1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

حماس نے تمام بیس زندہ اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیے

مقبول ملک روئٹرز، اے پی، اے ایف پی، ڈی پی اے کے ساتھ۔ ادارت | رابعہ بگٹی | عدنان اسحاق
وقت اشاعت 13 اکتوبر 2025آخری اپ ڈیٹ 13 اکتوبر 2025

غزہ پٹی میں حماس کی قید میں موجود تمام بیس زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ ان یرغمالیوں کی پیر تیرہ اکتوبر کے روز رہائی کی اسرائیلی فوج نے بھی تصدیق کر دی ہے۔

https://p.dw.com/p/51std
دو سال سے زیادہ عرصے تک حماس کی قید میں رہنے والے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی پر اسرائیل میں بہت جذباتی منظر دیکھننے میں آئے
دو سال سے زیادہ عرصے تک حماس کی قید میں رہنے والے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی پر اسرائیل میں بہت جذباتی منظر دیکھننے میں آئےتصویر: Oded Balilty/AP Photo/picture alliance
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • یہ مشرق وسطیٰ اور اسرائیل کے لیے نئے جوش و جذبے کا وقت ہے، ٹرمپ کا کنیسٹ سے خطاب
  • یرغمالیوں کی رہائی ’زخم بھرنے کے عمل‘ کا آغاز، جرمن چانسلر میرس
  • معاشیات کا امسالہ نوبل انعام مشترکہ طور پر تین ماہرین اقتصادیات کے نام
  • پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا میں سہیل آفریدی کو نیا وزیر اعلیٰ منتخب کر لیا گیا
  • شرم الشیخ میں غزہ امن سمٹ میں کون کون شرکت کر رہا ہے؟
  • مصر میں غزہ امن سمٹ میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو شرکت نہیں کریں گے
  • چین کو پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحدی جھڑپوں پر گہری تشویش، چینی وزارت خارجہ
  • رہائی کے بعد یرغمالیوں کی اسرائیل واپسی کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ تل ابیب پہنچ گئے
  • غزہ پٹی میں حماس کی قید میں موجود تمام بیس زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا
یہ مشرق وسطیٰ اور اسرائیل کے لیے نئے جوش و جذبے کا وقت ہے، ٹرمپ کا کنیسٹ سے خطاب سیکشن پر جائیں
13 اکتوبر 2025

یہ مشرق وسطیٰ اور اسرائیل کے لیے نئے جوش و جذبے کا وقت ہے، ٹرمپ کا کنیسٹ سے خطاب

امریکی صدر ٹرمپ پیر کے روز یروشلم میں اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے
امریکی صدر ٹرمپ پیر کے روز یروشلم میں اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئےتصویر: Evan Vucci/AP Photo/picture alliance

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج پیر کے روز اسرائیلی پارلیمان سے اپنے خطاب میں کہا کہ غزہ پٹی میں اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی معاہدہ طے پا جانے اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے ساتھ ہی ’’انتشار اور بدامنی پھیلانے والی ان تمام قوتوں کو بری طرح شکست ہو گئی ہے، جنہوں نے مشرق وسطیٰ کے خطے کو ایک عرصے سے بیمار کر رکھا تھا۔‘‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے، جو آج  ہی امریکہ سے اسرائیل پہنچے تھے اور جن کو اسرائیل میں چند گھنٹے قیام کے بعد آج ہی شرم الشیخ کے مقام پر ہونے والی غزہ امن سمٹ میں شرکت کے لیے مصر روانہ ہونا تھا، اسرائیلی پارلیمان سے اپنے خطاب میں کہا، ’’تمام تہذیبوں کے دشمن پسپائی اختیار کرتے جا رہے ہیں۔‘‘

Israel Jerusalem 2025 | Trump und Netanjahu im Knesset nach Gaza-Waffenstillstand
پیر کے روز اسرائیلی پارلیمان میں اپنی موجودگی کے دوران امریکی صدر ٹرمپ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی تقریر سنتے ہوئےتصویر: Saul Loeb/Getty Images

