1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
لائیو
تنازعاتمشرق وسطیٰ

ایرانی سکیورٹی اور بسیج فورسز کے سربراہان ہلاک، اسرائیل

شکور رحیم اے پی، ڈی پی اے، اے ایف پی، روئٹرز
وقت اشاعت 17 مارچ 2026آخری اپ ڈیٹ 17 مارچ 2026

اسرائیلی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی اور بسیج فورسز کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کو فضائی حملوں میں ہلاک کیا گیا۔ ایرانی حکام کی جانب سے ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی گئی۔

https://p.dw.com/p/5AWvk
علی لاریجانی  اٹھائیس فروری کو جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران کی جانب سے خاصے متحرک  رہے
علی لاریجانی اٹھائیس فروری کو جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران کی جانب سے خاصے متحرک رہےتصویر: Marwan Naamani/ZUMAPRESS/picture alliance
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • اسرائیل کے ایران اور لبنان میں مزید حملے
  • ایرانی سکیورٹی چیف اور بسیج فورس کے سربراہ کو ہلاک کر دیا، اسرائیل
  • عراق میں امریکی سفارتخانے پر راکٹ اور ڈرون حملے
اسرائیل کے ایران اور لبنان میں مزید حملے سیکشن پر جائیں
17 مارچ 2026

اسرائیل کے ایران اور لبنان میں مزید حملے

تہران کے جنوب میں واقع محلوں میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد کے مناظر
تہران کے جنوب میں واقع محلوں میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد کے مناظر تصویر: Fatemeh Bahrami/Anadolu/picture alliance

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے تہران میں ایرانی حکومت کے اہداف کے خلاف وسیع پیمانے پر حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے اپنے سرکاری ٹیلی گرام چینل پر جاری بیان میں لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ کے خلاف بھی حملوں کی تصدیق کی۔

لبنانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملے بیروت کے جنوبی مضافات میں ایک رہائشی عمارت پر کیے گئے جو حزب اللہ کا گڑھ سمجھی جاتی ہے۔

اسرائیل نے یہ بھی کہا کہ علی الصبح تہران کی جانب سے تل ابیب پر دو میزائل حملے کیے گئے جبکہ حزب اللہ نے اسرائیل کے شمالی علاقوں کی طرف ڈرون اور راکٹ بھی داغے۔

اسرائیلی فوج دو مارچ کے بعد سے مسلسل بیروت کو نشانہ بناتی آئی ہے
اسرائیلی فوج دو مارچ کے بعد سے مسلسل بیروت کو نشانہ بناتی آئی ہےتصویر: Mahmoud Hassano/REUTERS
https://p.dw.com/p/5AXV3
اسرائیل کا ایرانی سکیورٹی سربراہ علی لاریجانی اور بسیج فورسز کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ سیکشن پر جائیں
17 مارچ 2026

اسرائیل کا ایرانی سکیورٹی سربراہ علی لاریجانی اور بسیج فورسز کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

علی لاریجانی ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری تھے
علی لاریجانی ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری تھےتصویر: Courtney Bonneau/SIPA/picture alliance

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے آج بروز منگل دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی سکیورٹی سربراہ علی لاریجانی اور پاسداران انقلاب کی رضاکار بسیج فورس کے سربراہ جنرل غلام رضا سلیمانی کو پیر کی رات کیے گئے فضائی حملوں میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ایران کی جانب سے اس ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی گئی بلکہ ایرانی سرکاری میڈیا نے علی لاریجانی کے زندہ ہونے کے ثبوت کے طور پر مبینہ طور پر لاریجانی کے ہاتھ سے لکھے ہوئے نوٹس شائع کیے ہیں۔
کاٹز کا کہنا تھا کہ انہیں پیر کی شب ایک حملے میں ہلاک کیا گیا۔ علی لاریجانی ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری تھے اور اٹھائیس فروری کو تہران پر اسرائیلی فضائی حملے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور دیگر اہم فوجی اور سول عہدیداروں کی ہلاکت کے بعد امریکہ اور اسرائیل کی مزمت کرنے اور انہیں دھمکی آمیز پیغامات دینے کے حوالے سے کافی سرگرم تھے۔ 

