1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
اقتصادیاتپاکستان

پاکستان: ایران جنگ کے باعث ترسیلات زر اور ملازمتیں خطرے میں

5 اپریل 2026

ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جنگ سے خلیجی ممالک کی معیشتیں اور وہاں کاروبار اور روزگار کے حالات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ اس وجہ سے ترسیلات زر پر انحصار کرنے والے ملک پاکستان کو مزید اقتصادی خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

https://p.dw.com/p/5Bbux
سعودی عرب میں مزدوری کرتے ہوئے پاکستانی کارکن
خلیجی عرب ممالک میں بہت سے پاکستانی تارکین وطن تعمیراتی شعبے میں کام کرتے ہیںتصویر: Fayez Nureldine/AFP/Getty Images

طویل عرصے سے پاکستان کی معیشت کا دار و مدار اس کی بیرون ملک مقیم بڑی افرادی قوت پر رہا ہے، خاص طور پر امیر خلیجی عرب ممالک میں۔ سرکاری اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 90 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں، جن میں سے لگ بھگ 50 لاکھ سے 60 لاکھ تک مشرق وسطیٰ کے ممالک میں رہتے اور وہاں کام کرتے ہیں۔ ان میں سے بھی سب سے بڑی تعداد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں رہتی ہے۔

آبنائے ہرمز: ایران عالمی معیشت کو یرغمال بنا رہا ہے،برطانیہ

خلیجی ریاستوں قطر، کویت اور عمان میں بھی پاکستانیوں کی قابل ذکر تعداد موجود ہے۔ سمندر پار کارکن پاکستان بھیجی جانے والی رقوم کی وجہ سے ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور سالانہ 30 بلین ڈالر سے زائد کی رقوم وطن بھیجتے ہیں۔ ان رقوم میں سے نصف سے زیادہ ترسیلات زر خلیجی ممالک سے آتی ہیں۔

یہ سرمایہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دینے تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ پاکستان بھر میں لاکھوں گھرانوں کی کفالت کا ذریعہ بھی بنتا ہے، خاص طور پر روزمرہ اخراجات، تعلیم، صحت اور رہائش جیسے شعبوں میں اخراجات کے لیے۔

دبئی میں ایک بلند و بالا عمارت کی تعمیر کے منصوبے پر کام کرتے ہوئے تارکین وطن، جن میں بڑی تعداد پاکستانیوں کی بھی ہوتی ہے
دبئی میں ایک بلند و بالا عمارت کی تعمیر کے منصوبے پر کام کرتے ہوئے تارکین وطن، جن میں بڑی تعداد پاکستانیوں کی بھی ہوتی ہےتصویر: Dreamstime/IMAGO

خلیجی خطے میں بے یقینی اور عملی مسائل

لیکن ایران جنگ کے باعث پورے مشرق وسطیٰ میں بہت بڑھ چکی کشیدگی اور بے یقینی کی بنا پر اس عمل کا تسلسل اب یقینی نہیں رہا اور کئی طرح کے عملی مسائل اور خدشات جنم لے رہے ہیں۔

محمد شکیل، جو حال ہی میں متحدہ عرب امارات سے پاکستان واپس آئے ہیں اور جائیداد کی خرید و فروخت کے شعبے سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں کہ صورتحال غیر یقینی ہے۔ خطے میں جاری جنگ کے باعث تقریباً کوئی پراپرٹی ڈیلز نہیں ہو رہیں اور ذاتی کاروبار کرنے والے خاص طور پر متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ ملازمتیں بھی اب محدود ہو گئی ہیں۔

حتمی ایرانی شکست تک امریکہ جنگ جاری رکھے، خلیجی عرب ممالک

محمد شکیل نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک جاری رہی تو مجھے پاکستان میں طویل وقت گزارنا پڑ سکتا ہے۔ یہ میرے لیے اس وجہ سے فکر کی بات ہے کہ میرے پاس یہاں پاکستان میں تو آمدنی کا کوئی مستحکم ذریعہ ہی نہیں ہے۔‘‘

متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے مزدور دن کے اختتام پر اپنی رہائش گاہوں کو واپسی کے لیے آجر ادارے کی طرف سے مہیا کردہ ٹرانسپورٹ کا انتظار کرتے ہوئے، فائل فوٹو
متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے مزدور دن کے اختتام پر اپنی رہائش گاہوں کو واپسی کے لیے آجر ادارے کی طرف سے مہیا کردہ ٹرانسپورٹ کا انتظار کرتے ہوئے، فائل فوٹوتصویر: Brent Stirton/Getty Images

متعدد مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کے خطے میں جاری موجودہ جنگ طویل عرصے تک جاری رہی، تو پاکستان کو اپنے ہاں پہنچنے والی ترسیلات زر کے بہاؤ میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو کمزور ملکی معیشت کے لیے ایک نیا دھچکہ ثابت ہو سکتا ہے۔

قلیل المدتی بنیادوں پر 'کوئی فرق نہیں‘ پڑے گا

اقتصادی تجزیہ کار ڈاکٹر اشفاق حسن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''میرے خیال میں قلیل مدت میں کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا۔ تاہم اگر موجودہ صورتحال طویل عرصے تک غیر مستحکم ہی رہی، تو پاکستان کو ملنے والی ترسیلات زر کی صورت میں ملک کو متاثر کرے گی۔‘‘ ان کا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہنا تھا کہ وقتی طور پر ترسیلات زر بڑھ بھی سکتی ہیں کیونکہ لوگ اپنی بچت کردہ رقوم بھی اندرون ملک منتقل کرنا شروع کر سکتے ہیں۔

