1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
لائیو

ایران جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ طے پا گیا، دستخط جمعے کو

مقبول ملک اے پی، روئٹرز، اے ایف پی اور ڈی پی اے کے ساتھ
وقت اشاعت 15 جون 2026آخری اپ ڈیٹ 15 جون 2026

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ابتدائی امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جس پر دستخطوں کی تقریب جمعہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہو گی۔

https://p.dw.com/p/5FP7J
14 جون 2026 کو ایک خاتون تہران کے انقلاب اسکوائر میں نصب ایران کے قومی پرچم کی تصویر والے ایک بڑے بل بورڈ کے سامنے سے گزرتے ہوئی
امریکہ اور ایران نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک ایک فریم ورک معاہدے تک پہنچ گئے ہیں، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا اور تیل بردار جہازوں کی آمدورفت بحال ہو سکے گیتصویر: AFP
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • مسک کی کمپنی ٹیسلا نے ’فل سیلف ڈرائیونگ‘ کار سے متعلق یورپی ریگولیٹرز کو گمراہ کرنے والا ڈیٹا پیش کیا
  • برطانیہ میں بھی حکومت کا سولہ سال سے کم عمر کے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کا اعلان
  • اسرائیلی وزیر بن گویر کی طرف سے امریکی ایرانی امن ڈیل کی مذمت، لبنان میں شدید فوجی مہم کا مطالبہ
  • ایران جنگ کے خاتمے کے لیے واشنگٹن اور تہران کے مابین عبوری امن معاہدہ طے پا گیا، دستخط آئندہ جمعے کو
ٹیسلا نے اپنی ’فل سیلف ڈرائیونگ‘ کار سے متعلق یورپی ریگولیٹرز کو گمراہ کرنے والا ڈیٹا پیش کیا سیکشن پر جائیں
15 جون 2026

ٹیسلا نے اپنی ’فل سیلف ڈرائیونگ‘ کار سے متعلق یورپی ریگولیٹرز کو گمراہ کرنے والا ڈیٹا پیش کیا

ٹیسلا کی ایک ’فل سیلف ڈرائیونگ‘ کار کی جنوبی جرمنی کے شہر میونخ میں ایک ٹیسٹ ڈرائیو کے دوران گاڑی کے اندر سے اس سال مارچ میں لی گئی ایک تصویر
ٹیسلا کی ایک ’فل سیلف ڈرائیونگ‘ کار کی جنوبی جرمنی کے شہر میونخ میں ایک ٹیسٹ ڈرائیو کے دوران گاڑی کے اندر سے لی گئی ایک تصویرتصویر: Bernd Feil/MiS/IMAGO

امریکی کھرب پتی بزنس مین ایلون مسک کی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا نے یورپی ریگولیٹرز کو اپنی مکمل طور پر سیلف ڈرائیونگ (ایف ایس ڈی) کاروں کے بارے میں جو ڈیٹا پیش کیا، وہ متعدد ماہرین کے مطابق ’’گمراہ کر دینے والا‘‘ تھا۔

ایلون مسک نے اپنی پارٹنرکے بھارتی تعلقات سے متعلق کیا کہا؟

یہ ڈیٹا ٹیسلا کی ’فل سیلف ڈرائیونگ‘ یا FSD سسٹم والی الیکٹرک کاروں کی فروخت کے لیے یورپی یونین کے رکن ممالک سویڈن اور نیدرلینڈز میں قومی ریگولیٹرز کو پیش کیا گیا تھا۔ لیکن اس ڈیٹا کے بارے میں اب ٹریفک سیفٹی پر تحقیق کرنے والے غیر جانبدار محققین نے کہا ہے کہ ان اعداد و شمار کے ذریعے یورپی ممالک کو مارکیٹنگ کے لیے گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

ٹرمپ کی طرف سے ’شاندار‘ ایلون مسک کو الوداع

ٹیسلا کے سی ای او اور کھرب پتی بزنس مین ایلون مسک کی ایک تصویر
ٹیسلا کے سی ای او اور کھرب پتی بزنس مین ایلون مسکتصویر: Alain Jocard/AFP

