1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اسلام آباد خودکش دھماکے میں مدد کا شبہ، چار افراد گرفتار

عاطف توقیر اے ایف پی، ڈی پی اے، روئٹرز کے ساتھ | ادارت | عدنان اسحاق | عاطف بلوچ
وقت اشاعت 7 فروری 2026آخری اپ ڈیٹ 7 فروری 2026

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک شیعہ امام بارگاہ پر حملے کی ذمہ داری داعش کی ایک ذیلی شاخ نے قبول کر لی ہے۔ دنیا بھر سے اہم اپڈیٹس یہاں ملاحظہ کیجیے۔

https://p.dw.com/p/58Gt1
سانحے کے سوگوار
ہزاروں افراد نے ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ میں شرکت کیتصویر: Muhammad Reza/Anadolu Agency/IMAGO
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • اسلام آباد خودکش دھماکے میں مدد کا شبہ، چار افراد گرفتار
  • پیراملٹری فورسز کا ڈرون حملہ، 24 افراد ہلاک
  • سعودی عرب اور شام کے درمیان کئی تجارتی معاہدے
  • اسلام آباد خودکش حملہ، داعش کی ذیلی تنظیم نے ذمہ داری قبول کر لی
  • روس کا یوکرین کے توانائی نظام پر بڑا حملہ
  • آئی سی سی کی پاک بھارت ٹی 20 ورلڈ کپ میچ بچانے کی کوششیں
  • امریکہ چاہتا ہے کہ جون تک یوکرین اور روس کی جنگ ختم ہو جائے، زیلنسکی
  • میونخ سکیورٹی کانفرنس کے دوران بڑے پیمانے پر مظاہروں کی تیاری
  • ایران سے بالواسطہ مذاکرات، ٹرمپ کا ’’مثبت بات چیت‘‘کا دعویٰ
  • جنوبی لبنان میں امن دستوں پر اسرائیلی حملوں میں اضافہ

  • کیوبا میں ایندھن کی بچت ایمرجنسی پلان نافذ

  • بھارت اور امریکہ کا عبوری تجارتی معاہدہ، ٹیرف میں کمی
اسلام آباد خودکش دھماکے میں مدد کا شبہ، چار افراد گرفتار سیکشن پر جائیں
7 فروری 2026

اسلام آباد خودکش دھماکے میں مدد کا شبہ، چار افراد گرفتار

حملے کے بعد کا منظر
اس حملے میں تیس سے زائد افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہوئے ہیںتصویر: Hussain Ali/ZUMA/picture alliance

پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہفتے کے روز بتایا کہ اسلام آباد میں گزشتہ روز ہوئے دہشت گردانہ حملے سے تعلق کے شبے میں چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اسلام آباد کے نواح میں ایک شیعہ مسجد ہوئے نماز جمعہ کے وقت ہوئے خود کش حملے میں تیس سے زائد افراد ہلاک اور ایک سو ساٹھ سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

محسن نقوی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ گرفتار ہونے والوں میں مبینہ ماسٹر مائنڈ بھی شامل ہے، جنہیں پشاور اور نوشہرہ میں چھاپوں کے دوران حراست میں لیا گیا، ’’تکنیکی اور انسانی انٹیلی جنس کی بنیاد پر خیبر پختونخوا کے اضلاع پشاور اور نوشہرہ میں مشترکہ چھاپے مارے گئے، جن کے نتیجے میں چار سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔‘‘ اس کے علاوہ کراچی سے خود کش بمبار کے بہنوئی کو بھی حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ہفتے کے روز دارالحکومت میں ہونے والے اس خودکش حملے کے متاثرین کی نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ 
دہشت گرد تنظیم داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔اس حملے کو سن 2008  میں میریٹ ہوٹل بم دھماکے کے بعد اسلام آباد کا سب سے خونریز واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
 

https://p.dw.com/p/58HT2
پیراملٹری فورسز کا ڈرون حملہ، 24 افراد ہلاک سیکشن پر جائیں
7 فروری 2026

