1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتعالمی

اسرائیل کے تازہ حملے، ایران کی جوابی کارروائیاں جاری

امتیاز احمد اے پی، اے ایف پی، روئٹرز اور ڈی پی اے کے ساتھ
وقت اشاعت 3 مارچ 2026آخری اپ ڈیٹ 3 مارچ 2026

مشرق وسطیٰ میں جنگ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اسرائیل نے ایران اور لبنان پر ایک ساتھ نئے حملے کیے ہیں، جبکہ تہران اور اس کے اتحادیوں نے اسرائیل، خلیجی ریاستوں اور تیل و گیس کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

https://p.dw.com/p/59hdr
مشرق وسطیٰ میں جنگ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • ایران نے ’ریڈ لائنز‘ عبور کیں، اس وقت تہران سے کوئی رابطہ نہیں، قطر
  • امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملے فوراﹰ بند کریں، چین
  • سرحدی جھڑپیں، پاکستان کا 67 افغان سکیورٹی اہلکار ہلاک کرنے کا دعویٰ
  • ایران میں امریکی اسرائیلی حملوں میں 800 کے قریب ہلاکتیں، ریڈ کریسنٹ
  • اسپین نے امریکہ کو اپنے اڈے ایران کے خلاف استعمال کرنے سے روک دیا
  • ایران میں لڑکیوں کے اسکول پر حملہ جنگی جرم ہو سکتا ہے، اقوام متحدہ
  • ایران جنگ کے باعث یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ
  • ترکی کا ایران کے خلاف جنگ ختم کرانے کے لیے تمام فریقوں سے رابطہ
  • اسرائیل کا جنوبی لبنان میں بفر زون قائم کرنے کا اعلان، 59 دیہات خالی کرنے کا حکم
  • امریکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے موقف سے دستبردار
  • پاک افغان تنازعے میں کم از کم 42 افغان شہری ہلاک، اقوام متحدہ
  • عمان کی اہم تجارتی بندرگاہ پر ایران کا ڈرون حملہ
  • کابل میں تازہ دھماکے، پاک افغان سرحد پر لڑائی جاری
  • مشرق وسطیٰ سے امریکی سفارتی عملے کا انخلا، کویت میں سفارت خانہ بند
  • ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملہ
ایران نے ’ریڈ لائنز‘ عبور کیں، اس وقت تہران سے کوئی رابطہ نہیں، قطر سیکشن پر جائیں
3 مارچ 2026

ایران نے ’ریڈ لائنز‘ عبور کیں، اس وقت تہران سے کوئی رابطہ نہیں، قطر

قطری حکومت کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں اہداف پر ایرانی حملوں سے ’’ریڈ لائنز‘‘ عبور کر لی گئی ہیں
قطری حکومت کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں اہداف پر ایرانی حملوں سے ’’ریڈ لائنز‘‘ عبور کر لی گئی ہیںتصویر: Mahmud Hams/AFP

قطری حکومت کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں اہداف پر ایرانی حملوں سے ’’ریڈ لائنز‘‘ عبور کر لی گئی ہیں۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے منگل کے روز دوحہ میں کہا کہ اس وقت ایران سے کوئی رابطہ نہیں اور قطر اپنی سرزمین اور اپنے شہریوں کے تحفظ پر مکمل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

قطری حکومت کے مطابق ہفتے کے دن سے سے اب تک ایران 100 سے زائد بیلسٹک میزائل قطر کی طرف داغ چکا ہے، جن میں سے بیشتر حملوں کو ناکام بنا دیا گیا۔ اس کے علاوہ 39 ڈرون اور دو جنگی طیارے بھی مار گرائے گئے۔ دوحہ کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی حملوں کی زد میں آیا۔ قطر نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ صرف فوجی تنصیبات ہی نہیں بلکہ اہم شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ ہفتے سے اب تک امارات کی فضائی حدود میں 812 ڈرون داخل ہوئے، جن میں سے 755 کو مار گرایا گیا۔ اس کے علاوہ 186 بیلسٹک میزائل بھی امارات کی طرف داغے گئے۔ ان کا ملبہ گرنے سے تین افراد ہلاک اور 68 زخمی ہوئے۔
متحدہ عرب امارات کی وزیر مملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریم الہاشمی نے کہا کہ ان کا ملک ایک متوازن موقف پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم محاذ آرائی کے دائرے کو وسیع کرنے کے خواہاں نہیں۔‘‘ ان کے مطابق مذاکرات کی میز پر واپسی ہی واحد دانش مندانہ راستہ ہے۔

https://p.dw.com/p/59jwm
امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملے فوراﹰ بند کریں، چین سیکشن پر جائیں
3 مارچ 2026

امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملے فوراﹰ بند کریں، چین

چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے منگل کے روز اپنے اسرائیلی ہم منصب گیدون سعار سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے ایران کے خلاف جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا
چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے منگل کے روز اپنے اسرائیلی ہم منصب گیدون سعار سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے ایران کے خلاف جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیاتصویر: Kay Nietfeld/dpa/picture alliance

چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے منگل کے روز اپنے اسرائیلی ہم منصب گیدون سعار سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے ایران کے خلاف جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین ایران پر کیے جانے والے امریکی اسرائیلی فوجی حملوں کی شدید مخالفت کرتا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے مطابق وانگ ژی نے اسرائیلی وزیر خارجہ سے کہا، ’’طاقت کا استعمال مسائل کا حقیقی حل نہیں بلکہ یہ اکثر نئے مسائل پیدا کرتا اور سنگین طویل المدتی نتائج چھوڑتا ہے۔ فوجی طاقت کی اصل قدر و قیمت میدان جنگ میں نہیں بلکہ جنگ روکنے میں ہے۔‘‘

منگل کے دن یہ گفتگو پیر کو چینی وزیر خارجہ کی ایران، عمان اور فرانس کے وزرائے خارجہ سے علیحدہ علیحدہ بات چیت کے بعد ہوئی، جن میں ژی نے خلیجی ممالک پر زور دیا کہ وہ بیرونی مداخلت کی مخالفت کے لیے متحد ہوں۔ وانگ ژی نے اتوار کو روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف سے بھی ایران سے متعلق بحران پر بات چیت کی تھی۔

https://p.dw.com/p/59jv8
سرحدی جھڑپیں، پاکستان کا 67 افغان سکیورٹی اہلکار ہلاک کرنے کا دعویٰ سیکشن پر جائیں
3 مارچ 2026

سرحدی جھڑپیں، پاکستان کا 67 افغان سکیورٹی اہلکار ہلاک کرنے کا دعویٰ

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ منگل کو افغان افواج نے سرحد کے دو حصوں میں پاکستانی فوج پر حملے کیے
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ منگل کو افغان افواج نے سرحد کے دو حصوں میں پاکستانی فوج پر حملے کیےتصویر: Maaz Awan/AP Photo/dpa/picture alliance

 پاکستانی حکام کے مطابق منگل کی صبح افغان افواج نے سرحد کے ساتھ پاکستانی فوجی چوکیوں پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں 67 افغان فوجی اور ایک پاکستانی سپاہی مارے گئے۔ 

کابل میں طالبان کی وزارت دفاع نے پاکستان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ وزارت کے ترجمان نے کہا کہ افغان افواج نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں پاکستانی حملوں کو پسپا کرتے ہوئے ایک درجن کے قریب فوجی چوکیاں تباہ کیں اور چار پاکستانی فوجی ہلاک کیے۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ منگل کو افغان افواج نے سرحد کے دو حصوں میں پاکستانی فوج پر حملے کیے۔ جنوبی سرحد کے ساتھ بلوچستان کے اضلاع قلعہ سیف اللہ، نوشکی اور چمن میں 16 مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں پاکستانی فوج نے 27 افغان فوجیوں کو ہلاک کر کے متعدد حملوں کو کامیابی سے پسپا کر دیا۔
 تارڑ نے ایکس پر بتایا کہ شمالی سرحد کے ساتھ خیبر پختونخوا میں 25 مقامات پر حملوں کی ایک اور لہر میں پاکستانی افواج نے 40 افغان سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا۔ 
دوسری جانب کابل میں وزارت دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے اسلام آباد کے ان بیانات کو ’’بے بنیاد‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
پیر کو صدر آصف علی زرداری نے افغانستان کے ساتھ جاری لڑائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے افغان سرزمین سے کارروائیاں کرنے والے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے سے پہلے سفارت کاری کی تمام راہیں آزمائی تھیں۔ انہوں نے کابل سے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں حملوں کے ذمہ دار گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے۔
 

https://p.dw.com/p/59jan
ایران میں امریکی اسرائیلی حملوں میں 800 کے قریب ہلاکتیں، ریڈ کریسنٹ سیکشن پر جائیں
3 مارچ 2026

