آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات، بڑی عوامی تقریبات
وقت اشاعت 4 جولائی 2026آخری اپ ڈیٹ 4 جولائی 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج
- مالی میں باغیوں کے نئے حملے، شمالی علاقوں میں جھڑپوں اور دھماکوں کی اطلاعات
- آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات، بڑی عوامی تقریبات
- پوپ لیو کا اٹلی کے جزیرے لامپے ڈوسا کا دورہ، تارکین وطن کے خاندان سے ملاقات
- روسی توانائی کی تنصیبات پر مزید یوکرینی حملے
جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج
مشرقی جرمن شہر ایرفرٹ میں ہفتے کے روز ہزاروں مظاہرین نے انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹو فار ڈوئچ لینڈ (اے ایف ڈی)کے سالانہ اجلاس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اہم شاہراہیں بند کر دیں اور عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام بھی متاثر کیا۔ پولیس کے مطابق تقریباً 20 ہزار افراد ریاست تھورنگیا کے دارالحکومت ایرفرٹ میں جمع ہوئے تاکہ اس جماعت کے خلاف احتجاج کر سکیں، جو اس وقت قومی سطح کے عوامی جائزوں میں سرفہرست ہے۔
ریزیسٹنس یا مزاحمت نامی اتحاد کی قیادت میں مظاہرین نے شہر میں داخل ہونے والے راستے بند کر دیے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مختلف گروپوں نے شہر کے مرکز میں دھرنے بھی دیے۔
تاہم اے ایف ڈی کے زیادہ تر مندوبین کانفرنس سینٹر تک پہنچنے میں کامیاب رہے اور اجلاس مقررہ وقت پر شروع ہو گیا۔
حکام کے مطابق ابتدائی احتجاج زیادہ تر پرامن رہا تاہم مظاہرین اور اجلاس کی سکیورٹی پر مامور ہزاروں پولیس اہلکاروں کے درمیان معمولی جھڑپیں بھی ہوئیں۔
جرمن ہفت روزہ ڈیئر اشپیگل نے پولیس کی داخلی دستاویزات کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ حکام کو توقع تھی کہ تقریباً 2,500 مظاہرین تشدد کی تیاری کے ساتھ احتجاج میں شریک ہوں گے۔
جرمنی میں اے ایف ڈی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت نے بہت سے لوگوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ نازی ماضی کے باعث بہت سے جرمن شہری انتہا پسند دائیں بازو کی سیاست کے خلاف کھڑا ہونا اپنی تاریخی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ اے ایف ڈی نے جان بوجھ کر اپنا اجلاس اس دن ایرفرٹ میں منعقد کیا جب قریبی شہر وائمار میں نازی دور کی ایک تاریخی کانفرنس کی سوویں برسی تھی تاہم اے ایف ڈی اس الزام کی تردید کرتی ہے۔
دوسری جانب اے ایف ڈی کے شریک سربراہ ٹینو کروپالا نے مظاہرین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں ملک بھر سے حکمران جماعتوں نے ٹرکوں میں بھر کر یہاں لایا ہے۔
انہوں نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ یہ لوگ جمہوری فیصلہ سازی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ صرف وہی جمہوریت کے حقیقی نمائندے ہیں۔
جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے اے ایف ڈی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو روکنا اپنی حکومت کا ایک اہم مقصد قرار دے رکھا ہے۔ اب تک جرمنی کی تمام بڑی جماعتیں اے ایف ڈی کے ساتھ اتحاد یا تعاون سے انکار کرتی آئی ہیں، جس کے باعث وہ اقتدار سے باہر رہی ہے۔
مالی میں باغیوں کے نئے حملے، شمالی علاقوں میں جھڑپوں اور دھماکوں کی اطلاعات
مالی میں طوارق قبیلے کی قیادت میں ایک باغی گروپ نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ملک کے شمالی علاقے کے ایک ایسے قصبے پر حملہ کیا ہے، جہاں حکومتی فوج اور روسی نیم فوجی دستے تعینات ہیں۔ ادھر شمالی اور وسطی مالی کے دو دیگر علاقوں کے رہائشیوں نے بھی فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔
یہ حملہ اس مغربی افریقی ملک کی فوجی حکومت کے لیے ایک نئے سکیورٹی چیلنج کے طور پر سامنے آیا ہے۔ رواں سال اپریل میں بھی باغیوں نے بڑے حملے کیے تھے، جن میں دارالحکومت باماکو کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ملکی وزیرِ دفاع بھی ہلاک ہوگئے تھے اور شمالی علاقوں میں فوج کے متعدد اڈوں پر قبضہ کر لیا گیا تھا۔
آزواد لبریشن فرنٹ (FLA) کے ترجمان محمد المولود رمضان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ تنظیم کے جنگجوؤں نے ہفتے کی صبح سویرے شمال مشرقی کیدال ریجن کے قصبے انیفس پر حملہ کیا۔
حکومتی فوج اور روسی دستے اپریل کے حملوں کے بعد انیفس میں تعینات کیے گئے تھے، جب آزواد لبریشن فرنٹ اور القاعدہ سے منسلک ایک علاقائی گروپ نے کیدال شہر کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔
دریں اثنا وسطی مالی کے شہر گاؤ میں ایک مقامی عہدیدار نے بتایا کہ ہفتے کی صبح ایک فوجی چھاؤنی پر فائرنگ اور راکٹ حملے کیے جا رہے تھے۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان حملوں کے پیچھے کون سا مسلح گروپ تھا۔
مالی کے حکومتی ترجمان کی جانب سے ان حملوں پر کوئی فوری تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات، بڑی عوامی تقریبات
ایران کے دارالحکومت تہران میں سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے ہمراہ مارے جانے والے ان کے اہل خانہ کے سوگ میں قومی سطح پر تقریبات آج بروز ہفتہ دوسرے روز بھی جاری ہیں۔ علی خامنہ ای کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کے پہلے روز ایک فضائی حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔
اس سلسلے میں ہفتے کو صبح سویرے سے ہی بڑی تعداد میں لوگ دارالحکومت تہران میں گرینڈ مصلیٰ مسجد میں پہنچنا شروع ہوئے، یہ وہ جگہ ہے، جہاں آیت اللہ خامنہ ای اور حملے میں مارے گئے ان کے اہل خانے کے تابوت عوامی دیدار کے لیے رکھے گئے ہیں۔ سرکاری ٹیلی ویژن پر اس تقریب کی براہ راست کوریج بھی کی جا رہی ہے۔
تہران میں یہ سوگواری تقریبات تین روز تک جاری رہیں گی۔ اس کے بعد خامنہ ای کی میت کو قم اور پھر عراق لے جایا جائے گا۔ اس کے بعد آئندہ جمعرات کو انہیں ان کے آبائی شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
آیت اللہ خامنہ ای 86 برس کی عمر میں 28 فروری کو تہران میں ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ ان کی ہلاکت کے بعد ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کئی ہفتوں تک شدید لڑائی جاری رہی، جس میں ایرانی حمایت یافتہ لبنانی تنظیم حزب اللہ سمیت خطے میں موجود دیگر مسلح گروہ بھی شریک ہوئے۔ بعد ازاں اپریل کے آغاز
میں امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔
سپریم لیڈر کی حیثیت سے آیت اللہ خامنہ ای ایران کی اعلیٰ ترین سیاسی اور مذہبی شخصیت تھے اور تمام اہم فیصلوں کا حتیمی اختیار انہی کے پاس تھا۔
مبصرین کی نظریں اس بات پر بھی مرکوز ہیں کہ آیا ان تقریبات میں خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای شرکت کرتے ہیں یا نہیں۔ انہیں اپنے والد کی وفات کے ایک ہفتے بعد ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا تھا۔ مجتبیٰ خامنہ ای اس حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے جس میں ان کے والد ہلاک ہوئے اور تقرری کے بعد سے وہ عوامی سطح پر نظر نہیں آئے، جس کے باعث ان کی صحت کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
روسی توانائی کی تنصیبات پر مزید یوکرینی حملے