امریکی صدر نے اسرائیلی ارکان پارلیمان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ ڈراؤنا خواب، جو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں ہی کے لیے ’’طویل اور بہت تکلیف دہ‘‘ تھا، اب ’’بالآخر ختم ہو گیا ہے۔‘‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں مزید کہا، ’’یہ وقت اب مشرق وسطیٰ اور اسرائیل کے لیے نئے جوش و جذبے کا وقت ہے۔‘‘
 

https://p.dw.com/p/51uh3
یرغمالیوں کی رہائی ’زخم بھرنے کے عمل‘ کا آغاز، جرمن چانسلر میرس سیکشن پر جائیں
13 اکتوبر 2025

یرغمالیوں کی رہائی ’زخم بھرنے کے عمل‘ کا آغاز، جرمن چانسلر میرس

جرمن چانسلر میرس، بائیں، غزہ امن سمٹ سے پہلے شرم الشیخ میں مصری صدر السیسی سے ملاقات کرتے ہوئے
جرمن چانسلر میرس، بائیں، غزہ امن سمٹ سے پہلے شرم الشیخ میں مصری صدر السیسی سے ملاقات کرتے ہوئےتصویر: Michael Kappeler/dpa/picture alliance

جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کی طرف سے آج پیر کے روز تمام 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حماس کے قبضے میں ہلاک ہو جانے والے تمام 28 یرغمالیوں کی جسمانی باقیات بھی جلد از جلد اسرائیل کے حوالے کی جانا چاہییں۔

غزہ کی جنگ کے دو سال مکمل، ہزارہا ہلاکتیں اور وسیع تر تباہی

چانسلر میرس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں آج لکھا، ’’بالآخر، 738 دنوں بعد،  یرغمالی واپس اپنے گھروں کو پہنچ رہے ہیں۔  ان میں جرمنی کے شہری بھی شامل ہیں۔ ان کی رہائی کے پیچھے دو سال تک جاری رہنے والا خوف، درد اور امید بھی ہیں۔ آج ان یرغمالیوں کے خاندان ایک بار پھر اپنے ان پیاروں کو گلے لگا سکیں گے۔‘‘

جرمن چانسلر فریڈرش میرس شرم الشیخ پہنچنے کے بعد طیارے سے نیچے اترتے ہوئے
جرمن چانسلر فریڈرش میرس شرم الشیخ پہنچنے کے بعد طیارے سے نیچے اترتے ہوئےتصویر: Michael Kappeler/dpa/picture alliance

ساتھ ہی چانسلر میرس نے ایکس پر مزید لکھا، ’’وہ تمام یرغمالی بھی، جو قتل کر دیے گئے، ان کی جسمانی باقیات کو بھی لازمی طور پر ان کے گھروں کو لوٹنا چاہیے، تاکہ ان کے خاندان انہیں باوقار انداز میں ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ سکیں۔ آج کا دن ایک ابتدا ہے، ابتدا اس عمل کی جس کے ساتھ زخم بھرنا شروع ہو جائیں اور مشرق وسطیٰ میں امن کے راستے پر ایک نیا قدم اٹھایا جا سکے۔‘‘

شرم الشیخ میں غزہ امن مذاکرات اور ثالث ممالک کی تنبیہ

وفاقی جرمن چانسلر میرس آج پیر کے روز دنیا کے کئی ممالک کے ان 20 سے زائد رہنماؤں کے ساتھ مل کر مصر میں شرم الشیخ کے مقام پر اس غزہ امن سمٹ میں بھی شرکت کر رہے ہیں، جس میں غزہ پٹی میں  قیام امن کے عمل اور اس فلسطینی خطے کے مستقبل کے بارے میں مشاورت کی جائے گی۔ اس سمٹ کی صدارت امریکی اور مصری صدور مل کر کریں گے۔

کیا اسرائیل کے لیے حماس کو مکمل تباہ کرنا ممکن ہے؟

https://p.dw.com/p/51udF
معاشیات کا امسالہ نوبل انعام مشترکہ طور پر تین ماہرین اقتصادیات کے نام سیکشن پر جائیں
13 اکتوبر 2025

معاشیات کا امسالہ نوبل انعام مشترکہ طور پر تین ماہرین اقتصادیات کے نام

سال رواں کے نوبل انعام برائے معاشیات کے مشترکہ طور پر حقدار قرار دیے گئے تینوں ماہرین کے ناموں کا اعلان کیا جا رہا ہے
سال رواں کے نوبل انعام برائے معاشیات کے مشترکہ طور پر حقدار قرار دیے گئے تینوں ماہرین کے ناموں کا اعلان کیا جا رہا ہےتصویر: Anders Wiklund/TT News Agency/picture alliance

