1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کا تہیہ کیے ہوئے ہے، اسحاق ڈار

مقبول ملک اے ایف پی کے ساتھ
23 مارچ 2026

پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پیر 23 مارچ کے روز کہا کہ حکومت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے یہ بات ایک ایسے وقت پر کہی جب ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ عبوری فائر بندی ختم ہونے کو ہے۔

https://p.dw.com/p/5AvDr
کابل میں پاکستان کی طرف سے گزشتہ پیر کو رات گئے کیے گئے فضائی حملے کے بعد کا منظر
کابل میں پاکستان کی طرف سے گزشتہ پیر کو رات گئے کیے گئے فضائی حملے کے بعد کا منظرتصویر: Wakil Kohsar/AFP/Getty Images

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ملکی نائب وزیر اعظم اور وزیر خاجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایک بیان میں ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر ''دہشت گردی کے مسئلے کے مکمل خاتمے‘‘ کے لیے پرعزم ہے۔

ایران جنگ اور پاکستان، افغانستان کے درمیان کشیدگی کے مضمرات

پاکستان اور افغانستان نے، جن کے مابین خونریز جھڑپیں حالیہ ہفتوں میں بہت زیادہ ہو چکی تھیں، گزشتہ بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ عید الفطر کے اسلامی تہوار کے پیش نظر چند روز کے لیے ایک دوسرے کے خلاف مسلح کارروائیاں روک دیں گے۔

اسحاق ڈار کا یوم پاکستان کے موقع پر پیغام

پاکستان میں آج 23 مارچ کو منائے جانے والے یوم پاکستان کی قومی تعطیل کے موقع پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ افغانستان کے ساتھ تنازعے میں پاکستان کا بنیادی موقف تبدیل نہیں ہوا۔

کابل میں پاکستان کی طرف سے گزشتہ پیر کو رات گئے کیے گئے ایک فضائی حملے کے بعد کا منظر
افغان حکام نے کہا تھا کہ کابل میں فضائی حملے میں 400 سے زائد افراد مارے گئے مگر اقوام متحدہ نے ان ہلاکتوں کی تعداد 143 بتائی تھیتصویر: Wakil Kohsar/AFP

کئی ممالک کی درخواست پر پاکستان کا افغانستان پر حملوں میں ’عبوری وقفے‘ کا اعلان

ڈار نے کہا، ''پاکستان اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے مسئلے کے مکمل خاتمے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ پاکستان کی طرف سے افغانستان کے اندر کی جانے والی عسکری کارروائیاں اسی منزل کے حصول کے لیے کی جانے والی کوششیں ہیں۔‘‘

کل اتوار 22 مارچ کے روز کابل میں طالبان حکومت اور طبی کارکنوں نے بتایا تھا کہ افغانستان کے مشرقی سرحدی صوبے کنڑ میں مبنینہ طور پر پاکستان سے فائر کیا گیا ایک مارٹر شیل لگنے سے ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔

دونوں ممالک کے مابین کئی ماہ سے جاری کشیدگی

پاکستان اور افغانستان کے مابین حالیہ کشیدگی کے دوران گزشتہ چند ماہ میں جو فوجی حملے ہوئے ہیں، ان کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی طرف سے افغان طالبان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے پاکستان میں ممنوعہ تحریک طالبان پاکستان یا ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کو اپنے ہاں محفوظ ٹھکانے مہیا کر رکھے ہیں۔

کابل میں طالبان حکام اسلام آباد کے اس الزام کو بے بنیاد قرار دے کر اس کی تردید کرتے ہیں۔

افغان وزیر داخلہ کا کابل پر پاکستانی حملے کے بدلے کا عزم

پاکستانی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار
پاکستانی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈارتصویر: Murat Gok/Anadolu/picture alliance

اسلام آباد اور کابل کے مابین رمضان کے اسلامی مہینے کے اختتام اور عید الفطر کے مذہبی تہوار سے قبل ہونے والے عارضی فائر بندی سے پہلے گزشتہ پیر کو رات گئے پاکستان نے کابل میں ایک فضائی حملہ کیا تھا، جس میں افغان حکام کے مطابق منشیات کے عادی افراد کی طبی بحالی کے ایک مرکز میں زیر علاج  400 سے زائد افراد مارے گئے تھے۔

بعد میں اقوام متحدہ کے ذرائع نے بتایا تھا کہ ان ہلاکتوں کی تعداد 143 تھی۔ دوسری طرف پاکستان نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس فضائی حملے کا ہدف بننے والے مقام پر افغان حکام نے کئی طرح کے ہتھیار اور مسلح ڈرون ذخیرہ کر رکھے تھے، جن کو اس فضائی حملے میں تباہ کر دیا گیا۔

خلیجی ریاستوں اور چین کی ثالثی کوششیں

پاکستانی اور افغان فورسز کے مابین خونریز حملوں کے تبادلے کی موجودہ لہر فروری میں اس وقت شروع ہوئی تھی، جب دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین ثالثی کے لیے کی جانے والی خلیجی عرب ممالک اور چین کی کوششیں ناکام ہو گئی تھیں۔

چینی مندوب پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی مشن پر

افغانستان میں قندھار ایئر پورٹ کے قریب ایک پاکستانی فضائی حملے کے بعد تیل کے ایک ڈپو میں لگنے والی آگ
افغانستان میں قندھار ایئر پورٹ کے قریب ایک پاکستانی فضائی حملے کے بعد تیل کے ایک ڈپو میں لگنے والی آگتصویر: AFP

خلیجی ریاستیں اب اس تنازعے پر اس لیے کوئی توجہ نہیں دی پا رہیں کہ انہیں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں تہران کی طرف سے اپنے ہاں کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث خود سلامتی کے کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔

پاکستان۔افغانستان کشیدگی: کیا اب لڑائی ہی واحد راستہ رہ گئی ہے؟

اسی دوران آج یوم پاکستان کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان میں پاکستانی مسلح افواج کی طرف سے کی جانے والی کارروائیاں ''دہشت گردی کے خلاف ہمارے قومی عزم کی علامت‘‘ ہیں۔

ساتھ ہی شہباز شریف نے کہا، ''ہم کسی کو بھی اپنے ملک میں امن اور سلامتی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘

ادارت: شکور رحیم

پاکستان - افغانستان جنگ اور سرحدی علاقوں کی مکین خواتین کا المیہ

Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