پی ٹی ایم کے خلاف عمران خان کا الزام، کئی حلقے چراغ پا | حالات حاضرہ | DW | 25.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پی ٹی ایم کے خلاف عمران خان کا الزام، کئی حلقے چراغ پا

سیاست دانوں، سول سوسائٹی اور پختون قوم پرستوں نے پشتون تحفظ موومنٹ کے حوالے سے عمران خان کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔

بدھ کے دن عمران خان نے جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں خطاب کرتے ہوئے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کا نام لیے بغیر یہ کہا تھا کہ کچھ عناصر انتشار پھیلانا چاہتے ہیں اور ان کے رہنماؤں کو بیرون ممالک سے پیسہ مل رہا ہے۔

سول سوسائٹی، سیاست دانوں اور پختون قوم پرستوں نے اس بیان کے ردعمل میں حکومت کا خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی ایم کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کی طاقت ور اسٹبلشمنٹ پی ٹی ایم کو شک کی نظر سے دیکھتی ہے اور طاقتور حلقوں کے خیال میں اس تحریک کو افغانستان سمیت دوسرے ممالک کی درپردہ حمایت حاصل ہے۔ کچھ عرصہ قبل افغان صدر اشرف غنی کی طرف سے پی ٹی ایم کی حمایت میں ایک بیان نے پاکستانی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی تھی۔ پاکستان کے کئی حلقوں نے افغان صدر کے اس بیان پر شدید ردعمل بھی ظاہر کیا تھا۔

تاہم پاکستان کے کئی سیاست دانوں کا خیال ہے کہ پی ٹی ایم ایک مقامی تحریک ہے، جس کا بیرونی امداد سے کوئی تعلق نہیں۔ نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے بندرگارہ اور جہاز رانی میر حاصل بزنجو کے خیال میں اس طرح کا بیان کسی ملک کے وزیر اعظم کو زیب نہیں دیتا۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں بزنجو نے کہا، ’’پی ٹی ایم کوئی خفیہ یا دہشت گرد تنظیم نہیں ہے۔ اس تنظیم کو عوامی حمایت حاصل ہے۔ عمران خان ایسی تنظیم پر کیسے اس طرح کے الزامات عائد کر سکتے ہیں۔ اگر ان کے پاس ثبوت ہیں تو وہ سپریم کورٹ جا کر اس تنظیم پر پابندی لگوا دیں لیکن عمران خان کو معلوم ہے کہ ان کے الزامات درست نہیں ہیں۔ پی ٹی ایم کے مطالبات سیاسی ہیں اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ ان مطالبات کو تسلیم کرے۔‘‘

قومی دھارے کی سیاسی جماعتوں کے برعکس پختون قوم پرست اس بیان پر چراغ پا ہیں اور ان کے خیال میں یہ بیان پختونوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ معروف پختون قوم پرست سیاست دان اور سابق ایم این اے بشری گوہر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ کٹھ پتلی وزیر اعظم کا بغیر ثبوت کے پی ٹی ایم پر الزام لگانا قابل مذمت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیرستان میں پی ٹی ایم کے عظیم الشان جلسے نے کٹھ پتلی وزیر اعظم اور ان کی ڈور ہلانے والوں کو حواس باختہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے وہ ایسے الزامات لگا رہے ہیں۔‘‘

عمران خان پر ملک میں پہلے ہی یو ٹرن لینے اور متضاد بیانات دینے پر تنقید ہو رہی ہے۔ بشری گوہر کے خیال میں وانا میں دیے گئے عمران خان کے اس بیان نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کی زبان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا، ’’کچھ دن پہلے اورکزئی میں انہوں نے پی ٹی ایم کے مطالبات کو جائز قرار دیا تھا اور وانا میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پشتونوں کے زخموں پر نمک چھڑکا اور ایسے نوجوانوں پر باہر سے پیسے لینے کا الزام لگایا جو پرامن طریقے سے آئینی حقوق مانگ رہے ہیں۔‘‘

بشری گوہر نے خبردار کیا کہ پی ٹی ایم پر حملہ یا کریک ڈاؤن پختونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ پاکستان میں ستر کی دہائی میں پختونوں میں مرکز کے خلاف نفرت رہی ہے اور کچھ عناصر نے گریٹر پختونستان کی تحریک بھی چلائی تھی۔ پختون دانشوروں کا خیال ہے کہ کہ ان کی قوم میں پہلے ہی بہت احساس محرومی ہے اور اگر اب پی ٹی ایم کے خلاف کوئی عسکری ایکشن ہوا تو بات بہت دور تک جائے گی۔

پختون دانشور ڈاکٹر سید عالم محسود کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی ایم کے خلاف کوئی ایکشن ہوا تو صورتحال ایک ایسی نہج پر پہنچ سکتی ہے، جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا، ’’پختون ایک مظلوم قوم ہےاور ان میں اس ظلم کے خلاف بہت غصہ ہے۔ ہمارے کچھ دوست اب بھی مذاکرات اور معاملات کو حل کرنے کی باتیں کر رہے ہیں لیکن اگر ہمارے خلاف طاقت استعمال کی گئی تو پھر ان چند دوستوں کا اعتبار بھی ریاست سے اٹھ جائے گا، جس کے نتائج سنگین ہوں گے۔‘‘

عمران خان کے بیان پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’عمران خان نے یہ بیان دے کر مظلوم لوگوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر ان کے الزامات سچ ہیں تو کیا وہ اتنے بے بس ہیں کہ وہ ان الزامات کی تفتیش بھی نہیں کرا سکے۔‘‘

پاکستان کی سول سوسائٹی پی ٹی ایم کے مطالبات کی حمایت کرتی ہے۔ پی ٹی ایم کے اہم مطالبات میں گمشدہ افراد کی بازیابی کا معاملہ کافی شہرت حاصل کر چکا ہے۔ پاکستان کے متعدد حلقوں کا کہنا ہے کہ سیاست دان ان مسائل کے حل کی کوششوں کے بجائے الزام تراشی پر مبنی سیاست کر رہے ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرپرسن ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا ہے کہ عمران خان کا یہ بیان انتہائی نامناسب ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے ملک میں یہ روایت بن گئی ہے کہ لوگوں پر بس الزام لگا دیا جائے۔ میرے خیال میں سیاست دانوں کو گمشدہ افراد کی بازیابی جیسے مسائل کے علاوہ دیگر مسائل کے حل کی خاطر مل بیٹھ کر ایک لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے، جس کے تحت الزام در الزام کا سلسلہ بند ہو جائے۔‘‘

پی ٹی ایم کے رہنما اور نوشہرہ سے رکن قومی اسمبلی سراج محمد خان نے اس مسئلے پر اپنی پارٹی کا موقف دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’عمران خان ایک ایمان دار، صاف اور شفاف آدمی ہیں۔ اگر انہوں نے پی ٹی ایم کے بارے میں ایسا کہا ہے تو ان کے پاس ثبوت بھی ہوں گے اور خان صاحب کو چاہیے کہ وہ یہ ثبوت عوام کے سامنے لے کر آئیں۔‘‘

DW.COM