سال رواں کا اقتصادیات کا نوبل انعام مشترکہ طور پر تین ایسے ماہرین کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جنہوں نے جدت پسندی کے اقتصادی ترقی پر اثرات سے متعلق تحقیق کی اور یہ دکھایا کہ کس طرح نئی ٹیکنالوجیز پرانی ٹیکنالوجیز کی جگہ لیتی ہیں۔ یہ ایک ایسا کلیدی اقتصادی تصور ہے، جسے ماہرین ’’تخلیقی تخریب‘‘ کا نام دیتے ہیں۔

سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق سال 2025ء کے اکنامکس کے نوبل پرائز کے حقدار ٹھہرائے گئے ان تین ماہرین کے نام جوئل موکیر، فیلیپ آگیوں اور پیٹر ہووِٹ ہیں۔ اس انعام کا فیصلہ کرنے والی نوبل کمیٹی کے مطابق ان تینوں ماہرین کو مشترکہ طور پر اس انعام کا حقدار اس لیے ٹھہرایا گیا کہ ان کے اقتصادی نظریات اور تحقیقی سوچیں بظاہر ایک دوسرے سے متصادم لیکن ایک دوسرے کی تائید و توثیق کرنے والے ہیں۔

نوبل اکنامکس پرائز کمیٹی کی رکن کیرسٹن اینفلو یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ ’تخلیقی تخریب‘ کا عمل کس طرح تکمیل کو پہنچتا ہے
نوبل اکنامکس پرائز کمیٹی کی رکن کیرسٹن اینفلو یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ ’تخلیقی تخریب‘ کا عمل کس طرح تکمیل کو پہنچتا ہےتصویر: Jonathan Nackstrand/AFP/Getty Images

’تخلیقی تخریب‘ کے عوامل کی وضاحت

اقتصادیات کے نوبل انعام کے حقدار قرار دیے گئے ان ماہرین میں سے جوئل موکیر ایک اقتصادی مؤرخ ہیں، جنہوں نے تاریخی ذرائع استعمال کرتے ہوئے طویل المدتی رجحانات کا مطالعہ کیا۔ دوسری طرف آگیوں اور ہووِٹ نے معیشت میں ’’تخلیقی تحریب‘‘ کے عوامل کی وضاحت کے لیے ریاضی پر انحصار کیا۔

پیدائشی طور پر ڈچ شہری موکیر کی عمر 79 برس ہے اور ان کا تعلق نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی سے ہے۔ آگیوں کی عمر 69 برس ہے اور ان کا تعلق کالج آف فرانس اور لندن اسکول آف اکنامکس سے ہے جبکہ پیدائشی طور پر کینیڈا سے تعلق رکھنے والے 79 سالہ ہووِٹ براؤن یونیورسٹی سے منسلک اقتصادی محقق ہیں۔

امسالہ نوبل پرائز برائے معاشیات کا اعلان پیر 13 اکتوبر کو سٹاک ہوم میں کیا گیا
امسالہ نوبل پرائز برائے معاشیات کا اعلان پیر 13 اکتوبر کو سٹاک ہوم میں کیا گیاتصویر: Tom Little/REUTERS

گزشتہ ہفتے پیر سے لے کر آج پیر 13 اکتوبر تک طب، فزکس، کیمسٹری، ادب، امن اور اقتصادیات کے شعبوں میں مجموعی طور پر جتنے بھی ماہرین کو سال رواں کے لیے نوبل انعامات کا حقدار قرار دیا گیا ہے، انہیں یہ انعامات 10 دسمبر کو سویڈن میں سٹاک ہوم اور ناروے میں اوسلو میں منعقد ہونے والی دو مختلف تقاریب میں دیے جائیں گے۔

ہر شعبے میں نوبل پرائز کے ساتھ ایک بڑی رقم بھی نقد انعام کے طور پر دی جاتی ہے۔ اگر کسی شعبے میں انعام پانے والے ماہرین ایک سے زائد ہوں، تو یہ نقد انعام ان میں برابر تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ 
 

https://p.dw.com/p/51uT7
پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا میں سہیل آفریدی کو نیا وزیر اعلیٰ منتخب کر لیا گیا سیکشن پر جائیں
13 اکتوبر 2025

پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا میں سہیل آفریدی کو نیا وزیر اعلیٰ منتخب کر لیا گیا

ہاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کے پی ٹی آئی ہی سے تعلق رکھنے والے نئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی
ہاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کے پی ٹی آئی ہی سے تعلق رکھنے والے نئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدیتصویر: Private

پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی سہیل آفریدی کو پیر 13 اکتوبر کے روز نیا صوبائی وزیر اعلیٰ منتخب کر لیا گیا۔ ان کے انتخاب کے لیے ہونے والے صوبائی اسمبلی کے اجلاس کا اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے بائیکاٹ کیا گیا۔

خیبر پختونخوا میں قانون کی عملداری کمزور، ایچ آر سی پی

سہیل آفریدی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ہی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی جگہ نئے صوبائی حکومتی سربراہ بنے ہیں، جنہوں نے پی ٹی آئی کے بانی سربراہ اور جیل میں قید عمران خان کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اپنے عہدے سے چند روز قبل استعفیٰ دے دیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف کے نو اراکین پارلیمنٹ نااہل قرار

سہیل آفریدی کے انتخاب سے قبل صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے اسمبلی میں اپوزیشن کی طرف سے بائیکاٹ کے اعلان کے باوجود اجلاس کی کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

سہیل آفریدی کے پی ٹی آئی ہی سے تعلق رکھنے والے پیش رو وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور، جو عمران خان کی ہدایت پر مستعفی ہو گئے تھے
سہیل آفریدی کے پی ٹی آئی ہی سے تعلق رکھنے والے پیش رو وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور، جو عمران خان کی ہدایت پر مستعفی ہو گئے تھےتصویر: PPI via ZUMA Press Wire/picture alliance

تکنیکی طور پر پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی کے مقابلے میں صوبائی سربراہ حکومت کے عہدے پر انتخاب کے لیے امیدواروں کی تعداد تین تھی، جو جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ایف) کے مولانا لطف الرحمان، پاکستان مسلم لیگ (ن) کےسردار شاہ جہان یوسف اور پیپلز پارٹی کے ارباب زرک خان تھے۔

خیبر پختونخوا میں نئی قیادت، پی ٹی آئی کے لیے کیا بدلے گا؟

صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی کے مطابق ایوان سے حزب اختلاف کے بائیکاٹ کے باعث چونکہ اپوزیشن کا کوئی بھی رکن ایوان میں موجود نہیں تھا، اس لیے ان تینوں امیدواروں میں سے کوئی بھی ایک ووٹ بھی حاصل نہ کر سکا۔

’عمران خان نہیں چاہتے کہ فوج اور عوام کے درمیان دوری ہو‘

https://p.dw.com/p/51u7B
شرم الشیخ میں غزہ امن سمٹ میں کون کون شرکت کر رہا ہے؟ سیکشن پر جائیں
13 اکتوبر 2025

شرم الشیخ میں غزہ امن سمٹ میں کون کون شرکت کر رہا ہے؟

مصری صدر السیسی، دائیں، اور امریکی صدر ٹرمپ
غزہ امن سمٹ کی صدارت مشترکہ طور پر مصری صدر السیسی، دائیں، اور امریکی صدر ٹرمپ کریں گےتصویر: Pat Benic/IMAGO

مصر کے ساحلی تعطیلاتی مقام شرم الشیخ میں آج پیر 13 اکتوبر کو ہونے والی غزہ امن سمٹ میں مجموعی طور پر 21 ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ رہنما حصہ لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس سمٹ میں یورپی یونین، عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے نمائندے بھی شرکت کریں گے۔

مصری حکومت کے بیانات کے مطابق اس سمٹ کی صدرات مشترکہ طور پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ جو دیگر اعلیٰ رہنما اس سربراہی اجلاس میں شامل ہوں گے، ان میں جرمن چانسلر فریڈرش میرس، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش، اردن کے شاہ عبداللہ ثانی، برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں، ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن، کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بھی شامل ہیں۔