توانائی بحران کے باعث پاکستان میں پی ایس ایل شائقین کے بغیر

ڈاکٹر اشفاق حسن کے مطابق مشرق وسطیٰ، خاص طور پر متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد ہوٹلنگ اور سیاحت کے شعبوں سے وابستہ ہے اور اس وقت سیاحت تو بالکل رکی ہوئی ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سیاحتی شعبہ متاثر ہو رہا ہے، تو ایسے پاکستانیوں کے آجر اداروں کا کاروبار بھی متاثر ہو گا کیونکہ کوئی بھی آجر بغیر کام کے طویل عرصے تک تو اپنے کارکنوں کو تنخواہ نہیں دے سکتا۔

خلیجی خطے میں کام کرنے والے نوجوان پاکستانی کارکن چھٹی کے دن کرکٹ کھیلتے ہوئے، فائل فوٹو
خلیجی خطے میں کام کرنے والے نوجوان پاکستانی کارکن چھٹی کے دن کرکٹ کھیلتے ہوئے، فائل فوٹوتصویر: KARIM SAHIB/AFP

ان حالات میں یہ خطرہ بھی محسوس کیا جا رہا ہے کہ اگر بڑی تعداد میں سمندر پار پاکستانی وطن لوٹنا شروع ہو گئے، تو ملک میں بے روزگاری بڑھے گی۔ تاہم ڈاکٹر ندیم الحق اس خدشے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں بے روزگاری کی سطح تو پہلے ہی بہت زیادہ ہے اور بیرون ملک سے لوٹنے والوں کی وجہ سے اس میں جو ممکنہ اضافہ ہو سکتا ہے، وہ تو بظاہر دکھائی بھی نہیں دے گا۔

ایران جنگ کے معاشی اثرات: سویڈن پٹرول پر ٹیکس کم کر دے گا

ڈاکٹر ندیم الحق نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''ملک میں اس وقت جو بے روزگاری ہے، اس کی وجہ پاکستانی حکومت کی کمزور پالیسیاں ہیں، جو کسی کو کام کرنے کا موقع ہی نہیں دیتیں۔ آئندہ اگر بے روزگاری میں اضافہ ہوا، تو اس کی ذمہ دار بھی حکومت ہی ہو گی، نہ کہ باہر سے آنے والے پاکستانی۔ ایسی افرادی قوت تو دراصل زیادہ سود مند ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس کے پاس علم، تجربہ اور ذہنی وسعت زیادہ اور متنوع ہوتے ہیں۔‘‘

موجودہ حالات سے پاکستان کا فائدہ بھی ممکن؟

ایران جنگ سے پیدا شدہ صورت حال کا ایک ممکنہ پہلو یہ بھی ہے کہ اس وجہ سے پاکستان آنے والی وہ ترسیلات زر وقت کے ساتھ بڑھ بھی سکتی ہیں، جن میں ممکنہ کمی کا اس وقت پاکستانی معیشت کو خطرہ ہے۔ ماہرین کے مطابق خاص طور پر موجودہ حالات میں کئی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی بھی لے رہے ہیں۔

اسپین: کوئلے کی کانوں میں مزدوری کرنے والے پاکستانی

اس کی ایک مثال زبیر احمد کی ہے، جو حال ہی میں سعودی عرب سے کچھ دن کے لیے پاکستان آئے۔ وہ پہلے ملک میں جائیداد خریدنے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے اور ان کا ارادہ تھا کہ وہ متحدہ عرب امارات یا کسی اور خلیجی ریاست میں سرمایہ کاری کریں گے، جہاں جائیداد خریدنے کے بہتر مواقع موجود ہوں۔ لیکن اب ان کی رائے بدل گئی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں جائیداد خریدنا ایک اچھا مالیاتی فیصلہ ہو سکتا ہے۔

ایران جنگ: عالمی معیشت کے لیے ایک اور تاریک باب

ڈاکٹر ساجد امین، جو پاکستانی غیر حکومتی ادارے ایس ڈی پی آئی(سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ) کے ڈائریکٹر ہیں، کہتے ہیں کہ قلیل مدت میں ترسیلات زر میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا کیونکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی فوراً واپس نہیں آئیں گے اور اپنے خاندانوں کی ضروریات پورا کرنے کے لیے رقوم بھیجتے رہیں گے۔

ایران کے خلاف جنگ کے پاکستان کی معیشت اور دفاع پر اثرات

خلیج کے خطے کے موجودہ حالات کے ممکنہ طویل المدتی اثرات کے بارے میں انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''میری رائے میں اگر جنگ طویل ہوئی تو خلیجی ممالک کو مستقبل میں مزید افرادی قوت کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور پاکستان وہ خلا پورا کر سکتا ہے، جس سے بالآخر ترسیلات زر میں اضافہ ہو گا۔ لیکن کوئی حتمی نتیجہ تب ہی اخذ کیا جا سکتا ہے جب مارچ میں پاکستان کو موصول ہونے والی ترسیلات زر کا ڈیٹا جاری کیا جائے گا، جو ابھی ملک کے مرکزی بینک نے جاری نہیں کیا۔‘‘

ادارت: مقبول ملک

جنگ ایران میں لیکن مہنگائی پاکستان میں