حماس نے تمام بیس زندہ اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیے
وقت اشاعت 13 اکتوبر 2025آخری اپ ڈیٹ 13 اکتوبر 2025
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- یہ مشرق وسطیٰ اور اسرائیل کے لیے نئے جوش و جذبے کا وقت ہے، ٹرمپ کا کنیسٹ سے خطاب
- یرغمالیوں کی رہائی ’زخم بھرنے کے عمل‘ کا آغاز، جرمن چانسلر میرس
- معاشیات کا امسالہ نوبل انعام مشترکہ طور پر تین ماہرین اقتصادیات کے نام
- پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا میں سہیل آفریدی کو نیا وزیر اعلیٰ منتخب کر لیا گیا
- شرم الشیخ میں غزہ امن سمٹ میں کون کون شرکت کر رہا ہے؟
- مصر میں غزہ امن سمٹ میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو شرکت نہیں کریں گے
- چین کو پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحدی جھڑپوں پر گہری تشویش، چینی وزارت خارجہ
- رہائی کے بعد یرغمالیوں کی اسرائیل واپسی کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ تل ابیب پہنچ گئے
- غزہ پٹی میں حماس کی قید میں موجود تمام بیس زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا
یہ مشرق وسطیٰ اور اسرائیل کے لیے نئے جوش و جذبے کا وقت ہے، ٹرمپ کا کنیسٹ سے خطاب
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج پیر کے روز اسرائیلی پارلیمان سے اپنے خطاب میں کہا کہ غزہ پٹی میں اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی معاہدہ طے پا جانے اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے ساتھ ہی ’’انتشار اور بدامنی پھیلانے والی ان تمام قوتوں کو بری طرح شکست ہو گئی ہے، جنہوں نے مشرق وسطیٰ کے خطے کو ایک عرصے سے بیمار کر رکھا تھا۔‘‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے، جو آج ہی امریکہ سے اسرائیل پہنچے تھے اور جن کو اسرائیل میں چند گھنٹے قیام کے بعد آج ہی شرم الشیخ کے مقام پر ہونے والی غزہ امن سمٹ میں شرکت کے لیے مصر روانہ ہونا تھا، اسرائیلی پارلیمان سے اپنے خطاب میں کہا، ’’تمام تہذیبوں کے دشمن پسپائی اختیار کرتے جا رہے ہیں۔‘‘
امریکی صدر نے اسرائیلی ارکان پارلیمان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ ڈراؤنا خواب، جو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں ہی کے لیے ’’طویل اور بہت تکلیف دہ‘‘ تھا، اب ’’بالآخر ختم ہو گیا ہے۔‘‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں مزید کہا، ’’یہ وقت اب مشرق وسطیٰ اور اسرائیل کے لیے نئے جوش و جذبے کا وقت ہے۔‘‘
یرغمالیوں کی رہائی ’زخم بھرنے کے عمل‘ کا آغاز، جرمن چانسلر میرس
جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کی طرف سے آج پیر کے روز تمام 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حماس کے قبضے میں ہلاک ہو جانے والے تمام 28 یرغمالیوں کی جسمانی باقیات بھی جلد از جلد اسرائیل کے حوالے کی جانا چاہییں۔
غزہ کی جنگ کے دو سال مکمل، ہزارہا ہلاکتیں اور وسیع تر تباہی
چانسلر میرس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں آج لکھا، ’’بالآخر، 738 دنوں بعد، یرغمالی واپس اپنے گھروں کو پہنچ رہے ہیں۔ ان میں جرمنی کے شہری بھی شامل ہیں۔ ان کی رہائی کے پیچھے دو سال تک جاری رہنے والا خوف، درد اور امید بھی ہیں۔ آج ان یرغمالیوں کے خاندان ایک بار پھر اپنے ان پیاروں کو گلے لگا سکیں گے۔‘‘
ساتھ ہی چانسلر میرس نے ایکس پر مزید لکھا، ’’وہ تمام یرغمالی بھی، جو قتل کر دیے گئے، ان کی جسمانی باقیات کو بھی لازمی طور پر ان کے گھروں کو لوٹنا چاہیے، تاکہ ان کے خاندان انہیں باوقار انداز میں ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ سکیں۔ آج کا دن ایک ابتدا ہے، ابتدا اس عمل کی جس کے ساتھ زخم بھرنا شروع ہو جائیں اور مشرق وسطیٰ میں امن کے راستے پر ایک نیا قدم اٹھایا جا سکے۔‘‘
شرم الشیخ میں غزہ امن مذاکرات اور ثالث ممالک کی تنبیہ
