غزہ کی جنگ کے دو سال مکمل، ہزارہا ہلاکتیں اور وسیع تر تباہی
وقت اشاعت 7 اکتوبر 2025آخری اپ ڈیٹ 7 اکتوبر 2025
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ میں کچھ چیلنجز ابھی باقی، قطر
- غزہ میں بچے آکسیجن ماسک اور بستر شیئر کرنے پر مجبور
- جرمنی میں ایک نو منتخب خاتون میئر پر چاقو سے حملہ
- ’یہ ہتھیار فلسطینی نسلوں تک منتقل ہوتے رہیں گے،‘ مسلح فلسطینی گروہوں کا بیان
- سات اکتوبر کا حملہ اور اسرائیل میں یادگاری تقریبات کا انعقاد
- اسرائیل نے فلوٹیلا کے 14 جرمن شرکاء کو ملک بدر کر دیا
- غزہ پٹی میں لڑائی کو ختم اور یرغمالیوں کو فوری رہا کیا جائے، اقوام متحدہ کے سربراہ کا مطالبہ
- جرمن کی صوبائی پارلیمانی عمارت پر غزہ نواز نعرے درج
- غزہ کی جنگ کے دو سال مکمل، ہزارہا ہلاکتیں اور وسیع تر تباہی
- پاکستان: عسکریت پسندوں کے حملوں اور ہلاکتوں میں اضافہ، رپورٹ
غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ میں کچھ چیلنجز ابھی باقی، قطر
قطر نے منگل کے روز کہا کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں میں شامل تمام فریقوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے پر اتفاق کر لیا ہے لیکن اس کے نفاذ میں اہم چیلنجز ابھی باقی ہیں۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے دوحہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا، ’’صدر ٹرمپ کے منصوبے کے بہت سے پہلوؤں کو ابھی واضح کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ موجودہ مشکلات معاہدے کو زمین پر ٹھوس اقدامات میں تبدیل کرنے سے متعلق ہیں۔
الانصاری نے بتایا کہ منصوبے پر مذاکرات منگل کو مصر کے مقام شرم الشیخ میں دوبارہ شروع ہوئے، جہاں تمام فریق پیشرفت کے لیے کوشاں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پیر کو ہونے والے مذاکرات تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہے، جو کہ ’’تفصیلی اور بھرپور‘‘ تھے جبکہ ان کا مقصد نفاذ کی راہ میں حائل ’’رکاوٹوں‘‘ کی نشاندہی کرنا تھا۔
انہوں نے زور دیا کہ قطر امریکی صدر کے منصوبے کو آگے بڑھانے، غزہ میں جنگ کے خاتمے، اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ قطر اور امریکہ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے منصوبے کا نفاذ عارضی نہ ہو اور اس کے لیے ایک ’’عملی اور تیزی سے نافذ کیے جانے والے فریم ورک‘‘ کی ضرورت ہے، جسے تمام فریق قبول کریں۔
انہوں نے کہا کہ یرغمالیوں کی حوالگی جنگ کے باضابطہ خاتمے کی علامت ہوگی، کیونکہ امریکی موقف جنگ بندی کو یرغمالیوں کی رہائی سے براہ راست جوڑتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’اب اہم بات یہ ہے کہ جنگ بندی کا نفاذ شروع کیا جائے اور اس جنگی مشین کو روکا جائے، جو غزہ کے بچوں کے جسموں کو پیس رہی ہے۔‘‘
انہوں نے یہ نشاندہی بھی کی کہ دوحہ میں حماس کا دفتر 2006ء سے قطر کے ثالثی میکانزم کا حصہ رہا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ ’’فلسطینی عوام کا مستقبل صرف فلسطینیوں کے ہاتھوں میں ہونا چاہیے۔‘‘
غزہ میں بچے آکسیجن ماسک اور بستر شیئر کرنے پر مجبور