ایران میں امریکی اسرائیلی حملوں میں 800 کے قریب ہلاکتیں، ریڈ کریسنٹ

اس امدادی تنظیم نے ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ ان فضائی حملوں میں ایران بھر کے 153 شہروں کو نشانہ بنایا گیا
اس امدادی تنظیم نے ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ ان فضائی حملوں میں ایران بھر کے 153 شہروں کو نشانہ بنایا گیاتصویر: Vahid Salemi/AP Photo/picture alliance

ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے منگل کے روز بتایا کہ امریکی اسرائیلی فضائی حملے شروع ہونے کے بعد سے اب تک ایران میں کم از کم 787 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس امدادی تنظیم نے ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ ان فضائی حملوں میں ایران بھر کے 153 شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ تنظیم نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ کئی متاثرہ مقامات پر تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں۔

ناروے میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاو کے مطابق تازہ ترین کشیدگی شروع ہونے کے بعد چار دنوں میں 1500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک شدگان میں سے تقریباً 1300 مسلح افواج کے ارکان تھے جبکہ تقریباً 200 عام شہری۔

اسرائیلی انٹیلیجنس کے حوالے سے اسرائیل ہی کے ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق ان مشترکہ امریکی اسرائیلی فضائی حملوں میں گزشتہ ہفتے کی صبح سے اب تک ایرانی پاسداران انقلاب فورس کے 1000 سے زائد ارکان ہلاک ہو چکے ہیں۔

https://p.dw.com/p/59jJJ
اسپین نے امریکہ کو اپنے اڈے ایران کے خلاف استعمال کرنے سے روک دیا سیکشن پر جائیں
3 مارچ 2026

اسپین نے امریکہ کو اپنے اڈے ایران کے خلاف استعمال کرنے سے روک دیا

 فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق جنوبی اسپین کے روٹا اور مورون فوجی اڈوں سے 15 امریکی طیارے روانہ ہو گئے
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق جنوبی اسپین کے روٹا اور مورون فوجی اڈوں سے 15 امریکی طیارے روانہ ہو گئےتصویر: Master Sgt. Nicholas Priest/U.S. Air Force/UPI Photo/Newscom/picture alliance

یورپی ملک اسپین نے امریکہ کو ایران کے خلاف اپنے ملکی اڈے استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق جنوبی اسپین کے روٹا اور مورون فوجی اڈوں سے 15 امریکی طیارے روانہ ہو گئے۔ ان میں سے کم از کم سات طیارے جرمنی میں رامشٹائن ایئر بیس پر اترے۔
یہ ٹینکر طیارے تھے، جو ایران پر حملہ کرنے والے امریکی اسٹریٹیجک بمبار طیاروں کو فضا میں ہی ایندھن فراہم کرتے ہیں۔

اسپین کے وزیر خارجہ خوزے مانوئل الباریز نے روٹا اور مورون ایئر بیسز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’ہسپانوی حکومت ان اڈوں کو معاہدے سے ہٹ کر یا اقوام متحدہ کے اصولوں سے متصادم کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔‘‘

وزیر دفاع مارگریٹا روبلز نے کہا کہ یہ اڈے ’’کوئی معاونت فراہم نہیں کریں گے، سوائے اس کے کہ کسی صورت میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ضرورت پڑ جائے۔‘‘
ملک کے سوشلسٹ وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ’’ایک ناجائز اور خطرناک فوجی مداخلت قرار دیا، جو بین الاقوامی قانون سے متصادم ہے۔‘‘

https://p.dw.com/p/59jID
ایران میں لڑکیوں کے اسکول پر حملہ جنگی جرم ہو سکتا ہے، اقوام متحدہ سیکشن پر جائیں
3 مارچ 2026