وفاقی جرمن چانسلر میرس آج پیر کے روز دنیا کے کئی ممالک کے ان 20 سے زائد رہنماؤں کے ساتھ مل کر مصر میں شرم الشیخ کے مقام پر اس غزہ امن سمٹ میں بھی شرکت کر رہے ہیں، جس میں غزہ پٹی میں قیام امن کے عمل اور اس فلسطینی خطے کے مستقبل کے بارے میں مشاورت کی جائے گی۔ اس سمٹ کی صدارت امریکی اور مصری صدور مل کر کریں گے۔
معاشیات کا امسالہ نوبل انعام مشترکہ طور پر تین ماہرین اقتصادیات کے نام
سال رواں کا اقتصادیات کا نوبل انعام مشترکہ طور پر تین ایسے ماہرین کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جنہوں نے جدت پسندی کے اقتصادی ترقی پر اثرات سے متعلق تحقیق کی اور یہ دکھایا کہ کس طرح نئی ٹیکنالوجیز پرانی ٹیکنالوجیز کی جگہ لیتی ہیں۔ یہ ایک ایسا کلیدی اقتصادی تصور ہے، جسے ماہرین ’’تخلیقی تخریب‘‘ کا نام دیتے ہیں۔
سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق سال 2025ء کے اکنامکس کے نوبل پرائز کے حقدار ٹھہرائے گئے ان تین ماہرین کے نام جوئل موکیر، فیلیپ آگیوں اور پیٹر ہووِٹ ہیں۔ اس انعام کا فیصلہ کرنے والی نوبل کمیٹی کے مطابق ان تینوں ماہرین کو مشترکہ طور پر اس انعام کا حقدار اس لیے ٹھہرایا گیا کہ ان کے اقتصادی نظریات اور تحقیقی سوچیں بظاہر ایک دوسرے سے متصادم لیکن ایک دوسرے کی تائید و توثیق کرنے والے ہیں۔
’تخلیقی تخریب‘ کے عوامل کی وضاحت
اقتصادیات کے نوبل انعام کے حقدار قرار دیے گئے ان ماہرین میں سے جوئل موکیر ایک اقتصادی مؤرخ ہیں، جنہوں نے تاریخی ذرائع استعمال کرتے ہوئے طویل المدتی رجحانات کا مطالعہ کیا۔ دوسری طرف آگیوں اور ہووِٹ نے معیشت میں ’’تخلیقی تحریب‘‘ کے عوامل کی وضاحت کے لیے ریاضی پر انحصار کیا۔
پیدائشی طور پر ڈچ شہری موکیر کی عمر 79 برس ہے اور ان کا تعلق نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی سے ہے۔ آگیوں کی عمر 69 برس ہے اور ان کا تعلق کالج آف فرانس اور لندن اسکول آف اکنامکس سے ہے جبکہ پیدائشی طور پر کینیڈا سے تعلق رکھنے والے 79 سالہ ہووِٹ براؤن یونیورسٹی سے منسلک اقتصادی محقق ہیں۔
گزشتہ ہفتے پیر سے لے کر آج پیر 13 اکتوبر تک طب، فزکس، کیمسٹری، ادب، امن اور اقتصادیات کے شعبوں میں مجموعی طور پر جتنے بھی ماہرین کو سال رواں کے لیے نوبل انعامات کا حقدار قرار دیا گیا ہے، انہیں یہ انعامات 10 دسمبر کو سویڈن میں سٹاک ہوم اور ناروے میں اوسلو میں منعقد ہونے والی دو مختلف تقاریب میں دیے جائیں گے۔
ہر شعبے میں نوبل پرائز کے ساتھ ایک بڑی رقم بھی نقد انعام کے طور پر دی جاتی ہے۔ اگر کسی شعبے میں انعام پانے والے ماہرین ایک سے زائد ہوں، تو یہ نقد انعام ان میں برابر تقسیم کر دیا جاتا ہے۔
پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا میں سہیل آفریدی کو نیا وزیر اعلیٰ منتخب کر لیا گیا
پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی سہیل آفریدی کو پیر 13 اکتوبر کے روز نیا صوبائی وزیر اعلیٰ منتخب کر لیا گیا۔ ان کے انتخاب کے لیے ہونے والے صوبائی اسمبلی کے اجلاس کا اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے بائیکاٹ کیا گیا۔
خیبر پختونخوا میں قانون کی عملداری کمزور، ایچ آر سی پی
سہیل آفریدی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ہی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی جگہ نئے صوبائی حکومتی سربراہ بنے ہیں، جنہوں نے پی ٹی آئی کے بانی سربراہ اور جیل میں قید عمران خان کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اپنے عہدے سے چند روز قبل استعفیٰ دے دیا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف کے نو اراکین پارلیمنٹ نااہل قرار
سہیل آفریدی کے انتخاب سے قبل صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے اسمبلی میں اپوزیشن کی طرف سے بائیکاٹ کے اعلان کے باوجود اجلاس کی کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
