1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتافغانستان

ہسپتال پر پاکستانی حملے میں چار سو ہلاکتیں، طالبان کا دعویٰ

عاطف توقیر شکیل سبحان | ادارت | شکور رحیم
17 مارچ 2026

افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ کابل میں منشیات کے عادی افراد کے علاج کے ایک ہسپتال پر پاکستانی فضائی حملے میں کم از کم 400 افراد ہلاک ہو گئے دوسری جانب پاکستان نے ہسپتال پر حملے کے الزام کو مسترد کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/5AWwY
پاکستانی فضائیہ کے حملے کے بعد کا منظر
پاکستان نے حالیہ عرصے میں متعدد افغان علاقوں کو نشانہ بنایا ہےتصویر: Wakil Kohsar/AFP/Getty Images

افغان حکام کے مطابق پیر کی رات کابل میں واقع 2000 بستروں پر مشتمل منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے ایک اہم مرکز پر مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 9 بجے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان گزشتہ چند ہفتوں سے جاری کشیدگی میں ایک بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔

طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اس فضائی حملے میں کم از کم 400 افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور آگ پر قابو پانے اور لاشوں کو نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

زخمیوں کو دیگر مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے
زخمیوں کو دیگر ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہےتصویر: Wakil Kohsar/AFP/Getty Images

پاکستان کی تردید

پاکستانی وزیراطلاعات عطااللہ تارڑ نے کابل میں ہسپتال کو نشانہ بنانے کے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی مسلح افواج نے کابل اور مشرقی صوبہ ننگرہار میں صرف فوجی تنصیبات اور دہشت گردی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔

وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان مشرف زیدی نے بھی اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کابل میں کسی ہسپتال کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

گزشتہ ہفتے کے آخر میں بھی دونوں ممالک ایک دوسرے پر عام شہریوں کی ہلاکتوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے افغانستان کے صوبے قندھار میں دہشت گردوں کی ''تکنیکی معاونت کے ایک ڈھانچے‘‘ کو نشانہ بنایا، جبکہ طالبان حکام کا کہنا تھا کہ حملہ منشیات کے علاج کے مرکز اور ایک نجی ایئر لائن کے فیول ڈپو پر کیا گیا۔

حملے کے بعد کا منظر
فائربریگیڈ کی آگ بجھانے کے عمل میں مصروف ہیںتصویر: Wakil Kohsar/AFP/Getty Images

ادھر خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کی شام کابل میں ہونے والے حملے کے بعد موقع پر موجود صحافیوں نے کم از کم 30 لاشیں گنی ہیں جبکہ زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

کشیدگی میں اضافہ

یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان گزشتہ تین ہفتوں سے کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جسے پاکستان ''کھلی جنگ‘‘ قرار دے چکا ہے۔

پاکستان - افغانستان کی بڑھتی کشیدگی اور خیبر پختونخوا میں ٹی ٹی پی کی وائرل ویڈیوز

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کے روز طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات تیز کرے۔

پاکستان کا الزام ہے کہ  افغان طالبان اپنی سرزمین پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں کو پناہ دے رہے ہیں جو پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ تاہم افغان طالبان ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہیں۔