ایران میں لڑکیوں کے اسکول پر حملہ جنگی جرم ہو سکتا ہے، اقوام متحدہ

ایرانی حکام کے مطابق ہفتے کی صبح ایک پرائمری اسکول پر اس حملے میں سات سے 12 سال تک کی عمر کی کم از کم 168 طالبات، 26 اساتذہ اور چار والدین ہلاک ہوئے تھے
ایرانی حکام کے مطابق ہفتے کی صبح ایک پرائمری اسکول پر اس حملے میں سات سے 12 سال تک کی عمر کی کم از کم 168 طالبات، 26 اساتذہ اور چار والدین ہلاک ہوئے تھےتصویر: IRIB TV/AFP

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے ایران میں لڑکیوں کے ایک پرائمری اسکول پر حملے کی اطلاعات کے بعد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ واقعہ جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ اس حملے میں تقریباً 200 افراد ہلاک ہوئے، جن میں بہت بڑی اکثریت کم عمر طالبات کی تھی۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک نے جنیوا سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا، ’’اس حملے کو کرنے والی افواج کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحقیقات کریں۔ ہم ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تحقیقات کے نتائج عام کیے جائیں اور متاثرین کو انصاف اور ازالہ دونوں فراہم کیے جائیں۔‘‘

ایرانی حکام کے مطابق ہفتے کی صبح ایک پرائمری اسکول پر اس حملے میں سات سے 12 سال تک کی عمر کی کم از کم 168 طالبات، 26 اساتذہ اور چار والدین ہلاک ہوئے تھے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل کے روز صوبے ہرمزگان کے شہر میناب میں ہزاروں افراد نے اس حملے میں مارے جانے والوں کی اجتماعی نماز جنازہ میں شرکت کی۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کی ترجمان راوینا شمدسانی نے جنیوا میں ایک پریس بریفنگ میں کہا، ’’یہ انتہائی ہولناک واقعہ ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اس تنازعے کی تباہی، مایوسی، بے مقصدیت اور سفاکیت کی حقیقی عکاسی کرتی ہیں۔‘‘

https://p.dw.com/p/59jDq
ایران جنگ کے باعث یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ سیکشن پر جائیں
3 مارچ 2026

ایران جنگ کے باعث یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہیں ڈر ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث ان کے ملک کو درکار ہتھیاروں کی فراہمی میں تاخیر ہو سکتی ہے
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہیں ڈر ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث ان کے ملک کو درکار ہتھیاروں کی فراہمی میں تاخیر ہو سکتی ہےتصویر: U.S. Army/ABACAPRESS/picture alliance

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہیں ڈر ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث ان کے ملک کو درکار ہتھیاروں کی فراہمی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

زیلنسکی نے منگل کے روز دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا، ’’ہمارے فضائی دفاع کے لیے میزائل اور ہتھیار حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ امریکہ اور مشرق وسطیٰ میں اس کے اتحادیوں کو دفاع کے لیے انہی ہتھیاروں کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جیسے کہ پیٹریاٹ میزائل۔‘‘
یوکرینی صدر نے گزشتہ سال جون میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے دوران ہونے والے اس تجربے کا حوالہ دیا، جب کییف کو میزائلوں کی ترسیل سست پڑ گئی تھی۔ انہوں نے کہا، ’’ابھی ایسا نہیں ہوا لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ دوبارہ ہو سکتا ہے۔‘‘
انہوں نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی کیونکہ ایران روس کے حامیوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں ایرانی فوجی ٹھکانوں پر حملہ ایک درست فیصلہ ہے۔ ایرانی روس کے لیے بڑی مقدار میں ہتھیار تیار کرتے ہیں، خاص طور پر ڈرون اور میزائل۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اب شاید ایران یہ کام جاری نہیں رکھ سکے گا۔
صدر زیلنسکی نے کہا، ’’مجھے امید ہے کہ ایران سے متعلق بحران ایک محدود آپریشن تک ہی رہے گا۔ ہم اپنے تجربے سے جانتے ہیں کہ اس طرح کی صورتحال کتنی خونریز ہو سکتی ہے۔‘‘
 

https://p.dw.com/p/59imo
ترکی کا ایران کے خلاف جنگ ختم کرانے کے لیے تمام فریقوں سے رابطہ سیکشن پر جائیں
3 مارچ 2026