پیراملٹری فورسز کا ڈرون حملہ، 24 افراد ہلاک

دارالحکومت خرطوم کا منظر
سوڈانی تنازعے کے نتیجے میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیںتصویر: Mudathir Hameed/dpa/picture alliance


وسطی سوڈان میں ہفتے کے روز نیم فوجی گروپ ریپڈ سپورٹ فورسز کے ایک ڈرون حملے میں بے گھر خاندانوں کو لے جانے والی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں آٹھ بچے بھی شامل تھے۔

سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک کے مطابق یہ حملہشمالی کردفان صوبے کے شہر رہاد کے قریب ہوا۔ متاثرہ گاڑی ان افراد کو لے جا رہی تھی جو دوبیکر کے علاقے میں جاری لڑائی سے جان بچا کر بھاگے تھے۔ کئی زخمیوں کو علاج کے لیے رہاد منتقل کیا گیا، جہاں پہلے ہی طبی سہولیات کی شدید کمی ہے۔

الفاشر پر آر ایس ایف کا قبضہ، سوڈان دو حصوں میں تقسیم

ڈاکٹروں کی تنظیم نے عالمی برادری اورانسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ ’’فوری کارروائی کریں تاکہ شہریوں کو تحفظ دیا جا سکے اور RSF کی قیادت کو ان خلاف ورزیوں پر براہِ راست جواب دہ ٹھہرایا جائے۔‘‘

ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ گروہ گزشتہ تقریباً تین برس سے سوڈانی فوج کے خلاف اقتدار کی جنگ میں مصروف ہے۔

https://p.dw.com/p/58HTU
سعودی عرب اور شام کے درمیان کئی تجارتی معاہدے سیکشن پر جائیں
7 فروری 2026

سعودی عرب اور شام کے درمیان کئی تجارتی معاہدے

شام میں لوگ جشن مناتے ہوئے
اس سے قبل امریکہ نے بھی شام پر عائد پابندیوں کے خاتمے کا اعلان کیا ہےتصویر: IMAGO/NurPhoto

ہفتے کے روز شام اور سعودی عرب کے درمیان کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے، جن میں ایک مشترکہ ایئرلائن اور ٹیلی کمیونی کیشن کے شعبے میں ایک ارب ڈالر کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدامات جنگ کے بعد شام کی تعمیرِ نو کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
دسمبر 2024 میں طویل عرصے سے برسراقتدار بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے اور اقتدار میں آنے والی عبوری شامی حکومت کی سعودی عرب ایک بڑا حمایتی رہا ہے۔

دمشق میں نئی قیادت سرمایہ کاری کے حصول کے لیے سرگرم ہے اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک اور مختلف کمپنیوں کے ساتھ بڑے معاہدے کر چکی ہے۔

سعودی عرب ابراہیمی معاہدے کا حصہ بننے کو تیار، مگر!

شامی سرمایہ کاری اتھارٹی کے سربراہ طلال الہلالی نے کئی معاہدوں کا اعلان کیا، جن میں ایک کم بجٹ شامی سعودی ایئرلائن بھی شامل ہے، جس کا مقصد علاقائی اور بین الاقوامی فضائی روابط کو مضبوط بنانا ہے۔

معاہدے کے تحت شمالی شہر حلب میں ایک نیا بین الاقوامی ہوائی اڈہ تعمیر کیا جائے گا جبکہ موجودہ ہوائی اڈے کو بھی ازسرِنو ترقی دی جائے گی۔

الہلالی نے ’’سلک لنک‘‘ نامی منصوبے کا بھی اعلان کیا، جس کے ذریعے شام کے ٹیلی کمیونی کیشن انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کو بہتر بنایا جائے گا۔

https://p.dw.com/p/58HT8
اسلام آباد خودکش حملہ، داعش کی ذیلی تنظیم نے ذمہ داری قبول کر لی سیکشن پر جائیں
7 فروری 2026

اسلام آباد خودکش حملہ، داعش کی ذیلی تنظیم نے ذمہ داری قبول کر لی

خودکش حملے کے بعد کا منظر
اس واقعے میں تیس سے زائد افراد ہلاک ہو گئےتصویر: Anjum Naveed/AP Photo/picture alliance

