امریکہ ایران کشیدگی میں پاکستان غیرمتوقع ثالث مگر کیسے؟
27 مارچ 2026
فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد جب خطے میں وسیع تر جنگ کے خدشات بڑھنے لگے، تو پاکستان ایک غیر متوقع ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے اور اس نے واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی پیشکش کی ہے۔
اسلام آباد کو عام طور پر اعلیٰ سطحی سفارت کاری میں ثالثی کے لیے نہیں پکارا جاتا، لیکن اس بار اس نے یہ کردار کئی وجوہات کی بنا پر سنبھالا ہے۔ ایک طرف پاکستان کے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ نسبتاً اچھے تعلقات ہیں اور دوسری طرف اس کے اپنے مفادات بھی اس جنگ کے خاتمے سے وابستہ ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق ان کی عوامی سطح پر نظر آنے والی امن کوششوں سے قبل کئی ہفتوں تک خاموش سفارت کاری جاری رہی، تاہم اس کی تفصیلات کم ہی فراہم کی گئی ہیں۔ حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ اسلام آباد امریکہ اور ایران کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
پاکستان نے امریکہ کا 15 نکاتی منصوبہ ایران تک پہنچایا
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کا کردار چند روز قبل میڈیا رپورٹس کے ذریعے سامنے آیا۔ بعد ازاں اسلام آباد کے حکام نے تصدیق کی کہ امریکہ کی ایک تجویز ایران تک پہنچائی گئی ہے۔
یہ واضح نہیں کہ ان بالواسطہ مذاکرات میں ایران کی طرف سے رابطہ کار کون ہے۔ ایران نے ایسے مذاکرات کی تردید کی ہے اور امریکی تجویز کو مسترد کیا ہے تاہم اس نے یہ تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنے جوابی نکات پیش کیے ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق امریکہ کے پیغامات ایران تک پہنچائے جا رہے ہیں اور ایران کے جوابات واشنگٹن تک منتقل کیے جا رہے ہیں، لیکن اس عمل کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں ہیں۔ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ترکی اور مصر بھی پس پردہ اس عمل میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے سربراہ عبداللہ خان کے مطابق پاکستان کی ثالثی کی کوششیں تنازعے میں کسی حد تک تحمل پیدا کرنے میں مددگار ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر بڑے حملے موخر کر دیے ہیں جبکہ ایران کا ردعمل بھی محدود رہا ہے، جو سفارت کاری کے لیے گنجائش پیدا کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
امریکہ اور ایران دونوں سے تعلقات نے پاکستان کو منفرد حیثیت دی
ماضی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں عمان اور قطر جیسے مشرق وسطیٰ کے ممالک نے کردار ادا کیا لیکن جنگ کے دوران ان ممالک پر ایرانی حملوں کے بعد پاکستان نے یہ کردار سنبھال لیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کے ہمسایہ ہونے اور امریکہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی وجہ سے پاکستان ایک منفرد پوزیشن میں ہے، خاص طور پر اس وقت جب دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطہ محدود ہے۔
امریکہ اور ایران کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کے سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ تو گزشتہ سال پاکستان ایک دفاعی معاہدہ بھی کر چکا ہے۔ تاہم فلسطینی معاملے کی بنیاد پر پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
گزشتہ سال سے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے، جس میں سفارتی روابط اور معاشی تعاون میں اضافہ شامل ہے۔ پاکستان نے غزہ میں امن کے لیے قائم ٹرمپ کے ''بورڈ آف پیس‘‘ میں بھی شمولیت اختیار کی، حالانکہ اندرون ملک اس پر تنقید بھی ہوئی۔
جنگ بندی میں پاکستان کے لیے بڑے مفادات
اسلام آباد کے سکیورٹی تجزیہ کار سید محمد علی کے مطابق یہ تنازعہ پاکستان کے لیے ''معاشی استحکام اور توانائی کے تحفظ کے حوالے سے سب سے بڑے چیلنجز‘‘ میں سے ایک ہے۔
پاکستان اپنا زیادہ تر ایندھن مشرق وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے جبکہ تقریباً پچاس لاکھ پاکستانی خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں اور ان کی ترسیلات زر مجموعی ملکی برآمدات کے برابر ہیں۔
کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کو ایندھن کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد اضافہ کرنا پڑا ہے۔ اس معاملے سے وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت پر دباؤ بھی بڑھ گیا ہے۔
یہ جنگ اندرونی بے چینی میں بھی اضافہ کر رہی ہے جبکہ پاکستان پہلے ہی افغانستان کے ساتھ غیرمعمولی کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔
دوسری جانب اس ماہ کے آغاز پر ایران پر امریکی حملوں کے بعد ملک بھر میں امریکہ مخالف مظاہرے ہوئے، جن میں کئی شہروں میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد کراچی اور شمالی علاقوں میں پرتشدد واقعات پیش آئے، جن میں کم از کم 22 افراد ہلاک اور 120 سے زائد زخمی ہوئے۔
پاکستان کا ثالثی کا تاریخی کردار
اگرچہ پاکستان عالمی تنازعے میں بہ طور ثالث کم کم ہی دیکھا گیا ہے لیکن کچھ اہم عالمی معاملات میں اس کا کردار تاریخی رہا ہے۔
1972 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن کے چین کے تاریخی دورے کی راہ ہموار کرنے میں پاکستان کے اس وقت کے صدر جنرل یحییٰ خان نے پس پردہ رابطوں میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں 1979 میں امریکہ اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔
حالیہ برسوں میں بہ ظاہر پاکستان نے افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان رابطے قائم کرنے میں مدد دی، جس کے نتیجے میں دوحہ مذاکرات ہوئے اور 2020 کا معاہدہ طے پایا، جس نے 2021 میں نیٹو افواج کے انخلا اور طالبان کی واپسی کی راہ ہموار کی۔