ترکی کا ایران کے خلاف جنگ ختم کرانے کے لیے تمام فریقوں سے رابطہ

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ انقرہ حکومت ایران کے خلاف جنگ ختم کرانے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے تمام فریقوں سے رابطے میں ہے
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ انقرہ حکومت ایران کے خلاف جنگ ختم کرانے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے تمام فریقوں سے رابطے میں ہےتصویر: Turkish Foreign Ministry/Handout via REUTERS

ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ انقرہ حکومت ایران کے خلاف جنگ ختم کرانے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے تمام فریقوں سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ترکی اس سلسلے میں عمان سے بھی بات چیت کر رہا ہے کیونکہ یہ خلیجی ریاست بھی اسی مقصد کے تحت کوشاں ہے۔

امریکہ اور اسرائیل نے گزشتہ ہفتے کے روز ایران پر فضائی حملے شروع کر دیے تھے۔ یہ جنگ تیزی سے پھیلی اور تہران نے ان خلیجی ریاستوں کو بھی نشانہ بنایا، جہاں امریکی اڈے ہیں، جبکہ اسرائیل نے لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بھی حملے کیے۔
نیٹو کے رکن ملک ترکی نے خبردار کیا تھا کہ خطہ مزید عدم استحکام کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔
ہاکان فیدان نے منگل کے روز ترک صحافیوں کے ساتھ  گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ خطے میں امن کے حصول کے لیے اپنے تمام ہم منصب رہنماؤں کے ساتھ ’’حساسیت کے ساتھ ضروری اقدامات کر رہے ہیں‘‘ اور ترکی کی سوچ یہ ہے کہ ایران اور خطے کے استحکام کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

منگل کو جاری کیے گئے اپنے بیان میں فیدان نے کہا، ’’یہ یک سطحی مذاکرات نہیں، بلکہ کثیر سطحی مذاکرات ہیں۔ ہم چند دنوں سے یورپی رہنماؤں سے بھی بات کر رہے ہیں کہ اگر وہ بھی امن چاہتے ہیں، تو ساتھ مل کر کام کریں۔ ہم ان کی طرف سے عملی اقدامات پر زور دے رہے ہیں۔ خلیجی ممالک اب ایک سنگین صورتحال سے دوچار ہیں۔‘‘

فیدان نے کہا، ’’ہم عمانی وزیر خارجہ سے رابطے میں ہیں، عمان بھی کچھ کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہم امریکیوں سے بھی بات کر رہے ہیں۔‘‘
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف اپنے اب تک کے سب سے سخت موقف میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے منگل کے روز کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون کی ’’واضح خلاف ورزی‘‘ ہیں۔

https://p.dw.com/p/59ieP
اسرائیل کا جنوبی لبنان میں بفر زون قائم کرنے کا اعلان، 59 دیہات خالی کرنے کا حکم سیکشن پر جائیں
3 مارچ 2026

اسرائیل کا جنوبی لبنان میں بفر زون قائم کرنے کا اعلان، 59 دیہات خالی کرنے کا حکم

اسرائیلی افواج نے منگل کے روز جنوبی لبنان میں زمینی پیش قدمی کرتے ہوئے ایک بفر زون قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔ دریں اثنا 59 دیہات کے باشندوں کو فوری انخلا کی وارننگ جاری کر دی گئی اور لڑائی شروع ہونے کے بعد سے 30 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
لبنانی فوج کے ایک ذریعے نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیلی زمینی افواج نے لبنانی اسرائیلی سرحد کے ساتھ کفرکلا اور خیام کے میدانی علاقوں سے پیش قدمی کی ہے۔ یہ کارروائی اسرائیلی وزیر دفاع کی اس ہدایت کے فوری بعد شروع ہوئی، جس میں انہوں نے اسرائیلی افواج کو لبنان میں ’’مزید اہم اسٹریٹیجک مقامات پر قبضہ کرنے‘‘ کا حکم دیا تھا۔
اسرائیلی فوجی ترجمان ایفی ڈیفرن نے ٹیلی وژن پر ایک بیان دیتے ہوئے کہا، ’’شمالی کمان نے آگے بڑھ کر بلند و بالا علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور جیسا کہ ہم نے وعدہ کیا تھا، ہم اسرائیلی شہریوں اور ہر خطرے کے درمیان ایک بفر زون تشکیل دے رہے ہیں۔‘‘

