1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کا پہلا اجلاس، شہباز شریف بھی شریک

جاوید اختر اے پی، اے ایف پئ، روئٹرز، ڈی پی اے کے ساتھ
وقت اشاعت 19 فروری 2026آخری اپ ڈیٹ 19 فروری 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو اپنے ’بورڈ آف پیس‘ کے پہلے اجلاس کی صدارت کریں گے، جس میں 45 سے زائد ممالک کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس میں غزہ کے مستقبل سے متعلق غیر حل شدہ سوالات چھائے رہنے کی توقع ہے۔

https://p.dw.com/p/5912A
صدر ٹرمپ
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بورڈ کے ارکان نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے 5 ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہےتصویر: Gian Ehrenzeller/dpa/picture alliance
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • سویڈن کا یوکرین کے لیے مزید 1.4 ارب ڈالر کی فوجی امداد کا اعلان 

  • فرانس میں 2025 میں ملین بین الاقوامی سیاحوں کی ریکارڈ 102 ملین آمد 

  • یورپی یونین نے ایران کے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا

  • ’بورڈ آف پیس‘ کا پہلا اجلاس آج، شہباز شریف بھی شرکت کے لیے واشنگٹن پہنچے 

  • روس نے ایک ہزار سے زائد کینیا کے شہریوں کو یوکرین جنگ میں بھیجا: انٹیلیجنس رپورٹ

  • ایران میں گرفتار برطانوی جوڑے کو دس سال قید کی سزا
  • شمال مغربی نائیجیریا میں انتہاپسندوں کے حملوں میں درجنوں افراد ہلاک
  • آسٹریلیا تنازع کے بعد پاکستان ہاکی  فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی مستعفی
  • بھارت اے آئی سمٹ کو ایک اور دھچکہ: بل گیٹس نے اپنی شرکت منسوخ کر دی
  • کوئی بھی ملک ایران کو یورینیم افزودگی کے حق سے محروم نہیں کر سکتا، محمد اسلامی
  • جنوبی کوریا: مارشل لا نافذ کرنے والے سابق صدر یون کو عمر قید کی سزا
  • کراچی میں گیس سلنڈر کا دھماکہ، کم از کم سولہ افراد ہلاک
سویڈن کا یوکرین کے لیے مزید 1.4 ارب ڈالر کی فوجی امداد کا اعلان سیکشن پر جائیں
19 فروری 2026

سویڈن کا یوکرین کے لیے مزید 1.4 ارب ڈالر کی فوجی امداد کا اعلان

یہ پیکج 2026 کے لیے مختص 40 ارب کراؤن کے فریم ورک کا حصہ ہے۔
یہ پیکج 2026 کے لیے مختص 40 ارب کراؤن کے فریم ورک کا حصہ ہے۔تصویر: MSI Defence Systems Ltd.

سویڈن نے جمعرات کو یوکرین کے لیے 12.9 ارب کراؤن (1.42 ارب ڈالر) کے فوجی امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے، جس میں فضائی دفاعی نظام، ڈرونز، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور گولہ بارود شامل ہوں گے۔

حکومت کے بیان کے مطابق اس پیکج کا سب سے بڑا حصہ نئے تیار کردہ قلیل فاصلے کے فضائی دفاعی نظام کی خریداری پر مشتمل ہے۔

یہ پیکج 2026 کے لیے مختص 40 ارب کراؤن کے فریم ورک کا حصہ ہے۔ اس کے ساتھ، 2022 میں روس کے حملے کے بعد سے یوکرین کو سویڈن کی مجموعی فوجی امداد 103 ارب کراؤن تک پہنچ گئی ہے۔ 

وزیر دفاع پال جانسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ’’توجہ بالکل واضح ہے: نئے تیار کردہ فضائی دفاعی نظام، طویل فاصلے کی صلاحیتیں اور گولہ بارود تاکہ یوکرین کی فوری آپریشنل ضروریات پوری کی جا سکیں۔‘‘

https://p.dw.com/p/595uB
فرانس میں 2025 میں ملین بین الاقوامی سیاحوں کی ریکارڈ 102 ملین آمد سیکشن پر جائیں
19 فروری 2026