اسلامک اسٹیٹ کی پاکستان میں سرگرم ذیلی شاخ نے اسلام آباد کے مضافات میں واقع ایک شیعہ مسجد پر ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، جس میں کم از کم 36 افراد ہلاک اور 169 زخمی ہوئے۔ تنظیم کے مطابق حملہ آور نے مرکزی دروازے پر سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی اور اندرونی گیٹ تک پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

ہفتے کے روز ہلاک ہونے والے ان افراد کی نماز جنازہ سخت سکیورٹی میں ادا کی گئی، جس میں ہزاروں سوگوار شریک ہوئے۔ حکام کے مطابق حملہ آور پاکستانی شہری تھا، جو حال ہی میں افغانستان گیا تھا، جبکہ رات گئے چھاپوں میں اس کے قریبی رشتہ داروں سمیت کئی مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ 

یہ حملہ دو ہزار آٹھ میں میریٹ ہوٹل پر ہونے والے حملے کے بعد اسلام آباد کا سب سے خونریز واقعہ قرار دیا جا رہا ہے اور ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کو ملک بھر میں بڑھتی عسکریت پسندی کا سامنا ہے۔ میریٹ حملے میں کم از کم 63 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ افغانستان سے سرگرم شدت پسند اب دارالحکومت تک حملے کر رہے ہیں، جس پر افغان طالبان نے ردِعمل دیتے ہوئے الزام کو ’’غیر ذمہ دارانہ‘‘ قرار دیا۔

بلوچستان میں کئی مقامات پر عسکریت پسندوں کے حملے

امریکہ، روس، بھارت اور یورپی یونین نے اس دہشت گردانہ واقعے کی مذمت کی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے عالمی ہمدردی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

داعش ماضی میں بھی پاکستان کی شیعہ برادری کو نشانہ بناتی رہی ہے، جن میں 2022 میں پشاور کی ایک مسجد پر خودکش حملہ بھی شامل ہے۔ 
 

https://p.dw.com/p/58Gvt
روس کا یوکرین کے توانائی نظام پر بڑا حملہ سیکشن پر جائیں
7 فروری 2026

روس کا یوکرین کے توانائی نظام پر بڑا حملہ

یوکرینی بجلی گھر پر حملے کے بعد کا منظر
روس یوکرینی توانائی کے ڈھانچے پر حملہ آور ہےتصویر: Paula Bronstein/Getty Images

روس نے یوکرین کے توانائی نظام پر بڑے پیمانے پر نئے حملے کیے ہیں، جن میں پاور گرڈ، بجلی گھروں اور سب اسٹیشنز کو نشانہ بنایا گیا۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے مطابق رات بھر ہونے والے حملوں میں 400 سے زائد ڈرونز اور تقریباً 40 مختلف اقسام کے میزائل استعمال کیے گئے۔

زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ مغربی یوکرین کے علاقوں وولین، ایوانو فرانکیفسک، لویو اور ریونے میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ روس حقیقی سفارت کاری کا راستہ اختیار کر سکتا ہے، مگر وہ ہر روز نئے حملوں کا انتخاب کرتا ہے۔ انہوں نے امریکی ثالثی میں جاری مذاکرات کی حمایت کرنے والے ممالک سے اپیل کی کہ وہ ان تازہ حملوں پر ردِعمل دیں۔

تازہ روسی حملوں میں یوکرین کی توانائی کا سسٹم بری طرح متاثر

صدر زیلنسکی نے زور دیا کہماسکو کو سرد موسم کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے روکنا ہو گا اور اس مقصد کے لیے یوکرین کو فضائی دفاعی نظام کے لیے مزید میزائل درکار ہیں۔

