1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اسرائیلی فوج کا غزہ سے جزوی انخلا شروع

عاطف بلوچ اے ایف پی، روئٹرز، ڈی پی اے کے ساتھ | ادارت | مقبول ملک | عدنان اسحاق
وقت اشاعت 10 اکتوبر 2025آخری اپ ڈیٹ 10 اکتوبر 2025

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ کابینہ نے غزہ معاہدے کے پہلے مرحلے کی منظوری دے دی ہے، جو جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی راہ ہموار کرے گا۔ ڈی ڈبلیو کی طرف سے تازہ ترین اپ ڈیٹس۔

https://p.dw.com/p/51laJ
اسرائیلی افواج ، غزہ
مقامی باشندوں نے بھی اے ایف پی کو بتایا کہ جمعرات کو اسرائیلی فوج نے اپنے بعض اڈے خالی کر دیے ہیںتصویر: Jack Guez/AFP
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • اسرائیلی فوج کا غزہ سے جزوی انخلا شروع
  • غزہ میں جنگ بندی پر عمل شروع ہو چکا ہے، اسرائیل
  • جرمن چانسلر کا غزہ میں جنگ بندی کا خیرمقدم، امن منصوبے پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا
  • اسرائیل نے غزہ معاہدے کے پہلے مرحلے کی منظوری دے دی ہے
  • ٹرمپ کی نظریں نوبل امن انعام پر
     
غزہ کے شہری زیرقبضہ علاقوں میں داخل نہ ہوں، اسرائیلی فوج کا انتباہ سیکشن پر جائیں
10 اکتوبر 2025

غزہ کے شہری زیرقبضہ علاقوں میں داخل نہ ہوں، اسرائیلی فوج کا انتباہ

غزہ پٹی حماس
اسرائیلی فوج نے غزہ کے شہریوں کو متنبہ کیا کہ وہ ان علاقوں میں داخل نہ ہوں، جو اب بھی اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیںتصویر: Abdel Kareem Hana/AP Photo/picture alliance

اسرائیلی فوج نے جمعہ دس اکتوبر کے روز غزہ کے شہریوں کو متنبہ کیا کہ وہ ان علاقوں میں داخل نہ ہوں، جو اب بھی اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں کیونکہ جنگ بندی کے باوجود بعض مقامات پر خطرہ برقرار ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے ایک پریس بریفنگ میں کہا، ’’میں غزہ کے شہریوں سے کہتا ہوں کہ وہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے زیرقبضہ علاقوں میں داخل نہ ہوں۔ معاہدے کی پاسداری کریں اور اپنی حفاظت کو یقینی بنائیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج حماس کے خلاف اپنے مقاصد حاصل کر چکی ہے، ’’حماس اب وہ حماس نہیں رہی جو وہ دو سال پہلے تھی۔ جہاں جہاں ہم نے ان سے لڑائی کی، وہ ہر جگہ شکست کھا چکے ہیں۔‘‘

غزہ میں امن کی بحالی کی طرف پہلا قدم

یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب امریکی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کے بعد غزہ کے مختلف علاقوں میں جمعے ہی کے روز ہزاروں بے گھر فلسطینی اپنے تباہ شدہ گھروں کی طرف واپس جانے لگے۔

غزہ کے شہریوں کے قافلے شمال کی جانب، خاص طور پرغزہ سٹی اور وسطی غزہ پٹی کے علاقوں کی طرف بڑھنے لگے ہیں، جہاں حالیہ ہفتوں میں شدید لڑائی اور بمباری ہوئی تھی۔ مقامی ذرائع کے مطابق کئی مقامات پر فوجی نقل و حرکت اب بھی دیکھی جا رہی ہے۔

اسرائیلی دفاعی افواج کے مطابق جنگ بندی دوپہر کے وقت نافذ ہوئی، جس کے بعد اسرائیلی دستوں نے غزہ کے بعض حصوں سے جزوی انخلا شروع کر دیا۔ تاہم فوج کا کہنا ہے کہ چند اہم علاقوں میں اس کی موجودگی برقرار رہے گی تاکہ  ’’حفاظتی نگرانی‘‘ جاری رکھی جا سکے۔