فرانسیسی صدر ماکروں آج پیر کے روز شرم الشیخ پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے
فرانسیسی صدر ماکروں آج پیر کے روز شرم الشیخ پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےتصویر: Yoan Valat/REUTERS

قاہرہ میں صدر السیسی کے دفتر کے مطابق اس سربراہی اجلاس کا مقصد ’’غزہ پٹی میں جنگ کے باقاعدہ خاتمے کی تصدیق، مشرق وسطیٰ میں استحکام کو تقویت دیتے ہوئے امن کی ترویج اور علاقائی سلامتی کے ایک نئے دور کے آغاز کا اشارہ دینا ہے۔‘‘

کل اتوار کے دن مصری وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ اس سمٹ میں غزہ پٹی کی جنگ کے خ‍اتمے سے متعلق ایک دستاویز پر باقاعدہ دستخط بھی کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی قاہرہ میں وزارت خارجہ نے شرم الشیخ میں آج کے اس سربراہی اجلاس کو ’’ایک تاریخی اجتماع‘‘ بھی قرار دیا تھا۔

برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر آج شرم الشیخ پہنچنے کے بعد طیارے سے باہر آتے ہوئے
برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر آج شرم الشیخ پہنچنے کے بعد طیارے سے باہر آتے ہوئےتصویر: Suzanne Plunkett/AP Photo/picture alliance

تازہ رپورٹو‌ں کے مطابق اس سمٹ میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو شرکت نہیں کریں گے اور فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس بھی نہیں۔ تاہم اس میں فلسطینی خود مختار اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی شرکت متوقع ہے۔

https://p.dw.com/p/51ty6
مصر میں غزہ امن سمٹ میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو شرکت نہیں کریں گے سیکشن پر جائیں
13 اکتوبر 2025

مصر میں غزہ امن سمٹ میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو شرکت نہیں کریں گے

مصری ساحلی مقام شرم الشیخ میں غزہ امن سمٹ کے انعقاد اور عالمی رہنماؤں کے استقبال کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ السیسی اور ٹرمپ کی تصویروں والا ایک پوسٹر
مصری ساحلی مقام شرم الشیخ میں غزہ امن سمٹ کے انعقاد اور عالمی رہنماؤں کے استقبال کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیںتصویر: Amr Nabil/AP Photo/picture alliance

مصر کے ساحلی تعطیلاتی مقام شرم الشیخ میں آج پیر 13 اکتوبر کو ہونے والی غزہ امن سمٹ میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو شرکت نہیں کریں گے۔ شروع میں ایسے اشارے دیے گئے تھے کہ شاید نیتن یاہو اس سمٹ میں حصہ نہیں لیں گے۔ پھر کئی میڈیا رپورٹوں کے علاوہ مصری صدر کے دفتر نے بھی کہا کہ اس سربراہی اجتماع میں اسرائیلی سربراہ حکومت بھی حصہ لیں گے۔

اسرائیلی پبلک براڈکاسٹر ’کان‘ نے بھی آج بتایا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ آج ہی ٹیلی فون پر گفتگو بھی کی ہے۔ مصری صدر السیسی اور امریکی صدرٹرمپ مل کر شرم الشیخ میں ہونے والی اس غزہ امن سمٹ کی صدارت کریں گے۔

شرم الشیخ میں آج پیر کے روز، دائیں سے بائیں: برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر، فلسطینی صدر محمود عباس اور فرانسیسی صدر ماکروں
شرم الشیخ میں آج پیر کے روز، دائیں سے بائیں: برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر، فلسطینی صدر محمود عباس اور فرانسیسی صدر ماکروںتصویر: Suzanne Plunkett/REUTERS

بعد ازاں تل ابیب سے ملنے والی رپورٹوں میں پیر کی دوپہر واضح طور پر کہا گیا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو غزہ امن سمٹ میں شرکت کی دعوت دی، تو وزیر اعطم نیتن یاہو نے یہ کہتے ہوئے معذرت کر لی کہ عنقریب ہی شروع ہونے والی ایک یہودی مذہبی تعطیل کی وجہ سے اور وقت کی کمی کے باعث وہ شرم الشیخ میں ہونے والی غزہ سے متعلق سمٹ میں شرکت نہیں کر سکتے۔