ان حملوں کے بعد ہمسایہ ملک پولینڈ میں بھی لڑاکا طیارے فضا میں بلند کیے گئے۔ پولستانی فوج کے مطابق اس تناظر میں فورسز اور ضروری وسائل کو متحرک کر دیا گیا ہے جبکہ زمینی فضائی دفاع اور ریڈار نظام الرٹ پر رکھے گئے۔ یوکرین کے مغربی علاقوں میں ان حملوں کے بعد مشرقی پولینڈ کے شہروں ژیشوف اور لوبلن کے ہوائی اڈوں پر فضائی آمدورفت عارضی طور پر معطل کرنا پڑی۔

https://p.dw.com/p/58HFF
آئی سی سی کی پاک بھارت ٹی 20 ورلڈ کپ میچ بچانے کی کوششیں سیکشن پر جائیں
7 فروری 2026

آئی سی سی کی پاک بھارت ٹی 20 ورلڈ کپ میچ بچانے کی کوششیں

پاکستان کرکٹ ٹیم
پاکستان نے بھارت کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا ہےتصویر: Arif Ali/AFP

بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہے تاکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سلسلے میں پندرہ فروری کو کولمبو میں ہونے والے اہم میچ کو بچایا جا سکے۔ پاکستان بھارت کے خلاف یہ میچ کھیلنے سے انکار کر چکا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق آئی سی سی کی باضابطہ خط و کتابت کے بعد پی سی بی نے آئی سی سی سے رابطہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عالمی ادارہ ٹکراؤ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے۔

بھارت اور پاکستان کا مقابلہ کرکٹ کی دنیا کے سب سے منافع بخش میچز میں شمار ہوتا ہے، جس سے براڈکاسٹنگ، اسپانسرشپ اور اشتہارات کی مد میں کروڑوں ڈالر کمائے جاتے ہیں۔ تاہم یہ میچ اس وقت خطرے میں پڑ گیا جب پاکستان کی حکومت نے ٹیم کو کولمبو میں میچ کھیلنے سے روک دیا۔ 

یہ ٹورنامنٹ پہلے ہی سیاسی کشیدگی کی نذر ہو چکا ہے۔ سکیورٹی خدشات کے باعث بنگلہ دیش نے بھارت میں کھیلنے سے انکار کیا، جس کے بعد اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا گیا۔ اس فیصلے کے خلاف احتجاجاً پاکستان نے گروپ اے میں میزبان بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا۔

پاکستان میں چیمپیئنز ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ کا آغاز

پاکستان نے ٹورنامنٹ کے افتتاحی میچ میں نیدرلینڈز کو شکست دی ہے، مگر اگر بھارت کے خلاف میچ چھوڑ دیا گیا تو پاکستان کو دو قیمتی پوائنٹس سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ ساتھ ہی نیٹ رن ریٹ کو بھی بڑا نقصان پہنچے گا۔ دوسری جانب بھارتی کپتان سریا کمار یادو کہہ چکے ہیں کہ ان کی ٹیم میچ کے لیے کولمبو جانے کو تیار ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے دوطرفہ کرکٹ نہیں کھیل رہے اور دونوں ٹیمیں صرف عالمی یا علاقائی ٹورنامنٹس میں آمنے سامنے آتی ہیں، اسی لیے یہ میچ کھیل کے ساتھ ساتھ سیاسی اور معاشی لحاظ سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

https://p.dw.com/p/58HFA
امریکہ چاہتا ہے کہ جون تک یوکرین اور روس کی جنگ ختم ہو جائے، زیلنسکی سیکشن پر جائیں
7 فروری 2026

امریکہ چاہتا ہے کہ جون تک یوکرین اور روس کی جنگ ختم ہو جائے، زیلنسکی

زیلنسکی اسپین میں
زیلنسکی یورپی اتحادیوں سے مزید مدد کی درخواست کر رہے ہیںتصویر: picture alliance / PPE

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ امریکہ روس اور یوکرین پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ رواں برس جون تک جنگ ختم کر دیں۔ 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین اور روس کے درمیان گزشتہ چار برس سے جاری مسلح تنازعے کی خاتمے کی کوشش میں ہیں۔ زیلنسکی نے بتایا کہ امریکہ نے اگلے ہفتے فلوریڈا میں ممکنہ طور پر دونوں فریقین کے مابین مذاکرات کی میزبانی کرنے کی پیشکش کی ہے۔ 