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال کے عہدیدار جیمز ایلڈر نے منگل کے روز بتایا کہ اسرائیل شمالی غزہ کے ایک خالی کرائے گئے ہسپتال سے انکیوبیٹرز منتقل کرنے کی اجازت بارہا مسترد کر چکا ہے، جس سے جنوب میں پہلے سے ہی زیادہ ہجوم والے ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اس اہلکار کے مطابق نومولود بچوں کو اب آکسیجن ماسک شیئر کرنا پڑ رہے ہیں۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان دو سال سے جاری جنگ نے حاملہ ماؤں میں اسٹریس اور غذائیت کی قلت کو بھی بڑھاوا دیا ہے، جس کے نتیجے میں قبل از وقت پیدا ہونے اور کم وزن والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق اب ایسے بچے غزہ میں پیدا ہونے والے تمام نومولود بچوں کا پانچواں حصہ بنتے ہیں۔
یونیسیف کے اہلکار جیمز ایلڈر نے کہا کہ جنوبی غزہ کے الناصر ہسپتال کی راہداریوں کے فرش پر مائیں اور بچے قطاروں میں لیٹے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو آکسیجن ماسک اور بستر شیئر کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
ایلڈر کے مطابق انہوں نے جنوب میں ایک ہسپتال کا دورہ کیا، جہاں ’’ایک پیڈیاٹرک روم میں تین بچوں اور تین ماؤں کو ایک ہی بستر پر رکھا گیا تھا، ایک ہی آکسیجن کا ذریعہ تھا اور مائیں ہر بچے کو 20 منٹ کے لیے آکسیجن باری باری دیتی تھیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’یہ اس سطح کی مایوسی ہے، جس کا ماؤں کو اب سامنا ہے۔‘‘
عالمی ادارہ صحت کے مطابق غزہ کے 36 ہسپتالوں میں سے اب صرف 14 جزوی طور پر فعال ہیں۔
جرمنی میں ایک نو منتخب خاتون میئر پر چاقو سے حملہ
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق سینٹر لیفٹ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) سے تعلق رکھنے والی ایرس اشٹالزر کو چاقو سے وار کر کے زخمی کر دیا گیا ہے اور ان کی زندگی خطرے میں ہے۔
پڑوسی شہر ہاگن کے پولیس ترجمان نے بتایا کہ ہرڈیکے ٹاؤن میں اس وقت ایک بڑا پولیس آپریشن جاری ہے تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
57 سالہ اشٹالزر نے بلدیاتی انتخابات میں ہرڈیکے کی میئر بننے کے لیے دوسرے مرحلے کے انتخاب میں 52.2 فیصد ووٹ حاصل کر کے اپنے قدامت پسند حریف کو شکست دی تھی۔
یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس حملے کے پیچھے کوئی سیاسی محرکات ہیں۔
جرمنی کے چانسلر فریڈرش میرس نے ایکس پر لکھا: ’’ہمیں ہرڈیکے میں ایک سنگین جرم کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ اس کی فوری طور پر تحقیقات ہونا چاہییں۔ ہم نامزد میئر ایرس اشٹالزر کی زندگی کے لیے فکر مند ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ مکمل صحت یاب ہو جائیں گی۔‘‘
وفاقی ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں ایس پی ڈی کے جنرل سیکرٹری فریڈرک کورڈس نے کہا کہ پارٹی ’’ہرڈیکے سے ملنے والی خبر سے صدمے میں ہے۔‘‘
ایرس اشٹالزر کی ویب سائٹ کے مطابق وہ ایک وکیل ہیں، شادی شدہ ہیں اور ان کے دو نوعمر بچے ہیں۔
ہرڈیکے دریائے روہر کے کنارے واقع ایک چھوٹا سا ٹاؤن ہے، جس کی آبادی 22 ہزار سے زائد ہے۔
’یہ ہتھیار فلسطینی نسلوں تک منتقل ہوتے رہیں گے،‘ مسلح فلسطینی گروہوں کا بیان