غزہ پٹی کے باشندے امید ظاہر کر ر ہے ہیں کہ یہ جنگ بندی دو سال سے جاری تباہ کن لڑائی کے حتمی خاتمے کی طرف ایک حقیقی قدم ثابت ہو گی۔

https://p.dw.com/p/51oEF
امن انعام وینزویلا کی رہنما کے نام، وائٹ ہاؤس کی نوبل کمیٹی پر شدید تنقید سیکشن پر جائیں
10 اکتوبر 2025

امن انعام وینزویلا کی رہنما کے نام، وائٹ ہاؤس کی نوبل کمیٹی پر شدید تنقید

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
 اس سال کا امن کا نوبل انعام وینزویلا کی اپوزیشن رہنما کو دیے جانے کے اعلان کے بعد وائٹ ہاؤس نے نوبل کمیٹی پر سخت تنقید کی ہےتصویر: Ahmad Gharabli/AFP/Getty Images

 اس سال کا امن کا نوبل انعام وینزویلا کی اپوزیشن رہنما کو دسمبر میں دیے جانے کے اعلان کے بعد وائٹ ہاؤس نے نوبل کمیٹی پر سخت تنقید کی ہے۔ اس کمیٹی نے سن 2025 کا نوبل امن انعام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بجائے ماریا کورینا ماچاڈو کو دینے کا اعلان کیا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان اسٹیون چیونگ نے ایک بیان میں کہا، ’’صدر ٹرمپ امن معاہدے کرتے رہیں گے، جنگوں کو ختم کراتے  رہیں گے اور زندگیاں بچائیں گے۔ ان کا دل انسانیت کے لیے دھڑکتا ہے اور ان جیسا کوئی نہیں جو اپنی قوت ارادی سے پہاڑ ہلا سکے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’نوبل کمیٹی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ امن پر نہیں بلکہ سیاست پر یقین رکھتی ہے۔‘‘

ناروے میں نوبل کمیٹی نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ ماچاڈو کو وینزویلا کے عوام کے لیے جمہوری حقوق کے فروغ اور آمریت سے منصفانہ و پُرامن انتقالِ اقتدار کی تاحال جاری جدوجہد پر یہ انعام دیا ھائے گا۔
 

https://p.dw.com/p/51o2S
اسرائیلی فوج غزہ میں رہے گی تاکہ حماس غیر مسلح ہو اور علاقے کو محفوظ بنایا جا سکے، وزیر اعظم نیتن یاہو سیکشن پر جائیں
10 اکتوبر 2025

اسرائیلی فوج غزہ میں رہے گی تاکہ حماس غیر مسلح ہو اور علاقے کو محفوظ بنایا جا سکے، وزیر اعظم نیتن یاہو

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو
اسرائیلی فوج غزہ میں رہے گی تاکہ حماس غیر مسلح ہو اور علاقے کو محفوظ بنایا جا سکے، وزیر اعظم نیتن یاہوتصویر: Avi Ohayon/GPO/Xinhua/IMAGO

اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج غزہ میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے موجود رہیں گی تاکہ علاقے کو محفوظ بنایا جا سکے اور حماس کو مستقبل میں غیر مسلح کیا جائے۔ نیتن یاہو نے اپنے ایک نشریاتی خطاب میں کہا، ’’اگر یہ آسان طریقے سے ممکن ہوا، تو اچھا ہے۔ اگر نہیں تو مشکل طریقے سے ممکن بنایا جائے گا۔‘‘

ان کا یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی نافذ ہو گئی ہے اور اسرائیلی فوج نے غزہ کے بعض علاقوں سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے۔

دس اکتوبر جمعے کے روز ہزاروں بے گھر فلسطینی خاص طور پر غزہ سٹی کی جانب اپنے خالی کردہ گھروں کی طرف واپس جانے لگے، جو اس فلسطینی علاقے کا سب سے بڑا شہر ہے۔ چند دن پہلے تک یہ شہر شدید عسکری حملوں کی زد میں رہا تھا۔ 

سات اکتوبر کو ہوا کیا؟ جس کے بعد اسرائیلی حملے شروع ہوئے!