ٹیسلا کے لیے مشکلات کے باوجود بھارتی مارکیٹ اہم کیوں؟

اس بارے میں نیوز ایجنسی روئٹرز نے گزشتہ ماہ اپنی جو جائزہ رپورٹ جاری کی تھی، اس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک اور دیگر اعلیٰ کمپنی عہدیداران نےگزشتہ ایک سال کے دوران ایسے زیادہ سے زیادہ اعداد و شمار کے حوالے دیے تھے، جن سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ ٹیسلا کے ایف ایس ڈی سسٹم کا ڈرائیور اسسٹنٹ فیچر گاڑی چلانے والے ڈرائیوروں کے طور پر انسانوں کے مقابلے میں 10 گنا سے بھی زیادہ محفوظ تھا۔

برلن کے ٹیسلا پلانٹ میں مبینہ آتشزدگی کی تحقیقات شروع

تاہم اس جائزے میں روئٹرز کے تجزیہ کار اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ اپنے ان اعداد و شمار میں ٹیسلا نے کئی ایسے نامناسب ڈیٹا موازنے بھی کیے تھے، جن میں ٹیسلا کی سیفٹی سے متعلق اعداد و شمار کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا۔

الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی امریکی کمپنی ٹیسلا کا لوگو
الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی امریکی کمپنی ٹیسلا کا لوگوتصویر: Sebastian Gollnow/dpa/picture alliance

جرمنی: اے ایف ڈی کی تعریف کرنے پر ایلون مسک پر نکتہ چینی

روئٹرز کی طرف سے حاصل کردہ سرکاری خط و کتابت کی تفصیلات کے مطابق ٹیسلا نے اپنی ایف ایس ڈی کاروں کے محفوظ ہونے سے متعلق بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جانے والا ڈیٹا چند یورپی ممالک کے نیشنل ریگولیٹرز کو اس لیے پیش کیا تھا کہ ان یورپی ممالک میں اس کمپنی کی ایف ایس ڈی کاروں کی فروخت کے لیے منظوری حاصل کی جا سکے۔

یورپ کے یہ ممالک وہ تھے، جہاں ٹیسلا تب قومی منڈیوں میں اپنا کاروباری حصہ دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش میں تھی۔

https://p.dw.com/p/5FR8g
برطانیہ میں بھی سولہ سال سے کم عمر کے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کا اعلان سیکشن پر جائیں
15 جون 2026

برطانیہ میں بھی سولہ سال سے کم عمر کے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کا اعلان

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر ڈاؤننگ اسٹریٹ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمرتصویر: Carlos Jasso/PA Images/picture alliance

برطانیہ میں وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں قانون سازی دسمبر کے اواخر تک مکمل کر لی جائے گی۔

فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی منظور

برطانوی دارالحکومت لندن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے پیر 15 جون کے روز اعلان کیا کہ ان کی حکومت مستقبل قریب میں برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر اس لیے پابندی لگا دے گی کہ ایسے پلیٹ فارمز بچوں کو ’ناخوش‘ بنا دیتے ہیں۔

جرمنی میں ’ڈیٹ ریپ‘ دواؤں کے استعمال پر سخت سزاؤں کا مطالبہ

کیئر اسٹارمر نے کہا، ’’برطانوی حکومت ملک میں 16 سال سے کم عمر کے تمام بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی لگا دے گی۔‘‘ ساتھ ہی کیئر اسٹارمر نے یہ تنبیہ بھی کی کہ ایسے پلیٹ فارمز کے ذریعے ’’بچوں کا سامنا ایسے مواد سے ہوتا ہے، جو خطرناک بھی ہے اور جسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ صارفین اس کے عادی ہو جائیں۔‘‘

مودی کا میلونی کے لیے ’میلوڈی‘ کا تحفہ اور سیاسی ہنگامہ آرائی

ایک اسمارٹ فون کی اسکرین پر کئی سوشل میڈیا ایپس کے آئکنز
لندن حکومت یہ پابندی اگلے برس موسم بہار سے نافذ کرنا چاہتی ہےتصویر: Samuel Boivin/NurPhoto/picture alliance

میسیجنگ سروسز پر پابندی نہیں لگائی جائے گی

برطانوی وزیر اعظم نے کہا، ’’حکومت جن سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ پابندی لگانا چاہتی ہے، ان میں اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک، یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بک اور ایکس شامل ہیں۔ لیکن یہ پابندی واٹس ایپ جیسی میسیجنگ سروسز پر نہیں لگائی جائے گی۔‘‘

بھارت کے ’ٹیکنالوجی ہب‘ میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی

لندن حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ بعد میں حکومت مزید آگے جاتے ہوئے کم عمر بچوں کے حوالے سے ہی گیمنگ سروسز اور لائیو اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر بھی پابندی لگا دے گی۔

