ایران جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ طے پا گیا، دستخط جمعے کو
وقت اشاعت 15 جون 2026آخری اپ ڈیٹ 15 جون 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- مسک کی کمپنی ٹیسلا نے ’فل سیلف ڈرائیونگ‘ کار سے متعلق یورپی ریگولیٹرز کو گمراہ کرنے والا ڈیٹا پیش کیا
- برطانیہ میں بھی حکومت کا سولہ سال سے کم عمر کے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کا اعلان
- اسرائیلی وزیر بن گویر کی طرف سے امریکی ایرانی امن ڈیل کی مذمت، لبنان میں شدید فوجی مہم کا مطالبہ
- ایران جنگ کے خاتمے کے لیے واشنگٹن اور تہران کے مابین عبوری امن معاہدہ طے پا گیا، دستخط آئندہ جمعے کو
ٹیسلا نے اپنی ’فل سیلف ڈرائیونگ‘ کار سے متعلق یورپی ریگولیٹرز کو گمراہ کرنے والا ڈیٹا پیش کیا
امریکی کھرب پتی بزنس مین ایلون مسک کی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا نے یورپی ریگولیٹرز کو اپنی مکمل طور پر سیلف ڈرائیونگ (ایف ایس ڈی) کاروں کے بارے میں جو ڈیٹا پیش کیا، وہ متعدد ماہرین کے مطابق ’’گمراہ کر دینے والا‘‘ تھا۔
ایلون مسک نے اپنی پارٹنرکے بھارتی تعلقات سے متعلق کیا کہا؟
یہ ڈیٹا ٹیسلا کی ’فل سیلف ڈرائیونگ‘ یا FSD سسٹم والی الیکٹرک کاروں کی فروخت کے لیے یورپی یونین کے رکن ممالک سویڈن اور نیدرلینڈز میں قومی ریگولیٹرز کو پیش کیا گیا تھا۔ لیکن اس ڈیٹا کے بارے میں اب ٹریفک سیفٹی پر تحقیق کرنے والے غیر جانبدار محققین نے کہا ہے کہ ان اعداد و شمار کے ذریعے یورپی ممالک کو مارکیٹنگ کے لیے گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
ٹرمپ کی طرف سے ’شاندار‘ ایلون مسک کو الوداع
ٹیسلا کے لیے مشکلات کے باوجود بھارتی مارکیٹ اہم کیوں؟
اس بارے میں نیوز ایجنسی روئٹرز نے گزشتہ ماہ اپنی جو جائزہ رپورٹ جاری کی تھی، اس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک اور دیگر اعلیٰ کمپنی عہدیداران نےگزشتہ ایک سال کے دوران ایسے زیادہ سے زیادہ اعداد و شمار کے حوالے دیے تھے، جن سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ ٹیسلا کے ایف ایس ڈی سسٹم کا ڈرائیور اسسٹنٹ فیچر گاڑی چلانے والے ڈرائیوروں کے طور پر انسانوں کے مقابلے میں 10 گنا سے بھی زیادہ محفوظ تھا۔
برلن کے ٹیسلا پلانٹ میں مبینہ آتشزدگی کی تحقیقات شروع
تاہم اس جائزے میں روئٹرز کے تجزیہ کار اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ اپنے ان اعداد و شمار میں ٹیسلا نے کئی ایسے نامناسب ڈیٹا موازنے بھی کیے تھے، جن میں ٹیسلا کی سیفٹی سے متعلق اعداد و شمار کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا۔
جرمنی: اے ایف ڈی کی تعریف کرنے پر ایلون مسک پر نکتہ چینی
روئٹرز کی طرف سے حاصل کردہ سرکاری خط و کتابت کی تفصیلات کے مطابق ٹیسلا نے اپنی ایف ایس ڈی کاروں کے محفوظ ہونے سے متعلق بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جانے والا ڈیٹا چند یورپی ممالک کے نیشنل ریگولیٹرز کو اس لیے پیش کیا تھا کہ ان یورپی ممالک میں اس کمپنی کی ایف ایس ڈی کاروں کی فروخت کے لیے منظوری حاصل کی جا سکے۔
یورپ کے یہ ممالک وہ تھے، جہاں ٹیسلا تب قومی منڈیوں میں اپنا کاروباری حصہ دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش میں تھی۔
برطانیہ میں بھی سولہ سال سے کم عمر کے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کا اعلان
برطانیہ میں وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں قانون سازی دسمبر کے اواخر تک مکمل کر لی جائے گی۔
فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی منظور
برطانوی دارالحکومت لندن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے پیر 15 جون کے روز اعلان کیا کہ ان کی حکومت مستقبل قریب میں برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر اس لیے پابندی لگا دے گی کہ ایسے پلیٹ فارمز بچوں کو ’ناخوش‘ بنا دیتے ہیں۔
جرمنی میں ’ڈیٹ ریپ‘ دواؤں کے استعمال پر سخت سزاؤں کا مطالبہ