فرانس میں 2025 میں ملین بین الاقوامی سیاحوں کی ریکارڈ 102 ملین آمد

فرانس آنے والے غیر ملکی سیاحوں میں سے تین چوتھائی یورپ سے تعلق رکھتے تھے
فرانس آنے والے غیر ملکی سیاحوں میں سے تین چوتھائی یورپ سے تعلق رکھتے تھےتصویر: Samuel Boivin/NurPhoto/picture alliance

فرانس میں 2025 میں ریکارڈ تعداد میں بین الاقوامی سیاح آئے اور اس ملک نے دنیا کے سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے سیاحتی ملک کی حیثیت برقرار رکھی۔

فرانسیسی وزارتِ معیشت نے جمعرات کو بتایا کہ 2025 میں فرانس کا سفر کرنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد بڑھ کر 102 ملین ہو گئی، جو پچھلے سال 100 ملین تھی۔ فرانس آنے والے غیر ملکی سیاحوں میں سے تین چوتھائی یورپ سے تعلق رکھتے تھے۔

بین الاقوامی سیاحوں سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی اور 77.5 ارب یورو (91 ارب ڈالر) رہی، جو 2024 کے مقابلے میں 9 فیصد اور 2019 کے مقابلے میں 37 فیصد زیادہ ہے۔

اگرچہ سیاحوں کی تعداد کے لحاظ سے فرانس سرفہرست ہے، تاہم سیاحت سے ہونے والی آمدنی کے معاملے میں وہ اپنے ہمسایہ ملک اسپین سے پیچھے ہے، جہاں 2025 میں سیاحت سے 105 ارب یورو حاصل ہوئے۔ فرانسیسی وزارت کے مطابق، تاہم، فرانس اور اسپین کے درمیان سیاحتی آمدنی کا فرق بتدریج کم ہو رہا ہے۔

https://p.dw.com/p/595tr
یورپی یونین نے ایران کے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا سیکشن پر جائیں
19 فروری 2026

یورپی یونین نے ایران کے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا

پاسداران انقلاب
اس سے قبل پاسداران انقلاب پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث بھی یورپی یونین کی جانب سے پابندیاں عائد تھیں۔تصویر: Iranian Army Office/ZUMA/picture alliance

یورپی یونین نے ایران کے پاسداران انقلاب فورس کو باضابطہ طور پر ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔

جمعرات کو جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا، ’’پاسداران انقلاب پر یورپی یونین کے انسدادِ دہشت گردی پابندیوں کے نظام کے تحت سخت پابندیاں بھی عائد کی جائیں گی۔‘‘

اس میں تنظیم کے فنڈز، مالی اثاثوں اور یورپی یونین کے رکن ممالک میں موجود دیگر معاشی وسائل کو منجمد کرنا شامل ہے، جبکہ یورپی آپریٹرز کو اس گروہ کو فنڈز یا معاشی وسائل فراہم کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔

یہ اقدام جنوری میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے درمیان طے پانے والے سیاسی معاہدے کے بعد کیا گیا ہے۔ اس سے قبل پاسداران انقلاب پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث بھی یورپی یونین کی جانب سے پابندیاں عائد تھیں۔

تازہ اقدام اس وقت ممکن ہوا جب فرانس نے اس فہرست میں شامل کرنے کی اپنی طویل عرصے سے جاری مخالفت واپس لے لی۔

کچھ یورپی وزراء کے مطابق ایران میں مظاہروں کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن کے دوران ممکنہ طور پر 30 ہزار تک افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جس کے بعد پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لیے یورپی یونین پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔

https://p.dw.com/p/595MR
’بورڈ آف پیس‘ کا پہلا اجلاس آج، شہباز شریف بھی شرکت کے لیے واشنگٹن پہنچے سیکشن پر جائیں
19 فروری 2026