تکنیکی طور پر پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی کے مقابلے میں صوبائی سربراہ حکومت کے عہدے پر انتخاب کے لیے امیدواروں کی تعداد تین تھی، جو جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ایف) کے مولانا لطف الرحمان، پاکستان مسلم لیگ (ن) کےسردار شاہ جہان یوسف اور پیپلز پارٹی کے ارباب زرک خان تھے۔
خیبر پختونخوا میں نئی قیادت، پی ٹی آئی کے لیے کیا بدلے گا؟
صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی کے مطابق ایوان سے حزب اختلاف کے بائیکاٹ کے باعث چونکہ اپوزیشن کا کوئی بھی رکن ایوان میں موجود نہیں تھا، اس لیے ان تینوں امیدواروں میں سے کوئی بھی ایک ووٹ بھی حاصل نہ کر سکا۔
شرم الشیخ میں غزہ امن سمٹ میں کون کون شرکت کر رہا ہے؟
مصر کے ساحلی تعطیلاتی مقام شرم الشیخ میں آج پیر 13 اکتوبر کو ہونے والی غزہ امن سمٹ میں مجموعی طور پر 21 ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ رہنما حصہ لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس سمٹ میں یورپی یونین، عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے نمائندے بھی شرکت کریں گے۔
مصری حکومت کے بیانات کے مطابق اس سمٹ کی صدرات مشترکہ طور پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ جو دیگر اعلیٰ رہنما اس سربراہی اجلاس میں شامل ہوں گے، ان میں جرمن چانسلر فریڈرش میرس، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش، اردن کے شاہ عبداللہ ثانی، برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں، ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن، کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بھی شامل ہیں۔
قاہرہ میں صدر السیسی کے دفتر کے مطابق اس سربراہی اجلاس کا مقصد ’’غزہ پٹی میں جنگ کے باقاعدہ خاتمے کی تصدیق، مشرق وسطیٰ میں استحکام کو تقویت دیتے ہوئے امن کی ترویج اور علاقائی سلامتی کے ایک نئے دور کے آغاز کا اشارہ دینا ہے۔‘‘
کل اتوار کے دن مصری وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ اس سمٹ میں غزہ پٹی کی جنگ کے خاتمے سے متعلق ایک دستاویز پر باقاعدہ دستخط بھی کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی قاہرہ میں وزارت خارجہ نے شرم الشیخ میں آج کے اس سربراہی اجلاس کو ’’ایک تاریخی اجتماع‘‘ بھی قرار دیا تھا۔
تازہ رپورٹوں کے مطابق اس سمٹ میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو شرکت نہیں کریں گے اور فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس بھی نہیں۔ تاہم اس میں فلسطینی خود مختار اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی شرکت متوقع ہے۔
مصر میں غزہ امن سمٹ میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو شرکت نہیں کریں گے
مصر کے ساحلی تعطیلاتی مقام شرم الشیخ میں آج پیر 13 اکتوبر کو ہونے والی غزہ امن سمٹ میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو شرکت نہیں کریں گے۔ شروع میں ایسے اشارے دیے گئے تھے کہ شاید نیتن یاہو اس سمٹ میں حصہ نہیں لیں گے۔ پھر کئی میڈیا رپورٹوں کے علاوہ مصری صدر کے دفتر نے بھی کہا کہ اس سربراہی اجتماع میں اسرائیلی سربراہ حکومت بھی حصہ لیں گے۔
اسرائیلی پبلک براڈکاسٹر ’کان‘ نے بھی آج بتایا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ آج ہی ٹیلی فون پر گفتگو بھی کی ہے۔ مصری صدر السیسی اور امریکی صدرٹرمپ مل کر شرم الشیخ میں ہونے والی اس غزہ امن سمٹ کی صدارت کریں گے۔
بعد ازاں تل ابیب سے ملنے والی رپورٹوں میں پیر کی دوپہر واضح طور پر کہا گیا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو غزہ امن سمٹ میں شرکت کی دعوت دی، تو وزیر اعطم نیتن یاہو نے یہ کہتے ہوئے معذرت کر لی کہ عنقریب ہی شروع ہونے والی ایک یہودی مذہبی تعطیل کی وجہ سے اور وقت کی کمی کے باعث وہ شرم الشیخ میں ہونے والی غزہ سے متعلق سمٹ میں شرکت نہیں کر سکتے۔
اس سمٹ کے بارے میں فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کا اب تک کا موقف یہ ہے کہ وہ بھی اس میں شرکت نہیں کرے گی اور اپنا کوئی نمائندہ شرم الشیخ نہیں بھیجے گی۔