برطانوی حکومت کو امید ہے کہ اس پابندی کے لیے ضروری قانون سازی کا عمل اس سال دسمبر کے اواخر تک مکمل کر لیا جائے گا اور 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر یہ پابندی عملی طور پر اگلے برس موسم بہار سے نافذ العمل ہو سکے گی۔

کیا بچوں کے لیے آسٹریلیا کا سخت سوشل میڈیا ماڈل یورپ کے لیے موزوں ہوگا؟

ڈیجیٹل میسیجنگ سروس واٹس ایپ کا لوگو
لندن حکومت کے مطابق یہ پابندی واٹس ایپ جیسی میسیجنگ سروسز پر نہیں لگائی جائے گیتصویر: Samuel Boivin/NurPhoto/IMAGO

اسٹارمر حکومت کے اعلان کے مطابق اس مجوزہ پابندی سے متعلق مزید تفصیلات کا اعلان اگلے ماہ جولائی میں کیا جائے گا۔

آسٹریلیا سے یورپ تک حکومتیں بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر قدغن بڑھا رہی ہیں

بین ا لاقوامی سطح پر بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی اور نفسیاتی صحت کے حفاظت کے لیے اب تک اس نوعیت کی پابندیاں دنیا کے کئی ممالک میں متعارف کرائی جا چکی ہیں۔

https://p.dw.com/p/5FQe8
اسرائیلی وزیر بن گویر کی طرف سے امریکی ایرانی امن ڈیل کی مذمت، لبنان میں شدید فوجی مہم کا مطالبہ سیکشن پر جائیں
15 جون 2026

اسرائیلی وزیر بن گویر کی طرف سے امریکی ایرانی امن ڈیل کی مذمت، لبنان میں شدید فوجی مہم کا مطالبہ

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر یروشلم میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، فائل فوٹو
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر یروشلم میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، فائل فوٹوتصویر: Debbie Hill/UPI Photo/IMAGO

اسرائیل میں وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت میں انتہائی دائیں بازو وسے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے پیر 15 جون کے روز امریکہ اور ایران کے مابین جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے ابتدائی امن معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ لبنان میں اسرائیلی فوجی مہم دراصل تیز تر کی جانا چاہیے۔

یروشلم سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق بن گویر نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے مابین مشرق وسطیٰ میں موجودہ جنگ کے خاتمے کے لیے جو معاہدہ طے پایا ہے، اس کے تحت اسرائیل کے لیے یہ لازمی نہیں کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی جنگ ختم کر دے۔

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے اس وزیر کا یہ مطالبہ اس لیے حیران کن ہے کہ امریکی ایرانی امن ڈیل کے طے پا جانے کی تصدیق کرتے ہوئے امریکہ اور ایران دونوں کی طرف سے قبل ازیں آج پیر ہی کے روز کہا گیا تھا کہ اس معاہدے کے تحت لبنان اور ایران کے خلاف عسکری کارروائیوں سمیت ہر قسم کی جنگی سرگرمیاں ختم کر دی جائیں گی۔

بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا سخت ردعمل

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی فوجی دستوں سے ملاقات کرتے ہوئے، اپریل کے وسط میں لی گئی ایک تصویر
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی فوجی دستوں سے ملاقات کرتے ہوئے، اپریل کے وسط میں لی گئی ایک تصویرتصویر: Kobi Gideon/Israel GPO/ZUMA/IMAGO

’ٹرمپ کا معاہدہ ہمیں کسی بھی طرح پابند نہیں بناتا،‘ بن گویر

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی یروشلم سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی وزیر بن گویر نے ایرانی امریکی امن معاہدے کی جو سخت مخالفت کی، وہ اس ڈیل کے طے پا جانے کے اعلان کے بعد اسرائیل میں کسی بھی اعلیٰ حکومتی عہدیدار کی طرف سے ظاہر کیا جانے والا اولین ردعمل تھا۔

کیا اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے مزید علاقوں پر قبضہ کرے گی؟

ایتمار بن گویر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلیگرام پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا، ’’ٹرمپ کا معاہدہ ہمیں (اسرائیل کو) کسی بھی طرح سے پابند نہیں بناتا۔ ہم اس معاہدے کے فریق نہیں ہیں۔ یہ ڈیل ہماری سلامتی کا تحفظ نہیں کرتی۔‘‘

