1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
دہشت گردیپاکستان

’بھارتی حمایت یافتہ‘30 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا، پاکستان

جاوید اختر اے پی، روئٹرز کے ساتھ
10 اکتوبر 2025

پاکستانی فوج نے جمعے کے روز کہا کہ مقامی طالبان کے ٹھکانوں پر مسلح کارروائیوں کے دوران 30 شدت پسند ہلاک کر دیے گئے۔ یہ عسکریت پسند رواں ہفتے اس حملے میں مبینہ طور پر ملوث تھے، جس میں گیارہ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

https://p.dw.com/p/51lbT
پاکستانی آرمی کے اہلکار سکیورٹی پر مامور
آئی ایس پی آر کے مطابق،اس آپریشن کے ذریعے سات اکتوبر کے حملے کا بدلہ لے لیا گیا ہے اور مرکزی مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا گیا ہےتصویر: Banaras Khan/AFP/Getty Images

پاکستانی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق یہ کارروائی صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی میں کی گئی، جہاں بدھ کے روز ایک فوجی قافلے پر بڑا حملہ ہوا تھا۔ اس حملے میں 11 فوجی ہلاک ہوئے تھے، جن میں دو سینئر افسران بھی شامل تھے۔

ممنوعہ شدت پسند گروپ تحریک طالبان پاکستان نے 7 اکتوبر کو اورکزئی ضلع میں کیے گئے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی تھی۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے بیان میں کہا گیا، ''مصدقہ انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر ضلع اورکزئی کے علاقے جمال مایہ میں کیے گئے آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں دہشت گردی کے اس واقعے میں ملوث بھارتی حمایت یافتہ 30 'خوارج‘ کو ہلاک کر دیا گیا۔‘‘

پاکستانی سکیورٹی فورسز اور حکام کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے 'فتنہ الخوارج‘ اور اس کے عہدیداران اور جنگجوؤں کے لیے 'خارجی‘ کی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔

پاکستانی آرمی پاکستان افغانستان سرحد پر پہرہ دیتے ہوئے
پاکستان نے افغانستان میں طالبان حکومت سے کہا ہے کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکےتصویر: FAROOQ NAEEM/AFP

آپریشن جاری

آئی ایس پی آر کے مطابق، ''ان کامیاب کارروائیوں کے ذریعے اس گھناؤنے فعل کا بدلہ لے لیا گیا ہے اور مرکزی مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا گیا ہے۔‘‘

مزید کہا گیا کہ علاقے میں ''سینیٹائزیشن‘‘ کی کارروائیاں جاری ہیں، تاکہ علاقے میں موجود کسی بھی دیگر بھارتی حمایت یافتہ عسکریت پسند کو تلاش کر کے ختم کیا جا سکے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، ''پاکستان کی سکیورٹی فورسز پرعزم اور ثابت قدم ہیں کہ ملک سے بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔‘‘

بھارت میں ملکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے پاکستان کے اس بیان پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

پاکستان طویل عرصے سے نئی دہلی پر بلوچستان میں علیحدگی پسندوں اور پاکستانی طالبان کی حمایت کا الزام لگاتا رہا ہے، جسے بھارت مسترد کرتا ہے۔

پاکستانی آرمی کے جوان پاک افغان سرحد پر پہرہ دیتے ہوئے
پاکستان نے حالیہ برسوں میں شدت پسندانہ تشدد میں نمایاں اضافہ دیکھا ہے، جس میں زیادہ تر حملوں کا دعویٰ تحریک طالبان پاکستان نے کیا ہےتصویر: Anjum Naveed/AP/picture alliance

افغانستان پر بھی الزام

پاکستان نے یہ بھی کہا ہے کہ شدت پسند گروہ افغانستان کا استعمال پاکستان پر حملوں کی تربیت اور منصوبہ بندی کے لیے کرتے ہیں۔ لیکن کابل اس الزام  کو مسترد کرتا ہے۔

ایک دن قبل ہی پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ پاکستان ایسے حملوں کا جواب دینے میں ''کسی قسم کی نرمی‘‘ نہیں دکھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک ان مقامات کو نشانہ بنائے گا، ''جہاں سے باغی ہماری سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔‘‘

انہوں نے افغانستان میں طالبان حکومت سے بھی کہا کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔

پاکستان نے حالیہ برسوں میں شدت پسندانہ تشدد میں نمایاں اضافہ دیکھا ہے، جس میں زیادہ تر حملوں کا دعویٰ تحریک طالبان پاکستان نے کیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات 2021 میں امریکی قیادت میں نیٹو افواج کے انخلا اور طالبان حکومت کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے کشیدہ ہیں۔

ادارت: مقبول ملک

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