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے 59 دیہات اور قصبوں کے مکینوں کو فوری طور پر اپنے گھر چھوڑ دینے کا حکم دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے مطابق پیر کے روز اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی شروع ہونے کے بعد سے کم از کم 30 ہزار بے گھر افراد لبنان میں مختلف پناہ گاہوں میں پہنچ چکے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے، جب اسرائیل بیک وقت ایران اور لبنان دونوں محاذوں پر اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

https://p.dw.com/p/59iHn
امریکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے موقف سے دستبردار سیکشن پر جائیں
3 مارچ 2026

امریکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے موقف سے دستبردار

USA Washington D.C. 2025 | Bilaterales Treffen zwischen Donald Trump und Mohammed bin Salman im Weißen Haus
تصویر: Daniel Torok/Avalon/Photoshot/picture alliance

امریکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے موقف سے اب دستبردار ہوتا نظر آ رہا ہے، جبکہ اسرائیل اور امریکہ اس جنگ کے اہداف اور ممکنہ انجام کے بارے میں متضاد بیانات دے رہے ہیں۔
امریکہ کے کئی اعلیٰ حکام نے اب واضح کیا ہے کہ اس تنازعے میں تہران میں حکومت کی تبدیلی ان کا مقصد نہیں۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس نے زور دے کر کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنا ہی بنیادی ہدف ہے۔
فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے وینس نے کہا کہ ایک ’’مثالی دنیا‘‘ میں تہران میں ایسی قیادت ہوتی، جو واشنگٹن کے ساتھ براہ راست بات چیت پر آمادہ ہو لیکن ٹرمپ کا اصل مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایرانی حکومت جوہری بم نہ بنا سکے۔
انہوں نے مزید کہا، ’’ظاہر ہے کہ صدر اور میں چاہیں گے کہ ایران میں ایک دوستانہ حکومت ہو لیکن بنیادی طور پر جب تک ہم صدر کے اس مقصد کو حاصل کر لیں کہ ایران بم نہ بنا سکے، میرے خیال میں صدر ٹرمپ اس نتیجے سے مطمئن ہوں گے۔‘‘
ایک ویڈیو پیغام میں صدر ٹرمپ نے ایرانی عوام سے مطالبہ کیا کہ امریکی اور اسرائیلی حملے ختم ہونے کے بعد وہ اپنے ملک میں حکومت خود سنبھالیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حملوں کی شدت اور کسی واضح  ’ایگزٹ پلان‘ کی غیر موجودگی نے اس تنازعے کو ممکنہ طویل المدتی جنگ کی طرف دھکیل دیا ہے۔

https://p.dw.com/p/59i6r
پاک افغان تنازعے میں کم از کم 42 افغان شہری ہلاک، اقوام متحدہ سیکشن پر جائیں
3 مارچ 2026

پاک افغان تنازعے میں کم از کم 42 افغان شہری ہلاک، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے دونوں ممالک سے لڑائی بند کرنے اور باہمی مسائل مذاکرات سے حل کرنے کی اپیل کی ہے
اقوام متحدہ نے دونوں ممالک سے لڑائی بند کرنے اور باہمی مسائل مذاکرات سے حل کرنے کی اپیل کی ہےتصویر: Wahidullah Kakar/AP Photo/dpa/picture alliance

اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یوناما) نے منگل کے روز بتایا کہ 26 فروری سے دو مارچ کے درمیان پاکستان کے ساتھ لڑائی میں افغانستان میں کم از کم 42 شہری ہلاک اور 104 زخمی ہوئے۔ یہ فوجی تنازع اپنے چھٹے روز میں داخل ہو چکا ہے۔
یوناما نے کہا کہ شہری نقصانات میں وہ افراد بھی شامل ہیں، جو ’’سرحدی جھڑپوں میں بالواسطہ فائرنگ اور فضائی حملوں‘‘ سے ہلاک یا زخمی ہوئے۔ اس ادارے نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ اعداد و شمار ابتدائی نوعیت کے ہیں۔ اقوام متحدہ نے دونوں ممالک سے لڑائی بند کرنے اور باہمی مسائل مذاکرات سے حل کرنے کی اپیل کی ہے۔
افغانستان کا الزام ہے کہ پاکستانی افواج نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا، جسے اسلام آباد مسترد کرتا ہے۔
 

https://p.dw.com/p/59i5s
عمان کی اہم تجارتی بندرگاہ پر ایران کا ڈرون حملہ سیکشن پر جائیں
3 مارچ 2026