’بورڈ آف پیس‘ کا پہلا اجلاس آج، شہباز شریف بھی شرکت کے لیے واشنگٹن پہنچے

بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس جمعرات کو ہو رہا ہے
ایسے خدشات پائے جاتے ہیں کہ ٹرمپ اقوامِ متحدہ کے مقابل ایک متبادل ادارہ قائم کرنا چاہتے ہیںتصویر: BPMI Sekretariat Presiden

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو اپنے ’بورڈ آف پیس‘ کے پہلے اجلاس کی صدارت کریں گے، جس میں 45 سے زائد ممالک کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس میں غزہ کے مستقبل سے متعلق غیر حل شدہ سوالات چھائے رہنے کی توقع ہے۔

حماس کے عسکریت پسندوں کو غیر مسلح کرنے اور اس کے ساتھ اسرائیلی افواج کے انخلا، تعمیرِ نو کے فنڈ کے حجم اور جنگ سے متاثرہ غزہ کی آبادی تک انسانی امداد کی فراہمی جیسے اہم معاملات آئندہ ہفتوں اور مہینوں میں بورڈ کی مؤثریت کو پرکھیں گے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بورڈ کے ارکان نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے 5 ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے، جو فلسطینی علاقے کی بحالی کے لیے درکار اندازاً 70 ارب ڈالر کا صرف ایک حصہ ہے۔ ارکان سے یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ہزاروں اہلکار بین الاقوامی استحکام اور پولیس فورس(آئی ایس ایف) کے لیے فراہم کریں گے۔ ایسے خدشات پائے جاتے ہیں کہ ٹرمپ اقوامِ متحدہ کے مقابل ایک متبادل ادارہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔

اب تک صرف انڈونیشیا نے مجوزہ آئی ایس ایف فورس کے لیے واضح طور پر اپنی وابستگی ظاہر کی ہے۔ 

وہ ممالک جنہوں نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کا اعلان کیا ہے، ان میں ارجنٹینا، البانیا، آرمینیا، آذربائیجان، بحرین، بیلاروس، بلغاریہ، کمبوڈیا، مصر، ایل سلواڈور، ہنگری، انڈونیشیا، اردن، قازقستان، کویت، کوسووو، مراکش، منگولیا، پاکستان، پیراگوئے، قطر، سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات، ازبکستان اور ویتنام شامل ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اس اجلاس میں شرکت کے لیے واشنگٹن پہنچ چکے ہیں۔

روئٹرز کو تین ذرائع نے بتایا کہ غزہ میں آئی ایس ایف فورس کے حصے کے طور پر فوج بھیجنے سے قبل پاکستان امریکہ سے یہ یقین دہانی چاہتا ہے کہ یہ ایک امن قائم کرنے کا مشن ہو گا، نہ کہ اسے حماس کو غیر مسلح کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔

https://p.dw.com/p/59561
روس نے ایک ہزار سے زائد کینیا کے شہریوں کو یوکرین جنگ میں بھیجا: انٹیلیجنس رپورٹ سیکشن پر جائیں
19 فروری 2026

روس نے ایک ہزار سے زائد کینیا کے شہریوں کو یوکرین جنگ میں بھیجا: انٹیلیجنس رپورٹ

Ukrainische Soldaten laden eine Rakete in einen Mehrfachwerfer
کینیا کے وزیر خارجہ موسالیا موداوادی اگلے ماہ اس معاملے پر بات چیت کے لیے ماسکو کا دورہ کرنے والے ہیں تصویر: Stringer/REUTERS

کینیا کی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ایک انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق ایک ہزار سے زائد کینیائی شہری یوکرین میں روسی فوج کے لیے لڑنے گئے ہیں، جن میں سے بیشتر سے مبینہ طور پر دھوکے سے فوجی معاہدوں پر دستخط کروائے گئے۔

متعدد میڈیا تحقیقات، جن میں اس ماہ کے اوائل میں اے ایف پی کی رپورٹ بھی شامل ہے، نے انکشاف کیا ہے کہ روس نے افریقی ممالک کے مردوں کو پُرکشش ملازمتوں کے وعدوں کے ذریعے راغب کیا، مگر بعد میں انہیں یوکرین کے خلاف لڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔

رکن پارلیمان کیمانی آئیچونگ واہ نے پارلیمان کو بتایا، ’’کینیائی شہری سیاحتی ویزوں پر استنبول، ترکی، ابو ظہبی اور متحدہ عرب امارات کے راستے روسی فوج میں شمولیت کے لیے ملک چھوڑتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کے ہوائی اڈے پر سرحدی نگرانی سخت کیے جانے کے بعد بھرتی ہونے والے افراد اب گرفتاری سے بچنے کے لیے دیگر افریقی ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔

کینیا کے وزیر خارجہ موسالیا موداوادی اگلے ماہ اس معاملے پر بات چیت کے لیے ماسکو کا دورہ کرنے والے ہیں، جبکہ حکومت نے اپنے شہریوں کو ’’توپ کا چارہ‘‘ بنانے کی مذمت کی ہے۔

یوگینڈا اور جنوبی افریقہ بھی ان دیگر افریقی ممالک میں شامل ہیں جہاں سے روس نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کے لیے لے جا رہا ہے، کیونکہ یوکرین میں اسے بھاری جانی نقصان کا سامنا ہے۔

https://p.dw.com/p/594ZL
ایران میں گرفتار برطانوی جوڑے کو دس سال قید کی سزا سیکشن پر جائیں
19 فروری 2026

ایران میں گرفتار برطانوی جوڑے کو دس سال قید کی سزا

یہ برطانوی جوڑا ان مغربی شہریوں میں شامل ہیں جنہیں اسلامی انقلاب کے بعد ایران میں حراست میں لیا گیا ہے
یہ برطانوی جوڑا ان مغربی شہریوں میں شامل ہیں جنہیں اسلامی انقلاب کے بعد ایران میں حراست میں لیا گیا ہےتصویر: Foreman Family/AFP

جنوری 2025 سے ایران میں حراست میں رکھے گئے ایک برطانوی جوڑے کو جاسوسی کے الزام میں 10 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ برطانوی حکومت نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

لنڈسے اور کریگ فورمین، جن کی عمریں پچاس سال سے زائد ہیں، کو ان کے رشتہ داروں کے مطابق دنیا بھر کے موٹر سائیکل سفر کے دوران ایران سے گزرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے تہران کی جانب سے عائد کردہ جاسوسی کے الزامات کی مسلسل تردید کی ہے۔

اہلِ خانہ کے مطابق سزا گزشتہ اکتوبر میں ہونے والی عدالت پیشی کے بعد سنائی گئی، جو صرف تین گھنٹے جاری رہی اور جس میں انہیں اپنا دفاع پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

ان کے بیٹے جو بینیٹ نے ایک بیان میں کہا، "انہوں نے مسلسل الزامات کی تردید کی ہے۔ ہمیں جاسوسی کے الزام کی تائید میں کوئی ثبوت نہیں دکھایا گیا۔"

برطانیہ کی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر نے ان سزاؤں کو "مکمل طور پر ہولناک اور بالکل ناقابلِ جواز" قرار دیتے ہوئے سخت ردِعمل ظاہر کیا۔

یہ برطانوی جوڑا ان مغربی شہریوں میں شامل ہیں جنہیں اسلامی انقلاب کے بعد ایران میں حراست میں لیا گیا ہے۔ تہران پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ یورپ اور امریکہ سے رعایتیں حاصل کرنے کے لیے نام نہاد ہوسٹیج ڈپلومیسی کا سہارا لیتا ہے۔

https://p.dw.com/p/5947h
شمال مغربی نائیجیریا میں انتہاپسندوں کے حملوں میں درجنوں افراد ہلاک سیکشن پر جائیں
19 فروری 2026

شمال مغربی نائیجیریا میں انتہاپسندوں کے حملوں میں درجنوں افراد ہلاک

نائجیریا
ایک سکیورٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہادیوں نے ’’30 سے زائد دیہاتیوں‘‘ کو قتل کیاتصویر: Oluseyi Dasilva/REUTERS