اس سمٹ کے بارے میں فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کا اب تک کا موقف یہ ہے کہ وہ بھی اس میں شرکت نہیں کرے گی اور اپنا کوئی نمائندہ شرم الشیخ نہیں بھیجے گی۔
تاہم فلسطینی خود مختار انتظامیہ، جو مقبوضہ مغربی کنارے پر حکومت کرتی ہے اور جسے بین الاقوامی سطح پر فلسطینیوں کی نمائندہ مقتدرہ سمجھا جاتا ہے، کے سربراہ اور فلسطینی صدر محمود عباس کی اس سمٹ میں شرکت متوقع ہے۔

غزہ جنگ کے دو برس: ٹرمپ کے مطابق حماس ’دیرپا امن کے لیے تیار ہے‘

https://p.dw.com/p/51tpl
چین کو پاکستان اور افغانستان کے مابین جھڑپوں پر گہری تشویش، چینی وزارت خارجہ سیکشن پر جائیں
13 اکتوبر 2025

چین کو پاکستان اور افغانستان کے مابین جھڑپوں پر گہری تشویش، چینی وزارت خارجہ

اسی سال بیجنگ میں ہونے والے چین، پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس کے موقع پر لی گئی تصویر
اسی سال بیجنگ میں ہونے والے چین، پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس کے موقع پر لی گئی تصویرتصویر: Ministry of Foreign Affairs - Pakistan

چینی وزارت خارجہ کی طرف سے آج پیر کے روز پاکستان اور اس کے ہمسایہ ملک افغانستان کے مابین حالیہ مسلح جھڑپوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان دونوں ممالک کو خطے میں اپنے اپنے شہریوں اور سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے بھرپور کوششیں کرنا چاہییں۔

پاکستان اور افغانستان دونوں کی طرف سے کل اتوار 12 اکتوبر کے روز کہا گیا تھا کہ ان کے مسلح دستوں کے مابین ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات ہونے والی شدید سرحدی جھڑپوں میں دونوں طرف سے درجنوں فائٹر یا فوجی مارے گئے تھے۔ یہ مسلح تصادم کابل میں افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان اور افغانستان کے مابین آج تک ہونے والا سب سے بڑا اور خونریز تصادم تھا۔

چین نے، جس کے مغربی حصے میں اس کی قومی سرحدیں پاکستان اور افغانستان دونوں سے ملتی ہیں، ماضی قریب میں متعدد مرتبہ یہ پیشکش کی تھی کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثی کر سکتا ہے۔ یہ دونوں ممالک کچھ عرصہ پہلے تک ایک دوسرے کے حلیف تھے۔

پاکستان کے 58 فوجی ہلاک کر دیے، افغانستان کا دعویٰ

افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے وزیر خارجہ امیر خان متقی، دائیں، اور پاکستانی نائب وزیر اعظم ور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، کابل میں اسی سال لی گئی ایک تصویر
افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے وزیر خارجہ امیر خان متقی، دائیں، اور پاکستانی نائب وزیر اعظم ور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، کابل میں اسی سال لی گئی ایک تصویرتصویر: Pakistan's Ministry of Foreign Affairs/AFP

بیجنگ پاک افغان تعلقات میں بہتری کا خواہش مند

حالیہ پاک افغان کشیدگی کے تناظر میں بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے آج پیر کے روز معمول کی ایک پریس بریفنگ میں کہا، ’’چین پاک افغان تعلقات میں بہتری کے لیے اور ان روابط میں موجودہ کے مقابلے میں مستقبل میں واضح بہتری کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتے رہنے کا خواہش مند ہے۔‘‘

’بھارتی حمایت یافتہ‘ 30 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا، پاکستانی فوج

ساتھ ہی بیجنگ میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا، ’’چین کو امید ہے کہ کابل اور اسلام آباد احتیاط پسندی اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کے خدشات اور تشویش کو مکالمت اور مشاورت سے ختم کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ کسی بھی طرح کے تنازعات میں شدت سے بچا جا سکے۔‘‘

طالبان وزیر خارجہ متقی ’غیر معمولی‘ دورے پر پاکستان میں

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اسی سال اگست میں کابل میں ایک ایسے اجلاس میں شرکت کی تھی، جس میں پاکستانی اور افغان وزرائے خارجہ بھی شریک ہوئے تھے۔ اس اجلاس میں چین کا اصرار تھا کہ یہ دونوں ہمسایہ ممالک آپس میں ہر طرح کے تبادلوں اور اشتراک عمل کو مضبوط بنائیں۔