عمان کی اہم تجارتی بندرگاہ پر ایران کا ڈرون حملہ

 عمان کی بندرگاہ دقم میں ایک ایندھن ذخیرہ کرنے والے ٹینک کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا
عمان کی بندرگاہ دقم میں ایک ایندھن ذخیرہ کرنے والے ٹینک کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیاتصویر: Middle East Images/picture alliance

 عمان کے سرکاری خبر رساں ادارے نے منگل کے روز بتایا کہ عمان کی بندرگاہ دقم میں ایندھن ذخیرہ کرنے والے ایک ٹینک کو ایک ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ ایجنسی کے مطابق اس تجارتی بندرگاہ کے متعدد ٹینکوں کو کئی ڈرونز نے نشانہ بنایا، تاہم نقصان محدود رہا اور کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔
عمان نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور اس واقعے سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دقم پورٹ کو اس سے قبل اتوار کے روز بھی ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ عمان نے حال ہی میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان گزشتہ ہفتے ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کیا تھا۔
اسرائیل اور امریکہ نے ہفتے کے روز ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے تھے، جن کے ردعمل میں تہران نے پورے مشرق وسطیٰ میں جوابی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

https://p.dw.com/p/59i4I
کابل میں تازہ دھماکے، پاک افغان سرحد پر لڑائی جاری سیکشن پر جائیں
3 مارچ 2026

کابل میں تازہ دھماکے، پاک افغان سرحد پر لڑائی جاری

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے منگل کے روز کابل میں متعدد دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنیں
نیوز ایجنسی اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے منگل کے روز کابل میں متعدد دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنیںتصویر: AFP

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے منگل کے روز کابل میں متعدد دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنیں، جبکہ افغان اور پاکستانی فوجیں سرحد پر لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ افغان وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ پاکستانی افواج کے خلاف ’’لڑائی ابھی تک جاری ہے۔‘‘
کابل میں متعدد دھماکوں اور شہر کے مختلف حصوں سے فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ اے ایف پی کے نامہ نگار نے جلال آباد شہر میں، جو کابل اور پاک افغان سرحد کے تقریباﹰ درمیان میں واقع ہے، دھماکوں اور مختلف ہتھیاروں کے چلنے کی آوازیں سنیں۔
جلال آباد سے تقریباً 50 کلومیٹر دور قریبی سرحدی گزرگاہ طورخم کے مکینوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ کئی روز سے جاری لڑائی ابھی تک رکی نہیں۔
یہ سرحدی لڑائی افغانستان کے کئی صوبوں تک پھیل گئی ہے۔ افغان وزارت دفاع کے مطابق تازہ ترین جھڑپیں جنوبی صوبے قندھار میں ہو رہی ہیں، جبکہ صوبائی محکمہ اطلاعات کے مطابق ہمسایہ صوبے زابل میں بھی لڑائی جاری ہے۔ پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے منگل کو بتایا کہ پاکستانی افواج نے ایک کامیاب فضائی آپریشن میں افغانستان کے صوبے ننگرہار میں ایک فوجی مرکز تباہ کر دیا۔
حالیہ دنوں کی یہ کشیدگی اکتوبر کی لڑائی کے بعد سے بدترین ہے، جس میں دونوں طرف سے 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان زمینی سرحدیں بڑی حد تک بند ہیں۔
 

https://p.dw.com/p/59i3O
مشرق وسطیٰ سے امریکی سفارتی عملے کا انخلا، کویت میں سفارت خانہ بند سیکشن پر جائیں
3 مارچ 2026