امریکہ کی ثالثی میں یوکرینی جنگ کے خاتمے کے لیے حالیہ مہینوں میں کوششیں تیز ہوئی ہیں، جن کے تحت جنوری میں متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں مذاکرات کے دو دور ہو چکے ہیں، جن میں قیدیوں کے تبادلے میں تو پیش رفت ہوئی مگر جنگ کے خاتمے کے حوالے سے کوئی بڑی خبر  سامنے نہیں آئی۔

پوٹن، ٹرمپ اور زیلنسکی کی سہ فریقی ملاقات ہو سکے گی؟

روس اس وقت یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے اور مشرقی ڈونیٹسک ریجن پر مکمل کنٹرول کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ یوکرین کا مؤقف ہے کہ زمین چھوڑنے سے ماسکو کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ کییف نے موجودہ فرنٹ لائن پر جنگ کو فوری طور پر روکنے کی تجویز دی ہے، جسے روس نے مسترد کر دیا۔
 

https://p.dw.com/p/58H6R
میونخ سکیورٹی کانفرنس کے دوران بڑے پیمانے پر مظاہروں کی تیاری سیکشن پر جائیں
7 فروری 2026

میونخ سکیورٹی کانفرنس کے دوران بڑے پیمانے پر مظاہروں کی تیاری

بائریشر ہوف ہوٹل
اس کانفرنس کے موقع پر دنیا بھر سے اہم رہنما میونخ پہنچتے ہیںتصویر: Michael Bihlmayer/IMAGO

جرمن شہر میونخ میں آئندہ ہفتے ہونے والی میونخ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر دسیوں ہزار مظاہرین کے سڑکوں پر آنے کی توقع ہے۔ میونخ ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے مطابق اب تک مختلف احتجاجی سرگرمیوں کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار افراد نے شرکت کے لیے رجسٹریشن کروا رکھی ہے۔

آئندہ بدھ سے اتوار تک شہر بھر میں 21 احتجاجی تقاریب منعقد ہو رہی ہیں۔ حالیہ برسوں میں کانفرنس کے موقع پر مظاہروں میں نسبتاً کم لوگ شریک ہوتے رہے ہیں، مگر اس بار نمایاں طور پر زیادہ شرکت متوقع ہے۔

سب سے بڑا مظاہرہ چودہ فروری کو متوقع ہے، جہاں ایرانی حکومت کے مخالفین ریلی نکالیں گے۔ منتظمین کے مطابق اس احتجاج میں ایک لاکھ تک افراد شریک ہو سکتے ہیں۔ اسی دن شہر کے مرکز میں سکیورٹی کانفرنس کے خلاف ایک اور مظاہرہ ہوگا، جس میں تقریباً  چار ہزار افراد کی شرکت متوقع ہے۔

میونخ سکیورٹی کانفرنس کی تاریخ

اس کے علاوہ جنگ مخالف ریلیاں اور دیگر مظاہرے بھی منصوبہ بندی میں شامل ہیں، جن میں ہر ایک میں تقریباً تین ہزار افراد رجسٹرڈ ہیں، جبکہ ایک مظاہرہ “ویکسین کے آزادانہ انتخاب” کے مطالبے پر بھی ہو گا۔

میونخ سکیورٹی کانفرنس ہر سال فروری میں میونخ کے بائریشر ہوف ہوٹل میں منعقد ہوتی ہے، جہاں دنیا کے اہم ترین سکیورٹی مسائل پر گفتگو کی جاتی ہے۔ ناقدین اسے ’’عالمی عسکریت پسندوں کا اجتماع‘‘ قرار دیتے ہیں۔

یہ کانفرنس 13 سے 15 فروری تک جاری رہے گی اور منتظمین کے مطابق 65 عالمی رہنما اس کانفرنس میں شریک ہو رہے ہیں۔ مہمانوں میں کئی وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع بھی شامل ہوں گے۔ نمایاں شرکاء میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی اور جرمن چانسلر فریڈریش میرس شامل ہیں۔پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی بھی میونخ سیکورٹی کانفرنس میں شرکت متوقع ہے۔
 

https://p.dw.com/p/58H6D
ایران سے بالواسطہ مذاکرات، ٹرمپ کا ’’مثبت بات چیت‘‘کا دعویٰ سیکشن پر جائیں
7 فروری 2026