پولیس نے جمعرات کو بتایا کہ شمال مغربی نائیجیریا میں جنگجوؤں نے سات دیہاتوں کو نذرِ آتش  اور درجنوں افراد کو قتل کر دیا۔

پولیس ترجمان بشیر عثمان کے مطابق لکوراوا گروپ کے ارکان نے بدھ کو دوپہر تقریباً 1:15 بجے مامونو، کانزو اور دیگر پانچ دیہاتوں پر حملہ کیا۔

انہوں نے بتایا، ’’جب مامونو، اواساکا، ٹُنگن تسوہو، مکانگارا، کانزو، گورون نائڈل اور دان مائی آگو کے رہائشیوں نے حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کے لیے جمع ہو کر مزاحمت کی تو درجنوں افراد مارے گئے۔‘‘

اے ایف پی کی جانب سے دیکھی گئی ایک سکیورٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہادیوں نے ’’30 سے زائد دیہاتیوں‘‘ کو قتل کیا۔

بشیر عثمان نے مزید بتایا کہ حملہ آور ’’کچھ مویشی بھی ہانک کر لے گئے۔‘‘ پولیس، فوجی دستے اور مقامی ملیشیا کو فوری طور پر علاقے میں بھیج دیا گیا۔

یہ حملے اس کے چند دن بعد ہوئے جب ریاست میں یونیسکو کی فہرست میں شامل ارگنگو فشنگ فیسٹیول منعقد ہوا تھا، جو اُس اروَہ علاقے سے تقریباً 60 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں یہ حملے ہوئے۔

لکوراوا گروپ کو ریاست کے شمالی حصے اور پڑوسی سوکوٹو ریاست میں کمیونٹیز پر ہونے والے متعدد حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

https://p.dw.com/p/592pJ
آسٹریلیا تنازع کے بعد پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی مستعفی سیکشن پر جائیں
19 فروری 2026

آسٹریلیا تنازع کے بعد پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی مستعفی

ہاکی
تین بار کا اولمپک چیمپئن اور چار مرتبہ ورلڈ کپ فاتح ہونے کے باوجود پاکستان عالمی درجہ بندی میں تنزلی کا شکار ہو کر 14ویں نمبر تک پہنچ چکا ہےتصویر: Getty Images

پاکستان ہاکی فیڈریشن(پی ایچ ایف) کے سربراہ طارق بگٹی نے جمعرات کو استعفیٰ دے دیا۔ ایک روز قبل ہی وزیرِاعظم نے آسٹریلیا کے افراتفری کا شکار دورے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا، جس دوران قومی ٹیم کو گیسٹ ہاؤس میں برتن دھونے پڑے تھے۔

پاکستانی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں نے آسٹریلیا کے دورے کے دوران زبردست بدانتظامی کی شکایات کی تھیں۔
قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ نے الزام لگایا کہ پی ایچ ایف کی وجہ سے دورہ آسٹریلیا کے دوران قومی ٹیم کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

عماد بٹ نے پی ایچ ایف پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ادارے نے ہوٹل کے اخراجات ادا نہیں کیے، جس کے باعث کھلاڑیوں کو آسٹریلوی جزیرو ریاست تسمانیا کے شہر ہوبارٹ میں ایک ناقص رہائش گاہ پر اپنے کپڑے اور برتن خود دھونا پڑے۔ 

عماد بٹ کا کہنا تھا، ’’قومی ٹیم کے کھلاڑیوں سے آسٹریلیا میں کچن، برتن، کپڑے اور باتھ روم صاف کروائے گئے، ہم نے کھانا خود پکایا اور سڑکوں پر رہے۔۔۔ برتن دھونے اور صفائی کے بعد کھلاڑی میچ میں کیا پرفارم کریں گے۔‘‘

وزیر اعظم شہباز شریف نے ان شکایات کی جانچ کرانے کا حکم دیا اور تحقیقات شروع ہو گئی ہیں۔
آج لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طارق بگٹی نے کہا کہ اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو بھجوا دیا ہے۔