روس کے دوسرے بڑے شہر سینٹ پیٹرزبرگ اور اس سے ملحقہ لینن گراڈ ریجن کے حکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ رات بھر کیے گئے یوکرینی ڈرون حملوں میں ایک مقامی بندرگاہ اور تیل کی تنصیبات کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹ پیٹرزبرگ کے گورنر الیگزینڈر بیگلوف نے کہا کہ 60 لاکھ آبادی والا یہ شہر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کی زد میں آیا، اس دوران شہر کے ایک آئل ٹرمینل کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
لینن گراڈ ریجن کے گورنر الیگزینڈر دروزدینکو نے بتایا کہ ڈرون حملوں میں ویسوٹسک کی بندرگاہ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو سینٹ پیٹرزبرگ سے تقریباً 170 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔ اس بندرگاہ سے تیل، اناج، کوئلہ اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی ترسیل کی جاتی ہے۔
دروزدینکو کے مطابق لینن گراڈ ریجن کی طرف بھجوائے گئے 72 یوکرینی ڈرون مار گرائے گئے۔
یوکرین نے رواں سال روس میں توانائی کے بنیادی ڈھانچوں پر حملوں میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں روس کے بعض علاقوں میں ایندھن کی قلت بھی پیدا ہوئی ہے۔
سینٹ پیٹرزبرگ ماضی میں بھی یوکرینی ڈرون حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ ان حملوں میں شہر کے آئل ٹرمینلز اور جون میں منعقد ہونے والے سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم کے دوران لنگر انداز ایک جنگی بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
سینٹ پیٹرزبرگ کے جنوب میں واقع پسکوف ریجن کے گورنر نے بھی بتایا کہ گزشتہ شب 30 سے زائد ڈرون مار گرائے گئے۔ ان کے مطابق حملوں میں معمولی نقصان اور چند افراد زخمی ہوئے۔
پوپ لیو کا اٹلی کے جزیرے لامپے ڈوسا کا دورہ، تارکین وطن کے خاندان سے ملاقات
کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم نے ہفتے کے روز اٹلی کے جزیرے لامپے ڈوسا کا دورہ کیا۔ یہ جزیرہ افریقہ سے بحیرہ روم کا خطرناک سفر طے کر کے اٹلی پہنچنے والے تارکین وطن کی ایک اہم منزل سمجھا جاتا ہے۔ پوپ لیو کے اس دورے کو امریکہ اور یورپی یونین کی قیادت کے لیے ایک واضح سیاسی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
کیتھولک چرچ کے پہلے امریکی نژاد پوپ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے درمیان تارکین وطن کے معاملے پر کشیدگی رہی ہے۔ پوپ لیو لامپے ڈوسا ایک ایسے دن پہنچے ہیں، جب چار جولائی کو امریکہ اپنا 250واں یوم آزادی منا رہا ہے۔
پوپ لیو کا یہ دورہ ایسے وقت میں بھی ہو رہا ہے، جب صرف دو ہفتے قبل یورپی یونین نے ہجرت سے متعلق نئے قوانین کی منظوری دی، جن کے تحت تارکین وطن کو زیادہ وسیع اختیارات کے ساتھ حراست میں رکھنے اور یورپی یونین سے باہر ملک بدری کے مراکز قائم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
اپنے دورے کا آغاز انہوں نے ایک قبرستان سے کیا، جہاں انہوں نے ان گمنام تارکین وطن کی قبروں پر خاموش دعا کی، جن کی شناخت نہ ہونے کے سبب ان کی قبروں پر صرف نمبر درج کیے گئے ہیں۔
اس کے بعد پوپ نے ’’ڈور آف یورپ‘‘ یا باب یورپ نامی یادگار کا دورہ کیا، جو تارکین وطن کی یاد میں تعمیر کی گئی ہے۔ اس موقع پر پوپ نے ایک مہاجر خاندان سے مختصر گفتگو بھی کی۔
شکاگو میں پیدا ہونے والے پوپ لیو نے اپنے پیش رو پوپ فرانسس کی طرح تارکین وطن کے دفاع کو اپنی مذہبی قیادت کے بنیادی ستونوں میں شامل کیا ہے۔ وہ ضرورت مندوں کی مدد کرنے والوں کی تعریف کرتے ہیں اور امریکہ میں بڑے پیمانے پر ملک بدری کی کارروائیوں پر تنقید بھی کر چکے ہیں۔
ستر سالہ پوپ سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ اس جزیرے کے نصف روزہ دورے کے دوران محفوظ اور قانونی ذرائع سے ہجرت کے لیے راستے فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیں گے۔