ایران سے بالواسطہ مذاکرات، ٹرمپ کا ’’مثبت بات چیت‘‘کا دعویٰ

جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف عمان میں
جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف عمانی وزیرخارجہ کے ہمراہتصویر: Oman Foreign Ministry/Anadolu Agency/IMAGO

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ عمانی دارالحکومت مسقط میں ایران کے ساتھ ہونے والی بالواسطہ بات چیت ’’کافی اچھی‘‘ رہی ہے اور اگلے ہفتے مذاکرات کا ایک اور دور ہو گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی گفتگو کے ماحول کو مثبت قرار دیتے ہوئے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کی تصدیق کی۔

یہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں، جن میں امریکی وفد کی قیادت مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی مندوب اسٹیو وٹکوف نے کی، جب کہ ان کے ہمراہ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی ٹیم میں شامل تھے۔ بات چیت کا مرکزی موضوع ایران کا جوہری پروگرام رہا۔ مغربی دنیا کا الزام ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی کوشش میں ہے، جب کہ تہران اپنے جوہری پروگرام کو سویلین مقاصد کے لیے قرار دیتا ہے۔

ایران پر حملہ امریکہ کے لیے کتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے؟

مذاکرات کے فوراً بعد واشنگٹن نے ایران کی تیل برآمدات روکنے کے لیے نئی پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک پر بھی ممکنہ ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ امریکہ نے اپنا طیارہ بردار بحری بیڑا ایران کے قریب پہنچا دیا ہے اور ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ’’نتائج بہت سخت ہوں گے۔‘‘

فرانس سمیت مغربی ممالک نے ایران سے ’’عدم استحکام پیدا کرنے‘‘ سے باز رہنے کا مطالبہ کیا، جبکہ تہران نے دباؤ اور دھمکیوں کے بغیر مذاکرات جاری رکھنے کی امید ظاہر کی۔
 

https://p.dw.com/p/58H4z
جنوبی لبنان میں امن دستوں پر اسرائیلی حملوں میں اضافہ سیکشن پر جائیں
7 فروری 2026

جنوبی لبنان میں امن دستوں پر اسرائیلی حملوں میں اضافہ

اقوام متحدہ کی امن فوج کے دستے
لبنان کے جنوبی حصے میں اقوام متحدہ کی امن فوج تعینات ہےتصویر: Rabih Daher/AFP

اقوام متحدہ ایک اندرونی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی لبنان میں عبوری فورس (UNIFIL) کے امن دستوں کو جنوبی لبنان میں گزشتہ ایک سال کے دوران اسرائیل کی جانب سے جارحانہ رویے میں غیر معمولی اضافے کا سامنا رہا ہے، جس میں ڈرون سے گرینیڈ پھینکنے اور مشین گن سے فائرنگ جیسے واقعات شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایسے واقعات کی تعداد گزشتہ برس جنوری میں صرف ایک سے بڑھ کر دسمبر میں 27 تک پہنچ گئی، جبکہ سال کے آخری مہینوں میں براہ راست فائرنگ کے واقعات میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا۔ امن دستوں کا الزام ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد امن مشن کو کمزور کرنا اور اقوامِ متحدہ کی ’’بلو لائن‘‘کے قریب اسرائیلی فوجی موجودگی کو مضبوط کرنا ہو سکتا ہے۔

بیروت میں حزب اللہ کے ہیڈکوارٹرز پر اسرائیلی حملے

اسرائیل نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ UNIFIL کے خلاف کوئی مہم نہیں چلا رہا۔ 
 

https://p.dw.com/p/58H2K
کیوبا میں ایندھن کی بچت ایمرجنسی پلان نافذ سیکشن پر جائیں
7 فروری 2026