اسرائیل پر دہشت گردانہ حملے کی دوسری برسی کے موقع پر فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس، اسلامی جہاد اور دیگر چھوٹے مسلح گروہوں کی ایک مشترکہ تنظیم نے ’’صیہونی دشمن‘‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے ’’ہر قسم کی مزاحمت‘‘ کو واحد راستہ قرار دیا ہے۔
اس بیان کو ’’فلسطینی مزاحمتی گروہوں‘‘ کے نام سے جاری کیا گیا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے، ’’کوئی بھی فلسطینی عوام کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ یہ جائز ہتھیار فلسطینی نسلوں کو منتقل ہوتے رہیں گے، جب تک ان کی زمین اور مقدس مقامات آزاد نہ ہو جائیں۔‘‘
دوسری جانب اسرائیلی ٹینکوں، بحری جہازوں اور جنگی طیاروں نے منگل کو غزہ کے کئی علاقوں پر شدید بمباری کی اور یہ سلسلہ مصر میں جاری غزہ امن مذاکرات کے پس منظر میں روکا نہ گیا۔
جنوب میں خان یونس اور شمال میں غزہ شہر کے رہائشیوں نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے منگل کی صبح ٹینکوں اور طیاروں کے ساتھ شدید بمباری کی۔
دریں اثنا غزہ سے مسلح فلسطینیوں نے منگل کی صبح سرحد پار راکٹ فائر کیے، جن کی وجہ سے ایک اسرائیلی علاقے میں سائرن بھی بجائے گئے۔
غزہ کے ایک 49 سالہ رہائشی، محمد دیب نے جنگ ختم ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’’دو سال سے ہم خوف، دہشت، بے گھری اور تباہی میں جی رہے ہیں۔‘‘
سات اکتوبر کا حملہ اور اسرائیل میں یادگاری تقریبات کا انعقاد
اسرائیل آج منگل کو سات اکتوبر 2023 کے حملے کی دوسری برسی منا رہا ہے، جبکہ حماس اور اسرائیلی مذاکرات کار امریکہ کے تجویز کردہ امن منصوبے کے تحت غزہ پٹی میں دو سالہ جنگ ختم کرنے کے لیے بالواسطہ بات چیت کر رہے ہیں۔
ٹھیک دو سال قبل آج ہی کے دن، یہودی تہوار سوکوت (عید خیام) کے اختتام پر حماس کی قیادت میں سینکڑوں مسلح افراد نے اسرائیل پر ایک بڑا حملہ کیا تھا۔ یہ اسرائیل کی تاریخ کا سب سے خونریز دن ثابت ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں اسرائیل نے غزہ پٹی میں حماس کے خلاف حملے شروع کر دیے تھے۔
نووا میوزک فیسٹیول کے دوران ہلاک ہونے والوں کے درجنوں رشتہ داروں اور دوستوں نے آج حملے کی جگہ پر موم بتیاں جلائیں اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ وہاں حماس کے عسکریت پسندوں نے 370 سے زائد افراد کو ہلاک کیا تھا اور درجنوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔
اریت بارون، جن کی بیٹی اپنے منگیتر کے ساتھ ہلاک ہو گئی تھیں، نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ سات اکتوبر ان کے خاندان کے لیے ایک ’’سیاہ‘‘ دن تھا۔
اس 57 سالہ ماں نے حملے کی جگہ پر کہا، ’’اب دو سال گزر گئے۔ میں یہاں اس کے ساتھ ہوں کیونکہ یہ آخری جگہ تھی، جہاں وہ زندہ تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ ابھی وہ میرے ساتھ یہاں موجود ہے۔‘‘
تل ابیب کے ہوسٹیجز اسکوائر میں ایک اور تقریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جہاں ہفتہ وار ریلیوں میں یرغمالوں کی رہائی کی مہم جاری ہے۔