کیا تحریک طالبان پاکستان کو افغان طالبان کی حمایت حاصل ہے؟

https://p.dw.com/p/51thl
رہائی کے بعد یرغمالیوں کی اسرائیل واپسی کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ تل ابیب پہنچ گئے سیکشن پر جائیں
13 اکتوبر 2025

رہائی کے بعد یرغمالیوں کی اسرائیل واپسی کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ تل ابیب پہنچ گئے

تل ابیب پہنچنے پر امریکی صدر ٹرمپ کا استقبال اسرائیلی صدر ہیرزوگ اور وزیر اعظم نیتن یاہو نے کیا
تل ابیب پہنچنے پر امریکی صدر ٹرمپ کا استقبال اسرائیلی صدر ہیرزوگ اور وزیر اعظم نیتن یاہو نے کیاتصویر: Evelyn Hockstein/REUTERS

امریکی صدر ٹرمپ مصر میں ہونے والی ایک امن سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے امریکہ سے مشرق وسطیٰ جاتے ہوئے، آج پیر 13 اکتوبر کے روز تل ابیب پہنچ گئے۔ ان کے تل ابیب کے اس دورے کا مقصد غزہ امن معاہدے کے نتیجے میں حماس کی طرف سے رہا کردہ اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کے موقع پر اسرائیلی حکومت اور عوام کو مبارکباد دینا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو لے کر امریکی صدارتی طیارہ ایئر فورس ون آج تل ابیب کے بین گوریان ایئر پورٹ پر اترنے سے پہلے خاص طور پر اسی شہر کے ہوسٹیجز اسکوائر کے اوپر سے بھی گزرا، جہاں اسرائیلی یرغمالیوں کے پہلے گروپ کی رہائی پر خوشیاں منانے کے لیے ہزارہا افراد جمع تھے۔

صدر ٹرمپ جب تل ابیب کے بین گوریان ایئر پورٹ پر اترے، تو ان کے اسرائیلی ہم منصب آئزک ہیرزوگ اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ان کا استقبال کیا۔

امریکی صدر ٹرمپ کا طیارہ تل ابیب کی فضا میں پرواز کرتا ہوا
امریکی صدر ٹرمپ کا طیارہ تل ابیب کی فضا میں پرواز کرتا ہواتصویر: Hannah McKay/REUTERS

صدر ٹرمپ مصر میں ہونے والی امن سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے روانہ ہونے سے پہلے اسرائیل میں یرغمالیوں کے رشتہ داروں سے بھی ملیں گے اور اس کے بعد انہیں اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ کے خطاب بھی کرنا ہے۔

ان مصروفیات کے بعد مصر پہنچنے پر صدر ٹرمپ اس امن سمٹ میں حصہ لیں گے، جس کی وہ مصری ہم منصب عبدالفتاح السیسی کے ساتھ مل کر مشترکہ صدارت بھی کریں گے۔

امریکی صدر کے بقول واشنگٹن کی سفارتی کوششوں سے اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی جو ڈیل طے پائی، اس کی مدد سے غزہ پٹی کا دوسالہ مسلح تنازعہ مؤثر انداز میں ختم ہو گیا ہے۔

غزہ معاہدہ کیسے ہوا اور ٹرمپ کا کردار کیا رہا؟

https://p.dw.com/p/51sxO
حماس نے تمام بیس زندہ اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیے سیکشن پر جائیں
13 اکتوبر 2025

حماس نے تمام بیس زندہ اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیے

حماس کی طرف سے پیر 13 اکتوبر کے روز غزہ سٹی میں بیس زندہ اسرائیلی یرغمالیوں میں سے ان کے پہلے گروپ کے ریڈ کراس کے حوالے کیے جانے کے موقع پر لی گئی ایک تصویر
حماس کی طرف سے پیر 13 اکتوبر کے روز غزہ سٹی میں بیس زندہ اسرائیلی یرغمالیوں میں سے ان کے پہلے گروپ کے ریڈ کراس کے حوالے کیے جانے کے موقع پر لی گئی ایک تصویرتصویر: Hamza Z. H. Qraiqea/Anadolu/picture alliance

