ہسپتال پر پاکستانی حملے میں چار سو ہلاکتیں، طالبان کا دعویٰ
17 مارچ 2026
افغان حکام کے مطابق پیر کی رات کابل میں واقع 2000 بستروں پر مشتمل منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے ایک اہم مرکز پر مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 9 بجے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان گزشتہ چند ہفتوں سے جاری کشیدگی میں ایک بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔
طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اس فضائی حملے میں کم از کم 400 افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور آگ پر قابو پانے اور لاشوں کو نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
پاکستان کی تردید
پاکستانی وزیراطلاعات عطااللہ تارڑ نے کابل میں ہسپتال کو نشانہ بنانے کے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی مسلح افواج نے کابل اور مشرقی صوبہ ننگرہار میں صرف فوجی تنصیبات اور دہشت گردی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔
وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان مشرف زیدی نے بھی اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کابل میں کسی ہسپتال کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
گزشتہ ہفتے کے آخر میں بھی دونوں ممالک ایک دوسرے پر عام شہریوں کی ہلاکتوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے افغانستان کے صوبے قندھار میں دہشت گردوں کی ''تکنیکی معاونت کے ایک ڈھانچے‘‘ کو نشانہ بنایا، جبکہ طالبان حکام کا کہنا تھا کہ حملہ منشیات کے علاج کے مرکز اور ایک نجی ایئر لائن کے فیول ڈپو پر کیا گیا۔
ادھر خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کی شام کابل میں ہونے والے حملے کے بعد موقع پر موجود صحافیوں نے کم از کم 30 لاشیں گنی ہیں جبکہ زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
کشیدگی میں اضافہ
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان گزشتہ تین ہفتوں سے کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جسے پاکستان ''کھلی جنگ‘‘ قرار دے چکا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کے روز طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات تیز کرے۔
پاکستان کا الزام ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں کو پناہ دے رہے ہیں جو پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ تاہم افغان طالبان ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہیں۔