اسرائیل میں سوکوت کی چھٹیوں کے بعد 16 اکتوبر کو سرکاری سطح پر ایک بڑی یادگاری تقریب کا انعقاد بھی ہو گا۔
اسرائیل میں قومی سلامتی کے حوالے سے ایک حالیہ سروے کے مطابق غزہ پٹی کی دو سالہ جنگ کے بعد آج ملک کے 72 فیصد عوام وزیر اعظم نتین یاہو کی طرف سے ’جنگ کے انتظام‘ سے ناراض ہیں۔
اسرائیل نے فلوٹیلا کے 14 جرمن شرکاء کو ملک بدر کر دیا
جرمن خارجہ دفتر نے منگل کے روز بتایا کہ اسرائیل نے غزہ پٹی کی طرف جانے والے امدادی قافلے گلوبل صمود فلوٹیلا میں شرکت کرنے والے 14 جرمن شہریوں کو ملک بدر کر دیا ہے۔
وزارت کی ایک ترجمان نے بتایا کہ اسرائیلی حراست سے رہائی پانے والے جرمن شرکاء کو یونان لے جایا گیا اور وہاں موجود جرمن سفارت کاروں نے ان کا استقبال کیا۔
اسرائیلی بحریہ نے گزشتہ ہفتے بحیرہ روم میں غزہ پٹی کے لیے امدادی سامان لے جانے والی 42 بحری کشتیوں کو روک لیا تھا جبکہ درجنوں ممالک سے تعلق رکھنے والے 400 سے زائد ارکان کو حراست میں لے لیا گیا تھا، جس کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔
ان میں سویڈش کلائمیٹ ایکٹیوسٹ گریٹا تھنبرگ اور بارسلونا کی سابق میئر ایڈا کولاؤ بھی شامل تھیں۔
بہت سے شرکاء کو اس کے بعد سے ملک بدر کیا جا چکا ہے، جن میں سے 160 پیر کو ایتھنز پہنچے۔ گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین نے کہا ہے کہ شرکاء کو اسرائیلی حراست میں جسمانی اور زبانی توہین کا نشانہ بنایا گیا۔
غزہ پٹی میں لڑائی کو ختم اور یرغمالیوں کو فوری رہا کیا جائے، اقوام متحدہ کے سربراہ کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے سربراہ نے منگل کو غزہ میں قید تمام یرغمالیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کے ساتھ ساتھ جنگ سے تباہ شدہ فلسطینی علاقے، اسرائیل اور خطے میں جھڑپوں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا۔
انٹونیو گوٹیرش نے حماس کے سات اکتوبر 2023 کے اسرائیل پر حملے کی دوسری برسی کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے ’’ایک انسانی المیے کی مذمت کی، جو فہم سے باہر ہے۔‘‘
انہوں نے ایک بیان میں کہا، ’’میں نے یہ بار بار کہا ہے اور آج میں اسے دوہرا رہا ہوں۔ یرغمالیوں کو رہا کریں، غیر مشروط اور فوری طور پر۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’سب کے لیے تکلیف کا خاتمہ کریں۔ غزہ، اسرائیل اور خطے میں جھڑپوں کا خاتمہ ابھی کریں۔ ہمیں اب دو سال کے صدمے کے بعد امید کا انتخاب کرنا چاہیے۔‘‘
ان کے یہ بیانات ایک ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں، جب دنیا حماس کے اسرائیل میں بڑے حملے کی دوسری برسی منا رہی ہے، جو اسرائیل کی ریاستی تاریخ کا سب سے ہلاکت خیز دن تھا۔
اس واقعے میں فلسطینی جنگجوؤں نے غزہ پٹی اور اسرائیل کے درمیان سرحدی باڑ کو توڑ کر جنوبی اسرائیلی کمیونٹیز اور ایک میوزک فیسٹیول کے شرکاء پر آتشیں ہتھیاروں، راکٹوں اور دستی بموں سے حملہ کیا تھا۔
جرمن کی صوبائی پارلیمانی عمارت پر غزہ نواز نعرے درج