غزہ پٹی میں حماس کی قید میں موجود تمام بیس زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ ان یرغمالیوں کی پیر تیرہ اکتوبر کے روز رہائی کی اسرائیلی فوج نے بھی تصدیق کر دی ہے۔

غزہ پٹی میں گزشتہ دو سال سے بھی زائد عرصے سے فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کی قید میں موجود ان زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو دو گروپوں میں رہا کیا گیا۔ پہلے گروپ میں سات یرغمالی شامل تھے جبکہ دوسرے میں تیرہ۔

غزہ: جنگ بندی کے بعد شہریوں کی واپسی، اقوام متحدہ کی امدادی سرگرمیوں میں تیزی

قبل ازیں غزہ امن معاہدے کے نتیجے میں فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے رہا کردہ سات یرغمالیوں کا پہلا گروپ آج ہی اسرائیل پہنچ گیا۔ اس گروپ کو غزہ پٹی کے شمال میں واقع غزہ سٹی میں پیر کی صبح رہا کیا گیا تھا، جو بین الاقوامی ریڈ کراس تنظیم کے اہلکاروں کے حوالے کیے جانے کے بعد اب اسرائیل کے ریاستی علاقے میں پہنچ چکا ہے۔

یرغمالیوں کی رہائی کی خبر پر تل ابیب میں ہوسٹیجز اسکوائر پر جمع ہزاروں افراد کی طرف سے خوشی کا اظہار
یرغمالیوں کی رہائی کی خبر پر تل ابیب میں ہوسٹیجز اسکوائر پر جمع ہزاروں افراد کی طرف سے خوشی کا اظہارتصویر: Shir Torem/REUTERS

یرغمالیوں کے اس پہلے گروپ کے بعد حماس نے تمام 20 زندہ یرغمالیوں میں سے باقی ماندہ 13 افراد کو بھی رہا کر دیا۔ اسرائیلی فوج نے مقامی وقت کے مطابق قبل از دوپہر بتایا تھا کہ ریڈ کراس کے اہلکاروں کا ایک قافلہ اُس وقت جنوبی غزہ پٹی پہنچنے والا تھا، جہاں اس دوسرے گروپ میں شامل افراد کو ریڈ کراس کے اہلکاروں کے حوالے کیا جانا تھا۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے رہائی کی تصدیق

امریکہ، مصراور قطر کی ثالثی میں بالواسطہ مذاکرات کے نتیجے میں اسرائیل اور حماس کے مابین غزہ میں جنگ بندی کے لیے جو معاہدہ طے پایا تھا، اس پر عمل کرتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی ہو چکی ہے، جس پر کافی حد تک عمل درآمد بھی کیا جا رہا ہے۔ اسی معاہدے کے تحت تمام زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی آج متوقع تھی۔

غزہ میں امن کی بحالی کی طرف پہلا قدم

تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی دفاعی افواج نے تصدیق کر دی ہے کہ حماس کی طرف سے غزہ میں باقی ماندہ 13 زندہ یرغمالیوں کو بھی ریڈ کراس کے حوالے کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اب کوئی زندہ اسرائیلی یرغمالی حماس کی قید میں نہیں ہے۔

اسرائیلی فوج کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’ریڈ کراس کی طرف سے مہیا کردہ معلومات کے مطابق باقی ماندہ 13 یرغمالیوں کو بھی حماس نے غزہ پٹی میں ریڈ کراس کے کارکنوں کے حوالے کر دیا ہے، جو انہیں لے کر اس وقت غزہ پٹی میں اسرائیلی دفاعی افواج اور اسرائیلی سکیورٹی ایجنسی کے اہلکاروں کی طرف سفر میں ہیں۔‘‘

ان اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیل کو اپنے ہاں مختلف جیلوں سے بڑی تعداد میں ایسے فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنا ہے، جن میں سے کئی طویل مدت کی قید کی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ساتھ ہی بہت سے ایسے دیگر فلسطینی قیدیوں کی رہائی بھی متوقع ہے، جنہیں غزہ کی جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے گرفتار کر لیا تھا۔

غزہ میں مسلح تنازعے کے دو برس، کیا کچھ بدلا؟

https://p.dw.com/p/51suf
مزید پوسٹیں
Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