مشرق وسطیٰ سے امریکی سفارتی عملے کا انخلا، کویت میں سفارت خانہ بند

امریکہ نے عراق، بحرین اور اردن سے اپنے غیر ہنگامی سفارتی عملے کو نکال لیا ہے اور کویت میں سفارت خانہ ’غیر معینہ مدت‘ کے لیے بند کر دیا گیا ہے
امریکہ نے عراق، بحرین اور اردن سے اپنے غیر ہنگامی سفارتی عملے کو نکال لیا ہے اور کویت میں سفارت خانہ ’غیر معینہ مدت‘ کے لیے بند کر دیا گیا ہےتصویر: AFP/Getty Images

امریکہ نے عراق، بحرین اور اردن سے اپنے غیر ہنگامی سفارتی عملے کو نکال لیا ہے اور کویت میں سفارت خانہ ’غیر معینہ مدت‘ کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملے کے بعد، جس میں حکام کے مطابق ’’معمولی نقصان‘‘ ہوا، عراق، بحرین اور اردن میں قائم امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں سے عملے کے تمام غیر ضروری ارکان اور ان کے اہل خانہ کو نکال لیا جائے گا۔
بعد ازاں حکام نے قطر کو بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا، جہاں سے سفارتی عملے کو نکالا جا رہا ہے۔
یہ اقدام اس واقعے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے، جس میں کویت میں امریکی سفارت خانہ بھی حملے کا نشانہ بنا تھا۔
حکام کے مطابق منگل کے روز ’’علاقائی کشیدگی‘‘ کے باعث یہ سفارت خانہ غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا۔
واشنگٹن میں محکمہ خارجہ نے امریکی شہریوں کو یہ انتباہ بھی جاری کیا ہے کہ وہ ایران اور مشرق وسطیٰ کے کئی دیگر ممالک، بشمول اسرائیل، مصر اور لبنان، کو فوری طور پر چھوڑ دیں۔

https://p.dw.com/p/59hlS
ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملہ سیکشن پر جائیں
3 مارچ 2026

ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملہ

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیںتصویر: Natalia Milko/Pond5 Images/IMAGO

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اسی دوران اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملوں کی تصدیق کر دی ہے۔ 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ریاض میں سفارت خانے پر حملے اور ایران کی جانب سے چھ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکہ جلد جواب دے گا۔
امریکی نشریاتی ادارے نیوز نیشن سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کس طرح کارروائی کرے گا، اس بارے میں وہ ابھی ’’تفصیل نہیں بتانا چاہتے،‘‘ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا، ’’آپ کو جلد پتا چل جائے گا۔‘‘
مختلف خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ایران میں (امریکہ کی) ’’زمینی فوج اتارنے کی ضرورت پڑے گی۔‘‘

دریں اثنا سعودی وزارت دفاع نے منگل تین مارچ کی صبح ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں بتایا کہ ریاض میں امریکی سفارت خانے کو دو ڈرونز نے نشانہ بنایا۔

حملے کے نتیجے میں سفارت خانے کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی اور عمارت کو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔ مقامی شہریوں نے زور دار دھماکے اور فضا میں ہلکے دھوئیں کی اطلاع دی۔

امریکی سفارت خانے نے ریاض، جدہ اور مشرقی شہر ظہران میں امریکی باشندوں کے لیے Shelter in Place ہدایت نامہ جاری کیا ہے، جس میں انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ وہ سفارت خانے کے قریب نہ جائیں۔

کویت میں بھی امریکی سفارت خانے پر مبینہ حملے کی خبر ہے۔ اطلاعات کے مطابق کویت میں امریکی سفارت خانے پر بھی حملہ ہوا، جس کے بعد عمارت کے اوپر سیاہ دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔
سفارت خانہ بند کر دیا گیا ہے اور واشنگٹن میں محکمہ خارجہ نے کویت میں امریکی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دوحہ میں اس سفارت خانے کا رخ نہ کریں۔

مشرق وسطیٰ میں صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ادارت: جاوید اختر/ مقبول ملک

https://p.dw.com/p/59hfq
مزید پوسٹیں
DW Mitarbeiterportrait | Imtiaz Ahmad
امتیاز احمد ڈی ڈبلیو اکیڈمی سے جرنلزم کی عملی تربیت حاصل کی اور بطور ملٹی میڈیا ایڈیٹر کام کر رہے ہیں۔