آسٹریلیا میں پاکستان ہاکی ٹیم کے ساتھ بدانتظامی کے واقعے پر طارق بگٹی نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے درخواست کرتا ہوں کہ کمیٹی بنائی جائے جو تحقیقات کرے اور تحقیقات میں بدنظمی کا جو ذمہ دار ہو اسے سزا دی جائے۔

خیال رہے پاکستان میں کرکٹ بے حد مقبول ہے، لیکن ہاکی ملک کا قومی کھیل ہے۔ تاہم تین بار کا اولمپک چیمپئن اور چار مرتبہ ورلڈ کپ فاتح ہونے کے باوجود پاکستان عالمی درجہ بندی میں تنزلی کا شکار ہو کر 14ویں نمبر تک پہنچ چکا ہے۔

https://p.dw.com/p/592Ph
بھارت اے آئی سمٹ کو ایک اور دھچکہ: بل گیٹس نے اپنی شرکت منسوخ کر دی سیکشن پر جائیں
19 فروری 2026

بھارت اے آئی سمٹ کو ایک اور دھچکہ: بل گیٹس نے اپنی شرکت منسوخ کر دی

بل گیٹس
گیٹس فاؤنڈیشن نے بل گیٹس کی شرکت منسوخ کرنے کی تصدیق کی ہے، حالانکہ چند روز قبل ہی فاؤنڈیشن نے ان کی عدم شرکت کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ شرکت کے لیے تیار ہیںتصویر: Fabrice Coffrini/AFP/Getty Images

امریکی ارب پتی بل گیٹس نے جمعرات کو اپنے طے شدہ کلیدی خطاب سے چند گھنٹے قبل نئی دہلی کی اے آئی امپیکٹ سمٹ میں شرکت منسوخ کر دی۔  اس فیصلے سے اس نمایاں تقریب کو ایک اور دھچکہ لگا جو پہلے ہی انتظامی کوتاہیوں، روبوٹ سے متعلق تنازع اور ٹریفک کے شدید مسائل کی شکایات کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہے۔

گیٹس کی عدم شرکت کے بعد این ویڈیا کے جینسن ہوانگ کی جانب سے بھی شرکت کی منسوخی کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ اس سمٹ کو گلوبل ساؤتھ میں مصنوعی ذہانت کا پہلا بڑا فورم قرار دیا جا رہا تھا، جہاں بھارت نے خود کو عالمی اے آئی گورننس میں ایک نمایاں آواز کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

گیٹس فاؤنڈیشن نے بل گیٹس کی شرکت منسوخ کرنے کی تصدیق کی ہے، حالانکہ چند روز قبل ہی فاؤنڈیشن نے ان کی عدم شرکت کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ شرکت کے لیے تیار ہیں۔

اس دوران آج اپنے کلیدی خطاب میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اے آئی پلیٹ فارمز پر بچوں کی حفاظت برقرار رکھنے پر زور دیا۔ اس موقع پر فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں، گوگل کے سی ای او سندر پچائی، اوپن اے آئی کے سی ای او سام آلٹمین اور اینتھروپک کے سی ای او ڈاریو امودی بھی موجود تھے۔

تاہم فوٹو سیشن کے دوران قدرے عجیب صورت حال اس وقت سامنے آئی جب حریف اے آئی کمپنیوں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے سربراہان آلٹمین اور امودی اسٹیج پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے تو تھے، مگر دیگر شخصیات کے برعکس انہوں نے اکی دوسرے کا ہاتھ نہیں تھاما۔

سرمایہ کاری کی کامیابیوں کے باوجود، بھارت کا پہلا بڑا اے آئی سمٹ انتظامی خامیوں کے باعث تنقید کا شکار ہے۔ شرکاء نے اس پر حیرت اور غصے کا اظہار کیا اور اسے حکومتی منصوبہ بندی کی کمی قرار دیا۔

اپوزیشن جماعتوں نے عالمی سمٹ کے ناقص انتظام پر حکومت اور وزیر اعظم کو نشانہ بنایا۔ کانگریس پارٹی کے ترجمان پون کھیڑا نے کہا، ’’آپ اپنے انجینئرز اور اے آئی ماہرین سے اتنے طویل رستے پر پیدل چلنے کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟ پھر ہم شکایت کرتے ہیں کہ کاروباری افراد بھارت چھوڑ رہے ہیں۔‘‘