اگر غلام رضا سلیمانی (درمیان میں) کی ہلاکت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو وہ اس تصویر میں موجود بائیں جانب ایرانی ایرو اسپیس فورسز کے سربراہ جنرل امیر علی حاجی زادہ اور پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل محمد پاکپور (دائیں جانب) کی طرح اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے متعدد ایرانی فوجی جرنیلوں میں شامل ہو جائیں گے
اگر غلام رضا سلیمانی (درمیان میں) کی ہلاکت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو وہ اس تصویر میں موجود بائیں جانب ایرانی ایرو اسپیس فورسز کے سربراہ جنرل امیر علی حاجی زادہ اور پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل محمد پاکپور (دائیں جانب) کی طرح اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے متعدد ایرانی فوجی جرنیلوں میں شامل ہو جائیں گےتصویر: Iranian Presidency/ZUMA/picture alliance


اگر ان ہلاکتوں کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ 28 فروری کو کیے گئے حملے میں 86 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اہم حکومتی عہدیداروں کے بعد سے اب تک ایرانی قیادت کو پہنچنے والا سب سے بڑا نقصان ہو سکتی ہیں۔
ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا، ’’بسیج فورسز ایرانی دہشت گردی کے مسلح نظام کا حصہ ہیں۔ ایران میں داخلی مظاہروں کے دوران، خاص طور پر حالیہ مہینوں میں جب مظاہرے شدت اختیار کر گئے، سلیمانی کی قیادت میں بسیج فورسز نے  مظاہرین کے خلاف سخت تشدد، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور طاقت کے استعمال کے ذریعے احتجاج کچلنے کی کارروائیاں کیں۔"
سلیمانی کی ہلاکت بسیج کی کمان اور کنٹرول کو مزید کمزور کر سکتی ہے، جو مذہبی قیادت کے خلاف کسی بھی بغاوت کو دبانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اب تک بسیج اور دیگر داخلی سکیورٹی فورسز کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

https://p.dw.com/p/5AXNx
عراق میں امریکی سفارتخانے پر راکٹ اور ڈرون حملے سیکشن پر جائیں
17 مارچ 2026

عراق میں امریکی سفارتخانے پر راکٹ اور ڈرون حملے

امریکی ایمبیسی  بغداد کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون میں واقع ہے
امریکی ایمبیسی بغداد کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون میں واقع ہےتصویر: Ahmad Al-Rubaye/AFP

عراقی سکیورٹی ذرائع کے مطابق آج منگل کی صبح بغداد میں امریکی سفارتخانے کو راکٹوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

حکام نے بتایا کہ عراق کے فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز اور راکٹوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، تاہم کچھ دھماکوں کے ٹکڑے سفارتخانے کے احاطے میں گرے جس سے ایک زور دار دھماکا ہوا اور دھوئیں کے بادل فضا میں بلند ہو گئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ادھر ایک علیحدہ حملے میں بغداد کے علاقے الجادریہ میں واقع سخت حفاظتی انتظامات والے صدارتی کمپاؤنڈ کے اندر ایک گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے ایران سے منسلک عراقی مسلح گروہوں کا ہاتھ ہونے کا شبہ ہے، جو ماضی میں بھی عراق میں امریکی مفادات کو بارہا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
ادارت: عاطف توقیر 

بغداد میں واقع امریکی ایمبیسی کا ایک بیرونی منظر
بغداد میں واقع امریکی ایمبیسی کا ایک بیرونی منظر تصویر: Ahmad Al-Rubaye/AFP
https://p.dw.com/p/5AWvo
مزید پوسٹیں