جرمنی میں ہر پانچ میں سے ایک نوجوان ملک چھوڑنے کا متمنی
12 اپریل 2026
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جرمنی میں زندگی بہت اچھی ہے؟ ملک کے بہت سے نوجوان اس سے متفق نہیں ہیں۔ 14 سے 29 سال کی عمر کے جرمن نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کہتی ہے کہ وہ اپنا وطن چھوڑنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
’’جرمنی میں نوجوان‘‘ کے موضوع پر ایک حالیہ تحقیق کے مطابق سروے میں شامل تقریباً 21 فیصد نوجوانوں نے کہا کہ وہ بہتر زندگی کی تلاش میں جرمنی چھوڑنے کا فعال طور پر ارادہ رکھتے ہیں جبکہ تقریباً 41 فیصد نے کہا کہ وہ مستقبل میں بیرون ملک منتقل ہونے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔
یہ نتائج جرمنی میں 14 سے 29 سال کی عمر کے 2,012 افراد کے ایک نمائندہ قومی سروے کے ہیں، جو 9 جنوری سے 9 فروری کے درمیان 'ڈیٹا جوکی فیرلاگ‘ نامی پبلشنگ ہاؤس کی طرف سے کرایا گیا۔
اس تبدیلی کی وجہ کیا؟
سروے میں حصہ لینے والے افراد نے کہا کہ وہ جرمنی میں معاشی تحفظ کے بارے میں فکر مند ہیں، کیونکہ ملک کی معیشت گزشتہ دو برسوں سے جمود کا شکار ہے۔ گھروں کے بڑھتے ہوئے اخراجات، مصنوعی ذہانت کے باعث کمزور ہوتے کیریئر امکانات اور بڑھتے ہوئے مالی دباؤ نے نوجوانوں کے لیے خود مختار زندگی شروع کرنا مشکل بنا دیا ہے۔
اس مطالعاتی جائزے کے ڈائریکٹر زیمون شنیٹسر نے کہا، ''اس تحقیق کے نتائج ڈرامائی انداز میں یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حالیہ برسوں کے دباؤ نوجوانوں کو کس حد تک متاثر کر رہے ہیں، جس کا اظہار ذہنی دباؤ، تھکن اور مستقبل کے مواقع کم ہونے کے بڑھتے ہوئے احساس کی صورت میں ہو رہا ہے۔‘‘
ایک سیاسی تبدیلی
جرمنی میں جنریشن زیڈ (Gen Z) کے نوجوانوں میں سیاسی رجحانات بھی تیزی سے انتہاؤں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ جرمن نیوز پروگرام 'ٹاگیس شاؤ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی صوبے رائن لینڈ پلاٹینیٹ کے حالیہ انتخابات میں 25 سال سے کم عمر کے ووٹروں میں سے 21 فیصد نے انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی کو ووٹ دیا۔
اسی عمر کے گروپ کے ووٹروں سے بائیں بازو کی جماعت دی لِنکے کو 19 فیصد ووٹ ملے۔
دوسری طرف جرمنی کا تیزی سے منقسم ہوتا ہوا سیاسی منظرنامہ، خاص طور پر دائیں بازو کی جماعتوں کا بڑھتا ہوا اثر، بھی بہت سے نوجوانوں کو ملک چھوڑنے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر رہا ہے۔
برلن کی ہمبولٹ یونیورسٹی میں سماجی اور ثقافتی علوم کی ماسٹرز ڈگری کی طالبہ رِف نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''مجھے لگتا ہے کہ میرے تقریباً سبھی دوست اس کے بارے میں سوچ رہے ہیں، خاص طور پر اگر آپ نسلی یا کسی اور طرح کی اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''میں انتہائی فکر مند ہوتی جا رہی ہوں، خاص طور پر اس لیے کہ بہت سی ثقافتی نوکریاں اور جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کرنے والی ملازمتیں ختم کی جا رہی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ فاشزم بڑھ رہا ہے۔‘‘