تاہم فلسطینی خود مختار انتظامیہ، جو مقبوضہ مغربی کنارے پر حکومت کرتی ہے اور جسے بین الاقوامی سطح پر فلسطینیوں کی نمائندہ مقتدرہ سمجھا جاتا ہے، کے سربراہ اور فلسطینی صدر محمود عباس کی اس سمٹ میں شرکت متوقع ہے۔
چین کو پاکستان اور افغانستان کے مابین جھڑپوں پر گہری تشویش، چینی وزارت خارجہ
چینی وزارت خارجہ کی طرف سے آج پیر کے روز پاکستان اور اس کے ہمسایہ ملک افغانستان کے مابین حالیہ مسلح جھڑپوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان دونوں ممالک کو خطے میں اپنے اپنے شہریوں اور سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے بھرپور کوششیں کرنا چاہییں۔
پاکستان اور افغانستان دونوں کی طرف سے کل اتوار 12 اکتوبر کے روز کہا گیا تھا کہ ان کے مسلح دستوں کے مابین ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات ہونے والی شدید سرحدی جھڑپوں میں دونوں طرف سے درجنوں فائٹر یا فوجی مارے گئے تھے۔ یہ مسلح تصادم کابل میں افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان اور افغانستان کے مابین آج تک ہونے والا سب سے بڑا اور خونریز تصادم تھا۔
چین نے، جس کے مغربی حصے میں اس کی قومی سرحدیں پاکستان اور افغانستان دونوں سے ملتی ہیں، ماضی قریب میں متعدد مرتبہ یہ پیشکش کی تھی کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثی کر سکتا ہے۔ یہ دونوں ممالک کچھ عرصہ پہلے تک ایک دوسرے کے حلیف تھے۔
پاکستان کے 58 فوجی ہلاک کر دیے، افغانستان کا دعویٰ
بیجنگ پاک افغان تعلقات میں بہتری کا خواہش مند
حالیہ پاک افغان کشیدگی کے تناظر میں بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے آج پیر کے روز معمول کی ایک پریس بریفنگ میں کہا، ’’چین پاک افغان تعلقات میں بہتری کے لیے اور ان روابط میں موجودہ کے مقابلے میں مستقبل میں واضح بہتری کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتے رہنے کا خواہش مند ہے۔‘‘
’بھارتی حمایت یافتہ‘ 30 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا، پاکستانی فوج
ساتھ ہی بیجنگ میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا، ’’چین کو امید ہے کہ کابل اور اسلام آباد احتیاط پسندی اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کے خدشات اور تشویش کو مکالمت اور مشاورت سے ختم کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ کسی بھی طرح کے تنازعات میں شدت سے بچا جا سکے۔‘‘
طالبان وزیر خارجہ متقی ’غیر معمولی‘ دورے پر پاکستان میں
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اسی سال اگست میں کابل میں ایک ایسے اجلاس میں شرکت کی تھی، جس میں پاکستانی اور افغان وزرائے خارجہ بھی شریک ہوئے تھے۔ اس اجلاس میں چین کا اصرار تھا کہ یہ دونوں ہمسایہ ممالک آپس میں ہر طرح کے تبادلوں اور اشتراک عمل کو مضبوط بنائیں۔
رہائی کے بعد یرغمالیوں کی اسرائیل واپسی کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ تل ابیب پہنچ گئے
امریکی صدر ٹرمپ مصر میں ہونے والی ایک امن سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے امریکہ سے مشرق وسطیٰ جاتے ہوئے، آج پیر 13 اکتوبر کے روز تل ابیب پہنچ گئے۔ ان کے تل ابیب کے اس دورے کا مقصد غزہ امن معاہدے کے نتیجے میں حماس کی طرف سے رہا کردہ اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کے موقع پر اسرائیلی حکومت اور عوام کو مبارکباد دینا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کو لے کر امریکی صدارتی طیارہ ایئر فورس ون آج تل ابیب کے بین گوریان ایئر پورٹ پر اترنے سے پہلے خاص طور پر اسی شہر کے ہوسٹیجز اسکوائر کے اوپر سے بھی گزرا، جہاں اسرائیلی یرغمالیوں کے پہلے گروپ کی رہائی پر خوشیاں منانے کے لیے ہزارہا افراد جمع تھے۔
صدر ٹرمپ جب تل ابیب کے بین گوریان ایئر پورٹ پر اترے، تو ان کے اسرائیلی ہم منصب آئزک ہیرزوگ اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ان کا استقبال کیا۔