توقع ہے کہ حماس 72 گھنٹوں کے اندر اندر 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں اور ہلاک ہو جانے والے 28 یرغمالیوں کی جسمانی باقیات کو اسرائیل کے حوالے کر دے گی، جس کے بعد اسرائیل 250 ایسے فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دے گا، جو طویل مدت کے لیے جیل میں ہیں۔ اس کے علاوہ جنگ کے دوران غزہ سے گرفتار کیے گئے تقریبا 1,700 فلسطینیوں کو بھی اسرائیلی جیلوں سے آزاد کر دیا جائے گا۔

اس معاہدے کے نفاذ کے بعد خوراک اور طبی امداد کے ٹرک غزہ میں بھیجے جائیں گے تاکہ وہاں لاکھوں شہریوں کی مدد کی جا سکے۔ یہ لوگ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں گھر تباہ ہو جانے کے باعث خیموں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
 

https://p.dw.com/p/51nax
طالبان حکومت کا پاکستان پر افغانستان میں بمباری کا الزام سیکشن پر جائیں
10 اکتوبر 2025

طالبان حکومت کا پاکستان پر افغانستان میں بمباری کا الزام

پاکستان، افغانستان
 افغان طالبان کی حکومت نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ اس نے پکتیکا کے سرحدی علاقے مارغی میں شہری مارکیٹ پر بمباری کی تصویر: Anjum Naveed/AP/picture alliance

 افغان طالبان کی حکومت نے جمعے کے روز پاکستان پر الزام عائد کیا کہ اس نے پکتیکا کے سرحدی علاقے مارغی میں شہری مارکیٹ پر بمباری کی اور کابل کی خود مختار سرزمین کی خلاف ورزی کی۔

افغان وزارت دفاع نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا، ’’پاکستان نے افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پکتیکا کے مارغی علاقے میں بمباری کی اور کابل کی خود مختار سرزمین کی بھی خلاف ورزی کی۔‘‘

پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعہ 10 اکتوبر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا، ’’ہماری کارروائیاں صرف ان دہشت گردوں کے خلاف ہیں، جو افغان سرزمین کو پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے افغان طالبان کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ملک کی سرزمین کو دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہ بننے دے۔ تاہم اس معاملے پر پاکستانی فوج کے ترجمان نے اس الزام کے بارے میں واضح جواب نہ دیا۔

پاکستان ، افغانستان
حالیہ عرصے میں پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی دیکگی جا رہی ہےتصویر: AFP/Getty Images

پاکستانی فوج کے ترجمان نے واضح کیا کہ افغانستان برادر پڑوسی ملک ہے جبکہ پاکستان نے چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی مہمان نوازی کی ہے۔

فوجی ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد حکومت ’’افغان حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔‘‘

پاکستانی فوج نے بتایا کہ یہ کارروائیاں افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف جاری آپریشن کا حصہ ہیں، جس کا مقصد پاکستان کی سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کیے جانے کی صورت میں پاکستان کو اپنی سرحدی حفاظت کے لیے خود اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔

یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہے، خاص طور پر اس وقت جب افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی بھارت کے دورے پر ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات پر بات چیت جاری ہے۔
 

https://p.dw.com/p/51nA1
غزہ میں جنگ بندی پر عمل شروع ہو چکا ہے، اسرائیل سیکشن پر جائیں
10 اکتوبر 2025

غزہ میں جنگ بندی پر عمل شروع ہو چکا ہے، اسرائیل

اسرائیل، غزہ، حماس
اسرائیلی فوج نے بتایا کہ غزہ پٹی میں اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق دوپہر بارہ بجے نافذ ہو گئی تصویر: Jack Guez/AFP/Getty Images

اسرائیلی فوج نے جمعے کے روز بتایا کہ غزہ پٹی میں اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق دوپہر بارہ بجے نافذ ہو گئی اور اسرائیلی فوجیں واپس ان مقامات کی طرف لوٹ رہی ہیں، جو امن ڈیل کے تحت طے کیے گئے ہیں۔

دس اکتوبر جمعے کی صبح فلسطینیوں نے غزہ پٹی کے مختلف حصوں میں شدید گولہ باری کی اطلاع بھی دی۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ غزہ کے کئی علاقے شہریوں کے لیے اب بھی ’’انتہائی خطرناک‘‘ ہیں کیونکہ جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد ہزاروں افراد شمال کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔

غزہ جنگ کے دو برس: ٹرمپ کے مطابق حماس ’دیرپا امن کے لیے تیار ہے‘

اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا، ’’غزہ پٹی میں جنوب سے شمال کی طرف نقل مکانی الرشید (ساحلی) اور صلاح الدین راستوں کے ذریعے اجازت شدہ ہوگی۔‘‘

تاہم اسرائیل نے شہریوں کو شمالی علاقوں بشمول بیت ہانون، بیت لاہیہ، شجاعیہ اور ان تمام جگہوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے، جہاں اسرائیلی فوجی بڑے پیمانے پر تعینات ہیں۔ فلسطینی شہریوں کو رفح کراسنگ اور مصر کی سرحد کے قریب فلاڈیلفی کوریڈور کے علاوہ خان یونس کے علاقے میں فوجی مراکز سے بھی دور رہنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔
 

https://p.dw.com/p/51mim
اسرائیلی فوج غزہ میں کچھ علاقوں سے پیچھے ہٹ گئی سیکشن پر جائیں
10 اکتوبر 2025

اسرائیلی فوج غزہ میں کچھ علاقوں سے پیچھے ہٹ گئی

غزہ، حماس
غزہ پٹی کی سول ڈیفنس ایجنسی نے جمعہ کے روز بتایا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی اور خان یونس کے کچھ علاقوں سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہےتصویر: Jack Guez/POOL/AFP/Getty Images

غزہ پٹی کی سول ڈیفنس ایجنسی نے جمعہ کے روز بتایا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی اور خان یونس کے کچھ علاقوں سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے۔ ایجنسی کے سینیئر اہلکار محمد المغیر کے مطابق اسرائیلی فوجی تل الہوا اور الشاطی کیمپ سمیت کئی علاقوں سے پیچھے ہٹ چکے ہیں جبکہ خان یونس کے جنوبی حصے سے بھی فوجی گاڑیاں واپس بلا لی گئی ہیں۔

مقامی باشندوں نے بھی اے ایف پی کو بتایا کہ جمعرات کو اسرائیلی فوج نے اپنے بعض اڈے خالی کر دیے ہیں۔ اسرائیلی ترجمان کے مطابق فوج کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجویز کردہ منصوبے کے تحت بتدریج فوج کو ییلو لائن پر تعینات کیا جا رہا ہے، جہاں سے وہ مرحلہ وار واپس چلی جائے گی۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت اسرائیلی فوج غزہ پٹی کے تقریباً 53 فیصد حصے میں تعینات رہے گی۔

المغیر نے بتایا کہ لڑائی جاری ہے اور شہری بھی نشانے پر ہیں جبکہ سول ڈیفنس کے ترجمان محمود باسل نے کہا کہ اسرائیلی لڑاکا طیارے غزہ پٹی کے اوپر نیچی پرواز کر رہے ہیں اور شمالی علاقے میں فضائی حملے اور توپ خانے سے گولہ باری بھی جاری ہیں۔
 

https://p.dw.com/p/51m9A
ٹرمپ کی نظریں نوبل امن انعام پر سیکشن پر جائیں
10 اکتوبر 2025

ٹرمپ کی نظریں نوبل امن انعام پر

ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے آٹھ جنگیں رکوائی ہیںتصویر: Reuters/A. Hofstetter

روایتی طور پر نوبل انعام کے امیدواروں کے نام عوام کے سامنے نہیں لائے جاتے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ وہ پاکستان اور بھارت اور آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تناؤ سمیت کئی تنازعات کو حل کرنے پر اس انعام کے مستحق ہیں۔

جمعرات کے روز خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ٹرمپ سے پوچھا کہ ان کے خیال میں ان کے نوبل امن انعام جیتنے کے کتنے امکانات ہیں۔ اس پر انہوں نے جواب دیا، ’’مجھے واقعی معلوم نہیں کہ وہ (نوبل امن کمیٹی) کیا کرنے جا رہی ہے۔ لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ تاریخ میں کسی نے بھی نو ماہ کے عرصے میں آٹھ جنگوں کو ختم نہیں کیا۔‘‘