جرمن پولیس کے مطابق گزشتہ شب ایک صوبائی پارلیمان کی عمارت پر سپرے کی مدد سے غزہ نواز نعرے لکھ دیے گئے۔ پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق نامعلوم ملزمان نے آدھی رات کے قریب کِیل میں شلیسوِگ ہولشٹائن کی ریاستی پارلیمنٹ کی دیواروں پر تقریباً 15 نعرے درج کیے، جن میں ’’غزہ کو آزاد کرو‘‘، اور ’’گریٹا [تھنبرگ] کو آزاد کرو‘‘ جیسے نعرے بھی شامل تھے۔
پارلیمنٹ کی صدر کرسٹینا ہیربسٹ نے اس واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’ہماری پارلیمنٹ کھلے جمہوری مکالمے کی نمائندگی کرتی ہے، نہ کہ توڑ پھوڑ اور دیواروں پر سیاسی نعروں کی۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ گرافیٹی نہ صرف ایک جمہوری عمارت کی ظاہری شکل کو متاثر کرتی ہے بلکہ یہ ہم آہنگی کے مشترکہ اصولوں کے احترام کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا، ’’سیاسی مسائل کی جگہ عوامی بحث میں ہونا چاہیے، نہ کہ پارلیمنٹ کی دیواروں پر۔‘‘
غزہ کی جنگ کے دو سال مکمل، ہزارہا ہلاکتیں اور وسیع تر تباہی
ذیل میں غزہ کی جنگ کے دوران انسانی ہلاکتوں اور مادی نقصانات کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے، جس کا بیشتر ڈیٹا اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی کارروائیوں کے رابطہ دفتر (اوچا) کی جاری کردہ رپورٹوں سے لیا گیا ہے۔
غزہ پٹی میں ہلاکتیں
سات اکتوبر 2023ء سے اب تک غزہ پٹی میں 67 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ غزہ اتھارٹیز کے مطابق ان میں سے تقریباً ایک تہائی 18 سال سے کم عمر کے افراد تھے۔
غزہ پٹی کی وزارت صحت اپنی گنتی میں شہریوں اور جنگجوؤں میں کوئی فرق نہیں کرتی۔ اسرائیل نے پہلے کہا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے کم از کم 20 ہزار جنگجو تھے۔
اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن نے پچھلے مہینے غزہ پٹی میں ان ہلاکتوں کو اسرائیل کی طرف سے ’’نسل کشی کا ارتکاب‘‘ قرار دیا تھا جبکہ اسرائیل نے اس کمیشن کے نتائج کو تعصب آمیز اور ’’شرمناک‘‘ قرار دیا تھا۔
اسرائیلی ہلاکتیں
اسرائیلی سرکاری اطلاعات کے مطابق سات اکتوبر 2023ء سے 29 ستمبر 2025 تک جنگ کے نتیجے میں کم از کم 1665 اسرائیلی اور غیر ملکی شہری ہلاک ہوئے۔ ان میں سے 1200 سات اکتوبر کے حملے میں مارے گئے تھے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی غزہ پٹی میں زمینی کارروائیاں 27 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے کے بعد سے 466 فوجی اس لڑائی میں ہلاک ہو چکے جبکہ 2951 زخمی ہوئے ہیں۔
فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے ٹھیک دو سال پہلے سات اکتوبر کے حملے کے دوران 251 افراد کو یرغمال بھی بنا لیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ میں ایسے 48 یرغمالی اب بھی موجود ہیں، جن میں سے 20 کے زندہ ہونے کی امید ہے۔
تباہ شدہ عمارتیں
اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کیے گئے تجزیے کے مطابق غزہ میں تقریباً 193,000 عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں یا انہیں بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے تقریباً 213 ہسپتالوں اور 1,029 اسکولوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق غزہ پٹی کے 36 بڑے ہسپتالوں میں سے صرف 14 جزوی طور پر فعال ہیں اور جنوبی غزہ پٹی میں موجود ہسپتالوں پر بوجھ حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔
نقل مکانی
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ پٹی کا صرف تقریباً 18 فیصد حصہ اب نقل مکانی کے احکامات یا فوجی علاقوں سے پاک ہے۔ بہت سے فلسطینی کئی بار بے گھر ہو چکے ہیں۔
حماس کے جنگجوؤں کو جڑ سے اکھاڑنے کا عہد کرتے ہوئے اسرائیل نے مئی کے وسط میں غزہ شہر میں اپنی فوجی مہم کو وسعت دی۔ اس کے نتیجے میں اقوام متحدہ نے اس ساحلی علاقے کے شمال سے جنوب کی طرف 417,000 سے زائد افراد کی نقل مکانی ریکارڈ کی ہے۔
اسرائیل نے غزہ شہر کے رہائشیوں کو جنوب کی طرف جانے کی تلقین کی ہے لیکن جنوبی غزہ میں حالات خراب ہیں اور عارضی خیمے بھرے ہوئے ہیں۔
خوراک اور بھوک
ایک عالمی گروپ نے اگست میں کہا تھا کہ غزہ شہر میں قحط نے قدم جما لیا ہے اور اس کا پھیلاؤ ممکن ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اس رپورٹ کو ’’جھوٹ‘‘ قرار دیا تھا۔
انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن سسٹم نے کہا کہ 514,000 افراد، غزہ پٹی میں فلسطینیوں کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ، قحط کا سامنا کر رہے ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق غزہ پٹی کے کچھ حصوں میں قحط کی تصدیق کے بعد سے کم از کم 177 افراد، جن میں 36 بچے بھی شامل تھے، بھوک اور غذائیت کی کمی کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ نے کہا ہے کہ 60 فیصد سے زائد حاملہ خواتین اور نو مولود بچوں کی مائیں غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔
پاکستان: عسکریت پسندوں کے حملوں اور ہلاکتوں میں اضافہ، رپورٹ
پاکستان میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں تیزی اور کاؤنٹر ٹیرر ازم آپریشنز میں شدت کی وجہ سے گزشتہ تین ماہ کے دوران تشدد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
اسلام آباد میں قائم سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سہ ماہی میں اس سے پہلے کے تین ماہ کے مقابلے میں شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں اور عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں میں 46 فیصد کا اضافہ ہوا۔
رواں برس سن 2024 سے بھی زیادہ جان لیوا ہونے کی راہ پر گامزن ہے، جو پہلے ہی گزشتہ ایک دہائی کا سب سے زیادہ پرتشدد سال تھا۔
پاکستانی فوج ملک کی پوری مغربی سرحد پر عسکریت پسند گروہوں سے لڑ رہی ہے، جہاں شمال مغرب میں پاکستانی طالبان فعال ہیں اور جنوب مغرب میں بلوچ علیحدگی پسند حملوں میں مصروف ہیں۔
سی آر ایس ایس کے مطابق یہ اضافہ ’’عسکری تشدد کی شدت اور کاؤنٹر ٹیرر ازم آپریشنز میں وسعت‘‘ کا عکاس ہے۔
چند پاکستانی حکام نے ستمبر میں نیوز ایجنسی اے ایف پی کو اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ حالیہ مہینوں میں پاکستانی طالبان کی موجودگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
اس تھنک ٹینک کے مطابق سن 2025 کے پہلے نو ماہ کے دوران ملک میں 2414 ہلاکتیں ہوئیں، جو 2024ء کی رپورٹ کردہ 2546 ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کے قریب پہنچ گئی ہیں۔