کیئر اسٹارمر نے کہا، ’’برطانوی حکومت ملک میں 16 سال سے کم عمر کے تمام بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی لگا دے گی۔‘‘ ساتھ ہی کیئر اسٹارمر نے یہ تنبیہ بھی کی کہ ایسے پلیٹ فارمز کے ذریعے ’’بچوں کا سامنا ایسے مواد سے ہوتا ہے، جو خطرناک بھی ہے اور جسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ صارفین اس کے عادی ہو جائیں۔‘‘
مودی کا میلونی کے لیے ’میلوڈی‘ کا تحفہ اور سیاسی ہنگامہ آرائی
میسیجنگ سروسز پر پابندی نہیں لگائی جائے گی
برطانوی وزیر اعظم نے کہا، ’’حکومت جن سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ پابندی لگانا چاہتی ہے، ان میں اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک، یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بک اور ایکس شامل ہیں۔ لیکن یہ پابندی واٹس ایپ جیسی میسیجنگ سروسز پر نہیں لگائی جائے گی۔‘‘
بھارت کے ’ٹیکنالوجی ہب‘ میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی
لندن حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ بعد میں حکومت مزید آگے جاتے ہوئے کم عمر بچوں کے حوالے سے ہی گیمنگ سروسز اور لائیو اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر بھی پابندی لگا دے گی۔
برطانوی حکومت کو امید ہے کہ اس پابندی کے لیے ضروری قانون سازی کا عمل اس سال دسمبر کے اواخر تک مکمل کر لیا جائے گا اور 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر یہ پابندی عملی طور پر اگلے برس موسم بہار سے نافذ العمل ہو سکے گی۔
کیا بچوں کے لیے آسٹریلیا کا سخت سوشل میڈیا ماڈل یورپ کے لیے موزوں ہوگا؟
اسٹارمر حکومت کے اعلان کے مطابق اس مجوزہ پابندی سے متعلق مزید تفصیلات کا اعلان اگلے ماہ جولائی میں کیا جائے گا۔
آسٹریلیا سے یورپ تک حکومتیں بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر قدغن بڑھا رہی ہیں
بین ا لاقوامی سطح پر بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی اور نفسیاتی صحت کے حفاظت کے لیے اب تک اس نوعیت کی پابندیاں دنیا کے کئی ممالک میں متعارف کرائی جا چکی ہیں۔
اسرائیلی وزیر بن گویر کی طرف سے امریکی ایرانی امن ڈیل کی مذمت، لبنان میں شدید فوجی مہم کا مطالبہ
اسرائیل میں وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت میں انتہائی دائیں بازو وسے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے پیر 15 جون کے روز امریکہ اور ایران کے مابین جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے ابتدائی امن معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ لبنان میں اسرائیلی فوجی مہم دراصل تیز تر کی جانا چاہیے۔
یروشلم سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق بن گویر نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے مابین مشرق وسطیٰ میں موجودہ جنگ کے خاتمے کے لیے جو معاہدہ طے پایا ہے، اس کے تحت اسرائیل کے لیے یہ لازمی نہیں کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی جنگ ختم کر دے۔
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے اس وزیر کا یہ مطالبہ اس لیے حیران کن ہے کہ امریکی ایرانی امن ڈیل کے طے پا جانے کی تصدیق کرتے ہوئے امریکہ اور ایران دونوں کی طرف سے قبل ازیں آج پیر ہی کے روز کہا گیا تھا کہ اس معاہدے کے تحت لبنان اور ایران کے خلاف عسکری کارروائیوں سمیت ہر قسم کی جنگی سرگرمیاں ختم کر دی جائیں گی۔
بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا سخت ردعمل
’ٹرمپ کا معاہدہ ہمیں کسی بھی طرح پابند نہیں بناتا،‘ بن گویر
نیوز ایجنسی اے ایف پی کی یروشلم سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی وزیر بن گویر نے ایرانی امریکی امن معاہدے کی جو سخت مخالفت کی، وہ اس ڈیل کے طے پا جانے کے اعلان کے بعد اسرائیل میں کسی بھی اعلیٰ حکومتی عہدیدار کی طرف سے ظاہر کیا جانے والا اولین ردعمل تھا۔
کیا اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے مزید علاقوں پر قبضہ کرے گی؟
