آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ٹرمپ کی مہلت میں دس دن کی توسیع
وقت اشاعت 27 مارچ 2026آخری اپ ڈیٹ 27 مارچ 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- امریکہ ایران میں اسکول پر مہلک حملے کی تحقیقات جلد مکمل کرے، اقوام متحدہ
- یوکرین اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ
- ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی خطے کے عوام کو امریکی فوجی تنصیبات سے دور رہنے کی ہدایت
- امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان میں براہِ راست مذاکرات کی تیاری، جرمن وزیر خارجہ
- ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کو دی گئی مہلت مزید دس دن بڑھا دی
امریکہ ایران میں اسکول پر مہلک حملے کی تحقیقات جلد مکمل کرے، اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر فولکر ترک نے ایران میں 28 فروری کو ایک اسکول پر ہونے والی مہلک بمباری کو ’’شدید صدمے‘‘کا باعث قرار دیتے ہوئے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات جلد مکمل کرے۔
انہوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’امریکی اعلیٰ حکام کہہ چکے ہیں کہ اس حملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ یہ عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے اور اس کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اس ہولناک نقصان پر انصاف ہونا چاہیے۔‘‘
ترک کا کہنا تھا،’’ممالک کے درمیان اختلافات کچھ بھی ہوں، ہم سب اس بات پر متفق ہو سکتے ہیں کہ ان کا حل اسکول کے بچوں کو ہلاک کر کے نہیں نکالا جا سکتا۔‘‘
اخبار نیویارک ٹائمز کی جانب سے شائع کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایک امریکی ٹوماہاک کروز میزائل نشانے کی غلطی کے باعث اسکول پر جا گرا تھا۔
یوکرین اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جو مستقبل کے معاہدوں، تکنیکی تعاون اور سرمایہ کاری کی بنیاد فراہم کرے گا۔
صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’ہم سعودی عرب کے ساتھ اپنی مہارت اور نظام شیئر کرنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’سعودی عرب کے پاس بھی ایسی صلاحیتیں موجود ہیں، جو یوکرین کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں اور یہ تعاون دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘
زیلنسکی، جو اس وقت سعودی عرب کے دورے پر ہیں، نے کہا کہ یہ معاہدہ ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ان کی ملاقات سے قبل طے پایا۔
اے ایف پی سے بات کرنے والے دو سینیئر حکام کے مطابق یوکرین اور سعودی عرب نے فضائی دفاع سے متعلق ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز کے بعد سے تہران نے متعدد بار سعودی عرب پر حملے کیے ہیں۔
جمعہ کو سعودی سرکاری میڈیا نے بتایا کہ ریاض اور مشرقی علاقے میں دو ڈرونز کو مار گرایا گیا۔ یوکرین، جو گزشتہ چار برس سے روس کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا کر رہا ہے، اب اپنی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے خلیجی ممالک کو فراہم کیے جانے والے مہنگے دفاعی سازوسامان کے معاہدے حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی خطے کے عوام کو امریکی فوجی تنصیبات سے دور رہنے کی ہدایت
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آج بروز جمعہ خطے بھر کے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی افواج تنصیبات کے قریب موجود علاقوں سے دور رہیں، یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگ کو تقریباً ایک ماہ مکمل ہونے والا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے اپنی ویب سائٹ ’’سپاہ نیوز‘‘ پر جاری کردہ بیان میں کہا ،’’بزدل امریکی و صہیونی افواج شہری علاقوں اور بے گناہ افراد کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا، ’’ہم آپ کو مشورہ دیتے ہیں کہ فوری طور پر ان مقامات کو چھوڑ دیں جہاں امریکی افواج تعینات ہیں تاکہ آپ کسی نقصان سے محفوظ رہ سکیں۔‘‘
امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان میں براہِ راست مذاکرات کی تیاری، جرمن وزیر خارجہ
جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک کے نمائندے جلد پاکستان میں ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے جرمن ریڈیو ڈوئچ لینڈ فنک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میری معلومات کے مطابق بالواسطہ رابطے ہو چکے ہیں اور براہِ راست ملاقات کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ بظاہر یہ ملاقات بہت جلد پاکستان میں ہوگی۔‘‘
وزیر خارجہ نے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا، ’’یہ بہرحال اچھی خبر ہے کہ یہ مذاکرات ممکن ہو رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو متوقع طور پر فرانس میں جی سیون وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے موقع پر اس معاملے پر مزید تفصیلات فراہم کریں گے۔
جرمن وزیر خارجہ کے مطابق امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے جرمنی سے کسی مخصوص مدد کی درخواست نہیں کی، تاہم جرمنی نے تنازع کے بعد تعاون کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دہرایا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد جرمنی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنے پر تیار ہے۔
ان کا کہنا تھا، ’’جیسا کہ ہم ہمیشہ کہتے آئے ہیں کہ جب یہ جنگ ختم ہو جائے گی تو اصولی طور پر جرمنی اس بات پر غور کرنے کے لیے تیار ہے کہ آیا ہم آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ میں مدد دے سکتے ہیں۔ لیکن پہلے ہمیں وہاں تک پہنچنا ہوگا۔‘‘
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی مہلت مزید دس دن بڑھا دی
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی توانائی کی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کی ڈیڈ لائن مؤخر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات ’’بہت اچھے انداز میں‘‘ آگے بڑھ رہے ہیں۔ اسی دوران اسرائیل نے آج بروز جمعہ کی صبح تہران پر نئے حملوں کی لہر کا اعلان کیا ہے۔
گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے ابتدائی طور پر ایران کو آبنائے ہرمز کی بندش ختم کرنے کے لیے اڑتالیس گھنٹے کا وقت دیتے ہوئے انتباہ کیا تھا کہ تہران تیل بردار جہازوں کے لیے یہ اسٹریٹیجک آبی گزرگاہ کھول دے، بصورت دیگر اس کے بجلی گھروں کو تباہ کر دیا جائے گا، تاہم اب وہ اس ڈیڈ لائن میں دو مرتبہ توسیع کر چکے ہیں۔
ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے بیان میں کہا، ’’ایرانی حکومت کی درخواست پر میں توانائی کے پلانٹس کی تباہی کے عمل کو مزید 10 دن کے لیے، پیر چھ اپریل 2026 تک مؤخر کر رہا ہوں۔‘‘
امن کے زمانے میں دنیا کی خام تیل اور مائع قدرتی گیسں کی مجموعی پیداوار کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ ٹرمپ اس سے قبل اس تاثر کی تردید کر چکے ہیں کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے لیے بے چین ہیں، حالانکہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکی امن منصوبے پر سرد ردعمل دیا تھا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا، ’’مذاکرات جاری ہیں اور جعلی خبریں پھیلانے والے میڈیا کے دعووں کے برعکس یہ بہت اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘
ادارت: عاطف توقیر