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے آٹھ جنگیں رکوائی ہیں اور ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ انہوں نے یہ بھی کہا، ’’’غزہ میں جنگ بندی ان سب میں سب سے بڑی تھی۔‘‘

صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں دو سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیا گیا منصوبہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے بنیاد بنا، جس سے ان کی نوبل انعام کے حصول کی کوشش اور خواہش کو مزید پذیرائی ملی۔
 

https://p.dw.com/p/51lcO
جرمن چانسلر کا غزہ میں جنگ بندی کا خیرمقدم، امن منصوبے پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا سیکشن پر جائیں
10 اکتوبر 2025

جرمن چانسلر کا غزہ میں جنگ بندی کا خیرمقدم، امن منصوبے پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا

جرمن چانسلر
 جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے غزہ پٹی میں طے پانے والی جنگ بندی کو ’’مشرق وسطیٰ کے عوام اور مستقبل کے لیے خوش آئند خبر‘‘ قرار دیا ہےتصویر: Bundesregierung

 جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے غزہ پٹی میں طے پانے والی جنگ بندی کو ’’مشرق وسطیٰ کے عوام اور مستقبل کے لیے خوش آئند خبر‘‘ قرار دیا ہے۔ اس جنگ بندی ڈیل کی بدولت غزہ میں گزشتہ دو سال سے جاری مسلح تنازعے کا خاتمہ ہو سکے گا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ایکس پر ایک سلسلہ وار پوسٹ میں میرس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ان کے امن منصوبے پر شکریہ ادا کیا اور قطر، مصر اور ترکی کی ثالثی کوششوں کی ستائش کی اور ساتھ ہی اسرائیل کی طرف سے ’’امن کی راہ کھولنے‘‘ پر اظہار تشکر بھی کیا۔

میرس نے کہا کہ اب اولین ترجیح معاہدے پر فوری عمل درآمد ہے۔ انہوں نے لکھا، ’’یرغمالیوں، جن میں جرمن شہری بھی شامل ہیں، کو آخر کار اپنے خاندانوں کے پاس واپس آنا چاہیے۔ جنگ بندی نافذ ہونا چاہیے اور برقرار رہنا چاہیے اور امداد جلد از جلد غزہ کے عوام تک پہنچنا چاہیے۔‘‘

میرس نے مزید کہا کہ جرمنی 29 ملین یورو کی اضافی امداد فراہم کرے گا، مصر کے ساتھ مل کر غزہ کی تعمیرنو کے لیے ایک کانفرنس کی میزبانی بھی کرے گا اور ٹرمپ کی تجویز کردہ امن کونسل میں بھی شریک ہو گا۔

جرمن چانسلر میرس نے کہا، ’’جرمنی اسرائیل کے وجود اور سلامتی کے ساتھ کھڑا ہے۔‘‘ انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ دو ریاستی حل ہی اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیے امن اور تحفظ کے ماحول میں ساتھ ساتھ رہنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔

https://p.dw.com/p/51lbP
غزہ میں قیام امن کی راہ ہموار سیکشن پر جائیں
10 اکتوبر 2025

غزہ میں قیام امن کی راہ ہموار

غزہ، حماس
غزہ پٹی میں قیام امن کی راہ ہموار ہونے پر وہاں خوشی کی لہر دوڑ گئی تصویر: Abdel Kareem Hana/AP Photo/picture alliance

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ کابینہ نے غزہ معاہدے کے پہلے مرحلے کی منظوری دے دی ہے، جو جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی راہ ہموار کرے گا۔

سرکاری بیان کے مطابق، اس اقدام کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور فائر بندی کے لیے عملی اقدامات آئندہ دنوں میں شروع کیے جائیں گے۔ یہ پیش رفت دو سال سے جاری غزہ تنازعے کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔

اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی شامل ہے، جبکہ بعد کے مراحل میں حماس کے بعد کے دور میں غزہ پٹی کی حکمرانی پر توجہ دی جائے گی۔

یہ معاہدہ جزوی طور پر امریکہ کی ثالثی سے طے پایا، جس میں تمام یرغمالیوں کی رہائی اور اسرائیلی فوجیوں کا غزہ میں طے شدہ لائن تک انخلا شامل ہیں۔

https://p.dw.com/p/51lb1
مزید پوسٹیں
Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