حزب اللہ کے سربراہ کا ’جامع‘ جنگ بندی کا مطالبہ

لبنانی دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات میں ایک عمارت پر کل اتوار چودہ جون کو کیے گئے ایک اسرائیلی فضائی حملے کے بعد امدادی کارکن ملبے کے نیچے زخمیوں کو تلاش کرتے ہوئے
لبنانی دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات میں ایک عمارت پر کل اتوار چودہ جون کو کیے گئے ایک اسرائیلی فضائی حملے کے بعد امدادی کارکن ملبے کے نیچے زخمیوں کو تلاش کرتے ہوئےتصویر: Ibrahim Amro/AFP

جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی مزید پیش قدمی: شدید فضائی و زمینی حملے

بن گویر نے مزید لکھا، ’’ہمیں حزب اللہ کو ختم کر دینے سے کم کسی بھی چیز پر اتفاق نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں (لبنان میں) اس خطے کے ایک انچ حصے سے بھی اپنے دستے واپس نہیں بلانا چاہییں، جسے ہمارے فوجیوں نے دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے اپنے قبضے میں لیا ہے۔‘‘

ادارت: جاوید اختر

https://p.dw.com/p/5FPlP
ایران جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ طے پا گیا، دستخط جمعے کو سیکشن پر جائیں
15 جون 2026

ایران جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ طے پا گیا، دستخط جمعے کو

ایران اور امریکی کا پرچم
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے مطابق امریکہ اور ایران دونوں نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے پر اتفاق کیا ہےتصویر: Rainer Unkel/IMAGO

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ اپنے بیان میں کہا ہے، ’’وسیع اور مسلسل مذاکرات کے بعد ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ دونوں فریقوں نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ شہباز شریف کے مطابق معاہدے پر دستخطوں کی تقریب جمعہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہو گی۔

ایران کی جانب سے بھی معاہدے کی تصدیق

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے بھی امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا مقصد کئی ماہ سے جاری تنازعے کا خاتمہ ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت ایران اور لبنان کے خلاف فوجی کارروائیاں بند کر دی جائیں گی جبکہ اہم بحری تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں آمد و رفت پر عائد کردہ رکاوٹیں بھی ختم کر دی جائیں گی۔

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن سے نشر کردہ ایک بیان میں غریب آبادی نے کہا، ’’لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔‘‘

اس تصویر میں ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نئی دہلی میں تیرہ مئی کو میڈیا سے خطاب کر رہے ہیں
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت ایران اور لبنان کے خلاف فوجی کارروائیاں بند کر دی جائیں گیتصویر: ANI/IMAGO

ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ ’’مکمل‘‘ ہو چکا ہے۔

انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا، ’’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔ سب کو مبارک ہو!‘‘

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کو ’’بغیر کسی محصول کے مکمل طور پر کھولنے‘‘ کی منظوری دے دی ہے اور امریکہ کی جانب سے اس اہم بحری تجارتی راہداری میں نافذ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی فوری طور پر ختم کر دی جائے گی۔

انہوں نے کہا، ’’دنیا کے جہازو! اپنے انجن چالو کرو، تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہونے دو۔‘‘

امریکی صدر کا یہ بیان پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدہ طے پا جانے کے اعلان کے فوراً بعد سامنے آیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے
معاہدہ ہونے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی برادری کو مبارک باد دی ہےتصویر: Bonnie Cash/Sipa USA/picture alliance

عالمی رہنماؤں کی طرف سے خیر مقدم

جرمنی، برطانیہ، فرانس اور اٹلی کے رہنماؤں نے امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ ’’جنگ کے خاتمے کی جانب ایک نہایت اہم پیش رفت‘‘ ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اب توجہ اس بات پر مرکوز ہونا چاہیے کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھا جائے تاکہ عالمی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کم کیے جا سکیں، اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دی جائے۔

اسٹارمر نے مزید کہا کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے واضح اور قابل تصدیق اقدامات کرتا ہے، تو چاروں ممالک اپنی طرف سے عائد کردہ پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔

دوسری جانب اس معاہدے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ملک قطر نے بھی اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔

قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا، ’’ہم امید کرتے ہیں کہ تمام فریق آئندہ مذاکرات میں مثبت اور تعمیری انداز میں شریک ہوں گے، تاکہ اس پیش رفت کو مستحکم بنایا اور اسے مزید آگے بڑھایا جا سکے۔‘‘

ادارت: مقبول ملک

https://p.dw.com/p/5FP7e
مزید پوسٹیں
Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