گولہ باری کی اطلاع بھی دی۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ غزہ کے کئی علاقے شہریوں کے لیے اب بھی ’’انتہائی خطرناک‘‘ ہیں کیونکہ جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد ہزاروں افراد شمال کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔
اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا، ’’غزہ پٹی میں جنوب سے شمال کی طرف نقل مکانی الرشید (ساحلی) اور صلاح الدین راستوں کے ذریعے اجازت شدہ ہوگی۔‘‘
تاہم اسرائیل نے شہریوں کو شمالی علاقوں بشمول بیت ہانون، بیت لاہیہ، شجاعیہ اور ان تمام جگہوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے، جہاں اسرائیلی فوجی بڑے پیمانے پر تعینات ہیں۔ فلسطینی شہریوں کو رفح کراسنگ اور مصر کی سرحد کے قریب فلاڈیلفی کوریڈور کے علاوہ خان یونس کے علاقے میں فوجی مراکز سے بھی دور رہنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔
اسرائیلی فوج غزہ میں کچھ علاقوں سے پیچھے ہٹ گئی
غزہ پٹی کی سول ڈیفنس ایجنسی نے جمعہ کے روز بتایا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی اور خان یونس کے کچھ علاقوں سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے۔ ایجنسی کے سینیئر اہلکار محمد المغیر کے مطابق اسرائیلی فوجی تل الہوا اور الشاطی کیمپ سمیت کئی علاقوں سے پیچھے ہٹ چکے ہیں جبکہ خان یونس کے جنوبی حصے سے بھی فوجی گاڑیاں واپس بلا لی گئی ہیں۔
مقامی باشندوں نے بھی اے ایف پی کو بتایا کہ جمعرات کو اسرائیلی فوج نے اپنے بعض اڈے خالی کر دیے ہیں۔ اسرائیلی ترجمان کے مطابق فوج کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجویز کردہ منصوبے کے تحت بتدریج فوج کو ییلو لائن پر تعینات کیا جا رہا ہے، جہاں سے وہ مرحلہ وار واپس چلی جائے گی۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت اسرائیلی فوج غزہ پٹی کے تقریباً 53 فیصد حصے میں تعینات رہے گی۔
المغیر نے بتایا کہ لڑائی جاری ہے اور شہری بھی نشانے پر ہیں جبکہ سول ڈیفنس کے ترجمان محمود باسل نے کہا کہ اسرائیلی لڑاکا طیارے غزہ پٹی کے اوپر نیچی پرواز کر رہے ہیں اور شمالی علاقے میں فضائی حملے اور توپ خانے سے گولہ باری بھی جاری ہیں۔
ٹرمپ کی نظریں نوبل امن انعام پر
روایتی طور پر نوبل انعام کے امیدواروں کے نام عوام کے سامنے نہیں لائے جاتے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ وہ پاکستان اور بھارت اور آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تناؤ سمیت کئی تنازعات کو حل کرنے پر اس انعام کے مستحق ہیں۔
جمعرات کے روز خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ٹرمپ سے پوچھا کہ ان کے خیال میں ان کے نوبل امن انعام جیتنے کے کتنے امکانات ہیں۔ اس پر انہوں نے جواب دیا، ’’مجھے واقعی معلوم نہیں کہ وہ (نوبل امن کمیٹی) کیا کرنے جا رہی ہے۔ لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ تاریخ میں کسی نے بھی نو ماہ کے عرصے میں آٹھ جنگوں کو ختم نہیں کیا۔‘‘
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے آٹھ جنگیں رکوائی ہیں اور ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ انہوں نے یہ بھی کہا، ’’’غزہ میں جنگ بندی ان سب میں سب سے بڑی تھی۔‘‘
صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں دو سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیا گیا منصوبہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے بنیاد بنا، جس سے ان کی نوبل انعام کے حصول کی کوشش اور خواہش کو مزید پذیرائی ملی۔
جرمن چانسلر کا غزہ میں جنگ بندی کا خیرمقدم، امن منصوبے پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا
جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے غزہ پٹی میں طے پانے والی جنگ بندی کو ’’مشرق وسطیٰ کے عوام اور مستقبل کے لیے خوش آئند خبر‘‘ قرار دیا ہے۔ اس جنگ بندی ڈیل کی بدولت غزہ میں گزشتہ دو سال سے جاری مسلح تنازعے کا خاتمہ ہو سکے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک سلسلہ وار پوسٹ میں میرس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ان کے امن منصوبے پر شکریہ ادا کیا اور قطر، مصر اور ترکی کی ثالثی کوششوں کی ستائش کی اور ساتھ ہی اسرائیل کی طرف سے ’’امن کی راہ کھولنے‘‘ پر اظہار تشکر بھی کیا۔
میرس نے کہا کہ اب اولین ترجیح معاہدے پر فوری عمل درآمد ہے۔ انہوں نے لکھا، ’’یرغمالیوں، جن میں جرمن شہری بھی شامل ہیں، کو آخر کار اپنے خاندانوں کے پاس واپس آنا چاہیے۔ جنگ بندی نافذ ہونا چاہیے اور برقرار رہنا چاہیے اور امداد جلد از جلد غزہ کے عوام تک پہنچنا چاہیے۔‘‘
میرس نے مزید کہا کہ جرمنی 29 ملین یورو کی اضافی امداد فراہم کرے گا، مصر کے ساتھ مل کر غزہ کی تعمیرنو کے لیے ایک کانفرنس کی میزبانی بھی کرے گا اور ٹرمپ کی تجویز کردہ امن کونسل میں بھی شریک ہو گا۔
جرمن چانسلر میرس نے کہا، ’’جرمنی اسرائیل کے وجود اور سلامتی کے ساتھ کھڑا ہے۔‘‘ انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ دو ریاستی حل ہی اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیے امن اور تحفظ کے ماحول میں ساتھ ساتھ رہنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔
غزہ میں قیام امن کی راہ ہموار
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ کابینہ نے غزہ معاہدے کے پہلے مرحلے کی منظوری دے دی ہے، جو جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی راہ ہموار کرے گا۔
سرکاری بیان کے مطابق، اس اقدام کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور فائر بندی کے لیے عملی اقدامات آئندہ دنوں میں شروع کیے جائیں گے۔ یہ پیش رفت دو سال سے جاری غزہ تنازعے کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔
اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی شامل ہے، جبکہ بعد کے مراحل میں حماس کے بعد کے دور میں غزہ پٹی کی حکمرانی پر توجہ دی جائے گی۔
یہ معاہدہ جزوی طور پر امریکہ کی ثالثی سے طے پایا، جس میں تمام یرغمالیوں کی رہائی اور اسرائیلی فوجیوں کا غزہ میں طے شدہ لائن تک انخلا شامل ہیں۔