رِف نے انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی کے بڑھتے ہوئے اثر اور چانسلر فریڈرش میرس اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے دائیں بازو کے ووٹروں کو خوش کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے کہا، ''وہ پہلے ہی کچھ ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن کا وعدہ اے ایف ڈی نے کیا تھا، اس لیے میں بہت زیادہ فکر مند ہوں۔‘‘
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ جانا کہاں ہے؟ ''مجھے معلوم ہے کہ ہجرت کرنا آسان نہیں ہوتا۔‘‘
ذہنی صحت کے مسائل
جرمنی میں ذہنی صحت کی صورتحال بگڑتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ تحقیق کے مطابق ایسے نوجوانوں کی تعداد جو کہتے ہیں کہ انہیں نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے، بڑھ کر 29 فیصد کی نئی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔ یہ شرح نوجوان خواتین میں 34 فیصد، طلبہ میں 32 فیصد اور بے روزگار نوجوانوں میں 42 فیصد تک بنتی ہے۔
اس سروے میں شامل بہت سے رائے دہندگان نے بتایا کہ وہ اپنے ذاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے تیزی سے مصنوعی ذہانت پر مبنی مشاورتی خدمات کا استعمال کر رہے ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ جرمنی سے باہر مختلف طرز زندگی اپنانے کا خیال بعض نوجوانوں کو پرکشش لگتا ہے۔
ہیمبرگ سے تعلق رکھنے والے اور قانون کے 29 سالہ طالب علم فریڈرش نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''میں گزشتہ سال اپنی پی ایچ ڈی کے سلسلے میں تین ماہ کے لیے ٹوکیو میں تھا اور مجھے وہ بہت پسند آیا، اس لیے میں اگلے سال وہاں منتقل ہونے پر غور کر رہا ہوں۔‘‘
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کا تعلق پیسے سے نہیں ہے کیونکہ جرمنی میں نوجوان وکلا کے لیے اچھا روزگار موجود ہے۔ ''مجھے وہاں کا طرز زندگی مختلف لگا۔ ماحول کچھ زیادہ پرسکون اور صاف تھا … مجموعی طور پر میں ویانا، پیرس یا لندن میں رہنے پر بھی غور کر سکتا ہوں۔‘‘
جرمنی اب بھی مجموعی قومی پیداوار یا جی ڈی پی کے لحاظ سے امریکہ اور چین کے بعد دنیا کی تیسری بڑی معیشت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ نوجوان جرمن آخر کہاں جا رہے ہیں؟
2024 کے ایک سروے کے مطابق سوئٹزرلینڈ نوجوان جرمنوں کی سب سے پسندیدہ منزل ہے، جس کے بعد آسٹریا کا نمبر آتا ہے۔
کاسپر ٹین ہاف، جو لاطینی زبان اور موسیقی کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور استاد بننا چاہتے ہیں، نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ وہ سمجھ سکتے ہیں کہ نوجوان آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ جیسے ممالک کی طرف کیوں متوجہ ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق مہاجرت یا ترک وطن کا پس منظر رکھنے والے بہت سے لوگ اب خود کو زیادہ خوش آمدید محسوس نہیں کرتے، خاص طور پر جب اے ایف ڈی جیسی جماعتیں مضبوط ہو رہی ہیں۔
ٹین ہاف کا خیال ہے کہ جرمنی میں سماجی طبقات کے درمیان عدم مساوات بھی ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بن گئی ہے۔
انہوں نے کہا، ''جرمنی میں امیر اور غریب کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ عام مزدوروں پر بہت زیادہ ٹیکس ہیں، لیکن امیر لوگوں کو اپنے اجداد سے ملنے والی دولت پر اتنا ٹیکس نہیں دینا پڑتا۔‘‘
تاہم فی الحال وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جرمنی میں ہی رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ادارت: مقبول ملک