ایتمار بن گویر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلیگرام پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا، ’’ٹرمپ کا معاہدہ ہمیں (اسرائیل کو) کسی بھی طرح سے پابند نہیں بناتا۔ ہم اس معاہدے کے فریق نہیں ہیں۔ یہ ڈیل ہماری سلامتی کا تحفظ نہیں کرتی۔‘‘
حزب اللہ کے سربراہ کا ’جامع‘ جنگ بندی کا مطالبہ
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی مزید پیش قدمی: شدید فضائی و زمینی حملے
بن گویر نے مزید لکھا، ’’ہمیں حزب اللہ کو ختم کر دینے سے کم کسی بھی چیز پر اتفاق نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں (لبنان میں) اس خطے کے ایک انچ حصے سے بھی اپنے دستے واپس نہیں بلانا چاہییں، جسے ہمارے فوجیوں نے دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے اپنے قبضے میں لیا ہے۔‘‘
ادارت: جاوید اختر
ایران جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ طے پا گیا، دستخط جمعے کو
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ اپنے بیان میں کہا ہے، ’’وسیع اور مسلسل مذاکرات کے بعد ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ دونوں فریقوں نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ شہباز شریف کے مطابق معاہدے پر دستخطوں کی تقریب جمعہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہو گی۔
ایران کی جانب سے بھی معاہدے کی تصدیق
ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے بھی امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا مقصد کئی ماہ سے جاری تنازعے کا خاتمہ ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت ایران اور لبنان کے خلاف فوجی کارروائیاں بند کر دی جائیں گی جبکہ اہم بحری تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں آمد و رفت پر عائد کردہ رکاوٹیں بھی ختم کر دی جائیں گی۔
ایران کے سرکاری ٹیلی وژن سے نشر کردہ ایک بیان میں غریب آبادی نے کہا، ’’لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔‘‘
ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ ’’مکمل‘‘ ہو چکا ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا، ’’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔ سب کو مبارک ہو!‘‘
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کو ’’بغیر کسی محصول کے مکمل طور پر کھولنے‘‘ کی منظوری دے دی ہے اور امریکہ کی جانب سے اس اہم بحری تجارتی راہداری میں نافذ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی فوری طور پر ختم کر دی جائے گی۔
انہوں نے کہا، ’’دنیا کے جہازو! اپنے انجن چالو کرو، تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہونے دو۔‘‘
امریکی صدر کا یہ بیان پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدہ طے پا جانے کے اعلان کے فوراً بعد سامنے آیا۔
عالمی رہنماؤں کی طرف سے خیر مقدم
جرمنی، برطانیہ، فرانس اور اٹلی کے رہنماؤں نے امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ ’’جنگ کے خاتمے کی جانب ایک نہایت اہم پیش رفت‘‘ ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اب توجہ اس بات پر مرکوز ہونا چاہیے کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھا جائے تاکہ عالمی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کم کیے جا سکیں، اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دی جائے۔
اسٹارمر نے مزید کہا کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے واضح اور قابل تصدیق اقدامات کرتا ہے، تو چاروں ممالک اپنی طرف سے عائد کردہ پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب اس معاہدے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ملک قطر نے بھی اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔
قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا، ’’ہم امید کرتے ہیں کہ تمام فریق آئندہ مذاکرات میں مثبت اور تعمیری انداز میں شریک ہوں گے، تاکہ اس پیش رفت کو مستحکم بنایا اور اسے مزید آگے بڑھایا جا سکے۔‘‘
ادارت: مقبول ملک