صدر ٹرمپ مصر میں ہونے والی امن سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے روانہ ہونے سے پہلے اسرائیل میں یرغمالیوں کے رشتہ داروں سے بھی ملیں گے اور اس کے بعد انہیں اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ کے خطاب بھی کرنا ہے۔
ان مصروفیات کے بعد مصر پہنچنے پر صدر ٹرمپ اس امن سمٹ میں حصہ لیں گے، جس کی وہ مصری ہم منصب عبدالفتاح السیسی کے ساتھ مل کر مشترکہ صدارت بھی کریں گے۔
امریکی صدر کے بقول واشنگٹن کی سفارتی کوششوں سے اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی جو ڈیل طے پائی، اس کی مدد سے غزہ پٹی کا دوسالہ مسلح تنازعہ مؤثر انداز میں ختم ہو گیا ہے۔
حماس نے تمام بیس زندہ اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیے
غزہ پٹی میں حماس کی قید میں موجود تمام بیس زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ ان یرغمالیوں کی پیر تیرہ اکتوبر کے روز رہائی کی اسرائیلی فوج نے بھی تصدیق کر دی ہے۔
غزہ پٹی میں گزشتہ دو سال سے بھی زائد عرصے سے فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کی قید میں موجود ان زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو دو گروپوں میں رہا کیا گیا۔ پہلے گروپ میں سات یرغمالی شامل تھے جبکہ دوسرے میں تیرہ۔
غزہ: جنگ بندی کے بعد شہریوں کی واپسی، اقوام متحدہ کی امدادی سرگرمیوں میں تیزی
قبل ازیں غزہ امن معاہدے کے نتیجے میں فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے رہا کردہ سات یرغمالیوں کا پہلا گروپ آج ہی اسرائیل پہنچ گیا۔ اس گروپ کو غزہ پٹی کے شمال میں واقع غزہ سٹی میں پیر کی صبح رہا کیا گیا تھا، جو بین الاقوامی ریڈ کراس تنظیم کے اہلکاروں کے حوالے کیے جانے کے بعد اب اسرائیل کے ریاستی علاقے میں پہنچ چکا ہے۔
یرغمالیوں کے اس پہلے گروپ کے بعد حماس نے تمام 20 زندہ یرغمالیوں میں سے باقی ماندہ 13 افراد کو بھی رہا کر دیا۔ اسرائیلی فوج نے مقامی وقت کے مطابق قبل از دوپہر بتایا تھا کہ ریڈ کراس کے اہلکاروں کا ایک قافلہ اُس وقت جنوبی غزہ پٹی پہنچنے والا تھا، جہاں اس دوسرے گروپ میں شامل افراد کو ریڈ کراس کے اہلکاروں کے حوالے کیا جانا تھا۔
اسرائیلی فوج کی طرف سے رہائی کی تصدیق
امریکہ، مصراور قطر کی ثالثی میں بالواسطہ مذاکرات کے نتیجے میں اسرائیل اور حماس کے مابین غزہ میں جنگ بندی کے لیے جو معاہدہ طے پایا تھا، اس پر عمل کرتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی ہو چکی ہے، جس پر کافی حد تک عمل درآمد بھی کیا جا رہا ہے۔ اسی معاہدے کے تحت تمام زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی آج متوقع تھی۔
تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی دفاعی افواج نے تصدیق کر دی ہے کہ حماس کی طرف سے غزہ میں باقی ماندہ 13 زندہ یرغمالیوں کو بھی ریڈ کراس کے حوالے کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اب کوئی زندہ اسرائیلی یرغمالی حماس کی قید میں نہیں ہے۔
اسرائیلی فوج کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’ریڈ کراس کی طرف سے مہیا کردہ معلومات کے مطابق باقی ماندہ 13 یرغمالیوں کو بھی حماس نے غزہ پٹی میں ریڈ کراس کے کارکنوں کے حوالے کر دیا ہے، جو انہیں لے کر اس وقت غزہ پٹی میں اسرائیلی دفاعی افواج اور اسرائیلی سکیورٹی ایجنسی کے اہلکاروں کی طرف سفر میں ہیں۔‘‘
ان اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیل کو اپنے ہاں مختلف جیلوں سے بڑی تعداد میں ایسے فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنا ہے، جن میں سے کئی طویل مدت کی قید کی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ساتھ ہی بہت سے ایسے دیگر فلسطینی قیدیوں کی رہائی بھی متوقع ہے، جنہیں غزہ کی جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے گرفتار کر لیا تھا۔