کیوبا میں ایندھن کی بچت ایمرجنسی پلان نافذ

دارالحکومت ہوانا میں چند افراد روٹی کے ہمراہ
کیوبا کو ایندھن کے بحران کا سامنا ہےتصویر: Norlys Perez/REUTERS

کیوبا نے ایندھن کی شدید قلت کے پیشِ نظر ایمرجنسی اقدامات شروع کر دیے ہیں، جن میں عوامی ٹرانسپورٹ کی خدمات میں بڑی کمی، اسکولوں اور جامعات کے حوالے سے پابندیاں اور سیاحت کے محدود اختیارات شامل ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم بنیادی معاشی سرگرمیوں اور ضروری عوامی خدمات کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ 

امریکہ نے کیوبا کے خلاف ’انرجی بلاکیڈ‘ کا اعلان کیا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ وینزویلا کے سابق صدر مادورو کیوبا کے قریبی حلیف تھے، تاہم امریکہ کے ہاتھوں ان کی گرفتاری کے بعد وینزویلا سے کیوبا کے لیے ایندھن کی فراہمی رک گئی ہے۔ 

کیوبا کی حکومت نے ان امریکی پابندیوں کی وجہ سے بجلی کے نظام میں خرابی، خوراک و دواؤں کی کمی اور سیاحوں کی تعداد میں کمی جیسے چیلنجز بھی تسلیم کیے ہیں۔ کچھ علاقوں میں تعلیمی سرگرمیوں کو جزوی طور پر معطل کر دیا گیا ہے جبکہ عوام کو ایندھن کے شدید ہوتے ہوئے بحران کا سامنا ہے۔ 

https://p.dw.com/p/58Gvd
بھارت اور امریکہ کا عبوری تجارتی معاہدہ، ٹیرف میں کمی سیکشن پر جائیں
7 فروری 2026

بھارت اور امریکہ کا عبوری تجارتی معاہدہ، ٹیرف میں کمی

بھارتی اور امریکی وزیرخارجہ
دونوں ممالک کے درمیان ایک ڈیل پر اتفاق ہو گیا ہےتصویر: Kayla Bartkowski/Getty Images

بھارت اور امریکہ نے ایک عبوری تجارتی معاہدے کا فریم ورک جاری کیا ہے، جس کے تحت بھارتی مصنوعات پر امریکی ٹیرف 25 فیصد سے کم ہو کر 18 فیصد رہ جائے گا۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی کہ بھارت روسی تیل کی خریداری روکنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔

دونوں ممالک نے اس معاہدے کو ’’باہمی مفاد‘‘ میں قرار دیتے ہوئے ایک وسیع تر تجارتی ڈیل کی طرف بڑھنے کا عزم ظاہر کیا ہے، تاہم ایسی کسی ڈیل کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید مذاکرات درکار ہوں گے۔ معاہدے کے تحت بھارت امریکی صنعتی اشیاء اور کئی زرعی مصنوعات پر بھی ٹیرف کم یا ختم کرے گا، جبکہ بھارت پانچ برس میں 500 ارب ڈالر کی امریکی مصنوعات خریدنے کا عندیہ دے رہا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسےدوطرفہ تعلقات میں گہرائی کی علامت قرار دیا، مگر بھارتی اپوزیشن نے کہا ہے کہ یہ ڈیل امریکہ کے حق میں ہے اور زراعت جیسے حساس شعبوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

نایاب قیمتی دھاتوں کے مالک کون سے ملک ہیں؟

ادھر بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل کا کہنا ہے کہ معاہدہ اہم زرعی و ڈیری مصنوعات کا تحفظ کرتا ہے اور اس سے امریکی منڈی بھارتی برآمدکنندگان کے لیے مزید کھل جائے گی، جس سے لاکھوں نئی نوکریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

اسی دوران بھارت نے حال ہی میں یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ بھی کیا ہے، جبکہ عمان کے ساتھ اقتصادی شراکت داری اور نیوزی لینڈ کے ساتھ فری ٹریڈ ڈیل پر بات چیت مکمل کر لی گئی ہے۔
 

https://p.dw.com/p/58GvX
مزید پوسٹیں