مائیکروسافٹ کے محقق جے گالا نے ایکس پر لکھا، ’’یہ پورا سمٹ محققین، بانیوں اور ان لوگوں کے لیے تھا جو روزانہ میدان میں محنت کرتے ہیں۔ اس کی بجائے ہمارے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا جیسے ہماری کوئی اہمیت ہی نہیں، ہمیں گھنٹوں روکا گیا تاکہ کوئی وزیر یا افسر راستے سے گزر سکے۔

https://p.dw.com/p/592MP
کوئی بھی ملک ایران کو یورینیم افزودگی کے حق سے محروم نہیں کر سکتا، محمد اسلامی سیکشن پر جائیں
19 فروری 2026

کوئی بھی ملک ایران کو یورینیم افزودگی کے حق سے محروم نہیں کر سکتا، محمد اسلامی

ایران جوہری پروگرام
امریکہ بارہا ’زیرو اینرچمنٹ‘  کا مطالبہ کرتا رہا ہے، تاہم وہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں عسکریت پسند گروہوں کی حمایت جیسے معاملات پر بھی بات چیت چاہتا ہے

ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا ہے کہ کوئی بھی ملک اسلامی جمہوریہ ایران کو یورینیم افزودگی کے اس کے حق سے محروم نہیں کر سکتا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ایک بار پھر فوجی کارروائی کا عندیہ دیا۔

روزنامہ اعتماد کی جانب سے جمعرات کو جاری کی گئی ایک ویڈیو کے مطابق اسلامی نے کہا، ’’جوہری صنعت کی بنیاد افزودگی ہے۔ آپ جو بھی جوہری عمل کرنا چاہیں، اس کے لیے جوہری ایندھن درکار ہوتا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’ایران کا جوہری پروگرام بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے قوانین کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے، اور کوئی بھی ملک ایران کو اس ٹیکنالوجی سے پرامن فائدہ اٹھانے کے حق سے محروم نہیں کر سکتا۔‘‘

یہ بیانات منگل کو جنیوا میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان عمان کی ثالثی میں ہونے والے دوسرے دور کے مذاکرات کے بعد سامنے آئے۔

بدھ کے روز ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پیغام میں ایک بار پھر اشارہ دیا کہ امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔

واشنگٹن بارہا ’زیرو اینرچمنٹ‘  کا مطالبہ کرتا رہا ہے، تاہم وہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں عسکریت پسند گروہوں کی حمایت جیسے معاملات پر بھی بات چیت چاہتا ہے۔ اسرائیل بھی ان نکات کو مذاکرات میں شامل کرنے پر زور دیتا رہا ہے۔

مغربی ممالک ایران پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہیں۔ تاہم تہران ایسے کسی فوجی عزائم کی تردید کرتا ہے، لیکن شہری مقاصد کے لیے اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے اپنے حق پر زور دیتا ہے۔

https://p.dw.com/p/591VO
جنوبی کوریا: مارشل لا نافذ کرنے والے سابق صدر یون کو عمر قید کی سزا سیکشن پر جائیں
19 فروری 2026

جنوبی کوریا: مارشل لا نافذ کرنے والے سابق صدر یون کو عمر قید کی سزا

یون سوک یول
جج نے کہا کہ مارشل لا کے اعلان کے نتیجے میں معاشرے کو بے پناہ نقصان پہنچا، اور اس بات کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا کہ ملزم نے اس پر پشیمانی کا اظہار کیا ہوتصویر: Lee Jin-man/AP Photo/picture alliance

جمعرات کو سیول کی ایک عدالت نے جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سوک یول کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے انہیں دسمبر 2024 میں مارشل لا کے ذریعے بغاوت اور آئین کو کمزور کرنے کا مجرم قرار دیا۔

سیول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے 65 سالہ یون سوک یول کوبغاوت اور آئین کو کمزور کرنے کا مجرم قرار دیا اور انہیں عمر قید کی سزا سنائی۔ حالانکہ استغاثہ نے ان کے لیے سزائے موت کی درخواست کی تھی۔

ججوں نے فیصلہ دیا کہ یون سوک یول نے دسمبر 2024 میں مارشل لا کے اعلان کے ذریعے بغاوت کی قیادت کی تھی اور ایسا قومی اسمبلی کو مفلوج کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔

سماعت کی صدارت کرنے والے جج جی گوئی یون نے کہا کہ یون کے اقدامات دانستہ سازش کے مترادف تھے۔

جج نے کہا کہ یون غیر قانونی طور پر سکیورٹی فورسز کو متحرک کر کے لبرل اکثریت والی قومی اسمبلی پر قبضہ کرنے، سیاستدانوں کو حراست میں لینے اور ’’خاصی مدت‘‘ تک بلا روک ٹوک اختیارات حاصل کرنے کی کوشش میں بغاوت کے مرتکب ہوئے۔

جج نے کہا، ’’اس مارشل لا کے اعلان کے نتیجے میں معاشرے کو بے پناہ نقصان پہنچا، اور اس بات کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا کہ ملزم نے اس پر پشیمانی کا اظہار کیا ہو۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’ہم یون کو عمر قید کی سزا سناتے ہیں۔‘‘

یون پر صدارتی ویٹو کے اختیارات کے ناجائز استعمال کا بھی الزام تھا، جس میں ان کی اہلیہ پر مبینہ شیئرز میں ہیرا پھیری کی تحقیقات کے لیے خصوصی انکوائری کی اجازت دینے والے بل کو مسترد کرنا بھی شامل ہے۔ انہیں مہنگائی، کمزور معیشت اور آزادئی اظہار پر بڑھتی پابندیوں کا بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

یون سیول کی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔

https://p.dw.com/p/59179
کراچی میں گیس سلنڈر کا دھماکہ، کم از کم سولہ افراد ہلاک سیکشن پر جائیں
19 فروری 2026

کراچی میں گیس سلنڈر کا دھماکہ، کم از کم سولہ افراد ہلاک

اسلام آباد گیس دھماکہ
گزشتہ جولائی میں اسلام آباد میں ایک گھر میں شادی کی تقریب کے بعد گیس دھماکے کے نتیجے میں دلہا اور دلہن سمیت آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھےتصویر: Aamir Qureshi/AFP

پولیس اور ریسکیو حکام نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ متعدد دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی پولیس چیف رضوان پٹیل کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگ کراچی کی ایک رہائشی عمارت میں ماہِ رمضان کے پہلے دن سحری کی تیاری کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امدادی کارکن ملبہ ہٹا کر اس کے نیچے دبے ممکنہ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ریسکیو ڈپارٹمنٹ کے ترجمان حسان خان نے بتایا کہ ’’اب تک ملبے سے 16 لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ 14 زخمیوں کو سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا طبی معائنہ جاری ہے۔ مرنے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔‘‘

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اس سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور حکام کو ہدایت دی کہ زخمیوں کو تمام ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ 

انہوں نے ریسکیو آپریشن جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایتات دیں اور  سندھ کی صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ عمارتوں کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرائے، گیس سلنڈروں کی حفاظت کی جانچ کرے اور مکمل تحقیقات کرے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

کراچی میں، پاکستان کے دیگر حصوں کی طرح، زیادہ تر گھروں اور رہائشی عمارتوں میں کھانا پکانے کے لیے قدرتی گیس فراہم کی جاتی ہے۔ تاہم کم گیس پریشر کے باعث بہت سے گھرانے ایل پی جی سلنڈروں پر بھی انحصار کرتے ہیں۔

گزشتہ جولائی میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک گھر میں شادی کی تقریب کے بعد گیس دھماکے کے نتیجے میں دلہا اور دلہن سمیت آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔  یہ دھماکہ اس وقت ہوا تھا جب گھر میں موجود تمام افراد سو رہے تھے۔

https://p.dw.com/p/5913j
مزید پوسٹیں
Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